صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کرامتیں (قسط10)- ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک شیطان کو پکڑ لیا تھا ! !

سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اکرم ﷺ نے فطرانے کی نگہداشت کا وکیل بنایا۔ میرے پاس ایک شخص آیا اور لپ بھر بھرکر اناج اٹھانے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا:

اللہ کی قسم !میں تجھے رسول اللہ ﷺ کے حضور پیش کروں گا۔ اس نے کہا: میں محتاج ہوں۔ مجھ پر عیال داری کا بوجھ ہے اور مجھے شدید ضرورت تھی۔

سیدنا ابو ہریرہ نے کہا:

تب میں نے اسے چھوڑدیا۔ صبح ہوئی تو نبی ﷺ نے فرمایا:

’’اے ابوہریرہ ( )!رات تمہارے قیدی کا کیا ماجرا ہوا؟’’ میں نے عرض کیا:

اللہ کے رسول اللہ ﷺ !اس نے اپنی ضرورت مندی بیان کی اور عیال داری کی شکایت کی تو مجھے اس پر ترس آگیا اور اسے چھوڑ دیا۔

آپﷺ نے فرمایا:

’’ آگاہ رہو!اس نے تجھ سے جھوٹ بولا ہے اور وہ پھر آئے گا۔‘‘ کے پیش نظر مجھے یقین تھا کہ وہ ضرور آئے گا، اس لیے میں اس کی گھات میں رہا۔ چنانچہ وہ آیا اور غلے سے لپ بھرنے لگا تو میں نے اسے پکڑلیا اور کہا کہ اس بار تو میں تجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ضرور پیش کروں گا۔ اس نے کہا:

مجھے چھوڑدو۔ میں انتہائی محتاج ہوں اور مجھ پر بال بچوں کا بوجھ ہے۔ میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔ مجھے اس پر ترس آیا اور میں نے اسے چھوڑدیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ابو ہریرہ ( ) !تمہارے قیدی کا کیا ماجرا ہوا؟‘‘ میں نے عرض کیا:

اللہ کے رسول اللہ ﷺ !اس نے اپنی شدید ضرورت کو بیان کیا اور بال بچوں کی شکایت کی تو مجھے اس پر رحم آیا، اس لیے میں نے اسے چھوڑدیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’خبردار رہو! اس نے جھوٹ بولا ہے۔ وہ پھر آئے گا۔‘‘

چنانچہ میں اس بار اس کی گھات میں رہا۔ جب وہ آیا اور لپ بھر بھر کر اناج اٹھانے لگا۔ تو میں نے اسے پکڑکر کہا: اب تو میں تجھے ضروررسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر جاؤں گا۔ یہ آخری بار ہے۔ تین بار تو یہ حرکت کر چکا ہے۔ تو کہتا ہے نہیں آؤں گا۔ پھرآجاتاہے۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑدو۔ میں تمہیں چند کلمات بتاتا ہوں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نفع دے گا۔ میں نے کہا: وہ کیا ہیں؟ اس نے کہا:

جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے آؤ تو آیت الکرسی ﴿اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ شروع سے لے کر آخر آیت تک پڑھ لیا کرو۔ ایسا کرو گے تو اللہ کی طرف سے ایک نگران تمھاری حفاظت کرے گااور صبح تک شیطان تمھارے قریب نہیں آئے گا۔ میں نے اسے چھوڑدیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ گزشتہ رات تمہارے قیدی نے کیا کیا؟‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ !اس نے مجھے کہا کہ وہ مجھے چند کلمات بتائے گاجن کے ذریعے سے اللہ مجھے نفع دے گا تو میں نے اسے چھوڑدیا۔ آپ نے پوچھا: ’’وہ کلمات کیا ہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا: اس نے مجھ سے کہا کہ جب تم اپنے بسترپر آؤ تو آیت الکرسی ﴿اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ شروع سے آخر تک پڑھو۔ یہ کام کرنے سے اللہ کی طرف سے تمھارے لیے ایک نگران مقرر ہو جائے گا جو تمھاری حفاظت کرے گا اور صبح تک شیطان بھی تمہارے پاس نہیں پھٹکےگا۔ صحابہ کرام اجمعین کارہائےخیر کے بڑے حریص تھے نبی ﷺ نے فرمایا:

’’سنو!اس نے بات تو سچی کی ہے لیکن خود وہ جھوٹا ہے۔ اے ابو ہریرہ ( )!تم جانتے ہو کہ جس سے تم تین راتوں سے باتیں کرتے رہے ہو وہ کون ہے؟‘‘

سیدنا ابو ہریرہ نے عرض کیا: میں نہیں جانتا تو آپﷺ نے فرمایا:

’’وہ شیطان تھا۔‘‘ (صحیح بخاری: 2311)

سیدنا عمر رضی اللہ عہنہ کاایک جن کو پچھاڑ نااور ان کی امارت میں شیاطین کو بیڑی لگانا

سیدنا ابو وائل سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ عبداللہ نے کہا کہ نبی کریمﷺ کے صحابہ میں سے ایک صحابی سے شیطان ملا اور دونوں کا مقابلہ ہوا، مسلمان نے اُسے بچھاڑ دیا اور اس کے انگوٹھے کو زخمی کر دیا، اس نے کہا کہ تو مجھے چھوڑ دے میں تجھے ایک آیت سکھاؤں گا، اس مسلمان نے اُسے چھوڑ دیا،مگر شیطان نے اسے وہ آیت سنانے سے انکار کر دیا، پھر دونوں کی کشتی ہوئی پھر اس مسلمان نے اسے چھوڑ دیا مگر شیطان نے اسے وہ آیت سنانے سے انکار کر دیا، پھر دونوں کی کشتی ہوئی، پھر اس مسلمان نے اسے بچھاڑ دیا اور اس کے انگوٹھے کو زخمی کر دیا، اس مسلمان نے کہا کہ مجھے وہ آیت سناؤ، اس نے بتانے سے انکار کر دیا، جب اس نے تیسری مرتبہ اسے پچھاڑ دیا تو اس نے آیت الکرسی کا بتایا۔ عبد اللہ سے کہا گیا، اے ابو عبد الرحمٰن وہ آدمی کون ہے؟ تو عبد اللہ نے کہا کہ وہ سیدنا عمر کے علاوہ اور کون ہو سکتے ہیں؟

ایک روایت جو سیدنا ابن مسعود سے مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ اس کے دونوں ہاتھ کتے کے ہاتھوں جیسے تھے، اور یہ کہ جب آیۃ الکرسی پڑھیں گے تو اس گھر سے شیطان گدھے کی طرح چیختے ہوئے نکل جاتا ہے اور صبح تک وہاں نہیں آتا۔

سیدنا معاذ بن جبل نے نے نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک شیطان کو پکڑ لیا تھا!

سیدنا بریدہ روایت کرتے ہیں کہ مجھے خبر ملی ، سیدنا معاذ بن جبل نے رسول ﷺ کے زمانے میں شیطان کو پکڑا تھا۔

چنانچہ میں سیدنا معاذ بن جبل کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے کہا: ہاں ، اللہ کے رسول ﷺ نے صدقہ کے کھجوروں کی ذمہ داری مجھے دی تھی، میں نے انہیں اپنے ایک کمرہ میں رکھ دیا تھا اور ہر دن اس میں سے کمی محسوسی کر رہا تها، میں نے اللہ کے رسولﷺ سے اس کی شکایت کی، تو آپﷺ نے فرمایا:

’’ یہ شیطان کا کام ہے، اس کے لئے گھات لگا کر بیٹھو۔‘‘

میں ایک رات گھات لگا کر بیٹھا ، جب رات کا ایک حصہ گزر گیا تو وہ ہاتھی کی شکل میں آیا، جب دروازہ تک آیا تو درواز کی شگاف سے شکل بدل کر داخل ہوا اور کھجوروں کے قریب آیا اور اس میں کھانے لگا۔

میں نے کہا:

أشهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا عبده و رسوله

اے اللہ کے دشمن! تو نے صدقہ کے کھجور لے لیا جبکہ ہم لوگ تجھ سے زیادہ اس کے مستحق ہیں، میں تجھے اللہ کے رسول ﷺ کے پاس لے جاؤں گا اور تیری فضیحت ہوگی، تو مجھ سے یہ معاہدہ کر کہ دوسری بار نہیں آئے گا ، میں اللہ کےرسول ﷺ کی خدمت میں پہنچا، آپﷺ نے فرمایا:

’’ تمہارے قیدی نے کیا کہا ؟ ‘‘

میں نے کہا :

اس نے معاہدہ کیا کہ وہ دوبارہ نہیں آئے گا۔

آپﷺ نے فرمایا:

’’وہ دوبارہ آئے گا، اس پر کڑی نظر رکھو۔‘‘

میں نےدوسری رات کڑی نظر رکھی، اس نے پہلے جیسا کیا اور میں نے بھی پہلے جیسا کیا اور مجھ سے معاہدہ کیا کہ دوبارہ نہیں آئے گا، تو میں نے اسے چھوڑ دیا پھر میں اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں پہنچا تا کہ آپ کو اس کی خبر دے سکوں، اتنے میں ایک آواز دینے والے نے آواز دی کہ معاذ کہاں ہیں ؟

معاذ، تمہارے قیدی نے کیا کہا ؟ میں نے اس کے متعلق بتایا تو آپ ﷺنے فرمایا :

’’ وہ پھر آئے گا، اس پر کڑی نظر رکھو۔‘‘

میں نے تیسری رات اس پر کڑی نظر رکھی، اس نے پہلے جیسا کیا اور میں نے بھی پہلے جیسا کیا، میں نے اس سے کہا کہ اے اللہ کے دشمن! تو نے دو بار ایسا ہی کیا اور یہ تیسری مرتبہ ہے ، میں ضرور تجھے اللہ کے رسولﷺ کی خدمت میں پیش کروں گااور تیری بےعزتی ہوگی، اس نے کہا، میں بچوں والا شیطان ہوں،اگر اس کے علاوہ کہیں سے کچھ مل جاتا تو میں یہاں نہیں آتا۔ہم آپ کے شہری تھے، یہاں تک کہ آپ کے صاحب (رسول اللہﷺ) مبعوث کئے گئے جب ان پر دو آیتیں نازل ہوئیں تو ہم یہاں سے بھاگے اور نصیبین میں ٹھہرے ، اگر کسی گھر میں یہ پڑھی جائیں وہاں شیطان داخل نہیں ہو سکتا، اگر تم مجھے چھوڑ دو تو میں تمہیں وہ چیز بتاؤں گا، میں نے کہا، ہاں، اس نے آیۃ الکرسی اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات آمن الرسول سے آخر تک بتائیں اور میں نے اسے چھوڑ دیا، پھر میں اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں اس کی خبر دینے کے لئے پہنچا، تو ایک آواز دینے والا مجھے بلا رہا تھا کہ معاذبن جبل( ) کہاں ہیں؟

جب میں آپ کی خدمت میں خدمت پہنچا تو مجھ سے یہ سوال کیا گیا کہ تمہاری قیدی نے کیا کہا ؟ میں نے کہاکہ اس نے نہ آنے کا معاہدہ کیا ہے اور یہ بات بتائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’خبیث نے سچ کہا ہے اگر چہ کہ وہ جھوٹا ہے۔‘‘

سیدنا معاذ بن جبل نے کہا کہ اس کے بعد میں ان دونوں آیتوں کو پڑھتا رہا اور اس سے کھجوروں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ (مجمع الزوائد: 6؍322)

٭٭٭

نماز کے لیے زینت اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کا حق ہے،چاہے آپ اکیلے ہی نماز پڑھ رہے ہوں!

نافع کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر نے مجھے ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور کہا: ’’کیا میں نے تم نے دو کپڑے نہیں بنا کر دئیے؟‘‘ میں نےکہا ہاں۔ کہنے لگے: تم کیا سمجھتے ہو کہ اگر میں تمہیں فلاں (معزز) کے پاس بھیجوں تو کیا تم اس لباس میں جاؤ گے؟ میں نے کہا: نہیں، تو فرمانے لگے کہ

’’اللہ تعالیٰ زیادہ حقدار ہے جس کے سامنے جاتے ہوئے زینت اختیار کی جائے۔‘‘

(مصنف عبد الرزاق : 2؍76)

تبصرہ کریں