سفر مسجد اقصی اور ارض فلسطین کی روح افزا روئیداد ( قسط 4) حافظ عبدالاعلیٰ درانی

مسلم فاتحین کی عظمت

تاریخ گواہ ہے کہ ’مسلمان‘ ، ’اہل ایمان‘ مالک حقیقی کے نام لیوا، رحمۃ اللعالمین کے جانثار، انسانیت کے علمبردار، امن عالم کے نمائندہ، مسلمان جہاں بھی گئے ۔اپنی اعلی ظرفی ، انسانیت کی قابل قدر خدمات کے ساتھ ساتھ ۔ وہ عظمت، شان و شوکت اور جاہ وجلال کے باوقاراور پرہیبت آثاربھی بناتے رہے۔۔ ان کے برعکس دیگر مذاہب کے علمبردار جہاں بھی قابض ہوئے، بغض و عناد سے بھرے ہوئے ، ظلم وستم اورغیض و غضب سے لتھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کے خون آشام جبڑوں نے انسانیت کاوہ خون کیا کہ تاریخ عالم ان کی درندگی اور سنگدلی سے خونچکاں ہے۔ ان کا سارا زور اسلام کو مٹانے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی بنائی یادگاروں اور عمارتوں کو داغدار کرنے پر رہا۔ سپین و اندلس اور ہندوستان کی مساجد و قلعے اور محلات کے ساتھ ساتھ بیت المقدس اور فلسطین کی حالیہ تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے ۔۔۔ ارض مقدسہ فلسطین۔۔۔ جہاں اب یہود کا قبضہ ہے ، جن کی سنگدلی اور خوفناکی کی وجہ سے یہ ارض مقدسہ بھی تن داغدار اور گولہ و بارود کا ڈھیر بن کر رہ گئی ہے اور فلسطینی مسلمانوں ہی کیلئے نہیں وہاں کے تمام باشندوں کیلئے امن کاایک بھولا بسرا خوفناک خواب بن چکی ہے ۔

صخراء : یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت یعقوب نے مسجد اقصی تعمیر کی تھی، جس کا ذکر احادیث میں بیت اللہ اور مسجد اقصی کی تعمیر کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ کے ضمن میں آتا ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم نے کی اور مسجد اقصی اس کے چالیس سال بعد حضرت اسحق نے کی۔ (صحیح بخاری:3366؛ صحیح مسلم:520)

پھر سلیمان نے یہاں عظیم الشان عبادت گاہ (مسجد) بنائی۔ جسے یہود ہیکل سلیمانی کہتے ہیں اور مسلمان مسجد۔ اس ہیکل یا مسجد کو شاہ بابل بخت نصر نے 587ق م میں مکمل طور پر برباد کردیا، یہود کی بابل میں اسیری سے لوٹنے کے بعد دوبارہ ہیکل تعمیرکیاگیاجسے حضرت عیسی کے ستر سال بعد رومن بادشاہ ٹائٹس نے ملیامیٹ کردیا تھا اور عہدِ نبوی کے رومن بادشاہ ہیڈریان نے اس کے سارے کھنڈرات تک اکھاڑ ڈالے تھے۔ یہ بھی روایت ہے کہ ہیکل سلیمانی مکمل تباہ کردیاگیاتھا۔ لیکن اس کی مغربی دیوار بچ رہی تھی۔ اس کے دروازے سے آنحضور ﷺ معراج کی رات داخل ہوئے تھے اور جہاں آپ نے براق باندھاتھا اسی نسبت سے اسے دیوار براق کہاجاتاہے جبکہ یہود اسے دیوار گریہ کانام دیتے ہیں ۔

اوپر آپ پڑھ آئے ہیں کہ بعض کتابوں میں دور نبوی میں یہاں کسی عمارت کے وجود کا پتہ چلتاہے ۔ لیکن روایات و آثار اس کی تائید نہیں کرتے ۔ البتہ سیاحوں کی کی رہنمائی کیلئے جو کتب میسر ہیں ان میں سے ایک کتاب (Israel & Palestinian Territories)کے مصنف نے ص86پر لکھا ہے کہ ’’ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بازنطینی دور میں قبۃ الصخراء کے ایریے میں کوئی بہت زیادہ تعمیر نہیں کی گئی تھی لیکن ( مدابا) اردن میں ملنے والے نقشے سے ظاہر ہوتاہے کہ کہ چھٹی صدی عیسوی کے وسط میں اس پلیٹ فارم پر کے بیرونی اطراف میں میں کوئی تعمیر پائی جاتی تھی ۔ شاید اس کے جنوب مشرقی حصہ میں ایک کنیسہ کا ذکر ملتا ہے جس کا ایک زائر نے بھی تذکرہ کیا ہے ۔اس کے سوا کوئی ایسا اشارہ نہیں ملتا ( بیت المقدس میں تین دن ، از ڈاکٹر صہیب حسن لندن)اگر یہ صحیح ہے تو یہ اشکال حل ہوجاتا ہے کہ نبی ﷺ نے سفرمعراج میں کسی عبادتگاہ میں نماز پڑھائی تھی جسے قرآن کریم نے مسجد اقصی کا نام دیا ہے اور جس کادروازہ اس رات بند نہیں ہورہاتھا ۔چونکہ تاریخ بعض جگہ ایسی خاموش ہے کہ اس کی خاموشی سناٹے میں بدل چکی ہے ۔ ممکن ہے یہاں کوئی تاریخی آثار ہوں جو عیسائیوں نے یہود دشمنی کی بھینٹ چڑھادیے ہوں ۔کیونکہ اس صخرہ کی یہود کے نزدیک بھی بڑی تعظیم تھی ۔ یہ پوری دنیا سے افضل ترین جگہ سمجھی جاتی تھی،ان کے نزدیک یہ صخرہ مروہ پہاڑی کی طرح تاریخی اور مقدس ہے۔ جہاں ان کے خیال میں حضرت اسحق کی قربانی کا حکم دیا گیاتھا ۔ کعب احبار جو یہودی تاریخ کے بڑے ماہر تھے اسی لیے انہوں نے حضرت عمرفاروق کو اس جگہ نماز پڑھنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، جسے حضرت فاروق اعظم کی عقابی نگاہوں نے بھانپ لیا اور وہاں نماز ادا نہیں کی کہ پتھر کی تعظیم مقصود نہیں تھی ۔اگر آپ اس پتھر کو ہاتھ لگانا چاہیں۔

موجودہ گنبدکی یہ شکل عبدالملک مروان کے دور میں بنائی گئی۔ پھر عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس پر کافی کام کیا ۔تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کی تزئین و آرائش ہوتی رہی ۔اب اس کے اوپر سونے کا جوکلس (1959) میں چڑھایا گیا۔ اس کا وزن دو سو کلو بتایا جاتاہے ۔ مسجد اقصی کے اس اونچے پلیٹ فارم میں بنی مسجدصخرہ کے درمیان میں اس چٹان اور اس کے نیچے غارکودیوار بنا کر محفوظ کردیاگیاہے۔ اب اگر آپ اس پتھر کو ہاتھ لگانا چاہتے ہیں تو وہاں موجود ایک چھوٹے سے کیبن میں جائیے اور سوراخ میں ہاتھ ڈالیے۔آپ کا ہاتھ اس پتھر کو چھو لے گا ۔اس پتھرکے نیچے ایک غار ہے جس میں کبھی تابوت سکینہ رکھا ہواتھا جس میں حضرت موسیٰ کا عصا اور حضرت داؤد کے تبرکات اورحضرت سلیمان کی طرف منسوب انگوٹھی رکھی ہوئی تھی ( تابوت سکینہ کا ذکر سورہ بقرہ کی آیت 247میں آیاہے) اوپرایک جگہ کرسی سلیمان کہلاتی ہے، غالباً سیدنا سلیمان کی طرف منسوب ہے یا سلطان سلیمان القانونی کی طرف ، تفصیل معلوم نہ ہوسکی ۔

امام مسجد قبۃ الصخراء سے ملاقات

قبۃ الصخراء مسجد میں د ن کی نمازیں بھی باجماعت ادا کی جاتی ہیں اور جمعہ میں مسجد قبۃ الصخراء میں عورتیں مرکزی مسجد کے امام کے پیچھے نمازادا کرتی ہیں کیونکہ مسجد قبلی میں صرف مرد حضرات نماز جمعہ پڑھتے ہیں ۔مسجد قبۃ الصخراء کے گول ہال کو اچھی طرح چل پھر کر دیکھا۔اس کی چھت پر قرآنی آیات کی نقش نگاری کمال کی چیز ہے، آنکھیں نہیں تھکتیں، گردن بہرحال اکڑجاتی ہے۔ کسی غرور کی وجہ سے نہیں تھکاوٹ کی وجہ سے۔اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ قالین پر لیٹ جائیں اور جی بھر کر آنکھوں کو قرآنی آیات کی نقش نگاری سے ٹھنڈا کریں ۔ ہم مسجد صخر کا چل پھر کر جائزہ لے رہے تھے۔اتنی دیر میں ہماری نظر وہاں امام صاحب پر پڑی ، تعارف ہوا ان کا نام ہے۔ الیشخ علی العباسی ۔انہوں نے بڑی گرمجوشی کا اظہار کیا کہ اچھا ہے آپ لوگ یہاں آنے لگ گئے، انہوں نے مزید بتایاکہ میرا بیٹا محمد بن علی العباسی نمازتراویح یہیں پڑھاتاہے۔مسجد صخرہ کے قبلہ رخ دروازے سے باہر نکلیں تو چند سو قدم کے فاصلے پر یہ اونچا دالان ختم ہوجاتاہے ۔ یہاں کئی سیڑھیوں پر مشتمل ایک پتھر کا منبر ایستادہ ہے۔مسجد کی عمارت تک کھلے صحن میں زیتون اور شاہ بلوط کے کئی درخت نمازیوں کیلئے سایہ دراز کیے رکھتے ہیں ۔

صلیبیوں کی خونچکانی کی مزید یادگاریں

1099ء میں جب عیسائیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تو انہوں نے پھر سے یروشلم میں ظلم وستم کی داستانیں دہرائیں۔ انہوں نے قبۃ الصخراء کو چرچ بنا دیا اور اس کے او پر صلیب نصب کردی ۔ قبلی مسجد کو رہائش گاہ بنادیا اور تہہ خانے میں مصلی مروانی کو گھوڑوں کا اصطبل بنادیا ۔مسجد اقصیٰ کے صحن میں چار جگہ صلیبیں نصب کردیں اور ان صلیبوں پر کم وبیش اسی (80) ہزار مسلمانوں کی گردنیں کاٹیں اور عیسائی مورخین کے مطابق مسلمانوں کا اتنا خون بہایا گیا کہ یروشلم کی گلیاں خون سے بھرگئیں۔ گھوڑوں کی ٹانگیں بے گناہوں کے خون سے ڈوب گئی تھیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے(1187ء ) میں جب بیت المقدس کو فتح کیا توصحن مسجد میں یہ مناظر یاد کرکے بہت غمگین ہوگئے۔ انہیں مشورہ دیا گیا کہ ان صلیبوں کو اکھاڑ پھینکیں اور یروشلم میں عیسائیوں کے تمام چرچ مٹادیے جائیں، لیکن سلطان نے جواب دیا کہ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم غیر مسلموں کی عبادتگاہوں کو مٹا دیں اور حضرت عمر فاروق نے بھی اہل یروشلم کو اسی جگہ معاہدہ لکھ کردیاتھا کہ ہم عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کی عبادتگاہوں کو نہیں گرائیں گے۔ لہٰذا میں کسی چرچ کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ یاد رہے کہ مسلم فاتحین نے ہر قسم کی عبادتگاہوں کو ہمیشہ اور ہر جگہ محفوظ رکھ کر اپنا اعزاز و انفرادیت کو باقی رکھا ہے۔حالانکہ اس وقت ابھی زخم تازہ تھے ۔( یعنی صرف 88سال پرانی بات تھی) جبکہ صلیبیوں اور صیہونیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کرکے انسانیت سوز مظالم کیے تھے اور کسی عہد کی پاسداری نہیں کی ۔

چنانچہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے قبۃ الصخراء کے اوپر نصب کردہ صلیب اتاردی گئی اور صحن مسجد میں گاڑے گئے ان چار صلیبی نشانوں کو بھی آدھا آدھا توڑ دیا تاکہ یہ نشانات شرک ختم ہوجائیں، اور مسجد اقصیٰ کی اصل صورت باقی رہے ۔ تین ٹوٹی ہوئی صلیبوں کے نشان بیت المقدس کی مغربی دیوار کے ساتھ اور قبلی مسجد کی دائیں جانب ہیں اورایک ٹوٹا ہواکراس صحن قبۃ الصخراء میں بطور علامت موجود ہے۔ یہاں کھڑے ہوکر عیسائی قابضین کے ظلم و سنگدلی اور مسلمان فاتحین کی رحمدلی اور اصولوں کی پاسداری کا یقین آجاتاہے ۔ میرے قافلے کے سبھی لوگ ظلم وستم کے پرانے اور نئے دور اور انداز کو ذہن میں تازہ کرکے اور صحن مسجد قبۃ میں ٹوٹے ہوئے صلیبی نشانوں کو اپنے سامنے پاکر بہت دلگرفتہ ہوئے، میں نے انہیں وہاں سے آگے چلنے کا کہا ۔

اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ

یہ تو آپ نے گنبد صخراء کی تعمیری تاریخ ملاحظہ کی لیکن اس پر مسلمانوں کا کنٹرول کبھی بھی آسانی سے نہیں رہا ۔مسلمان بادشاہوں اور مقامی فلسطینی مسلمانوں کو ہر دور میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔سلطان صلاح الدین ایوبی کو16جنگیں لڑنا پڑی تھی۔ ان کے بعد بھی کافی مشکلات پیش آتی رہیں لیکن مسجد اقصٰی پر مسلمانوں ہی کا اختیار رہا ۔بیسیوں صدی کے وسط تک مسجد اقصی میں غیرمسلموں کو داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ کیونکہ اسے الحرم الشریف کا لقب بھی دیا گیا تھا۔ جہاں غیر مسلم کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ 1967 کے بعد غیر مسلموں کو محدود داخلے کی اجازت دی گئی ۔لیکن وہ یہاں عبادت نہیں کرسکتے اور نہ ہی اپنا مذہبی لٹریچر ساتھ لا سکتے ہیں۔ 1967 میں چھ(6) دن کی جنگ کے بعداسرائیلیوں نے یروشلم کے مشرقی حصے پر تسلط حاصل کرلیا لیکن اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم موشے دایان نے مسجد اقصیٰ کی دیکھ بھال اردن کے شاہ حسین کے حوالے کردی۔ شاہ حسین نے مسجد اقصی کا انتظام چلانے کیلئے ایک ٹرسٹ قائم کردیا۔جو اس کا پورا انتظام کرتا ہے ۔ اب عجیب صورتحال ہے کہ مسجد اقصٰی کااندرون تو اردنی وقف کے تحت ہے لیکن بیرون اسرائیلوں کے غاصبانہ قبضے میں ہے۔ ان کی فوج مسجد کے دروازوں پر تسلط جمائے ہوتی ہے جسے چاہے اندرداخل ہونے دیں اور جسے چاہیں باہر ہی روک لیں۔ اگر کوئی غیرت میں آکر آواز بھی نکالے تو اسے گولی بھی مار دی جاتی ہے ۔ان کا جب جی چاہے وہ مسجد کے اندر اپنے ناپاک قدموں کے ساتھ درانہ گھس بھی آتے ہیں ، حالانکہ معاہدہ میں یہ اجازت شامل نہیں ہے۔طرفہ تماشایہ ہے کہ اسرائیلیوں کی ان غیرقانونی اور غیر اخلاقی حرکات کو کسی عدالت میں چیلنج بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ساری دنیائے کفر ملت واحدہ بنی ہوئی ہے لیکن مسلمانوں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔

صابرہ شتیلا کیمپ اورجماعت اسلامی

قبۃ الصخراء کے صحن سے نکل کر ہم مشرقی دیوار کے ساتھ ساتھ زیتون کے درختوں کے درمیان شمال کی طرف چھوٹی سی ہموار سڑک پر چلتے گئے۔ پیچھے صحن قبۃ الصخراء میں ہم صلیبیوں کے ظلم و ستم کے باعث دل گرفتہ تھے اور یہاں اسرائیلیوں کی سنگدلی کے مظاہرکی یادیں دیکھ کر طبیعت میں تکدر پیدا ہوگیا ۔جب ایک جگہ ’’صابرہ شتیلا کیمپ‘‘ کے الفاظ پر نظر پڑی۔ میں وہیں کھڑا ہو گیا۔ یہ نام جانے پہچانے محسوس ہوئے۔میں ان ناموں سے اوائل عمری ہی میں آگاہ تھا۔ کیونکہ اس نام کے کیمپوں میں فلسطینی پناہ گزین مقیم تھے۔ جن کااسرائیلی وزیر دفاع ایریل شیرون نے سفاکانہ قتل عام کیاتھا ۔پاکستان میں جماعت اسلامی وہ واحد جماعت تھی جس نے اس زمانے میں ان مظالم کے خلاف احتجاج کیا تھا کیونکہ یہ جماعت اپنے بانی مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی﷫ کی پالیسی کے مطابق اس زمانے میں بیرون ممالک میں اسلامی تحاریک سے اہل پاکستان کو متعارف کروانے میں بہت سرگرم تھی۔ اسلامی جمعیت طلباء کے گرمیلے اور پرجوش خون کے ذریعے دنیاکو بیرونی اسلامی تحاریک اور اسلامی ممالک خاص طور پر ترکی، الجزائر ، افغانستان اور مصر میں اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کی کوششوں اورپھر اسلامی قائدین اور اخوانی لیڈروں سید قطب شہید اور ان کے خاندان ، امام حسن البناء اور دیگر گروہ مومنین پر مصری صدر ناصرکی حکومت نے جو ستم توڑے تھے۔ ادھر مشرقی پاکستان میں البدر اور الشمس کے کارکنوں اور اصحاب عزیمت لوگوں پر ہندو درندوں کے سفاکانہ مظالم سے اہل وطن کو باخبر رکھا جاتا تھا (ابھی تک موجودہ قصاب وزیر اعظم حسینہ واجد پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسیاں دے رہی ہے اور دنیا کے مسلمان حتی کہ حکومت پاکستان بھی منقار زیر پر رکھے تماشا دیکھ رہی ہے اورمحب وطن اصحاب علم و فضل حضرات کی پھانسیاں رکوانے کیلئے کوئی کارروائی نہیں کر رہی ) اس زمانے میں پاکستان میں کوئی مذہبی یاسیاسی جماعت ایسی نہ تھی جسے کبھی بیرونی حالات سے کوئی دلچسپی رہی ہو بلکہ آگہی بھی ہو۔اس کے برعکس ایک دفعہ جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا مفتی محمود مرحوم نے صدر ناصر کی حمایت میں تقریر بھی کر ڈالی تھی۔۔۔ مودودی صاحب کی مخالفت میں۔۔۔ اس وقت پتہ چلا کہ تعصب کیا ہوتاہے۔۔۔ جو مودودی صاحب کہیں اس کا الٹ۔۔۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کی لغزشوں سے درگزر فرمائے ۔

صابرہ شتیلا کیمپس کا کہانی

’’صابرہ‘‘ بیروت کے ایک غریب علاقے کا نام تھا۔ اس کے نزدیک ہی شتیلا نام کا ایک مہاجر کیمپ تھا، جس میں اسرائیلیوں کے ظلم و ستم کے ستائے ہوئے دربدر پھرنے والے فلسطینی مہاجرین پناہ گزین تھے ۔ کچھ عرصہ بعد یہ دونوں آبادیاں آپس میں اس قدر مدغم ہوگئیں کہ اس علاقے کو صابرہ اور شتیلا کہا جانے لگا ۔ جب لبنان اندرونی خانہ جنگی میں علاقائی اورعالمی طاقتوں کا میدان جنگ بنا تو اسرائیلی افواج لبنان میں گھس آئیں۔ جنوبی لبنان پر قبضے کے بعد 1982 میں وزیر دفاع ایریل شیرون کی قیادت میں اسرائیلی افواج نے بیروت کا محاصرہ کر لیا اور فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (PLO) جس کی قیادت یاسرعرفات (مرحوم) کرتے تھے ، سے کہاگیا کہ وہ اپنے مراکز بیروت سے ختم کرکے کہیں اور چلے جائیں۔ یکم ستمبر 1982 کو یاسرعرفات کے تمام ساتھیوں کو بیروت سے بے دخل کردیاگیا ۔ PLOکے مکمل انخلا کے بعد اسرائیلی کمانڈر ایریل شیرون نے فلانجی عیسائیوں کی تنظیم کے رہنما ایلی ہو بیکا کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ صابرہ شتیلا کے فلسطینی کیمپوں میں گھس کر نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کی قیادت کرے۔ چنانچہ ایلی ہوبیکا نے ان مظلوم عورتوں بچوں مردوں اور بوڑھوں کو 16ستمبر کی شام سے 18 ستمبر کی صبح تک مسلسل گھروں سے نکال کر قتل کرنے کے مختلف حربے استعمال کیے۔ اس اجتماعی قتل عام کے منصوبے میں تین ہزار کے قریب نہتے فلسطینی شہید ہوئے ۔اور 50ہزار فلسطینی اپاہج بن کر بقیہ زندگی گزارنے اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے کیلئے چھوڑ دیے گئے۔ اس دوران میں ایریل شیرون صابرہ شتیلا سے چند قدم دور کویت کے سفارتخانے کے قریب ایک زیر تعمیر عمارت کی تیسری منزل پردوربین سے قتل عام کی نگرانی کرتارہا ۔برطانیہ کے معروف دانشور رابرٹ فسک وہ پہلے صحافی تھے جنہوں نے اس دردناک قتل عام کو موقع پر رپورٹ کیا۔ ایریل شیرون نے صابرہ شتیلا کے کیمپوں میں مقیم فلسطینیوں پر انتہائی گھناؤنے مظالم کیے۔ یہودی لوگ ایریل شیرون کی اس سفاکیت کی مذمت اور انسداد کرنے کی بجائے اسے بڑے فخر کے ساتھ یہودیوں کا قصاب قرار دیتے رہے۔اسرائیل نے اپنے قیام کے بعد سے معصوم فلسطینیوں پر مظالم کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ آج تک جاری ہے اور عرب لیگ اقوام متحدہ اور مغربی دنیا کے حکمران بے حسی کی چادر اوڑھ پر سورہے ہیں ۔ مسلم دنیا کی خاموشی اور عرب ممالک کا مصلحت آمیز رویہ اسرائیل کو مزید حوصلہ بخش رہا ہے۔

اسرائیل کا قیام ۔۔۔ظلم کی داستان

برطانوی سیاست نے جیسے برصغیر میں تقسیم کے وقت دھاندلی کرکے ہمیشہ کیلئے مسئلہ کشمیرپاکستان کیلئے سردردی کے لیے کھڑاکردیا، اسی طرح برطانیہ نے مشرق وسطی میں اسرائیل نام کے ناجائز بچے کی پیدائش و پرورش کے لیے اہل فلسطین کو ان کے اپنے وطن سے بےدخل کرکے ظلم و ستم کابیج بودیاہے اور اب امریکی مجنون پاگل صدر ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت بنانے اور وہاں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کا اعلان کرکے پاگل پن کا ثبوت بھی اور یہ بھی ثابت کردیا کہ مغربی دنیاکے پہلو میں دل نام کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اگرکچھ ہے بھی تو اسلام دشمنی میں انسانیت کے خلاف سازشیں کرنے کا منبع ہی ہے۔پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے دنیا بھر سے یہودیوں کو لا لاکر فلسطین میں بسانا شروع کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 1917میں یہودی آبادی جو صرف 25 ہزار تھی وہ پانچ سال میں بڑھ کر 38 ہزار کے قریب ہو گئی۔ 1922ء سے 1939ء تک ان کی تعداد ساڑھے چار لاکھ تک پہنچ گئی۔ جنگ عظیم دوم کے زمانے میں ہٹلر کے مظالم سے بھاگنے والے یہودی ہر قانونی اور غیر قانونی طریقے سے بے تحاشہ فلسطین میں داخل ہونے لگے۔ صیہونی ایجنسی نے ان کو ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں فلسطین میں گھسانا شروع کردیا اور مسلح تنظیمیں قائم کر کے ان کی سرپرستی کی، جنہوں نے ہر طرف مار دھاڑ کر کے عربوں کو بھگانے اور یہودیوں کو ان کی جگہ بسانے میں سفاکی کی حد کردی ۔

اب ان کی خواہش تھی کہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن کی بجائے ان کی قومی ریاست کا درجہ حاصل ہوجائے۔ 1947میں برطانوی حکومت نے فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش کردیا اور اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو یہودیوں اور عربوں کے درمیان تقسیم کرنے کا فیصلہ صادر کر دیا۔اس کے حق میں 33 ووٹ اور اس کے خلاف31 ووٹ تھے۔ دس ملکوں نے کوئی ووٹ نہیں دیا۔ تقسیم کی تجویز کی رو سے فلسطین کا 55فیصد رقبہ33فیصد یہودی آبادی کو اور45فیصد رقبہ 67فیصد عرب آبادی کو دیاگیا حالانکہ اس وقت فلسطین کا صرف6فیصد حصہ یہودیوں کے قبضے میں آیاتھا ۔یہودی اس تقسیم سے بھی راضی نہ ہوئے اور انہوں نے ماردھاڑ کرکے عربوں کو نکالنا اور ملک کے زیادہ سے زیادہ حصے پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ موجودہ دور کے صیہونی رہنما یہودیوں پر ہٹلر کے ذریعے ہونے والے مظالم کو خوب بڑھا چڑھاکرپیش کرتے ہیں۔ تاکہ اپنی سفاکی پر پردہ ڈال سکیں لیکن اس میں شک نہیں کہ یہودی خود فلسطینیوں کو ان کے اپنی سرزمین سے دربدر کر کے ان کی زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔ نیزان کے ساتھ وہی قتل و غارت گری کا معاملہ کرتے ہیں جو نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ روا رکھا تھا ۔توسیع پسند و تسلط آزماا ور طاقت کے نشے میں مدہوش مغربی دنیا کے ناجائز بچے اسرائیل نے1967میں عرب اسرائیل جنگ میں کامیابی کے بعد تمام فلسطین پر قبضہ کرلیا اور مقامی باشندوں کو بے دخل کر دیا ۔ یوں اس سرزمین کے نسلا بعد نسل اصل وارث لاکھوں کی تعداد میں اردن ، لبنان اور شام میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ مسجد اقصی میں ان مظلوموں میں سے بچ کر آنے والوں کیلئے کیمپ قائم کیے گئے تھے۔جہاں بطور یادگار’’صابرہ شتیلا کیمپ‘‘ نام رکھا ہوا ہے۔ جسے دیکھ کر ان درندوں کی سفاکیت ذہن میں کلبلانے لگ جاتی ہے۔بہر حال صابرہ شتیلا کے یہ نام میرے ذہن پر چپکے ہوئے تھے۔ کافی دیر محویت کے عالم میں وہاں کھڑا رہا ۔ پھرساتھیوں کواس کی مختصر تاریخ بتائی جتنی میرے ذہن میں تھی اور ان گمنام شہداء کے قافلہ سالاران شہادت و عزیمت کو سلام محبت و عقیدت بھیجا۔ ان کیلئے دعائے مغفرت کی اور بوجھل قدموں کے ساتھ آگے چل پڑے۔

مسجد اقصی میں مدارس کاقیام

ان کیمپوں کے آثار کے عقب میں نشیبی علاقوں میں کئی مدارس کے بورڈ لگے ہوئے تھے۔ کیونکہ مسجد کی تصویر اس وقت تک مکمل ہی نہیں ہوتی جب تک اس میں تعلیمی و تدریسی کلاسز کا اہتمام نہ ہو۔ چونکہ مسجد اقصیٰ کی تاریخ بہت پرانی ہے اس لیے اس میں بھی کئی قسم کے مدارس بنائے گئے تھے۔ صحن قبۃ الصخراء میں معدوم ہوجانے والے کئی مدارس کے نام موجود ہیں۔اس جانب مدرسہ شرعیہ اور دار الحدیث کی عمارت بھی ہے۔جہاں امام مسجد اقصیٰ الشیخ یوسف کی سرپرستی میں بچے بچیوں کابہت بڑا مدرسہ ہے ۔ جن سے اتوار کی شام ملاقات کا وعدہ ہے (اور پھر یہ موقع نہیں آسکا، تفصیل بعدمیں)گولڈن گیٹ کے بالائی حصہ میں لجنۃ الزکاۃ کا بورڈ نظر آیا۔اس قدس زکوٰۃ کمیٹی کے رکن الشیخ محمد رجبی بڑے سلجھے ہوئے عالم دین ہیں۔یورپ سے جانے والوں کے لیے یہ بات ذہن میں رہے۔اصحاب خیر مالی تعاون کرنا چاہیں تو اس آفس سے رابطہ کر سکتے ہیں یہ آفس فلسطینی مجبور و مقہور لوگوں کیلئے جائے پناہ بھی ہے ۔مانگنے والے تو ہرجگہ مل جائیں گے لیکن ایک باقاعدہ سسٹم کے تحت یہاں سے مستحق لوگوں تک مدد پہنچ سکتی ہے ۔

مقام سلیمان

صابرہ شتیلا کیمپ سے تھوڑا ساآگے چلیں تو گولڈن گیٹ آجاتاہے اس کے قریب ایک قدیم عمارت ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ حضرت سلیمان کا مقام یہی تھا ۔ جہاں سے بیت المقدس تعمیرکراتے وقت اپنے ما تحت جنوں کی نگرانی کیا کرتے تھے (اس کا ذکر سورہ سبا کی آیت14میں بھی آیاہے) وہیں مبینہ طور پر جنوں کیلئے قید خانہ بھی تھا ،جہاں سرکش جنوں کوقیدکیاجاتاتھا۔ واللہ اعلم۔ اس وقت اس کے ایک حصہ میں مدرسہ دارالحدیث قائم ہے ۔پھر ہم باب اسباط کے پاس پہنچے جہاں اسرائیلی فوجی حسب دستور کھڑے تھے۔ کیونکہ یہ مسجد کا دروازہ ہے اور کچھ فاصلے تک دفاترہیں ، یہاں ایک چھوٹاساباغیچہ ہے۔ غالباً یہاں اسرائیلی سیکیورٹی فورسزکے دفاتر ہیں۔ اس کے بعد یروشلم کی دیوار کا بہت بڑا گیٹ ہے۔باب اسباط (Gate of the Tribes)اس کی تعمیر بھی 1539میں ہوئی تھی۔ اسباط قبیلوں کو کہا جاتا ہے۔ سورہ بقرہ اور آل عمران میں ’’ویعقوب والاسباط ‘‘ کا نام آتاہے یعنی مختلف قبیلے تو یہ گیٹ شاید انہی کی طرف منسوب ہے۔اس دروازے کے مشرقی حصہ کی فصیل سے متصل باب الرحمہ ہے اور مسلمانوں کا قدیمی قبرستان بھی ہے۔

اقصی کے پڑوس میں دائمی آرام فرمانے والے

ہم مسجد اقصیٰ کے باب اسباط سے نکلتے ہوئے دائیں جانب مڑے تو قبرستان کے گیٹ پر نظر پڑی۔ گیٹ کے دونوں طرف کافی تعداد میں یہاں دفن ہونے لوگوں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ زیادہ تر نوجوان شہداء کے اسماء گرامی ہیں، جو غالباً اسرائیلیوں کے ساتھ کسی نہ کسی جھڑپ میں اللہ کی راہ کے مسافر بن گئے تھے ۔ہم نہایت ادب کیساتھ دعاء پڑھتے ہوئے ا س قبرستان میں داخل ہوئے۔ اس قبرستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں کئی صحابہ کرام ، علماء و صلحاء کے علاوہ آزادی فلسطین کے نوجوان مجاہدین سمیت ان گنت سعید روحیں آرام فرما رہی ہیں ۔ یہ سعید روحیں اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہیں کہ انہیں سرزمین انبیاء اور قبلہ اول مسجد اقصی کا پڑوس نصیب ہوا ۔بائیں طرف سنہری گیٹ ہے جو بند ہے۔روایات کے مطابق حضرت عیسی دجال کو قتل کرنے کے بعد اس دروازے سے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوں گے ۔ اس مناسبت سے کئی مسیح پیدا ہونا شروع ہو گئے تھے۔ جیسے ہندوستان میں مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی مسیح موعود ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ اس لیے اس گیٹ کو مستقل بند کرنا ہی مناسب سمجھا گیا ۔اس گیٹ کے قریب تیرکانشان بتا رہا ہے کہ یہاں میرے نبی ﷺ کے جانثار محو استراحت ہیں یعنی معروف صحابی حضرت عبادہ بن قیس جو ہجرت سے قبل مدینہ سے مکہ آ کر نبیﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں میں سے تھے اور بدری صحابی حضرت عبادہ بن الصامت ، حضرت اوس بن شداد ، ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے علاوہ تقریباً 80 صحابہ کرام اس قبرستان میں محو استراحت ہیں۔ جامع عکاشہ میں حضرت عکاشہ بن محسن ، جبل زیتون پر حضرت رابعہ بصری اور دوسرے سرے میں حضرت یوسف کی والدہ حضرت راحیل کی قبر بتائی جاتی ہے۔ان میں سے بعض کی قبریں پختہ ہیں۔ان کے علاوہ اللہ ہی بہتر جانتے ہیں کہ کتنی اہم شخصیات یہاں مدفون ہیں۔بعض قبور پر نام بھی لکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے ان کی نشاندھی ہو جاتی ہیں ۔قدس کا ایک بڑا قبرستان ’’ماملا ‘‘ میں ہے۔ یہاں دور فاروقی میں معرکہ یروشلم کے شہداء سے لے کر پچھلی صدی کے اوائل تک تدفین ہوتی رہی ۔ بیت المقدس کی مغربی دیوار کے قریب ہندوستان کے بڑے جید حریت رہنما مولانا محمد علی جوہر مرحوم اور اردن کے حسینی خاندان کے کئی افراد محو استراحت ہیں ۔مصراور دیگرعربی ممالک کے کافی لوگوں کی قبریں بھی اس حصے میں نظرآئیں۔اکثر قبور پرمرحومین کے نام ،تاریخ وفات اور ملک کا نام لکھاہواتھا اور فاتحہ پڑھنے کی درخواست کی گئی ۔ ویسے مناسب تو یہ ہے کہ فاتحہ پڑھنے کی بجائے دعائے مغفرت کی درخواست کی جانی چا ہیئے۔ ہم نے مسلم قبرستان کے تمام مدفونین کے لیے دعائے مغفرت کی کہ اللہ سب مرحومین کو بشری لغزشوں سے درگزر فرماتے ہوئے ان سب کوجنت الفردوس کااعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔آمین

خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را

اس علاقے میں ایک لاکھ چوالیس ہزار انبیاء کرام﷩ مبعوث ہوئے ان میں سے بیشتر کی قبور اسی ایریا میں ہوں گی۔ حضرت داؤد ، حضرت زکریا، حضرت مریم ﷩ کی قبور کی نشاندھی تو کی جاتی ہے ۔حضرت ابراہیم ان کی زوجہ حضرت سارہ، حضرت ایوب ، حضرت یعقوب ان کی ایک اہلیہ کی قبر الخلیل میں ہے اور حضرت یوسف کی والدہ حضرت راحیل کی قبر جبل زیتون کے قریبی قبرستان میں ہے ۔سعودی علماء نے جنت البقیع کی سب پختہ قبریں کچی بنانے کافتوی تو دے دیا لیکن ان کے اوپر مدفون ہستیوں کے نام تک نہیں لکھنے دیے ۔جس کی وجہ سے ان بے شمار پاک باز ہستیوں کے نام معلوم نہیں ہو سکتے جو جنت البقیع یا مکہ مکرمہ کے قبرستان جنت المعلیٰ میں محو استراحت ہیں۔ کہاں سے وہ لوگ ڈھونڈے جائیں جو ان سے نام بنام واقف ہوں اور وہ ہر زائر کو بتاسکیں ۔اب تولگتاہے کہ معدودے چنداصحاب وہاں مدفون ہیں۔ حالانکہ کم و بیش دس ہزار اصحاب نبی ، اصحاب جنت ۔۔۔ جنت البقیع میں دفن ہیں( ) علمائے سعودیہ نے اجتہاد کرنے کی بجائے صرف ایک نقطہ نظر سے فتویٰ جاری فرما دیا جسے بعض لوگ وقت کی ضرورت قرار دیتے ہیں اور بعض افراط و تفریط کے ضمن میں سمجھتے ہیں۔اس قبرستان کے بائیں جانب جبل زیتون نظر آ رہا ہے جہاں سے یہودیوں کی قبریں بھی نظر آ رہی تھیں اور بالکل نیچے عیسائیوں کا قبرستان ہے۔ ہم نے رفقاء سفرکو یہودی اور عیسائی قبرستان دکھائے گئے۔ جس کے بعد ہم قبرستان سے باہر نکل آئے ۔

حضرت مریم علیہا السلام کی مبینہ قبر

مسلم قبرستان کے نشیبی حصہ میں ایک چرچ ہے، جسے کنیسہ مریم عذرا کا نام دیا گیا ہے ۔کنیسۃ مریم عذرا باب اسباط سے کنیسۃ القیامۃ تک چودہ مقامات ہیں جہاں حضرت عیسی کو بقول عیسائیوں کے صلیب اٹھوا کر چلایا گیا تھا لیکن اسلام کے مطابق حضرت عیسیٰ کو کوئی گزند نہیں پہنچائی جاسکی ۔ حق تعالیٰ نے اس سازش کے موقع پر کسی اور پر مشابہت ڈال کر حضرت عیسی کو آسمانوں کی طرف اٹھا لیا تھا۔( سورہ المائدہ آیت نمبر 157۔ 158) شاید یہاں بھی ان کے ہم شکل کو چلایا گیا ہو گا۔ مشہور ہے کہ اس چرچ میں حضرت مریم اور ان کے والدین کی قبریں ہیں، ہم وہاں داخل ہوئے۔ سیڑھیوں کے ذریعے کا فی نیچے اترنا پڑتا ہے ۔ کافی نیچے ہونے کی وجہ سے اندھیرا اورموم بتیوں کے مسلسل جلنے سے وہاں گھٹن کا ماحول بنا ہوتاہے، کہاں اسلام کی مساجد پاک و طاہر اور سادگی وپرکاری اور عبادت گاہ کا تقدس اورجلال و جمال کے محسوس و غیر محسوس مظاہر اور کہاں کلیساؤں کی نور و روحانیت سے محروم ڈپلومیٹ عمارتیں ۔ پھر بھی یہ لوگ نہیں سمجھتے۔ وہاں دائیں طرف ایک چھوٹے سے کیبن میں حضرت مریم کی قبر بتائی جاتی ہے، جہاں بیک وقت دو یا تین آدمی داخل ہوسکتے ہیں ، یہ قبر جو دودھ جیسے سفید پتھر میں گڑی ہوئی ایک ناہموار ٹیلے کی شکل میں موجود ہے۔ جس کے اوپر مضبوط شیشے کابکس ہے، ہم سب ایک ایک کر کے وہاں داخل ہوئے سیدہ مریم صلوات اللہ وسلامہ علیہا کی روح مبارکہ کیلئے سلام پڑھا اور جلدی جلدی باہر نکل آئے کیونکہ وہاں کھڑا ہونا کافی مشکل نظر آیا ایک تو جگہ تنگ اور دوسرے ماحول بڑا گھٹن والا۔ اگریہ قبور حقیقی ہوتیں تو وہاں روحانی سکون ہوتا لگتا ہے۔ بس روایات ہی ہیں جو نسل درنسل چلی آرہی ہیں حقیقت کا علم اللہ ہی بہتر جانتاہے۔اسی چرچ میں کچھ اورتاریخی چیزیں بھی موجود تھیں۔مگر ماحول کی تنگی اور ریسپشن پر بیٹھی ہوئی خاتون کا کرخت رویہ۔۔ میں اس سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتاتھا لیکن وہ شاید بیچاری تھکی ہوئی تھی۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور ہم سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آگئے۔ چرچ کی عمارت کے ساتھ ایک چھوٹا سا باغ ہے، جہاں زیتون کے بے شمار درخت ہیں۔کہاجاتاہے کہ ان میں سے بعض کی جڑیں ہزاروں سال پرانی ہیں۔باہرنکلے تو واپسی والی چڑھائی بہت زیادہ نظر آئی ۔ ویسے بھی پچھلے دو گھنٹے سے ہم مسلسل چل پھر رہے تھے۔اس لیے ایک ٹیکسی رکوائی اور فلسطینی نوجوان کو ڈائریکشن سمجھائی ، اس نے تیس شیکل مانگے ۔ ہم بیٹھ گئے اس نے فون پر جگہ کاپتہ کیا۔اسے بتایاگیاکہ المسعودی محلہ میں ہے، تو بھاؤ تاؤ کرنے لگا، میں نے کہا۔ یا اخی، جتنے مانگوگے دیں گے۔ ہم تو ویسے بھی اپنے فلسطینی بھائیوں سے محبت کرتے ہیں ۔بہرحال پانچ منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہم اپنے ہوٹل پہنچ گئے۔ عصر تک آرام کیا اور پھرحسب معمول مغرب و عشاء کی نمازکیلئے دوبارہ مسجد اقصیٰ روانہ ہوگئے اور مغرب پڑھ کر مسجد اقصیٰ ہی کے باب السلسلہ میں واقع بی بی مریم ( جن کا ذکرہم اوپر کرآئے ہیں )ان کے گھر چلے گئے۔ کچھ دیر وہاں ٹھہرے چھوٹا اورتنگ سا مکان تھا۔ جس کی کھڑکی مسجد اقصی کی جانب کھلتی ہیں۔جس میں وہ بچوں سمیت رہ رہی ہے۔ ان کے احوال کے پیش نظر مہمان نوازی کی ساری پیشکشیں ہم نے قبول نہ کیں کہ باوضو رہنا زیادہ پسندیدہ بات ہے۔ ہماری خواتین نے ان کے خاندانی احوال پوچھے جنہیں سن کر بڑا کرب محسوس ہوا اور ان کی دلیری و شجاعت اور قناعت ایک مثال ہے ، باپ اور بھائی مسجد اقصی کے محافظین میں سے تھے ۔وہ شہید کردیے گئے اور خاوند ایک زمانے سے گم ہیں یا کسی اسرائیلی زنداں میں قید اور یہ صابرہ و شاکرہ خاتون اپنے بچوں پرشفقت مادری کے پرپھیلائے سایہ فگن ہے ، مختلف قسم کے کام کرکے اپنے بچوں کو پال رہی ہے ، جبکہ آئے دن مسجد اقصی بند کردی جاتی ہے اور بعض دفعہ سپیشل پاس ہونے کے باوجود انہیں مسجداقصیٰ کے دروازے بھی ان پر بند کردیے جاتے ہیں۔16؍ جولائی کو جب مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کرکے تین فلسطینی نوجوانوں کو شہید کرکے مسجد اقصیٰ بند کر دی تھی۔ تو مریم بی بی بھی اپنے ہی گھرمیں قید ہو کر رہ گئی ، انہوں نے بتایاتھا کہ اسرائیلیوں نے انہیں وارننگ دی تھی کہ تم نے مسجد اقصیٰ کی جانب پردے ڈال کر رکھنے ہیں۔جھانکا بھی تو گولی ماردیں گے ۔ اسی دوران میں ان کی ایک ہمسائی بھی آگئی تھیں ان کی کہانی بھی وہی تھی،بلکہ مسجداقصیٰ کے اندرونی حجروں میں مقیم سارے خاندان اسی کرب سے گزر رہے ہیں اس سب کے باوجود وہ بہت خوش ہیں اور اپنے آپ کو سعادتمند سمجھتے ہیں جنہیں مسجد اقصی میں مکان ملا ہے ۔ ان کے بقول اسرائیلی ان تنگ و تاریک مکانوں کی منہ مانگی قیمت دینے کیلئے تیار ہے۔ وَاللہُ وَلِیُّهُمَا وَ عَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْـمُؤْمِنُوْن۔ میں نے کہا اختی آپ کے اسی حجرے کا قرآن میں ذکر آیا ہے۔ کُلَّمَا دَخَل عَلَیْهَا ذَکَرِیَّا الْـمِحْرَاب۔۔ اس مناسبت کو سمجھ گئیں او ر … تھوڑی سی ریلیکس ہوگئیں، ہم ان کیلئے جو تحائف لے کر گئے تھے ان کی خدمت میں پیش کیے اور اجازت لے کر رخصت ہوئے۔ واپسی دمشقی دروازے سے ہوئے۔یہاں یہودیوں کی بہت زیادہ آمد و رفت جاری تھی ۔

تبصرہ کریں