سفر مسجد اقصی اور ارض فلسطین کی روح افزا روئیداد ( قسط 2)۔حافظ عبدالاعلیٰ درانی

مسجد اقصی کی مختصر تاریخ

سرزمین فلسطین کی طرف سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام نے ہجرت کی تھی۔مسجد اقصیٰ کی بنیاد حضرت یعقوب علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے رکھی تھی اور اس کی وجہ سے شہر یروشلم آباد ہوا۔ان کے تقریباً 600 سال بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو قوم فرعون کی غلامی سے نجات دلا کر اس بابرکت زمین میں جگہ دی ۔ لیکن یہ ناشکرگزار قوم آزادی کی اس نعمت کی قدر نہ کرسکی ، اور شرک سمیت مختلف قسم کی برائیوں مبتلا ہوتی گئی ۔اس وجہ سے اگلے اڑھائی تین سو سال یہ مختلف ریاستوں کے حملوں کا شکار ہوتی رہی۔ مثلاً  فلستیوں نے بنی اسرائیل کے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم کرکے فلسطین کے بڑے حصے پر قبضہ کرکے وہاں سے  ان کو بےدخل کردیا حتی کہ ان سے خداوند کے عہد کا صندوق۔۔۔ تابوت سکینہ۔۔۔ تک چھین لیا۔ اسی بدقسمتی کے دور کا تذکرہ سورہ بنی اسرائیل آیات 4۔5 میں ہوا۔تبھی بنی اسرائیل کوایک فرمان روا کے تحت متحدہ سلطنت قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ان کی درخواست پر حضرت سموئیل نبی نے 1020(ق۔م) میں حضرت طالوت جیسے جلیل القدر صاحب علم اور دانا و بینا انسان کوان کا بادشاہ مقرر کردیا۔جن کے دور میں بنی اسرائیل متحدہوئے اور ان کا یہ عروج تقریباً سو سال تک جاری رہا۔حضرت طالوت سولہ سال تک قیادت کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ ان کی وفات (1004ق۔م) کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام چالیس سال تک بنی اسرائیل کی اس سلطنت کے بادشاہ رہے اور ان کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام چالیس سال تک حکمران رہے۔ انہوں نے (961ق م) مسجداقصیٰ کی تعمیرکرائی جس میں ان کے ماتحت جنوں نے بھی حصہ لیا۔

بنی اسرائیل کی ریاستوں میں تقسیم اورہیکل سلیمانی کی پہلی تباہی

حضرت سلیمان علیہ السلام کا انتقال 926 (ق۔م) میں ہوا۔ ان کی وفات کے بعد اسرائیلی باہمی چپقلش کے باعث دو حصوں میں بٹ گئے۔  شمالی فلسطین اور شرق اُردن میں دولت اسرائیل کا پایہ تخت ’’سامریہ‘‘ بنا۔ اورجنوبی فلسطین اور ادوم کے علاقے میں سلطنت یہودیہ کاپایہ تخت’’یروشلم‘‘ بن گیا۔شمالی فلسطین کی ریاست اسرائیل  میں شرک اور اخلاقی بیماریاں عروج پرپہنچ گئیں ۔ ان کی اصلاح کے لئے مختلف انبیاء تشریف لاتے رہے۔ مثلاً حضرت الیاس ، حضرت الیسع، حضرت ہوسیع ، حضرت عاموس علیہم السلام  ودیگر۔ لیکن ان کی پے درپے تنبیہات نے اسرائیلیوں پر کوئی اثرنہیں ڈالا۔  جس کے نتیجے میں 721ق ۔ م ) میں اشوریہ کے سخت گیر بادشاہ سارگون نے سامریہ کوفتح کرکے دولت اسرائیل کامکمل خاتمہ کردیا۔ہزارہا اسرائیلی تہہ تیغ کردیے گئے اور27ہزار سے زیادہ اشوری سلطنت کے مختلف علاقوں میں تتر بتر کر دیے اور دوسرے علاقوں سے لاکر غیر قوموں کو اسرائیل کے علاقے میں بسایا گیا۔ جبکہ بنی اسرائیل کی دوسری ریاست جو یہودیہ کے نام سے جنوبی فلسطین میں قائم ہوئی تھی جس کاپایہ تخت یروشلم بناتھا۔اس میں بھی وہی بد اخلاقیاں راسخ ہو چکی تھیں ان میں حضرت یسعیاہ اور حضرت یرمیاہ، حضرت حنانی ، حضرت میکایاہ ، حضرت یرمیاہ، حضرت عاموس جیسے جلیل القدر انبیاء علیہم السلام اصلاح کیلئے تشریف لاتے رہے لیکن ان کی کوششوں کے باوجود اسرائیلی شرک اور دیگر برائیوں سے باز نہ آئے ۔

598ق۔م میں شاہ بابل بخت نصر نے یروشلم سمیت پوری دولت یہودیہ کو اپنے تابع فرمان بنا لیا۔لیکن بغاوت کے فطری عنصر نے اسرائیلیوں کو چین نہ لینے دیا آخرکار587ق م میں بخت نصرنے  ایک سخت حملہ کرکے یہودیہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو اس طرح پیوند خاک کردیا کہ اس کی ایک دیوار بھی اپنی جگہ پر کھڑی نہ رہ سکی اور 10 لاکھ بنی اسرائیلیوں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ عراق لے گیا تھا۔ یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کے تین سو چالیس سال بعد بیت المقدس یاہیکل سلیمانی مکمل مسمارکردیاگیا تھا۔

یہ تھا بنی اسرائیل کاپہلا فساد اور پہلی سزا جس کاتذکرہ  سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر4 میں ہوا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیلیوں میں جہاں بہت سے بدکار تھے وہاں ان  کے اندر  ایک گروہ خیر سے محبت کرنے والا بھی رہا ہے اسی لیے حق تعالیٰ نے فرمایا:

﴿لَيْسُوا سَوَاءً ۗ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّـهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ ١١٣ يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُولَـٰئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ ١١٤ وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَن يُكْفَرُوهُ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ ١١٥﴾

’’کہ سارے اہل کتاب یکساں نہیں ہیں ۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں۔ راتوں کی اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، نیکی کا حکم دیتے ہیں،  برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سرگرم رہتے ہیں ۔ اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتاہے۔‘‘

(سورۃ آل عمران: 113۔114)

ایسے ہی صالحین کی مسلسل کوششوں اور توبہ وانابت الی اللہ کی دعوت کے باعث رحمت الٰہیہ نے ان کی ایک بار پھر یاوری کی اورپچاس سال کے اندر اندر حالات نے  پھرپلٹا کھایا اوربابل کی سلطنت کو زوال ہوا۔ ( 539ق م ) میں شاہ فارس  ۔۔۔ سائرس اعظم۔۔۔ یا خسرونے  بخت نصر کو شکست دے کر بابل کوفتح کرلیا اور بنی اسرائیل کو فلسطین واپس جانے کی اجازت دے دی۔اب اسرائیلیوں نے بیت المقدس کودوبارہ تعمیر کرنے کا پروگرام بنایالیکن  ہمسایہ قومیں جو اس علاقے میں آکر آباد ہوگئی تھیں مزاحمت کرتی رہیں  اور بیت المقدس یا مسجداقصی دوبارہ تعمیر نہ کیا جاسکا ۔خسرو کے بعد نئے ایرانی بادشاہ دارانے 522(ق۔م) یہودیہ کے آخری بادشاہ  کے پوتے’’زرو بابل‘‘ کو یہودیہ کاگورنر مقرر کیااور اس نے اپنے زمانے کے مرد صالح زکریا کی معاونت سے بیت المقدس کو نیاتعمیر کیا۔445ق م میں نحمیاہ کی زیر قیادت ایک اور جلاوطن گروہ یہودیہ واپس آیااور شاہ ایران نے نحمیاہ کو یروشلم کاحاکم مقرر کردیااور بیت المقدس تعمیرکرنے اور شہر کے گرد فصیل بنانے کاحکم دیا۔ اس طرح یروشلم شہر ڈیڑھ سو سال بعد دوبارہ آباد ہوا۔

اسی دوران میں بعض تفسیری روایات کے مطابق 350ق ۔ م  میں حضرت عزیر (حضرت عزیر Ezra ان کا زمانہ 450ق م کے لگ بھگ ہے ۔نبی کایہاں سے گزر ہوا تو شہر یروشلم کو مردہ پاکر انہوں نے  اظہار حسرت کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک سو سال کیلئے سلادیا ۔ اس عرصے میں یروشلم کی دوبارہ آبادکاری کے انتظامات ہوگئے ۔اب ایرانی سلطنت کا زوال شروع ہوگیا۔ ادھر سکندر اعظم کی حکمت عملی اور فوجی طاقت نے ہرطرف فتوحات کے جھنڈے گاڑ دیے اور یونانیوں کو ایرانیوں کی جگہ اقتدار حاصل ہو گیا۔ لیکن سکندر اعظم کی33برس کی عمر میں ہندوستان سے واپسی پر اچانک وفات ہوگئی ، جس سے اس کی سلطنت تین سلطنتوں میں تقسیم ہوگئی ۔ سلجوقی سلطنت کے حصے میں شام کا علاقہ آگیاجس کادارالحکومت انطاکیہ بنا۔اس کے فرمانروا انٹیوکس ثالث نے 198ق م۔ میں فلسطین کا کنٹرول حاصل کرلیا، یہودیوں کے مذہب سے اس بادشاہ کو سخت نفرت تھی اس نے جبراًیہودیت کی شکل شرک میں بدل دی۔قوم یہود کافی عرصہ اس کے دباؤ کے تحت زندگی گزارتی رہی ۔غالباً اسی دوران میں حضرت عزیز علیہ السلام  نبی 100 سال کے بعد جاگے تو یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ بیت المقدس پھر آباد اور یروشلم پررونق شہر بن چکاہے۔ (سورۃ البقرہ: 249)

یہ غالباً  458ق، م کی بات ہے ۔اب  ملک فارس کا مسند نشین ’’اردشیر‘‘  تھا ۔ اس نے حضرت عزیر نبی کی بڑی عزت افزائی کی اور ان کو خداکی شریعت کو نافذ کرنے کے اختیارات دیے ۔چنانچہ حضرت عزیز نے بڑا تعمیری کام کیا۔ انہوں نے بنی اسرائیل کا مذہبی سرمایہ مرتب کیا۔  اس وجہ سے ان کی بنی اسرائیل  میں بڑی عزت بنی ،حتی کہ انہیں خدا کا بیٹاتک کہاگیا۔ (سورہ التوبہ )

مکابی تحریک کی اٹھان

 175ق م میں اس کے بعد انیٹوکس چہارم کے دور میں یہودیوں کے اندرسے ایک اصلاحی تحریک اٹھی جسے تحریک مکابی کہاجاتاہے ،اس تحریک کے نتیجے میں یونانی مغلوب ہوگئے اور مکابیوں نے سلطنت سنبھال لی جو67ق م تک قائم رہی۔ (آج کل اسرائیل کی کرنسی  ’’شیکل‘‘ کا نام بھی وہی ہے جو مکابی دور میں رائج تھا)کچھ عرصہ بعد انہی کے درمیان پھوٹ پڑگئی اور انہوں نے خود رومی فاتح پومپئی کوفلسطین پر حملہ کرنے کی دعوت دے ڈالی۔ چنانچہ پومپئی نے63ق م میں بیت المقدس پرقبضہ کر لیا۔ یاد رہے کہ  رومی فاتحین کی پالیسی تھی کہ وہ مفتوح علاقوں پرمقامی حکمرانوں کے ذریعے نظم ونسق چلایاکرتے تھے ۔ انہوں نے 40ق م میں ایک ہوشیار یہودی ہیروڈیس کو حکمران مقرر کر دیا جو 36سال تک حکمران رہا۔اسی کے زمانے میں بیت المقدس کی تعمیر نَو کی گئی۔ شہرکو منظم کیا گیا۔ سیدنا عیسی علیہ السلام کی ولادت سے چار سال پہلے اس کی موت ہوگئی۔ (اس کے نام سے یروشلم کا ایک  دروازہ بھی منسوب ہے ) ہیروڈیس کے بعد اس کی ریاست تین حصوں میں تقسیم ہوگئی۔اس کا ایک بیٹا ارخلاؤس 6عیسوی تک حکمران رہا۔کیونکہ قیصر آرگسٹس نے اس کو معزول کرکے اس کی پوری ریاست اپنے گورنر کے ماتحت کرلی اور41عیسوی تک یہی انتظام رہا یہی زمانہ تھا جب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی اصلاح کیلئے اٹھے اوریہودیوں کے تمام مذہبی پیشواؤں نے مل کر ان کی مخالفت کی اور رومی گورنر پونتس پیلاطس سے ان کوسزائے موت دلوانے کی کوشش کی۔

ہیرود کا دوسرا بیٹا ’’ ہیرود اینٹی پاس‘‘  شمالی فلسطین کے علاقہ گلیل اورشرق اردن کا مالک ہوااوریہی وہ شخص ہے جس نے ایک رقاصہ کی فرمائش پر حضرت یحیٰ علیہ السلام کا سرقلم کرکے اس کی نذر کیا۔ اس کا تیسرا بیٹا فلپ ’’کوہ حرمون‘‘ سے دریائے یرموک تک کے علاقے کا مالک ہوا۔ وہ رومی تہذیب میں ازسرتاپا ڈوبا ہواتھا۔41عیسوی میں ہیرودڈاعظم کے پوتے ’’ہیروداگرپا‘‘ کو رومیوں نے پورے علاقے کا حاکم مقررکردیاجن پر اس کے داداکی حکمرانی تھی ۔

ان کی بداعمالیوں کی نحوست پھر ظاہر ہونا شروع ہوگئی۔جس کانتیجہ یروشلم اور بیت المقدس کی تباہی کی شکل میں ظاہر ہوا۔ 66عیسوی میں ’’ہیروداگرپا‘‘ کے خلاف بغاوت ہوگئی اور70ء میں ٹیٹوس نے بزور شمشیریروشلم کو فتح کرلیا اور اہل فلسطین کا قتل عام کیا۔جس میں ایک لاکھ 33 ہزار افراد قتل ہو گئے اور 67 ہزار غلام بنا کر تھیٹروں میں بھوکے شیروں کے ہاتھوں بھنبھوڑے  جانے کیلئے مختلف علاقوں میں بھیج دیے گئے۔ اوریروشلم کے شہر اور ہیکل کو مسمار کرکے پیوند خاک کردیاگیا۔اور فلسطین سے یہودی اثرو اقتدار ایسا مٹا کہ 2 ہزار برس تک اس کو پھر سر اُٹھانے کا موقع نہ ملا ۔اور یروشلم کا مقدس ہیکل پھر کبھی تعمیر نہ ہوسکا۔بعد میں رومیوں کے بادشاہ قیصر ہیڈریان نے اس شہر کو دوبارہ آباد کیامگراب اس کانام بیت المقدس نہیں بیت  ایلیا تھا۔جو کہ فلسطین میں صدیوں سے آباد  قوموں کے سب سے بڑے  معبود تھا’’ایل‘‘کے نام پر تھا۔ یہ دیوتاؤں  کا باپ تھااس کی بیوی کانام عشیرۃ تھا   اور اسی سے خداؤں اور خدانیوں کی ایک پوری نسل چلی تھی جن کی تعداد70تک پہنچتی تھی ۔عراق کا مشہور معبود ’بعل‘ بھی اسی کی اولاد تھا۔ بیت ایلیامیں مدتہائے دراز تک یہودیوں کو داخلے کی اجازت نہ تھی۔۔۔ یہ تھی وہ سزا جو بنی اسرائیل کو دوسرے فساد عظیم کی پاداش میں ملی ۔

مندرجہ بالاواقعات کی روشنی میں ان آیات کا مطالعہ کیجئے۔

﴿وَقَضَيْنَا إِلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا ٤ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أُولَاهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِلَالَ الدِّيَارِ ۚ  وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُولًا ٥ ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَأَمْدَدْنَاكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَاكُمْ أَكْثَرَ نَفِيرًا ٦﴾

’’پھرہم نے اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اس بات پر بھی متنبہ کردیاتھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے۔ آخرکار جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا تواے بنی اسرائیل ہم نے تمہارے مقابلے پر ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے وہ تمہارے ملک میں گھس کرہرطرف پھیل گئے ۔ یہ ایک وعدہ تھاجسے پورا ہوکرہی رہناتھا۔ اس کے بعد ہم نے تمہیں ان پر غلبے کا موقع دے دیااورتمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اورتمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی ۔ دیکھو تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی ، اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کیلئے برائی ثابت ہوئی۔‘‘ ( 175ق م میں اس کے بعد انیٹوکس چہارم کے دور میں یہودیوں کے اندرسے ایک اصلاحی تحریک اٹھی جسے تحریک مکابی کہاجاتاہے ،اس تحریک کے نتیجے میں یونانی مغلوب ہوگئے اور مکابیوں نے سلطنت سنبھال لی جو67ق م تک)۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کوتم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد بیت المقدس میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیزپر ان کا ہاتھ پڑے اسے تباہ کرکے رکھ دیں ۔(77عیسوی میں رومی انقلاب کی طرف اشارہ ہے)

 اورانہوں نے بیت المقدس اور شہر پھر سے تعمیر کر لیے تھے ۔ کہاجاتاہے  پہلی صدی (ق م) میں جب رومیوں کا قبضہ ہوا تو انہوں نے اس شہریروشلم کو ایلیا کانام دیا تھا  (یروشلم کا نام حدیث میں بھی ایلیا آیا ہے۔حدیث أبی هريرة إنما یسافر إلی ثلاثة مساجد مسجد القبلة و مسجد إیلیا)،یروشلم پر دوسری تباہی رومیوں کے دور میں نازل ہوئی۔ رومی جرنیل طیطوس نے70میں یروشلم اور ہیکل سلیمانی دونوں برباد کر دیے۔ 620ء  میں نبی ﷺ  جبرئیل﷤ کی رہنمائی میں مکہ سے بیت المقدس پہنچے اور وہاں سے معراج آسمانی کیلئے تشریف لے گئے۔ یاد رہے کہ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کافاصلہ تقریباً سوا آٹھ سو میل یا بارہ سو کلو میٹر ہے۔یروشلم کے جنوب میں بیت اللحم اور الخلیل اور شمال میں رملہ ہے ۔ بیت المقدس کئی پہاڑیوں پر واقع ہے۔ ایک پہاڑی کانام کوہ صیہون (Zion)  ہے، جس کے نام پر یہودیوں کی عالمی تحریک صیہونیت قائم کی گئی ہے ۔

اسلامی عہد میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر

137(ق م) میں رومی بادشاہ ہیڈریان نے شوریدی سر یہودیوں کو بیت المقدس اور فلسطین سے جلاوطن کردیا۔ چوتھی صدی عیسوی میں رومیوں نے عیسائیت قبول کرلی اور بیت المقدس میں گرجا تعمیر کیا۔ جب نبی ﷺ معراج کو جاتے ہوئے بیت المقدس پہنچے تو اس وقت یہاں کوئی باقاعدہ مسجدتھی نہ ہیکل اور نہ کوئی مندر۔ مفسرین کرام کے مطابق قرآن کریم نے اسی جگہ کو مسجد اقصیٰ کہا ہے ۔ جہاں حضرت یعقوب علیہ السلام نے مسجد بنائی تھی۔ 17ہجری یعنی639ء میں عہد فاروقی میں عیسائیوں سے کئے گئے ایک معاہدے کے تحت بیت المقدس مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا۔ اوریہاں مسجد تعمیر کی گئی جس میں لکڑی کا استعمال زیادہ کیاگیاتھا۔ خلیفہ عبدالملک کے عہد میں مسجداقصیٰ کی باقاعدہ  تعمیرعمل میں لائی گئی اور صخرہ معراج پر قبۃ الصخراء بنایاگیا۔1099ء یعنی 492ھجری میں یورپی صلیبیوں نے بیت المقدس پر حملہ کر کے 70 ہزار مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ 1187ء یعنی583ھ میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو عیسائیوں کے قبضے سے چھڑایا۔

بیت المقدس پر یہودیوں کاقبضہ

پہلی جنگ عظیم کے دوران ستمبر 1917میں انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کر کے یہودیوں کویہاں آباد ہونے کی عام اجازت دے دی۔ یہود و نصاریٰ کی سازش کے تحت نومبر 1947میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دھاندلی سے کام لیتے ہوئے فلسطین کو عربوں  اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا اور جب 14مئی1948کو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کردیا تو پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑگئی ۔اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی فلسطین کے78فیصد رقبے پر قابض ہوگئے تاہم مشرقی یروشلم (بیت المقدس ) سمیت غرب اردن کا علاقہ اردن کے قبضے میں آ گیا۔ تیسری عرب اسرائیل جنگ (جون1967) میں اسرائیلیوں نے بقیہ فلسطین اور بیت المقدس پر بھی تسلط جمالیا۔ مسلمانوں کا قبلہ اول اب یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ 70عیسوی کی تباہی سے ہیروڈیس (40ق م)کی بنائی ہوئی ہیکل سلیمانی کی ایک دیوار کاکچھ حصہ بچاہواہے ۔ جہاں یہودی زائرین آکر روتے ہیں ۔اسی دیوار کے ساتھ نبی ﷺ نے براق کو باندھا تھا۔اس لیے اس کا نام دیوار براق ہے ۔

 مسجد اقصی کا موجودہ کمپلیکس ایک لاکھ چوالیس ہزار سکویر میٹر یا 144ایکڑ (انگریزی میں acress اورعربی میں ’’دونم‘‘ کہاجاتاہے)پر مشتمل ہے۔ یہ سارا علاقہ مسجداقصیٰ، القدس یا بیت المقدس ہی کہلاتاہے۔جس دور میں رسول اللہ ﷺ معراج کیلئے تشریف لائے تھے ۔اس دور میں بعض واقعہ نگاروں کے مطابق یروشلم میں رومی بادشاہ ہیڈریان کی حکومت تھی اسی نے یہاں ہیکل کے تمام آثارمٹاکر رومی دیوتا پیٹرکی پوجاکیلئے ایک مندر تعمیر کیاتھا۔ لیکن قرآن کہتاہے کہ نہ تو وہاں کوئی مندرتھانہ کوئی ہیکل بلکہ مسجداقصیٰ اس وقت موجود تھی ۔ سیرت پر لکھی گئی دوسرے تیسرے درجے کی کتابوں سے تو ثابت ہوتا ہے کہ یروشلم میں بیت المقدس موجود تھا ۔جہاں آنحضور نے نمازپڑھائی اور(روحانی طور پر)انبیاء کی امامت کروائی تھی ۔

البدایہ میں ابن کثیر لکھتے ہیں:

 “و قد کان ھرقل حین جاءہ الکتاب النبوی وھو بایلیاء ووعظ النصاریٰ فیما کانوا قد بالغوا فی القاء الکناسة علی الصخرة حتی وصلت إلی محراب داؤد قال لھم إنکم لخلیق أن تقتلوا علی ھٰذہ الکناسة مما امتھنتم ھٰذا المسجد کما قتلت بنو اسرائیل علی دم یحی بن زکریا ثم امروا بإزالتھا فشرعوا فی ذالك فما ازالوا ثلثھا حتی فتحھا المسلمون فازالھا عمر بن الخطاب.” (2688)

 یروشلم کا نام حدیث میں بھی ایلیا آیا ہے۔حدیث أبی ھریرة انما یسافر إلی ثلاثة مساجد مسجد القبلة و مسجد ایلیا) و حدیث ھرقل

مسجد اقصیٰ میں پہلی نماز فجرکی ادائیگی

باب حطہ کے بائیں طرف وضو خانے ہیں، جن کی صفائی قابل رشک نہیں ہے کیونکہ اسرائیلی گارڈز کوئی چیز مسجد کے اندر لانے کی اجازت نہیں دیتے ، تعمیرتو دور کی بات کوئی چیزمرمت بھی نہیں کی جاسکتی ،باب حطہ کے سامنے تقریباً 25، 30 گزتک ایک ہی لیول ہے اوراس پورے ایریے میں زیتون اور شاہ بلوط کے بے شمار درخت بڑی خوبصورتی کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ کچھ درخت کالی مرچ کے بھی ہیں ۔ 25، 30 گزکے بعد پھر چند سیڑھیاں ہیں اور اس کے بعد ایک لمبا احاطہ ہے جہاں قبۃ الصخراء ہے ۔اس قبۃ الصخراء کوہی مسجد اقصی کاسیمبل سمجھا جاتاہے ۔جب ہم اس کے پاس سے گزرے تو پوری تاریخ نگاہوں میں گھوم گئی ۔ایسے لگا جیسے ہم صدیوں پہلے کی دنیا میں سانس لے رہے ہیں، اسی تقدس کے ہالے میں لپٹے ہوئے ہم نے صحن قبۃ الصخرا عبورکیا۔کیونکہ تہجدکی اذان کے بعد اذان فجر میں کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوتا ۔صحن قبۃ الصخراء کو عبور کرکے پھر نیچے سیڑھیاں اترتی ہیں جہاں سے مسجد اقصی میں جایاجاتاہے ۔یہ بلڈنگ جانب جنوب واقع ہے ۔ کعبۃ اللہ کی طرف رخ ہونے کی وجہ سے اسے مسجد قبلی کہاجاتاہے ۔

مسجد قبلی

 مسجد قبلی ۔۔۔  مسجد اقصیٰ کا حصہ ہے بلکہ لگتا ہے یہی قدیمی مسجد ہے ۔ اسے سیدنا فاروق اعظم کے حکم سے 15سن ہجری (636میلادی)میں تعمیر کیا گیا۔ لیکن اس کی تزئین و آرائش دور اموی میں عبدالملک بن مروان نے شروع کی اور تکمیل اس کے بیٹے الولید کے ہاتھوں 705میں ہوئی ۔اس کی تزئین و آرائش بہت دفعہ ہوتی رہی ۔ اس کے گنبد میں قرآنی آیات کی اتنی خوبصورت خطاطی اور آرائش کی گئی ہے کہ جب تک مسجد کے فرش پرلیٹ کر اسے نہ دیکھا جائے ۔ بھرپورہ نظار نہیں کیاجاسکتا ۔اس مسجد کے فرشی ہال میں کم وبیش دو ہزار نمازی نمازادا کرسکتے ہیں ۔ محراب میں جلی حروف میں یہ عبارت کندہ ہے:’’سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے چھڑانے کے بعد 1188ء میں اس محراب کی تجدید کروائی تھی۔

خیال رہے کہ یورپی صلیبیوں نے1099ء میں یروشلم پر قبضہ کیا تھا اورپھر پورے 88سال بعد کردستان سے  تعلق رکھنے والے عظیم مجاہد صلاح الدین ایوبی نے اسے دوبارہ فتح کیا ۔اللہ کی قدرت دیکھیئے کہ انگلینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور یورپ کے دوسرے عیسائیوں نے فلسطین کی طرف یلغار کرنے سے قبل اپنی وحشیانہ مہم جوئی کے بارے میں سوچ و بچار اور مشورے و منصوبہ بندی کرنے کی غرض سے فرانس کے شہر’’ کلیرمونت ایرون‘‘ میں ایک چرچ کا انتخاب کیاتھا ۔ وہ چرچ آج الجزائری اور مراکشی مسلمانوں نے کرائے پر لے رکھا ہے اور وہاں پنجوقتہ نماز ادا کی جاتی ہے  اور اب تو اس شہر میں ایک وسیع قطع اراضی پر عالی شان مسجد کی تعمیر کا منصوبہ بندی بھی ہورہی ہے ۔واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون ۔

 سلطان ایوبی کا منبر

سلطان ایوبی نے بیت المقدس کے شایان شان  ایک منبر بھی بنایا تھا روایت کے مطابق سلطان نے تین منبر بنوائے تھے۔ ایک منبرمسجد الخلیل میں موجود ہے ۔ ایک بیت المقدس میں اور ایک جامعہ  دمشق کیلئے ۔لیکن سلطان کو یہ منبر بیت المقدس پہنچانے کی مہلت نہیں ملی تھی اور ان کے جانشین نے اسے مسجد اقصی کی زینت بنا دیا تھا  جو پورے 781 تک مسجد اقصی کی زینت بنا رہا  تا آنکہ 1969 میں ایک بدبخت یہودی نے آگ لکا کر ناکارہ کردیا اور اب وہ مسجد اقصی کے میوزیم میں جلا ہوا موجود ہے ۔ یہ منبر ہماری عظمت رفتہ کی نشانی ہے۔ جب مسلمان بطور فاتح کے داخل ہوئے اور اپنی رواداری اور مروت کے انمٹ نقوش چھوڑے جس کا مسلم اور غیر مسلم سب کو اعتراف ہے۔ جانے کتنے علماء، خطباء اور رہنماؤں نے اس منبر پر کھڑے ہو کر تقریریں کیں اور اس محراب اور میناروں سے اذان اور تلاوت ہوتی رہی اور ہوتی رہے گی ۔اس مسجد کے دائیں طرف اذان اور امام کی استراحت کی جگہ، اورچھوٹے چھوٹے دفاتر ہیں جبکہ بائیں طرف مسجد عمر ، محراب زکریا اور حجلہ مریم ہے ۔مسجد قبلی میں ساری نمازیں ادا کی جاتی ہیں ۔ نماز جمعہ میں بھی مرکزی اجتماع یہیں ہوتا ہے۔ مرد حضرات تو قبلی مسجد میں نمازپڑھتے ہیں جبکہ خواتین قبۃ الصخراء میں ۔ہم سبھی افراد مسجد کی اگلی صفوں کی جانب بڑھے، جبکہ خواتین مسجد کی بائیں طرف ان کیلئے مخصوص حصے میں نماز ادا کیلئے چلی گئیں۔ ہم نے  تحیۃ المسجد اور چند نوافل ادا کیے۔ مسجدکی اگلی صفوں میں لوگ قالین پر اور کچھ لوگ کرسیوں پر بیٹھ کر تلاوت و اذکار میں مشغول تھے اور ہلکی ہلکی تلاوت کی آوازسے مسجد گونج رہی تھی۔تھوڑی دیر میں فجر کی اذان ہو گئی، فجرکی سنتوں کے تھوڑی ہی دیر میں پونے پانچ بجے نمازکیلئے اقامت کہی گئی ۔ نمازِ فجر الشیخ عبدالکریم الزربائی نے پڑھائی ۔حسن اتفاق سے  انہوں نے سورہ الاسراء کے پہلے چند صفحات کی فلسطینی لہجے میں تلاوت کی۔ زندگی میں پہلی بار مسجداقصی میں نماز فجرادا کرنے اور قرآن کی مقدس متعلقہ آیات (جن میں مسجد اقصیٰ کا ذکر ہوا)کی تلاوت سننے کا موقع ملا ۔ آپ کیا سمجھتے ہیں، کیا جذبات ہوئے ہوں گے ؟ خاص طور پر جب ان آیات کا ترجمہ، تذکرہ اور پس منظرہمارے سامنے موجود  تھا۔ نماز کے بعد امام صاحب سے ملاقات ہوئی۔ تعارف ہوا۔ انہوں نے فلسطین آمد پر بے پناہ خوشی کااظہار کیا۔ امام عبدالکریم الزربائی مدینہ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے پرانی یادیں تازہ کیں ۔ ہمارے گروپ میں برمنگھم سے گلزار احمدشیخ صاحب جنہیں سبھی اہل قافلہ’’ مودی صاحب‘‘ کہتے تھے کیونکہ ان کی شباہت نریندر مودی صاحب سے ملتی تھی ۔ ان کی زوجہ بھی انہیں شیخ مودی کہتی تھیں) انہیں تصویر اور ویڈیوبنانے کا فن خوب آتاہے ، انہوں نے امام صاحب  کے ساتھ میری تھوڑی سی وڈیو بھی ریکارڈ کرلی تھی ۔سورج نکلنے تک ہم مسجد اقصیٰ کے حسن کے مختلف زاویے دیکھنے  اورپھر روزمرہ اذکار میں مشغول رہے اوراشراق پڑھ کر مسجد سے باہر نکلے  توقبۃ الصخراء کے عقب سے سورج نکلنے کاعجیب نظارہ تھا۔امام صاحب کی معیت میں ہم نے یہ مناظر موبائل کے کیمرے میں محفوظ کرلیے، مزید  ملاقاتوں کے وعدے پران سے رخصت لی  اور باب حطہ ہی سے نکل کر واپس ہوٹل آگئے۔ ناشتہ کے بعد 12 بجے تک آرام کیا۔

 مسجد عمر رضی اللہ عنہ، حجرہ مریم ،اور محراب زکریاکی زیارت

ظہر سے ایک گھنٹہ پہلے تیارہوکر ہم سبھی احباب قافلہ پھر بیت المقدس کی جانب روانہ ہوئے۔ نماز ظہر کے بعد ساتھیوں کو مسجداقصیٰ کی تفصیلی زیارت اور تاریخ سے آگاہ کرنا تھا۔ اس کیلئے میں نے کچھ مواد اکٹھا کرلیاتھا۔ نمازکے بعد مسجداقصیٰ یا مسجد قبلی کی بائیں جانب متصل چھوٹی سی جگہ جسے مسجدعمریا مصلی عمرکہا جاتاہے، روایت کے مطابق فتح بیت المقدس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے یہاں نماز ادا کی تھی، وہاں بیٹھ کر میں نے ساتھیوں کو بریفنگ دی ۔انہیں فتح بیت المقدس کی تفصیل سنائی  اور اس بابرکت جگہ کی اہمیت سے مطلع کیا۔ وہاں سے ایک کھڑکی سے باہر جھانکا تو مسجد اقصی کی دوسری جانب کافی دور تک یہودیوں کی سرگرمیاں نظر آئیں ، مسجد اقصی کے نیچے سے نام نہاد ہیکل سلیمانی برآمد کرنے کی غرض سے جو کھدائی کی جارہی ہے وہ نظر آئی ۔ بہت پہلے ہم نے اس کھدائی کے بارے سنا تھا ۔ پھر خاموشی طاری ہوگئی ہمیں لگاکہ عالم اسلام کے احتجاج و اضطراب کی وجہ سے کھدائی بند کردی گئی ہے لیکن وہ تو اب بھی جاری ہے۔ پھرہم مسجد عمر کے متصل دوسرے حجرہ مریم میں آگئے ۔ جس کے بارے میں سورہ آل عمران کی آیت 37 تا 39  میں ذکر آیاکہ ان کے خالوحضرت زکریا علیہ السلام نے انہیں اپنی کفالت میں لے کر رکھا تھا اور اس کے ساتھ ہی متصل محراب زکریاہے۔جس کے بارے قرآن میں ذکر آیا کہ جب حضرت مریم سے غیبی رزق بارے حضرت زکریا علیہ السلام نے پوچھا تو اس معصوم بچی نے جواب دیا: ﴿هُوَ مِنْ عِنْدِ اللہِ﴾ کہ یہ رزق اللہ کی جانب سے ہے یہ سن کر سيدنا زکریا علیہ السلام  نے وہاں دعا مانگی تھی۔

﴿ هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ ۖ  قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ  إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ﴾

اس جگہ کو محراب زکریا کہا جاتاہے ۔پھر ہم مصلی مروانی دیکھنے گئے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں