صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کرامتیں (قسط 6)۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

سیدنا خبیب بن عدی کی نعش کو زمین نے اپنے اندر محفوظ کر لیا

اسلام کی دعوت وتبلیغ کے لیے ان کافروں کی خواہش پر صحابہ کرام کی ایک جماعت کو اللہ کے رسولﷺ نے ارسال فرمایا اور وہ لوگ دھوکہ دے کر ان صحابہ کرام کو شہید کر دیا، ان میں جو بچے ان کو کافروں کے ہاتھ بیچ دیا تاکہ جن کے اقرباء جنگ بدر میں مارے گئے تھے وہ ان سے بدلہ لے کر اپنے غصہ کی آگ کو بجھا سکیں۔ ان میں سیدنا خبیب بن عدی کے قتل کا بڑا اہتمام کیا گیا تھا۔ اشہر حرم (رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم) کے گزرنے کے بعد تنعیم مقام پر ہزاروں لوگ اس منظر کو دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے، ان کو قتل کرنے سے پہلے پوچھا گیا کہ تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟ توسیدنا خبیب بن عدی نے کہا کہ میں دو رکعت نماز پڑھنا چاہتا ہوں، چنانچہ انہوں نے مختصر نماز پڑھی اور کہا کہ میں نے نماز کو مختصر کر دیا ہے تاکہ تم یہ نہ سمجھو کہ موت کے ڈر سے میں نے نماز لمبی کر دی ہے۔ بڑے ہی ظلم وستم ڈھا کر آپ کو شہید کر دیا اور شہادت سے قبل سیدنا خبیب نے کچھ اشعار بھی کہے ہیں۔

شہادت کے بعد رسول اکرمﷺ نے عمرو بن امیہ سے فرمایا کہ کیا مکے سے تم سیدنا خبیب کی نعش کو یہاں مدینہ منورہ لا سکتے ہو؟ چنانچہ انہوں نے اس پر رضامندی کا اظہار کیا اور چلے گئے، رات کی تاریکی میں اس درخت تک پہنچ گئے جہاں آپ کو سولی دی گئی تھی۔ سیدنا عمرو بن امیہ درخت پر چڑھ کر اس رسی کو کھول دیا اور سیدنا خبیب کی نعش مبارک زمین پر آ گئی۔ انہوں نے درخت سے اتر کر دیکھا تو سیدنا خبیب کے جسد اطہر کو کس نےنہیں پایا، اس بات پر انہیں بہت تعجب ہوا اور اس کا یقین ہو گیا کہ اللہ کے حکم سے زمین نے سیدنا خبیب کے جسد اطہر کو شق ہو کر اپنے اندر سمو لیا ہے اور محفوظ کر لیا ہے، واپس آ کر اللہ کے رسولﷺ کو سارا واقعہ بیان کر دیا، یہ سیدنا خبیب کی کرامت تھی کہ اللہ کے حکم سے ان کا جسد اطہر زمین نے محفوظ کر لیا۔

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

(تیس پروانے شمع رسالت کے از طالب ہاشمی)

سیدنا عمر کی کرامات

سیدنا ابن عمر سے مروی ہے کہ سیدنا عمر نے ایک لشکر بھیجا اور ایک شخص کو امیر بنایا، جسے ساریہ کہا جاتا تھا۔ سیدنا عمر جب مدینہ منورہ میں خطبہ دے رہے تھے کہ انہوں نے چلّانا شروع کیا کہ اے ساری پہاڑ کو لازم پکڑو، چنانچہ لشکر سے ایک قاصد آپ کے پاس آیا اور کہا کہ اے امیر المؤمین! ہمارے دشمن نے ہمیں شکست دی تھی، پھر اچانک ایک چلّانے والے نے چلّایا کہ اے ساری پہاڑ کو مت چھوڑو، چنانچہ ہم نے پہاڑ کو ٹیک لگا دیااور اللہ تعالیٰ نے ہمارے دشمنوں کو شکست دے دی، بیہقی نے دلائل النبوۃ میں ذکر کیا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح: حدیث نمبر 5683)

1۔ سیدنا عمر مدینہ منورہ میں خطبہ دے رہے تھے اور کئی جلیل القدر صحابہ وتابعین تشریف فرما ہیں آپ کو ایک دور دراز علاقہ کا منظر دکھایا جانا۔

2۔ سیدنا عمر کا چیخ کر انہیں کہنا کہ پہاڑ کو مت چھوڑو یہ تمہارے لیے ڈھال کا کام کرے گا۔

آپ کی اسی آواز کو ساریہ تک پہنچانا جس کو سن کر انہوں نے پہاڑ کو لازم پکڑ لیا، یہ جنگ کی حکمت عملی تھی، جو سیدنا عمر نے انہیں بتائی تھی۔

3۔ اللہ تعالیٰ نے اس لشکر کو فتح یاب کرنا اور دشمنوں کو شکست فاش دینا۔ یہ تمام سیدنا عمر کی کرامات تھیں جنہیں ایک قاصد نے ان تمام باتوں کی تصدیق کی۔

سیدنا کعب بن احبار﷫ کی کرامت

سیدنا نبیہ بن وہب سے مروی ہے کہ سیدنا کعب بن احبار ﷫ سیدہ عائشہ صدیقہ کے پاس آئے اور اللہ کے رسولﷺ کا ذکر کیا تو سیدنا کعب﷫ نے کہا کہ کوئی دن ایسا نہیں ہے کہ اس میں فجر طلوع ہو مگر اس میں 70 ہزار فرشتے اترتے ہیں، آسمان سے اور آپﷺ کی قبر مبارک کو گھیر لیتے ہیں اور اپنے پروں سے قبر اقدس کو مارتے ہیں تاکہ اس سے انہیں برکت حاصل ہو اور اللہ کے رسولﷺ پر درود پڑھتے ہیں یہاں تک کہ جب شام ہوتی ہے تو وہ فرشتے آسمان پر چلے جاتے ہیں اور اتنے ہی فرشتے آسمان سے آپﷺ کی قبر مبارک پر اتر آتے ہیں اور وہ بھی اسی طرح کرتے ہیں جس طرح دن کے فرشتوں نے کیا تھا، یہ عمل قیامت تک جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو آپﷺ کی قبر مبارک سے 70 ہزار فرشتے آپﷺ کے ساتھ نکلیں گے جو آپﷺ کو گھیرے ہوئے ہوں گے، اسے دارمی نے روایت نے کیا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح: حدیث نمبر 5684)

اس حدیث سے سیدنا کعب بن احبار﷫ (تابعی) کی کرامت ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ کریم نے ان کو جو فہم وبصیرت عطا فرمائی تھی، اس سے انہوں نے اس حقیقت کو جان لیا کہ آپﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کیا اعزاز بخشا تھا۔

شیخ البانی﷫ نے ہدایۃ الرواۃ میں لکھا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ اس کے علاوہ وہ مقطوع ہے۔

اس کے علاوہ مشکوٰۃ المصابیح کی حدیث نمبر 5947 کو بھی شیخ البانی﷫ نے مرقاۃ المفاتیح میں ضعیف قرار دیا ہے۔

سیدنا ابو امامہ کا نیند میں سیراب ہونا

سیدنا ابو مامہ باہلی کو اللہ کے رسولﷺ نے دعوت وتبلیغ کے لیے اپنی قوم کے پاس بھیجا تھا تو وہ جب وہاں پہنچے تو وہ بھوک محسوس کر رہے تھے، ان لوگوں نے کہا کہ آؤ ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ اور ہم جو کھا رہے ہیں وہ کھا لو، وہ لوگ خون پی رہے تھے، ابو امامہ نے کہا کہ میں تو آپ لوگوں کو اسی سے منع کرنے کے لیے آیا ہوں کیونکہ اسلام میں خون کھانا حرام ہے اور تم مجھے اس کی دعوت دے رہے ہو۔اس پر وہ لوگ ان کا مذاق اڑا رہے تھے کہ اسی عالم میں شدت بھوک وپیاس کی وجہ سے میں نے زمین پر سر رکھا اور میری آنکھ لگ گئی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص نے مجھے کھانے پینے کا برتن دیا اور میں نے سیراب ہو کر کھا پی لیا اور میں نیند سے بیدار ہوا تو میرا پیٹ بالکل بھرا ہوا تھا، میری قوم کے لوگ ایک برتن لائے تاکہ میں اس سے کھا پی لوں، میں نے کہا کہ میں بالکل سیراب ہو چکا ہوں، اللہ نے مجھے کھلایا اور پلایا ہے اور میں نے نہیں اپنا پیٹ دکھایا تو انہیں یقین آ گیا اور وہ تمام جو اس کرامت کا مشاہدہ کر رہے تھے، سب کے سب نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔ (مجمع الزوائد: 9؍386)

٭٭٭

تبصرہ کریں