صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کرامتیں (قسط10)۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

سیدنا عباس کی کرامت

سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر کے زمانے میں لوگ جب قحط میں مبتلا ہو گئے تو سیدنا عمر ، سیدنا عباس کے ساتھ بارش کی دعا کرنے کے لیے نکلے اور سیدنا عمر نے کہا:

اے اللہ! ہم تیرے نبی ﷺ کے وسیلہ سے بارش کے لیے دعا کرتے تھے اور آج ہم ہمارے نبی ﷺ کے چچا کے وسیلہ سے بارش کی دعا کرتے ہیں، اے اللہ! تو بارش نازل فرما۔

سیدنا ابن سعد سے منسوب ایک روایت میں ہے کہ سیدنا موسیٰ بن عمیر کہتے ہیں کہ ہم لوگ قحط میں مبتلا ہو گئے تو سیدنا عمر بارش طلب کرنے کے لیے نکلے اور سیدنا عباس کا ہاتھ پکڑ لیا اور انہیں قبلہ رخ کیا کہ اے اللہ! یہ تیرے نبی ﷺ کے چچا ہیں اور ہم ان کا وسیلہ لیتے ہوئے تیرے پاس حاضر ہوئے ہیں، لہٰذا تو بارش نازل فرما۔

راوی کہتے ہیں کہ تھوڑی ہی دیر میں ہم بارش سے متمع ہوئے۔ (الاصابہ: 3؍625)

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں زندہ بزرگوں کا وسیلہ لینا جائز ہے جیسا کہ نبی کریمﷺ کی زندگی میں صحابہ کرام آپ ﷺ کے وسیلہ سے دعا مانگتے تھے۔

نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد ان کےبزرگ چچا سیدنا عباس کا وسیلہ لیتے تھے، اگر فوت شدگان کے وسیلہ کی اسلام میں اجازت ہوتی تو سیدنا عمر نبی کریمﷺ کا وسیلہ لیتے مگر سیدنا عمر نے سیدنا عباس کے وسیلہ سے دعا مانگی۔

سیدنا عثمان کے ہاتھ میں کنکریوں کا تسبیح پڑھنا

سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے زمین سے سات کنکریاں اپنے ہاتھ میں لیں، تو وہ کنکریاں تسبیح پڑھنے لگیں، پھر انہیں سیدنا ابو بکر نے اپنے ہاتھ میں لیں تو اسی طرح تسبیح پڑھنے لگیں، جس طرح نبی کریمﷺ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھ رہیں تھیں، پھر نبی کریمﷺ نے کنکریوں کو سیدنا عمر کے ہاتھ میں دیں تو وہ کنکریاں اسی طرح تسبیح پڑھنے لگیں، جس طرح سیدنا ابو بکر کے ہاتھ میں تسبیح پڑھ رہی تھیں، پھر نبی کریمﷺ نے ان کنکریوں کو سیدنا عثمان کے ہاتھ میں دیا تو وہ اسی طرح تسبیح پڑھنے لگیں ، جس طرح سیدنا ابو بکر کے ہاتھ میں تسبیح پڑھ رہی تھیں، اس کے بعد حاضرین کو وہ کنکریاں دیں مگر کسی کے ہاتھ میں وہ تسبیح نہیں پڑھ رہیں تھیں۔ (طبرانی الاوسط)

سیدنا عبد اللہ بن زید الانصاری کا خواب

حضرت محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد سیدنا عبداللہ بن زید نے بتایا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ناقوس بنانے کا حکم دیا تاکہ اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے جمع کیا جائے تو میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس سے ایک آدمی گزر رہا ہے، ہاتھ میں ناقوس لیے ہوئے ہے۔ میں نے اس سے کہا: اے اللہ کے بندے! کیا تو ناقوس بیچے گا؟ اس نے کہا: تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے کہا:

ہم اس سے لوگوں کو نماز کے لیے بلائیں گے۔

وہ کہنے لگا: کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتا دوں جو اس سے زیادہ بہتر ہے۔ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ اس نے کہا: تم یوں کہا کرو

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

”اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ کامیابی کی طرف۔ آؤ کامیابی کی طرف۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔“ پھر وہ مجھ سے کچھ پیچھے ہٹ گیا اور کہا جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو یوں کہو:

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

نماز کھڑی ہو گئی ہے۔ نماز کھڑی ہو گئی ہے۔ جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ خواب میں دیکھا تھا آپ ﷺ کو بتلایا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:

”یہ ان شاء اللہ سچا خواب ہے۔ تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور انہیں وہ کلمات بتاتے جاؤ جو تم نے دیکھے ہیں۔ وہ اذان کہے گا کیونکہ وہ تم سے زیادہ بلند آواز والا ہے۔“

چنانچہ میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور انہیں وہ الفاظ بتاتا گیا اور وہ اذان کہتے گئے۔ سیدنا عمر اپنے گھر میں تھے، انہوں نے اسے سنا تو (جلدی سے) چادر گھسیٹتے ہوئے آئے، کہنے لگے:

قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، اے اللہ کے رسول! میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے جیسے کہ انہوں نے دیکھا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 499)

٭٭٭

مولانا کاکا سعید احمد عمری کی وفات سے پیدا خلاء صدیوں پُر نہیں ہو سکے گا

جامعہ دار السلام عمر آباد جنوبی ہند کے معتمد عمومی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر مختلف تعلیمی ور فاعی تنظیموں کے ٹرسٹی و مشیر حضرت مولانا کا کا سعید احمد عمری 11 مئی کو عمر آباد میں وفات پاگئے اور 12 مئی کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں ان کے خلف اکبرمولانا انیس احمد عمری کی امامت میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور نمناک آنکھوں سے عمر آباد ہی میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔ آپ کے اساتذۂ حدیث میں مولانا نعمان اعظمی ہیں جو محدث حضرت مولانا میاں نذیر حسین اور ڈپٹی نذیر حسین کے تلامذہ میں سے تھے۔

مولانا پوری زندگی کتاب وسنت پر عمل پیرا رہے۔ 1958 میں آپ شریک معتمد عمومی بنائے گئے جبکہ آپ کی عمر صرف بائیس سال تھی اور 1988 میں جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے جامعہ کی ساری ذمہ داریاں سنبھال لئے تھے۔ اس کے علاوہ دین وملت کی تعمیر وترقی کے لئے آپ سر گرم عمل رہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن تاسیسی و نائب صدر اسلامک فقہ اکیڈمی کے رکن تاسیسی اور آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر کی اہم حیثیت سے بڑی اہم خدمات انجام دیں۔

نیز خدمت خلق کے باب میں جملہ سہولیات سے لیس جامعہ میں ہسپتال کی نئی عمارت قائم فرمائی اور ہندوستان بھر میں تقریباً ساڑھے چار سو مساجد کی تعمیر آپ کے لئے ذخیرہ آخرت ثابت ہوگی۔ ان شاء اللہ

جامعہ میں ملک اور بیرون ملک سے آئے ہوئے اجلہ علماء کرام اور اساتذہ جامعہ نے اپنے تاثرات میں حضرت کا کا سعید احمد کی خوبیوں اور ان کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالی مرحوم 88 سال عیسوی اعتبار سے اور 90 سال ہجری اعتبار سے عمر پائی اور اس لمبی زندگی میں جامعہ اور قوم وملت کی ترقی کے لئے کوشاں رہے ان کی اہلیہ کو دنیا سے رخصت ہوئے پچاس سال سے زائد عرصہ بیت گیا مگر انہوں نے دوسری شادی نہیں کی کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ

میں اپنا پوراوقت جامعہ کی ترقی کے لئے وقف کر دوں اور ویسا ہی کیا۔

ہم جب فارغ ہوئے تو جامعہ میں سوا سو یا ڈیڑھ سوطلباء کی تعداد تھی مگر اس گرانی کے دور میں اب جامعہ میں ایک ہزار طلب علم دارالاقامہ میں موجودہیں۔

یہ ان کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس کا تصوربھی پہلےنہیں تھا اور اتنی جدید عمارتوں کا سلسلہ چل پڑا ہے اور اتنا خوبصورت بنایا گیا کہ عمرآباد جنت نظیر کشمیر کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

عمر آبا د کو بسانے والے ان کے دادا محمد عمر تھے اس لئے ان کے نام کی مناسبت سے اس قریہ کا نام عمر آباد رکھا گیا ہے۔ ان کے فرزند اکبر اور شر یک معتمد مولانا انیس احمد عمری کے علاوہ تین صاحبزادے کا کا امین احمد، کا کا نسیم احمد اور کا کا ندیم احمد تین صاحبزادیاں متعدد پوتے پوتیاں نواسے اور نواسیاں اور ہزاروں متعلقین شامل ہیں۔

مولانا کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد ملک اور بیرون ملک سے شرکت کئے چونکہ برطانیہ میں بھی اس عظیم درسگاہ کے فارغین موجود ہیں اور دینی خدمت انجام دے رہے ہیں اس لئے انہوں نے بھی مسجد محمدی ’الم راک، برمنگھم میں بارہ مئی کو بعد نماز عشاء مرحوم کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی گئی مولانا محمد عبدالہادی العمری نے نماز جنازہ پڑھائی۔ مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، مولاناعبدالحق عمری مدنی، مولانا اسامہ عمری، مولانا عبدالرؤوف عمری ریاضی، حافظ عبدالرافع ریاضی، قاری سید یعقوب، محمد ابراہیم انجینئر، حافظ عمار انجینئر، حاجی عبد الغفور چوہدری، چوہدری اللہ دتہ، قاری حفیظ الرحمن، عبد المنان، عبد الفتاح، ڈاکٹر عبدالرب ثاقب اور بہت سے لوگ شریک جنازہ تھے ڈاکٹر عبدالرب ثاقب نے کہا کہ آج ہم ایک مشفق سرپرست اور روحانی والد سے محروم ہو چکے ہیں ۔

جو عمری علماء دوری کی وجہ سے نماز جنازہ غائبانہ میں شریک نہ ہو سکے، انہوں نے اپنی مساجد و مراکز میں اہتمام کیا۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نُوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ‌وَر پیدا

٭٭٭

تبصرہ کریں