سفر مسجد اقصی اور ارض فلسطین کی روح افزا روئیداد۔ حافظ عبد الاعلیٰ درانی (قسط نمبر۔1)

ایک دو کے سوا تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی جائے ولادت۔۔۔ یروشلم ( سرزمین اسلام)۔۔۔

اس میں واقع دنیا کی دوسری قدیم ترین مسجد ۔۔۔

تمام انبیاء اور امت اسلام کاقبلہ اول۔۔۔

مسجد الاقصی۔۔۔ بیت المقدس۔۔۔کی زیارت اور وہاں نماز کی ادائیگی خوش قسمتی کی دلیل سمجھی جاتی ہے اسی طرح اس کی زیارت۔۔۔ایک قدیمی اور فطری خواہش تھی۔ مدینہ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران کئی فلسطینی طالب علموں سے دوستی تھی ۔  ان کی زبانی وہاں کی داستانیں سنی جاتی تھیں لیکن فلسطین جانے کاکبھی سوچا نہ تھا۔برسوں پہلے بھی فلسطین جانے کاپروگرام ترتیب دیاگیاتھا لیکن بوجوہ ممکن نہ ہوسکا۔ برٹش پاسپورٹ کے حصول کے بعد اس کاامکان پیداہوگیاتھا لیکن کوئی شناسا نہیں مل رہاتھا جس کی ہمراہی میں سفر کیا جاسکے ۔  حرمین شریفین،کئی عرب اور یورپی ممالک کے علاوہ امریکہ جانے کااتفاق توبنا لیکن بیت المقدس جانے کی خواہش محض ایک آرزو ہی رہی۔ 2017ءمیں اللہ کریم نے یہ موقعہ بھی پیدا فرما دیا۔  19اپریل کوپاکستان جانے کیلئے پابرکاب تھاکہ برمنگھم سے برادر عمریاسین صاحب کامیسج ملاکہ آپ ہمارے ساتھ فلسطین کے سفر پہ چلنے کیلئے تیار ہیں ؟  میں نے استخارہ کیلئے وقت مانگااورتین دن بعد ہاں کردی، اپنا اور اہلیہ کا پاسپورٹ وٹس ایپ کر دیا۔

 19مئی کو پاکستان سے واپس آیاتوعمربھائی نے خوشخبری سنائی کہ مانک ائیرلائن(Monarch Airline) پر مانچسٹر سے تل ابیب کیلئے11جولائی کی بکنگ ہوچکی ہے۔ہمارے قافلے میں مزید بارہ افراد بھی شامل تھے ۔

منگل11جولائی کی صبح ہم  مانچسٹرائیرپورٹ پہنچے۔ عمر بھائی کے والد ڈاکٹریاسین اپنے قافلے کے ہمراہ انتظار میں تھے۔ کاؤنٹر پہ جانے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ دس دس کلودستی سامان ہی تھا۔ چونکہ یہ اکانومک فلائٹوں کے اندر کچھ بھی سرو نہیں کیا جاتا، تاہم  کھاناآپ جہاز میں لے جا سکتے  ہیں لیکن پانی کی بوتلیں ائیرپورٹ کے اندر سے ہی خریدنی پڑتی ہیں، ہم نے بھی کافی مقدار میں کھاناساتھ لے لیا تھااور پانی کی دو بڑی بڑی بوتلیں ائیرپورٹ سے خریدلی تھیں۔ جہاز میں کافی اور چائے کی کئی قسمیں میسرہوتی ہیں۔ ایک ایک کپ پونے تین پونڈ کا ملتا ہے لیکن وہ بھی سستا لگتا ہے۔ جہاز میں جب سوار ہوئے تو مسلمان صرف ہمارا ہی قافلہ تھا۔ باقی سب یہودی تھے اور خاصے مذہبی۔ ان میں عورتیں ، مرد اور بچے جو اپنے مخصوص حلیے، چھوٹی چھوٹی ٹوپیاں جو کامن پنیں لگاکر قابوکی ہوئی تھیں اور  لمبی لمبی لٹوں کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے، اپنے چچازاد ( کیونکہ ہم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد ہیں اوریہ حضرت اسحق علیہ السلام کی) کو اتنی کثیر تعداد میں ایک ساتھ دیکھنے کاپہلا چانس تھا اور ان لوگوں کے کھردرے  رویے، تنے چہرے ، ہمہ وقت گھومتی اور گھورتی آنکھیں ان کے یہودی ہونے کی نشاندھی کررہی تھیں۔آنکھیں سرزمین مقدس کی زیارت کی امید اور اس کی پہلی جھلک دیکھنے کیلئے بے تاب تھیں۔ہلکا پھلکا کھاتے پیتے ساڑھے چار گھنٹے کی فلائیٹ کے بعد ہم’’تل ابیب کے بن گوریان ائیرپورٹ‘‘ کے   رن وے پر اترتے جہاز سے بحر روم کے نیلگوں پانیوں کی آڑ میں مغربی طرزِ تعمیر کے سانچوں میں ڈھلے ہوئے شہر کی عمارتیں ، شاہراہیں اور ان پر شام کی بڑھتی ہوئی ٹریفک کاسماں دیکھتے رہے۔ یہ علاقہ ’’لد‘‘کا ہے، (جہاں دجال حضرت عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہوگا)  اسے جافا بھی کہا جاتا ہے یہ وہی سمندرکاکنارا ہے جہاں صاحب الحوت( مچھلی والے نبی حضرت یونس علیہ السلام) کو مچھلی نے باذنِ الہٰی پہنچادیاتھا وہ  شجریقطین کے نرم پتوں کے تکیے پر لٹادیے گئے تھے۔ طیارہ لینڈ کرنے سے پہلے ہیWI-Fi کے ذریعے فون آن ہوگیا۔ہم نے برطانیہ اور پاکستان میں اپنے عزیزوں کو فلسطین پہنچنے کی خوشخبری سنا دی ۔

بن گوریان کافی بڑا ہوائی اڈا ہے، لیکن بے نُورسا۔ امیگریشن کاؤنٹر زپر بڑا رش تھا ۔ ایک طرف ذرا اژدھام کم تھا۔اس جانب ہم بھی قطارمیں لگ گئے۔ ہمیں پہلے ہی سے بتادیاگیاتھاکہ اسرائیل ائیرپورٹ پر ممکن ہے، انٹری کلیرنس حاصل کرنے میں تاخیرکا سامنا کرنا پڑے ۔اس لیے دیگر ائیرپورٹس کی نسبت یہاں کسی کوجلدی نہیں ہوتی۔ میری باری آئی تو میں نے اپنااور ام فریال کاپاسپورٹ شیلوم ( السلام علیکم کابگڑا ہوالفظ کہتے ہوئے کاؤنٹر پر رکھ دیے۔ نوجوان لڑکی نے بڑے سپاٹ چہرے کے ساتھ پاسپورٹ لے کر میری طرف دیکھا میں نے خوش مزاجی سے کہ دیاکہ اس سرزمین پر آتے ہوئے زندگی کی بڑی خوشی مل گئی ہے، اس نے بے جان سے لہجے میں’’ یو ویلکم‘‘ کہتے ہوئے معروف دو سوال کیے کہ پہلی دفعہ آنا ہوا؟  کب تک ٹھہرنا ہے یہاں کوئی ملنے والا تو نہیں ہوگا۔ مجھے جواب دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑی اور مجھے پاسپورٹ  اور اس کے ساتھ انٹری کلیرنس کارڈ تھما دیاگیا، لیکن ام فریال کاپاسپورٹ یہ کہتے ہوئے رکھ لیاکہ چند سوالات کرنے ہیں۔ میں نے کہاکرلو،بولی نہیں یہاں ایک سسٹم ہے تم اگر چاہو تو چلے جاؤاگر اہلیہ کے ہمراہ انتظار کرنا چاہو تو تمہاری مرضی۔ میں نے کہا، میرے ساتھ اہلیہ ہی نہیں چند اور بھی ساتھی ہیں۔ بولی ان کے ساتھ انتظار کرلو۔اسی طرح میرے گروپ کے چند اور ساتھیوں کوبھی روک لیاگیا۔ہم انتظارگاہ میں چلے آئے ۔وہاں بے شمار لوگ انٹری کلیئرنس کے انتظارمیں نظر آئے۔ کچھ خواتین مصر سے تھیں انہیں پچھلے تین گھنٹے سے انتظار میں بٹھایا ہوا تھا۔ ایک نوجوان لیبیا کا تھا، نمازِ عصر کا وقت ہوا تو اس نوجوان نے ایک کونے میں نمازکی نیت باندھ لی، جونہی اس نے نماز پڑھنی شروع کی تو اسرائیلی آفیسرز اس کے اردگرد منڈلانا شروع ہوگئے۔میں نے بھی  وہیں نماز پڑھ لی۔ نماز کے بعدہم نے کھانے پینے کاسامان نکالا اور وہیں دسترخوان جما لیا۔دو گھنٹے کے بعد اہلیہ کو دفتر میں بلا کر کہا گیا کہ والد اور دادا کے نام لکھ دو جو لکھ دیے گئے،  لیکن ابھی بھی پاسپورٹ نہ دیا کہا باہر انتطار کرو۔ مزید دو گھنٹے انتظار کے بعد ہمارے دیگر شرکاءِ سفر سمیت جانے کی اجازت مل گئی۔

جب ہم نے ’’انٹری پاس‘‘ پر ٹائم دیکھا تووہ وہی تھا جو میرے کارڈ پر لکھا تھا یعنی5.16منٹ یعنی میرا اور اہلیہ کوویزہ اسی وقت دیا گیاتھا لیکن انہیں یونہی بٹھا دیاگیا۔جبکہ ہمارے رہنمائے سفر ڈاکٹر یاسین صاحب کاانتظار تو بہت طویل ہوگیا۔ ساراقافلہ کلیئر ہو چکا تھا۔ڈاکٹر صاحب نے کہاآپ جائیں پہلے ہی تین چارگھنٹے ائیرپورٹ پر گزر چکے ہیں۔باہر بس آئی ہوئی ہے،آپ سب کو لے جانے کیلئے۔ میں نے بہتیراکہاکہ ہم مزیدگھنٹہ انتظار کرلیتے ہیں۔ ہمارے لیے ائیرپورٹ پرانتظارکرناکوئی نئی بات نہیں ہے ،لیکن ڈاکٹر صاحب نہیں مانے اور ہم ائیرپورٹ لاؤنج میں آگئے، وہاں چائے یا کافی کی طلب ہوئی ،  لیکن کوئی شاپ نظرنہ آئی ۔ ایک جگہ کارڈ ڈال کرکافی کا چھوٹا ساکپ مل سکا۔ جو غنیمت جانا۔ وہیں ایک جرمن خاتون بھی امیگریشن سے فارغ ہوکرآئی تھی روہانسی ہورہی تھی بتانے لگی کہ میرے خاوندکاسرنیم ’’محمد‘‘ہے اوراس وجہ سے مجھے بہت تنگ کیا گیا۔حالانکہ میں عیسائی ہوں۔ ہمیں باہرچلنے کاکہا گیاجہاں چار گھنٹے سے ایک  بس ہمارا انتظار کررہی تھی۔جہاں ہماری میزبان خاتون نے ہمیں خوش آمدید کہا۔گھنٹے بھر کی ڈرائیوکے بعدہم یروشلم پہنچ گئے۔ رات میں باہر کا نظارہ صرف لائٹیں ہی تھیں، ان کے سوا کچھ نظرنہ آیا، حالانکہ ہمیں بڑا اشتیاق تھا۔ محلہ المسعودی میں واقع وکٹوریہ ہوٹل اترے۔ اس محلے کو دیکھ کر  مدینہ منورہ کے قدیمی شہرکی یادیں تازہ ہوگئیں۔ وہ بھی اسی طرح کا سادہ سا ہوا کرتا تھا ۔ہلکی پھلکی ریفریشمنٹ کے بعدہمیں اپنے اپنے کمرے دکھادیے گئے۔ہم نے وضو بنا کرمغرب وعشاء پڑھ کرآرام کیا حالانکہ مسجد اقصی دیکھنے کا اشتیاق آرام کرنے کی نسبت بہت زیادہ تھا لیکن وہاں صبح ہی جانا ہو گا، پروگرام کے مطابق ہمیں صبح نمازتہجد کے کیلئے مسجد اقصی جانے کیلئے صبح تین بجے ہوٹل کی لابی میں پہنچ جانا تھا۔کچھ دیر بعد ڈاکٹر یاسین صاحب بھی ٹیکسی کے ذریعے ہوٹل پہنچ چکے تھے ۔صبح تین بجے سبھی لوگ لابی میں پہنچ چکے تھے ، اللہ کانام لے کر ہم باہرنکلے ، مسجد اقصی کی طرف جانے والا دروازہ ہمارے ہوٹل سے صرف پانچ منٹ کے فاصلے پرتھا۔ہم سمجھتے رہے کہ یہی مسجد اقصی کا گیٹ ہے لیکن پتہ چلا کہ یہ اولڈ سٹی  یروشلم کاہیروڈیس گیٹ ہے جہاں سے قریبی دروازہ بھی آدھ میل نشیب میں واقع ہے۔ کم ازکم تین چار سو میٹر نشیب میں واقع مسجداقصی کا اس وقت کھلا ہوادروازہ باب حطہ ہے ( غالباًیہ قرآنی لفظ  ﴿وَقُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْلَکُمْ﴾ سے ماخوذ ہے )

قدیمی شہر یروشلم کا تعارف

مسجداقصیٰ  پرانے شہر (Old Sity)یروشلم کے اندر واقع ہے ۔ہمارا ہوٹل(Victoria Hotel)  محلہ المسعودی میں، جہاں سے اولڈسٹی یروشلم کا نزدیکی گیٹ پانچ منٹ کی واک پرہے ۔اس قدیمی شہر کو بلند فصیل کے ساتھ کور کیا گیا ہے اور یہ زیادہ سے زیادہ ایک کلومیٹرکے رقبے میں واقع ہے۔ مسجدِ اقصیٰ حاضری سے پہلے ہم دنیا کے اس قدیم اور مقدس شہرکا کچھ تعارف کروائے دیتے ہیں۔ مسجد اقصی کی تاریخ کا تعلق فلسطین کی تاریخ سے ہے اور فلسطین کی تاریخ کا  سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے جبکہ آپ  کے دوسرے بیٹے سیدنا یعقوب علیہ السلام نے  عبادت کیلئے مسجدِ اقصی تعمیر کی تھی جیسے چالیس سال پہلے ان کے بڑے بیٹے سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے سرزمین حجاز میں بیت اللہ تعمیر کیا تھا۔ جبکہ شہر یروشلم کی تاریخ کا استناد حضرت داؤد علیہ السلام سے شروع ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کے درمیان محتاط روایات کے مطابق2600سال کاوقفہ(Gap) ہے اور سیدنا  ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا داؤد علیہ السلام کے درمیان تقریبا ساڑھے نو سو سال کاوقفہ ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان 2000سال کا وقفہ ہے ۔

اور شہریروشلم (جس میں مسجداقصی واقع ہے )کی مستند تاریخ ایک مذہبی کتاب عہدنامہ قدیم Old testamentمیں ولادت عیسوی سے گیارہ سو سال پہلے کی ملتی ہے، گویایہاں دو تواریخ سانس لے رہی ہیں ۔مسجد اقصی کی بابت تو ہم آگے بیان کریں گے۔ لیکن آج کی نشست میں شہر یروشلم کا تعارف کراتے ہیں جو عموماً سفرناموں میں موجود نہیں ہوتا۔اسے ہم نے کافی کتابوں اور مضامین سے چھانٹ کر اپنے حساب سے مرتب کیا اور کوشش کی گئی ہے کہ اس مواد کوصحیح طریقے سے فٹ کیا جائے۔ چونکہ یہ تاریخ ہے اس لیے کمی بیشی کاامکان ہے۔صحیح تاریخ اور واقعات تو اللہ ہی کے علم میں ہیں ۔

عہد نامہ قدیم Old testament کے مطابق حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں یہاں یبوسی قوم آباد تھی، یہ مضبوط دیواروں کے ساتھ قلعہ بند شہر تھا۔معرکہ طالوت و جالوت جس کا تذکرہ قرآن کریم سورہ البقرہ کی آیات 249 تا251میں ہے۔ یہ شہر حضرت داؤد علیہ السلام ہاتھوں فتح ہوا۔وہی اس کے بادشاہ بنے۔ اسی لیے  اسے شہر داؤد CITY OF DAVID) کہا جاتاہے موجودہ شہر، جنوب مشرقی دیوار کی طرف باب مغاربہ سے باہر تھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام بادشاہ بنے، تو انہوں نے اس شہر کو وسعت دی ۔ شہرکی دوسری دفعہ حد بندی’’ نحمیا‘‘ کے دور 440قبل مسیح میں ہوئی اور تیسری حد بندی ولادت عیسوی سے40قبل یہودیہ کے بادشاہ ہیروڈیس اغریپا نے ایک نئی دیوار تعمیر کرکے کی تھی ۔

یروشلم کا معنی سرزمین اسلام ہے

یروشلم کا قدیمی نام1200ق م سے 1000تک  ایک قلعہ کی وجہ سے  ’’یبوسی‘‘ یا’’ ارھابیوسی‘‘ رہا۔ پھر حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھوں یہ فتح ہوا۔ تو انہوں نے اس کا نام ’’تسیون‘‘ یا’’صیہو‘‘ رکھا ۔ پھر اس کا نام ’’یرو شالم‘‘ یا ’’یرو شالیم‘‘رکھا گیا۔ جو اصل میں’’ اسلام‘‘ہے ۔ عبرانی میں سلام کو شلوم کہا جاتا ہے اس لحاظ سے اس کا معنی اساس الاسلام ہوا   یعنی جہاں ارض اسلام ۔ کیونکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام  کا دین اسلام ہی تھا ۔ جیسا کہ دنیا کی سب سے سچی کتابِ الٰہی کا بیان ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے 975 ق م میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر کی جسے ہیکل سلیمانی کہا جاتاہے ۔اسے بخت نصر نے 586ق م میں تباہ کردیا تھا ۔پھر515 ق م میں  ہیروڈیس میں بنایا تھا جسے بعد میں تباہ کردیا گیااس کی صرف ایک دیوار حائط البراق یا حائط المبکی باقی رہی ۔یاد رہے کہ مسلمان اسے دیوار براق اور بنی اسرائیل اسے دیوار گریہ کہتے ہیں۔1291ء میں ایوبی خاندان کے سلطان دمشق المعظم عیسی شرف الدین نے کسی وجہ سے شہر کی دیواروں کو مسمار کروادیا۔

1229ء میں یروشلم معاہدہ مصرکے تحت  فریڈرک دوم کے قبضے میں چلا گیا ۔جس نے 1239ء میں دیواریں دوبارہ تعمیر کروادیں ۔ مگر امیر کرک نے بعدمیں پھر ان دیواروں کو مسمار کرادیا۔1243ء میں یروشلم پر عیسائیوں کاپھر قبضہ ہوگیاجنہوں نے دیواروں کی پھر مرمت کرادی ۔1244ء میں تاتاریوں نے شہرپر قبضہ کیاتو دیواریں پھر توڑ ڈالیں ۔ تاآنکہ سلطنت عثمانیہ کے سلطان سلیمان اول جنہیں سلیمان القانونی بھی کہاجاتاہے یروشلم کی دیواریںپھر سے تعمیراکرادیں اوراب تک وہی دیواریں موجود ہیں۔ ان دیواروں کی لمبائی تقریباً تین میل اور اونچائی 16سے 49فٹ ہے۔ان دیواروں کی وجہ سے144ایکڑزمین مسجد اقصی کی ملکیت میں رہی ورنہ شاید یہ جگہ بھی محدود رہ جاتی ۔1980میں اردن نے یروشلم شہر کو عالمی ثقافتی ورثہ بنانے کی تجویز پیش کی۔ 1981میں ان دیواروں کو اس فہرست میں شامل کرلیاگیا۔یعنی اب ان دیواروں کو توڑنابین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے۔ (ان میں سے بیشتر معلومات آزاد معارف ویکی پیڈیا سے لیکر ترتیب دی گئی ہیں)

شہریروشلم کے دروازے

بارہویں صدی کی صلیبی جنگوں تک یروشلم کے چار دروازے تھے جو ہر ایک سمت میں تھے۔ موجودہ دیوار سلطنت عثمانیہ کے سلطان سلیمان القانونی نے تعمیر کروائی جس کے گیارہ دروازے ہیں جن میں سے سات کھلے ہیں اور چار بند کردیے گئے ہیں ۔تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ 1887ء تک ہر دروازہ فجر کے وقت کھولا جاتا تھا اور مغرب کے وقت بند کردیا جاتاتھا ۔

کھلے دروازے

1۔ شمالی جانب کا دروازہ باب جدید(Gate of Hammid)  جسے 1187میں تعمیرکیا گیا۔

2۔وسط شمال کا دروازہ باب دمشق، اسے باب العمود (Gate of the Pillar)بھی کہا جاتا ہے۔ 1537میں تعمیر کیا گیا۔

3۔ شمال مشرق کی طرف باب الساہرہ ( ہیروڈیس گیٹ، یا فلاور گیٹ اور(Sheep Gate)بھی کہا جاتاہے ۔ اس کی تعمیر کاسن نہیں مل سکا۔

4۔  شمال مشرق  وسط میں باب اسباط (Gate of the Tribes)اس کی تعمیر بھی 1539میں ہوئی۔ اسباط قبیلوں کو کہا جاتاہے۔ سورہ بقرہ اور آل عمران میں ویعقوب ولاسباط کا نام آتاہے یعنی مختلف قبیلے  تو یہ گیٹ شاید انہی کی طرف منسوب ہے ۔

5۔ جنوب مشرق میں باب مغاربہ (Gate of Silwa)جسکی تعمیر1538ء میں کی گئی تھی ۔

6۔ وسط جنوب میں باب صیہون یا باب داؤد (Gate of the Jewish) اس کی تعمیر 1540میں ہوئی تھی ۔

7۔ وسط مغرب میں باب الخلیل   (Gate of David’s Prayer)

بند دروازے

1۔ وسط مشرق میں باب رحمت(Gate of Mercy ۔ جو چھٹی صدی میں تعمیر کیاگیاتھا۔

2۔ قدس الشریف کی مغربی دیوار میں ایک محرابی دروازہ جسے ہیروڈیس کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ دروازہ  مصلی مروانی کی جانب سے زیر زمین علاقے کی طرف جاتاہے ، اسے مستقل طور پر بند کر دیاگیا ہے اور اسرائیلی اسی جانب سے مسجد اقصی کے نیچے سرنگ کھود رہے ہیں۔ مسجد قبلی کے پہلو میں مسجد عمر کے اندر سے کھڑکی کھول کر دیکھیں تو یہ دروازہ اور اسرائیلیوں کی کھدائی نظر آتی ہے ۔

3۔   دو محرابی دروازہ  یہ بھی قدس الشریف کی مغربی دیوار میں ہے  اور دور ہیروڈیس میں اسے تعمیر کیا گیا تھا ۔یہ بھی مستقل بند ہے ۔

4۔  ابواب خولد یا Trilpe Gate یہ بھی مغربی دیوار میں تھا، تین تکونوں یا حشرات الارض کی بہتات کی وجہ سے اس کا یہ نام رکھا گیا ۔یہ بھی ہیروڈیس کے دور میں بنایاگیاتھا ۔

مسجدِ اقصی میں داخل ہونے سے پہلے ہم آپ کو یروشلم کے محلوں کی سیر کراتے ہیں ۔

یروشلم کے محلے

 کے شمال مشرق میں واقع چار محلوں میں سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی والامحلہ ہے۔ یہ مشرق میں باب اسباط سے شمالی دیوار کے ساتھ بیت المقدس  اور مغربی جانب مغربی دیوار کے ساتھ باب دمشق تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی آبادی 2005ء میں  22,000نفوس پر مشتمل تھی قدیم شہر کے دیگر تین محلوں کی طرح 1929ء کے فسادات سے پہلے یہاں بھی مسلم یہودی اور عیسائیوں کی مخلوط آبادی تھی۔ اسی محلہ میں مسلمانوں کے متبرک مقامات ہیں اور کئی مساجد ہیں،  مثلاً  مسجد عثمان،مسجد اقصیٰ، قبہ معراج،  قبۃ الصخراء ،  مسجد عمر، مصلی مروانی وغیرہ ۔

2۔ مسیحی محلہ حارۃ النصاریٰ قدیم شہر کے شمال مغربی کونے میں واقع ہے یہ شمال میں مغربی دیوار کے ساتھ باب جدید سے باب الخلیل تک پھیلا ہوا ہے۔ اس محلے میں کلیسائے مقبرہ مقدس بھی موجود ہے جسے زیادہ تر مسیحی مقدس ترین مقام سمجھتے ہیں۔مسیحی محلے میں تقریباً چالیس مسیحی مقدس مقامات ہیں ۔ حالانکہ آرمینیائی بھی مسیحی ہیں لیکن ان کا محلہ عیسائی محلہ سے الگ ہے ۔ مسیحی محلہ زیادہ تر مذہبی سیاحتی  اور تعلیمی عمارتوں پر مشتمل ہے۔ جیسے سینٹ جیمس کتھیڈرل، کلیسائے مقبرہ مقدس، نجات دہندہ کا لوتھری گرجاگھر ، سینٹ توروس گرجا گھروغیرہ۔

3۔آرمینیائی محلہ حارۃ الارمن۔ قدیم شہر کے چار محلوں میں سب سے چھوٹا محلہ ہے ۔1948عرب اسرائیل جنگ کے بعد چاروں محلے اردن کے زیر انتظام آگئے ۔1967ء کی 6 روزہ جنگ کے نتیجے میں یروشلم اسرائیل کے زیر تسلط آ گیا۔ 1967ء کی جنگ کے دوران آرمینیائی خانقاہ کے اندر پائے جانے والے دو بم پھٹ نہ سکے،جنہیں ایک معجزہ تصور کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں 3000سے زیادہ آرمینیائی یروشلم میں مقیم ہیں۔ جن میں سے  500سے زائد آرمینیائی محلے میں رہتے ہیں ۔

4۔ یہودی محلہ Jewish Quarter(حارۃ الیہود)  شہر کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع ہے۔ یہ جنوب میں باب صیہون سے مغرب میں آرمینیائی محلہ تک اور مشرق میں مغربی دیوار اور کوہ ہیکل تک پھیلا ہواہے ۔ یہودی محلہ بھی تاریخی مقامات سے اٹا پڑا ہے ۔

 1967ءکی جنگ کے بعد یہ علاقہ اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا، اس کے چند ہی دنوں بعد اسرائیلی حکام نے مراکشی محلہ کے انہدام کا حکم دے دیا اور وہاں مقیم لوگوں کو زبردستی نکال باہر کیا تاکہ یہودیوں کو دیوار گریہ تک رسائی کی سہولت فراہم کی جاسکے۔کنیسہ خرابہ (برباد کنیسہ )  اسی محلے میں واقع ہے۔ 2010ء میں اسے از سر نو تعمیر کیا گیا۔ یہاں چار سفاردی کنیسہ جات بھی ہے ۔  یہ چار کنیساؤں  کا ایک مجموعہ  ہے جو مختلف ادوار میں تعمیر کئے گئے ۔

5۔  مراکشی محلہ، مراکون کوارٹر مغربی محلہ یا حارۃ المغاربہ۔ قدیم یروشلم جنوب مشرق میں مغربی دیوار جو اصل میں تو دیوار براق ہے لیکن یہودی اسے دیوار گریہ کہتے ہیں۔اس کے جنوب میں باب مغاربہ اور مغرب میں یہودی محلہ واقع تھا ۔ یہ مسلم محلہ کی توسیع تھی جسے صلاح الدین ایوبی کے بیٹے نے بارہویں صدی میں بنوایاتھا۔ 1967ء کی جنگ کے بعد یہودی قبضے میں آتے ہی اسرائیلی حکومت نے مراکشی محلہ کو منہدم کر دیا اور زبردستی  یہودکو یہاں لا بسایا ۔

صلیب مسیح سے منسوب گلی

 قدیم یروشلم میں دوحصوں میں منقسم ایک گلی ہے جسے راہ غم ، راہ درد (way of Sorrows) یا ’طریق الآلام‘ کہاجاتاہے۔۔۔ یعنی وہ راستہ جس پر عیسائی روایت کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام قید خانے سے اپنی صلیب خود اٹھا کر چلتے ہوئے مقام مصلوبیت پر آئے تھے ۔ اس راستے کی لمبائی تقریبا 2000فٹ یا  600میٹر ہے ۔  عیسائی روایت کے مطابق صلیب اٹھا کرجہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام چلتے ہوئے رکے یاگرے تھے۔ پندرہویں صدی کے اواخر سے ان مقامات کی تعداد چودہ ہے۔موجودہ راستے  ’’راہِ غم‘‘پر نو مقامات پر صلیب زدہ نشانات ہیں، جبکہ پانچ کلیسائے مقبرہ مقدس کے اندر ہیں۔ مقام مصلوبیت پر اب مقبرہ مقدس قائم ہے۔

(Jerosalam Murph O’Connor The Holy Land 2008 pages 37)

قرآن کریم ان روایات کی تردید کرتے ہوئے بتاتاہے کہ یہ سب کچھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہہ کسی شخص کے ساتھ ہوا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نہیں ہوا۔ انہیں تو حق تعالیٰ نے بحفاظت آسمانوں پر اٹھالیا تھا ۔

قدیم شہر کے گرد و نواح کی شاہراہیں

شہر قدیم میں چار سڑکیں چہار سمت کی ہیں، شارع یافا، شارع اریحا، شارع صلاح الدین، شارع سلطان سلیمان۔ یافا۔۔۔ باب یافا اور شارع یافا ۔۔  دونوں قدیم بندرگاہ ’’یافا‘‘ کے نام پر ہیں ۔

یافا ۔۔ وہ بندرگاہ ہے، جہاں حضرت یونس علیہ السلام  اپنے بحری سفرپر روانہ ہوئے تھےاور زائرین مقدس شہر کے لیے اسی بندرگاہ پراترتے تھے۔ اب ہم مسجداقصی چلتے ہیں۔

پہلا دن:  بروز بدھ 12 جولائی2017ء بمطابق  18 شوال1438ھ

مسجد اقصی کی زیارت کیلئے آنے والے تمام ساتھیوں کو صبح تہجد کے وقت مسجد اقصی پہنچنے کا پروگرام دیاگیاتھا۔ لیکن ان کو جمع ہوتے ہوتے کافی دیر لگ گئی،مسجد اقصی کی طرف جانے والا شہر یروشلم کا دروازہ ہمارے ہوٹل سے پیدل صرف پانچ منٹ کے فاصلے پرتھا (جسے ہم اب تک مسجد اقصٰی کا گیٹ سمجھتے رہے تھے) سمت کا صحیح تعین نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے رہنما مخالف سمت چلے گئے۔تھوڑے سے تردد کے بعد صحیح راستہ مل گیا، لیکن کچھ مزید تاخیر ہوگئی۔ یروشلم کے ہیروڈیس گیٹ پر اسرائیلی گارڈز مسلح گنوں کے ساتھ متعین تھے، ہمارے ساتھ کوئی تردد نہ کیا گیا اور ہم یروشلم میں داخل ہو گئے (ہیروڈیس گیٹ کا تعارف ہم پہلے کروا چکے ہیں)  ’’ہیروڈیس‘‘ کا نام ہم نے بچپن میں(مروجہ انجیل میں) ولادت عیسیٰ علیہ السلام  کے اور حضرت یحی  علیہ السلام کے سفاکانہ قتل کے ضمن میں پڑھا تھا  اور ہمارے دماغ میں یہ نام چپکا ہواتھا۔آج اس کودیکھ کرعجیب سا ناقابل بیان احساس پیدا ہوا۔

ہیروڈیس کون تھا؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام جس دور میں پیدا ہوئے۔ اس زمانے میں یروشلم پر رومیوں کا قبضہ تھا، جنہوں نے ایک مقامی فلسطینی شخص کووہاں اپنا نمائندہ بنا رکھا تھا یہ تھا ہیروڈیس، جو یہودی تھا لیکن بنی اسرائیل میں سے نہیں حضرت یعقوب علیہ السلام کے بھائی عیسو کی نسل سے تھا۔ بنی سرائیل ہمیشہ اس نسل والوں کے مخالف رہے، لیکن ہیروڈیس نے مسجد اقصی یا ہیکل سلیمانی کی تعمیر میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جس کے بنی اسرائیل بھی معترف رہے۔ دوسری طرف غالباً یہی وہ بادشاہ ہے ، جس کا ایک بیٹے ’’ہیرود اینٹی پاس‘‘ جو شمالی فلسطین کے علاقہ گلیل اورشرق اردن کا مالک بن گیا تھا   اور اسی نے ایک رقاصہ کی فرمائش پرحضرت یحیٰ علیہ السلام کا سرقلم کرکے اس کی نذر کیا تھا۔یا بقول امام طبری رحمہ اللہ کے جس نے اپنی کسی محرم عورت(بھانجی یا بھتیجی) سے شادی کرنا چاہی تھی۔ حضرت یحیٰ علیہ السلام (جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خالہ زاد تھے) نے اس امرکی مخالفت کی جس پر ان کے قتل کاحکم دے دیا گیا اور انہیں بیت المقدس میں ’’مقام صخرہ‘‘ پر۔۔۔ جہاں اب گنبد بنا ہواہے۔۔۔ وہاں پر ذبح کرکے ان کا سر کاٹ کر دمشق میں اس بدکارعورت کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔واللہ اعلم) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اِلی السماء کے بعد 70سال تک  ہیرو ڈیس کی قائم کردہ ہیکل کی بلڈنگ قائم رہی۔ تاآنکہ رومیوں نے فلسطین پر چڑھائی کردی  اور طیطوس نے سارا ہیکل تباہ کردیا۔ صرف ایک دیوار بچی ۔ یہودی اس ہیروڈیس کی بنائی ہوئی دیوار کے سامنے جا کر روتے اور یہودی دورکی یادیں تازہ کرتے ہیں۔  اسی دیوار کے ساتھ نبی ﷺ نے معراج کے موقع پربراق باندھا تھا۔جس کی وجہ سے اسے دیوار براق بھی کہاجاتاہے۔

ہم اسی ہیروڈیس گیٹ سے داخل ہوکر نشیب کی طرف اترناشروع ہوگئے ۔ قدیم چکنے پتھروں سے بنا ناہموار راستہ خاصا طویل تھا مگرسبھی اس ناہموار راستہ پر تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے۔کئی سو فٹ نشیب میں واقع مسجداقصی کادروازہ ’’باب حطہ‘‘ اس وقت کھلا ہوا تھا ۔اس دروازے کے باہر بھی اسرائیلی دستے بلٹ پروف جیکٹیں پہنے اورسنگینیں تانے کھڑے تھے ۔مسجد کے دروازے پر پہنچے  تو اذان تہجد بلند ہورہی تھی۔اذان کے ترنم سے ہم کچھ اتنے مسحور ہوگئے ، جیسے ہم مسجداقصی میں ہی نہیں کسی نئی دنیا میں داخل ہورہے ہیں۔دعائے دخول مسجدپڑھ کر اندر قدم رکھا تو احساس تشکر سے آنکھیں تر ہوگئیں۔ دروازے کے اندر مسلمان گارڈز نظرآئے جن کے پاس اسرائیلی فوجیوں کی طرح کا کوئی اسلحہ نہیں تھا، صرف واکی ٹاکی تھی۔ ہم نے انہیں سلام کیا۔انہوں نے کھڑے ہوکر ہمیں اھلا وسھلا و مرحباً  کہا۔ہم نے بھی عقیدت و محبت کے ملے جلے جذبات سے جواب دیا ۔نام اور ملک بارے پوچھا ۔ہمیں لگاجیسے ہم اپنے حقیقی بھائیوں سے مل رہے ہیں۔ سچ ہے ﴿إِنَّمَا الْـمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَةٌ﴾  آگے بڑھنے سے پہلے ہم مسجداقصیٰ کے دروازوں کی آپ کو سیر کراتے ہیں ۔

مسجد اقصیٰ کے دروازے

یاد رہے کہ مسجداقصیٰ کے 14دروازے ہیں:

 باب حطہ۔ باب الاسباط۔ باب الجنائز۔ باب الرحمہ۔ باب فیصل۔ باب الغوانم۔ باب الناظر۔ باب القطانین۔ باب المطہرۃ۔  باب السلسۃ۔  باب المغاربۃ ۔ باب المزدوج۔  باب الثلاثی  اور  باب المفرد ۔ ان میں سے باب حطہ، باب الاسباط ، باب الناظر، باب السلسلہ اور باب المغاربہ‘‘ کھلے ہیں، جن میں سے کئی ایک سے ہمیں داخلے کا موقع ملا ۔ اندرونی دروازوں پر ہمیں جانے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔ اس لیے ان کے بارے میں یقینی طور پرکچھ نہیں کہہ سکتا ۔ البتہ ’’باب الرحمہ‘‘  کو دیکھا لیکن یہ دروازہ بالکل بند ہے۔ مشہور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دروازے سے داخل ہوں گے۔ باب الجنائز سے ملحقہ مسلمانوں کا قبرستان ہے،  جہاں کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قبور مبارکہ ہیں۔ باب المغاربہ۔۔۔ جہاں سے دیوار براق کو راستہ جاتا ہے ،جسے انہوں نے دیوار گریہ۔۔۔  کا نام دے رکھا ہے۔کئی دروازے مستقل طور پر بند رکھے جاتے ہیں۔ ( نئی خبریہ ہے کہ 2018ء میں باب الرحمت بھی کھول دیا گیا ہے )

(اس کے بعد ان شاء اللہ مسجداقصی کی تھوڑی سی تاریخ  کا تذکرہ کیا جائے گا۔)

٭٭٭

تبصرہ کریں