سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

سوال: لندن سے ایک صاحبہ سوال کرتی ہیں کہ ان کی ایک عزیزہ کا یہ کہنا ہے کہ بعض اوقات ہمارے مذہبی، سیاسی اور تہذیبی رجحانات ایک دوسرے پر غالب آ جاتے ہیں لیکن اس سے ہمارے اسلام پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسلام ایک طرز حیات ہے، تم چاہے قرآن جانو یا نہ جانو، اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو تم اسلام ہی پر عمل پیرا رہتے ہو تو اسے مطمئن کرنے کے لیے میں اسے کیا کہوں؟

جواب:آپ اس مثال سے سمجھیں کہ اگر آپ نے سڑک پر گاڑی چلانا ہے تو آپ کو ٹریفک کے تمام قواعد کا علم ہونا چاہیے جو کہ ہائی وے قواعد برائے ڈرائیورز کے نام سے موسوم ہے۔ جب تک آپ کو ان قواعد کا علم نہ ہو گا آپ صحیح طریقے سے کار ڈرائیو نہیں کر سکیں گے۔ بلکہ قانون تو آپ کو اس بات کا پابند بنائے گا کہ جب تک آپ ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس نہیں کر لیتے، آپ اپنی کار کو سڑک پر نہیں لا سکتے۔

اور ایسے ہی اسلام بھی ایک طرزِ حیات ہے، دنیا ہمارے لیے ایک راستہ ہے اور ہم نے اسی راستے پر چل کر جینا ہے۔ قرآن ہی وہ کتاب ہے کہ جس میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ ہم اس دنیا میں کیسے جیئیں، کیا حلال ہے؟ کیا حرام ہے؟ اپنی زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لیے ہمارا زادِ راہ کیا ہونا چاہیے، ہمارے راستے کے سنگ میل کیا ہیں، ہمیں کہاں چلنا ہے، کہاں رکنا ہے، یہ سب علم قرآن اور اس کی تشریح یعنی سنت رسول ﷺسے حاصل ہو گا، اس لیے قرآن کے جاننے کے بغیر چارہ نہیں۔

سوال: خواتین کی ایک رضا کارانہ تنظیم BBWGکی طرف سے پوچھا گیا ہے کہ نیشنل لاٹری فنڈ کے پیسوں سے ہم اپنے رفاہی کام انجام دے سکتے ہیں جس میں تنہائی کو دور کرنا، بچوں اور خواتین کو تعلیم اور دفتری اور صنعتی کاموں میں مدد فراہم کرنا اور ان کی جسمانی اور دماغی صحت کو پروان چڑھانا شامل ہے۔

نیشنل لاٹری کا فنڈ جُوا کھیلنے سے مہیا کیا جاتا ہے۔ ہر پاؤنڈ میں سے 28فیصد رفاہی تنظیموں کی مدد کے لیے مختص ہے اور باقی 72 فیصد ان لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن کا نام قرعہ اندازی میں نکل آتا ہے۔

وہ رقوم جو کامیاب اشخاص کا اپنا انعامی پیسہ وصول نہ کرنے کی بنا پر پڑا رہ جاتا ہے وہ بھی مذکورہ بالا رفاہی تنظیموں کے لیے قائم فنڈ میں چلا جاتا ہے۔ رفاہی تنظیمیںAGE UK سے بھی مدد حاصل کر سکتی ہیں جو کہ خود سات دوسری بڑی فنڈ فراہم کرنے والی تنظیموں سے اعانت وصول کرتی ہے جن میں نیشنل لاٹری بھی شامل ہے۔ یعنی کیا ہم نیشنل لاٹری سے بلاواسطہ یا کسی دوسری تنظیم کے توسط سے یہ فنڈ اپنے رفاہی کاموں کے لیے لے سکتے ہیں؟

جواب: یورپین کونسل برائے فتویٰ اور ریسرچ اس ضمن میں یہ فتویٰ صادر کرچکا ہے کہ اچھے رفاہی کاموں میں، ماسوائے قرآن کی طباعت کے اور مساجد کی تعمیر کے، یہ فنڈز استعمال کیے جا سکتے ہیں، مذکورہ دونوں مدوں میں صرف حلال رقوم ہی استعمال کی جا سکتی ہیں۔

اور اس فتویٰ کی بنیاد اس بات پر ہے کہ بیت المال میں اس کے آغاز ہی سے مختلف طرح کی آمدنی جمع کی جاتی تھیں جس میں زکاۃ، صدقات اور مسلم حکومت میں غیر مسلم رعایا کی طرف سے ادا کردہ جزیہ کی رقوم شامل تھیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ غیر مسلم افراد کی آمدنی میں شراب کی کشید اور خیروفروخت سے حاصل شدہ رقوم بھی شامل تھیں اور پھر بیت المال کے توسط سے یہ رقوم، غذا اور ملبوسات مستحقین میں تقسیم کیے جاتے تھے اور عمومی رفاہی کاموں میں بھی یہ پیسہ تقسیم کیاجاتا تھا، اس لیے آپ لوگوں نے اپنی رفاہی تنظیم کی جن خدمات کا ذکر کیا ہے، اس میں نیشنل لاٹری فنڈز کی یہ رقوم خرچ کی جا سکتی ہیں۔

میرا اپنا ذاتی رجحان یہی ہے کہ جہاں تک ہوسکے، ان رقوم سے بچا جائے اور جو کچھ صدقہ وخیرات حلال ذرائع سے حاصل ہو اسی پر اکتفا کیا جائے۔ واللہ اعلم

سوال: لندن کے حلقہ طلبہ سے یہ سوال موصول ہوا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ سورۃ البقرۃ میں سیدنا ابراہیم کی دعا میں یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں:

﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ﴾ (سورۃ البقرۃ: 129)

’’اے ہمارے رب! ان میں سے ایک رسول ان پر بھیج دے جو ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔‘‘

پھر یہی الفاظ سورۃ البقرہ کی آیت 151، سورۃ آل عمران کی آیت 164 اور سورۃ الجمعہ کی آیت 2 میں بھی وارد ہوئے ےہیں لیکن ترتیب الفاظ میں اختلاف ہے، یعنی ان تینوں آیات میں تلاوت آیات کے بعد تزکیہ کا ذکر پہلے کیا گیا ہے اور تعلیم کتاب وحکمت کا ذکر آخر میں آیا ہے؟

جواب: سیدنا ابراہیم کی دعا میں یہ الفاظ منطقی ترتیب کے ساتھ آئے ہیں، یعنی انہوں نے ایسے رسول کے بھیجے جانے کی دعا جو ان چار وظائف کا حامل ہو:

1۔ آیات پڑھ پڑھ کر سنائے۔

2۔3۔ پھر کتاب اور حکمت کی تعلیم دے۔

4۔ پھر اس کے نتیجے میں ان کے قلوب وکردار کی صفائی (تزکیہ) کر سکے۔

لیکن باقی تین آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل عرب پر اپنے اس احسان کا ذکر کیا ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک رسول برپا کیا جو اوصاف مذکورہ کا حامل تھا، خاص طور پر سورہ آل عمران کی آیت ملاحظہ ہو جہاں صاف صاف اس بات کا بطور احسان ذکر کیا گیا ہے، فرمایا:

﴿ لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴾ (سورۃ آل عمران: 164)

’’بے شک اللہ نے اہل ایمان پر احسان کیا ہے کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ اس سے قبل کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔‘‘

ایک دوسری قراءات میں ﴿مِنْ أَنْفَسِهِمْ﴾ (ف پر فتحہ کےساتھ) وارد ہوا ہے یعنی ان کی طرف ایسا رسول بھیجا جو ان کے نفیس ترین اشخاص میں سے تھا۔

اب یہاں پر اللہ کے احسان کا تذکرہ ہے، اس احسان کا سب سے بڑا فائدہ اہل عرب کو کیا ہوا؟ یعنی ایسی چیز جس سے ان کی زندگیوں میں پر اثر پڑا ہو، ان کی زندگیوں میں انقلاب آیا ہو؟ وہ چیز ہے تزکیہ: یعنی ان کے قلب کی تطہیر اور ان کے کردار کی تشکیل نو ہو گئی۔ کہاں وہ ایک محدود علاقے میں گمنانی کی زندگی بسر کر رہے تھے، اور ماسوائے ماردھاڑ، روزی کمانے اور پھر شراب نوشی اور جوئے کی لت میں پڑے رہنے کے سوا کچھ کرنے کے روا دار نہ تھے اور کہاں سول اللہﷺ کی تربیت اور قرآن کی بدولت وہ ایک نئی امت بن کر ابھرے اور پھر انہوں نے ایک مثالی حکومت قائم کر ڈالی اورچند سالوں میں جزیرۂ عرب سے نکل کر روم اور فارس کی شہنشائیت کو پامال کرتے ہوئے دنیا کے ایک وسیع وعریض خطے میں اسلام کا علَم بلند کر پائے اور یہ سب تزکیہ کی بدولت نصیب ہوا اس لیے مناسب ہوا کہ ان آیات میں جن کو آیات ’امتنان‘ بھی کہا جا سکتا ہے، تلاوت آیات کے بعد فوراً ہی تزکیہ کا ذکر کیا جائے تاکہ اسی کی اہمیت واضح ہو جائے۔

اس نکتے کو ابن عاشور﷫ نے اپنی تفسیر ’التنویر والتحریر‘ میں ذکر کیا ہے۔

احادیث آحاد کو عقائد میں قبول کرنے کا حکم

سوال: کیا احادیث آحاد کو عقائد میں قبول کیا جا سکتا ہے؟

جواب: اس سوال کے جواب میں پورا ایک مضمون درکار ہے لیکن یہاں اختصار کے ساتھ چند باتیں ذکر کی جاتی ہیں:

1۔ اگر ایک حدیث کو بہت سے راویوں نے روایت کیا ہو تو اسے متواتر کہا جاتا ہے اور اس کے قبول کیے جانے میں کوئی اختلاف نہیں۔

لیکن اگر راویوں کی تعداد کم ہو، تو انہیں آحاد کہا جاتا ہے اور ان کے بارے میں ہی یہ اختلاف کیا گیا کہ کسی عمل کے کرنے میں تو انہیں قبول کیا جائے لیکن اگر بات عقائد کی ہو تو انہیں قبول نہ کیا جائے۔

2۔ عام طور پر اس قاعدے کو مانا گیا ہے کہ قرآن قطعی سے اس لیے اس سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں احادیث آحاد ظنی ہیں اس لیے ان سے ظنی (یعنی گمان کی حد تک) کا علم حاصل ہوتا ہے اور ایسا علم عقائد اپنانے کے لیے درست نہیں۔

3۔ لیکن قرآن سے خود یہ ثابت ہو رہا ہے کہ اصل میں یہ دیکھا جائے گا کہ جو شخص کوئی بات پیش کرر ہا ہے وہ کتنا وزن رکھتا ہے؟ یہ وزن اس کے ثقہ ہونے، امانت دار ہونے اور صاحب کردار ہونے کی بنا پر بنتا ہے، ایسا شخص چاہے ایک ہی ہو، اس کی بات مانی جائے گی اور اس کے مقابلے میں بے وزن لوگوں کی بات نہیں مانی جائے گی چاہے ان کی تعداد زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔

4۔ قرآن جو کہ تمام عقائد کی بنیاد ہے، ایک شخص جبرئیل لے کر آئے، اسے ایک شخص سیدنار سول اللہ ﷺ پر اتارا گیا اور سب سے پہلے ایمان لانے والے لوگ صرف اس لیے ایمان لاتے گئے کہ ایمان کی دعوت دینے والا صادق اور امین تھا، اس کے کردار پر کسی جھوٹ، بدعنوانی ، بداخلاقی کی چھاپ تک نہ تھی۔

5۔ سورۃ یٰسین کی آیات 13 تا 27 کی تلاوت کریں، کیسے اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی طرف صرف دو رسولوں کو بھیجا، لوگوں نے ان کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی نصرت کے لیے ایک تیسرے رسول کو بھی بھیجا۔ تب بھی لوگوں نے ان کو جھٹلایا۔

یہاں ملاحظہ ہو کہ قوم کے عقائد بدلنے کے لیے ایک، دو یا تین رسولوں کو بھیجا جا رہا ہے، یعنی اللہ کے نزدیک عدد کی اہمیت نہیں ہے، اشخاص کی اہمیت ہے اور یہ وہ رسول ہیں جن کا انتخاب خود اللہ نے کیا ہے۔ پھر فرمایا کہ شہر کے آخری کونے سے ایک آدمی بھاگا چلا آتا ہے، یہ نہ صرف ایمان لے آیا ہے بلکہ لوگوں کو دعوت دے رہا ہے کہ ان رسولوں کی بات کو مان لو، ان کی اتباع کرو، گو اس آدمی کی بات بھی نہیں مانی گئی، اسے قتل کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت میں داخل کر دیا گیا۔

6۔ خود اللہ کے رسول ﷺ عرب کے مختلف علاقوں میں اپنا ایک ایک صحابی بھیجتے ہیں کہ وہ لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں، سیدنا معاذ کو یمن کے ایک صوبے میں اور سیدنا ابو موسیٰ الاشعری کو دوسرے صوبہ میں اسی کام کے لیے بھیجا۔

اگر مذکورہ اصول کو مان لیا جائے تو پھر اہل ایمن حق بجانب تھے کہ ہم اپنے عقائد ایک آدمی کی بات پر کیوں بدلیں، کیوں نہیں اللہ کے رسول ﷺ نے بے شمار آدمیوں کو اپنا پیغامبر بنا کر نہیں بھیجا تاکہ ہمیں علم قطعی حاصل ہوتا۔

7۔ اس لیے محدثین کا یہ اصول درست ہے کہ معاملہ چاہے اعمال کا ہو یا عقائد کا، دیکھا یہ جائے گا کہ حدیث کا راوی ثقہ ہے یا نہیں، اس کا حافظ کیسا ہے، خطا تو نہیں کرتا، اگر سند میں ایک سے زائد راوی ہیں تو ہر ایک نے دوسرے سے سنا ہے یا نہیں، اس کے علاوہ بھی چند شروط رکھی گئی ہیں جن کی بنا پر یہ حکم لگایا جاتا ہے کہ حدیث صحیح درجہ کی ہے یا حسن درجہ کی۔

8۔ اور اگر حدیث مذکورہ معیار پر پوری اترے تو وہ قابل عمل بھی ہے اور عقیدہ کے اثبات کے لیے بھی کافی ہے اور اسی اصول کی بنا پر اسلامی عقائد میں سنے ہے کہ آخر زمانہ میں مہدی کا ظہور ہوگا، مسیح دوبارہ نازل ہوں گے اوردجال کو قتل کریں۔

مزید تفصیل کے لیے شیخ محمد ناصر الدین البانی﷫ کا اس موضوع کے بارے میں کتابچہ ملاحظہ ہو۔

لوگوں کے ڈر سے گناہ سے بچنا، شرک ہے؟

سوال: اللہ سے نہیں بلکہ لوگوں کے ڈر سے گناہ سے بچا جائے؟ کیا وہ شرک شمار ہو گا؟ ان تین صورتوں کی روشنی میں وضاحت فرما دیں:

1۔ ہم تنہائی میں کسی گناہ کا ارتکاب کر لیتے ہیں جیسےموسیقی کا سننا، رشوت دینا، سود کھا لینا اور یہ اس لیے کہ اگر علانیہ یہ گناہ کریں گے تو ہماری شہرت داغدار ہو گی؟

2۔ یہی گناہ اگر ہم اپنی کمزوری کی بنا پر کرتے ہیں، یا مال کی حرص میں یا موسیقی سننے کی خواہش کی بنا پر، گو ہم جانتے ہیں کہ شریعت میں اسے جائز نہیں ٹھہرایا گیا ہے تو کیا ایسا کرنا شرک میں شمار ہو گا کیونکہ ہم اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں؟

3۔ کیا ہم سود سے صرف اس لیے بچ رہے ہیں کہ حکومت اس کی اجازت نہیں دیتی، نہ کہ اللہ کے حکم کی بنا پر تو آیا یہ شرک شمار ہو گا؟

جواب: شرک اکبر (اللہ کے ساتھ کسی کو معبود ٹھہرانا) اور شرک اصغر میں فرق ہے۔

پہلی قسم کے شرک ا رتکاب انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے الّا یہ کہ انسان صدق دل سے توبہ کرلے۔ شرک اصغر کا ارتکاب انسان کو اس کے اعمال کے ثواب سے محروم کر دیتا ہے، مثال کے طور پر ایک نیک عمل کو صرف خود نمائی کے لیے یا شہرت حاصل کرنے کے لیے کیا جائے تو وہ شرک اصغر شمار ہو گا اور ایسا عمل ضائع ہو جائے گا اور اسی ذیل میں لوگوں کو دکھانے کے لیے نماز پڑھنا یا خیرات دینا آ جاتا ہے۔

1۔ آپ تنہائی میں صرف اس لیے گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو پتہ نہ چلے اور آپ کی شہرت خراب نہ ہو، گناہ ہر صورت گناہ ہے، چاہے وہ تنہائی میں کیا جائے یا علی الاعلان کیا جائے، البتہ علی الاعلان کرنے میں اس گناہ کی سزا بڑھ جائے گی کیونکہ آپ لوگوں کو اس گناہ کے ارتکاب کی دعوت بھی دے رہے ہیں۔ باقی یہ کہ سزا واقعۃً ملے گی یا نہیں؟ یہ اللہ کی مشیئت پر موقوف ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:

﴿ إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا﴾ (سورۃ النساء: 116)

’’ بے شک اللہ یہ بات معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے لیکن اس سے کم کو جس کےلیے چاہے معاف کر دیتا ہے اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ گمراہی میں بہت دور جا چکا ہے۔‘‘

2۔ جو مثالیں آپ نے دی ہیں وہ سب مختلف گناہوں کی مثالیں ہیں، شرک کی مثالیں نہیں اور اگر گناہ سے سچی توبہ کر لی جائے تو گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

توبہ تو ایسی چیز ہے کہ خود شرک بھی توبہ کی بنا پر معاف ہو جاتا ہے۔ ارشاد فرمایا:

﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا﴾

’’اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو نہیں پکارتے اور نہ ہی اس جان کو قتل کرتے ہیں جسے مارنا حرام ہے، الّا یہ کہ کسی حق کی بنا پر مارا جائے اور نہ ہی زنا کاری کرتے ہیں اور جو بھی ایسا کام کرتا ہے وہ اپنے اوپر وبال لائے گا۔‘‘ (سورة الفرقان: 68)

﴿يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا﴾ (سورة الفرقان: 69)

’’اور قیامت کے دن اسے دُھرا عذاب ہو کا اور وہ اس میں ذلیل وخوار ہمیشہ پڑا رہے گا۔‘‘

﴿إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾ (سورة الفرقان: 70)

’’سوائے اس شخص کے جو توبہ کر لے، ایمان لے آئے اور نیک اعمال کرے تو اللہ ایسے لوگوں کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیتے ہیں اور اللہ غفور اور رحیم ہیں۔‘‘

﴿وَمَن تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مَتَابًا﴾ (سورة الفرقان: 71)

’’اور جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘

3۔ ایسے ہی حکومت کے ڈ ر سے کسی ناجائز عمل کو نہ کرنا شرک نہیں شمار ہو گا۔ آپ کی نیت کا شمار ہو گا، اگر آپ سود سے اس لیے بچ رہے ہیں کہ حکومت نے سود پر پابندی لگا دی ہے تو آپ کو اس کا ثواب نہیں ملے گا لیکن اگر نیت یہ ہو کہ میں اللہ کے حکم کی بنا پر سود سے بچتا ہوں تو یہی عمل کارِ ثواب ہو جائے گا۔

٭٭٭

تبصرہ کریں