سفر مسجد اقصی اور ارض فلسطین کی روح افزا روئیداد۔ حافظ عبد الاعلیٰ درانی

داؤد محل کاوزٹ اور قبر داؤد

فلسطینی گائیڈ کی رہنمائی میں ہم قدیم قدس کے علاقہ میں سیدنا داؤد کا قدیم محل دیکھنے گئے۔ داؤدی محلہ نئے پتھروں سے بنی ہوئی عمارتوں کا علاقہ ہے مقامی لوگ بتارہے تھے کہ یہ مراکشی محلہ تھا جسے یہودیوں نے مسمار کرکے نئے مکان بناکریہودیوں کو آباد کردیا ہے۔ مرکزی راستے سے داخل ہوں تو گیٹ پر گولیوں کے نشانات نظر آتے ہیں۔ جو یہودیوں کے مسلمانوں پر مظالم کی نشاندھی کرتے ہیں۔ داؤد محل کا احاطہ بہت وسیع ہے۔ اس سے آگے ایک عمارت ہے ، اس کے متعلق مشہور ہے کہ یہی سیدنا داؤد کا محراب تھا جہاں وہ آیات الٰہیہ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ یہیں پر مشہور مقدمہ لیے دو شخص دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے تھے جس کا سورہ ص آیت 21 میں ذکر ہے۔ اس کے عقب میں سیدنا داؤد کی قبر بتائی جاتی ہے۔

یہاں زیارت کے آداب ہیں کہ

مرد ہوں یا خواتین ، سر ڈھانپ کر داخل ہوں گے۔ اختلاط نہیں بلکہ مرد علیحدہ اور عورتیں علیحدہ۔ احاطہ میں فوٹو گرافی، تصویر کشی منع ہے۔ اندر داخل ہوں تو مکمل خاموشی کے ساتھ وغیرہ۔ وہاں پہنچ کر تمام زائرین میں کچھ دیر کے لیے شرافت آجاتی ہے۔ ہم اندر داخل ہوئے تو قبر سے متصل حجرہ میں یہودی لوگ بیٹھے کتاب مقدس کی تلاوت کر رہے تھے۔ اس کے اندر دوسرا کمرہ ہے، اس میں قبر ہے، اس کے ساتھ ایک مذہبی یہودی باآواز بلند تلاوت کر رہا تھا اور ہر تھوڑی دیر بعد زور سے تالی بجاتا اور دیوانہ وار قبر کو بوسے دینے لگتا۔ قرآن مجید کی سورہ الانفال کی آیت 35 کا مفہوم سمجھنے کی یہ اور دیوار گریہ بہترین جگہیں ہیں۔ وہ جگہ بھی دیکھی جس کا ذکر سورہ الصاد میں ہے۔

اس سے آگے جائیں تو ان کی قبر کاسائن ہے جہاں داخلے کے آداب بڑے سخت ہیں۔ کوئی عورت بغیر سکارف اور ننگی ٹانگوں کیساتھ داخل نہیں ہوسکتی وہاں ایک یہودی ربائی کھڑاسروس میں مشغول تھا اور لوگوں کو آنے جانے کے آداب بتاتا تھا۔ ایک چھ فٹ پلیٹ فارم پران کی قبر رکھی ہوئی ہے اس کے اوپر چھ کونوں والا ڈیوڈ سٹار اور اسرائیلی پرچم لپٹا ہوا ہے ۔ دنیائے مذہب پر اسلام کاکتنا برا احسان ہے کہ

اس نے سیدنا داؤد کوایک برگزیدہ نبی کے طور پر پیش کیا؟ ورنہ ان یہودنے تو انہیں ایک (نعوذ باللہ) ایک عام سازشی بادشاہ کے طور پر پیش کیاتھا۔ جو ایک عورت کو حاصل کرنے کی خاطر اس کے خاوند کو مروا دیتا ہے نعوذ باللہ۔

یہی حال دیگر انبیاء کے ساتھ اس مغضوب علیہ قوم نے کیا۔ سیدنا زکریا کوکاہن بنا کر پیش کیا۔ داؤد محل کے باہر ان ظالموں نے سیدنا داؤد کابلیک مجسمہ بھی بنایاہوا ہے۔ میں نے تو احتراما تصویرنہیں بنائی جبکہ شیخ مودی نے اپنی تصویر بھی اس بلیک مجسمّے کے ساتھ بنوائی تھی۔ سیدنا عیسی ٰ کے بارے ان کارویہ نہایت ہی سنگدلانہ تھا واپسی پر وہ جگہ بھی دیکھی جہاں بزعم نصاریٰ سیدنا عیسی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آخری رات کاکھانا تناول فرمایا تھا ۔

دیوار براق یا دیوار گریہ کا وزٹ

مسجد اقصی کی زیارت کے ضمن میں ایک اور جگہ کا ذکرکرنا بہت ضروری ہے ، وہ بیت المقدس کے مغربی جانب تقریبا2411سال پرانی ایک 488میٹر لمبی اور19میٹر اونچی دیوارہے۔ یہودیوں کے نزدیک یہ دیوار عظمت رفتہ کی یاد گار سمجھی جاتی ہے اور بیت المقدس میں یہی ایک دیوار ہے جس کے بہانے سے وہ مسجد اقصیٰ پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں اس کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی بہانہ نہیں جس کو بنیاد بنا کر وہ مسجد اقصیٰ پر اپنا حق جتا سکیں اورظالموں نے اسی ایک دیوار پر قبضے کا بہانہ بنا کر پورے فلسطین میں ظلم وستم اور قتل و غارت کا بازار گرم کیا ہوا ہے اور تمام انسانی حقوق اور انسانیت کو پائمال کیے جارہے ہیں۔ اس دیوار کی ایک جانب کو دیوار گریہ اور دوسری جانب کو دیوار براق کے نام سے یاد کیاجاتاہے یا یوں کہہ لیجئے کہ مسلمان جسے دیوار براق کہتے ہیں اسی کی دوسری جانب کو یہودی دیوار گریہ کہتے ہیں۔ اس دیوار گریہ تک جانے کے لیے قدیم بازار سے گزرتے ہوئے پتھریلی ناہموار زمین کا طویل راستہ طے کرنا پڑتا ہے۔ اس دیوار تک جانے کے لیے ایک تفتیشی گیٹ بنایا گیا ہے جہاں اسرائیلی سیکورٹی گارڈ متعین ہوتے ہیں۔ یہودیوں کو عموماً بلا روک ٹوک اندر جانے کی اجازت ہے۔ باقی زائرین کا داخلہ گارڈز کی صوابدید پر ہوتا ہے۔ ہمارے پاس وقت کافی محدود تھا ۔

ابھی ہم نے داؤد محل سمیت کئی جگہوں کا وزٹ کرنا تھا اس لیے ہم نے دیوار گریہ تک جانے کا ارادہ ملتوی کردیاکیونکہ اس دیوار کا اندرونی حصہ دیوار براق ہم اچھی طرح دیکھ بھی چکے تھے بلکہ مسجد براق میں کافی دیر بیٹھنے کی سعادت ہمیں حاصل ہوچکی تھی۔ اس لیے دیوار گریہ کے قریب جانے کا کچھ زیادہ شوق بھی نہ تھا۔ داخلہ گیٹ کے تھوڑا سا آگے ایک بالکونی نظر آئی ، ہم سب وہاں پہنچ گئے اور اس بالکونی سے ہم نے دیوار گریہ کا اچھی طرح نظارہ کرلیا، یہ شاید اچھا ہی ہوا کیونکہ نسبتاً یہیں سے سارے علاقہ کا مشاہدہ بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔ اس بالکونی سے اوپر ایک جگہ گنبد کا بڑا نکلس رکھا ہے اس پریہ عبارت لکھی ہوئی ہے کہ

’’اگر ہیکل سلیمانی کی تعمیر دوبارہ کی گئی تو اس کے گنبد پر یہ نیکلس رکھا جائے گا۔‘‘ لا قدر اللہ لکم… ان شاء اللہ

1967کی جنگ کے بعد یہ یہ علاقہ اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا اس کے چند ہی دنوں بعد اسرائیلی حکام نے مراکشی محلہ کے انہدام کا حکم دے دیا اور وہاں مقیم لوگوں کو زبردستی نکال باہر کیا تاکہ یہودیوں کو دیوار گریہ تک رسائی کی سہولت فراہم کی جاسکے۔

دیوار گریہ کامحل وقوع

اب ہم قارئین کو اس دیوارکا مکمل تعارف کرواتے ہیں۔ اور یہود کے اس دعوے کا جائزہ بھی لیتے ہیں کہ کیا یہ دیوار واقعی مزعومہ ہیکل سلیمانی کا حصہ ہے جسے آج سے تقریبا3009سال پہلے تعمیرکیاگیاتھا۔ یا وہ ہیکل سلیمانی مکمل طور پر تباہ و برباد کیا جاچکا ہے ؟اور یہ دیوار600سو سال بعد ہیڈریان کے دور میں تعمیرکی گئی ہے۔ اس کے لیے ہمیں تاریخ کا نقلی و عقلی جائزہ لینا ہوگا۔

قدیم یروشلم (old city)میں ایک محلے کانام ہے مراکشی محلہ جسے انگریزی میں مراکون کوارٹرز، اردو میں مراکشی یامغربی محلہ اور عربی میں’’حارۃ المغاربہ‘‘ کہاجاتاہے۔ باب مغاربہ کے جنوب مشرق اور القدس الشریف کے جنوب مغرب میں واقع یہ دیوار ہے جس کے دروازے سے گزر کر خاتم النّبیین سیدنا محمد e معراج پر تشریف لے گئے تھے۔ اسی لیے اسے دیوار براق کہا جاتاہے اور 70عیسوی میں رومی جنرل طیطوس نے ہیکل مقدس کو تباہ کردیاتھا تو اس کی دست برد سے صرف دیوار کایہی حصہ بچ سکا تھا۔ یہودی اسے اپنے دور عظمت کی بچی ہوئی نشانی سمجھ کرمقدس جانتے اور یہاں آکر گریہ و زاری کرتے ہیں اسی لیے اسے دیوار گریہ کہتے ہیں۔

عربی میں اس دیوار کو حائط المبکی اور انگریزی میں Weeping wallکہا جاتاہے۔ اس کے جنوب میں باب مغاربہ اور مغرب میں یہودی محلہ واقع تھا۔ یہ مسلم محلہ کی توسیع تھی جسے صلاح الدین ایوبی کے بیٹے نے بارہویں صدی میں بنوایاتھا۔

1967کی جنگ کے بعد یہودی قبضے میں آتے ہی اسرائیلی حکومت نے مراکشی محلہ کو منہدم کردیااور یہاں کے باشندوں کو نقل مکانی پر مجبور کردیا اور جن کو یہاں سے نکلنے کا موقع نہیں ملا انہیں یہیں شہید کردیا گیا اور یورپ و روس میں پھیلے ہو ئے یہودیوں کوزبردستی یہاں آباد کیا گیا۔

یہود کا خیال ہے کہ یہ دیوار سیدنا داؤد اور سیدنا سلیمان کے تعمیر کردہ ہیکل مقدس کا بقایا ہے۔ لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ

اسے سیدنا داؤد اور سیدنا سلیمان نے نہیں بنایا بلکہ ایرانی بادشاہ سائیرس اعظم (539 قبل مسیح ) کے دور میں یہاںعبادتگاہ کو دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا اور اس کا نام ہیکل سلیمانی نہیں بلکہ ’’ بیت ایلیا‘‘ رکھا گیا تھا۔ جسے اس کی تعمیر کے تقریباً 600(چھ سو ) سال بعد رومی جرنیل طیطوس نے70ء میں شہریروشلم اور وہاں بننے والی بیت ایلیا‘‘ نامی عبادتگاہ کو… دونوں برباد کردیے تھے۔ اس تباہی میں صرف دیوار کا یہ حصہ باقی بچا تھا۔

آئیے اس امر کاجائزہ لیتے ہیں کہ کیا واقعی یہاں کوئی ہیکل سلیمانی تھا جو مسجد اقصی کے نیچے دفن کیا گیا ہے اور جس کی تلاش کے نام سے یہودیوں نے آفت مچائی ہوئی ہے۔ اور مسجد اقصٰی پر غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے اور اسے منہدم کرکے نیچے سے مزعومہ ’’ہیکل سلیمانی‘‘ برآمد کرنا چاہتے ہیں۔ جس کا سرے سے کوئی وجود تھا ہی نہیں۔ اور اس دیوار کو اس کاحصہ کہتے ہیں ؟

بنی اسرائیل کی ایک تاریخ تودنیا کی سب سے مستند کتاب قرآن کریم نے بیان کی ہے جس کی بیان کردہ کسی بات کی دنیا بھر کے محققین تردید نہیں کرسکے۔ لیکن قرآن کریم کے علاوہ خود یہود کی مذہبی و تاریخی کتابوں میں بھی یہ حقیقت بکھری پڑی ہے کہ

یہ قوم دنیا کی سب سے سخت دل ، ظالم سرشت ، دشمنیاں پالنے والی ، عفو و درگزر اورحلم و کرم سے محروم ، قتل انبیاء و صالحین جیسے جرائم میں ملوث قوم ہے۔ یہ سیدنا یعقوب کی اولاد ہے۔ جو سیدنا ابراہیم کے دوسرے بیٹے سیدنا اسحق کے بیٹے سیدنا یعقوب کی نسل سے ہیں۔

ان کے پہلے بڑے اور پہلے بیٹے اور ہمارے جد امجد سیدنا اسماعیل اپنی پیدائش کے کچھ ہی عرصہ بعد بحکم الہی اپنے والد مکرم اور والدہ سیدہ ہاجرہ صلوات اللہ وسلامہ علیھا کی ہمراہی میں وادی حجاز میں آگئے تھے۔ یہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے زمزم کا پانی فراہم کیا۔

اسی علاقے میں انہیں راہ للہ قربانی کے لیے پرخلوص پیشکش کی وجہ سے ذبح عظیم کافدیہ ملا اور پھر اپنے والد مکرم کی معیت میں انہوں نے اللہ کی عبادت کے لیے خانہ کعبہ تعمیر کیاجسے روئے زمین پر عبادت خداوندی کے لیے سب سے پہلا گھر ہونے کا اعزاز ملا اور ٹھیک اس کے چالیس سال بعد سیدنا ابراہیم کے دوسرے بیٹے اسحق نے اللہ کے حکم سے کوہ صہیون پر دنیا کی دوسری عبادتگاہ مسجد اقصیٰ کی بنیاد رکھی۔

خانہ کعبہ کی وجہ سے مکہ مکرمہ شہر معرض وجود میں آیا اور مسجد اقصیٰ کی وجہ سے دنیا کا دوسرا بڑا شہر یروشلم آباد ہوا۔۔۔ یروشلم کا ایک معنی ٰاور بھی ہے بلکہ حقیقی معنی ہے سرزمین اسلام۔۔۔

یہاں بھی یہودیوں نے تاریخ میں گڑبڑ کی۔ ایک تو ذبح ہونے کا اعزاز سیدنا اسماعیل کی بجائے سیدنا اسحق کے نام لگانے کی کوشش کی اور دوسراجو اعزاز بیت اللہ میں نصب شدہ حجر اسود کو حاصل ہوا ۔ وہی انہوں نے ’’صخرہ‘‘ کے نام کرنے کی کوشش کی بلکہ اس سے بھی زیادہ فضائل تراش لیے۔ جس کا تفصیل کے ساتھ ذکرہم پچھلے صفحات میں کرچکے ہیں۔

چند لمحے یہاں ٹھہریئے اور دونوں شہروں کے باسیوں کی فطرت پر غور کیجئے۔ باشندگان حجاز صالح فطرت تھے۔ مہمان نواز تھے اور وفا و حیا والے تھے، بات کے سچے اور قول کے پکے تھے۔ اس کے برعکس کوہ صیہون اور اس کے ارد گرد کے رہنے والے اکثر لوگ فطرتاً شرارتی ، سنگدل ، قاتل فطرت کے مالک ، مہمان نواز تو درکنار مہمانوں کے ساتھ برا سلوک کرنے والے ، خود غرض ، بے وفا اور عدیم الحیاء تھے۔ اس لیے زیادہ عرصہ غلام رکھے گئے۔ لیکن جب بھی انہیں آسرا ملا انہوں نے ظلم و فساد کی اخیر کردی۔ جب تک یہ غلام رہے فرعون کے قابو میں رہے جب سیدنا موسیٰ نے انہیں اس کی غلامی سے نجات دلائی اور انہیں آزادی کی لذت سے ہمکنار کیا تو انہوں نے اللہ کے نبی اور اپنے محسن سیدنا موسی کے ساتھ بھی مذاق و استہزاء کرنے میں کچھ شرم محسوس نہیں کی۔

ان ناہنجاروں نے سیدنا موسیٰ کو بہت تنگ کیا۔ جہاد سے جی چرایا اور احکام خداوندی کا کھلم کھلا مذاق اڑایا جس کی پاداش میں چ40 سال کے لیے ان کا ارض مقدس میں داخلہ ممنوع کردیا گیا۔ سورہ بقرہ انہی کی بداعمالیوں کے تذکرے سے بھری پڑی ہے اور یہی کیفیات کتاب مقدس توریت اور صحف انبیاء میں بیان ہوئی ہیں۔ میدان تیہ میں بنی اسرائیل کی صحرانوردی کے دوران ہی سیدنا موسی کا انتقال ہوگیا۔

بعد میں یوشع بن نون کی قیادت میں جہاد کی برکت سے حسب وعدہ بنی اسرائیل کو ارض مقدس میں داخلہ بھی مل گیا اور دنیوی جاہ و جلال، دینی قیادت وسیادت بھی انہیں میسر آگئی:

﴿وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًا وَآتَاكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ﴾ (المائدۃ)

اللہ تعالیٰ نے انہیں 8، 9 سو سال اس علاقے میں جمائے رکھا۔ اس دوران میں کئی انقلاب آئے اور یہ قوم انقلابات زمانہ کا نشانہ بنتی رہی۔ حتی کہ 9 سو سال بعد ان میں سیدنا داؤ جیسا جلیل القدر نبی پیدا ہوا جس نے اس قوم کی قیادت کی اورجالوت جیسے ظالم وجابر بادشاہ کو کیفر کردار تک پہنچایااور اللہ کے نام کو سربلند کیا۔ زمین کوعدل و انصاف سے بھردیا۔

عہد نامہ قدیم Old testament کے مطابق سیدنا داؤد u کے زمانے میں یہاں یبوسی قوم آباد تھی ، یہ مضبوط دیواروں کے ساتھ قلعہ بند شہر تھا۔ معرکہ طالوت و جالوت جس کا تذکرہ قرآن کریم سورہ البقرہ کی آیات 249 تا251میں ہے۔

یہ شہر سیدنا داؤد ہاتھوں فتح ہوا۔ وہی اس کے بادشاہ بنے۔ اسی لیے اسے شہر داؤدCITY OF DAVID)کہا جاتاہے کہ موجودہ شہر، جنوب مشرقی دیوار کی طرف باب مغاربہ سے باہر تھا۔

سیدنا داؤد کی وفات کے بعد سیدنا سلیمان (961۔ ق۔ م )بادشاہ بنے، تو انہوں نے اس شہر کو وسعت دی۔

اور سیدنا یعقوب کی بنائی ہوئی عبادتگاہ مسجد اقصیٰ کی تجدید وتعمیر کرائی اور اس کا بڑا حصہ انہوں نے اپنے ماتحت ’’جنوں ‘‘سے تعمیرکرایا۔اہل اسلام اسے مسجد اقصی کہتے ہیں ۔

مسجدکی تعمیر کے دوران میں ہی سیدنا سلیمان کاوقت اجل آپہنچا اور وہ سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ ﴿ فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ﴾ (سبا: 14)

اس ہیکل یا مسجد کی تعمیر سے لے کر آخری نبی سیدنا محمدﷺ کے درمیان تقریباً 1572سال کا وقفہ ہے۔ یہ ڈیڑھ ہزار سالہ دور بنی اسرائیل کے عروج و زوال کی جو داستان سناتا ہے وہ اس قوم کے مزاج کو سمجھنے والے کے لیے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے کوئی زیادہ مغز ماری کرنے کی ضرورت نہیں۔

دنیا کی سب سے مستند تاریخ قرآن کریم کی ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ بنی اسرائیل کی شرارتی فطرت ، سنگدلی ، خونخواری ، قتل و غارت کی عادت حتی کہ انبیاء﷩ اور صالح افراد کا سفاکانہ قتل بھی بنی اسرائیل سے سرزد ہوتا رہا۔ اس کی وجہ سے ان پر زوال آتارہا اور محمدﷺ کی بعثت تک ڈیڑھ ہزار سالہ بنی اسرائیل کی تاریخ دو بڑے انقلابات کی نذر ہوئی۔

اس کاتذکرہ سورہ بنی اسرائیل کی آیات نمبر4-7 میں ہواہے:

﴿ وَقَضَيْنَا إِلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا﴾

بنی اسرائیل کی ریاستوں میں تقسیم اورہیکل سلیمانی کی پہلی تباہی

سیدنا سلیمان کا انتقال 926(ق۔ م ) میں ہوا۔ ان کی وفات کے بعد اسرائیلی باہمی چپقلش کے باعث دو حصوں میں بٹ گئے۔ شمالی فلسطین اور شرق اردن میں دولت اسرائیل کا پایہ تخت ’’سامریہ‘‘ بنا۔ اورجنوبی فلسطین اور ادوم کے علاقے میں سلطنت یہودیہ کاپایہ تخت’’ یروشلم‘‘ بن گیا۔ شمالی فلسطین کی ریاست اسرائیل میں شرک اور اخلاقی بیماریاں عروج پرپہنچ گئیں۔ ان کی اصلاح کے لیے مختلف انبیاء تشریف لاتے رہے۔ مثلاً

سیدنا الیاس ، سیدنا الیسع، سیدنا ہوسیع ، سیدنا عاموس﷩ ودیگر۔ لیکن ان کی پے درپے تنبیہات نے اسرائیلیوں پر کوئی اثرنہیں ڈالا۔ جس کے نتیجے میں 721ق۔م) میں اشوریہ کے سخت گیر بادشاہ سارگون نے سامریہ کوفتح کرکے دولت اسرائیل کا مکمل خاتمہ کردیا۔

ہزارہا اسرائیلی تہہ تیغ کردیے گئے اور27ہزار سے زیادہ اشوری سلطنت کے مختلف علاقوں میں تتر بتر کردیے اور دوسرے علاقوں سے لاکر غیر قوموں کو اسرائیل کے علاقے میں بسایاگیا۔ جبکہ بنی اسرائیل کی دوسری ریاست جو یہودیہ کے نام سے جنوبی فلسطین میں قائم ہوئی تھی جس کاپایہ تخت یروشلم بناتھا۔

اس میں بھی وہی بد اخلاقیاں راسخ ہوچکی تھیں ان میں سیدنا یسعیاہ اور سیدنا یرمیاہ ، سیدنا حنانی ، سیدنا میکایاہ ، سیدنا یرمیاہ جیسے جلیل القدر انبیاء اصلاح کے لیے تشریف لاتے رہے لیکن ان کی کوششوں کے باوجود اسرائیلی شرک اور دیگر برائیوں سے باز نہ آئے۔ تو اللہ نے ان پر ایک سفاک بادشاہ شاہ بابل بخت نصر کو مسلط کردیا۔ یہ (598ق۔ م ) کا زمانہ تھا۔

بخت نصر نے یروشلم سمیت پوری دولت یہودیہ کو اپنے تابع فرمان بنا لیا۔ لیکن بغاوت کے فطری عنصر نے اسرائیلیوں کو چین نہ لینے دیا آخرکار587ق م میں بخت نصرنے ایک سخت حملہ کرکے یہودیہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو اس طرح پیوند خاک کردیا کہ

اس کی ایک دیوار بھی اپنی جگہ پر کھڑی نہ رہ سکی،اور ان کے مذہبی سرمائے کو آگ لگادی اور 10 لاکھ بنی اسرائیلیوں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ عراق لے گیاتھا۔ یعنی سیدنا سلیمان کے 3 سو 40 سال بعد بیت المقدس یاہیکل سلیمانی مکمل طور پرمسمارکردیاگیا تھا۔ یہ تھا بنی اسرائیل کاپہلا فساد اور پہلی سزا جس کاتذکرہ سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر4 میں کیاگیا:

﴿فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أُولَاهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِلَالَ الدِّيَارِ ۚ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُولًا﴾

’’اور ہم نے بنی اسرائیل کے لیے کتاب میں لکھدیا تھا کہ تم زمین میں دو بار فساد عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے۔پس جب پہلا موقع آیا ہم نے اپنے بندے بھیج دیئے جو بڑے جنگجو تھے پس وہ تمہارے اندرگھس کر چاروں طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا، جسے پورا ہو نا تھا۔‘‘

٭٭٭

اپنے گهروں کا جائزہ لیجئے

امام ابن باز﷫ فرماتے ہیں:

“فكلما كان أهل البيت أكثر قراءة للقرآن، وأكثر مذاكرة للأحاديث، وأكثر ذكرا لله وتسبيحا وتهليلا، كان أسلم من الشياطين وأبعد منها.

وكلما كان البيت مملوءا بالغفلة، وأسبابها من الأغاني والملاهي والقيل والقال، كان أقرب إلى وجود الشياطين المشجعة على الباطل.

’’جس گھر والے جتنا زیاده قرآن پڑهیں گے، پیارے رسول ﷺ کی احادیث کا مذاکرہ کریں گے اور اللہ کے ذکر و اذکار ميں مصروف رہیں گے وه گھر اتنا ہی زیادہ شیطان سے دور اور ان کی آفات و شرور سے محفوظ رہے گا۔

اس کے بر عکس جس گھر والے جتنا زیادہ اللہ کے ذکر واذکار سے غافل و لاپرواہ ہوں گے یعنی گانے بجانے، لہو و لعب اور قیل و قال میں مصروف رہیں گے اس گھر ميں اتنا ہی زیادہ شیطانوں کا بسیرا ہوگا۔‘‘

(الفوائد العلمیہ من الدروس البازیہ: 1؍142)

٭٭٭

حافظ ابن رجب ﷫ نے فرمایا :

اللہ کی راہ میں دل کا سفر بدن کے سفر سے زیادہ اہم ہے۔

کتنے ہی مسافر ایسے ہیں جو اللہ کے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں مگر گھر کے رب سے دور ہوتے ہیں۔

کتنے ایسے بھی ہیں جو اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں مگر ان کے دل رب سے جڑے ہوئے ہیں۔

(لطائف المعارف: 2؍252)

٭٭٭

تبصرہ کریں