سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

سوال: ایک صاحب نے ای میل سے اپنا سوال ارسال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاشرے میں ایسے کئی لوگ موجود ہیں جو دین اسلام کے بارے میں تحقیق کرنے کے بعد مطمئن نہیں ہوئے اور اس لیے اسلام قبول نہیں کیے۔ اس کے باوجود انہوں نے دیانتداری اور راستی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی تو کیا وہ جنت کے مستحق نہیں ہوں گے؟

جواب: نبیﷺ کی بعثت کے بعد جنت میں داخلے کے لیے اللہ پر ایمان اور محمد رسول اللہﷺ کی نبوت ورسالت پر ایمان لازمی ہے، اللہ پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے لیے خالص طور پر عبادت کی جائے اور رسول اللہ ﷺپر ایمان کا تقاضا ہے کہ ان کی پوری پوری اطاعت کی جائے۔

ان دونوں میں سے کسی ایک کا بھی انکار کیا تو پھر ایسے شخص کے لیے جہنم واجب ہو گئی۔ اس مضمون کی قرآن کریم میں کئی آیات ہیں۔ ہم یہاں صرف تین آیات اور ایک حدیث ذکر کرنے پر اکتفا کریں گے:

1۔ فرمایا: ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ أُولَٰئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ﴾ (سورة البینہ: 6)

’’بے شک اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے کفر کیا، وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے اور وہ لوگ تمام خلائق میں بدترین لوگ ہیں۔‘‘

اس آیت میں تمام کفار کے لیے عمومی طور پر حکم لگایا گیا ہے لیکن اگلی دو آیات میں خصوصی طور پر اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے۔

﴿وَمَن لَّمْ يُؤْمِن بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَعِيرًا﴾ (سورة الفتح: 13)

’’اور جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لائے تو ہم نے کفار کے لیے بھڑکتی آگ تیار کررکھی ہے۔‘‘

﴿ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا﴾ (سورۃ الجن: 23)

’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔‘‘

4۔ سیدنا ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لاَ يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلاَ نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلاَّ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ» (صحيح مسلم: 153)

’’اور قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے، اس امت میں کوئی بھی، چاہے وہ یہودی ہو یا عیسائی، میرے بارے میں سنے اور پھر میری رسالت پر ایمان لائے بغیر مر جائے تو وہ آگ کے باشندوں میں سے ہے۔‘‘

خیال رہے کہ نبیﷺ کے زمانے سے لے کر قیامت تک جتنے بھی لوگ ہیں وہ نبیﷺ ہی کی امت ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ جنہوں نے ان کی دعوت پر لبیک کہا، یعنی اسلام میں داخل ہو گئے وہ امت جاہلیت کہلاتے ہیں اور جنہوں نے قبول نہیں کیا وہ امت دعوت میں داخل ہیں۔

یہاں جو یہودیوں اور عیسائیوں کا ذکر ہوا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقی لوگ مراد نہیں ہیں، بلکہ مقصد یہ بتایا ہے کہ اگر یہودی اور عیسائی جو اللہ کو مانتے ہیں، تورات اور انجیل جیسی آسمانی کتابوں کے حامل ہیں، وہ بھی اگر اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں جاننے کے بعد بھی ان پر ایمان نہ لائیں تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو کسی بھی نبی کو نہیں مانتے اور پھر اسی حالت کفر میں مر جاتے ہیں، تو ان کے لیے تو جہنم بالاولیٰ واجب ہو گی۔

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو عقل وخرد کی نعمت سے نوازا ہے، یہ کائنات اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ کیا انسان کے لیے یہ روا ہے کہ وہ اس کائنات کی تمام نعمتوں سے لطف اندوز ہو اور پھر خالق کائنات کے بارے میں سوچنے کا تکلف بھی گوارا نہ کرے؟ ایک شخص اپنے ماں باپ سے دور ہےاور پھر ایک قاصد ان کی طرف سے ایک پیغام لے کرآتا ہے تو کیا وہ اس قاصد کو فوراً دھتکار دے گا یا یہ جاننے کی کوشش کرے گا کہ آیا وہ حقیقۃً اس کے ماں باپ کا قاصد ہے یا نہیں؟

ایسے ہی اللہ رب العالمین کی طرف سے ایک رسول نے چودہ صدیاں قبل آ کر رسالت کا دعویٰ کیا۔ اپنی رسالت پر قرآن مجید کو پیش کیا کہ جس کی آیات ہر طرح سے معجزہ ہیں۔ تاریخی اعتبار سے، مستقبل کی خبروں کے لحاظ سے، زبان وبیان کی بلاغت کے اعتبار سے، اپنی تعلیمات کی صداقت وحکمت کے ہر ہر عنوان سے، تو کیا انسان پر غوروفکر کیے بغیر آنکھیں موند لے گا؟ اگر وہ پھر اسے ٹھکراتا ہے تو اپنے آپ پر ہی ظلم کرتا ہے، اپنے لیے خود کو جہنم میں جانے کا سبب بنتا ہے۔ البتہ اس شخص کےبارے میں سوال کیا جا سکتا ہے جسے سرے سے اسلام کی دعوت پہنچی ہی نہیں یا جس نے نبیﷺ کےبارے میں سنا ہی نہیں، ایسا شخص مرنے کے بعدجنت میں جائے گا یا جہنم میں؟

علماء نے اس مسئلہ میں اپنی اپنی رائیں پیش کی ہیں۔ سب سے بہتر امام ابن القیم﷫ کی رائے معلوم ہوتی ہے، جس کی بنیاد مندرجہ ذیل حدیث پر ہے جسے امام احمد﷫ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے:

الأسود بن سریع راوی ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’چار قسم کے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے، ایک بہرا شخص جو کچھ سن نہیں سکتا، ایک احمق شخص، ایک بہت ہی بوڑھا آدمی، اور ایک وہ آدمی جو حالت فترت کے دوران ہی وفات پا گیا تھا، (یعنی نبیﷺ کی بعثت سے پہلے کا زمانہ جب کہ کوئی نبی نہ تھا)

بہرا آدمی کہے گا، اسلام کی دعوت آ چکی تھی لیکن میں کچھ سن نہ سکا تھا، احمق شخص کہے گا کہ اسلام کی دعوت پہنچی لیکن میں اس حالت میں تھا کہ بچے مجھ پر مویشیوں کی مینگنیاں پھینکا کرتے تھے، بہت ہی بوڑھا شخص کہے گا کہ اسلام کی دعوت پہنچی لیکن میں کچھ سمجھنے کے قابل نہ رہا تھا۔ حالت فترۃ میں مرنے والا شخص کہے گا : اے میرے رب! مجھ تک تو کوئی نبی سرے سے آیا ہی نہیں! پھر اللہ تعالیٰ ان سب سے یہ عہد لیں گے کہ وہ اللہ کی اطاعت کریں گے، پھر اللہ ان کی طرف یہ حکم صادر کرے گا کہ سامنے آگ ہے اس میں کود جاؤ! اللہ کے نبی کہتے ہیں: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کہ یہ آگ ان کے لیے ٹھنڈی ہو جائے گی اور سلامت کی خیر لائے گی۔

اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام لوگ جو کسی عذر کی بنا پر اسلام قبول نہ کر سکے، ان کے لیے بروز محشر ایک امتحان تیار ہو گا اور اگر وہ اس امتحان میں کامیاب ہو گئے تو پھر جنت کے دروازے ان کے لیے بھی کھل جائیں گے۔

سوال: حلقہ درس حدیث سے ایک طالب علم نے سوال کیا ہے کہ حالت احرام میں نکاح کرنے یا کروانے کے بارے میں دو متضاد احادیث ہیں۔

سیدنا عثمان کہتے ہیں کہ رسول اقدس ﷺنے ارشاد فرمایا:

«لا يَنْكِحُ المُحْرِمُ، ولا يُنْكَحُ، ولا يَخْطُبُ» (صحیح مسلم)

’’جو شخص حالت احرام میں ہو وہ نہ نکاح کرے اور نہ ہی (بحیثیت ولی) کسی کا نکاح کرائے اور نہ ہی نکاح کا پیغام دے۔‘‘

اور پھر صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روایت ہےکہ سیدنا عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے سیدہ میمونہ سے نکاح کیا جب کہ وہ محرم تھے، امام بخاری﷫ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جب وہ حلال ہو گئے تو ان سے صنفی تعلق قائم کیا اور ان کا انتقال مقام سَرِف میں ہوا۔

اب ان دونوں حدیثوں میں صریح تضاد ہے تو اس کی وضاحت فرمائیں۔

جواب: اس مسئلہ کو ہمارے شیخ محمد الامین الشنقیطی نے بڑی وضاحت کے ساتھ سورۃ الحج کی تفسیر کرتے ہوئے اپنی معرکۃ الآراء تفسیر ’اضواء البیان‘ کی پانچویں جلد میں بیان کیا ہے۔ میں ان کے مضمون ہی کی تلخیص کیے دیتا ہوں۔ مذکورہ دونوں احادیث اور چند دیگر احادیث کی بنا پر صحابہ، تابعین اور ائمہ کرام میں دو رائیں پائی جاتی ہیں۔

پہلی رائے ممانعت کی ہے جو جمہور کی رائے ہے اور اس کے قائل ہیں سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا زید بن ثابت، سیدنا عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ عنہم اور تابعین میں سے سعید بن المسیب، سلیمان بن یسار، الزہری اور ائمہ میں سے امام مالک، امام احمد، امام شافعی، امام اوزاعی رحمہم اللہ وغیرہم۔

دوسری رائے جواز کی ہے اور اس کے قائل ہیں، سیدنا عبد اللہ بن عباس ، تابعین میں سے عطاء اور عکرمہ اور ائمہ میں سے امام ابو حنیفہ﷭۔

جمہور کے دلائل مندرجہ ذیل احادیث و آثار ہیں:

1۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ  کی مذکورہ روایت جس کی ابتدا یوں ہوتی ہے کہ سیدنا عمر بن عبید اللہ نے طلحہ بن عمر کا نکاح شیبۃ بن جُبیر کی بیٹی سے کرنا چاہا تو انہوں نے حج کے امیر اَبان بن عثمان سے استدعا کی کہ وہ حاضر ہوں تو اَبان نے کہا کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ  کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’مُحرم (وہ شجص جو حالت احرام میں ہو) نہ نکاح کرے، نہ کرائے اور نہ نکاح کا پیغام دے۔‘‘ (صحیح مسلم)

2۔ سیدہ میمونہ بنت الحارث کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی تھی جب کہ وہ حلال تھے (یعنی حالت احرام میں نہ تھے) (صحیح مسلم)

3۔ سیدنا ابو رافع روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میمونہ سے عقد کیا، جب کہ وہ حلال تھے اور ان سے صنفی تعلق قائم کیا جب بھی وہ حلال تھے اور میں دونوں کے درمیان پیغامبر کی حیثیت رکھتا تھا۔ (سنن الترمذی)

4۔ ابو غطفان بن طریف المری کہتے ہیں کہ ان کے باپ طریف نے حالت احرام میں ایک خاتون سے شادی کی تو سیدنا عمر نے اس نکاح کو مردود قرار دیا۔ (مؤطا امام مالک)

5۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ ایک شخص مکہ سے نکل رہا ہے اور عمرہ یا حج کا قصد رکھتا ہے اور وہ ایک خاتون سے شادی بھی کرنا چاہتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اگر تم حالت احرام میں ہو تو شادی مت کرو، نبیﷺ نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔

(مسند احمد)

اور دوسری رائے کی دلیل سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وہ روایت ہے جو صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن اربعہ اور مسند احمد میں موجود ہے اور جس کا تذکرہ پہلے آ چکا ہے اور چونکہ یہ حدیث متفق علیہ ہے، صاف صاف بتا رہی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے حالت احرام میں سیدنا میمونہ سے نکاح کیا تھا اور اللہ کے رسولﷺ اپنی امت کے لیے اسوۂ حسنہ ہیں تو اس کے جواز میں کیا شک رہ جاتا ہے اور اگر ایسا کرنا حرام ہوتا تو اللہ کےر سولﷺ یہ کام کیوں کرتے؟

اب یہ دو متضاد حدیثیں ہیں اور اصولی قاعدہ ہے کہ اگر دو دلیلیں متعارض ہوں تو ان دونوں کا ایسا معنیٰ لینا چاہیے جس سے اختلاف رفع ہو جائے۔ یعنی حتی الامکان دونوں میں جمع (یعنی موافقت) پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر ایک روایت کو دوسری روایت پر ترجیح دی جائے۔

پہلے ہم جمع وتطبیق کی کوشش کرتے ہیں۔ یعنی دونوں روایتوں (روایت ابن عباس اور روایت میمونہ ) کا ایسا مطلب لیا جائے کہ دونوں میں تعارض باقی نہ رہے۔

سیدنا ابن عباس کی روایت میں (تَزَوجَّها وَهُوَ مُحْرِمٌ) کے الفاظ آئے ہیں۔ مُحرم کے چند دوسرے معانی بھی ہیں جن سے یہ تعارض دور ہو جاتا ہے۔

ایک معنیٰ تو یہ ہے کہ وہ اس وقت حرمت والے مہینے میں داخل ہو چکے تھے اور یہ بات اس لیے بھی درست ہے کہ نبی ﷺ نے سیدہ میمونہ سے نکاح کیا تو یہ 7ھ کا ماہ ذی القعدہ تھا جب کہ وہ اس عمرے کو ادا کرنے کے لیے آئے جس سے پچھلے سال انہیں روک دیا گیا تھا۔ یعنی وہ اس وقت حلال تھے جیسا کہ ابو رافع اور سیدہ میمونہ کی روایت میں ذکر کیا گیا ہے۔

مُحرم کا یہ معنیٰ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ  کی نسبت سے الراعی کے اس شعر میں بھی لیا گیا ہے:

قتلوا ابنَ عفّانَ الخليفة َ محرمًا

انہوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ  خلیفہ کو ایک حرمت والے مہینہ (یعنی ذوالحجہ) میں قتل کر دیا۔

مُحرم، میں زبان اور مکان دونوں لے جا سکتے ہیں، یعنی اس شعر کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے سیدنا عثمان کو حرم مدینہ میں قتل کر دیا۔

اصمعی نحوی کے نزدیک اس سے حرمت اسلام بھی مراد ہو سکتی ہے، کہ بحیثیت ایک مسلمان کے، ان کی حفاظت واجب تھی لیکن انہوں نے اسلام کی اس حرمت کا قطعاً کوئی خیال نہ رکھا۔

اب اگر کسی شخص کا اس تفسیر پر دل مطمئن نہیں ہوتا تو ہم دوسرا راستہ اختیار کرتے ہیں کہ ابو رافع اور سیدہ میمونہ والی روایت کو سیدنا ابن عباس والی روایت پر مندرجہ ذیل وجوہ کی بنا پر ترجیح حاصل ہے:

1۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا یہ اپنا قصہ ہے کہ جس کی وہ روایت کر رہی ہیں اور علم اصول میں یہ بات طے ہے کہ اگر راوی کا وہ اپنا ہی قصہ ہے تو اس کی روایت کو غیر شخص کی روایت پر ترجیح دی جائے گی۔

2۔ اسی طرح ابو رافع کی روایت کو بھی ترجیح حاصل ہو گی کہ ان کا تعلق بھی اس روایت سے بنتا ہے، وہ اس لے کہ وہ خود کہتے ہیں کہ میں ہی نبیﷺ اور سیدہ میمونہ کے درمیان اس سلسلے میں پیغامبر تھا۔

3۔ ان دونوں کی روایت کو اس لیے بھی ترجیح حاصل ہے کہ جس وقت یہ واقعہ ظہور پذیر ہوا، یہ دونوں بالغ تھے جب کہ سیدنا ابن عباس اس وقت نابالغ تھے اور یہ بھی اصولی قاعدہ ہےکہ اگر ایک راوی روایت کو اخذ کرتے وقت بالغ تھا اور دوسرا نابالغ تو پہلے کی روایت راجح ہوگی۔

البتہ اگر اس روایت کا راوی ایک ہی شخص ہو اور وہ روایت اخذ کرتے وقت نابالغ ہو لیکن روایت ادا کرتے وقت بالغ ہو تو اس کی روایت کو قبول کیا جائے گا۔

4۔ اگر یہ کہا جائے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت تو صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں ہے، جب کہ دوسری روایت صرف مسلم میں ہے تو ہم کہیں گے کہ چونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت پر دونوں محدثین کا اتفاق ہے تو اس کی صحت پر کوئی کلام نہیں کیا جا سکتا لیکن چونکہ ابو رافع اور سیدہ میمونہ کی روایات بھی صحیح ہیں لیکن ان دونوں کا تعلق اصل قصے سے ہے، اس لیے بہرصورت انہیں ترجیح حاصل رہے گی۔

5۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ نبیﷺ کا حالت حلال میں نکاح کرنا ، دونوں راویوں سے ثابت ہے، برخلاف سیدنا ابن عباس کی روایت کے جس میں کہا گیا کہ آپ حالت احرام میں تھے اور اس لحاظ سے ابو رافع اور سیدہ میمونہ کی روایت کو بربنائے کثرت ترجیح حاصل ہے، لیکن اس پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ امام ابن حجر﷫ کے بیان کے مطابق سیدنا ابن عباس اکیلے اسے روایت نہیں کر رہے بلکہ سیدہ عائشہ اور سیدنا ابو ہریرہ سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے تو ہم کہیں گے کہ عدد کےلحاظ سے تو دونوں روایتوں میں فرق نہ رہا لیکن ترجیح کی بنیاد قوت ظن ہے، یعنی کونسی روایت سے زیادہ یقین حاصل ہوتا ہے۔

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ چونکہ سیدہ میمونہرضی اللہ عنہا  کا یہ اپنا قصہ ہے، پھر ابو رافع پیغامبر کی حیثیت سے اس قصے سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے ان دونوں کی روایت کو ترجیح حاصل رہے گی۔

6۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ نبیﷺ نے حالت احرام میں نکاح کیا تھا، تو زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ بربنائے روایت سیدنا عثمان حالت احرام میں عمومی طور پر نکاح کرنا ناجائز ہے اور اس عمومی حکم میں اللہ کے رسول بھی شامل ہیں لیکن جب اللہ کے رسول نے یہ فعل کیا ہے تو پھر یہ اجازت ان خصوصیات میں سے ہے جو نبیﷺ کو عطا کی گئی تھیں۔

7۔ کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ “لَايُنْكِحُ” سے مراد صنفی تعلقات قائم کرنے سے منع کیا گیا ہے، لیکن عقد نکاح کیا جا سکتا ہے، درست نہیں ہے کیونکہ اسی حدیث میں دو دوسری چیزوں سے بھی منع کیا گیا ہے اوروہ ہیں: “لَايُنْكِحُ” ’’نہ ہی وہ نکاح کرائے‘‘ اور یہ حکم ولی کو دیا جا رہا ہے تو ظاہر ہے کہ اس سے مراد عقد نکاح کی ممانعت ہے، اور تیسری چیز ہے: “لَا يَخْطبُ” ’’نہ ہی پیغام نکاح دے‘‘ اور یہ بات تو عقد نکاح سے بھی کمتر چیز ہے۔اگر منگنی کرنا بھی ناجائز ہے تو عقد نکاح کرنا بالاولیٰ ناجائز ہو گا۔

اور ابان بن عثمان کی اس روایت کا اگر سبب دیکھا جائے تو بھی مذکورہ بالا بات ہی کسی تائید ہوتی ہے اور وہ یہ کہ عمر بن عبید اللہ نے اپنے بیٹے طلحہ کی شادی شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے کرنا چاہی تھی تو ابان نے سختی سے انکار کر دیا تھا چونکہ وہ حالت احرام میں تھے اور پھر انہوں نے عثمان بن عفان والی مذکورہ روایت پڑھ کر سنائی تھی۔

8۔ مزید یہ ہے کہ اس ضمن میں کئی ایسے آثار ملتے ہیں جو مذکورہ رائے کی تائید کرتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  اور طریف کی روایات ذکر کر چکے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ  سے وارد ہے کہ جو حالت احرام میں نکاح کرے گا تو ہم اس سے اس کی بیوی جدا کر دیں گے۔ (بیہقی) زید بن ثابت نے اپنے آزاد کردہ غلام شوذب اور اس کی بیوی کو جدا کر دیا تھا کیونکہ اس نے حالت احرام میں نکاح کیا تھا۔ (بیہقی)

سعید بن المسیب کا یہی مسلک تھا بلکہ انہوں نے تو اہل مدینہ کا اجماع اس بات پر نقل کیا ہے۔ خلاصہ کلام یہی ہے کہ اس مسئلہ میں سیدنا عثمان  رضی اللہ عنہ  کی روایت اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا  اور ابو رافع کی روایت کو بمقابلہ روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما  ترجیح حاصل ہے۔ یعنی حالت احرام میں نکاح کرنا یا کرانا بھی منع ہے۔

٭٭٭

 

آدمی آج بہ مشکل ہی بشر لگتا ہے

نفرتوں سے کہیں الفت کا شجر لگتا ہے

جھوٹ کی شاخ پہ مشکل سے ثمر لگتا ہے

ناگہاں جل اٹھا ظالم کا نشیمن کل جو

کسی مظلوم کی آہوں کا اثر لگتا ہے

اپنے اطوار میں حیوان سے یہ بدتر ہے

آدمی آج بہ مشکل ہی بشر لگتا ہے

ذات وہستی میں توازن بھی ہے شرط لازم

تیری دستار سے اونچا تیرا سر لگتا ہے

اپنی سچائی تو عالم میں بغاوت ٹھہری

آپ کا جھوٹ زمانہ کو ہنر لگتا ہے

دل کے آنگن میں کچھ اس طرح بسا ہوں تیرے

تیرے کوچے سے نکلنا بھی سفر لگتا ہے

زندگی یوں ہی گزر جائے گی راہوں میں تری

تیرا رستہ ہے کہ دیوانوں کو گھر لگتا ہے

اک تری یاد سے معمور ہے دل کی دنیا

تیری یادوں کے بنا یہ تو کھنڈر لگتا ہے

صحبت یار کا حاصل تو یہی اے حافظ

اپنے سایہ سے بھی اکثر ہمیں ڈر لگتا ہے

 

حافظ عبد العظیم حافظ مدنی، عمر آباد

تبصرہ کریں