سفر مسجد اقصی اور ارض فلسطین کی روح افزا روئیداد-حافظ عبد الاعلیٰ درانی

یاسرعرفات مرحوم کا تربیتی کیمپ

ہم جب اس شہر میں داخل ہوئے تو اس وقت چیک پوسٹ پر کوئی بھی نہیں تھا۔ ہم بلا روک ٹوک چلے گئے۔ شہرکے پہلے حصے میں بائیں جانب ہائی سکول کی طرح کی ایک بلڈنگ نظر آئی جس کانام پڑھ کر میں چونک گیا، لکھاتھا:

’’یاسر عرفات تربیتی سنٹر۔ یعنی فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن(PLO) جس کی قیادت یاسرعرفات (مرحوم) کرتے تھے ، ان کا تربیتی سنٹر…؟

ابو عماریاسر عرفات آزادی فلسطین کاہیرو

اس مجاہدفلسطین حریت پسند رہنمانے سے ساری زندگی فلسطین کی آزادی کے لیے وقف کردی تھی۔ اس کی جدوجہدسے 1994میں اوسلومعاہدہ ہوا اور فلسطینیوں کوبھی ’’ انسان ‘‘تسلیم کرلیاگیا۔ یعنی بالکل ابتدائی طورپرہی سہی لیکن ان کی حیثیت مان لی گئی اور فلسطین کے بٹوارے سے کئی شہرفلسطینی ریاست کا حصہ قرار پائے۔ یاسرعرفات عالم اسلام میں مسلمانوں کاہیرو شمار ہوتا رہا ہے۔ وہ 1929میں قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام محمد یاسر عبدالرحمن عبدالرؤف عرفات قدوۃ الحسینی تھا ان کے والد تاجر پیشہ تھے اور والدہ زاہوا عبدالسعود کا تعلق شہربیت المقدس یروشلم سے تھا۔ وہ1933میں فوت ہوگئیں جب یاسر کی عمر صرف چار برس تھی۔ ان کے والد 1952میں قاہرہ ہی میں فوت ہوئے۔ انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے1956ء میں انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی۔ جس کے بعد انہوں نے فتح تحریک سے اپنے سفر آزادی کاآغاز کیا۔ 1966ء میں انہوں نے فلسطینی لبریشن آرمیP.L.Oکی باگ ڈور سنبھال لی۔ ان کا نک نیم یاسر تھا1960ء میں انہوں نے ابو عمار کی کنیت اپنالی تھی۔ عرفات نے 1974ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں چھاپہ مار کی وردی پہنے تاریخی خطاب کیا۔ انہوں نے ساری زندگی خطرات سے کھیلتے ہوئے گزار دی۔ اورجب1982ء میں اسرائیل نے بیروت پر حملہ کیا تو اس وقت وہ بیروت میں موجود تھے۔ یاسر عرفات پر کئی قاتلانہ حملے ہوئے لیکن وہ ہر بار بچ جاتے۔ انہوں نے اپنی جدوجہد کے دوران کویت ، تیونس لبنان کے علاوہ کئی ملکوں میں قیام کیا۔ اردن کی حکومت نے 1986ء میں عمان میں ان کے دفتر کو بند کردیا۔ 1988ء میں امریکا نے فلسطینی رہنما کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب سے روکنے کے لیے ان کو امریکہ کا ویزہ دینے سے انکار کردیا بعدمیں انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ یاسر عرفات نے1988ء میں امریکی یہودیوں کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کے وجود کوماننے کا اعلان کیا۔ نوے کی دہائی میں یاسر عرفات کو امن کے کئی انعامات سے نوازا گیا۔ انہیں نوبل کاامن انعام بھی ملا۔ جنوبی افریقہ کے رہنما نیلسن منڈیلا نے بھی فلسطینی رہنما کو کیپ ہوپ انعام سے نوازا۔ چالیس سال سے زیادہ جلاوطنی کے بعد 1994ء میں وہ واپس فلسطین گئے۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ ایک امن سمجھوتہ کیا جس کے تحت فلسطین نیشنل اتھارٹی قائم ہوئی اور وہ فلسطین کے پہلے صدر اور محمود عباس وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ بعد میں یاسر عرفات نے 2سال رملہ میں محصور کی زندگی گزار ی لیکن باجود اسرائیلی حملوں کے اسے چھوڑنے سے انکار کردیا۔

انہوں نے آخری عمرمیں ایک عیسائی عورت سوہاسے شادی بھی کی۔ جس سے ان کی1996ء میں ایک لڑکی زوہا عرفات پیدا ہوئی جو اب اپنی ماں کے ساتھ فرانس میں مقیم ہے۔ ان کاانتقال پیرس کے ایک ہسپتال میں ہوا۔ کہاجاتاہے کہ انہیں زہر دے کر قتل کیاگیاتھا۔ کیونکہ اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون کو اس کی پارلیمنٹ نے فلسطینی حریت پسند یاسر عرفات کو کسی بھی طریقے سے اور کہیں سے بھی قتل کرنے کااختیاردے رکھا تھا۔ شیرون نے ہی ان کی بیماری کے دوران انہیں علاج کے لیے فرانس جانے کی اجازت دی تھی۔ اور علاج میں دلچسپی ظاہر کیے رکھی۔ بس اسی دوران میں انہیں قتل کرنے کا پلان ترتیب دیاگیاان کی نمازجنازہ مصر میں ادا کی گئی۔ جس میں دنیا کے بہت سے سربراہان نے شرکت کی۔ اور تدفین غزہ میں اپنے کمپاؤنڈ کے قریب ہوئی۔ ان کی تدفین کے وقت قبرمیں مسجد اقصی کی مٹھی بھر مٹی ڈالی گئی جو مفتی دیار فلسطین ڈاکٹر عکرمہ صبری بطور تبرک ساتھ لے کر آئے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ساری دنیا میں فلسطینیوں کے حقوق کی بات کرنے کے لیے اسی بطل حریت نے بھرپورکام کیا۔ اللہ کریم ان کی حسنات قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ ان کے جسد خاکی کی تدفین کے 8برس بعد ان کی قبر کشائی کی گئی۔ اورتفتیشی رپورٹ ان کے خاندان کو نہیں دی گئی۔ رپورٹ میں کیا انکشاف ہوا ؟ معلوم نہیں تاہم قبر کشائی سے ان کی قبرپر بطور تبرک ڈالی گئی مسجداقصی کی مٹھی بھر مٹی ضرور ضائع ہوگئی۔

میں نے کچھ دیر وہاں رک کر ان کے تربیتی سنٹر کودیکھا اگر وقت اجازت دیتا تو میں اس کے اندر بھی داخل ہوجاتا۔ اس وقت میری آنکھوں کے سامنے یاسرعرفات کی پوری زندگی گھوم گئی۔ جب 1974میں اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ ہم نے سرکلرروڈ لاہورپر کھڑے ہوکر انہیں کرنل قذافی اور انورسادات کے ہمراہ ایک کھلی گاڑی میں جاتے دیکھاتھا۔ اس لمحے میرے والد مرحوم بھی میرے ہمراہ کھڑے تھے۔ اور۔۔۔ آج ہم۔۔۔ ان کے تربیتی کیمپ کے سامنے کھڑے تھے۔ ﴿ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ﴾ میں نے توکبھی اس منظر کے تصورکاسوچابھی نہ تھا۔ اسی تاثر کے ساتھ ہم اریحاشہر میں جاپہنچے۔ بازار میں بڑی چہل پہل دیکھی۔ جو بھی فلسطینی مجھے نظر آیا عقیدت کی آنکھ نے اسے مظلوم بھائی سمجھتے ہوئے اس کے سرکا بوسہ لیا اور دل ہی دل میں کہتا رہا: ’’اے میرے فلسطینی مظلوم بھائیو ! جانے تمہاری آزمائش کادور کب اختتام پذیر ہوگا۔ اسی پیچ و خم میں الجھتے الجھتے ہم شہر کے آخری حصے تک گئے۔ عام بازاروں کی طرح ہی رونق دیکھی۔ کئی جگہ خیال ہوا کہ گاڑی سے نیچے اتر کر چلا پھرا جائے اور بیرون شہرتاریخی نوادرات اور مقام کوبھی دیکھا جائے۔ لیکن وقت بہت کم تھا۔ اس لیے شہر کا بیرونی حصہ نہ دیکھ سکے۔ اس لیے اس شہر کو مقدس جانتے ہوئے دائیں بائیں خوب سے دیکھا۔ کہ شاید زندگی میں دوبارہ اس ارض مقدس ۔۔۔ارض فلسطین۔۔۔ ارض انبیاء ۔۔۔ دنیا کے سب سے قدیمی شہر اریحاکودیکھنے کاموقع نہ ملے۔ البتہ ساتھیوں سے کہہ دیا کہ آئندہ جب بھی یہاں آنا اللہ کو منظور ہوا تو اس شہر کے قدیم اور جدید دونوں دور دیکھیں گے۔ اس شہر سے نکلتے وقت…یا اس سے جدا ہوتے وقت… بڑی عجیب کیفیت طاری ہوئی جسے بیان نہیں کرسکتا۔

شاہراہ القدس پر ایک بارات کی ہلڑبازی

اریحا۔۔۔کو الوداع کہہ کرجب ہم بیت المقدس جانے والی بڑی شاہراہ پر پہنچے تواچانک سجی سجائی، چمچماتی ، ہارن بجاتی اورفراٹے بھرتی ہوئی کاروں کے قافلے نے ہماری گاڑی کو دھمکانا شروع کردیا اور یہ ایک دو نہیں کئی کاریں تھیں ہم نے اپنی گاڑی کو ایک طرف کرکے محفوظ کرلیااور ان کو راستہ دے دیا۔ جب ذرا حواس بحال ہوئے تو پتہ چلاکہ یہ ایک بارات ہے جو روایتی آہنگ کے ساتھ فراٹے بھرتے ہوئے گزررہی ہے۔ جیسے ہمارے ہاں باراتوں میں عموماً نوجوانوں کاشور بلکہ شوخیاں۔ ہوتاہے۔ شرلیاں ،پٹاخے ، ہوائی فائرنگ ، اونچا میوزک اور آوازے کسنے وغیرہ۔ میں سمجھتاتھاکہ شاید یہ شوخیاں صرف ہمارے پاکستانی نوجوانوں کے لیے خاص ہیں۔ ایسی کئی ہلڑبازیاں برطانیہ میں ہم نے دیکھی تھیں1992کا ورلڈ کپ جب پاکستان نے جیتا تو بریڈفورڈ میں اتنی ہلڑ بازی کی گئی کہ پورا دن سڑکوں پر ہجوم رہا۔ جان کے خطرے سے خیال سے نہیں بلکہ شرمندگی کے مارے ہم سارا دن باہر نہیں نکل سکے تھے کہ یہ ہے ہماری قوم ؟اسی طرح عیدین ، چودہ اگست یوم آزادی پر بھی اس قسم کے ہنگامے ہوتے ہیں ۔ ظاہر ہے ہماری قوم کی تربیت کی سخت ضرورت ہے۔ لیکن یہ ہلڑ بازی تو فلسطین میں بھی دیکھنے کو ملی تو بہت حیرانگی ہوئی۔ پتہ نہیں یہ بارات فلسطینیوں کی تھی یا اسرائیلیوں کی۔ لیکن بڑی دیر تک یہ اودھم برداشت کرناپڑا۔ جہاں کچھ نہیں تھا وہاں اسرائیلی موبائل گھومتی دکھائی دیتی تھی اورجہاں ضرورت تھی وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ آخرکاریہ بارات چند کلو میٹر بعددائیں طرف مڑگئی اورہم نے سکون کا سانس لیا۔ اب ہم یروشلم پہنچ چکے تھے اوربتایاگیاکہ نمازمغرب مسجد اقصیٰ میں تو ادانہیں ہوسکتی تھی۔ ایک تو مغرب کاوقت قریب ہوگیا تھا اور دوسرا کل سے مسجداقصی مسلمانوں پر بند کردی گئی تھی۔ اس لیے ہم جبل مکبرکی طرف چلے گئے۔

جبل مکبرپر جب پہنچے

یروشلم کو چاروں طرف سے پہاڑوں نے گھیر رکھا ہے ان میں سے ایک پہاڑ یہ بھی ہے۔ جبل مکبر(تکبیر والا پہاڑ)یہ وہ علاقہ ہے جہاں سے پورے یروشلم کوپانی سپلائی ہوتاہے۔ یہاں ایک خوبصورت محلہ بھی آباد ہے۔ جس کا الگ سے ایک نمبردار( عربی میں اسے عمدہ کہا جاتاہے) موجود ہے جس کے ہاں ہرشام محفل عام جمتی ہے اور تازہ واقعات پر باہمی گفتگو ہوتی ہے وہاں داخل ہونے کی عام اجازت ہے۔ یروشلم کے اس پہاڑ کو جبل مکبر تکبیر والا پہاڑ کیوں کہا جاتاہے ؟۔ اس لیے کہ جب امیر المومنین ،عظیم فاتح، حضرت فاروق اعظم نے بیت المقدس فتح کیا تو اس علاقے کے لوگوں کو بتانے کے لیے کہ یروشلم…سرزمین اسلام …پر اہل اسلام کا قبضہ ہوچکا ہے۔ کیونکہ سارے مشرق علاقے میں صدا پہنچانی ہو تو اس سے بہتر کوئی جگہ نہ تھی۔ فاروق اعظم ؓنے یہاں کھڑے ہو کراللہ اکبر کانعرہ بلند کیا تھا۔ ان کی پیروی میں سب مسلمانوں نے اللہ اکبر اتنی زور سے کہاکہ پورا علاقہ گونج گیا۔ نعرہ تکبیر کاسیدنا فاروق کے ساتھ بڑا تعلق ہے ،جب آپ نے دار ارقم پہنچ کر سروردوعالم علیہ الصلوٰۃ وازکی التسلیم کے دست مبارک پراسلام قبول کیاتھا تو وہاں موجود صحابہ کرامؓ نے فرط جوش سے اتنی بلند آواز میں نعرہ تکبیر بلند کیاتھا کہ مکے کی پہاڑیوں سے ٹکراتاہوا گونجتاہواقریش کے دلوں کو گھائل کرگیاتھا اور انہیں معلوم ہوگیاکہ عمرنے اسلام قبول کرلیاہے گویا اسلام کو عمرکیاملا …اسلام کوعمر عطاہوگئی تھی۔ اسلام خلوت سے جلوت میں آگیا تھے۔ ایک ایسا ہی نعرہ اس وقت بھی لگا جب آپ نے فارس (موجودہ ایران) کو فتح کیاتھا۔ پھر آج ایسا ہی نعرہ لگا کہ یروشلم …بیت المقدس…سرزمین اسلام پر اسلام کا علم لہرانے لگ گیا ہے۔ اور تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے بھی کئی سالوں کی محنت اور عیسائیوں سے کم و بیش سولہ جنگوں کے بعد بیت المقدس پر اسلام کا جھنڈا لہرادیاتھاتو سیدنا فاروق اعظم کی متابعت میں آپ نے بھی جبل مکبر پر کھڑے ہوکرنعرہ تکبیر …اللہ اکبر…بلند کیا تھا۔

عین اس جگہ پہنچ کر میرابھی دل چاہا کہ میں بھی اس اونچائی پرکھڑاہوں اور میں بھی تکبیر بلند کہوں … اور شاید میں ایسا کربھی دیتا، لیکن میرے ضمیر نے کہا تم کس بل بوتے پر تکبیر بلند کرسکتے ہو…تمہیں ایسا کرنے کاکوئی حق نہیں ہے۔ اسی لاکھ آبادی والے یہودی ملک اسرائیل کی62اسلامی ریاستوں اور بے پناہ دولت اور ایٹم بم جیسے مہلک ہتھیاروں کے حامل عالم اسلام پر دہشت چھائی ہوئی ہے …اور تم لوگ ہو کہ ابھی بھی ابابیلوں کے منتظر ہو کہ وہ آئیں اور80لاکھ اسرائیلیوں سے ہماری جان چھڑا ئیں۔ ترکی کے نجم الدین اربکان نے سچ کہا تھا…بخدا آج اگر’’ ابابیل ‘‘ آئیں تو وہ اپنے کنکر یہودیوں کو نہیں مسلمانوں کو ماریں گے۔

تھے تو وہ آباء تمہارے ہی مگر تم کیا ہو

ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

گویا تم خالی خولی تکبیربلند کرنے کا حق بھی کھو چکے ہو۔ چنانچہ تکبیر کی آواز میرے حلق میں پھنس کر رہ گئی مگر آنکھوں کو نجانے کیسے خبر ہوگئی اورانہوں نے میرے درد دل کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ اتنے میں ساتھی مجھے ڈھونڈتے ہوئے ادھرآنکلے اور بتارہے تھے ،کہ اب تکبیر تو کیا نماز( مغرب) بھی ادا ہوچکی ہے۔ اورمیں بوجھل دل کے ساتھ آکرگاڑی میں بیٹھ گیا۔ سارے دن میں اتنی زیارتیں کی تھیں۔ (حبرون الخلیل ، مقام یونس ، بیت اللحم، مقام موسی ، بحر میت اور اریحا جیسا دنیا کاقدیم ترین شہر) کہ دل خوش ہوگیاتھا لیکن جبل مکبر پرآکرساری خوشیاں کافور ہو گئیں۔

جس دور پہ نازاں تھی دنیا

ہم اب وہ زمانہ بھول گئے

غیروں کی کہانی یاد رہی

ہم اپنا فسانہ بھول گئے

منہ دیکھ لیا آئینے میں

پر داغ نہ دیکھے سینے میں

جی ایسا لگایا جینے میں

مرنے کو مسلمان بھول گئے

تکبیر تو اب بھی ہوتی ہے مسجد کی فضا میں اے زاہد

جس ضرب سے دل دہل جاتے تھے

وہ ضرب لگانا بھول گئے

کچھ دیر بعد میں اپنے مستقر میں غمزدہ بیٹھا گم شدہ صدیوں کاماتم کررہاتھا۔

اتوار۔ 16جولائی۔ 2017۔ شوال۔ 22۔ 1438ھ

کل(ہفتہ15جولائی، 2017) ہم نے حبرون (الخلیل) بیت اللحم (جائے ولادت سیدنا عیسی ٰ ) مقام موسی ، بحر مرداراور تاریخی شہراریحا کی سیرکی تھی۔ واپسی پر جبل مکبر کاوزٹ بھی کیاتھا۔ خاص طور پر جبل مکبر پر ماضی کی باتیں یاد آئیں ، جس سے دل بڑا بوجھل ہوگیا تھا۔ خیال تھا کہ آج شہر القدس کی باقی زیارتیں کرلی جائیں گی۔ لیکن سخت تھکاوٹ کی وجہ سے طبیعت میں گرانی محسوس ہورہی تھی اتنے میں ٹیکسی آگئی مگر دل جانے پر آمادہ نہ ہوسکا اس لیے ساتھیوں سے کہہ دیا کہ آپ جائیں۔ میں ذرا آرام کرنا چاہتاہوں۔ بارہ بجے تک تازہ دم ہوچکاتھا۔ خیال ہوا کہ اس فلسطینی محلہ جس کانام ’’المسعودی‘‘ ہے ،اسی کو دیکھ لیا جائے۔ میں ہوٹل سے باہر نکلا اور اس کی گلیوں میں پھرنا شروع کردیا۔ یہ خالص فلسطینی محلہ ہے۔ کوئی یہودی نظر نہیں آیا چونکہ یہ بیت المقدس سے بالکل متصل ہے۔ اس لیے اس میں کافی ہوٹل بھی ہیں۔ فلسطینی محلہ ہونے کی وجہ سے یہاں عام سی زندگی نظرآتی ہے ، یوں کہہ لیجئے بالکل سادہ اور عامیانہ ، اور اس قسم کا ماحول آج سے 30، 35 سال پہلے مدینہ منورہ کے نواحی محلوں کاتھا۔ اسی طرح کے مکانات دوکانیں ،ایسی ہی رونق اور فضا میں اسی طرح کی بو باس تھی۔ یوں لگا کہ 30، 35 سال پہلے کا مدینہ طیبہ کا دور لوٹ آیا ہے۔ ’’المسعودی‘‘ میں کئی دکانوں پہ گیا۔ اپنے فلسطینی بھائیوں سے ملا۔ انہیں اپنا تعارف کرایا حالات حاضرہ پر باتیں ہوئیں۔ دودن پہلے مسجد اقصی میں جو حادثہ ہوا تھا۔ اس کے متعلق سُن گن لینے کی کوشش کی۔ فائرنگ سے شہید ہونے والے نوجوانوں کے بارے میں ان کی معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ ہر شخص نے مہمان نوازی کرنے کی کوشش کی کئی لوگوں نے دوپہر یارات کاکھانااکٹھے کھانے کی دعوت دی لیکن ہم نے اپنی مجبوری کے تحت شکریہ ادا کیا۔ اسی دوران ہمارے رہنمائے سفر ڈاکٹر یاسین صاحب کافون آگیاکہ اگر طبیعت فریش ہوچکی ہو تو ہوٹل کی لابی میں آجائیں میں دیگر رفقاء سفر کو چھوڑ کرآپ کو لینے کے لیے آیا ہوں یہ ان کی محبت کا مظاہرہ تھا ۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے۔ اور آج کا پروگرام بتایاکہ ظہر کی نمازمسجد عمر میں ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ اب تک ہمیں مسجدعمر کو صرف باہر ہی سے دیکھنے کا موقع ملا ہے ۔ نماز کے وقت تو مسجد لازماًکھلی ہوتی ہے۔ اور مسجد عمر کے بعد کوشش کریں گے کہ مسجداقصی جایا جائے۔ یہ سن کرمیرے شوق زیارت نے انگڑائی لی اور میں ہوٹل پہنچ گیا جہاں ڈاکٹر صاحب میرے منتظر تھے۔ چنانچہ ہم اکٹھے باب دمشق کی جانب روانہ ہوئے۔ جب پولیس اسٹیشن کے قریب پہنچے تو وہاں اسرائیلی سپاہی کھڑے تھے۔ اور لوگوں کو مسجد اقصی کی جانب جانے سے روک رہے تھے۔ میں نے سوچا اس طرح تو ہم بھی رہ جائیں گے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو دوسری جانب بھیجا کہ وہ بزرگ آدمی ہیں انہیں آسانی سے جانے دیا جائے گا۔ میں اس جانب سے کوشش کرتاہوں۔ میں آگے بڑھا اور اسرائیلی گارڈ کواپنا ارادہ بتایاکہ مجھے مسجد عمرکی زیارت کرنی ہے۔ اسے اپناپاسپورٹ دکھایا۔ کچھ سوچنے کے بعد اس نے مجھے اجازت دے دی۔ ڈاکٹر صاحب کو بھی داخل ہونے دیا گیا یوں ہم اپنے رفقاء کی جانب چلے آئے جوغار سلیمانی کے باہرہمارا انتظار کررہے تھے۔

تبصرہ کریں