سفر مسجد اقصی اور ارض فلسطین کی روح افزا روئیداد ( قسط 3)-حافظ عبدالاعلیٰ درانی

مصلی مروانی

مسجداقصی کے بائیں پہلو میں مصلی مروانی کے نام سے ایک وسیع وعریض پرہیبت دالان ہے ،جوکئی ہزار مربع میٹر ( ایک محتاط اندازے کے مطابق 600×500 مربع میٹرپر مشتمل ہے )جسے مسجد اقصی کے نیچے جبل الہیکل کی جنوبی دیوار کی بنیاد پر بنایاگیاتھا۔ ساڑھے بارہ میٹر نیچے ستونوں کی بارہ قطاریں ہیں۔یہ بھی مسجداقصیٰ کا حصہ ہے بلکہ اسے مسجداقصی کازیریں حصہ کہاجائے تو زیادہ مناسب ہے، بڑے بڑے پتھروں سے بنا ہوا ، جو کم وبیش تین ہزار سال سے بھی زیادہ پرانے پتھرہیں۔ لگتاہے حضرت سلیمان کے ماتحت جنوں نے جو پتھر فراہم کیے تھے وہ یہاں لگائے گئے ہیں۔ بلکہ شاید انہی نے لگائے تھے اور لگتاہے کہ مسجد اقصی کایہ حصہ جنوں نے ہی تعمیر کیاتھا ۔ اور شایدرسول اللہ ﷺ نے جس مسجداقصی میں نماز ادا کی، اگر وہاں کوئی اس دور میں عمارت تھی تو وہ یہی ہوسکتی ہے ، جس پر امتداد زمانہ کے باعث پردہ پڑا رہا۔ واللہ اعلم ۔جس کامین گیٹ معراج کی رات گیٹ کیپر کی کوشش کے باوجود بند نہیں ہوسکا تھا۔جس کاذکر حافظ ابونعیم اصفہانی نے دلائل النبوۃ میں کیا۔ اس کاپہلا حصہ صحیح بخاری میں بھی موجود ہے۔( کتاب بدء الوحی حدیث نمبر7)

’’قیصر روم ہرقل ایرانیوں پر فتح حاصل کرنے کے بعدبیت المقدس آیاتواسے رسول اللہ ﷺ کا خط ملا جس میں اسے اسلام لانے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس نے آنحضور ﷺ کے بارے مزید معلومات حاصل کرنے کی غرض سے مکہ سے آنے والے لوگوں کو اپنے پاس لانے کا کسی معتبرشخص کو دربار میں حاضر کرنے کا حکم دیا۔ان دنوں سردار مکہ ابوسفیان ایک تجارتی سفر کی بناپر یروشلم میں موجود تھا، شاہ اور ابوسفیان کے مابین دس سوالات وجوابات ہوئے ۔ان میں سے ایک سوال یہ تھاکہ اس شخص (مدعی نبوت حضرت محمد ﷺ) نے کبھی جھوٹ بولا ۔ابوسفیان نے نفی میں جواب دیالیکن اتنا کہہ دیا کہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ انہی دنوں یروشلم میں راتوں رات آئے اور انبیاء کی امامت کی۔ ابوسفیان کاخیال تھا کہ میرایہ کہنا ہرقل کو آنحضور ﷺ کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا کرسکتاہے، ابوسفیان تو رخصت ہو، الیکن مجلس میں موجود شام کے لاٹ پادری ابن ناطور۔۔۔نے کچھ کہنے کی اجازت چاہی، اس نے کہا: ’’ابوسفیان کی اس بات پر اسے ایک رات کا واقعہ یاد آگیا ہے ، وہ بولا کہ ایک رات میں نے کنیسہ کابڑادروازہ بندکرنے کی کوشش کی لیکن وہ باجود زور لگانے کے بند نہ ہوسکا۔ میں نے خیال کیاکہ شاید دروازے میں کوئی فنی خرابی پیدا ہوگئی ہو، صبح کسی کاریگر کولے کر آؤں گا۔چنانچہ ساری رات دروازہ کھلا رہا۔اگلی صبح میں نے دروازے کو معمول کی طرح درست پایا ۔ لاٹ پادری نے کہاشاید یہی وہ رات ہو جس میں محمد ﷺ یہاں تشریف لائے ہوں، کیونکہ ایساواقعہ کسی نبی کی آمد پر ہی ہو سکتا ہے ۔البدایہ میں ابن کثیر لکھتے ہیں:

“و قد کان ھرقل حین جاءہ الکتاب النبوی وھو بایلیاء ووعظ النصاریٰ فیما کانوا قد بالغوا فی القاء الکناسة علی الصخرة حتی وصلت إلی محراب داؤد قال لھم إنکم لخلیق أن تقتلوا علی هذه الکناسة مما امتھنتم هذا المسجد کما قتلت بنو اسرائیل علی دم یحی بن زکریا ثم أمروا بإزالتھا فشرعوا فی ذالك فما ازالوا ثلثھا حتی فتحھا المسلمون فازالھا عمر بن الخطاب.” (2688)

’’میراناقص خیال ہے کہ مسجداقصی کایہ حصہ اس وقت موجودتھاجسے آج کل مصلی مروانی کہا جاتا ہے ، ممکن ہے یہ اس عمارت کا حصہ ہوجسے حضرت سلیمان نے جنوں سے تعمیر کرایاتھا۔ اس کا جتنا حصہ بخت نصر وغیرہ سے تباہ ہوسکاوہ کردیاگیایہ چونکہ زیریں حصہ تھااس لیے اس کی دست برد سے محفوظ رہاہوگا۔جس کی بعد میں عبدالملک نے مرمت کروائی اور اسے ایک مسجد کی شکل دی۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے،کیونکہ فلسطین کی تاریخ ہزاروں سال سے ہے ۔اس کو میں نے کئی دن کی ادھیڑ بن کے بعد ترتیب دیاہے۔مصلی مروانی میں موجود زمین دوز ہال گنے جائیں تو ان کی تعداد 16بنتی ہے ۔ اسی کے زاویہ میں حجرہ مریم ، اور محراب زکریا کے علاوہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان سے منسوب کئی ایک تاریخی جگہیں ہیں جن میں سے بعض کو جنگلہ لگا کر اور بعض کو چبوترا بنا کر محفوظ کیاگیاہے ( جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں پہلے بھی کوئی عمارت تھی) کہا جاتاہے کہ خلیفہ عبدالملک نے دینی تعلیم کی غرض سے اپنے والد مروان کے نام سے بنوائے تھے۔ انہوں نے تعمیر و مرمت کی ہے ، عربی میں انہیں رواق کہا جاتاہے ۔

عیسائیوں کا سفاکانہ حملہ

بارھویں صدی عیسیوی میں جب عیسائیوں نے القدس پر قبضہ کیا تو حسب عادت ( جیسا کہ سپین میں کیاتھا) انہوں نے مسلمانوں کی اتنی خون ریزی کی کہ یروشلم کی گلیاں تین تین فٹ خون میں ڈوب گئیں۔ ستر ہزار بے گناہ مسلمان شہید کئے گئے ،ان کی کثیر تعدادمصلی مروانی میں پناہ گزیں تھی ۔عیسائیوں نے ان پناہ گزینوں کو بھی نہ بخشااور سبھی کو تہہ تیغ کردیا۔اورانہوں نے اس مصلی مروانی کوجنگی گھوڑوں کیلئے اصطبل اور اسلحہ خانہ میں بدل دیا اور مشہور کیا گیا کہ یہاں حضرت سلیمان کے گھوڑوں کا اصطبل تھا ۔یہ بھی روایت ہے کہ یروشلم کے بادشاہ بالڈون(118-113)نے بھی اسے بطور اصطبل استعمال کیا تھا (جیسے ہندوستان میں سکھوں نے پنجاب پر قبضے کے بعد بادشاہی مسجد، چینیانوالی مسجد اور اس طرح کی کئی تاریخی مساجدکو اصطبل بناڈالاتھا)

مصلی مروانی میں اصطبل کے سوراخ موجود ہیں۔

یہ وہ دور ہے جس میں خاتم النبین ﷺکی عرب میں بعثت ہوئی تھی اور آپ ﷺ کو معراج کا سفر درپیش ہوا اور اسی مسجد میں آپ نے انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت فرمائی اور اسی مسجدسے آپ آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے جب یروشلم کو فتح کیا تومصلی مروانی کا استعمال بطور اصطبل بند کر کے اسے سیل کردیا۔کیونکہ شاید نمازیوں کی تعداد کم تھی اس لیے اس کو لائق استعمال بنانے کی طرف توجہ نہیں دی اور پھر تقریباً سات سو سال تک یہ بند رہا۔1996میں نمازیوں کی کثرت کی بنا پر اردنی حکومت نے اس کی دوبارہ بطور مسجد بحالی کا بیڑہ اٹھایا اور اگست 1996سے اس کی مرمت و تزئین کاکام شروع کردیاگیا ۔الحرکۃ الاسلامیہ کے قائدالشیخ رائد صلاح کی اپیل پربیت المقدس ، الخلیل اور العقبہ سے ہزاروں نوجوان اس مبارک کام میں ہاتھ بٹاتے رہے اورمارچ 2001 تک اس کی تعمیرنواورتزئین مکمل ہوگئی ۔

اب یہ پورا ایریا قیمتی قالینوں اور فانوسوں سے سجا ہوا ہے۔ چھت کااوپروالا حصہ ٹائلوں سے ڈھانپ دیا گیاہے ۔جنوبی سائڈ میں لکڑی کا خوبصورت محراب بنایاگیا۔یہودیوں نے ہیکل کی تعمیر کے ارادے سے جنوبی دیوارکے بالمقابل باہرکی طرف سیڑھیاں بنادی تھیں تاکہ کسی وقت بھی اس زمین دوز عمارت میں داخل ہوا جا سکے ۔ مصلی مروانی کی شمالی جانب دو بڑے دروازے بند کر دیے تھے۔ باہر سے مٹی اور پتھروں کا ڈھیر لگتا تھا۔اسرائیلیوں نے نیچے جو کھدائی کی اس سے جنوبی دیوارکا استحکام خطرے میں پڑگیا تھا ۔اسی لیے اس کھدائی کو قبیحہ ، عمل الرهیب الملعون (عمل قبیح) جیسی اصطلاحوں سے تعبیرکیاجاتاہے ۔ یہودیوں کی اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے ان بند دروازوں کی دوبارہ بحالی کیلئے پھرتحریک شروع ہوئی اور 2002میں یہ دروازے پھر سے معرض وجود میں آ گئے ۔

مصلی مروانی میں جگہ جگہ حفظ و تدریس قرآن کے حلقات قائم ہیں، جہاں مسلمان بچے قرآن کریم کی تعلیم و تحفیظ میں مشغول ہیں ۔ بڑی وسیع لائبریری بھی ہے۔ نماز کیلئے ایک بڑا ہال تیار کیا گیا مسجد کا اوپر والا حصہ بھی شامل کر لیا جائے تو مسجد اقصیٰ میں 7000نمازی بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ رمضان المبارک میں تراویح کیلئے یہ وسیع وعریض مسجد بھی تنگ دامانی کاشکوہ کرتی ہے ۔جس کی وجہ سے مسجد اقصی کے پہلو میں عارضی آہنی مظلات کافی بڑے ایریے میں نصب کردیے گئے ہیں۔ موجودہ تزئین و آرائش1996میں مسجد اقصی وقف کے تحت ہوئی ۔مسجد اقصی کے ائمہ و خطباء اور مدرسین و مؤذنین کی تنخواہیں بھی مقرر ہیں جنہیں اردنی حکومت کی سرپرستی میں قائم وقف ادا کرتاہے ۔

چونکہ ارض فلسطین کی ایک لمبی تاریخ ہے ۔مجموعی طور پر یہ علاقہ ہمیشہ آباد رہا بلکہ غالباً تاریخ میں سب سے زیادہ آبادی اسی علاقے میں رہی ہے ۔ انبیاء کرام کی بڑی تعداد اس علاقے میں مبعوث ہوئی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے توتاریخ کے اس مدو جزر میں سے بہت ہی کم چیزیں محفوظ رہی ہیں۔ میں نے مصلی مروانی کے نام سے تمام فائلیں، پروگرام، سفر نامے ویکی پیڈیا چھان مارے مجھے کہیں سے کوئی تسلی بخش مواد نہیں ملا ۔اسی لئے میں نے اپنی دانست میں اسے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ اصل حقیقت تو اللہ ہی جانتے ہیں ۔مصلی مروانی کو چھان پھٹک کر تفصیلی وزٹ کے بعد ہم باہرنکلے تووضو کیلئے بنائی گئی جگہ سے پانی پیا اور ساتھ بوتلوں میں بھی بھرلیا کہ ابھی مسجد اقصی کی تفصیلی زیارت کرنی ہے ۔مصلی مروانی سے دائیں طرف بڑھنا شروع ہوگئے۔باب السلسلہ تک یہ ہموارگزرگاہ ہے ۔

آئیے ہم قبۃ الصخراء والے پلیٹ فارم پر آئیں ۔

مسجد اقصیٰ میں گنبد الصخراء(Dome of the Rock) بارے معلوماتی تحقیق

قبۃ الصخراء ۔۔۔جلال وجمال کاحسین امتزاج۔۔ سونے کاتاج پہنے ہوئے دنیا کا خوبصورت ترین سنہری گنبد ۔

قبۃ الصخراء : یروشلم ہی نہیں، پورے فلسطین کی سب سے خوبصورت یادگار۔اس شہر میں کئی تاریخی گرجے ، سینی گاگ اور مینار ہیں ، لیکن جو حسن و عظمت اور رعنائی گنبد صخراء کی ہے وہ بالکل منفرد ہے ۔

قبۃ الصخرہ : جس کا حسن و جمال مسلمانوں کے دلوں کی طرح خوبصورت ، ان کی تاریخ کی طرح سنہری اور ان کے جاہ و جلال کی طرح پر ہیبت ہے۔

قبۃ صخراء :جو بیت المقدس اور مسجد اقصی کی علامت کے طور پر ہر تصویر میں دکھایا جاتاہے ۔

قبۃ الصخراء : دنیا کے سب سے منفرد سکندر اعظم ’’سیدنا وامامنا حضرت عمر فاروق ابن الخطاب ‘‘ کا امت کے لیے ایک نایاب تحفہ ۔

مطلب اس بات کا یہ ہے کہ اس دور کے عیسائیوں نے یہود دشمنی میں جبل ہیکل کے اس حصے کو کوڑے کرکٹ کے پھینکنے کی جگہ بنا رکھا تھا۔ اگر فاروق اعظم اس جگہ کو دریافت کروا کے صاف نہ کرواتے تو شایدیہ جگہ بھی امتداد زمانہ کی بے رحمی کا شکار ہو کربے نام ہوچکی ہوتی ۔ اور وجہ اسے محفوظ رکھنے کی یہ تھی کہ یہاں سے رسول اللہﷺ کا سفر معراج شروع ہواتھا۔137ق م میں رومی بادشاہ ہیڈریان نے شوریدہ سر یہودیوں کو بیت المقدس اور فلسطین سے جلاوطن کردیا تھا۔70عیسوی میں یہاں یونانی جیوپٹرا کا معبد بنایا گیا۔ چوتھی صدی عیسوی میں رومیوں نے عیسائیت قبول کر لی اور بیت المقدس میں گرجا تعمیر کر ڈالا۔ چھٹی صدی عیسوی کے آخر میں دنیا کیلئے رحمتوں کا پیغام لے کررحمۃ للعالمین ﷺ سرزمین حجاز میں مبعوث ہوتے ہیں۔ ساتویں صدی کے پہلے عشرے میں اعلان نبوت ہوتا ہے۔ جس کے تقریبا دس سال بعد آپﷺ معراج کے دوران میں بیت المقدس بھی تشریف لائے۔ اس دور میں بیت المقدس پرعیسائیوں کا قبضہ تھا ۔ نبی ﷺ کی وفات کے سولہ سال بعد حضرت عمرفاروق نے جب یروشلم کو فتح کیا اور مسجد اقصی کی زیارت کیلئے تشریف لائے۔ چونکہ مسجد اقصی جس ایریے میں سیدنا یعقوب کے دور میں بنی تھی وہ بہت بڑا مگر پہاڑی سلسلہ ہونے کی وجہ سے ناہموار ایریاتھا ۔ اور یہ جگہ جہاں آج قبہ ہے اور اس کے ارد گرد اونچا پلیٹ فارم بنا ہوا ہے ، اس وقت نہ تو قبہ تھا اور نہ ہی یہ پلیٹ فارم، بلکہ اونچا نیچا جبل ہیکل تھا۔جسے عیسائیوں نے یہود دشمنی کے احساس سے کچرا پھینکنے کی جگہ بنا کر اس صخراء کی توہین وتذلیل میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔چلتے چلتے حضرت عمرفاروق نے اس خاص جگہ کا پوچھا ۔ جہاں سے رسول اللہ ﷺ آسمانوں کیلئے تشریف لے گئے تھے ۔ کعب احبارجو یہودیت چھوڑ کر نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور یہود کے نزدیک یہ پتھر بڑا متبرک تھا۔ انہوں نے جبل ہیکل پرصخرہ کی جگہ کی نشاندھی کردی ، کہ اس دیوار سے اتنے ہاتھ آگے جائیں تو وہاں صخراء ہے۔ جو کوڑے کے ڈھیر میں چھپ چکا تھا۔ حضرت عمرفاروق نے وہ جگہ صاف کرائی اور یہ چٹان نکلوائی ۔ اتنی دیر میں امیر المومنین کی نظر کعب پر پڑی ، جنہوں نے صخراء کے سامنے احتراما جوتے اتار لیے تھے اور جب امیر المومنین نے نوافل کی ادائیگی کاارادہ ظاہر کیا ، توکعب احبار نے مشورہ دیاکہ صخرہ کے پیچھے نماز ادا کر لیں، تاکہ قبلہ موسیٰ اور قبلہ محمدﷺ کو ایک جگہ جمع کر لیا جائے ۔ کیونکہ مسجد اقصی کی بجائے صخرہ کی اہمیت یہود کے نزدیک بہت زیادہ تھی۔ صخرہ کی تعظیم کے اس ارادے کو بھانپتے ہوئے سیدنا فاروق اعظم نے فرمایا:

“ضاهیت واللہ الیهودية یا کعب و قد رأیتك وخلعت نعلیك.”

’’لگتاہے تمہارے اندر یہودیت کی رگ پھڑک رہی ہے۔ حالانکہ یہودیت ذلیل ہو چکی ہے مگر تیری سوچ نہیں بدلی اور تو نے اس پتھر کی تعظیم کیلئے جوتے اتار لیے ہیں ، میں دیکھ چکا ہوں تمہاری اس حرکت کو ۔ یعنی تو مجھ سے مسجد اقصی کی بجائے چٹان کی تعظیم کروانا چاہتاہے۔ ‘‘

تاریخ انسانیت کے سکندر اعظم کی نگاہوں کی دور رسی ملاحظہ ہو، جو ہر فتنے یا برے ارادے کو فوراً بھانپ لینے کی صلاحیت رکھتی تھیں ۔

اور آپ نے فرمایا: میں تو وہاں نماز ادا کروں گا جہاں رسول اللہ ﷺ نے ادا فرمائی تھی ۔اس لیے آپ نے صخراء کے پیچھے نمازادانہیں کی بلکہ تھوڑا سا نیچے جاکر نماز ادا کی (اب وہاں محراب سا بنا ہوا ہے جو سیدنا عمر کی طرف منسوب ہے) حضرت عمر نے اسی جگہ ( براق اور صخراء کے قریب) مسجد کی تعمیر نو کا حکم دیا ، تب مسجد میں لکڑی کا استعمال زیادہ کیا گیا۔ ستر سال بعد سن86ھ میں خلیفہ عبدالملک بن مروان نے یہاں بڑے اہتمام سے مسجد بنوائی ۔ اس کی تعمیر میں سات سال تک مصر سے حاصل ہونے والی آمدنی صرف کی گئی اور خالص سونے کا کام کیا گیا جس کے آثار اب تک موجود ہیں ۔

آگے چلنے سے پہلے ہم چار نکات کو کلیئر کرنا چاہتے ہیں :

صخراء کی نشاندھی کعب نے کیسے کی ؟ پتھر کی اس چٹان کے بارے روایات کی تحقیق،صخرہ کی جگہ مروان بن عبدالملک نے مسجد کیوں بنوائی ؟ اور اس کی تعمیر تاریخ کے مختلف ادوار میں ۔

1۔ صخراء کی نشاندھی کیسے ممکن ہوئی ؟

پہلا سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کعب احبار کو صخراء کا علم کیسے ہوا؟ اس کا جواب اس طرح ملتا ہے کہ انہوں نے کچھ عرصہ قبل بیت المقدس کاسفر کیاتھا اور یہاں کسی جاننے والے سے معلوم کیا تھا۔ مسالک الابصار فی ممالک الامصار فضل اللہ العمر کی کتاب (ص41) میں ہے کہ کعب احبار کسی زمانے میں ایلیاء آئے تھے اور ایک یہودی عالم سے اس صخراء کی بابت پوچھا تھا تو اس نے اس کی نشاندھی کی تھی۔ اسی لیے کعب نے حضرت عمر بن خطاب امیر المومنین کو صخراء کی جگہ کی نشاندھی کردی تھی ۔الروض المعطار میں ہے :

“عند محمد بن عبد المنعم الحمیری، نجد بعض تفاصیل هامة: وسخر عمر انباط أهل فلسطین في کنس بیت المقدس و کانت فیه مزبلة عظیمة و جاء عمر و معه کعب فقال یا أبا إسحق اتعرف موضع الصخرة فقال اذرع من الحائط الذی یلی موضع کذا وکذا ذراعا ثم احفر فإنك تجدھا قال وھی یومئذ مز بلة فحفروا فظھرت فقال عمر لکعب أین تری أن نجعل قبلة المسجد؟ قال اجعلھا خلف الصخرة فتجمع القبلتین قبلة موسی و قبلة محمد قال ضاهت الیھود یا أبا إسحق خیر المساجد مقدمھا قال فبنی القبلة فی مقدم المسجد ثم بنی عبد الملك بن مروان مسجد بیت المقدس سنة سبعین و حمل إلی بنیانه خراج مصر سبع سنین وبنی القبلة علی الصخرة.”یہی تفصیل ابوعبید البکری نے ’’المسالک و الممالک ص 125میں لکھی ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں یہودی روایات پھیلانے کا بڑا ذریعہ کعب احبار ہی ہیں ۔ چونکہ یہ خود یہودی تھے یہودیت کی تاریخ میں انہیں دلچسپی اور مہارت تھی۔ یہودیت سے محبت ان کے اندر بہت سرایت کرچکی تھی انہوں نے اسلام قبول تو کرلیا لیکن یہودی روایات سے چھٹکارا حاصل نہ کرسکے اور انہیں بیت المقدس سے بڑا لگاؤ رہا ۔ آپ دیکھیں انہوں نے کسی جہادکے سفر میں شرکت نہیں کی ۔ لیکن بیت المقدس کے سفر میں حضرت عمر بن خطاب امیر المومنین کے ہمراہ چلے آئے اور پھر انہوں نے امیرالمومنین کو صخراء کے پیچھے نماز ادا کرنے کا مشورہ دیا جسے امیر المومنین نے رد کردیا تھا ۔کعب کے دل میں جو احترام تھا اس پتھرکا، اس کا اظہار بھی امیر المومنین دیکھ چکے تھے کہ کعب احبار نے وہاں احتراماً جوتے اتار دیے تھے۔ سیدنا فاروق اعظم نے کعب کے سینے پر دو ہتھڑ مار کرفرمایا کعب یہودیت ذلیل ہوچکی ہے اور تم کس خیال میں ہو:

“فأشار علیه بأن یجعله وراء الصخرة فضربه فی صدره وقال یابن أم کعب ضارعت الیھود.” ( ’’المسالک و الممالک ص 125 ازابوعبید البکری)

کیونکہ امیر المومنین کعب پر کبھی اعتبار نہیں کرتے تھے ۔ مزید یہ کہ کعب شہر ’’بیت المقدس یروشلم ‘‘کو ایلیاء کہنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کے خیال میں یہ کسی مقامی خاتون کا نام رہا ہوگا ۔ان کعب احبارکے علاوہ اسلام میں یہودی روایات پھیلانے والے دوسرے شخص وہب بن منبہ ہیں ۔انہی دو نے اس پتھر کے بارے میں ایسی ایسی لایعنی روایات پھیلائی کہ الامان و الحفیظ ۔

” و قد کان هرقل حین جاءہ الکتاب النبوی وھو بایلیاء ووعظ النصاریٰ فیما کانوا قد بالغوا فی القاء الکناسة علی الصخرة حتی وصلت إلی محراب داؤد قال لھم إنکم لخلیق أن تقتلوا علی ھٰذہ الکناسة مما امتھنتم ھٰذا المسجد کما قتلت بنو اسرائیل علی دم یحی بن زکریا ثم أمروا بإزالتھا فشرعوا فی ذلك فما ازالو ثلثھا حتی فتحھا المسلمون فازالھا عمر بن الخطاب.” (2688)

یروشلم کا نام حدیث میں بھی ایلیا آیا ہے: “حدیث أبی هريرة إنما یسافر إلی ثلاثه مساجد مسجد القبل و مسجد إیلیا) و حدیث هرقل.”( صحيح مسلم)

2۔پتھر کی بابت جھوٹی روایات

پتھر کی اس چٹان بارے یہودیوں کی طرف سے پھیلائی جانے والی جھوٹی روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ’’ یہ جنت کا پتھر ہے ، اللہ کا عرش اسکے اوپر ہے۔‘‘ (تاج المفرق فی تحلیۃ علماء المشرق البلوی:48)

اس کے اوپر جنت سے سرخ یاقوت اتراتھا جو اتنا منور تھا کہ بلقاء کی عورتیں اس کی روشنی میں سوت کاتا کرتی تھیں۔ (نھایۃ الارب فی فنون الادب النویری:94)

آسمان میں اس پتھر کی لمبائی بارہ میل ہے ، کسی روایت میں اٹھارہ میل ہے ۔العقد الفرید ابن عبد ربہ الاندلسی992الکامل فی التاریخ ابن الاثیر المورخ ص(2178) اسی پتھر کے ساتھ نبی کریمﷺ نے براق باندھا تھا ۔اس پتھر کے نیچے سے دو یا چار نہریں نکلتی ہیں ۔ سیدہ آسیہ کا محل بھی اسی کے نیچے ہے۔ (آثار البلاد واخبار العباد لقزوینی: ص63)

“وعلی طرفیھا أثر قدم النبی ﷺ وذکر أن طول قبة الصخراء کان اثنی عشر میلا فی السماء و کان علی راسھا یاقوته حمراء کان فی ضوئھا تغزل نساء أھل بلقاء و بھا مرابط البراق الذی رکبه النبی ﷺ تحت رکن المسجد.”

جب قبلہ تحویل کیا گیا (بیت المقدس کی بجائے کعبۃ اللہ بنایا گیا) تو اس پتھر نے اللہ سے شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے فرمایا تو بے فکر رہ میں تیرے اوپراپنا عرش رکھوں گا ، روز محشرساری دنیا یہاں جمع کروں گا تیرے اوپر ہی فیصلے کیے جائیں گے ۔

“لما صرفت القبلة نحو الکعبة قالت الصخرة الھی لم أزل قبلة لعبادتك حتی بعثت خیر خلقك صرفت قبلتھم عنی قالا ابشری فإنی واضع علیك عرشی و حاشر إلیك خلقی و قاض علیك امری و ناشر منك عبادی.” (معجم البلدان یاقوت الحموی 378اور1635) علامہ یاقوت الحموی اور نور الدین الحلبی سیرۃ الحلبیہ میں لکھتے ہیں :

’’ صخراء کے پتھر کی عاجزی دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو ہی میرا مقام ہے ، میزان یہیں قائم کروں گا۔ جنت و دوزخ اسی جگہ حاضر کیے جائیں گے۔ عرصہ محشر یہیں برپا ہوگا اور یوم الدین میں یہیں سب کو بدلے ملیں گے: “تواضعت الصخرة فشکر اللہ لھا وقال ھٰذا مقامی و موضع میزانی و جنتی و ناری و محشر خلقی وانا دیان یوم الدین.” ( معجم البلدان یاقوت الحموی:1636)

سیرۃ الحلبیہ نور الدین الحلبی(37) علامہ شمس الدین شامی لکھتے ہیں،بیت المقدس میں مرے گا وہ آسمانوں پر فوت سمجھا جائے گا ۔

“من مات فی بیت المقدس فکانما مات فی السماء.”( سبل الھدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد:ص 1290)

اللہ تعالیٰ بیت المقدس کی طرف روزانہ دو مرتبہ نظر فرماتا ہے: “إن اللہ ینظر إلی بیت المقدس کل یوم مرتین.” (فضائل القدس ابن جوزی:4)

In the beginning, it must be noted that everything contained in the Islamic heritage of news about the rock is taken in one way or another from the Jewish counterpart; about the relationship between Venus and the rock, which we referred to above; Ibn Khaldun says: “The first thing he ordered was the days of the Sabians, who were placed under the structure of the flower, and they brought the oil close to him and brought it to the rock that was there. Here we find a concept of the Sabean different from what is being circulated today that they are the Iraqi Mandaean group.

بغیر سہارے کے کھڑاپتھر

یہ محض ایک پتھر تھا یہاں پرموجود ایک پہاڑ ’’ہیکل جبل ‘‘کا۔ لیکن اس کی بابت ابھی تک ایسی ایسی بے سروپا کہانیاں پھیلائی جاتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کواسی پتھر پر سے برموقع معراج آسمان کی طرف لیجایاگیا، تو پتھر بھی ساتھ اٹھنا شروع ہو گیا تھا۔حکم دیاگیا۔ رک جاؤ، تو رک گیا اورجہاں تک اٹھا تھا وہیں جم گیا ۔ اس طرح کی باتیں سنائی گئیں ،پھر بنائی گئیں اور پھر انٹر نیٹ پر دکھائی بھی گئیں ،جن میں پتھر اوپراٹھا ہوا ہے اور نیچے کچھ بھی نہیں ۔

میرے باقی ساتھی مسجد قبۃ الصخراء میں پھیل گئے، لیکن میں اپنی خواہش کی تکمیل میں نیچے غار میں اترنا چاہتا تھا۔کیونکہ میری بڑی خواہش تھی کہ میں اس پتھر کے نیچے جاؤں ، اور اس بے سہاراکھڑے پتھر کو دیکھوں ۔آفتاب صاحب کے ساتھ میں نیچے اترااورپہلے تو تحیۃ المسجدکے طور پرنوافل اداکیے ۔ پھر پتھر کو اچھی طرح نیچے سے دیکھا بھالا۔ وہاں موجود لوگوں سے پوچھا کہ وہ پتھرکہاں ہے جو بغیر کسی سہارے کے اٹھا ہوا ہے ،ایک بوڑھے فلسطینی نے بتایا کہ یہ نیچے والاجوڑ لگا نظر آرہا ہے، یہ وہی خلا تھا جسے بعد میں پاٹ دیاگیا۔ لیکن میرے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ اسے پاٹنے کی کیا ضرورت تھی۔ اگر بامرربی تھاتو فکر کاہے کا، بے تکلف نیچے سے گزر جائیے۔

بہرحال ساری بے سند باتیں پھیلائی جاتی ہیں ۔ ان میں سے یہ جھوٹی بات بھی تھی جس کا ذکر اوپر کیاگیا ہے۔اس کے علاوہ بہت سی جھوٹی روایات اس پتھر کے بارے میں پھیلائی گئی ہیں ۔ خاص طور پریہود کی جانب سے اس پتھر کی بابت ایسی ایسی حکایات اورایسے ایسے معجزات روایت کیے گئے، حالانکہ اس پتھر کی بابت ایک روایت بھی صحیح سند سے مروی نہیں ہے۔ پتھروں میں حجر اسود جو کعبۃ اللہ میں لگا ہوا ہے اس کی فضیلت میں مستند روایات تو ہیں لیکن نفع و نقصان کامالک ہونے کی حجر اسود میں بھی کوئی طاقت نہیں ہے جس طرح سیدنا عمربن خطاب نے اسے مخاطب کرکے فرمایاتھا کہ میں جانتا ہوں تو محض ایک پتھر ہے ، تیرے اندر نفع ہے نہ نقصان، تیرے شرف کی ایک ہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تجھے بوسہ دیا ہے ۔ اگر میں نے آپ کو بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو ہرگز تجھے بوسہ نہ دیتا ۔

روایات کے صحیح یا جھوٹا ہونے کا معیار اسناد

اللہ تعالیٰ محدثین کرام کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے امت میں روایات کی سند دیکھنے اور تحقیق کرنے کی روایت ڈالی ۔ اگریہ اہتمام اسناد نہ کیا جاتا تو یہ امت راہ راست پہچان ہی نہ پاتی ۔جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا :

“ان الاسناد من الدین ولولا الاسناد لقال من شاء ماشاء “

’’کہ تمہارا دین سند کے ساتھ مضبوط ہے ورنہ ہر کوئی جھوٹ سچ کہنے میں آزاد ہوتا۔‘‘

امام ابراہیم رحمہ اللہ نخعی فرماتے ہیں کہ

’’صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ کی سنتوں کو اپنا کر دکھایا کیونکہ انہوں نے اس دین کو رسول کریمﷺ سے حاصل کیا تھا ۔‘‘

امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’ اسناد حدیث مومن کا ہتھیار ہے اگر ہتھیار نہ ہو تو لڑائی کس کے ساتھ کی جائے گی۔‘‘

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’اگر سند ثابت نہ ہو تو روایات میں جھوٹ یا سچ کو کیسے پرکھا جائے گا ؟‘‘

حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’ سند حدیث کی مثال سیڑھی کی ہے ، اگر سیڑھی نہ ہو توچھت پر کیسے چڑھا جاسکتاہے۔‘‘

مشہور محدث حضرت بقی بن مخلدفرماتے ہیں :

’’ اللہ نے اس امت کو سچ وجھوٹ کے درمیان فرق برتنے کیلئے سند کی تحقیق کا اعزاز دیا ہے ۔ورنہ یہود و نصاریٰ کی طرح روایات میں الجھاؤ ہی ہوتا۔‘‘ مزید فرماتے ہیں: ’’سچائی اور کذب کے درمیان ایک ہی حد فاصل ہے وہ ہے روایت کی سند ۔ اس کے سوا باقی سب شیطان کے وساوس ہیں۔‘‘

حضرت سعید بن قطان رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’حدیث کو نہیں سند کو دیکھو اگر وہ صحیح ہے تو حدیث مان لو ورنہ رہنے دو ۔‘‘ (یہ تفصیلات مقدمہ صحیح مسلم ۔از ۱مام النووی، شرف اصحاب الحدیث از خطیب بغدادی ، منہاج السنۃ ج4۔ازامام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور دیگر کتب اصول حدیث میں موجود ہیں )

3۔ مروان نے قبۃ الصخراء کو مسجد کیوں بنایا ؟

صاف پتہ چلتا ہے کہ صخراء ( چٹان) کی کوئی خصوصیت نہ تھی صرف بے سرو پا روایات کے سہارے اسے اتنی عظمت دی گئی ۔جبکہ بنی اسرائیل اتنی زیادہ اہمیت دینے کے باوجود اس پر کوئی یادگار نہ بناسکے تھے ، بلکہ اسے کوڑا کرکٹ کی جگہ بننے سے بھی نہ روک سکے ۔اسلامی دور میں یہ چٹان دریافت کی گئی ۔اور ستر سال بعد اس جگہ کو مسجد بنایاگیا اوراس کی تعمیر کابڑا اہتمام کیا گیا خالص سونے کا اس میں کام کیا گیا ۔ حالانکہ اگر اس چٹان کی کوئی اہمیت ہوتی تو سیدنا فاروق اعظم ضرور اس کا اہتما م کرتے ۔ انہوں نے تو یہاں دو نفل پڑھنا بھی گوارا نہیں کیا ۔ صرف چٹان کو گندگی سے صاف کرایااور بس ۔ موجودہ شکل بھی حضرت فاروق اعظم کی بنائی ہوئی نہیں ہے ۔بلکہ ستر سال بعد مروان بن عبدالملک کے دور میں اس جگہ کو خصوصی اہتمام کے ساتھ مسجد بنایاگیا۔۔لیکن کیوں۔۔؟اس کی تفصیل جب عربی کتابوں میں پڑھی تو میں حیران و ششدر ہوکر رہ گیا ۔ اور اس چٹان پر اس قبے کے اہتمام کی اصل وجہ سامنے آئی۔ چونکہ کسی بھی سفر نامے میں اس کاذکر موجود نہیں ہے۔ میں پورا ایک ماہ صرف کرکے اس مضمون کو ترتیب دے سکا ہوں ۔ دل و دماغ کی چپقلش نے مجھے بڑا حیران کیا ۔

مروان بن الحکم الاموی جسے سولہ سال کی عمر میں 26ھ میں شام کاگورنر بنایا گیاتھا ۔اور 86ھ تک اس عہدے پر فائز رہا ۔(استعملہ معاویہ بن ابی سفیان وھو ابن ستۃ عشرۃ سنۃ)اس نے73ھ میں یہاں مسجد بنائی۔صخراء (چٹان) کو مسجد کی جگہ بنانے میں اتنی زیادہ دلچسپی کیوں لی ؟ تاریخ یعقوبی میں لکھا ہے کہ اس کی تعمیرپر سات سال تک مصرسے وصول شدہ ٹیکس خرچ کیا گیا اور اس کے علاوہ رومی بادشاہ نے بھی مسجد الصخرۃ بنانے کیلئے بڑا حصہ ڈالا۔ (تاریخ یعقوبی : 214) اس اہتمام کی وجہ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ جیسے ثقہ مورخ نے البدایہ والنہایہ میں (ص3086)میں اور علامہ دمیری نے حیاۃ الحیوان (ص 63اور412) میں ، اور ابن تغری بردی نے النجوم الزاھرۃ فی ملوک مصر والقاہرہ میں بیان کی ہے کہ’’ اس دور میں مکہ مکرمہ پر حضرت عبد اللہ بن زبیر کی حکومت تھی۔ حج کے موقع پر وہ لوگوں کو بنو امیہ کے مظالم سے آگاہ کیا کرتے تھے ۔مروان نے سوچا کہ ابن زبیر کے پروپیگنڈے سے لوگ متاثر ہوسکتے ہیں تو اس نے اہل شام کو( 64سے 72تک ) حج پر جانے سے روک دیا ۔جب لوگوں نے اس پابندی کو چیلنج کرنا شروع کردیا تو اس نے بیت المقدس میں موجود صخراء پرنظر التفات ڈالی اور اس چٹان کو خاص طور پر حج کے متبادل جگہ بنانے کیلئے ٹارگٹ کیا ۔ اور رجا بن حیوۃ اور یزید بن سلام جیسے چوٹی کے فن تعمیر کے ماہر لوگوں کو یروشلم بھیجا ۔ ان کے ساتھ کافی تعمیری مال و متاع حتی کہ کاریگر اور مزدور بھی بھیج دیے ۔ سات سال کی مسلسل محنت سے جب یہ قبہ تعمیر ہوگیا، اہل شام کو یہاں حج کرنے اور حجر اسود کا متبادل باور کرانے کا حکم دیا ۔پھر عرض کررہاہوں کہ میں شاید اس روایت کو نظر انداز کردیتا اگر ابن کثیر جیسا ثقہ تاریخ نگار اس روایت کو تفصیل سے ذکر نہ کرتا ۔

The king built the dome on the rock and the al-Aqsa Mosque to occupy them from the Hajj and their hearts, and they stood at the rock and roamed around it as they toured the Kaaba.

So they opened their own heads, so he opened himself to the fact that the son of al-Zubayr was against him, and he used to curse him in Makkah. He said: “I do not have the right to do that.” When King Abdullah wanted to build the house of Jerusalem, he turned to him with money and laborers. He took the work of Raja ibn Haywa and Yazid ibn Salam of his house. He collected the craftsmen from the country and sent them to the Holy City. He sent him with the great wealth of money. He ordered Raja ibn Haywa to increase the money. “(Al-Bidayah walnnihayah 3086

ان کے علاوہ ایک جہان یہی بات کہتا ہے کچھ کے نام میں نے اوپر ذکر کیے اور کچھ مزید ملاحظہ فرمائیں ۔ ( صبح الاعشی القلقشندی:566؛ المختصر فی اخبار البشر از ابو الفداء: ص22؛ تاریخ مکہ المشرفہ والمسجد الحرام ابن الضیاء : ص140؛ الاعلاق الخطیرۃ فی ذکر الشام وا لجزیرۃ ابن شداد: ص111؛ المسالک والممالک ابو عبید البکری:125)

قبۃ الصخراء کی تزئین و آرائش کے مختلف مراحل

قبۃ الصخراء کی موجودہ شان و شوکت آپ سے آپ اس مرحلہ تک نہیں پہنچی بلکہ اسے چودہ سو سال کی لگن درکار تھی ۔مروان کے بعد ابوا لمنصورنے اس کی نگرانی کی اورہر آنے والا بادشاہ پہلے کی نسبت اس عمارت کا زیادہ خیال کرتا رہا ۔ درمیان میں ایک موقع ایسابھی آیا جب صلیبی قابضین نے اس کا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔ لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے بہادر جرنیل نے تاریخ کا یہ سیاہ باب بند کرکے نئے سرے سے مسجد اقصی ، محراب اور قبۃ الصخراء کی اصل حیثیت بحال کردی۔ اور اس کیلئے اسے16 طویل جنگیں ان خونخوار قابضین کے خلاف لڑنا پڑیں۔ سارے یورپ کا کفر اس وقت صلیبیوں کے جھنڈے تلے زندگی و موت کی جنگ سمجھ کر لڑنے میں مستعد تھا۔مگرسلطان کی بہادری ، ذہانت ، رحمدلی ، خداخوفی اور انصاف پروری نے پانسا ہی پلٹ ڈالا ۔ کثر اللہ امثالہ ۔ اللہ اسے امت اسلام کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔ ﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّـهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّـهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾ صلاح الدین ایوبی کی وفات صرف 53سال کی عمر میں ہوگئی ، ان کے کئی کام ادھورے رہ گئے تھے ۔ جن میں اسے ایک کام’’ مسجد و گنبد قبۃ الصخراء ‘‘کی بحالی کا بھی تھا ۔سلطان کی وفات کے بعد ان کے بھتیجے الملک المظفرنے اسے جاری رکھا اور سلطان کے چھوڑے ہوئے منصوبوں کی تکمیل کی ۔پھر تیرہویں صدی میں اس کی تعمیرجدید کی گئی، سولہویں صدی میں سلطان سلیمان المذھل کے دور میں اس پر سات سال تک کام ہوتارہا۔ گنبد کے اندرون میں سورہ یٰسین کندہ کی گئی ، اور سترہویں صدی عیسوی میں اس پر قرآنی آیات تحریر کی گئیں ، سورہ الاسراء جس میں واقعہ معراج کا تذکرہ ہے وہ بھی کندہ کی گئی ، اٹھارہویں اور انیسیوں صدی میں عثمانیوں کے دور میں گنبد صخراء کو چاروں طرف ٹائلوں سے ڈھانک دیا گیا ۔ ترکی سلطان عبدالعزیز کے دور میں اس گنبد کی ہشت پہلوسے توسیع کی گئی ۔ مزید اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے کی خاطر نقش نگاری کی گئی اور 1927میں سخت زلزلہ آیا۔ جس نے گنبد صخراء کو شدید نقصان پہنچایا ۔پھراس کی مرمت کی گئی۔1955میں سخت بارشوں سے قبۃ الصخراء پر ایستادہ لکڑی کا گول فریم ناکارہ ہوگیا تھا ۔

تب نئے سرے سے اس قبہ کی تعمیر کروانے کیلئے اٹلی کی ایک کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا ۔ اس نے اس کی تیاری میں تانبے ، المونیم اور کئی قسم کی دھاتوں کے علاوہ سیاہ لیڈ کوبھی شامل کیا ۔ان دھاتوں سے بنے ہوئے کئی گنبد یروشلم میں اب بھی موجود ہیں۔ لیکن سیاہ لیڈ کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ بنائے گئے گنبد سیاہ رنگ اختیار کرلیتے ہیں۔ 1959ءتک اس گنبد میں بھی دیگر گنبدوں کی طرح سیاہ لیڈ شامل رہی ۔ اور اس وجہ سے بھی اس کا رنگ کالا ہوگیا تھا۔جو ذوق و احساس پر گراں گزرتا تھا ۔ اس لیے1962میں حکومت اردن نے اس کے ڈھانچے کو دوبارہ بنانے کا بیڑہ اٹھایا۔ 1965ءمیں قبہ میں المونیم کا جال باندھا گیا اور اس کے اوپر سونے کا پتر چڑھانے کا منصوبہ اعلان کردیا۔عالم اسلام کے مختلف ممالک نے دل کھول کر اس کام میں حصہ لیا۔ 1993میں اردن کے شاہ حسین مرحوم نے اس پر مزید 80کلو سونے کا پتر چڑھانے کا اعلان کردیا۔ جس پر اندازہ تھا کہ 8.2ملین ڈالر خرچ آئیں گے ۔ شاہ حسین مرحوم نے اپنا لندن والا مکان بھی بیچ کر اس کی ساری رقم گنبد صخراء کی آرائش پر لگا دی ۔ اب کہا جاتاہے کہ اس کے اوپردو سو کلو سونے کا کام ہوچکاہے ۔ جس نے اس عمارت کو نہ صرف یروشلم کی سب سے خوبصورت مذہبی عمارت بنا ڈالا بلکہ دنیا میں بھی بالکل منفرد شان و شوکت عطا کر رکھی ہے ۔ بعد ازاں اس طرز تعمیر کو دنیا میں کئی جگہ نقل بھی کیا گیا ۔ جیسے اٹلی میں St. Giacomo کا چرچ ،استنبول میں سلطان سلیمان العظیم کا مقبرہ ، بڈاپسٹ میں یہودیوں کا سینی گاگ Synagogue in Budapestاور جرمنی میں نئی بنائی جانے والی یہودی عبادتگاہ میں بھی گنبد صخراء کی نقل کی گئی ہے۔ اگر آپ صحن اقصی میں کھڑے ہوکر درختوں کے جھنڈ سے دائیں طرف جھانک کر دیکھیں۔ تو دور جبل زیتون کے نشیب میں ایک چرچ نظر آئے گاجس کے گنبدوں پر سونا جڑا ہوا ہے۔لیکن یہ گنبد چھوٹے چھوٹے اوربے کیف سے لگتے ہیں۔ خاص طور پر گنبد صخراء کے سامنے ۔ کہاجاتاہے کہ وٹیکن سے جناب پوپ جان صاحب نے یہاں کا دورہ کرتے ہوئے دنیا کے عظیم الشان گنبد صخراء کو دیکھ کرپوچھا کتنا سونااس کے اوپر جڑا گیا ہے ؟ جب انہیں بتایاگیا کہ 200 کلو ، تو انہوں نے اس چرچ پر دوسوایک کلوسونا جڑنے کاحکم دیا۔ نقل نقل ہی ہوتی ہے خاص طورپرجو ضد کی وجہ سے ہو۔ جیسے بادشاہی مسجدکے پہلو میں سکھوں نے مڑھی بنائی لیکن وہ بادشاہی مسجدکے ساتھ ایسے لگتی ہے جیسے پہلوئے حورمیں!۔

4۔ یہ قبۃ الصخراء ہی مسجد اقصی نہیں ہے

جس طرح کہ ہم نے تفصیل سے اوپر لکھا ہے کہ مسجد اقصی وہ ہے جہاں حضرت عمر فاروق نے نماز ادا فرمائی تھی اورآجکل اس جگہ کو مسجدقبلی کہا جاتاہے ۔اس چٹان سے نبی ﷺ کا آسمانوں کی طرف سفر شروع ہوا تھا ۔ظاہر ہے حضرت عمر کی تجویز صائب تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد اقصیٰ میں دو نفل پڑھے یا پڑھائے ۔صخرہ یعنی اس چٹان پر نہیں اور اس چٹان کو مسجد حضور انور ﷺ نے قرار دیا، نہ حضرت عمر فاروق نے بلکہ 73ھ میں مروان نے اس پتھرکو مسجد کے طور پر بنایا اور اس کے اوپر قبہ تعمیر کیاتاکہ حج کی جگہ باورکی جائے ۔آج بے علمی کی وجہ سے قبۃ الصخراء کو مسجد اقصی کے نمونہ کے طور پر پیش کیا جاتاہے ، جس سے یہی سمجھا جاسکتاہے کہ صرف یہی مسجد اقصیٰ ہے ۔ جس کا بدیہی مفہوم یہ نکلتا ہے کہ خدانخواستہ اس جگہ کو اگر اہل یہود کسی سازش کے تحت نقصان پہنچا دیں ، تو مسجد اقصی کا وجود خطرے میں پڑجائے گا یا اس کے علاوہ باقی مسجد اقصیٰ کو منہدم کردیں اور گنبد کو کچھ نہ کہیں تو اس کایہ مطلب ہوگا کہ مسجد اقصی محفوظ سمجھی جائیگی؟ ہرگز نہیں مسجد اقصیٰ پورے144ایکڑ اراضی کا نام ہے جس میں ہر قسم کی بلڈنگ تہہ خانہ یا خالی ایریا شامل ہے ( امام اہل سنہ حضرت امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے ) اور موجودہ مسجد اقصی جسے جانب قبلہ ہونے کی وجہ سے مسجد قبلی بھی کہا جاتاہے ۔ یہ پورا ایریا مسجد اقصیٰ ہے اور مسلمانوں کا قبلہ اول ، جہاں کم و بیش دو ہزار اور بیرونی احاطوں میں تقریباً سات ہزار افراداور مصلی مروانی کو اگر شامل کرلیا جائے تو چودہ ہزار مسلمان سجدہ ریز ہوسکتے ہیں ۔ اس لیے صرف گنبد صخراء کو ہی مسجد اقصیٰ سمجھنا یا قرار دینا درست نہیں ہے ۔ اگر کبھی یہود نے سازش کرکے اس پورے ایریے کو نقصان پہنچایا تو مسلمان مسجد اقصیٰ کی اہانت کو کبھی قبول کر نہیں سکتے ۔بعض حضرات قبۃ الصخراء کو مسجد اقصیٰ باور کرانے کویہودی پروپیگنڈے یا سازش کا شاخسانہ بھی قرار دیتے ہیں۔ (جاری ہے)

٭٭٭

تبصرہ کریں