سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

سوال: استنبول کے ایک نو قائم شدہ عربی چینل ’ق‘ ٹی وی سے جلاتین کے موضوع پر ایک فقہی مذاکرے کی دعوت موصول ہوئی، جس میں میرے علاوہ مراکش سے بواسطہ ’زوم‘ شیخ سالم الشیخی بھی شرکت کر رہے تھے۔ اس ضمن میں مندرجہ ذیل موضوعات زیر بحث آئے:

1۔ کھانے پینے کی چیزوں میں اصل قاعدہ کیا ہے؟

2۔ اس ضمن میں حلال وحرام کی بنیاد کیا ہے؟

3۔ کیا مباح چیز کا ہر چیز ومباح ہے اور کیاحرام چیز کا ہر جزء کا کھانا بغیر استحالہ کے حرام ہے؟

4۔ شرعی اعتبار سے جیلاتین کی کونسی اقسام ہیں؟

5۔ استحالہ کا مفہوم کیا ہے اور اسے کون متعین کرے گا؟

6۔ طبی رو سے کیا اسے کے لیے بھی طبی ضابطے ہیں؟

7۔ طبی فقہی لحاظ سے کیا جیلاتین کے اندر استحالہ کا عمل پایا جاتا ہے؟

8۔ طبی لحاظ سے اگر اختلاف رائے پایا جائے تو کیا وہ شرعی حکم پر اثر انداز ہو گا؟

کیا اس کا حرام ہونا صرف احتیاط کی بنا پر ہو گا؟

9۔ کیا اس کا حرام ہونا صرف کھانے کی حد تک ہے، علاج معالجے اور دوسرے استعمالات سے متعلق نہیں ہے؟

جوابات: پہلے اور دوسرے سوال جواب ملاحظہ ہو:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ﴾ (سورة البقرة: 168)

’’اے لوگو! زمین میں جو کچھ حلال اور طیب ہے اسے کھاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔‘‘

یہاں تین باتیں بیان کی گئی ہیں:

1۔ کھانے کے لیے جائز اشیاء وہ ہیں جو ’طیبات‘ کی تعریف میں آتی ہیں۔

2۔ طیبات کے ساتھ ساتھ شرعی لحاظ سے ان کا حلال ہونا بھی ضروری ہے، جیسے مویشی وہ شرعی ذبیحہ کے بعد حلال ہوتے ہیں۔

3۔ شیطان اس باب میں بنی آدم کاازلی دشمن ہے جو انہیں حلال وحرام میں تمیز کرنے سے باز رکھنا چاہتا ہے، اس لیے اس کے مکروفریب سے بچنا ضروری ہے۔

سوالانعام کی آیت 148 میں بتایا گیا ہے کہ شرک اور حرام چیزوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ فرمایا:

﴿سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن شَيْءٍ﴾

’’مشرکین عنقریب کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہی ہمارے آباؤاجداد اور نہ ہی ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔‘‘

اور چونکہ دور جاہلیت میں عربوں نے اپنی طرف سے بہت سے جانوروں کو حرام ٹھہرا لیا تھا، جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حام وغیرہ تو ان کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا:

﴿قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ﴾ (سورة الأنعام: 145)

’’آپ کہہ دیجیے کہ جو کچھ وحی میرے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی حرام نہیں پتا، کسی کھانے والے کے لیے مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کہ ناپاک ہے یا غیر اللہ کا نام کسی جانور پر لیا جائے جو خود ایک گناہ ہے۔‘‘

اور پھر مجبوری کی بنا پر دو شرطوں کے ساتھ ان کے کھانے کی اجازت دی گئی۔

﴿فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ (سورة الأنعام: 145)

’’تو پھر اگر کوئی شخص مجبور ہو جائے بشرطیکہ نہ وہ اس کھانے کی چاہت رکھتا ہو اور نہ ہی ضرورت سے زیادہ کھانے والا ہو تو تیرا رب معاف کرنے والا ہے، رحمت کرنے والا ہے۔‘‘

یہاں چار چیزوں کو حرام ہونے میں محصور نہیں کیا گیا بلکہ جاہلیت کے عربوں پر حجت تمام کی جا رہی ہے کہ تم جن جانوروں کو حرام ٹھہراتے ہو تو ان کا ذکر تو وحی الٰہی میں کہیں نہیں آیا۔ جن کا ذکر آیا ہے وہ تو یہ چار چیزیں ہیں:

ایسی ہی حرمت کا ذکر سورۃ البقرۃ اور سورۃ المائدۃ میں بھی آیا ہے لیکن سورۃ الانعام کی اس آیت میں وضاحت آ گئی کہ

1۔ جانور کا وہ خون حرام ہے جو ذبح کرتے وقت بہہ گیا ہو۔

2۔ سؤر گندگی کی بنا پر حرام ہے۔

3۔ جس کھانے پر یا جانور پر غیر اللہ کا نام لیا جائے تو وہ ایک گناہ کا کام ہے۔

اور اس تفصیل سے ضمناً یہ بات معلوم ہوئی کہ جیسے حلال وحرام ہونے کا ایک شرعی اور قانونی معیار ہے ویسے ہی ایک عقلی اور فطری معیار بھی ہے۔ وہ یہ کہ وہ تمام اشیاء جو ظاہری گندگی اور باطنی (عقلی واخلاقی) آلودگی سے پاک ہیں وہ سب حلال ہیں۔ اور یہ کہ تمام حلال اشیاء ظاہری اور باطنی پر پاکیزہ، خوشگوار، معتدل، صحت بخش اور روح پرور ہوتی ہیں۔ انہیں ہی طیبات کہا جاتا ہے اور اس کےبرعکس خبیثات، ہیں جنہیں ان کی ظاہری اور باطنی گندگی کی بنا پر حرام قرار دیا گیا ہے۔

اور اللہ کے نبی ﷺ کا یہ وصف بتایا گیا ہے کہ

﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ﴾ (سورة الأعراف: 157)

’’اور وہ ان کے لیے طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام ٹھہراتے ہیں۔‘‘

اور یہ بھی ارشاد فرمایا:

﴿‏ وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ﴾

’’اور تمام گناہوں کو چھوڑ دو چاہے وہ ظاہری ہوں یا باطنی۔‘‘ (سورة الأنعام: 120)

قاعدہ یہ معلوم ہوا کہ جانوروں کی حد تک سب کے سب حرام ہیں، الا یہ کہ وہ ایسے مویشی ہوں جن کو ذبح کر کے کھایا گیا ہو۔

اور باقی تمام قابل خورد ونوش اشیاء حلال ہیں ، الّا یہ کہ ان میں سے کسی کھانے کو غیر اللہ کے نام پر خاص کیا گیا ہو۔

تیسرے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ ہر حلال چیز کے اجزاء بھی حلال ہیں ، سوائے خون، فُضلے یا کسی مضرّ چیز کے اور ایسے ہی ہر حرام چیز کے اجزا بھی حرام ہیں، سوائے ہڈی، ناخن وغیرہ کے جن میں خون کی سرایت نہیں ہوئی۔ ان کا خارجی استعمال جائز ہے، سلف میں ہاتھی دانت کی بنی ہوئی کنگھی کا استعمال دیکھا گیا ہے۔

اور ایسے ہی مردہ جانور کی کھال کو بھی دباغت کے بعد قابل استعمال جائز قرار دیا گیا۔

اور اگرمردہ جانور چاہے وہ مویشیوں میں سے ہوں یا حرام جانوروں میں سے، استحالہ کے بعد، چونکہ ان کی ماہیت تبدیل ہو چکی ہوتی ہے، اس لیے اگر وہ کسی اچھی چیز میں تبدیل ہو چکے ہوں تو ان کا کھانا پینا یا ظاہری استعمال جائز ہو جاتا ہے۔

چوتھا سوال جیلاتین کی اقسام سے متعلق ہے۔

جیلاتین (Gelatain) ایک لجلجا قسم کا مادّہ ہے جو جانوروں کی ہڈیوں میں سے نکالا جاتا ہے۔ اس مادّہ کا اصل نام کولاجین (Collegen) بتایا جاتا ہے جو کہ پروٹین کی افزائش کا اصل جزو ہے۔

اس مادے کو کیمیاوی تحلیل کے بعد جیلاتین میں تبدیل کیا جاتا ہے جس کی تفصیل استحالہ کے ضمن میں بیان کی جائے گی۔

اس کی بنیادی دوقسمیں ہیں:

حیوانی اور نباتانی

حیوانات میں 44 فیصد سؤر کی کھال سے، 28 فیصد گائے ، 27 فیصد صرف ہڈیوں اور 1 فیصد دوسری اشیاء سے حاصل کی جاتی ہے۔

نباتات میں زیادہ تر انحصار سمندر میں پائی جانے والی گھاس سے جیسے عربی میں طحالب البحر کہا جاتا ہے، سے بنائی جاتی ہے۔ حبلی کی تمام اقسام اس میں شامل ہیں۔ (نباتی بھی اور حیوانی بھی)

بعض مچھلیوں سے بھی جیلاتین حاصل کی جاتی ہے۔

گرم پانی (30 فیصد سینٹی گریڈ) میں جیلاتین گھل جاتی ہے اور سخت ٹھنڈ میں جم جاتی ہے، ذائقہ اور بُو نہیں پائی جاتی، شوخ زرد رنگ بعض اقسام میں نظر آتا ہے، کھانے پینے کی متعدد اشیاء میں استعمال کی جاتی ہے، جیسے

پنیر، آئس کریم، چاکلیٹ، میٹھی گولیاں، مارجرین کا مکھن، چونگم، گوشت کی مختلف اطبقا میں، اس کے متعدد طبی استعمال بھی معروف ہیں، جیسے

دواؤں کے کیپسول، مرہم، طبی خارجی مسکنات، بناوٹی حُسن کی مختلف انواع کی کریم، کئی طرح وٹامن، فوٹوگرافی کے اوراق، جیلاتین لاطینی زبان سے ماخوذ ہے اور جامد کےمعنیٰ میں معروف ہے، یعنی کئی مواد کو جوڑ کر رکھنا اس کا اصلی وصف ہے۔

طبی لحاظ سے جیلاتین کے کئی فائدے ہیں، جیسے:

زخموں ک جلد بھرنے میں مدد دینا، ناخن، بال اور دانت کو خوشنما بنانا، ہڈیوں کو مضبوط کرنا، انسانی جسم میں قوت برداشت کو بڑھانا، بڑھاپے کے اثرات کو کم کرنا، بے خوابی کا علاج اور پُرسکن نیند لانے میں مدد دینا، جوڑوں کے درد کا علاج، سرخ ذرّات خون کی کمی کا علاج، وزن کی کمی کا مداوا، شوگر کی ثانوی قسم کا علاج، ان فوائد کے ساتھ ساتھ بعض لوگوں میں جلاتین کا استعمال مضر بھی ثابت ہوا ہے، جیسے:

معدے کی جلن، شدید الرجی جو دل کو متاثر کر سکتی ہے۔ خارجی جلد (کھال) میں جلن کا پیدا ہونا، زیادہ استعمال جگر کو متاثر کر سکتا ہے۔

آنتوں میں اضطراب کا پیدا ہونا، پیٹ پھولنا، بیمار جانوروں (جیسے پاگل گائے کے امراض) سے حاصل کردہ جیلاتین کئی مہلک امراض کا باعث ہو سکتی ہے۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو اسے استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اگلے پانچوں سوالات استحالہ اور اس کے طبی اور شرعی احکامات سے متعلق ہیں۔

استحالہ (Transformation)

لغوی اعتبار سے ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہونا اور اصطلاحی اعتبار سے ایک چیز کا کسی دوسری چیز میں اس طرح بدل جانا کہ اس کے اوصاف بھی تبدیل ہو جائیں۔

یہ تبدیلی اگر نجاست سے پاکی کی طرف ہو گی تو حلال متصور ہو گی اور اگر پاکی سے نجاست کی طرف ہو گی تو حرام کہلائے گی۔

مثال کے طور پر مویشی جو چارہ کھاتے ہیں وہ ان کے بدن کا جزو بن جاتا ہے، اس میں گوشت، دودھ، خون اور فضلہ شامل ہے۔

گوشت (ذبیحہ کی شکل میں) اور دودھ پاک ہونے کی وجہ سے حلال ہوں گے اور خون (اپنے مضر اثرات کی بنا پر) اور فُضلہ اپنی ناپاکی کی بنا پر حرام ہوں گے۔ اور اس اعتبار سے نباتاتی جیلاتین بالاتفاق حلال ہے کہ وہ اصلاً بھی نبات کی شکل میں تھی جو کہ پاک ہے اور پھر اس سے جلاتین بنائی گئی اور ایسے ہی وہ جیلاتین جو مذبوح جانوروں کی ہڈیوں یا کھال سے بنائی گئی ہو۔ لیکن اگر اصل ہی ناپاک ہو جیسے مردہ جانور یا سؤر، تو آیا جیلاتین کی شکل میں اس کا استحالہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟

ایک رائے تو یہ ہے کہ سؤر نجس عین ہے، اس لیے اگر وہ کیمیائی عمل سے گزر بھی جائے اس کی نجاست باقی رہے گی اور اس لحاظ سے سؤر کی کھال سے بنی جیلاتین ناپاک رہے گی اور اس کا استعمال حرام ہو گا۔

لیکن دوسری رائے یہ ہے کہ چاہے مردہ جانور ہو یاسؤر ہو، اس کا استحالہ ہو جائے تو دیکھا جائے گا کہ اس نے کون سی شکل اختیار کی ہے؟

مثال کے طور پر اگر مردہ جانور چاہے کتا ہو یا سؤر، اگر نمک کی کان میں عرصہ تک پڑا رہے، تو وہ خود نمک میں تبدیل ہو جائے گا۔ اب اس کا حکم نمک کا ہو گا نہ کہ کتے یا سؤر کا۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے شراب دھوپ میں پڑی رہے یا کسی کیمیکل تحلیل کی بنا پر سِرکے میں تبدیل ہو جائے تو وہ سرکہ کہلائے گی اور اسکا کھانا جائز ہو گا۔

سؤر ، مردار یا غیر مأکول اللحم (وہ جانور جن کا کھانا جائز نہیں ہے) اگر عمل، استحالہ سے گزریں کہ جس میں کھولتا ہوا پانی، عمل تک یہ (ACID) اور پھر عمل تجفیف (خشک کیا جانا) شامل ہے تو کولاجین، جیلاتین میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ نہ صرف نام تبدیل ہوتا ہے بلکہ اوصاف بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔

اور اسی کو استحالہ کلیہ (مکمل نہ کہ جزوی) کا نام دیا جاتا ہے۔

جیلاتین اب ایک نئی شکل ہے جس میں کولاجین کے اوصاف پائے جاتے ہیں اور نہ ہی اس کی بُو پائی جاتی ہے۔ یہ ایسے ہی جیسے سؤر کی چربی کو کیمیاوی تجربے سے گزارا جائے اور اس سے پلاسٹک بنایا جائے، جو کہ چربی کی جگہ ایک مختلف چیز ہے۔

استحالہ کئی طریقوں سے ہو سکتا ہے۔

1۔ جلائے جانے سے جیسے جانوروں کا فًضلہ، جلائے جانے کے بعد وہ راکھ میں بدل جاتا ہے۔

2۔ کسی دوسری چیز میں طویل عرصہ رہنے کی بنا پر تحلیل ہو جائے، جیسے

مردہ جانور کا نمک کی کان میں گر جانا اور نمک میں تبدیل ہو جانا۔

امام ابن قیم﷫ نے ایک اور مثال بھی دی ہے اور وہ یہ کہ نبی ﷺ نے مسجد نبوی کے لیے جو جگہ خریدی تھی، اس میں مشرکین کی قبریں تھیں، نبیﷺ نے ان قبروں کو کھدوایا اور ان میں مردہ اجسام کی جو ہڈیاں ملیں، انہیں کہیں دور پھینک دیا گیا۔ لیکن جسم کے جو اجزاء مٹی میں تبدیل ہو چکے تھے، اس مٹی کو باقی رہنے دیا گیا اور وہیں پر مسجد کی تعمیر ہوئی۔ گویا ان کے اجسام کی مٹی میں تحلیل ہو چکی تھی، اس لیے اب مٹی کا اعتبار کیا گیا، مردہ اجسام کا نہیں۔

3۔ کیمیاوی عمل کے ذریعے ایک چیز دوسری شکل میں اختیار کر لے جو پاک وصاف ہو۔

جیلاتین میں اسی تیسرے طریق کو اختیار کیا گیا ہے، اس لیے اسکے جواز کا حکم لگایا گیا ہے۔ اسکے سارے استعمالات مفید پائے گئے ہیں۔

جن اطباء کی رائے میں جیلاتین کا استعمال بعض حالات میں مضر پایا گیا ہے تو اس کی وجہ وہ طریقہ استخراج ہے کہ جسے جلاتین کے حصول کے لیے اپنایا گیا ہے۔ یعنی سستی جیلاتین کے حصول کے لیے کیمیاوی طریق کی پابندی نہیں کی گئی جس کی بنا پر کولاجین کے مضر اثرات باقی رہے۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ

جیلاتین سے بنی ہوئی مصنوعات (جن میں E نمبر بھی شامل ہیں) جائز ہیں بشرطیکہ

اطباء کی طرف سے اطمینان دلایا جائے کہ مادہ کولاجین ایک کیمیاوی عمل کے نتیجہ میں جیلاتین میں تبدیل ہو چکا ہے اور اس کے تمام اوصاف تبدیل ہو چکے ہیں اور یہ کہ اس کا استعمال فائدے کے لیے ہو۔اور یہ کہ اس کے کوئی مضر اثرات نہ پائے جائیں۔

البتہ اگر ان میں سے کسی بھی مصنوعات کے بارے میں شک واقع ہو جائے تو بہتر ہے کہ اس کے استعمال سے پرہیز کیا جائے جیسا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے:«دع ما يريبك إلى ما لا يريبك» (جامع ترمذى، مسند أحمد)

’’جو چیز شک کا باعث ہو اسے چھوڑ دو اور اس چیز کو اختیار کرو جس میں شک نہ ہو۔‘‘

حافظ حبیب الرحمٰن جہلمی کی والدہ وفات پا گئیں!

ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ مولانا حافظ حبیب الرحمٰن جہلمی کی والدہ عید الاضحیٰ سے چند دن قبل جہلم میں وفات پا گئیں! إنا لله وإنا إليه ارجعون

مرحومہ نیک و صالحہ اور حسن کردار سے متصف تھیں۔مولانا عبد الحمید ازہر مدنی مہتمم جامعہ اثریہ جہلم نے رقت آمیز لہجے میں ان کی نمازہ جنازہ پڑھائی، جس میں بہت سے علماء اور احباب شریک تھے، ان دنوں یہاں کورونا کی وجہ سے حافظ حبیب صاحب پاکستان نہ جا سکے اور یہیں والدہ کی نماز جنازہ غائبانہ پڑھائی، جس میں بہت سے علماء کرام اور احباب واقارب نے شرکت کی اور حافظ حبیب صاحب سے اظہار تعزیت کیا، دعا ہے کہ اللہ کریم مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل بخشے۔ آمین یا رب العالمین

تبصرہ کریں