سفر مسجد اقصی اور ارض فلسطین کی روح افزا روئیداد ( قسط 5)۔حافظ عبدالاعلیٰ درانی

جبل زیتون کاوزٹ

اگلی صبح ہمارامقام وزٹ جبل زیتون(Mount of Olives) تھا جو بالکل بیت المقدس کے بازو میں اور قدیم یروشلم سے ملحق ہے ۔ یروشلم اور مغربی کنارے ایک پہاڑی سلسلہ کوہ الخلیل کے نام سے مشہور ہے ۔ جبل زیتون اسی سلسلہ کا ایک اہم پہاڑ ہے جس کی اونچائی828 میٹر یا (2710)فٹ ہے۔اور اس پہاڑ کی لمبائی ایک میل سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن تاریخ میں اس پہاڑکی بڑی حیثیت ہے۔ دنیاکے تینوں بڑے مذاہب کی یادگاریں یہاں موجود ہیں ۔ انجیل وتورات میں کئی مقام پر اس پہاڑ کا ذکر ہواہے ۔ قرآن کریم میں ایک سورہ التین ہے جس میں بعض مفسرین کے مطابق اس پہاڑ کا تذکرہ کیا گیا ۔ ﴿وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ١‏ وَطُورِ سِينِينَ﴾ مفسرین کے نزدیک زیتون کے اس پھل سے مراد زیتون کے پھل کی جائے پیدائش ہے اور یہ فلسطین کا پہاڑ جبل زیتون ہے۔ چونکہ یہاں سب سے زیادہ زیتون کا پھل پیدا ہوتاہے اس لیے زیتون کا استعمال یہاں بہت عام ہے۔ اہل فلسطین اس کااستعمال بہت کثرت سے کرتے ہیں۔ مجھے یاد آتا ہے، مدینہ یونیورسٹی میں ہمارے کئی فلسطینی دوست زیرتعلیم تھے اور ہماری رہائش شارع سلطانہ والی بلڈنگ میں تھی۔ نمازوں کے علاوہ بعض دفعہ شام کے کھانے میں اکٹھے ہو جایا کرتے تھے تو ان کا زیتون آئل کا ابلے آلوؤں پر بے تحاشا چھڑکاؤ بڑا عجیب لگتا تھا ۔ ظاہر ہے جس علاقے میں کوئی چیز زیادہ پیدا ہوتی ہے ، وہاں اس کا ستعمال بھی عام ہوتاہے جیسے بنگالی بھائیوں کا مچھلی اورپاکستانی شیخوپوریوں کاکثرت سے باسمتی چاول کااستعمال ۔ زیتون کی وسیع پیمانے پر پیدائش کی اس مناسبت سے اسے جبل زیتون کہا گیاہے۔ یہاں زیتون کے کئی درخت ہیں جن کی قدامت ہزاروں سال بتائی جاتی ہے۔مسجد اقصیٰ اور اس کے ارد گرد میں تاریخی تقدس کی خوشبو تو ہے ہی لیکن یہاں کی فضا میں عجیب دلربا سی مہک اور رونق محسوس کی جاسکتی ہے ۔

جبل زیتون اور مسجد اقصی کے اردگرد میں بے شمار انبیاء کرام کی قبور شریفہ موجود ہیں ۔مقبرہ زکریا کی تصویر تو موجود ہے ۔باقی بھی انبیائے کرام یہیں کہیں دفن ہوئے ہیں ، لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ کوئی قبرحتمی طور پر ثابت نہیں ہے ۔روئے زمین پر سوائے رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کے کسی نبی کی قبر حتمی طور پر ثابت نہیں ہے۔روایت کے مطابق سیدنا عیسی کو جہاں سے آسمانوں پر اٹھایا گیا ، وہ پتھربھی اسی پہاڑ پر مو جود ہے( کوئی ایک میٹر کے قریب اس کی لمبائی ہے) اس پہاڑ یا علاقے کی یہ خاصیت ہے کہ پوری دنیا میں یہی ایک خطہ ہے جہاں سے دو انبیاء کو آسمانوں پر اٹھایا گیا ۔ایک محمدﷺاور دوسرے سیدنا عیسی ۔ یہ بھی مشہور ہے کہ جبل زیتون پر سیدنا داؤد ننگے پاؤں بھاگے تھے ۔جبل زیتون کے سامنے والی دیوار کو عثمانی خلافت کے آٹھویں خلیفہ سلمان القانونی نے تعمیر کرایا تھا۔ اگرچہ اس سے پانچ سو سال پہلے سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کرلیاتھا لیکن سترہویں صدی تک برطانیہ ، روس، اٹلی، فرانس اور سپین حملہ کرنے کی دھمکیاں دیتے رہتے تھے ۔اس لیے اپنے دفاع کیلئے سلطان سلیمان القانونی نے یہ دیوار بنائی تھی۔باب اسباط سے نیچے ڈھلوان میں اتریں تو بستان جشیمانی اور وادی قدرون کی مغربی جانب جبل زیتون ہے ۔ جبکہ اس کی جڑ میں سے پانچ راستے نکلتے ہیں ۔ ایک شاخ اردن کی طرف اور دوسری جافا اورتل ابیب کی جانب چلی جاتی ہے ۔

جبل زیتون کے علاقے میں کئی چرچ ہیں ۔ان میں مشہور چرچ حضرت مریم کے نام سے منسوب ہے۔ جس کا تذکرہ اوپر ہم نے کیاہے ۔اس پہاڑ پرتینوں مذاہب کے قبرستان بھی ہیں اور کئی مشہور قبور ہیں ۔حضرت مریم کی قبر کنیسہ مریم عذرا ء میں ، داؤد محل میں حضرت داؤد کی قبر ، ایک جگہ حضرت زکریا کا مقبرہ بھی بتایا جاتا ہے، افشالوم کی یادگاربھی ہے ۔کنیسۃ الصعود جہاں سے بقول عیسائیوں کے حضرت عیسی آسمان کی طرف چڑھے تھے ۔اسی علاقے میں ایک لاکھ چوالیس ہزار انبیائے کرام﷩ (مسند احمد اور ابن حبان کی روایت عن ابی ذر کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء مبعوث ہوئے، یا پیدا ہوئے۔اس روایت کو مشکوٰۃ المصابیح (3؍1589) میں امام البانی﷫ نے صحیح کہا ہے )جبکہ بعض اکابر علماء اس ضمن میں مروی تمام احادیث کو ضعیف بتاتے ہیں۔واللہ اعلم) ان سب کی قبور مبارکہ اسی فلسطین و شام کے علاقہ میں ہیں ۔اگرچہ نشاندھی صرف چند ایک کی ہی ہوسکی ہے لیکن وہ بھی سو فیصد یقینی نہیں ہے بس روایات ہی ہیں جو نسل در نسل مشہور ہوتی چلی آرہی ہیں ۔ شیخ الاسلام اما م ابن تیمیہ ﷫ کے بقول حضور اقدس ﷺ کی قبر مبارک کے سوا صفحہ ہستی پر کسی نبی کی قبر کا مقام یقینی نہیں ہے اور نہ ہی کسی نبی بشمول نبی آخر الزمان کی تاریخ پیدائش یقینی طور پر ثابت ہے ۔جو کچھ بھی ہے، آثار و روایات ہیں ، جو نسل در نسل سے مشہور چلی آرہی ہیں۔

یہودکے قبرستان میں عام یہودی دفن نہیں کیے جاتے بلکہ یہاںمشہوراور مالدار یہودیوں کو دفن کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کی مہنگی ترین قبر کی جگہ غالباً یہاں فروخت ہوتی ہے۔ ایک قبر کم ازکم پانچ ملین ڈالرکی ۔اور ان قبروں کوپختہ مگر سوراخوں والی سلیبوں سے ڈھانپاگیاہے کہ یہودیوں کی روحوں کو پختہ قبروں سے نکلنے میں دیر نہ لگے اور وہ فوراً پرواز کرجائیں۔۔۔ مگر کس جانب۔۔۔؟ ہم نے انہیں تبشیر بالنار کی دعائے مسنون دی ۔پہاڑ کی ڈھلان پر قبریں ہی قبریں نظر آئیں پتھر یا سیمنٹ کی سلیب سے ڈھکی ہوئی ہر قبر کے ایک طرف سوراخ رکھاگیا۔ یوں کئی اعتبار سے اس جبل زیتون کی تینوں مذاہب( مسلمان، عیسائیوں اور یہودیوں کے نزدیک بڑی اہمیت ہے۔

سلمان فارسی اوررابعہ بصری کے مقامات

جبل زیتون پرایک احاطے میں دو مشاہیر کی طرف منسوب مقامات بھی ہیں ۔مشہور صحابی رسول حضرت سلمان فارسی کی طرف منسوب ایک مسجد جو بہت خوبصورت اور دلربا مقام ہے۔ اس کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے یہ سفید گھنی ریش، چوڑا ماتھا خوبصورت سیدفلسطینی نین و نقوش جانتے ہیں کون ہیں۔۔۔ یہ ہیں 76سالہ مفتی اعظم فلسطین جناب محمد حسینی ۔علم و ادب، تقویٰ و نرم روئی کا مرقع۔ ہرآنے جانے والوں کو بذات خود گرمجوشی سے خوش آمدیدکہتے ہیں۔ حال احوال پوچھتے ہیں یورپ سے آنے والوں کو کچھ زیادہ ملتے ہیں ان کیلئے دعائیں کرتے ہیں ۔خاندانی طور پر اس منصب پر فائز ہیں ۔ان کے خدام فوراً چائے کافی اور پھلوں سے تواضع کرتے ہیں۔ انہیں اس بات کی بہت خوشی ہوئی کہ یورپ سے مسلمان آزادنہ آ جا سکتے ہیں۔اسی احاطے میں دوسری جانب حضرت رابعہ بصری کامقام ہے ۔لیکن یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ یہ جگہیں ان کی طرف کیوں منسوب ہیں؟ کیا ان کی قبور یہاں ہیں یاوہ یہاں وزٹ کیلئے تشریف لائے تھے ۔ اللہ ہی بہتر جانتاتھا حتمی طور پر کچھ معلوم نہیں ہوسکا ۔مسجدبہت خوبصورت ہے۔ وہاں جب ہمارا قافلہ پہنچا تو بیت المقدس کے مفتی بھی موجود تھے، ان کے اہتمام سے اہل قافلہ کو چائے ، کافی اور فروٹ پیش کیے گئے ۔وہاں موجود گارڈز کاحسن سلوک خوبصورت مسجد، مبارک علاقہ، بابرکت پہاڑ اور بلندی سے یروشلم کا نظارہ اور قبۃ الصخراء کا چمکتا گنبد عجیب احساسات پیدا کر رہا تھا۔ حضرت رابعہ بصریہ کی طرف بے شمار روایات منسوب کی جاتی ہیں ۔ ان ساری روایات کا صرف ایک ہی منبع ہے فرید الدین عطار کی روایات۔ اس خاتون کو بڑا حسین بھی کہاجاتاہے اور اللہ کی ولیہ اور آدھی قلندر بھی ۔ حقیقت کیا ہے کچھ معلوم نہیں اوران کی طرف منسوب روایات کی سچائی یاجھوٹ کاکوئی معیار نہیں ہے۔ ہم جبل زیتون کے اس رخ پر کھڑے تھے جہاں سے یروشلم کا قدیم شہر اپنی گود میں قبہ صخراء لیے ڈوبتے ہوئے سورج کی زرد کرنوں میں جھلملاتا نظر آرہاتھا ۔ اہل فلسطین کو حق پہنچتا ہے کہ وہ فخر سے کہیں کہ یہ دنیا کی خوبصورت ترین عمارت ہے ۔

جمعرات، 13 جولائی،2017؍ شوال،19

کنیسۃ القیامہ ، مسجدعمر،محراب داؤد وغیرہ کا وزٹ

نمازتہجد کیلئے حسب معمول ہم بیت المقدس چلے گئے۔ آج امام یوسف صاحب نے فجرکی جماعت کرائی۔ نماز کے بعد ان سے ملاقات اور تعارف ہوا۔ انہوں نے بھی مولاناعبدالہادی کی خیریت دریافت کی ۔کافی پرانی یادیں تازہ کیں ۔ نمازکے بعد وہ باہرتک آئے ہم نے مغرب کی جانب منہ کرکے تصاویربنائیں کہ پیچھے سے قبۃ الصخراء نظر آ رہاتھا ۔ ہم اشراق تک مسجد میں تلاوت وغیرہ میں مشغول رہے ۔واپس ہوٹل پہنچ کر ناشتہ کیااور کچھ دیر کیلئے آرام کیا۔ پھر چل پھر کر اس علاقے کو دیکھا اور فلسطینی بھائیوں سے میل ملاقات کی۔ ایک گروسری شاپ سے کچھ کھانے پینے کی چیزیں خریدیں۔ بارہ بجے واپس ہوٹل پہنچا تو ساتھی نمازِ ظہر کیلئے مسجد اقصی جانے کیلئے پابرکاب تھے ۔ نمازظہر کے لیے ہم باب دمشق سے یروشلم شہر میں داخل ہوئے۔ چکنے پتھروں سے بنے ہوئے چلتے چلتے ہم باب الناظر سے مسجداقصی میں داخل ہوئے اور باجماعت نماز ادا کی۔ وضو کی حاجت ہوئی تو باب السلسلہ کی طرف گئے، دروازے کی بائیں جانب ٹوائلٹ تھے ، ان کا بھی وہی حال تھا جو باب حطہ کے ٹوائلٹوں بلکہ عموما ً ہمارے ہاں کی ٹوائلٹوں کا ہوتاہے۔ نہ صابن، نہ ٹوائلٹ پیپر اور نہ کوئی تولیہ ، میں نے باہر بنی ہوئی دوکانوں سے کچھ خریداری کی ۔ چند چیزیں وہاں رکھ دیں اوروضو بنا کر باہر آئے۔ ہماری خواتین تو بی بی مریم کے گھر جو بالکل ساتھ ہی تھا وہاں چلی گئیں اورہم کچھ دیر وہاں رکے اور صحن گنبد صخراء کے پلیٹ فارم میں موجود تاریخی کتبات دیکھتے رہے۔ بڑاعجیب سا احساس ہو رہاتھا کہ اس جگہ پر صدیوں سے تاریخ کا پہرہ ہے ۔

مولانا محمد علی جوہر کی قبر

کل سے سوچ رہاتھا کہ مسجد اقصی میں تحریک آزادی ہند کے عظیم رہنما مولانا محمد علی جوہر کی قبر بھی ہے لیکن وہ کس قبرستان میں ہوگی ۔یہ معلوم کرنا پڑے گا لیکن یہ کیا ہوا ؟باب السلسلہ کے بائیں جانب بنے برآمدوں میں چلتے چلتے اچانک نظر پڑی تو وہاں لکھاہوا دکھائی دیا ۔هذا الضریح المبارك المجاهد الھندی الکبیر مولانا محمد علی جوهر تغمدہ اللہ برحمته (یہ قبر مبارک ہند کے بڑے مجاہد مولانا محمد علی جوہر کی ہے ۔ اللہ کی رحمت ان پر سایہ فگن رہے)دل اچانک اس انکشاف پر باغ باغ ہوگیا ۔ جالی کے دونوں طرف چند اور مدفونین کے نام بھی درج تھے جن میں الحسینی خاندان کی چند شخصیتیں شامل تھیں جالی میں سے جھانکا تو تین چار قبریں نظر آئیں۔ مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی۔ غالباً یہی قبرستان مرملا تھا جہاں چند سال قبل تک فوت شدگان کی تدفین ہوتی رہی ۔ روایت کے مطابق1930ء میں مولانا محمد علی جوہر اپنے بھائی شوکت علی کے ہمراہ لندن آئے ہوئے تھے۔ شوگرکی بیماری نے جسم کھوکھلا کر رکھا تھا۔

4؍جنوری 1931ءکو وہیں وفات پائی مگر وصیت کر گئے کہ انہیں غلام ہندوستان میں نہیں بیت المقدس میں سپرد خاک کیاجائے۔ معلوم نہیں کس طرح ان کا جسد خاکی فلسطین لایا گیاہوگااور کیسے تدفین کی گئی ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ اس بطل جلیل کو آخرت میں اپنی فیاضیوں سے نوازے۔ علامہ اقبال کیا خوب کہہ گئے ہیں۔

خاک قدس او را بآغوش تمنا درگرفت

سوئے گردوں رفت ز آں راہ پیغمبر گزشت

چند قدم اور آگے بڑھے تو ایک بڑااور کتبہ نظر آیا۔ یہ شاہ حسین مرحوم کے دادا عبداللہ بن حسین بن علی کا مدفن تھا وہ عبداللہ بن حسین جنہوں نے انگریزوں کے ساتھ مل کر القدس کے آخری محافظین یعنی سلطنت عثمانیہ کے خلاف شورش میں حصہ لیا۔ عرب مورخین کہتے ہیں کہ امیر عبداللہ انگریزوں سے دھوکہ کھاگئے ۔ ان سے وعدہ کیا گیاتھا کہ عثمانی سلطنت کے ختم ہوتے ہی سرزمین شام ، فلسطین اور عراق عربوں کے حوالے کردی جائے گی لیکن اندرون خانہ یہود سے بھی وعدہ کرلیا کہ انہیں فلسطین کی حکومت ملے گی۔ یہود کے ساتھ وعدہ پورا کیا گیا لیکن عربوں کو شرق اردن تک محدود کردیاگیا۔

اہل فلسطین امیر عبداللہ کی سیاست سے خوش نہیں تھے۔ اس لیے ایک فلسطینی نے مسجد کے احاطے میں امیرعبداللہ کواپنے خنجر سے گھائل کرکے مغربی دیوار سے متصل قبرستان میں پہنچا دیا۔ عربوں کی بغاوت میں اس بے چینی کا بھی دخل تھا کہ جو سلطان عبدالحمید کے ہٹائے جانے اور پھر کمال اتاترک کی قیادت میں ترک قومیت کے احیا اورعرب رعیت کے ساتھ مخاصمانہ رویے کی بناپر پیدا ہوچکی تھی ۔بہرحال عربوں کی یہ بغاوت اہل فسلطین کے لیے مصائب و آلام کی ایک طویل رات کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ۔مغربی دیوار کاآخری دروازہ باب القوامہ ہے اور اس سے قبل باب الناظر جس سے ہم داخل ہوکرنماز کیلئے آئے تھے۔

جمعہ، 14جولائی، 2017ء؍ 20شوال، 1438ھ، مسجد اقصیٰ بند کردی گئی

معمول کے مطابق ہمارا قافلہ صبح تین بجے تہجد کے لیے مسجد اقصیٰ چلا جاتا ہے اور اشراق پڑھ کر واپس آتا ہے لیکن آج شومئی قسمت کہ میری طبیعت کل کی تھکاوٹ کی وجہ سے اس قابل نہ ہو سکی کہ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مسجد جاسکتااس لیے معذرت کرلی اوریہ بھی خیال تھا کہ آج جمعہ ہے ۔جس کیلئے ہمیں بھرپور تیاری کرنا ہے ۔تاکہ دس گیارہ بجے ہم مسجد اقصیٰ پہنچ جائیں ورنہ وہاں جگہ نہیں ملتی ۔9 بجے ہم ہوٹل میں ناشتہ کررہے تھے کہ ٹی وی پر خبرچلنا شروع ہوگئی کہ مسجد اقصی میں فائرنگ ہوگئی ہے۔ جس کے نتیجے میں تین فلسطینی نوجوان شہید کردیے گئے۔إناللہ وإنا إلیه راجعون، پھر خبر آگئی کہ مسجد اقصی بند کردی گئی ہے اورجمعہ ادا نہیں کیاجاسکتا۔پھر تسلسل کے ساتھ یہ خبراپ ڈیٹ ہوتی رہی ۔جو ساتھی صبح تہجد کیلئے گئے تھے انہوں نے بتایا کہ ہم 7 بج کر 10 منٹ پر مسجد سے نکلے جبکہ فائرنگ7.25پر ہوئی یعنی 15 منٹ کے بعد یہ حادثہ فاجعہ ہوگیا ۔مسجد اقصیٰ جانے والے سب دروازے بند کردیے گئے ہیں* کیونکہ نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے اردن اور دیگر ساتھ والے ممالک سے بھی لوگ پہنچتے ہیں ۔اس لیے یہودیوں نے مسجداقصیٰ کو مکمل بند کردیا کہ کوئی بھی شخص مسجد میں داخل نہ ہوسکے ورنہ وہاں احتجاج ہوسکتا ہے ۔چونکہ شہرکادروازہ (ہیروڈیس گیٹ) ہماراسب سے قریبی دروازہ ہے ہم نکلے تاکہ صورتحال دیکھ سکیں لیکن بلدیہ اور پولیس تھانہ جو ہمارے ہوٹل سے تین چار منٹ دور ہے وہاں اسرائیلی فوجی تعینات تھے انہوں نے ہمیں وہیں روک لیا اور واپس جانے پر مجبور کیا ۔چاروں طرف سے لوگ وہاں پہنچ رہے تھے ۔ہم واپس ہوٹل آگئے کہ اب یہیں جمعہ ادا کریں گے۔ فرسٹ فلور میں ڈاکٹرکی سرجری میں کارپٹ بچھے ہوئے تھے ۔ سب ساتھی وہاں جمع ہوگئے اور راقم نے خطبہ دیا۔ اس قدر افسوس ہوا کہ ایک ہی جمعہ مسجد اقصی میں ادا کرنا تھا اور وہ بھی ادانہ کرسکے۔ لیکن راضی برضا رہے کہ دوگنا ثواب تو مل ہی جائے گا۔ دوران خطبہ مزید دو ساتھی لندن سے پہنچ آئے یہ ہمارے ہی قافلے کے لوگ تھے لیکن انہیں تو بالکل ہی مسجد دیکھنے کا موقع نہ مل سکا۔

جمعہ کے بعد مفتی اعظم فلسطین کی گرفتاری کی خبر آگئی انہوں نے پولیس تھانہ کے سامنے پہنچ کر احتجاج کیا، انہیں شہرمیں داخل نہ ہونے دیا گیا تو انہوں نے وہیں خطبہ دیناشروع کردیا۔ اردگرد کے لوگ جمع ہوتے گئے۔ نماز جمعہ کے بعد اسرائیلی فورسز نے نمازیوں پر دھاوا بول دیا مفتی اعظم کو گرفتار کرکے لے گئی۔لیکن احتجاج کسی طرح رکنے میں نہیں آرہاتھا ۔عصرومغرب وعشاء سبھی نمازیں وہیں اداکیں ۔ 1969کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ مسجد اقصیٰ میں جمعہ ادا نہیں کرنے دیا گیا۔بلکہ دو دن مسجد اقصی کو بند کردیاگیا۔نہ کسی امام کو داخل ہونے دیا گیا اور نہ کسی نمازی کو۔ یوں یہ مسجد انبیاء نماز و اذان کے بغیر مسلمانوں کی حالت زار پر نوحہ کناں رہی ۔۔

ہفتہ، 15جولائی،2017ء؍21شوال،1438ھ

الخلیل، بیت اللحم ۔سدوم کا علاقہ،اور اریحا کا وزٹ

آج بھی نماز ہم نے فرسٹ فلور پر پڑھی۔مختصر درس دیا۔ ساڑھے سات ناشتہ کیا۔پھرڈرائیور کا انتظار کیا۔وہ گیارہ بجے آیاکیونکہ یہودنے راستے بند کیے ہوئے تھے ۔سواگیارہ وہاں سے نکلے ۔

حضرت یوسف کی والدہ کی قبر

یروشلم میں جبل زیتون کوعبور کریں تو راستے میں واقع قبرستان میں حضرت یوسف کی والدہ حضرت راحیل(Rachel) کامزار اقدس کا سائن نظرآیا۔اور اس سڑک کانام بھی ’شارع راحیل‘ ہے ۔ چونکہ حضرت راحیل کے نام سے کوئی بھی واقف نہ تھا حتی کہ فلسطینی ڈرائیور بھی نہیں جانتا تھا۔ گاڑی بھی تیزی میں نکل گئی اس لیے میں نے مختصرتعارف کرایا۔ فلسطین کے پرانے نقشے کے مطابق موسی کے بعد جب بنی اسرائیل بارہ قبیلوں میں بٹ گئے ، یہ بنی بن یامین کا علاقہ ہے، جہاں حضرت یوسف اور حضرت بنیامین کی والدہ دفن ہیں اور اس کے بعد بنی افرائیم کا علاقہ ہے۔ جہاں حضرت ابراہیم، حضرت یعقوب، حضرت یوسف اور حضرت ایوب﷩ کی قبور مطہرہ ہیں۔ یروشلم سے باہر نکلیں تو مغربی کنارے کو جاتے ہوئے راستے میں پہاڑوں کے درمیان ایک علاقہ ہے جہاں مسجد یونس یا مقام یونس موجود ہے ۔

مقام یونس

ریاست فلسطین کے زیر انتظام ایک شہر ہے حل حلول۔ حل کامعنی اترنا اور حلول کامعنی Salostion جن دونوں کو اکٹھا پڑھاجائے تو معنیٰ بنتاہے جہاں ایک سال تک حضرت یونس قیام فرما رہے ۔ہم مقام یونس پر گئے۔ وہاں ہماری گاڑی رکی ہی تھی کہ ایک فلسطینی نوجوانوں کی ٹولی نے ہماری ویگن پر دھاوا بول دیا۔پہلے توہمارے دل میں ترس تھا اوراپنے ساتھ کچھ رقم لے کرگئے تھے کہ وہاں مستحقین میں بانٹی جائے گی ۔لیکن یہاں نوجوانوں کامعاملہ دیکھ کرتوہمیں اپنی جان چھڑانا مشکل ہوگیا۔ عصمی یا اس طرح کا اس نے نام بتایا عمر یہی کوئی اٹھارہ انیس سال بہت ہی خوبصورت شکل کامالک ، بتارہاتھامیرے والد کو کینسر ہے یا شہید کردیاگیاتھا ۔مجھے اس کے علاج کیلئے پیسے چاہیئں۔ میں سوچ رہاتھا کہ میں اس سے پتہ پوچھوں ہسپتال کانام پوچھوں اور کود وزٹ کرکے ان کے ساتھ تعاون کروں لیکن اس نوجوان کی ایک ہی رٹ تھی مجھے کچھ دو ۔ باقی چھوٹے بڑے تو ہماری خاموشی کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے اوریہ وضو خانے تک ساتھ گیا۔میں اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر اسے کچھ دینا چاہتاتھالیکن یہ ایک لمحے کیلئے بھی مجھے اکیلا نہ ہونے دے رہاتھا ۔ باتھ روم میں داخل ہوکرکنڈی لگائی اور جیب سے کچھ رقم ان سب کیلئے الگ کرلی کہ اگر اس کے سامنے جیب کھولی تو یہ مجھ سے سارے پیسے چھین لے گا۔ باہر نکلا تو وہ ابھی تک تاڑ لگاکر کھڑاتھا۔سامنے آفتاب بھی نظر آئے میں انہیں اشارے سے پاس بلایااورانہیں وہ رقم دی کہ آفتاب بھائی ان لوگوں میں یہ رقم تقسیم کردیں۔ انہوں نے جس طریقے سے اس ٹولی سے جان چھڑائی انہی کا جگرا تھا وہ بہت ناراض ہو رہے تھے۔ میں نے کہا آفتاب بھائی ان کی طرف نہ دیکھو اپنی طرف دیکھو اللہ کے احسانات کا احساس کرو۔ ان نوجوانوں کی مجبوری ہے۔ یہودیوں نے انہیں ارض وطن میں اجنبی بنا کر رکھا ہے ۔ ان کیلئے کوئی کاروبار نہیں ہے۔ کوئی ملازمتیں نہیں ہیں۔ یہ کہاں سے کھائیں ؟اسی مجبوری ومعذوری میں ان بچوں نے آنکھ کھولی اوراسی میں پرورش پائی ہے وہ بولے حافظ صاحب پہلے پہل توواقعی مجبوری ہوگی لیکن اب تو ان کی عادت بن گئی ہے ۔میں نے کہا اس کا بڑاسبب اہل فلسطین کااپنے وطن میں مجبورکردیاجانا ہے اور بس اسے زیادہ ہم سوچ نہیں سکتے۔

اس سے بھی زیادہ تشویشناک صورتحال کا سامنا ہمیں ’’حبرون الخلیل‘‘ میں کرنا پرا جہاں خوبصورت فلسطینی نوجوانوں نے ہماری وین کوپیٹنا شروع کردیا ڈرائیور نے بڑی پھرتی کے ساتھ ان کے نرغے سے گاڑی نکالی ۔اسی طرح ایک بارہ سالہ بچہ حبرون میں ہمارے پیچھے پڑارہااسرائیلی فوجیوں کوکوستا رہا ذرا بھی ڈر نہیں تھا اس کے دیدوں میں۔ مجھے تو کئی بار خطرہ لاحق ہوگیاکہ کہیں اشتعال میں آکر یہ فوجی اس کو برسٹ ہی نہ مار دیں۔ لیکن ان بچوں کے دیدوں میں موت کا ذرا بھی خوف نظرنہ آیا۔ مقام یونس پر اب خوبصورت مسجد بنی ہوئی ہے۔ ہم نے وہاں دو رکعت پڑھیں۔ وضو بنا کر ہم مسجد میں چلے گئے وہاں موجود خطیب نے ہمارے قافلے کو دیکھ کرمقام یونس کا پس منظرسمجھانا شروع کردیاکہ حضرت یونس مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد اس علاقے میں پوراسال قیام پذیر رہے ( یافہ کے مقام پر جو یہاں سے چالیس کلو میٹر دورہے۔ البحر الابیض المتوسط (یا میڈیٹیرین سی) میں مچھلی کے پیٹ میں سے نکلے تھے۔وہاں سے نکل کر وہ یہاں تشریف لائے اور اس مقام پر پورا سال قیام پذیر رہے۔ اسی لیے اس شہر کو حل حلول کہا جاتاہے۔ ان کی جائے قیام یاان کی بیٹھک کانشان بناہوا ہے ۔ اور اس پر لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِـمِیْنَ، بڑی خوبصورت گرافک کی گئی ہے ۔

میں نے شیخ عصام کو بطور تحفہ کچھ دینے کاارادہ کیاتو انہوں نے میراہاتھ پکڑکرکہاآپ ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں ؟ عرض کیا۔بالکل۔ کہاآپ واپس برطانیہ جاکر سارے مسلم بھائیوں کو ہمارا سلام کہیں اورہماراپیغام بھی دیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں یہاں آئیں اور فلسطینیوں کی مشکلات کو خود دیکھیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ باہر سے آکرقبلہ اول کی زیارت کرسکتے ہیں، ہم جو یہاں کے پیدائشی ہیں ہم وہاں نہیں جاسکتے ۔میں نے1991سے اب تک قدس الشریف نہیں دیکھا ۔مجھے کیاکسی کوبھی جانے نہیں دیا جاتا۔انہوں نے اپنے گھرچلنے کی دعوت بھی دی ۔میں دل و جان سے حاضر تھالیکن پورا قافلہ ساتھ اور ٹائم بہت محدود، اس لیے بادل نخواستہ اجازت لی ۔اور معانقہ کیا، افسردہ دل وہ بھی تھے اور میں بھی ۔ پتہ نہیں اب دوبارہ زندگی میں اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات ہوتی ہے یا نہیں۔ مسجد سے نکلتے ہوئے ایک ڈونیشن بکس نظرآیامیں نے چپکے سے پچاس شیکل اس میں ڈال دیے۔

(جاری ہے۔)

تبصرہ کریں