صحابہ کرام کی کرامتیں۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

رسول اکرمﷺ کے غلام سفینہ کی کرامت

ابن منکدر سے روایت ہے کہ سفینہ رسول اللہﷺ کے غلام روم میں لشکر سے بچھڑ گئے یا وہاں قید کر لیے گئے تو وہاں سے بھاگ نکلے اور لشکر تلاش کرنے لگے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شیر آپ کے سامنے آ گیا، سفینہ نے کہا کہ اے ابو الحارث! میں رسول اللہﷺ کا غلام ہوں اور میرے ساتھ ایسا ہو گیا ہے! یہ سن کر شیر دم ہلاتا ہوا میرے پہلو میں کھڑا ہو گیا، جب کوئی خوفناک آواز سنتا تو شیر اس کی طرف جاتا پھر واپس سفینہ کے پہلو میں آ جاتا، یہاں تک کہ سفینہ لشکر سے جا ملے اور شیر وہاں سے واپس ہو گیا۔ (شرح السنہ؛ مشکوٰۃ المصابیح: حدیث نمبر 5678) پہلی التوسل للالبانی میں اسے ضعیف الاسناد موقوف قرار دیا ہے۔ یعنی سند کے اعتبار سے ضعیف اور موقوف ہے۔

سیدہ عائشہ کی کرامت

ابن ابی الجوزاء روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ مدینے والے سخت قحط میں مبتلا ہو گئے تو وہ سیدہ عائشہ سے اس کی شکایت کی، انہوں نے کہا کہ نبی کریمﷺ کی قبر شریف کو دیکھو اور آسمان کی طرف روشن دان نکالو، اس طرح کہ آپﷺ کے روضہ مبارک اور آسمان کے درمیان چھت نہ ہو، انہوں نے ایسا ہی کیا ، چنانچہ وہ بارش برسا گئے، جس سے گھاس پیدا ہوئی، اونٹ فربہ ہو گئے یہاں تک کہ چربی کی کثرت کی وجہ سے ان کے جسم پھٹ گئے اور اس سال کو فتق کا سال (اونٹوں کے جسموں کے پھٹنے کا سال) کہا گیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح: حدیث نمبر 5950)

(احکام الجنائز شیخ البانی﷫ نے فرمایا کہ یہ صحیح نہیں ہے۔)

اس حدیث سے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ کی کرامت ثابت ہے کہ انہوں نے ایسا صائب مشورہ دیا کہ اہل مدینہ کی پریشانی جاتی رہی اور پھلے سے زیادہ خوشحالی عود کر آ گئی!

روضۂ رسولﷺ سے نمازوں کے اوقات ہلکی آواز کا سنائی دینا

سیدنا سعید بن عبد العزیز روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ گرمی کےدنوں میں تین دن مسجد نبوی میں اذان ہوئی اور نہ اقامت کہی گئی اور سیدنا سعید بن مسیب مسجد ہی میں رہے اور وہ نمازوں کے اوقات بھی نہیں جانتے تھے مگر ہلکی آواز کے جو آپﷺ کی قبر مبارک سے آتی تھی۔ (سنن دارمی، مشکوٰۃ المصابیح: حدیث نمبر 5951) (شیخ البانی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے)

نبی کریمﷺ کی دعا سے سیدنا انس کی کرامت

ابی خلدہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابو العالیہ سے کہا کہ کیا سیدنا انس نے نبی کریمﷺ سے احادیث سنی ہیں؟ ابو العالیہ نے کہا کہ سیدنا انس نے دس سال نبی کریمﷺ کی خدمت کی ہے اور نبی کریمﷺ نے ان کے لیے دعا کی ہے اور سیدنا انس کا ایک باغ تھا جو سال میں دو مرتبہ پھل دیتا تھا اور اس باغ میں پھول کے درخت تھے جن سے مشک وکستوری کی خوشبو آتی تھی۔

(جامع ترمذی، مشکوٰۃ المصابیح: حدیث 5952)

سیدنا انس نے 10 سال نبی کریمﷺ کی خدمت کی، اللہ کے نبیﷺ نے سیدنا انس کے لیے دعا فرمائی، جس کی وجہ سے ان کی عمر 103 سال ہوئی اور ان کی 100 اولاد ہوئی اور مال میں بہت برکت ہوئی جو 10 سال آپﷺ کی خدمت رہے وہ براہِ راست آپﷺ سے بہت کچھ سنا ہے۔

سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کی کرامت

سیدنا عروہ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ سعید بن عمرو بن نفیل سے ارویٰ بنت اوس نے جھگڑا کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ سعید بن زید نے ارویٰ کی زمین پر ناچیز قبضہ کر لیا ہے۔ سیدنا سعید نے کہا کہ میں اس کی زمین پر ناجائز قبضہ کروں گا جبکہ میں نے رسول اللہﷺ سے یہ سن چکا ہوں؟ مروان نے کہا کہ آپ نے رسول اللہﷺ سے کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’ جو شخص کسی کی زمین ظلم سے لے لے گا، اللہ تعالیٰ ایسی سات زمینیں اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دے گا۔‘‘

یہ سن کر مروان نے کہا کہ اس کے بعد میں آپ سے کوئی ثبوت نہیں مانگوں گا۔ سیدنا سعید بن زید نے بد دعا کی کہ اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اسے اندھی کر دے اور اسے اس کی زمین ہی میں موت دے۔

سیدنا سعید نے کہا کہ وہ نہیں مری یہاں تک کہ وہ اندھی ہو گئی اور ایک مرتبہ وہ اپنے گھر میں چل رہی تھی کہ گھر کے اندر ایک گڑھے میں گر گئی اورمر گئی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

صحیح مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ محمد بن زید بن عبد اللہ بن عمر سے یوں وارد ہے کہ محمد بن زید نے اس اندھی عورت کو گھر میں دیکھا کہ وہ دیوار کا سہارا لے کر چلتی تھی اور کہتی تھی کہ مجھ پر محمد بن زید کی بد دعا ہے اور وہ گھر کے کنویں پر گزری اور اس میں گر پڑی اور وہ کنواں اس کے لیے قبر بن گیا۔ علیحدہ سے اس کی قبر نہ بنائی گئی۔

مظلوم شخص بد دعا کر سکتا ہے، ایسے پاک طیعت وطبیعت نفوس قدسیہ پر جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں تو وہ بد دعا کرتے ہیں تاکہ دنیا کے دیکھ لے کہ کون ظالم ہے؟ اور اللہ ذوالقہار نے دنیا میں مظلوموں کی بد دعائیں قبول کر کے دنیا میں قیامت تک کے لیے اپنے پاک ومطہر بندوں کی بے گناہی کا ثبوت چھوڑ جاتے ہیں۔

فاعتبروا يا أولى الأبصار! آج کل جھوٹ ومکر وفریب سے زمینیں اور جائیدادیں ہڑپ کرنا نارمل بات بن چکی ہے ۔ اس لیے کہ نہ انہیں اللہ کا ڈر ہے، نہ موت کا اور نہ ہی قبر وحشر کا۔ العیاذ باللہ

تبصرہ کریں