سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

سوال: امریکہ سے ایک خاتون نے سوال کیا ہے کہ میرے شوہر اس بات کے قائل ہیں کہ بیوی بغیر محرم کے گھر سے باہر نہیں جا سکتی، بعض دفعہ ضروری اشیاء کی خرید کے لیے مجھے مارکیٹ جانا ہوتا ہے، میرے شوہر اپنے کام کی وجہ سے میرا ساتھ نہیں دے سکتے اور نہ ہی وہ مجھے تنہا جانے کی اجازت دیتے ہیں تو ایسی صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب: آپ کے سوال کی دو شقیں ہیں:

الف: شہر سے باہر کا سفر

ب: شہر کی حدود کے اندر اندر ضروریات زندگی کے حصول کے لیے گھر سے نکلنا۔ پہلے سوال کا جاب دوسری شق کے جواب کو سمجھنے کے لیے مفید رہے گا، اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

’’ جو خاتون اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایک دن اور ایک رات کا سفر اپنے محرم کے بغیر کرے۔‘‘ ( صحیح مسلم: 1338)

ایک حدیث میں دو دن کا اوردو رات کا ذکر ہے اور ایک اور حدیث میں تین دن کا بھی ذکر ہے۔ (صحیح بخاری: 1864؛ صحیح مسلم: 1338)

بعض علماء نے ایک ایسی خاتون کے لیے جو حج پر جانا چاہتی ہو لیکن اسے محرم میسر نہ ہو، اتنی رخصت کا ذکر کیا ہے کہ اگر امانت دار افراد کا گروپ موجود ہو تو وہ ان کے ساتھ جا سکتی ہے، اس رائے کی بنیاد یہ ہے کہ حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں نبی ﷺ کی ازواج نے محرم کے بغیر حج ادا کیا تھا۔ حضرت عمر نے حضرت عثمان اور حضرت عبد الرحمٰن بن عوف کو ان کے ساتھ جانے کی ہدایت کی کی تھی۔ (صحیح بخاری: 827)

سعودی عرب کی لجنہ دائمہ للفتویٰ کے ایک معروف ومشہور رکن شیخ عبد الرزاق عفیفی نے اپنے ایک فتویٰ میں لکھا ہے کہ اگر ایک عورت کو انتہائی ضرروت کی بنا پر بیرونی سفر کرنا ہو تو وہ یہ سفر کر سکتی ہے بشرطیکہ منزل مقصود پر اس کا کوئی محرم اس کے استقبال کے لیے موجود ہو۔

اور ایسے ہی کچھ علماء اس بات کے بھی قائل ہیں کہ اگر ایک عورت انتہائی ضرورت کی بنا پر سفر کرنا چاہتی ہو اور محرم میسر نہ ہو تو وہ پبلک ٹرانسپورٹ (جیسے بس، ٹرین یا ہوائی جہاز) سے سفر کر سکتی ہے۔ اگر یہ سفر پُرامن ہو، اس رائے کی بنیاد عدی بن حاتم کی اس روایت پر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تمہاری عمر دراز ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ایک عورت حِیرہ (عراق) سے نکلے گی اور پھر وہ مکہ جا کر اللہ کے گھر کا طواف کرے گی اور (اس سفر میں عالم یہ ہو گا) کہ سوائے اللہ کے، اسے کسی اور کا ڈر نہ ہو گا۔ (صحیح بخاری: 3400)

یہ اسی وقت ممکن ہو گا کہ جب ایک عورت کا تن تنہا سفر کرنا، راستے کے پُرامن ہونے کی بنا پر آسان ہو جائے گا۔

اب دوسری شق کی طرف آئیے، ایک عورت اپنے خاوند کی اجازت سے ضروریات زندگی کے حصول کے لیے گھر سے باہر جا سکتی ہے۔

خود نبیﷺ کے زمانے میں خواتین رات کی تاریکی میں قضاء حاجت کے لیے گھر سے دور جایا کرتی تھیں کیونکہ گھروں کے اندر یہ سہولت موجود نہ ہوتی تھی، لیکن شوہر کے لیے یہ بات ناروا ہو گی کہ گھر کی خواتین کو باہر کام کرنے، یا اپنے شوہر کے کام میں مدد دینے یا سودا سلف لانے سے منع کرے جب کہ وہ خود اپنی مصروفیات کی بنا پر یہ کام انجام نہ دے سکتا ہو۔

یہاں ہم ایک مشہور ومعروف صحابیہ کی مثال پیش کرتے ہیں، ان کے شوہر زبیر بن العوام ہیں، جو عشرہ مبشرہ بالجنہ میں سے ایک ہیں۔ یہ خاتون حضرت ابو بکر کی بیٹی سیدہ اسماء ہیں جو روایت کرتی ہیں کہ سیدنا زبیر نے جب مجھ سے شادی کی تو اس سرزمین میں سوائے ایک گھوڑے کے ان کے پاس نہ کوئی مال تھا اور نہ کوئی غلام، تو میں ان کے گھوڑے کو چارہ ڈالتی، سواری کے دوسرے سارے لوازمات پورے کرتی، گھوڑے کو سدھاتی، گھٹلیاں پیس کر اونٹ کا چارہ بناتی اور پھر اسے کھلاتی، پانی بھر کر لاتی اور بڑے ڈول کو بھر دیتی، آٹا گوندتی اور چونکہ روٹی اچھے طریقے سے پکانا نہیں آتا تھا تو انصار کی پڑوسنیں میرےلیے روٹی پکا دیتیں، یہ عورتیں سچی اور ستھری خواتین تھیں۔

سیدہ اسماء اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدنا زبیر کو (مدینے سے) دو میل کے فاصلے پر ایک قطعہ زمین عطا کیا تھا اور میں وہاں سے گٹھلیوں (کی ٹوکری) اپنے سر پر لاد کر لایا کرتی تھی اور ایک دن جب کہ میں اسی طرح یہ ٹوکری سر پر لا دے آ رہی تھیں تو اسی راستے سے نبی ﷺ کا چند صحابہ کے ساتھ گذر ہوا تو انہوں نے مجھے آواز دی، اپنے اونٹ کو بیٹھنے کا اشارہ دیا تاکہ مجھے وہ اپنے پیچھے سوار کر لیں۔

سیدہ اسماء کہتی ہیں کہ مجھے شرم آئی اور زبیر کی غیرت یاد آئی، (یعنی اس بنا پر انہوں نے نبی ﷺ کی دعوت قبول نہ کی۔)

سیدنا زبیر نے یہ بات سن کر کہا: تمہارا اپنے سر پر گٹھلیاں لاد کرلے جانا مجھے زیادہ گراں گذرتا ہے، بہ نسبت اس کے کہ تم ان کے ساتھ سوار ہو جاتیں۔ سیدہ اسماء کہتی ہیں کہ اور پھر سیدنا ابو بکر نے مجھے ایک خادم بھجوا دیا اور یوں مجھے گھوڑے کے کاموں سے فرصت ملی، مجھے ایسا معلوم ہوا کہ گویا انہوں نے مجھے آزاد کر دیا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 2182)

اس روایت سے یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ سیدہ اسماء گھر کے باہر کے کام بھی کیا کرتی تھیں اور مدینہ سے دو میل (ایک فرسخ کا دوتہائی فاصلہ) تنہا آیا جایا کرتی تھیں اور یقیناً حضرت زبیر کی طرف سے ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔

البتہ اللہ کے رسول ﷺ کے پیچھے سوار ہونے کے بارے میں صحیح مسلم کے شارح امام نووی﷫ لکھتے ہیں: ’’یہ عمل اللہ کے رسول کی خصوصیات میں سے ہے، وہ اس لیے کہ حضرت اسماء حضرت ابو بکر کی بیٹی ہیں، حضرت عائشہ کی بہن ہیں، حضرت زبیر کی بیوی ہیں، گویا ان کی حیثیت گھر کے ایک فرد کی مانند تھی۔‘‘

یہ وہ خصوصیت تھی کہ جس کی بنا پر انہوں نے حضرت اسماء کو پیچھے بٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ وگرنہ نبی ﷺ کی عمومی ہدایت یہی ہے کہ غیر مرد اور عورتیں ایک دوسرے سے دور رہیں۔

تبصرہ کریں