سفر مسجد اقصی اور ارض فلسطین کی روح افزا روئیداد۔ حافظ عبد الاعلیٰ درانی

شہر القدس (یروشلم) کے باسیوں کی حالت

سب رفقاء سمیت یروشلم(Old City) کی تاریخی مگر تنگ گلیوں میں نکل کھڑے ہوئے۔ گلیاں بے شک اونچی نیچی ہیں ، ٹیڑھی میڑھی ہیں لیکن صاف ستھری ہیں۔ سب گلیوں میں سفید چکنا پتھر بڑی بڑی ٹائلوں کی شکل میں لگا ہوا ہے جس پر بڑے احتیاط سے چلنا پڑتا ہے ورنہ پاؤں پھسلنے میں دیر نہیں لگتی۔ پتہ نہیں یہ پتھر کہاں سے لایا گیا اوراتنا چکنا کیوں یہاں لگایاگیا۔ یروشلم کی یہ گلیاں اترائی کی جانب جارہی ہیں جہاں بیس تیس گز نیچے مسجد اقصیٰ کے دروازے ہیں۔ مسجد اقصی کو عبور کرو تو نیچے والا علاقہ پہاڑ کی بالکل اترائی میں ہے۔ اس جانب کے دوکاندار عموماً فلسطینی ہیں، جو دوکانوں کے اندر بیٹھے گاہکوں کا انتظار کررہے ہیں۔ باہر فٹ پاتھوں پر غریب فلسطینی عورتیں تھوڑی تھوڑی سی سبزیاں ،فروٹ یا عام استعمال کی چیزیں زمین پر بچھائے بیٹھی بیچ رہی ہیں۔ اور ساتھ ساتھ بازار میں چلتے پھرتے یہودی فورسز کی طرف بھی نگاہ رکھے ہوئے ہیں پتہ نہیں کس وقت کوئی آفت ٹوٹ پڑے ، کوئی ہنگامہ ہوجائے ، کہیں فائرنگ شروع ہوجائے۔ ان فلسطینیوں کے چہروں پر بیچارگی ، آنکھوں میں فریاد مگر معمولات میں تسلسل وصلابت سے لگتا ہے کہ ان کے لیے کچھ بھی غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ اس طرح کے ہنگامے آئے دن کا معمول ہیں۔ یہ تو حالت تھی فلسطینیوں کی جو اس زمین کے باسی ہیں۔ جنہیں اپنے ہی وطن میں اجنبی بنادیاگیا ہے۔ لیکن قابض یہودیوں کی حالت فلسطینیوں کی نسبت زیادہ قابل رحم ہے۔ وہ بھی ڈرے ڈرے سہمے سہمے رہتے ہیں ، ہرآن ان کی آنکھیں چہار جانب گھومتی رہتی ہیں۔ وہ ہمیشہ گروہ درگروہ ہوکرچلتے ہیں اور ہروقت خوفزدہ ہوکر ادھر ادھر دیکھتے رہتے ہیں مبادا کوئی مظلوم فلسطینی ان پر حملہ کردے۔ یعنی قابض و مقبوض ظالم و مظلوم اور غاصب و مغصوب دونوں ہی خطرات سے دو چار رہتے ہیں۔

اس پہلو سوچیں تو اللہ کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ اس نے ہمارا قبلہ و کعبہ پرامن بنادیا ہے:

﴿ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا﴾

جو بیت اللہ میں داخل ہوگیا وہ امن میں داخل ہوگیا) جبکہ’’بیت المقدس‘‘کی ہزاروں سال کی تاریخ قابضین اور مقبوضین کے مابین چپقلش سے عبارت ہے۔ اسلام سے پہلے بھی کئی بار تباہ ہوا۔ دو دفعہ کا ذکر تو سورہ بنی اسرائیل میں ہوا ہے۔ اور اسلام کی آمد کے بعد بھی اس علاقے میں کافی چپقلش رہی جس کی طرف ہم نے کئی دفعہ اشارہ کیا۔ دنیا بھر کی گدھیں یہاں حملہ آور ہوتی رہی ہیں اور کبھی بھی ایک خاص وقت سے زیادہ یہ علاقہ پر امن نہیں رہا۔ لیکن حجاز مقدس میں بیت اللہ کی وجہ سے امن رہا بہت کم ایسا ہوا کہ راستے غیر محفوظ ہوگئے لیکن بالعموم مثالی امن و امان ہی رہا۔ پچھلے سو سال سے تو دولت توحید سعودیہ کی حکومت نے تو امن و امان قائم کرنے میں پچھلی ساری تاریخ میں منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ بیت المقدس کے علاقے میں آکر انسان ہر وقت خطرہ محسوس کرتا ہے لیکن بیت اللہ کی فضاؤں میں پہنچ کر انسان کو سکون مل جاتا ہے اور اس کی زبان پر یہ آیت تیرنے لگ جاتی ہے۔

الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِن فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ

باب دمشق سے کچھ دور نسبتاً کھلا علاقہ ہے۔ جہاں سیدنا داؤد سے متعلقہ کئی یادگاریں تھیں داہنی جانب داؤد محل بھی تھا جس کا تعارف ہم جلد کروائیں گے۔ اس وجہ سے یہاں یہودیوں کا مجمع لگا ہواتھا۔ چونکہ ان کی دیوار گریہ (عبادتگاہ) بھی اسی علاقے میں ہے اس لیے چاروں طرف یہودی ہی یہودی نظر آرہے تھے۔ جو اپنی مخصوص ٹوپیوں اور خوفزدہ اداؤں پہچانے جاتے ہیںسے۔

مسجد عمر کاوزٹ اور سلطان صلاح الدین کی تصویر

یوں چلتے چلتے ہم مسجدعمرفاروق پہنچ گئے۔ ظہر کی جماعت ہو چکی تھی ہم نے وضو بنایا اور نماز ظہر وعصر جمع کرکے اداکیں۔ اتنی دیر میں باقی ماندہ نمازی بھی جا چکے تھے۔ لیکن ہم اپنے قافلے سمیت کچھ دیر اسی تاریخی مسجد میں ٹھہرنا چاہتے تھے۔ تاکہ اسے اندر سے اچھی طرح دیکھا جاسکے۔ خواتین پچھلے حصے میں چلی گئیں اور ہم محراب والے حصے میں۔ مسجد اگرچہ بہت قدیمی ہے لیکن صفائی ستھرائی میں قابل رشک تھی۔ ہم نے محراب کو اچھی طرح دیکھا بھالا۔ اسی مسجدکے ٹائم ٹیبل اور صحن مسجد میں لٹکے ہوئے معاہدہ ’’عمریہ‘‘کی تصاویرکیمرے میں بطور یاد گار محفوظ کرلیں۔ میں نے اس معاہدہ کی عبارت پڑھ کر سنائی۔ اس کا ترجمہ بھی بتایا۔ چلتے چلتے ہم مسجد کے بغلی حجرے میں چلے گئے جہاں ایک معمرفلسطینی بزرگ مطالعہ میں مشغول تھے۔ سلام و دعا کے بعد تعارف ہوا۔ انہوں نے بڑی دلچسپی کے ساتھ یہاں کے حالات سے آگاہ کیا۔ اچانک میری نظر کتابوں والی الماری میں کافی قدیمی فریم میں ایک پرجلال و پرشکوہ تصویر پر پڑی۔ جس نے شاہی تاج اور شاہی لباس پہن رکھاتھا۔ میرے ذہن میں خیال لپکا کہ ہو نہ ہو یہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی تصویر ہو۔ جب میں نے قریب سے دیکھا تو باریک سے قلم کے ساتھ لکھا تھا ’’مجاہداسلام سلطان صلاح الدین ایوبی ‘‘ میں بہت حیران ہوااور خوش بھی۔ میں نے وہاں موجود بزرگ سے اس تصویر کو اچھی طرح دیکھنے کی استدعا کی جسے انہوں نے بڑی خوشدلی سے منظور کرلیااورچابیوں کا گچھا اٹھایااوراس پرانی الماری کو کھولا اور تصویروالا فریم میرے ہاتھ میں تھما دیااورکہا کہ یہ صدیوں پرانی تصویر ہے حتمی طور پر اس کی تاریخ مجھے معلوم نہیں جو تاریخ لکھی ہوئی ہے وہ امتداد زمانہ سے مٹی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سلطان کی اصل فوٹو ہے جو اس دور کے فن کاروں نے تیار کی تھی ۔میں نے ان سے اس کافوٹو اتارنے کی اجازت مانگی انہوں نے اجازت تو دیدی لیکن کہاکہ آپ پہلے آدمی ہوجو اسے حجرے سے باہر لیجا رہے ہو ورنہ آج تک اسے باہر نہیں لیجایاگیا۔ بہرحال میں اس تاریخی تصویر کوپاکربہت خوش ہوا اور شاید تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ تصویر منظرعام پرآنے کا ذریعہ بنا۔ اس سے پہلے آپ نے کبھی یہ تصویر نہیں دیکھی ہوگی بلکہ کسی جگہ میں بھی یہ فوٹو دستیاب نہیں ہے۔ میں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس تصویر کوعام کرنے کااعلان کردیا تب بے شمار لوگوں نے انباکس میں اسے طلب کیااور میں نے اسے اگلے دن اسے اپ لوڈ کردیا۔ بہرحال اس تاریخی مسجدکاتھوڑاسا تعارف بھی کروادوں۔ اس مسجد میں معاہدہ عمریہ کی دستاویزبھی موجود ہے۔

دورفاروقی میں فتح بیت المقدس کی ایمان افروز داستان

سیدنافاروق اعظم کے دور میں کفر وشرک میں ڈوبا ہوا کرہ ارض اسلام کے نور سے منورہورہاتھا۔ شدہ شدہ نور ربانی کی کرنیں یروشلم پربھی پڑنی شروع ہوگئیں جو اس وقت رومیوں کے زیر تسلط تھا۔ اسلامی افواج شام و عراق کو فتح کرتی ہوئی یروشلم پہنچ گئیں، یہاں رومیوں کی حکومت تھی۔ چنانچہ دربار خلافت سے ان مشرکین کی سرکوبی کے لیے ایک خصوصی لشکرامین الامت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح کی کمان میں شام اورالقدس بھیجا گیا۔ ان کی اعانت کے لیے دوسرا لشکر سیدنا عمرو بن عاص ، تیسرا لشکر سیدنا امیر معاویہ کے بھائی سیدنا یزید بن ابی سفیان اور چوتھا لشکر سیدنا شرحبیل بن حسنہ کی قیادت میں پہنچا اوران چاروں لشکروں نے پورے شہر کامحاصرہ کرلیا۔ جو6 ماہ تک جاری رکھا۔ جس سے تنگ آکر رومی گورنر نے لاٹ پادری صفریانوس کے مشورہ سے کہامیں امیرالمومنین کوچارج دینے کے لیے تیار ہوں اگر وہ خود تشریف لائیں ،تب سیدنا عمر خود یروشلم تشریف لے گئے۔ یہ بھی کہا جاتاہے کہ لاٹ پادری صفریانوس نے پہلی آسمانی کتابوں میں فاتح بیت المقدس کی صفات پڑھی تھیں اوراسے امیرالمومنین کی ذہانت و فطانت شجاعت وریاضت کی خبریں برابر مل رہی تھی۔ اس نے اپنی کتاب کی پیشگوئیوں کے سچ کو آزمانے کی خاطریہ شرط عائد کی تھی کہ اگر امیرالمومنین عمرفاروق بنفس نفیس تشریف لائیں تو القدس ان کے حوالے کرنے کوتیارہیں۔ امیرالمومنین نے خلافت سنبھالنے سے لے کراب تک بیرونی دنیا کا کوئی سفر نہیں کیاتھالیکن بیت المقدس کی خاطر انہوں نے اس کا ارادہ بھی کرلیا سیدنا علی المرتضیٰ کو نائب خلیفہ بنایا اور خود مختصر سا قافلہ لیے آپ اس سفر پرروانہ ہوگئے۔ طارق بن شہاب ، اور اعمش وغیرہ کی روایت جسے مستدرک حاکم میں نقل کیاگیا ہے۔ علی شرط الشیخین (بخاری ومسلم) سیدنا عمر نے اپنے غلام اور ایک اونٹنی پر سوار چلے۔ کچھ راستہ غلام اونٹنی پر بیٹھتا اورکچھ دور تک امیرالمومنین جب بیت المقدس قریب آگیا تو اب غلام کی باری تھی۔ اس نے عرض کیاکہ آپ سوار ہو جائیں لیکن سیدنا عمر نے اسے سوار کرا دیا۔ 1500 کلو میٹر کاسفر طے کرنے کی وجہ سے ان کے کپڑے میلے ہوگئے تھے۔ کرتے پر متعدد پیوند لگے ہوئے تھے۔ آپ کے استقبال کو آنے والے اجل صحابہ اورعالم اسلام کے نامور سپہ سالاروں نے عرض کیا کہ بادشاہوں والی پوشاک زیب تن کرلیجئے تاکہ ہمارا رعب ان عجمیوں پر چھاسکے۔ لیکن سیدنا عمر فاروق نے یہ کہہ کران کی درخواست مسترد کردی کہ اللہ نے ہمیں عزت اسلام کی وجہ سے عطا کی ہے شاہانہ ملبوسات کی وجہ سے نہیں۔ جب بھی ہم اسلام کے سوا کسی اور عمل میں عزت ڈھونڈیں گے تو اللہ ذلیل کر ڈالے گا۔ خاص طور پر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح نے اصرار کیا جس پر سیدنا عمر غضبناک ہوگئے فرمایا ابوعبیدہ کاش یہ بات تم نہ کہتے:

“لوغیرك قالھا یا أباعبیدہ نحن قوم أعز ھا اللہ بالإسلام فإذا ابتغینا عزا بغیر الإسلام أذلنا اللہ”

’’اور سچی بات ہے کہ سیدنا عمرفاروق نے بالکل ٹھیک فرمایاتھا۔ اس پیوند لگے کرتے اوربوسیدہ لباس کے باوجود فاروق اعظم کے رعب ودبدبے کا عالم یہ تھاکہ ان کے سامنے منہ کھولتے وقت عالم کفر کی ماں مرجاتی تھی۔ میرے نبی اقدسﷺ نے سچ فرمایاتھا : عمر جس گلی سے گزر جاتاہے شیطان اس گلی سے گزرنے کی ہمت نہیں رکھتا آج بھی اس ہستی کانام سن کر کفر و نفاق پانی بھرنے لگ جاتاہے۔ جبکہ حقیقت شناس غیر مسلم سفیرنے امیرالمومنین کو مدینہ سے باہر جنگل میں ریت پر مطمئن سوتے ہوئے دیکھ کر بولا:

واہ عمر ! تم نے عدل کیااور امن قائم کیا۔ اس لیے ٹھنڈی ریت پر مطمئن نیند آگئی ہمارے بادشاہوں نے ظلم کیا تو انہیں مخمل کے بستروں پر بھی نیند نہ آئی۔ عدلت فامنت ونمت۔

سیدنا عمر فاروق کا استقبال کرنے والا لاٹ پادری صفریانوس

فتح بیت المقدس کے موقع پر یروشلم کے کنیسۃ القیامہ میں عیسائیوں کے لاٹ پادری صفریانوس (Sophronius of Jerusalem) اورعمائدین روم نے یروشلم آمد پر امیرالمومنین کا استقبال کیااور بغیر کسی مزاحمت کے شہر یروشلم کی چابیاں آپ کے حوالے کردیں اور عیسائی عوام اور ان کی عبادتگاہوں کے لیے امن طلب کی۔ آپ نے بتادیاکہ اسلام میں کسی غیرمسلم کی عبادت گاہ کو بلا وجہ منہدم کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن اس کا اصرار ہوا کہ ہمیں امان نامہ لکھ کردیاجائے۔ توامیرالمومنین نے وہ معاہدہ تحریر کردیا۔ جسے العہدۃ العمریہ کہا جاتا ہے ،یہ لاٹ پادری صفریانوس 560ء تا638ء )عربی النسل تھا۔ دمشق میں پیدا ہوا۔ اس نے مصرمیں 580میں رہبانیت اختیار کی تھی اور پھر بیت اللحم میں تھیوڈوسس کی خانقاہ میں چلا گیا۔ پھریروشلم کا لاٹ پاردی بنا۔ اس نے ایشیائے کوچک ، مصر اور روم کے خانقاہی مراکز کا سفر کیا تھا۔ اس کے ساتھ بازنطینی وقائع نگار بشپ جان بھی تھا۔ اس نے چند کتابیں بھی لکھی ہیں۔

Leimon of John Moschus

Synodical Letter

Christian-Muslim Relation, a Bibliographical History

( مسیحی مسلم تعلقات۔ ایک کتابیاتی تاریخ۔

Holy Baptisam of Epiphany

یہ خطبہ 637ء میں عبرانی زبان میں لکھا گیا تھا جس میں وہ مسلمانوں کو خدا سے نفرت کرنے والے اور بدلہ لینے والے کہتا ہے۔ وہ سامعین کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ

’’یہ سب کچھ ہمارے رویے کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ در حقیقت ہم خود ان سب باتوں کے ذمہ دار ہیں اور آخرت میں ہمارے دفاع میں کوئی لفظ بھی نہیں کہا جائے گا ۔‘‘

یہ کتاب یونانی زبان میں لکھی گئی ہے۔ اس میں جہاں مسیحیت کے اختلافات کا ذکر ہے وہاں دوسری طرف محمد(ﷺ) اسلام اور مسلمانوں کابھی ذکر کرتا ہے۔ وہ الزام عائد کرتاہے کہ مسلمانوں نے قتل وغارت کا بازار گرم کررکھاہے۔ امیر المومنین کے بارے میں پادری صفریانوس نے بہت کچھ سنا تھا اور اپنی مذہبی کتابوں میں فاتح بیت المقدس کی نشانیاں پڑھی ہوئی تھیں انہیں بنفس نفیس دیکھنا چاہتاتھا جب امیرالمومنین تشریف لائے تو اس نے وہ پیشین گوئیاں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ یہ امیرالمومنین سے بہت متاثر ہوا۔ سیدنا عمرفاروق نے اس کی درخواست پر معاہدہ لکھا اور اس دستاویز پر بطور گواہ تاریخ اسلام کے عظیم کمانڈر وں سپہ سالار اعظم سیدنا خالد بن ولید،سیدنا عمرو بن عاص اور علاقہ شام کے گورنر سیدنا معاویہ بن ابی سفیان اور یکے از عشرہ مبشرہ مشہور صحابی عبدالرحمن بن عوف کے دستخط لیے۔

اس معاہدہ کی ایک شق یہ بھی تھی کہ تمہاری کنیساؤں اور عبادت گاہوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ تمہاری جان و مال کی حفاظت کی جائے گی۔ پادری صفریانوس یروشلم میں638 میں فوت ہوا۔ معاہدہ العمریہ کی دستاویز جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اسلامی رواداری کی انوکھی مثال تھی کہ فتح کے وقت یہاں صرف عیسائی تھے یہود یوں کا یہاں کوئی نمائندہ تھا، نہ یروشلم کے لوگوں میں ان کا اثر و رسوخ، لیکن فاروق اعظم نے ان کی غیر موجودگی میں بھی انہیں شریک معاہدہ کرلیا حالانکہ رومیوں کی طرف سے یہود پر پابندی تھی کہ وہ بیت المقدس کی صرف زیارت کرسکتے ہیں یہاں ٹھہر سکتے ہیں نہ یروشلم میں مقیم ہوسکتے ہیں۔ لیکن سیدنا عمرفاروق نے انہیں یہاں رہنے کاحق بھی دے دیا۔۔۔اور۔۔۔آج اسی عالم یہود نے نہ صرف مسجد اقصی پر قبضہ کیا ہوا ہے بلکہ پورے فلسطین پر اپنے خونی پنجے گاڑ رکھے ہیں۔

برسات میں گھر جلنے کا تماشا

اس معاہدے کی مسلمانوں کے تمام سپہ سالاروں نے ہمیشہ پاسداری کی ، غیر مسلم کے مذاہب اور ان کی عبادتگاہوں کا احترام کیالیکن اس کے جواب میں غیرمسلموں نے موقع ملتے ہی مسلمانوں کی عبادت گاہیں تو رہیں ایک طرف ، خود مسلمانوں کا نام و نشان مٹا ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہندوستان میں 400 سالہ پرانی بابری مسجد شہید کردی گئی۔ سپین واندلس میں اسلامی یادگاروں کو چن چن کر مٹا دیا گیا۔ فن تعمیرکانادر نمونہ مسجدقرطبہ کی ہیئت تک بدل دی گئی۔ آج وہاں اذان دی جاسکتی ہے نہ 2 رکعت ادا کرنے کی اجازت۔ سرزمین اندلس سے مسلمانوں کا نام و نشان ختم کردیاگیا۔ ان کی لائبریاں جلا دی گئیں ، ان کی مقدس کتاب قرآن کریم ، اس کی بے شمارضخیم تفاسیر، کتب احادیث ان کی تشریحات ، کتب فقہ مالکی اور اسلامی لٹریچر کو دریا برد کردیاگیا۔ آج بھی ہالینڈ میں رسول رحمت کے خاکوں کا توہین آمیزمقابلہ کروایاجاتاہے اور پادری قرآن جلانے اور اس کی بے حرمتی کرنے کے لیے کمپٹیشن کی کھلے عام تاریخیں دیتے ہیں۔ روس میں 70 سال تک اسلام کے نام پر پابندی رہی۔ ترکی سے خلافت اسلامیہ کاخاتمہ کر دیا گیا اور مصطفی کمال پاشا کے ہاتھوں عربی زبان، قرآن اور تمام اسلامی لٹریچر اور اسلامی شعائر عیدین کی ادائیگی ممنوع قرار دے دی گئی۔

نہ مصطفیٰ ، نہ رضا شاہ میں نمود اس کی

کہ روح شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی

از ما بگو سلامی آں ترک تند خو را

کہ آتش زد از نگاہی یک شہر آرزو را

(اس تندخو ترک ( اتاترک مصطفیٰ کمال پاشا)کو دور رکھو۔ جس نے اپنی ایک نگاہ سے ہمارے ایک آرزؤں بھرے شہر آرزو میں آگ لگا دی ) مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی تو صدیوں سے ہوتی آرہی ہے ، اس سب کے باوجود دہشت گردی کاالزام امت اسلام پر ہی لگایاجاتاہے۔ برعکس نام نہند زنگی کافوررا ۔۔۔چنانچہ اسی دوران میں جب نماز کا وقت آیا تو لاٹ پادری صفریانوس نے مشورہ دیا کہ آپ چرچ ہی میں نماز پڑھ لیں لیکن سیدنا وامامنا عمربن خطاب نے وہاں نماز ادا کرنے سے انکار کردیا کہ مبادا بعد میں مسلمان اس چرچ پر اپنا حق جتائیں کہ امیرالمومنین نے یہاں نماز ادا کی تھی لہذا یہ چرچ کی جگہ ہمارا ورثہ ہے۔ سیدنا فاروق اعظم نماز کے لیے چرچ سے باہر نکلے اور چند گز دور ایک جگہ صاف کرواکے وہاں نماز ادا کی۔

مسلمان حکمرانوں کی نماز سے غفلت

امیر المومنین کے اس عمل سے نماز کی اہمیت اور حکمرانوں کے لیے اس کی پابندی کرنے کاامر بھی عیاں ہوتا ہے کہ اس سفر میں جہاں بھی سیدنا عمر گئے وہاں انہوں نے نماز کے وقت کا خیال کیااور بلاتاخیر نماز ادا کی۔ آج مسلمان حکمرانوں کی بدقسمتی کہ انہیں نماز سے غرض ہے نہ اس کا اہتمام کی عادت بلکہ انہیں نماز پڑھنا ہی نہیں آتی۔ سعودی عرب کا بادشاہ سلیمان بن عبدالعزیز امریکی صدر باراک اوباما کا استقبال چھوڑکر اللہ احکم الحاکمین کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لیے چلا جائے تو لوگ اسے بنیاد پرست کہیں۔ حالانکہ کم ازکم ان سعودی حکمرانوں نے اسلام کی لاج تو رکھی ہوئی ہے۔ جنہوں نے سیدنا عمر کی سنت کی یاد تو تازہ کردی۔ ہمارے جاہل اور لادین حکمران تو ان امریکی حکمرانوں کے سامنے اللہ و رسول کانام لینے کی جرات بھی نہیں کرسکتے نماز کہاں پڑھیں گے؟ موجودہ حکمرانوں کو ہی لے لیجئے انہیں نماز تو کیا کلمہ اسلام تک نہیں آتا ساری دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے ڈگریاں حاصل کیے ہوئے ہیں ، آکسفورڈ اور کیمبرج کے تعلیم یافتہ ہیں لیکن سورہ فاتحہ تک نہیں پڑھ سکتے۔ مزاروں پہ سجدے کسی کی اقتدا میں تو کرلیں گے لیکن اللہ احکم الحاکمین کے سامنے جھکنے کا سلیقہ نہیں آتا ، بیرسٹری و وکالت میں تو کمال حاصل ہے ، دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک کے اٹارنی جنرل اور وزیر قانون بن جائیں گے لیکن ’’قل ھو اللہ احد‘‘ کی تلاوت نہیں کرسکتے۔ جالب کا کلام ہکلائے بغیر گالیں گے۔ رشدی کے گانے گنگنا لیں گے۔ لیکن سورہ کوثر جو قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورت ہے وہ مکمل نہیں کرسکتے۔ بتائیے اس قدر غفلت و جہالت کاعالم ہے ، تو عالم اسلام پر برکتیں کیسے نازل ہوں۔ سورہ الحج میں اللہ تعالیٰ نے اسلامی حکمرانوں کا منصب یہ بیان کیا ہے کہ وہ نماز قائم کرواتے اور زکوٰۃ وصول کرتے ہیں اور نیکی کا حکم دیتے اور برائیوں سے منع کرتے ہیں۔

﴿ الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ ‎﴾

بقول حکیم الامت علیہ الرحمہ

وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہوکر

تم خوار ہوئے ہو تارک قرآن ہوکر

خوار از مہجوری قرآن شدی

شکوہ سنج گردش دوران شدی

تو در بغل داری کتاب زندہ ای

چوں شبنم بر زمین افتندہ ای

جبکہ ہمارے حکمرانوں کو بس جمہوریت کا راگ الاپنا یاد رہتاہے، نیا پاکستان پرانے کرپٹ اور بے دین مستریوں کے ہاتھوں سے تعمیر کرواناہے۔ کرپشن سے پاک نظام ان وزیروں کے ذریعے لانا ہے جو نہیں جانتے کہ اللہ و رسول کے احکامات کیا ہیں ؟

اگر کوئی اہم مسئلہ شیڈول سے خارج ہے تو وہ اللہ احکم الحاکمین کا دین ہے۔ اللہ و رسول کے احکام کی پیروی کا ذرا خیال نہیں آتا اور نہ ہی ان کی ترجیحات میں شامل ہے ،بالکل اس طرح جیسے قوم موسیٰ میدان تیہ میں چالیس سال گھومتی رہی۔ تھک ہار کر جب واپس آئی تو اسی جگہ پر تھی جہاں سے سفرشروع کیا تھا۔ یہی حال ہماری قوم کاہے۔ چالیس سال پہلے روٹی کپڑے اور مکان کا نعرہ تھا اب بھی وہی فسون ساحری ہے۔ سیدنا عمر کے نماز کے بروقت اہتمام سے دنیا کے حکمرانوں کے لیے ایک پیغام تھا کہ عزت چاہتے ہو تو اللہ کی طرف آؤ ۔تیمارداری اور تندرستی چاہتے ہو تو اللہ کی طرف آؤ۔ حی علی الصلاۃ… حی علی الفلاح۔ جیسا کہ شاعر مشرق کے کلا م میں مرید ہندی کا سوال تھا کہ

پڑھ لیے میں نے علوم شرق و غرب

روح میں باقی ہے درد و کرب

توپیررومی کا جواب تھا

دست ہر نااہل بیمارت کند

سوئے مادر آ تیمارت کند

ہر نالائق لیڈر نے تجھے غلط راستے پر بھگا بھگا کرہلکان کردیا ہے۔ اب اس کاحل صرف ایک ہے کہ ماں (دین و شریعت) کے پاس چلا آ۔۔۔ جو تیری تیمار داری کرے گی۔ تجھے دوا کی نہیں عیادت کی ضرورت ہے۔ سیدنا فاروق اعظم نے اپنے ساتھیوں سمیت اس جگہ (جہاں آج مسجد عمرہے اور ہم جہاں بیٹھ کر اپنی گمشدہ تاریخ کا ماتم کررہے ہیں) نماز اداکی۔ بیت اللحم تشریف لے گئے تو وہاں بھی نماز کا وقت آ گیا تو نماز ادا کی۔ لاٹ پادری صفریانوس کے ہمراہ یروشلم کا دورہ کرتے ہوئے جب عیسائیوں کے چرچ (کنیسۃ القیامۃ) میں آگئے۔

لاٹ پادری سیدنا عمر کی دور اندیشی اور دیانت داری سے اتنا متاثر ہوا کہ اپنے چرچ کی چابیاں بھی آپ کے حوالے کردیں سیدنا عمر نے وہ چابیاں وہاں پہ مقیم ایک مدینہ کے خاندان کے حوالے کر دیں اور آج تک اسی خاندان کے پاس موجود ہیں جس طرح خانہ کعبہ کی چابیاں عتیبی خاندان میں 1400 سال سے موجود ہیں۔

یروشلم کے باسیوں نے اسلام کے اس عظیم سپوت اور تاریخ اسلام کے اس عظیم محسن کے اس اقدام کو یاد رکھا۔ اس جگہ پر نشانی لگادی۔

خلیفہ مروان بن الحکم کے زمانہ تک یہاں صرف لکڑی کاایک ڈھانچہ بطور علامت نصب رہا۔ بعد کے ادوار میں یہاں چھوٹی سی مسجد بطور علامت موجود رہی۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کے بیٹے الافضل صلاح الدین نے 1193میں ایک بڑی خوبصورت مسجد بنوا دی۔

بعد ازاں عثمانی سلطان عبدالمجید اول نے اپنے دور میں اس کی تزئین و آرائش کی۔ یہاں بھی فاروقی سجدے کا نشان ہے اور بیت اللحم میں بھی مسجد عمر،فاروقی سجدے کی نشان کے طور پر موجود ہے۔ یہی علامت ہے صحیح لیڈرکی۔

داغ سجود تری جبین پر ہوا تو کیا

کوئی ایسا سجدہ کر کہ زمین پر نشان رہے

اب اسی خوبصورت مسجد سیدنا عمر فاروق میں ہم گناہگار آج بیٹھے ہوئے اپنے شاندار ماضی کویاد کررہے ہیں۔

٭٭٭

شب معراج

رجب کی 27 تاریخ کو شب معراج منائی جاتی ہے ۔ دن کوروزہ اور رات کو قیام کیا جاتا ہے ۔ محافل نعت اور مختلف دینی مجالس منعقد کی جاتی ہیں اورمساجد میں چراغاں وغیرہ کیا جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ قابل ذکر ہے کہ شب معراج کی تاریخ تو کجا اس کے مہینے میں بھی اختلاف ہے ۔ کچھ نے معراج کے لئے ربیع الاوّل، کچھ نے محرم اور کچھ نے رمضان کا ذکر کیا ہے ۔ (الرحیق المختوم:ص137)

جب شب معراج کے مہینے میں ہی اختلاف ہے تو اس کی تاریخ کا تعین کیسے کیا جاسکتا ہے ۔

دوسرے یہ کہ اگر بالفرض یہ ثابت بھی ہو جائے کہ شب معراج 27 رجب ہی ہے تب بھی اس دن کا خصوصی روزہ، قیام، محافل و مجالس اور چراغاں وغیرہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ یہ بات طے ہے کہ

معراج مکہ میں ہوئی اور اس کے بعد تقریباً 13 برس نبی کریم ﷺ صحابہ میں موجود رہے ۔ اگر اس دن کوئی خاص عمل باعث برکت و فضیلت ہوتا تو سب سے پہلے اسے نبی کریم ﷺ اختیار کرتے جبکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اس دن کاکوئی بھی خاص عمل نہ تو رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور نہ ہی کسی صحابی سے ۔ تو اس دن کو بعض اعمال کے لئے خاص کرنا دین میں نئی ایجاد کردہ بدعت نہیں تو اور کیا ہے ؟ لہٰذا ایسی تمام بدعات و خرافات سے خود بھی بچنا چاہئے اور دوسروں کو بھی بچانا چاہئے ۔

نیز اگر کوئی نفلی روزہ و قیام کا اہتمام کرناہی چاہتا ہے تو اس کے لئے سنت نبویﷺ موجود ہے۔ آپﷺ روزانہ رات کو گیارہ رکعت قیام کیا کرتے تھے ۔ (موطأ امام مالک:243)

اور ہر ہفتے میں سوموار اور جمعرات کا نفلی روزہ رکھا کرتے تھے ۔ (سنن أبوداؤد: 2436)

اس لئے اگر کوئی شخص نفلی روزہ رکھنا چاہے یا قیام اللیل کرناچاہے تو اس سنت کو اپنائے، بدعات میں مبتلا ہونے کی کیا ضرورت ہے جو کوشش و محنت کے باوجود انسان کے لئے ہلاکت کا باعث ہیں ۔

٭٭٭

امام حسن بصری ﷫ ایک رات دعا کر رہے تھے :

جس نے مجھ پر ظلم کیا اسے تو معاف فرما۔

یہ دعا انہوں نے بہت کثرت سے کی یہاں تک ان کے پڑوسی کو اگلے دن کہنا پڑا : اے امام! کل رات آپ نے ظلم کرنے والے کے لئے اتنی دعا کی کہ مجھے خواہش ہوئی کہ کاش میں نے کبھی آپ پر ظلم کیا ہوتا. آخر اس کی کیا وجہ ہے؟امام نے فرمایا :میں نے اللہ کا فرمان پڑھا :﴿ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُ‌هُ عَلَى اللَّـهِ﴾’’جو معاف کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘(شرح البخاري لابن بطال: 6؍575)

٭٭٭

شیخ الاسلام علامہ ابن تيميہ ﷫ فرماتے ہیں:

” مصيبة تُقبل بها على الله ، خير لك من نعمة تنسيك ذكر الله “.

’’وہ مصیبت جو اللہ کو یاد کرنے کا باعث ہو اس نعمت سے بدرجہا بہتر ہے جو اللہ سے غافل سے کردے۔‘‘

(تسلية أهل المصائب للمنبجي: 224)

تبصرہ کریں