سفر مسجد اقصی اور ارض فلسطین کی روح افزا روئیداد۔حافظ عبد الاعلیٰ درانی

مسجد اقصیٰ حاضری کے لیے تگ و دو

مسجد عمر فاروق کی اچھی طرح زیارت اور کچھ وقت وہاں گزار کر بڑا سکون محسوس ہوا۔ اس کے بعد ہمارا اگلا پروگرام مسجد اقصی میں نمازادا کرنا تھا جو پچھلے دو دن سے مکمل طور پر اسرائیلی فورسز نے زائرین کے لیے بند کی ہوئی تھی اور مغرب کے بعد یہاں ایک فلسطینی بھائی ’’ابو محمد‘‘ کے ہاں دعوت پہ جانا ہے۔ چنانچہ دھیرے دھیرے مسجد اقصی میں داخلے کی کوشش کی لیکن اسرائیلی فوجیوں نے ہر جگہ سنگینیں تان رکھی تھیں۔

اولڈ سٹی میں چلتے چلتے ایک بازار میں مسجد عثمان بن عفان نظر آئی۔ لیکن کوئی زیادہ تفصیل پوچھنے کا وقت نہ تھا مسجد اقصیٰ کو جانے والے تمام راستوں پر ناکے لگے ہوئے تھے۔

زائرین کواسرائیلی فورسز دور ہی سے چلتا کردیتی تھی۔ چلتے چلتے ہم باب السلسلہ تک پہنچے جہاں سے کچھ لوگوں کو اجازت دی جا رہی تھی۔ لیکن جب ہم پہنچے تو سب کے لیے مسلسل انکار ہورہاتھا۔ مسجد اقصیٰ بند ہونے کی وجہ سے وہاں اذان ہو رہی تھی نہ باجماعت نماز۔ اس ضمن میں کئی قسم کی باتیں پھیلی ہوئی تھیں کہ ہر نماز کے وقت مسجدکے اندر سے اذان کی آواز سنائی دیتی تھی۔ کسی بندہ بشر کو مسجد میں جانے کی اجازت نہ تھی تو یہ اذان کون دیتا تھا؟

اس سوال کے جواب میں آپ کو معلوم ہے کتنے جوابات سنائی دیے۔ خوش اعتقادی کے سوا جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ انسان بہت ہی خوش اعتقاد بن جاتاہے۔

میں نے ایک فلسطینی عالم دین اولڈ سٹی میں واقع الہاشمی ہوٹل کے مالک سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے مسکراکرکہا میں کسی نہ کسی طرح مسجد پہنچ جایا کرتاتھا اور باہر چبوترے پر کھڑا ہوکر اذان کہا کرتاتھا۔ شاید لوگوں نے میری آواز کو کسی باہر والی چیز کی آواز سمجھ لیاہو میں اکیلا اذان کہتااوراکیلا ہی جماعت کرالیا کرتاتھا۔ یہ بڑے بہادر اور نڈر شخص ہیں۔ جب ہر طرف سے سیکیورٹی کا پہرہ ہو اور ایک آدمی کسی نہ کسی طریقے سے مسجد میں داخل ہوکر چبوترے پر کھڑے ہوکر اذان کہے تو کسی طرف سے گولی آسکتی ہے لیکن یہ مسلمان کے لیے اعزازکی بات ہے کہ دوران اذان اس کی شہادت ہوجائے۔

خیر ہم نے بھی باب السلسلہ کے باہر دھرنا دے دیا۔ بہت بڑی گیدرنگ ہوگئی۔ اسرائیلی فورسز نے جب اتنا بڑا ہجوم دیکھا تو صرف بیرونی زائرین کواندرجانے کی اجازت دینی شروع کردی۔ ہمارا پاسپورٹ دیکھ کر گارڈ بولا کیا تم اصلاً انڈین ہو؟

میں نے کہا نہیں پاکستانی۔ تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ۔۔۔پاکستانی۔۔۔ یہاں تو کسی پاکستانی کاآنا ناممکن ہے۔ چند باتوں کاتبادلہ ہوا اور ہمارے گروپ کو ایک ایک کرکے داخل ہونے کی اجازت مل گئی۔ مسجد کے گیٹ پر ڈیٹیکٹر نصب کردیاجاچکا تھا۔

پچھلے 2 دن سے مسجد کو تمام زائرین کے لیے بند کرکے اسرائیلی فورسزنے یہی کام کیاتھا۔ اس وقت اسرائیلی فورسز لا تعلق سے نظر آئیں۔ ہم نے غنیمت جانتے ہوئے اس کو جلدی جلدی عبور کرنے کاپروگرام بنا رکھا تھا میں نے ساتھیوں کو فٹا فٹ اس روکاوٹ کو عبور کرنے کا ٹاسک دیا تھا لیکن کچھ لوگوں تک ہمارایہ پلان نہیں پہنچا تھا۔

اتنے میں عصرکی جماعت کھڑی ہوگئی۔ ہمارے شریک سفر گلزار صاحب مسجد اقصی کے بڑے دروازے ( باب السلسلہ) کے باہر ہی نماز عصرکی جماعت میں شامل ہوگئے اب اگر انہیں باہر چھوڑ جاتے تو خطرہ تھا کہ شاید اسرائلی فورسز انہیں اندر داخل نہ ہونے دیں۔یوں ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو سکتا تھا۔

اب ان ساتھیوں کے لیے مجھے انتظار کرنا پڑا۔ اگرمیں بھی نماز میں شامل ہوجاؤں تو پورا قافلہ تتربتر ہوجاتا لیکن ادھر جماعت ہورہی ہو اورآدمی یونہی منہ اٹھائے کھڑا رہے اچھا نہیں لگتا اس لیے میں نے جو ساتھی نماز میں شامل نہ تھے انہیں باب السلسلہ عبور کرنے کا کہا اور خود دوسری صف میں جماعت میں شامل ہو گیا۔ آخری رکعت میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی گئی۔ پھر مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے تو اللہ کا شکر ادا کیا۔ مسجد کی فضا بڑی سوگوار تھی۔ مسجد خالی خالی تھی۔ دیکھا تو مسجد کے اندر نمازعصر ہورہی تھی۔ نمازعصر کی آخری رکعت میں جا شامل ہوئے۔ یہاں بھی امام صاحب نے قنوت نازلہ پڑھی۔

امام مسجد علی العباسی ایک طرف کھڑے تھے ان سے ملاقات ہوئی انہوں نے بڑی حیرت سے دیکھا کہ آپ یہاں کیسے پہنچ آئے ؟ ہر طرف خطرات منڈلا رہے ہیں آپ کو یہاں آنے کا رسک نہیں لینا چاہیے تھا۔ ہم نے کہا یہاں کی خاطر ہی تو ہم آئے ہیں۔ مختصرسی روئیداد سنائی تو وہ کہنے لگے۔ کہ جمعہ سے آج تک ہم خود بھی مسجد میں داخل نہیں ہوسکے۔

آج ظہر میں پہلی دفعہ اذان بلند ہوسکی ہے۔ فضا کو دہشت زدہ بنا دیا گیاتھا لیکن اہل ایمان کو کوئی پرابلم نہ ہے اور نہ ہوگا باذن اللہ۔ نمازعصر کے بعد تک باہر سے تکبیریں بلند ہورہی تھیں کیونکہ اسرائیلی فوجی کسی کو نماز کے وقت بھی اندر نہیں آنے دے رہے تھے، خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں پھر تصادم نہ ہوجائے اور ہم کہیں اندر ہی محصورنہ ہوجائیں۔ نماز مغرب میں ابھی کافی ٹائم باقی تھا۔

مغرب کے بعد ابو محمد کے ہاں کھانا تھا توکل علی اللہ پروگرام بنا لیا کہ مغرب و عشاء یہیں مسجد اقصی ہی میں ادا کرکے باہر جائیں گے۔ ہم اللہ کے گھر میں رہیں گے بزدلی کیوں دکھائیں۔ اللہ کے پاک گھر ہی میں ہیں۔ اگر کچھ ہوتا ہے تو رہے نصیب۔ میں نے سب رفقاء کو اس فیصلے سے آگاہ کردیا کہ مغرب تک بیت المقدس میں ہی رہیں گے۔ پھر پتہ نہیں اس ارض مقدس میں آنا نصیب ہوتا ہے یا نہیں۔ سب تلاوت میں مشغول ہوگئے ، یوں چند گھنٹے مسلسل بیت المقدس میں مزید گزارنے کی سعادت نصیب ہوگئی۔ وضو بنانے کے لیے صرف باب حطہ والا ٹوائلٹ کھلا ہے جو کافی دور ہے اور مسجد قبۃ الصخراء کو پھلانگ کر جانا پڑتا ہے۔ تو کل علی اللہ میں اور بیرسٹر آفتاب وضو بنانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے اسرائیلی فوجیوں نے ہمیں دور سے دیکھ کر واپس جانے کا اشارہ کیا ۔ انہیں شاید بے حد خوف تھا کہ

یہ 2 آدمی اتنی دیدہ دلیری سے آگے بڑھتے چلے آرہے ہیں کہیں ہم پر حملہ آور ہی نہ ہوجائیں۔ ہم نے ٹوائلٹ کی طرف اشارہ کردیا تو وہ چپ ہوگئے۔ ہم نے بجھے دل کے ساتھ وضو بنایا۔

واپسی پر قبۃ الصخراء کے میدان میں واقع محراب اور غار کے کتبے پڑھے پھر مسجد میں آگئے۔ اقصی میں سورج غروب ہونے کا نظارہ کیااورنماز مغرب پہلی صف میں ادا کرکے امام یوسف سے ملے وہ ہم سب کو دیکھ کر حیران رہ گئے اورکہا کہ

آپ کو ایسی جرات کرنے سے پرہیز ہی کرنا چاہیے تھا۔ اللہ آپ کی حفاظت فرمائے۔ بعد میں ہم نے عشاء کی جماعت بھی کرالی۔

بات چیت کے دوران پوچھا گیا کہ یہ جو بار بار اعلان ہورہے ہیں کہ کل مسجد کھول دی جائے گی ہرگز ایسا ہونے والا نہیں ہے۔ ان بزدلوں کو سرپھرے مسلمان نوجوانوں سے سخت خطرہ ہے۔

ابو محمد فلسطینی کے ہاں دعوت طعام

نمازکے بعد ہم قریبی گیٹ سے باہر نکل گئے۔ ہمارا رخ دیوار گریہ کے متصل سٹریٹ کی طرف تھا جہاں ابو محمد کی دوکان تھی۔ جونہی ہم باب السلسلہ سے باہر نکلے تو ابو محمد ہمارے انتظار میں کھڑے تھے۔ عربی روایات کے مطابق انہوں اھلا و سھلا و مرحبا سے ہم سب کا استقبال کیااور وہ اپنی دوکان میں لے گئے۔ دوکان میں ان کی اہلیہ بھی ہماری منتظر تھیں انہوں نے بھی خوش آمدید کہا۔ ان کی اہلیہ بہت سادہ مزاج کی خاتون ہیں اور دوکان کے پچھلے حصے میں کرسیوں پر براجمان ہوگئے۔ دونوں میاں بیوی نے یہاں کے احوال سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا۔

ابو محمد پیدائشی طورپریہاں کا باسی ہے۔ ابومحمد کا والد یہاں ستر سال کی عمر تک مسجد اقصی کے پڑوس میں یہ چھوٹی سی دوکان چلاتارہا۔ لیکن ابومحمد کی قسمت نے یاوری کی اور یہ دوکان ایک بہت بڑی دوکان بن گئی۔ والد کے انتقال کے بعد ابو محمد نے اسے سنبھال لیا۔ ایک دن دیوار کے ساتھ کچھ کام کرتے ہوئے ایک کونے میں کچھ چیزٹھونکنے کے لیے ہتھوڑا مارا تو ریت کا ایک بڑا تودا ان پرآن گرا۔ ریت اور ملبے کو صاف کیا انہیں اندر سرنگ محسوس ہوئی۔ میاں بیوی بڑے حیران ہوئے انہوں نے وہ ساری ریت صاف کی تو اندر سے سرنگ مزید چوڑی ہوتی گئی۔ جو پھر نیچے کی طرف جارہی تھی۔ اور بڑی آسانی کے ساتھ باقی سرنگ صاف نکل آئی جیسے عموماً پہاڑوں میں ہوتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ

یوں لگتا ہے جیسے کسی زمانے میں یہاں سے مسجداقصیٰ کی جانب کوئی سرنگ تھی جہاں سے کوئی خاص مہمان نماز ادا کرنے کے لیے جایا کرتے تھے۔ چونکہ مسجد اقصی کی تاریخ بہت قدیم ہے، کتنے زمانے بیت گئے لاکھوں کہانیاں اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔

ابومحمد نے بتایا کہ ہم نے اس راز کو چھپائے رکھنے کی بہت کوشش کی۔ لیکن جب روزانہ ریت پلاسٹک کے بیگوں میں بھرکرباہر پھینکی جانے لگی تو اسرائیلی فورسز کو شک گزار انہوں نے آکر چیک کیا تو ابو محمد کو دھمکانے لگے لیکن کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ پھر اس کی قیمت لگانے لگے اس نے بتایا کہ

اسرائیلیوں نے کئی ملین ڈالر کی قیمت لگائی ہے بلکہ اب تو وہ اس کی منہ مانگی قیمت دینے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن ہمارا ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ یہ ہماری نہیں امت اسلام کی پراپرٹی ہے اسے ہم یہودیوں کے ہاتھ نہیں بیچ سکتے۔

یہ بڑی دلچسپ سٹوری ہے جسے سن کر ایمان تازہ ہو جاتاہے۔ کیونکہ اسرائیلی یہاں ملکیت حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کی قیمت دینے پر تیار ہوجاتے ہیں لیکن غیرت مند مسلمان نہیں مانتے۔

جیسا کہ حکایات مقدسیہ میں الحاج موسی الخاص کے بارے میں بتایا گیاہے کہ ایک یہودی وزیر نے دو لاکھ ڈالر میں چھوٹی سی دوکان بیچنے کی آفرکی تھی جس کا انہوں نے انکار کردیا اوپر آپ نے مریم بی بی کے جذبات بھی سنے کہ

ان کے چھوٹے سے حجرے کی منہ مانگی قیمت دینے کے لیے اسرائیلی تیار ہیں لیکن وہ ارض مسجد اقصیٰ کسی قیمت پر بھی یہودیوں کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ابومحمد اور ان کی اہلیہ نے عربوں کے طریقے کے مطابق بڑے بڑے طباقوں میں کھانا پروس دیا۔ ان کی اہلیہ نے معذرت کی کہ شہر کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے ہم شہر سے باہر نہیں نکل سکے اس وجہ سے سامان خوردو نوش کم پڑگیاہے۔

کھانے کے آخر میں انہوں نے چھوٹے چھوٹے گلاسوں میں کافی پیش کی جو بہت کسیلی بلکہ کڑوی تھی بعض دوستوں نے کافی کی طرح کا منہ بنالیا۔ ہم نے کچھ ہدایا تحائف اور نقد ی پیش کی ۔

ابو محمد بھی دوسرے فلسطینیوں کی طرح آئے دن کے ہنگاموں سے کافی پریشان رہتاہے۔ لیکن عادی ہوچکا ہے اس کا کہنا ہے کہ میرا باقی سارا کنبہ یہاں سے پچاس ساٹھ میل دور غزہ میں مقیم ہے۔ انہیں وہاں جانا زیادہ مشکل نہیں کیونکہ ان کے پاس یروشلم میں ریذیڈنسی کا پرمٹ ہے۔ لیکن ان لوگوںکا یروشلم میں داخلہ ممنوع ہے۔ جیسا کہ حل حلول کے شیخ عصام کی بابت میں نے بتایا تھا کہ انہیں القدس الشریف کی زیارت کیے ہوئے 19سال بیت چکے ہیں۔

یروشلم اور غزہ والوں کا حال بھی کشمیری خاندانوں جیسا ہے ہر خاندان میں یتیموں، بیواؤں اورمسکینوں کی بہتات ہے۔

اس دوران میں ابو محمد کے دو دوست جن کا تعلق ترکی سے تھا وہ بھی آن پہنچے۔ انہیں صرف ترکی زبان آتی تھی عربی یا انگریزی بہت ٹوٹی پھوٹی اوراپنا حال وہی کہ

زبان یار من ترکی ومن ترکی نمے داند

البتہ وہ لوگ عربی سمجھتے تھے بولنے میں ذرامشکل تھی۔ کھانے کے بعد کافی کا دور چلا۔ فارغ ہوکر انہوں نے کچھ یادگار تصاویر یا گروپ فوٹو بنائے۔ ہم سب نے ابومحمد اور ان کی اہلیہ کی ان حالات میں مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مسنون دعا پڑھی۔ یہ تو ان کی دوکان ہے لیکن ان کا گھر ذرا فاصلے پر ہے سب خواتین کو ان کی اہلیہ نے اپنے گھر لیجانے کا پروگرام بنا ڈالا کہ وہاں اور بھی فیملی ممبروں سے ملاقات ہوگی۔ ہم سب اپنے میزبانوں ، فلسطینی بھائیوں اور مسجد اقصی کے پڑوسیوں سے ملنے کی خاطر روانہ ہوئے لیکن عزرائیلی فورسز نے ’’طریق الآلام‘‘ پر ناکہ لگا رکھا تھا ۔ اور انہوں نے اس قافلے کو آگے بڑھنے سے منع کردیا بہتیرا سمجھایا گیا کہ ہم زائرین ہیں اور یہ ہمارے میزبان ہیں لیکن وہ نہیں مانے۔

مجبوراً ہمیں یہ پروگرام کینسل اور ہوٹل واپسی کاراستہ اختیار کرنا پڑا۔ اور جلدی جلدی القدس کی تنگ گلیوں سے بڑی تیزی کے ساتھ چلنے لگے کیونکہ ماحول میں سخت کشیدگی تھی۔ ہرجگہ عزرائیلی فوجیوں نے بیرئیر لگا رکھے تھے۔ طریق الآلام سے دمشقی گیٹ تک روکاوٹیں ہی روکاوٹیں تھیں۔ ہم تو مہمان تھے ایک دو دن بعدہم نے اپنے وطن جانا تھا لیکن یہاں کے باسیوں کی یہ بیچارگی اور مظلومیت ، ہر وقت خوف کے سائے منڈلاتے دیکھ کرخاص طور پر ہم آزاد ملک (پاکستان اور برطانیہ ) کے باسیوں کو بہت دکھ پہنچا اور نعمت آزادی کی قدر دو چند ہوگئی۔

دمشقی گیٹ سے بیرونی دیوار تک کافی چڑھائی تھی باقی سب راستے بند کیے ہوئے تھے اس لیے یہاں رش بھی زیادہ تھا۔ جگہ جگہ اسرائیلی فوجی کھڑے تھے ہر آنے جانے والے کو گھورتی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ ہم چلتے جاتے اور اسرائیلی فورسز فوراًبیرئیر ہٹا دیتی تھیں۔ واپس جانے والوں سے انہیں کیا تردد ہوسکتا تھا۔میری اہلیہ اچانک پاؤں پھسلنے کی وجہ سے ایک فوجی لڑکی کے اوپر جاگری۔

حیرت یہ ہوئی کہ اس لڑکی نے سوری بولا اور پوچھا کوئی چوٹ تو نہیں آئی لیکن لہجے سے لگا کہ یہ لڑکی عربی نہیں ہے ،پاکستانی ہے کیونکہ اس کی شکل بھی پاکستانیوں کی طرح کی تھی اور لہجہ بھی۔ بعد میں ایک دوست نے بتایا کہ کچھ قادیانیوں نے یہاں کی فوج میں شمولیت کی ہوئی ہے مجھے آج اسرائیلی فوج کی لڑکی کے لب و لہجے سے یہ بات سچی ثابت ہوتی معلوم ہوئی۔ رات نیم تاریک تھی۔

اس لیے زیادہ دیر تک وہاں ٹھہرا نہیں جاسکتاتھا۔ بہرحال ہم اس طرح اپنے مستقر پر پہنچے وہاں پہنچتے ہی ہاشمی ہوٹل والے شیخ امجد کا پیغام ملا کہ صبح کا ناشتہ آپ نے ہمارے ہوٹل میں کرناہے۔

بروز سوموار، 17جولائی 2017؍23شوال 1438ھ۔ الہاشمی ہوٹل میں ناشتہ

آٹھ بجے ہم ہاشمی ہوٹل پہنچ گئے۔ ہوٹل کی چھت پرسے پورے یروشلم کانظارہ کیا۔ وڈیو بنائی۔ الشیخ امجد نے استقبال کیا۔ بڑے خوش ہوئے۔ انہیں بھی ہماری طرح شیخ الالبانی ﷫ سے ایک واسطہ سے شرف تلمذ ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں