سفر مسجد اقصی اور ارض فلسطین کی روح افزا روئیداد(قسط 5)۔حافظ عبدالاعلیٰ درانی

حل حلول سے حبرون الخلیل کی طرف روانگی

حل حلول کایہ علاقہ خالص فلسطینی ریاست کا حصہ تھا۔ شہر سے باہرنکلتے وقت ایک اُجڑا سادیارنظرآیا ۔ پوچھنے پربتایا گیا یہ مہاجرین کا کیمپ تھا جہاں فلسطینی زبردستی جمع کیے جاتے تھے ۔ دل پہلے ہی رنج و غم سے ڈوبا ہواتھا اس کیمپ کی پھٹی پرانی حالت دیکھ کرمزید چبھن ہونے لگی ۔ کچھ کلو میٹر بعد پھر اسرائیل کے زیر تسلط علاقہ شروع ہوگیا اور یہاں کا مشہور شہر الخلیل ہے، جسے’’ حبرون‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور شاید’’ نابلس‘‘ بھی کیونکہ پرانی تفاسیر میں سیدنا یوسف علیہ السلام کامقام تدفین نابلس لکھا گیا ہے، جو یہیں ہےاور راقم نے بھی تفسیر سورہ یوسف بنام’’ حسن و جمال کاچاند‘میں نقل کیا ہے۔یہاں پہنچ کر بھی فلسطینی بچوں کی غربت دیکھ کر دل خون کے آنسو رویا۔یہ خالص سیدنا ابراہیم  علیہ السلام کی زرخرید جگہ تھی ۔ یہیں انہوں نے اپنے اور اپنے خاندان کے دفن ہونے کیلئے ایک غار بھی متعین کی تھی ۔یہاں کی مسجد الخلیل میں ان کی قبور کے نشانات ہیں ۔ ہم نے طہارت خانے جاکر وضو کیا وہاں برطانیہ سے آئے ہوئے کافی لوگ وضو بنا رہے تھے۔ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے کئی افراد جو ’ بولٹن‘ ’پریسٹن‘ اور’ بلیک برن‘ (برطانوی شہروں) سے تعلق رکھتے تھے۔ وضوبنا رہے تھے ۔ اپنے بھائیوں کویہاں اتنی تعدار میں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کچھ کے ساتھ تعارف بھی ہوا۔حبرون پر بھی اور مسجد الخلیل پر بھی یہودیوں کا قبضہ ہے۔ سیکیورٹی بڑی سخت ہے جس سے گزرکر ہم مسجد میں داخل ہوتے ہیں ۔مسجد میں جاکرظہر وعصر کی نمازیں جمع کیں۔ اسی مسجد میں قبور والی غار کادہانہ بند کرکے چھوٹے سے سوراخ پر جالی فٹ کردی گئی ہے ۔اسی غار میں واقع قبور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تقریباً ساٹھ سترگزنیچے ہیں ۔ سیدنا ابراہیم ، ان کی زوجہ سیدہ سارہ، سیدنا اسحق ان کی بیوی حضرت رفقہ کی قبور نیچے ہیں اور اوپر محض نشانات ۔ مسجد ابراہیمی کاایک حصہ ممنوع ایریا ہے ۔اس پر اسرائیلیوں نے تالے ڈال رکھے ہیں بلکہ دیوار بنا کر مسجد الخلیل کو بھی دو حصوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ بتایا گیا کہ سیدنا یوسف ، سیدنا ایوب علیہ السلام اور ان کی فیملی کی قبور شریفہ کو الگ کر رکھا ہے۔ یہ کیسی نالائق اولاد ہے جو بعد از مرگ بھی انہیں الگ الگ رکھنے پر مصر ہے، حالانکہ وہ سب انبیاء ایک دوسرے کے ساتھ رشتے میں بھی جڑے ہوئے تھے اور دینی طور پر بھی ، ایک ہی دین۔۔۔ دین اسلام کے ماننے والے تھے، ان بدعتی اور مشرکوں نے انہیں بھی باباجمال و جہال کی طرح مال میراث بنا رکھا ہے ۔ ان قبورکی زیارت عام دنوں میں نہیں کی جاسکتی ۔عجیب تماشاہے کہ یہ مسجد الخلیل یہودی قبضے میں ہے اور تولیت مسلمانوں کی ہے، لیکن وہاں اذان کیلئے قابضین کی اجازت ضروری ہے ۔وہ اجازت دیں تو اذان ہو گی۔ اجازت نہ دیں تو بیٹھے رہیں اور بغیر اذان کے ہی نمازیں ادا کریں ۔ہم نے توایک نماز اذان کے بعد ہی باجماعت اداکی تھی۔عصربھی ساتھ ہی پڑھ لی کہ حالت سفر میں ہیں۔ بعد میں قبور انبیاء بلکہ اپنے جدامجد کی قبر مبارک کے سائن پر کھڑے ہوکر میں سوچتا رہا ۔میرے ذہن میں کائنات کی اس عظیم ہستی کی تاریخ گھومنے لگ گئی۔ یہ ابوالانبیاء سیدنا ابراہیم کی جائے پیدائش بابل (عراق ) کا شہر ’’ار‘‘ ہے ۔ انہوں نے تقریباً 100 سال تک لوگوں کو اپنی قوم کو بلکہ حاکم وقت کو مسلمان کرنے میں دعوت دی لیکن نتیجہ کیا نکلا کہ انہیں آگ میں پھینک دیا جو باذن الٰہی گلزار بن گئی اور آپ سلامتی کے ساتھ اس سے نکل آئے اور اللہ کے حکم سے آپ نے اپنی زوجہ سیدہ سارہ اور بھتیجے لوط کے ساتھ مصر کی طرف ہجرت کی۔ وہاں کے بادشاہ نے ان کی غیر معمولی شخصیت سے مرعوب ہو کر اپنی شہزادی ہاجرہ آپ کے عقد میں دے دی ۔ جن کے بطن سے حق تعالیٰ نے پہلا بیٹا اسماعیل عنایت فرمایا۔ سیدنا ابراہیم کو حکم ہوا کہ اس نومولود کو اس کی والدہ سمیت وادی حجاز وادی غیر ذرع (بے آب و گیاہ)لیجاؤ۔ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس جگہ چھوڑ آئے جہاں آج کعبۃ اللہ ہے ۔ یوں یہ وقت کی شہزادی اپنے معصوم بچے کے ساتھ تن تنہا لق و دق صحراء میں اللہ کی رضا کی خاطر سختیاں سہتی رہی۔ جبکہ سیدنا ابراہیم دعوت و تبلیغ میں مصروف رہے ۔ اس دوران میں اللہ نے پہلی بیوی سارہ کی گود بھی ہری کردی ۔ ان کے بطن سے دوسرا بیٹااسحق تولد ہوا۔آپ فلسطین کے علاقے حبرون میں تشریف لے آئے ۔ چھوٹے بیٹے سیدنا اسحق کی پرورش یہاں ہوئی ۔ بڑے بیٹے حضرت اسماعیل نے وادی حجاز میں اللہ کی عبادت کیلئے دنیا میں سب سے پہلے ایک گھر تعمیر کیا جسے بیت اللہ کے نام سے یاد کیا جاتاہے اورچھوٹے بیٹے اسحق نے بیت اللہ کی تعمیر کے 40 سال بعد یہاں ایک مسجد بنائی جسے مسجد اقصی کہا جاتاہے ۔گویا یہ خاندان جہاں بھی گیا اللہ کی عبادت کیلئے گھربناتارہا ۔انہی کی سنت کو ان کے لخت جگر خاتم الانبیاءﷺ نے زندہ کیا۔ مدینہ پہنچتے ہی پہلے مسجد قبا اور پھر مسجد نبوی تعمیر کی اور آپ کے امتیوں نے دنیاکے سارے کنارے اللہ کی مساجد سے بھر دیے ۔ سبحان اللہ العظیم ۔

بعدمیں انہی کی ذریت میں ایسے نالائقوں نے جنم لیا جنہوں نے دین اسلام کویہودیت میں پھر عیسائیت میں بدل دیا۔ یوں جس توحیدکیلئے سیدنا ابراہیم نے ساری زندگی صرف کردی تھی اسے اس نالائق ذریت نے شرک میں بدل ڈالا اور آج دنیامیں سب سے زیادہ ظلم پھیلانے والے یہی لوگ ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ وہ ابراہیمی دین کے وارث ہیں۔ ’’برعکس نام نہندزنگی کافور‘‘ مسجد الخلیل میں ان پاکباز ہستیوں کی قبورہیں، ان جگہوں کی نشاندھی کیلئے نشانات بنادیے گئے ۔شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کے بقول’’سرور انبیاء کی تربت شریفہ کے علاوہ کسی نبی کی قبر مبارک کی بالکل صحیح جگہ کی نشاندھی نہیں کی جاسکتی ۔

اسی غار کے اوپر بنی ہوئی مسجد الخلیل میں داخل ہوں تو سیدہ سارہ کی قبر مبارک دکھائی دیتی ہے۔ دروازے میں داخل ہوں تو بائیں طرف دو قبور ہیں ایک حضرت رفقہ زوجہ نبی اسحق اور اس سے متصل خود نبی اسحق کی قبر شریف ، اس کے پہلو میں ایک بہت بڑا اونچا منبر ہے ۔ جسے سلطان صلاح الدین ایوبی نے نصب فرمایا تھا ۔ دائیں طرف ایک چھوٹا سا جنگلہ ہے جہاں پہلے کبھی سیڑھیاں ہوا کرتی تھیں جو قبور شریفہ تک جاتی تھیں ۔ سیکیورٹی نقطہ نظر سے ان سیڑھیوں کو بند کردیا گیا اور وہاں ایک نشان بنا دیا ۔ اس کے ساتھ ہی ایک دروازہ ہے جو سیدنا ابراہیم کی قبر شریف کی طرف کھلتا ہے ۔اس کے بعد سیدنا یعقوب اور سیدنا یوسف اور سیدنا ایوب کی قبور ہیں جنہیں اسرائیلیوں نے یہاں تسلط کے بعد ایک دیوار بنا کر الگ کرڈالا ہے ۔ کہا جاتاہے کہ ان کی زیارت صرف رمضان المبارک کے آخری عشرے میں کروائی جاتی ہے ۔ ہم نے ان سب پاکباز ہستیوں پر درود و سلام پڑھ کر ہدیہ عقیدت پیش کیااور دیر تک وہاں کھڑے رہے اور اس احساس کے ساتھ کھڑے رہے کہ ہم جیسے گناہگار اور بے مایہ لوگ کتنی پاکباز ہستیوں کے سامنے کھڑے ہیں۔ اللہ مالک الملک کا یہ احسان عظیم اور اپنے عجر و بے مائیگی کا احساس بڑی شدت سے ہورہاتھا۔ وہاں کینیڈا، ترکی اور مصر سے آئے ہوئے زائرین میں سے بعض کے ساتھ ملاقات ہوئی اور تحیہ و سلام کا تبادلہ ہوا ۔

تاریخی عجوبہ …منبر ایوبی کی موجودگی

مسجد الخلیل میں بھی ایک عجوبہ دیکھنے کوملا اور وہ تھا سلطان اسلام حضرت صلاح الدین ایوبی نور اللہ مرقدہ کابنایاہوا منبر،جوبالکل اصلی حالت میں موجود ہے۔ روایت کے مطابق سلطان مصر صلاح الدین ایوبی نے بڑی بڑی تین مساجد کیلئے تین منبر بنوائے تھے۔جب وہ بھی عیسائی قابضین پر حملہ آور ہوتے تو یہ تینوں منبر اپنے ساتھ رکھتے ۔16 جنگوں کے بعد اللہ نے حق کوفتح عطا فرمائی تو ان میں سے ایک منبر مسجد اقصٰی میں ٹکایا گیا اور دوسرا اسی مسجد ابراہیمی میں اور تیسرا دمشق کی جامع مسجد میں۔مسجداقصی میں موجود منبر1969تک 9 سو سال تک علماء و خطباء کے زیر استعمال رہا۔پھر ایک بدبخت یہودی نے اسے آگ لگادی اور وہ جل گیا۔وہ اسی حالت میں مسجد اقصی کے پہلو میں موجود ہے۔ باقی دونوں منبر سلامت ہیں ۔اللہ انہیں بدبختوں کی شرارتوں سے محفوظ رکھے ۔یہ منبر14فٹ اونچا ہے اور تاریخ کا عجوبہ ہے کہ اتنے بڑے منبر کو بغیر کسی کیل کے یا گلو کے بنایاگیاہے۔ اگر اس میں کوئی کیل استعمال کیا گیا ہوتا یا گلیو لگائی گئی ہوتی تو اب تک اکھڑ چکا ہوتا۔ مگر 918سال سے یہ منبر پوری آب و تاب کیساتھ موجود ہے۔ الحمد للہ ۔ اتنی زبردست ڈیزائننگ ہے کہ آدمی عش عش کر اٹھتا ہے ۔لگتاہے پورے ایک دیوہیکل درخت کو خوبصورت تکنیک کے ساتھ منبر میں ڈھالا گیا ہے جسے دیکھ کر آدمی ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ مجھے اس منبر کے ساتھ کھڑے ہوکر اس علاقے، اس مسجد مبارک اور اس کے بانی سیدنا ابراہیم اور اس منبر کے بانی سلطان صلاح الدین ایوبی کی شخصیت کا تعارف کرانا تھا ۔ بیان کچھ ایسا دلسوز ہو گیا کہ آنکھوں سے آنسوبے اختیار نکلنے کیلئے بیتاب رہے، کچھ اس جگہ کی عظمت واہمیت کچھ سلطان صلاح الدین کی شجاعت اور کچھ امت مسلمہ کی بیچارگی اور کچھ یہ احساس ستا رہاتھا کہ آج ہم جیسے گناہگار اس مقدس و تاریخی جگہ پر کھڑے ہیں جو محض اللہ کا فضل ہی ہے ورنہ

کہاں میں اورکہاں نکہت گل۔۔نسیم صبح تیری مہربانی

آپ کومسجدالخلیل مسجد ابراہیمی کی زیارت کاموقع ملے تو اس عظیم الشان شاہکار کو اس نظر سے ضرور دیکھئے گا۔جس سے آپ کو اپنے اسلاف کی عظمت کا احساس ہوگا۔

بیت اللحم۔۔جائے ولادت حضرت عیسیٰ علیہ السلام

الخلیل سے فارغ ہوکر ہم بیت اللحم کیلئے روانہ ہوئے ۔ حبرون سے وہ کوئی زیادہ دور نہیں ہے ۔یہ علاقہ خالص مسلمانوں کاہے یہاں لوگوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہے۔ اس لیے عام چیزیں بھی اسرائیلی مقبوضہ علاقوں سے نسبتاً سستی ہیں ۔ہم نے یہاں فلسطینی ہوٹل میں لنچ کیا۔بازار کا چکر لگاتے ہوئے اپنی بچی فریال کیلئے ایک بڑی خوبصورت فراک پسند آئی ۔ جس کی قیمت بہت مناسب تھی اور کچھ ڈرائی فروٹ کے پیکٹ خریدے۔اسی شہرمیں سیدنا داؤ سے منسوب ایک بہت بڑا محل بھی دریافت ہوا ہے۔ شہر کے قلب میں بلدیہ کے دفاتر ہیں، یہاں فلسطینی پولیس کے خوبصورت جوان نیلی وردیوں میں بڑے خوبصورت اور چاق و چوبند نظرآئے ۔بلدیہ کے دفاتر کے ساتھ مسجد ہے جو سیدنا عمر فاروق کی طرف منسوب ہے۔ یہاں کا مشہور سیاحتی مقام سیدہ مریم کے نام سے موسوم 14 سو سال پراناکنیسہ ہے، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ سیدنا عیسی کی ولادت کی جگہ پر بنا ہوا ہے ۔اس کے مرکزی گیٹ میں سے داخل ہوں تو دائیں جانب اس چرچ کا بہت بڑا حصہ برائے فروخت صلیب کے نشانات اور پرچموں سے اٹا پڑاہے ، گویا اس نام سے کاروبار خوب چمک رہا ہے۔اتنی دیر میں ایک فلسطینی سپاہی جو چرچ کا انتظام کرتے ہیں، میرے پاس آیا سلام کیا، حال احوال پوچھا اور بولاکہ آپ نے چرچ اندر سے دیکھنا ہے، میں نے کہا : ہاں! تو بولا آپ ٹوکن لے لیں۔ میں نے کہا: یا اخی! اب تو ہم آگے نکل آئے ہیں واپسی ناممکن ہے تو وہ خاموش ہوگیا۔ہم بغیر ٹوکن لیے جوتوں سمیت چرچ کے اندرونی حصے میں داخل ہوگئے ، جائے ولادت پرجانے کیلئے بہت نشیبی ایریا کے لیے چھوٹے سے دروازے سے باری باری گزرنا پڑتا تھا۔ بڑی تعداد میں سیاح حضرات مرد و عورت قطار بنائے ہوئے اندر داخل ہونے کے منتظر تھے۔ وہاں خواتین کو بھی حجاب پہننا پڑتاتھا۔یعنی اصل چیز حجاب ہی ہے جو ’’نن‘‘ کامستقل لباس ہے، لیکن مسلمان عورت کا زیور ہونے کی وجہ سے قابل اعتراض ہے۔ یہ عزت نسواں کا لازمی عنصر ہے، نشان عفت و پاکدامنی ہے اور مذہبی تقدس کا حصہ بھی۔ عیسائیوں کے ہاں صرف کنواری مریم حجاب پہنتی ہے اور امت اسلام کی ہر بیٹی عفیفہ مریم وعائشہ وفاطمہ کی پیروکار ہے۔ اپنی باری آنے پر ہم اندر داخل ہوئے تو سیدنا عیسیٰ کی ولادت کی جگہ ایک شیلف بنی ہوئی ہے جسے بتیوں سے روشن رکھا گیا ہے۔ قرآن کریم میں جذع النخلة (کھجور کا تنا بتایا گیا تھا) اس جگہ کی نشاندھی میں کھجور کے مصنوعی پتے رکھے ہوئے ہیں۔ یعنی قرآن کے بیان کی تصدیق کی گئی ہے ۔یاقرآن نے جو بیان کیا گیا اسے ہی تسلیم کیا گیا ہے ۔عیسائی عورتیں بچے مرد سبھی اس جگہ سجدہ کرتے ہیں اسے چومتے ہیں اور اب موبائل فون نے سیلفی کارواج ڈال دیا ہے ۔اب بجائے سجدے کے زیادہ تر سیلفیاں بنائی جاتی ہیں ۔وہاں سے آگے کئی تاریخی نشانات جو انہوں نے محفوظ کیے گئے ہیں دکھائے گئے اور ہم چرچ سے باہر آئے تو ایک بگھی رکی جس پر سے ایک نوجوان لاٹ پادری زرق برق لباس پہنے سیکیورٹی گارڈز کے ہمراہ اترا،جیسے ہمارے ہاں دولہن بنے پیران طریقت اترتے ہیں۔ سارا مجمع اس کی ظاہری شان و شوکت سے مرعوب ہوکر اس سے مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھا۔ بتایاگیا کہ کسی یورپی ملک کامسیحی رہنما ہے پھر اورہم آگے بڑھ گئے۔چرچ کے باہر ایک معمر فلسطینی بزرگ مسجد اقصیٰ اور ان علاقوں کی تصاویر بیچ رہاتھا۔ ہم نے اس کی حوصلہ افزائی کیلئے چند سیٹ خرید لئے ۔ پھر سڑک پار کر کے تین سو گز دور، تین منزلہ مسجد عمر فاروق میں چلے گئے اور نوافل ادا کیے۔ کہا جاتا ہے کہ کلیسائے مریم میں سیدنا عمر فاروق نے پادریوں سے مذاکرات کے دوران نماز کا وقت آنے پرلاٹ پادری کی پیشکش پر چرچ کے اندر ہی نماز ادا کر لی تھی۔ جس سے مسلمانوں کے لیے غیرمسلم عبادت گاہوں میں کچھ تحفظات کے ساتھ نماز ادا کرنے کا جواز بنا ۔ لاٹ پادری نے اپنی خوشی سے مسجدکی جگہ مسلمانوں کیلئے وقف کر دی۔ جہاں آج خوبصورت مسجد بنی ہوئی ہے ۔جبکہ یروشلم میں مسجداقصی کے پڑوس میں واقع کنیسۃ القیامہ میں باوجود پیشکش کے امامنا وسیدنا فاروق اعظم نے نمازادانہیں کی۔ کیونکہ حالات کا اختلاف تھا۔ بہرحال خلیفہ اسلام کی رواداری ایک غیر متنازعہ حقیقت ہے جسے آج تک ملت اسلامیہ فخر کے ساتھ پیش کرتی ہے ۔ اور اس ملت کا حق ہے کہ وہ اس پر فخر کرے ۔اس مسجد عمر فاروق کی آرائش سلطان صلاح الدین ایوبی﷫ کے دور ہمایوں میں بھی کی گئی تھی۔اب اسے بہت خوبصورت اور جدید طرز تعمیر سے آراستہ کیا گیا ہے ۔

فلسطین کے شہر’’بیت اللحم ‘‘کاتعارف

فلسطین کے مشہورشہر’’بیت اللحم ‘‘ سے مقام موسی، اریحا وغیرہ کی طرف روانہ ہونے سے پہلے ہم اس شہر کی تاریخی اہمیت و حیثیت سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں ، بیت اللحم کالفظی معنی توعجیب ساہے یعنی گوشت یا روٹی کا گھریا وہ علاقہ جہاں کثرت سے پھل اور رزق پایا جاتا ہو۔کہاجاتاہے کہ بیت اللحم کنعانیوں کے خدا ’’ لحمو‘‘ یا’’لاخاما‘‘ کی طرف منسوب ہے ، یادرہے کہ آرامی خداؤں میں اس نام کامعبود ’’ واؤ کی شد کے ساتھ قوّت بمعنی طاقت۔ یا ۔واؤ کے سکون کے ساتھ۔ قُوْت ( جیسے قوت لا یموت۔نپا تلا رزق) بمعنی روزی کامعبود سمجھاجاتا تھا۔۔۔ وهو إله القوة–او الہ القوت (روزی) وهی کلمة آراميبة تعنی الخصب والثمار۔

عبرانی بائبل کے مطابق یہ کنعانی شہراسرائیلی بادشاہ ’’رحبحام ‘‘کی طرف منسوب ہے ۔ہم نے بچپن میں بیت اللحم کانام بائبل میں پڑھاتھا ۔ سیدنا عیسیٰ کی جائے ولادت کے طور پر۔ اس لیے جب ہمیں بتایاگیا کہ آج ہم بیت اللحم کی وزٹ کیلئے جارہے ہیں تو ذہن میں عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی ۔اس شہر کی تاریخ ، کوئی ساڑھے تیرہ سو سال قبل ولادت مسیح بتائی جاتی ہے۔یروشلم کی تاریخ بیان کرتے ہوئے گزشتہ صفحات میں ہم بتاچکے ہیں کہ بنی اسرائیل کے 12 قبیلوں میں جب یہ علاقہ تقسیم ہوا تویہ علاقہ بنی بنیامین ( جو یوسف کے چھوٹے بھائی بنیامین کی اولاد )کے حصے میں آیاتھا۔اسی لیے اسی علاقے میں سیدنا یوسف اوربنیامین کی والدہ سیدنا یعقوب نبی کی زوجہ سیدہ راحیل کی قبر موجود ہے ۔جس کاذکرمیں کر چکا ہوں ۔’’بیت اللحم ‘‘کوشہر داؤد بھی کہاجاتاہے ، کہاجاتاہے کہ سیدنا داؤد کی ولادت بھی بیت اللحم میں ہوئی تھی۔ شہرکے شمالی جانب سیدنا داؤد کی طرف منسوب ایک کنواں بھی ہے اور انہوں نے ایک بہت بڑا محل بھی یہاں بنایاتھا ۔ اسی صدی میں اس محل داؤدی کے آثار بھی دریافت ہوئے ہیں۔ شہر بیت اللحم ،یروشلم سے مشرقی جانب صرف چھ سات میل دور ہے، دوسری صدی میں رومی بادشاہ قیصر ہیڈریان نے اس شہر کو بھی تباہ کردیا تھا ۔نبی کریم ﷺ کی ولادت سے تین سو سال پہلے ایک اور رومی بادشاہ قسطنطینConstanstine نے یہودیت چھوڑ کرعیسائیت اختیار کرلی تھی۔ اس بادشاہ کی والدہ ہیلن بڑی مذہبی عورت تھی ، اس نے327عیسوی میں اسے دوبارہ آباد کیا اور330عیسوی میں جائے ولادت سیدنا عیسیٰ پرگرجا گھر’’کنیسۃ المھد‘‘ کے نام سے تعمیرکرادیا ۔یاد رہے کہ اسی بیگم ہیلن نے یروشلم کا کنیسۃ القیامۃ بھی تعمیر کروایاتھا ۔ہجرت کے سولہویں سال 637 عیسوی میں، خلیفہ ثانی ، فخر امت، سیدنا وامامنا عمر بن الخطاب کے عہد ہمایوں میں اسے بھی یروشلم کے ساتھ فتح کرلیا گیاتھا۔اس وقت یہاں یہودیوں کاداخلہ بندکیا ہوا تھا ۔لیکن سیدنا عمرفاروق نے یروشلم کی طرح بیت اللحم میں بھی یہودیوں پر عائد ہرقسم کی پابندیاں ختم کردی تھیں۔ اس چرچ میں سیدنا فاروق اعظم نے نماز بھی ادا کی تھی ، جس سے غیرمسلموں کی عبادتگاہوں میں چند شرائط کے ساتھ نمازپڑھنے کاجواز ملتاہے ۔

بیت اللحم میں دور عباسی یعنی خلیفہ ہارون الرشید کے عہد میں بڑی ترقی ہوئی ۔ یہاں کئی مساجد و مدارس قائم کیے گئے ، گیارہویں صدی تک یروشلم کی طرح بیت اللحم بھی مسلم ریاست کا حصہ رہا ۔1099میں صلیبیوں نے قبضہ کرکے یہاں بھی یروشلم کی طرح بڑی خونریزیاں کیں ۔ یونانی آرتھوڈوکس کو ہٹا کر لاطینی پادریوں کاتقرر کیا جنہوں نے جی بھر کرکفرو جہل پھیلایا۔ پھر سلطان صلاح الدین نے اسے فتح کرنے کے بعد یہاں سے صلیبیوں کے اثرات بد کا خاتمہ کردیا اوراسے ایک پرامن شہر ڈکلیئرکیا۔جہاں تمام مذاہب کو آزادی حاصل رہی ۔1250میں ممالیک حکمرانوں ( جیسے تاریخ ہند میں خاندان غلاماں کی حکمرانی تھی ، یہی صورتحال شام و نواحی علاقوں میں بھی تھی ) نے اس شہر کی دیواریں تباہ کردیں۔ جنہیں16ویں صدی میں خلافت عثمانیہ کے دور میں دوبارہ تعمیر کیا گیا ۔ یورپی ممالک کی سازشوں کی وجہ سے 1917میں یہ علاقہ برطانوی فورسز کے قبضے میں آگیا ۔ عثمانیوں کا برائے نام ہی سہی ،لیکن کنٹرول سمجھا جاتاتھا جوعالمی جنگ کے اختتام کے بعد ان کے ہاتھوں سے بھی نکل گیا ۔1948میں عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں اردن کو کنٹرول مل گیا۔لیکن 1967کی چھ روزہ جنگ کے نتیجے میں اسرائیل اس پر قابض ہوگیا۔1995کے اوسلو معاہدے کے تحت بیت اللحم فلسطینی اتھارٹی کنٹرول میں دے دیا گیا۔ بیت اللحم کی مساحت 10611ایکڑ یا4.097مربع میل ہے ۔ اس چھوٹے سے شہر میں 30سے زیادہ ہوٹل 300سے زیادہ گھریلو صنعتیں ،70بستیاں ، تین مہاجرکیمپ ایک کانام ’’ مخیم عایدہ ‘‘ دوسرا’’ مخیم بیت جبرین ‘‘اور تیسرے کانام ’’مخیم الدھیشہ‘‘ ہے جو 1949اور1950میں قائم ہوئے تھے ۔یہاں31 تعلیمی مدارس کام کررہے ہیں ، اعلی تعلیم کیلئے’’ بیت اللحم یونیورسٹی‘‘ بھی ہے ۔جہاں کئی قسم کے علوم وفنون پڑھانے کیلئے مخصوص کالجز ہیں ۔

٭٭٭

 

جس دل میں سیدنا علی  رضی اللہ عنہ کی محبت نہیں

جرح و تعدیل کے جلیل القدر امام ابو العرب صقلی رحمہ اللہ  کی موجودگی میں کسی بدبخت نے کہا : مجھے سیدنا علی بن ابی طالب  رضی اللہ عنہ سے محبت نہیں ۔ امام صقلی رحمہ اللہ نے فرمایا : جو صحابہ سے محبت نہیں رکھتا ، وہ ثقہ ہے ، نہ قابلِ عزت ۔‘‘

(تہذیب التہذیب از امام ابن حجر: 1/236)

 

تبصرہ کریں