سفر مسجد اقصی اور ا رض فلسطین کی روح افزا روئیداد- حافظ عبد الاعلیٰ درانی

بنی اسرائیل کی دوسری بار آباد کاری

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیلیوں میں جہاں بہت سے بدکار تھے وہاں ان کے اندر ایک گروہ خیر سے محبت کرنے والا بھی رہا ہے اسی لیے حق تعالیٰ نے فرمایا:

﴿لَیْسُوْا سَوَآءً مِنْ اَهْلِ الْکِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ0 یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَأُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴾

’’کہ سارے اہل کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں۔ راتوں کو اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سرگرم رہتے ہیں۔ اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتاہے۔‘‘(آل عمران: 113۔114)

انیٹوکس چہارم (175ق۔ م) کے دور میں اسرائیلیوں کے اندرسے ایک اصلاحی تحریک اٹھی جسے تحریک مکابی کہاجاتاہے۔ ۔ اس مکابی تحریک کے باعث رحمت الٰہیہ نے ان کی ایک بار پھر یاوری کی اور پچاس سال کے اندر اندر حالات نے پلٹا کھایا اوربابل کی سلطنت کو زوال ہوا۔ صالحین کی مسلسل کوششوں اور توبہ وانابت اِلی اللہ کی دعوت سرگرمی کے ساتھ شروع ہوگئی۔ جس سے بنی اسرائیل میں ایک بار پھر نیکی کا غلبہ بڑھ گیا۔ جس کی برکت سے اللہ عز وجل نے انہیں دنیوی طور پر بھی خوشحال کردیا۔ اور دینی طور پر بھی۔ اس تحریک کی کامیابی کی وجہ سے یونانی مغلوب ہوگئے اور مکابیوں نے سلطنت سنبھال لی۔ سورہ الاسراء میں فرمایا:

﴿ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَأَمْدَدْنَاكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَاكُمْ أَكْثَرَ نَفِيرًا 0 إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لِأَنفُسِكُمْ ۖ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا ۚ ﴾

’’پھر ہم نے ان پر تمہیں غلبہ دے کر تمہارے دن پھیرے اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تمہاری تعداد بڑھا دی ۔ اگر تم نے اچھے کام کیے تو خود اپنے ہی فائدہ کے لیے، اور اگر تم نے برے کام کیے توبھی اپنے لیے ۔‘‘ (سورہ بنی اسرائیل: 6۔7)

بنی اسرائیل کے پھلنے پھولنے کا یہ دور جاری رہا۔ تاآنکہ شاہ فارس ۔۔۔سائرس اعظم ۔۔۔ نے بخت نصر کوشکست دے کر بابل کوفتح کرلیا اور بنی اسرائیل کو فلسطین واپس جانے کی اجازت دے دی۔ اب اسرائیلیوں نے بیت المقدس کودوبارہ تعمیر کرنے کا پروگرام بنایالیکن ہمسایہ قومیں جو اس علاقے میں آکر آباد ہوگئی تھیں مزاحمت کرتی رہیں اور بیت المقدس یا مسجداقصی دوبارہ تعمیر نہ کی جاسکی۔ خسرو کے بعد نئے ایرانی بادشاہ ’’دارا‘‘نے یہودیہ کے آخری بادشاہ کے پوتے’’ زرو بابل‘‘ کویہودیہ کاگورنر مقرر کیا۔ 445ق م میں نحمیاہ کی زیر قیادت ایک اور جلاوطن گروہ یہودیہ واپس آیا اور شاہ ایران نے نحمیاہ کو یروشلم کاحاکم مقرر کردیا تھا اور اس نے اپنے زمانے کے مرد صالح جناب زکریا ( یہ زکریا نبی کے علاوہ ہیں) کی معاونت سے بیت المقدس کو نیاتعمیر کیا۔

اور بیت المقدس اورشہرکے گرد فصیل بنانے کاحکم دیا۔ اس طرح یروشلم شہرڈیڑھ سو سال بعد دوبارہ آباد ہوا۔ (غالباً یہ وہ دور ہے جس کا ذکر سیدنا عزیر کے ایک سو سال تک سوئے رہنے کے بعد بیدار ہونے تک کاہے)۔ لیکن کچھ ہی عرصے کے بعدایرانی سلطنت کا زوال شروع ہوگیا۔

یونانی سکندراعظم کی حکمت عملی اور فوجی طاقت نے ہرطرف فتوحات کے جھنڈے گاڑ دیے اوریونانیوں کوایرانیوں کی جگہ اقتدارحاصل ہوگیا۔ لیکن سکندراعظم کی33برس کی عمر میں ہندوستان سے واپسی پر اچانک وفات ہوگئی ، جس سے اس کی سلطنت تین حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک حصہ سلجوقی سلطنت کہلایا جس کے حصے میں شام کاعلاقہ آگیا اور اس کادارالحکومت انطاکیہ بنا۔ اس کے فرمانروا انٹیوکس ثالث نے 198ق م۔ میں فلسطین کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ یہودیوں کے مذہب سے اس بادشاہ کو سخت نفرت تھی اس نے جبراًیہودیت میں شرک داخل کردیا۔

قوم یہود کافی عرصہ اس کے دباؤ کے تحت زندگی گزارتی رہی۔ یہ غالبا458ق، م کی بات ہے۔ اب ملک فارس کا مسند نشین ’’اردشیر‘‘ تھا۔ اس نے سیدنا عزیر نبی کی بڑی عزت افزائی کی اور ان کو خداکی شریعت کو نافذ کرنے کے اختیارات دیے۔ چنانچہ سیدنا عزیر نے بڑا تعمیری کام کیا۔ انہوں نے بنی اسرائیل کا مذہبی سرمایہ مرتب کیا۔ تورات کے بکھرے ہوئے اجزا کو ایک کتاب میں جمع کیا۔ اس وجہ سے ان کی بنی اسرائیل میں بڑی عزت بن گئی،حتی کہ یہود انہیں خدا کا بیٹاتک کہنے لگ گئے۔ (سورۃ التوبہ: 30)

بنی اسرائیل اورہیکل سلیمانی کی دوسری تباہی

سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کردیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اوراس مسجد القدس میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلی والے داخل ہوئے تھے اور جس چیز پر قابو پائیں اسے توڑ پھوڑ کر تباہ کر دیں۔‘‘

مکابی تحریک کی نام نہاد مذہبی حلقوں نے بھی سخت مخالفت کی اور جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے نیک اور اصلاح کا کام کرنے والوں کے راستے میں بے شمار روکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں اسی طرح اب بھی ہوا اور بنی اسرائیل بداعمالیوں اور اخلاقی گراوٹ میں حد سے بڑھ گئے۔ تب بنی اسرائیلیوں کی بداعمالیوں کی نحوست پھر ظاہر ہونا شروع ہوگئی۔ جس کانتیجہ یروشلم اور بیت المقدس کی تباہی کی شکل میں ظاہر ہوا۔ کچھ عرصہ بعد انہی کے درمیان پھوٹ پڑگئی اورانہوں نے خود رومی فاتح پومپئی کوفلسطین پر حملہ کرنے کی دعوت دے ڈالی۔ چنانچہ پومپئی نے63ق م میں بیت المقدس پرقبضہ کرلیا۔

یاد رہے کہ رومی فاتحین کی پالیسی تھی کہ وہ مفتوح علاقوں پرمقامی حکمرانوں کے ذریعے نظم ونسق چلایاکرتے تھے۔ انہوں نے 40ق م میں ایک ہوشیار یہودی ہیروڈیس کوحکمران مقرر کردیاجو36سال تک حکمران رہا۔ اسی کے زمانے میں بیت المقدس کی تعمیرنوکی گئی۔ شہرکو منظم کیاگیا۔ لیکن سیدنا عیسی کی ولادت سے چار سال پہلے اس کی موت ہوگئی۔ (اس کے نام سے یروشلم کا ایک دروازہ بھی منسوب ہے )ہیروڈیس کے بعد اس کی ریاست تین حصوں میں تقسیم ہوگئی۔

اس کا ایک بیٹا ارخلاؤس 6عیسوی تک حکمران رہا۔ کیونکہ قیصر آرگسٹس نے اس کو معزول کرکے اس کی پوری ریاست اپنے گورنر کے ماتحت کرلی تھی۔ اور41عیسوی تک یہی انتظام رہا۔

یہی زمانہ تھا جب حضرت عیسی بنی اسرائیل کی اصلاح کے لیے اٹھے اور حسب روایت یہودیوں کے تمام مذہبی پیشواؤں نے مل کر ان کی مخالفت کی اور رومی گورنر پونتس پیلاطس سے ان کوسزائے موت دلوانے کے احکامات حاصل کرلیے۔

ہیرود کا دوسرا بیٹا ’’ ہیرود اینٹی پاس‘‘ شمالی فلسطین کے علاقہ گلیل اورشرق اردن کا مالک ہوااوریہی وہ شخص ہے جس نے ایک رقاصہ کی فرمائش پر سیدنا یحییٰ کا سرقلم کرکے اس کی نذر کیا۔ اس کاتیسرابیٹافلپ ’’کوہ حرمون‘‘ سے دریائے یرموک تک کے علاقے کا مالک ہوا۔ وہ رومی تہذیب میں ازسرتاپا ڈوبا ہواتھا۔ 41عیسوی میں ہیرودڈاعظم کے پوتے ’’ہیروداگرپا‘‘ کو رومیوں نے پورے علاقے کا حاکم مقررکردیاجن پر اس کے داداکی حکمرانی تھی۔

66عیسوی میں ’’ہیروداگرپا ‘‘کے خلاف بغاوت ہوگئی اور70ء میں ٹیٹوس نے بزور شمشیریروشلم کو فتح کرلیا اور اہل فلسطین کا قتل عام کیا۔ جس میں ایک لاکھ 33 ہزار افراد قتل ہوگئے اور67ہزارغلام بناکرتھیٹروں میں بھوکے شیروں کے پنجوں سے بھنبھوڑے جانے کے لیے مختلف علاقوں میں بھیج دیے گئے اوریروشلم کے شہر اور ہیکل کو مسمار کرکے پیوند خاک کردیاگیا (اس تباہی میں صرف دیوار کا یہ حصہ باقی بچا جسے اب یہودی ہیکل سلیمانی کی دیوار بتاتے ہیں)اور فلسطین سے یہودی اثرو اقتدار ایسا مٹاکہ دو ہزار برس تک اس کو پھر سراٹھانے کا موقع نہ ملا۔

اوریروشلم کا مقدس ہیکل پھر کبھی تعمیر نہ ہوسکا۔ بعد میں رومیوں کے بادشاہ قیصر ہیڈریان نے اس شہر کو دوبارہ آباد کیامگراب اس کانام بیت المقدس نہیں بیت ایلیا تھا( بیت ایلیا یا تو بیت المقدس یا بیت اللہ کا ترجمہ تھا یا پھر فلسطین میں صدیوں سے آباد قوموں کے سب سے بڑے معبود تھا’’ایل ‘‘کے نام پرتھا۔ یہ دیوتاؤں کا باپ تھااس کی بیوی کانام عشیرۃ تھا۔ اور اسی سے خداؤں اور خدانیوں کی ایک پوری نسل چلی تھی جن کی تعداد70تک پہنچتی تھی۔ عراق کا مشہور معبود ’بعل‘ بھی اسی کی اولاد تھا۔ لیکن بعض مورخین کے مطابق بیت ایلیا سے مراد بیت اللہ کیونکہ ایل بمعنی اللہ بھی عبرانی زبان میں سمجھا جاتا ہے جیسے اسماعیل اللہ کا بندہ وغیرہ بہرحال اسی بیت ایلیامیں مدتہائے درازتک یہودیوں کوداخلے کی اجازت نہ تھی ۔۔۔ یہ تھی وہ سزا جو بنی اسرائیل کو دوسرے فساد عظیم کی پاداش میں ملی۔

بنی اسرائیل کی اس تاریخ سے ثابت ہوا کہ جس ہیکل سلیمانی یا مسجد اقصی کو سیدنا داؤد اور سیدنا سلیمان نے تعمیر کیا تھا وہ توبخت نصر کے ہاتھوں مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا اورہیروڈیس کے زمانے میں دوبارہ تعمیر کیاگیا۔ سیدنا عیسیٰ کے رفع الی السماء کے بعد 70سال تک اس کی تعمیر کردہ مسجد اقصیٰ یاہیکل کی بلڈنگ قائم رہی۔ تاآنکہ رومیوں نے فلسطین پر چڑھائی کردی اوراورتقریباً 600(چھ سو ) سال بعد طیطوس نے ساراہیکل تباہ کردیا۔ صرف ایک دیوار بچی رہی تھی۔ یہودی اس ہیروڈیس کی بنائی ہوئی دیوار کے سامنے جا کر روتے اور یہودی دور کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔ اس تباہی کے 540سال بعد جب رحمت للعالمین معراج کے لیے تشریف لائے تو اسی دیوار کے دروازے سے داخل ہوئے اور اسی کے ساتھ اپنی سواری کے جانور ’’براق‘‘ کو باندھا تھا۔ تب سے اسے دیوار براق کہاجاتاہے۔

کسی نبی نے مندر ،سینی گاگ یا ہیکل نہیں بنایا

ایک اور بات بھی قابل لحاظ ہے کہ انبیاء کرام زمین پر اللہ کے نمائندہ ہوتے تھے۔ وہ جو عبادتگاہ بھی بناتے تھے وہ مسجد ہوا کرتی تھی جہاں خالق حقیقی کے سامنے سر بسجود ہوا جاتاتھا۔ اور اس کا نام مسجد ہی ہوتاتھا ہیکل یا مند یا سینگاگ ہر گز نہیں ہوتاتھا۔ سیدنا داؤد وسلیمان سے پہلے یعقوب نبی نے یہاں مسجد تعمیر کی (جیسا کہ صحیح بخاری میں نبی کریمﷺ سے پوچھا گیا کہ سب سے پہلی مسجد روئے زمین پر کونسی باقاعدہ تعمیر کی گئی تو فرمایا کعبۃ اللہ ، پوچھا گیا اس کے بعد؟ تو آقا نے جواب دیا مسجد اقصی۔ پوچھا گیا ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ تھا فرمایا چالیس سال۔ ظاہر ہے سیدنا داؤد و سیدنا سلیمان نے مسجد کی جگہ کس طرح ہیکل بنا لیا یہ ناممکن ہے۔

تو اصل بھی مسجد ہی تھی ، بعدمیں بھی مسجد ہی بنائی گئی اور اسی کا نام مسجد اقصٰی ہے ، یہی مسجد دو دفعہ یہود کی بدعہدی کی وجہ سے منہدم کی گئی ، ہیکل ، مندر، گردوارہ یا سینیگاگ وغیرہ کا کوئی تصورتھا نہ رہا ہے۔ بہرحال یہود اس دیوار کو سیدنا سلیمان کی تعمیر سمجھتے ہیں اسی لیے وہاں آکر اس دور ہمایوں کے چھن جانے پر روتے ہیں۔ بلکہ اسی دیوار کو اتنا مقدس جانتے ہیں جس طرح اہل ایمان حج کرنے بیت اللہ جاتے ہیں اسی طرح تقدس و تبرک کے لیے یہودی یہاں آتے ہیں۔ اس کے قریب ہی یہودیوں کا مقدس ترین سینا گاگ ہے جس کو بنیادی پتھر کہاجاتاہے زیادہ تر یہودی ربیوں کے مطابق اس پتھر کے اوپر کوئی یہودی پیر نہیں رکھ سکتا اگر کوئی ایساکرے تو اس پر عذاب نازل ہوجاتا ہے۔ بہت سے یہودیوں کے مطابق وہ تاریخی چٹان جس پر قبۃ الصخراء واقع ہے مقدس بنیادی پتھر وہی ہے۔ جبکہ کچھ یہودیوں کے عقیدے کے مطابق یہ مقدس بنیادی پتھر دیوار گریہ کے بالکل مخالف سمت میں واقع ’’الکاس آبشار ‘‘کے نزدیک ہے۔

یہودی لوگ یہاں اپنی معافی کی درخواستیں ٹانکتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ اللہ میاں ان کی یہاں رکھی ہوئی درخواستیں خودملاحظہ کرتاہے اور انہیں قبول فرماتا ہے۔ گزشتہ سال امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیاکہ اب امریکی سفارتخانہ تل ابیب کی بجائے یروشلم میں منتقل کیا جائے گا۔ کیونکہ اس کی بیٹی ایک یہودی کے ساتھ بیاہی ہوئی ہے اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر ٹرمپ نے اتنا بڑا قدم اٹھایا جس کے نتیجے میں کئی جانیں ضائع ہوئیں۔ پوری دنیا میں احتجاج ہوا لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ یہ خود بھی جب دیوار گریہ کے وزٹ کے لیے گیا تو اس نے بھی وہاں اپنی معروضات کو ایک پیپر پر لکھ کر اس دیوار پر اٹکا دیا تھا۔ اس دیوار پر جگہ جگہ عرضیاں لٹکی ہوئی پائی جاتی ہیں۔ نیز یہود یہاں آکرروتے بھی ہیں۔ اور ہل ہل کر کچھ دعائیں پڑھتے ہیں۔

آئیے آپ کو دیوار براق کی سیر کراتے ہیں

تاریخ کے اس سنگین تذکرے کے بعد اب آئیے کچھ یادیں پیارے آقا کے قدوم میمنت نواز کے حوالے سے بھی ہوجائیں اور اس مہک سے مشام جان معطر کرلیں ، بادصبا کے جھونکوں سے اپنی روح کو بھی سرشار کرلیں۔ یروشلم۔۔۔سرزمین اسلام۔۔۔ کے مقدس علاقہ میں جہاں سوا ڈیڑھ لاکھ انبیاء کرام کی ولادت ہوئی ، جس کے ایک ایک چپے سے تاریخ کو لاکھوں ہیرے جواہرات ہاتھ آئے ، مگر بے قدرے لوگوں نے ان کی اہانت میں کوئی دقیقہ نہیں بھلایا۔ جہاں انبیاء و صلحا کی سانسیں مہکتی رہیں جہاں کے گوشے آل عمران کی پاکباز بچی مریم کی عبادت واخلاص سے منور ہوتے رہے جہاں اللہ کے خاص بندے زکریا نے آہ صبحگاہی سے تقدیر کے آسمان کو ہلا کر رکھ دیا اور جہاں میرے حبیب سید الملائکہ سیدنا جبرائیل کی معیت میں براق پر قدم رنجا فرما ہوئے اسی جگہ سے آپ کا معراج جسمانی شروع ہوا تھا ۔۔۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں میں اپنے چند رفقاء کے ساتھ جسم و جان کو حاضر کرکے بیٹھا ہوں اسے مسجد براق کہتے ہیں۔

اس دیوار گریہ کے پیچھے والا حصہ دیوار براق کہلاتاہے جیسا کہ عرض کیا گیا۔ گہرائی میں جاکرچھوٹی سی علامتی مسجد بنی ہوئی ہے جہاں نماز با جماعت نہیں ہوتی اور دیوار کے درمیان علامت کے طور پر ایک کڑا لگایاہوا ہے، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اس جگہ براق کو باندھا تھا۔ میں نے اس کی تاریخ کی تحقیق کی تو پتہ چلا کہ بنو امیہ کے دور میں اس کڑے کو بطور علامت لگایاگیا۔

حتمی طور پرنشاندھی مشکل ہے کہ کس جگہ رسول اللہﷺ نے براق کو باندھا تھا بہرحال یہی وہ جگہ ہے جو سینہ بہ سینہ روایت کے مطابق چلی آرہی ہے۔ لوگ وہاں جاتے ہیں دو رکعت نفل ادا کرتے ہیں۔ اور بطور تبرک اس کڑے کو ہاتھ لگاتے ہیں حالانکہ وہ دور نبوی میں نہ تھا۔ ہم نے وہاں کچھ دیر گزاری اور ان نورانی لمحات سے مشام جان معطر کرتے رہے کہ اس مبارک جگہ ہمارے آقا و مولی نے قدم مبارک رکھے تھے اوراسی علاقے سے آپ کو آسمانوں کی سیر کے لیے لیجایا گیا تھا۔ یوں آپ امام الانبیاء والمرسلین بھی بنے ، اور امام القبلتین کے منصب جلیلہ پر فائز ہوئے تھے۔ اس طرح حق تعالیٰ نے تقریباً 2621سال کے بعد یہاں بننے والی ’’مسجداقصیٰ‘‘ اہل مسجد یعنی امت مسلمہ کو ہمیشہ کے لیے عطا فرما دی۔ اور اس قوم کو جو یہاں ستر سال سے ناجائز قابض ہو رہی ہے اور جس نے ہمیشہ قتل و غارت کا معرکہ گرم رکھا اور آج بھی اسی کا فساد ہر سو پھیلا ہواہے۔ جس نے رحمۃ للعالمین کی پیروی کے اعزاز کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ، حالانکہ امت اسلام ، رحم و محبت کی علمبردار اور امن وسلامتی کی پیامبرجماعت ہے۔۔۔ اس خیر امۃ۔۔۔ کو کعبۃ اللہ سے چالیس سال بعد تعمیر ہونے والی دنیا کی دوسری بڑی مسجد ’’مسجد اقصیٰ‘‘ کی سرزمین کی وراثت بھی عطا فرمادی گئی ہے۔ محمد کریم ﷺ کی بعثت و رحمت ،نزول قرآن کا واقعہ ، امت محمدیہ کی تشکیل و تنصیب، خاتم النّبیﷺ کی رافت و شفقت سے معمور جماعت کی تشکیل دنیائے انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا انقلاب تھا۔ ایسے انقلاب جو صدیوں میں ماہ و سال کی گردش کے بعد نمودار ہوتے ہیں۔ امام الہند مولاناابوالکلام آزاد( نور اللہ مرقدہ) کے بقول یہی وہ موقع تھا جب ایک رات کوہزار راتوں سے بہتر قرار دیاگیا تھا کیونکہ ایسے فیصلے چند سالوں میں نہیں صدیوں میں ہوپاتے ہیں۔

﴿لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ﴾ معراج النبی ، مسجد براق ،دیوار براق ، اور اس سے متصل مسجد قبلی ( مسجد اقصی)کے جوار میں بیٹھے ہوئے مجھے جب یہ مناسبت نظر آئی اور امام الہند کی یہ تفسیر سمجھ میں آئی تو روح کی گہرائیوں میں لذت وحلاوت کی وہ لہردوڑ گئی جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے امام مسجد اقصی ٰ سے اپنی ان دلی کیفیات کو بیان کیا تو انہوں نے کہا: ’’دراصل یہ چیز دیکھنے کی نہیں محسوس کرنے کی ہوتی ہے ، نظر بازی سے نہیں اندازی سے ملتی ہے۔ چھو کر نہیں احساسات سے محسوس کی جاسکتی ہے، یہ کیفیات ظاہر نہیں ہوتیں وارد ہوتی ہیں۔

آہستہ برگ گل بفشاں بر نگار ما

کہ بس نازک است شیشہ دل در کنار ما

تبصرہ کریں