سفر مسجد اقصی اور ا رض فلسطین کی روح افزا روئیداد۔ حافظ عبد الاعلیٰ درانی

اریحا کاایک خدمت گزار خاندان

’’یک خانوادہ فلسطینی از اھالی اریحا بہ عنوان خادمان حرم در ایں مکان خدمت مے کند و عہدہ دار پذیرائی از زوارند ‘‘ تقریبا تین سو سال پرانی بات ہے۔ مقام موسیٰ کے خادموں میں سے ایک خادم ’’ حسن احمد خلیل‘‘ ہوا کرتے تھے۔ الراعی کے نام سے انہوں نے شہرت پائی۔وفات کے بعد ان کی قبر بھی معروف ہوگئی۔ ’’ویعرف قبرہ باسم مقام الراعی۔ مقام موسی ٰ سے ایک کلو میٹر دور ان کی قبر بتائی جاتی ہے۔پاکستان میں بھی الراعی نام کے افراد موجود ہیں جو غالباً ارائیں فیملی سے ہیں ۔چونکہ اریحا کے لوگ حجاج بن یوسف کے ایما پر محمد بن قاسم کی قیادت میں جہاد ہند کیلئے گئے تھے اور یہ قبیلہ بھی انہی کی اولاد سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس طرح کڑیوں سے کڑیاں ملائیں تو یہ عربی النسل لوگ لگتے ہیں ۔ مقام موسیٰ کے ایک احاطے میں قبے بھی بنے ہوئے ہیں۔ ایک جگہ زائرین کے رہائشی کمرے ہیں۔ درمیان میں جامع مسجد ہے۔ جس کاایک بڑا منارہ ہے۔

وہاں ایک محراب ہے جس سے قبلہ رخ کا تعین ہوتا ہے۔ وہیں آئمہ مسجد کے رہائشی کواٹر بھی ہیں۔ مشرقی جانب مردوں کے لیے اور مغربی جانب عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔ مسجد میں داخل ہوں تو دائیں جانب ایک چھوٹا ساکمرہ ہے جس کے وسط میں ایک قبر کی شکل بنائی گئی ہے جس پر سبز غلاف چڑھا ہواہے اور کہاجاتاہے کہ یہ مقام دفن موسیٰ ہے۔ جو بہرحال صحیح نہیں ہے ۔

یہاں آنے والے زائرین کا تذکرہ

وزارۃ الاوقاف والشئون الدینیۃ موسسۃ احیاء التراث والبحوث الاسلامیہ بیت المقدس کی جناب سے شائع کردہ تعارفی کتابچے میں ذکر ہے کہ نویں صدی ہجری کے مشہور مصنف علامہ حافظ جلال الدین سیوطی (880ھ/1475)نے اتحاف الاخصاء بفضائل المسجد الاقصیٰ میں اس کاذکر کیاہے۔ کہ لوگ اس جگہ کی زیارت کے لیے آ تے ہیں ، یہاں راتیں گزارتے ہیں ، کافی پیسہ خرچ کرتے ہیں اوریہاں مزدوری کرنے والوں کا روزگار لگا ہوا ہے۔ جیساکہ عام قاعدہ ہے۔

“والناس یتحملون المشقة الذھاب إلیه مقام النبی موسی علیه السلام ویبیتون عندہ و مشقة الایاب ویبذلون الأموال فی عمل الماکل والمشارب واجرة الدواب یفعل ذالك الرجال والنساء من أهل بیت المقدس وغیرهم من والواردین علیه بقصد الزیارة لایخلون بذالك حتی الآن.”

اسی دور کے ایک اورمصنف نجم الدین نے (الدرالنظیم فی اخبار سیدنا موسی الکلیم ) میں مقام موسیٰ کی بابت یہی لکھا :

“وصار ذالك الموضع، موضع القبة التی انشاؤھا الظاہر بیبرس و عرفت بمقام النبی موسی علیه السلام علما یقصدہ الزوار والناس.”

اوراسی طرح ایک اور معروف وقائع نگار مجیرالدین الحنبلی نے’’الانس الجلیل بتاریخ القدس والخلیل‘‘ میں مقام موسیٰ میں ہونے والے اجتماعات کاذکر کیا ہے۔ کہ عصر مملوکی میں حجام کرام حج کے لیے جاتے وقت اور واپس آتے وقت فلسطین میں اسلامی مقدسات کاوزٹ کرنے کے لیے یہاں قیام کرتے تھے۔ کیونکہ بیت المقدس شہرکی گلیاں بہت تنگ ہیں اور عثمانیوں کے دور میں یہ جگہ حدود فلسطین سے باہر شمار ہوتی تھی ،اوریہاں مختلف مواسم کے اجتماعات ہوتے تھے۔

“فقد کان الحجاج المتوجھون إلی مكة والعائدون منھا فی أواخر العصر المملو کی یزورون القدس والخلیل والنبی موسیٰ وغیرھا من المقدسات الإسلامیة فی فلسطین وھٰذا یعنی ان المقام بدأ یکتسب طابعا اسلامیا عاما خارج حدود فلسطین فی ذالك الوقت.”

جرمنی سیاح’’ اولریش زیٹسن‘‘ بھی یہاں آیااس نے لکھا کہ مجھے کہاگیاکہ ’’جوتے اتارو‘‘ قبرموسیٰ سبزغلاف میں لپٹی ہوئی تھی۔ جوایک حجرے کی کھڑکی سے نظر آرہی تھی اور لوگ وہاں کپڑوں کی ٹاکیاں ٹانکتے تھے۔ جیساکہ قبروں پر حاجات مانگنے والے اس قسم کے کام کرتے ہیں۔

جب ہم مقام موسیٰ پہنچے

جب اس تاریخی مقام’’ مقام موسیٰ ‘‘کے سامنے ہماری گاڑی رکی تومقامی دوکاندار نے ہمیں خوش آمدید کہا اوروہاں کے کنویں کاپانی پیش کیا۔ جس کا ذائقہ پہاڑی چشموں کے پانی کا تھا۔ قریب ہی ایک شخص اونٹ لیے کھڑاتھا کہ اس پر سواری کریں۔ یہ بھی مقامی روایات میں سے ہے۔ ہمارے ایک دوساتھیوں نے اس طرح اس سفر کو انجوائے کیا۔ وضو کے لیے ہم طہارت خانے گئے وہاں تعمیری کاموں کی وجہ سے وضو بنانا آسان نہیں تھا جیسے تیسے ہوا ہم نے وضو بنایااورمسجدمیں جاکرتحیۃ المسجد کے طور پردورکعت اداکیں۔ مسجد کے دائیں جانب ایک بہت بڑاچبوترا غلاف میں لپٹا ہواتھا۔ جسے مقام موسیٰ کا نام دیا گیاہے ، یہ اڑھائی میٹر اونچاہے۔ جس کے اوپر قرآنی آیت کا ٹکڑا:

﴿وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا﴾

مقام موسی کی مناسبت سے لکھا ہواتھا۔ ہم نے اس کے دونوں طرف جاکر غلاف اور مقام موسیٰ کی تصاویر بنائیں۔ قبلہ جانب ایک طاق بنا ہوا ہے ، جس میں ایک کافی ضخیم قرآن کریم پڑاہواتھا، قدیمی فن کتابت کا شاہکار نمونہ ،میرے موبائل کی بیٹری کم ہونے کی وجہ سے اہلیہ کے موبائل سے اس کا عکس اتاراگیا۔ لیکن وہ صاف پڑھا نہیں جارہا۔ آج (29/3/2018) کو اسے کئی بار پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ غالباً لکھا ہے: ’’ مصحف التہجد‘‘۔

اس سے زیادہ کچھ سمجھ نہیں آرہی۔ اتنے میں مسجد کا ایک خادم ہمارے ساتھ ہولیا۔ بتانے لگا یہاں سیدنا موسیٰ کا قیام ہواتھا۔ اسی لیے لوگ یہاں کچھ دن حجروں میں رہتے اور روحانی سکون حاصل کیاکرتے تھے۔

مزید یہ کہ اس جگہ کو سلطان ایوبی کے دور میں وقف کیا گیاتھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ اگر آپ مینار پر چڑھیں توبہت دور تک کا نظارہ کرسکیں گے۔ یہاں سے نہر اردن کا مشرقی کنارہ بھی نظر آتاہے۔ اور جبل نیبو بھی دیکھ سکتے ہیں ، جس کا کتاب مقدس کے مطابق سیدنا موسیٰ سے تعلق تھا۔

صحن میں 10 کمرے اور اصطبل ، پرانے تندور اور کنویں ہیں۔ اس کے گرد قبرستان ہے جہاں دفن ہونے کے لیے کئی لوگ وصیت کرجایاکرتے تھے کہ نبی موسیٰ کا تقرب حاصل ہو گا۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ ان سالانہ اجتماعات اور میلوں ٹھیلوں کی حیثیت بھی تبدیل ہوگئی۔ اس لیے اب یہ مقام موسیٰ پر بہت کم لوگ آتے ہیں اسی لیے کہا گیاکہ اب مقام موسیٰ کو زائرین کی قلت کا سامنا رہتاہے۔

” مقام النبی موسی یشکو قلة الزائرین.”

مسجد کے چاروں کونوں کی زیارت کے بعد ہم دروازے کے باہر پانی کے قدیمی حوض کو دیکھنے میں محو تھے کہ ایک دھماکے کی آواز نے سبھی کو چونکا دیا۔ جب حواس بحال ہوئے تو دیکھا ایک خوبصورت بلی کہیں سے جمپ لگاکر ہمیں خوش آمدید کہنے آن واروہوئی تھی۔ سبھی اس کی اچانک تشریف آوری کے کھڑاک سے بیدارہوگئے۔ ہمارے پاس کوئی ایسی چیزنہ تھی جو اس کی ضیافت کے لیے پیش کی جاتی۔ اس کے باوجود اس بیچاری نے دروازے تک ہمارا ساتھ دیا۔ وہاں چند دوکانیں تھیں، الگ الگ۔ میں نے اہلیہ سے کہاان سے کچھ خریداری کرلو۔ پتہ نہیں یہ غریب کیسے گزاراکرتے ہوں گے۔ ایک دوکان سے کچھ گھریلو قسم کی شاپنگ کی۔ اور اس خیال سے کہ دوسری دوکان سے بھی کچھ خریداری کرلیں تاکہ اس دوکاندار کو بھی کوئی فائدہ ہوسکے۔ جب چند چیزوں کاانتخاب ہوچکا تو دوکاندار کا انتظارکیاجانے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہی صاحب تشریف لائے جو باہر ٹی ہاؤس چلا رہے تھے۔ پوچھا یہ بھی آپ ہی کی ہے؟ جواب اثبات میں تھا۔

اب تیسری شاپ سے خریداری کی بجائے پوچھاگیاکہ وہ بھی آپ ہی کی ملکیت ہے؟ جواب اثبات میں پاکر وہیں سے تعاون کاارادہ پورا کرلیا۔ باہر نکلے تو انہی کے ٹی ہاؤس سے چائے تیارکرنے کی فرمائش کی۔ چائے بہت مزے دارتھی۔ ہم نے مزید پانی طلب کیا۔ جو ایک سادہ سے کٹورے میں دیاگیا۔

کچھ مزید باتیں ان سے پوچھیں۔ بہرحال ہم نے تھوڑے سے وقت میں یہاں کافی کچھ دیکھ لیا تھا۔

برصغیر کے بزرگوں کے مزارات اور قبروں کی تجارت

میں سوچ رہاتھا کہ ہندو پاک میں بھی بزرگوں کی طرف منسوب فرضی حجرے ، جھوٹے افسانے اورآستانے ،بابے ٹل شاہ ، چڑی مار، دولے شاہ کے بڑے بڑے مزار اورمزاروں پہ سجدے ، منتیں اور دہائیاں ، جن کی رونق کبھی مانند نہیں پڑتی ، مجاروں کا بزنس ہر آن بڑھتارہتاہے۔ ہماری قوم کی جہالت وضلالت آخری درجے پہ چڑھی ہوئی ہے ، بقول علامہ اقبال

ہو نکونام تم قبروں کی تجارت کرکے

کیانہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے

جبکہ یہ علاقہ بنی اسرائیل کے جلیل القدر نبی سیدنا موسیٰ کی طرف منسوب ہے، اور اس کی رونق وقت کے ساتھ ساتھ بتدریج مانند پڑچکی ہے۔ یہاں نہ کوئی روایتی مزار ہے ، نہ چادر یں چڑھتی ہیں ،نہ منتیں مانگی جاتی ہیں اورنہ اللہ و رسولﷺ کی شریعت کے ساتھ استہزاء اور کٹ حجتیاں کرنے اور شرک خالص پرمبنی قوالیاں ہوتی ہیں۔ بس سادہ سی عمارت اور درمیان میں مسجد ہے۔ کیونکہ حدیث میں صاف بتایاگیاکہ قبر موسیٰ کاعلم کسی کونہیں ہے ،اس لیے فرضی مزارموسیٰ کاافسانہ اپنی کشش کھوچکا ہے۔ اس زمین کوقرآن کریم نے ارض مقدسہ قرار دیاہے اور ﴿بَارَكْنَا حَوْلَهُ﴾ فرمایاہے۔ اس کے ایک ایک چپے پر ہزاروں انبیاء کرام﷩ کے نقوش قدم موجود ہیں ، ان فضاؤں نے انبیاء جیسی جلیل القدر ہستیوں کی قدم بوسی کی ہے ، ان کی نبوت سے یہ فضائیں عرصہ دراز تک منور رہی ہیں ، بے شمار آسمانی صحیفے یہاں نازل ہوئے ہیں ، سیدنا جبرئیل وحی الٰہی لے کر اترا کرتے تھے ، برکات و سعادات سے پُر علاقہ ، جہاں ان گنت نفوس قدسیہ محو استراحت ہیں۔ یہاں کی زمین کو حق ہے کہ وہ باقی زمین پر فخر کرے ، یہاں سادگی مگرپرکاری بدرجہ اتم موجود ہے۔ بت پرستی اور قبرپرستی کی قباحتوں اور نحوستوں سے بالکل پاک۔ ہمیں تو یہ محسوس کرکے ہی بڑی مسرت ہو رہی تھی کہ پچھلے سات آٹھ سو سال سے بنی ہوئی ایک زیارت گاہ جہاں جرنیل اسلام سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان بیبرس، علامہ جلال الدین سیوطی،علامہ نجم الدین ، علامہ مجیر الدین حنبلی اور نہ جانے کتنے جلیل القدر لوگ آتے رہے۔ ہمیں انہی فضاؤں میں سانس لینے کی سعادت نصیب ہوئی جہاں بے شمار خداپرست مجاہدین نے تگ و تاز کی ہے۔ مقام موسی ٰ سے باہر نکلیں تودائیں جانب ایک طرف وسیع وعریض قبرستان دکھائی پڑتا ہے۔ جس کے مدفونین کے بارے مختلف روایات ہمیں بتائی گئیں، کچھ قدیمی دور کے مدفونین جن میں بعض انبیاء بھی ہوں گے ، یہاں سے گزرنے والے ان گنت اتقیاء بھی ہوں گے۔ شب زندہ دار صالحین بھی ہوں گے۔ نہ جانے زمانے نے کتنے رنگ بدلے اور فضائیں کتنی بار مہکی ہوں گی ، انسان کو انسانوں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے کتنے مجاہدین کی یہاں آخری آرام گاہیں بنی ہوں گی۔

خادم کی وضاحت سے صرف اتنی سمجھ آئی کہ یہاں آزادی فلسطین کے مجاہدین بھی آرام فرما ہیں۔ چونکہ یہ مقام موسیٰ کسی زمانے میں سیدنا موسیٰ کی قبر کے طور پر مشہور ہوگیاتھااس لیے کئی لوگ قرب موسیٰ کے خیال سے اس قبرستان میں دفن ہونے کی وصیت بھی کرجایاکرتے تھے۔ وقت بالکل نہیں تھا ورنہ ہم اس قبرستان میں بھی جاتے اور وہاں حاضر ہوکر مدفونین کے لیے دعائے مغفرت کرتے۔

’’اللھم اغفرلھم وارحمھم واعفھم واعف عنھم وأکرم نزلھم ووسع مدخلھم ونقھم من الخطایا کما ینقص الثوب الأبیض من الدنس. اللھم اغفر للمسلمین والمسلمات والمؤمنین والمؤمنات وأدخلھم الجنة الفردوس. توفنا مسلمین والحقنا بالصالحین آمین یا رب العالمین.”

بحر میت کی طرف روانگی

مقام موسیٰ دیکھنے سے فارغ ہوکر ہم بحر میت Dead See، بحیرہ مردار یا بحرلوط اور مسکن قوم لوط ، مسکن اہل سدوم وغیرہ( یہ سب نام اس علاقے کے ہیں جہاں سیدنا لوط مبعوث کیے گئے اور قوم عذاب الٰہی کا شکار ہوئی تھی) دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے۔ وہاں جانے سے پہلے اس علاقے کابھی تھوڑا سا تعارف ہوجائے۔ اس قوم کی طرف بھیجے جانے والے نبی کا نام نامی سیدنا لوط ہے۔ جو سیدنا ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ ان کے والد کا نام عمران تھا۔ سیدنا لوط کی پیدائش2200سال قبل مسیح ہوئی۔ آپ کی نشو ونما سیدنا ابراہیم کے زیر سایہ ہوئی۔

سیدنا ابراہیم کاآبائی وطن ’’ارUR‘‘ تھا۔ جہاں آپ نے 100 سال کے قریب قوم کو حق کا وعظ سنایا، توحید الہی کی طرف دعوت دی۔ قوم نے ساری زندگی مزاحمت جاری رکھی۔ آخرکار ان کو جلانے کاارادہ کیا۔ حق تعالیٰ نے ان پر نار کو گلزار بنادیا۔ قوم پھربھی نہیں مانی۔ تب آپ کویہ علاقہ چھوڑ نے کا حکم ہوا۔ اس وقت آپ کے ہمراہ آپ کی اہلیہ سیدہ سارہ تھی اور ایمان لانے والے بھتیجے سیدنا لوط تھے۔

اتفاق سے ان کی بیوی کا نام بھی سارہ ہی تھا۔ لیکن دونوں کے درمیان فرق صاف تھا کہ

سیدنا ابراہیم کی زوجہ مسلمہ تھیں۔ اور بعد میں آنے والے سارے انبیاء سیدہ سارہ ہی کی اولاد تھے۔ گویاوہ ایمان کے باعث ام الانبیاء بن گئیں۔ جبکہ سیدنا لوط کی بیوی کفارکی ہمنوا رہی اور آخرکارانہی کیساتھ عذاب الٰہی کانشانہ بن گئی۔ کتنا فرق ہے ایمان اور کفر میں !!!

یہ دونوں گھرانے پہلے جبل بیت المقدس آئے۔ پھرچرواہے بادشاہوں کے دور میں مصر پہنچے۔ وہاں بھی حالات ناسازگارپائے تویروشلم واپسی کی راہ لی۔ سیدنا ابراہیم تو بیئرسبع (حاران جسے الخلیل کہاجاتاہے جس کا تذکرہ ہم پیچھے کرچکے ہیں) فلسطین میں مقیم ہوگئے مگر سیدنا لوط کو وہاں سے بیس تیس میل دور ’’سدوم ‘‘(اردن ) کا علاقہ اچھا لگا توآپ وہیں مقیم ہوگئے۔ سدوم۔۔۔جو عمورہ ۔۔ موآب ۔۔۔ مدائن صالح اوردمشق کے درمیان بڑا آباد علاقہ تھا۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں بگڑی ہوئی قوم کی ہدایت کے لیے نبی متعین فرما دیا۔ یہاں کے رہنے والے لوگ نہایت ہی برے کردار والے تھے۔ خوشحالی نے ان کے دماغ خراب کررکھے تھے۔ راستوں میں لوگوں کو لوٹنے کے لیے گھات لگاکر بیٹھنا، اغلام بازی (Homosexuality) اور اس طرح کی نافرمانیاں اس قوم کا وطیرہ بن چکا تھا۔ اغلام بازی کے اس برے فعل کانام ہی سدومیت پڑگیا۔ مہمانوں کو لوٹنے سے ذرا بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ اورلٹے پٹے لوگوں کی بے بسی کاتماشادیکھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔

قوم لوط کی عادت بد کا سبب

اغلام بازی کی عادت کیسے رواج پائی ؟ بعض مفسرین نے کہا کہ یہ علاقہ بڑا سرسبزوشاداب تھا۔ خوشحالی کے باعث اردگرد کے لوگ بکثرت یہاں آتے تھے۔ شیطان لعین نے بوڑھے کھوسٹ آدمی کی شکل میں آکر انہیں مہمانوں کے ساتھ اس طرح لذت حاصل کرنے ، مال جمع کرنے اورڈاکہ ڈالنے کاراستہ بتایا اور بدفعلی کایہ گندہ کام سب سے پہلے اسی قوم نے شروع کیا۔ اس سے پہلے کی انسانی تاریخ اس خبیث کام سے مکمل ناآشنا چلی آرہی تھی ،جیساکہ حق تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ﴾

رفتہ رفتہ یہ قوم اس فعل بدکی عادی بن گئی۔ سیدنا لوط نے اپنی قوم کونیکی کا راہ اختیار کرنے کی اور اغلام بازی، ڈاکہ زنی اور سنگدلی کے ساتھ مسافروں کے ساتھ پیش آنے سے منع کیااور برسوں تک تبلیغ میں لگے رہے۔ لیکن حسب عادت قوم نے ان کا مذاق اڑایا۔ انہیں ’’بڑے پاکباز بنے پھرتے ہیں‘‘ کا طعنہ دیا۔ ‘‘ کہو ان سے کہ اتنے پاکباز لوگوں کا ہمارے ساتھ نبھا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے یہاں سے نکل جاؤ اور اپنے جیسے لوگوں میں جاکررہو۔‘‘

﴿ أَخْرِجُوا آلَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ ﴾

زیادہ المناک بات یہ تھی کہ

سیدنا لوط کی بیوی کافرہ رہی۔ لیکن ان کی بچیوں نے اسلام قبول کرلیا اور بستی کے چند لوگوں نے بھی آپ کاساتھ دیا لیکن اکثریت دشمن ہی رہی اور بالآخر حق تعالیٰ نے انہیں تباہ کرنے کاارادہ فرمایا اورعذاب کی تنبیہ دینے کے لیے سیدنا لوط نبی کے گھر میں نوجوانوں کی شکل میں فرشتے آئے جنہیں دیکھ کرقوم کے بدبخت لوگ خوشیاں منانے لگے اور بیت سیدنا لوط کا گھیراؤ کرلیا۔ اور لگے آوازے کسنے کہ

’’ اے لوط ! نکالو ان خوبصورت نوجوانوں کو۔‘‘

جس پر سیدنا لوط بہت غمزدہ ہوگئے کہ میری حمایت کے لیے میرا تو یہاں خاندان بھی نہیں ہے۔ ماسوا ذات پروردگار کے کوئی سہارا بھی نہیں ہے اور یہ خطرہ بھی لاحق تھا کہ میرے مہمانوں کے ساتھ میری قوم کے لوگ برا سلوک کریں گے ،جو بدنامی کا باعث بنے گااور غیراخلاقی حرکت ہوگی۔ تب فرشتے ظاہر ہوئے اور اپنی اصلیت واضح کی کہ

اے لوط آپ بالکل بے فکر رہیں ، ہم انسان نہیں ہیں فرشتے ہیں اور ان کو تباہ کرنے کی خبر لے کر آئے ہیں۔ ہم ان حیوانوں کی پہنچ سے بالکل باہر ہیں۔ آپ اپنے ساتھیوں کو لے کر رات کو نکل جائیں اورکوئی مڑ کر ان کی طرف نہیں دیکھے گا۔

سیدنا لوط بہت گھبرائے لیکن یہ فیصلہ اٹل تھا۔ چنانچہ رات کو حسب حکم الٰہی سیدنا لوط اہل ایمان کو ساتھ لے کر چل پڑے۔ راستے میں جب یہ قافلہ اہل حق’’ ضغرکے پہاڑوں ‘‘پرچڑھ رہا تھا۔ قوم لوط کی بداعمالی کی سزا شروع ہوگئی ، پہلے طوفان وبادو باراں اورپھرپوری بستی جڑسے اکھاڑکربلندی پر لیجائی گئی اور بلندی سے پلٹاکراسے نیچے پھینک دیاگیا۔ اوپر سے پتھربرسائے گئے۔ قوم پرجب عذاب آرہاتھا تو کسی مومن نے مڑکر نہیں دیکھا سوائے آپ کی بیوی نے تو وہ بھی وہیں پتھر بنا دی گئی۔

اس کامجسمہ ابھی تک موجودہے جو ایک حیرت زدہ عورت کا مجسمہ لگتاہے۔ سیدنا لوط کی قوم کایہ حشربد قرآن کریم کی متعدد سورتوں میں بیان ہوا ہے۔

سورہ ہود آیات 77تا83میں بھی اس کا اجمالی ذکر ہوا۔

’’جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے بہت غمگین ہو گئے اور دل ہی دل میں کڑھنے لگے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مصیبت کا دن ہے0 اور اس کی قوم دوڑتی ہوئی اس کے پاس آپہنچی، وہ تو پہلے ہی سے بدکاریوں میں مبتلا تھی، سیدنا لوط نے کہا:

اے قوم (تمہارے گھروں میں تمہاری بیویاں) میری بیٹیوں ( جیسی ) موجود ہیں (تم ان سے خواہش پوری کرو)۔ یہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں، اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں0 وہ بولے تو جانتا ہے کہ ہمیں تیری ان بیٹیوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور تویہ بھی جانتا کہ ہم کیا چاہتے ہیں0 سیدنا لوط نے کہا:

کاش مجھ میں تم سے مقابلہ کی قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا0 اب فرشتوں نے کہا:

اے لوط( )! ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، ناممکن ہے کہ یہ تجھ تک پہنچ جائیں۔ پس تو اپنے گھر والوں کو لے کر کچھ رات رہے نکل کھڑا ہو تم میں سے کسی کو مڑ کر نہ دیکھنا چاہیے، بجز تیری بیوی کے، اس لیے کہ اسے بھی وہی پہنچنے والا ہے جو ان سب کو پہنچے گا‘ یقیناً ان کے وعدے کا وقت صبح کا ہے، کیا صبح قریب نہیں0 پھر جب ہمارا حکم آگیا، ہم نے اس بستی کو الٹ پلٹ کر دیا اوپر کا حصہ نیچے کر دیا اور ان پر تابڑ توڑ کنکریلے پتھر برسائے 0 تمہارے رب کی طرف سے نشان زدہ تھے اور وہ ان ظالموں سے کچھ دور نہیں ہیں0 پہاڑ پر بہت بلندی پر ایک پتھر کا مجسمہ بنا ہواہے کسی عورت کا ۔ کہاجاتاہے کہ یہ سیدنا لوط کی کافرہ بیوی کاوہ بت ہے جو بحکم الٰہی وہاں بنادیاگیاتھاتاکہ عبرت رہے ۔‘‘ واللہ اعلم

سیدنا لوط نے اپنی زندگی کابقایاحصہ ضغر نامی بستی یا غار میں گزارا۔ وہیں آپ فوت ہوئے اوروہیں دفن ہوئے۔ ان کی قبرمبارک کی نشاندھی کی جاتی ہے۔ آپ کی قبرمبارک پر آپ کی تاریخ وفات29جمادی الثانی لکھی ہوئی ہے۔ واللہ اعلم

٭٭٭

تبصرہ کریں