سفر مسجد اقصی اور ارض فلسطین کی روح افزا روئیداد۔حافظ عبد الاعلیٰ درانی

حل حلول سے حبرون الخلیل کی طرف روانگی

یہ علاقہ خالص فلسطینی ریاست کا حصہ تھا۔ شہر سے باہر نکلتے وقت ایک اجڑا سا دیار نظرآیا۔ پوچھنے پر بتایا گیا یہ مہاجرین کا کیمپ تھا جہاں فلسطینی زبردستی جمع کیے جاتے تھے۔ دل پہلے ہی رنج و غم سے ڈوبا ہوا تھا اس کیمپ کی پھٹی پرانی حالت دیکھ کرمزید چبھن ہونے لگی۔ کچھ کلو میٹربعد پھر اسرائیل کے زیر تسلط علاقہ شروع ہو گیا اور یہاں کا مشہور شہر الخلیل ہے جسے حبرون بھی کہاجاتاہے اور شاید نابلس بھی کیونکہ پرانی تفاسیر میں سیدنا یوسف کامقام تدفین نابلس لکھا گیا ہے۔ جسے راقم نے بھی تفسیر سورہ یوسف بنام ’حسن و جمال کاچاند‘ میں نقل کیا ہے۔ یہاں پہنچ کر بھی فلسطینی بچوں کی غربت دیکھ کردل خون کے آنسو رویا۔ یہ خالص سیدنا ابراہیم کی زرخرید جگہ تھی۔ یہیں انہوں نے ایک اپنے اور اپنے خاندان کے دفن ہونے کے لیے ایک غار بھی متعین کی تھی۔ یہاں کی مسجد الخلیل میں ان کی قبور کے نشانات ہیں۔ ہم نے طہارت خانے جا کر وضو کیا وہاں برطانیہ سے آئے ہوئے کافی لوگ وضو بنا رہے تھے۔ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے کئی افراد جو بولٹن پریسٹن اور بلیک برن (برطانوی شہروں ) سے تعلق رکھتے تھے۔ وضو بنا رہے تھے۔ اپنے بھائیوں کویہاں اتنی تعداد میں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کچھ کے ساتھ تعارف بھی ہوا۔ حبرون پر بھی اور مسجدالخلیل پر بھی یہودیوں کاقبضہ ہے۔ سیکیورٹی بڑی سخت ہے جس سے گزرکر ہم مسجد میں داخل ہوتے ہیں۔ مسجد میں جا کرظہر وعصر کی نمازیں جمع کیں۔ اسی مسجد میں قبور والی غار کادہانہ بند کر کے چھوٹی سے سوراخ پر جالی فٹ کردی گئی ہے۔ اسی غار میں واقع قبور کہا جاتا ہے کہ تقریبا 60، 70 گز نیچے ہیں۔ سیدنا ابراہیم ان کی زوجہ سیدہ سارہ ، سیدنا اسحاق ان کی بیوی سیدہ رفقہ کی قبورنیچے ہیں اور اوپر محض نشانات۔نیچے سے اس غار کو راستہ جاتا ہے بعض دوستوں نے اسے دیکھا ہوا ہے۔ان کی زبانی پتہ چلا ہے۔ مسجد ابراہیمی کاایک حصہ ممنوع ایریا ہے۔ اس پر اسرائیلیوں نے تالے ڈال رکھے ہیں بلکہ دیوار بنا کر مسجد الخلیل کو بھی 2حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ بتایا گیا کہ سیدنا یوسف ، سیدنا ایوب اور ان کی فیملی کی قبور شریفہ کو الگ کر رکھا ہے۔ یہ کیسی نالائق اولاد ہے جو بعد از مرگ بھی انہیں الگ الگ رکھنے پر مصر ہے، حالانکہ وہ سب انبیاء ایک دوسرے کے ساتھ رشتے میں بھی جڑے ہوئے تھے اور دینی طور پر بھی سمیت ایک ہی دین۔۔۔ دین اسلام کے ماننے والے تھے ۔ ان بدعتی اور مشرکین نے انہیں بھی باباجمال و جہال کی طرح مال میراث بنا رکھا ہے۔ ان قبورکی زیارت عام دنوں میں نہیں کی جا سکتی۔ عجیب تماشاہے کہ یہ مسجد الخلیل یہودی قبضے میں اور تولیت مسلمانوں کی ہے لیکن وہاں اذان کے لیے قابضین کی اجازت ضرورت ہے۔ وہ اجازت دیں تو اذان ہوگی نہ دیں تو بیٹھے رہیں اور بغیر اذان کے ہی نمازیں ادا کریں۔ ہم نے توایک نماز اذان کے بعد ہی باجماعت اداکی تھی۔ عصربھی ساتھ ہی پڑھ لی کہ حالت سفر میں ہیں۔ قبور انبیاء بلکہ اپنے جد امجد کی قبر مبارک کے سائن پر کھڑے ہوکر میں سوچتارہا۔

میرے ذہن میں کائنات کی اس عظیم ہستی کی تاریخ گھومنے لگ گئی۔ ابوالانبیاء سیدنا ابراہیم جیسی ہستی کی جائے پیدائش بابل (عراق ) کا شہر’’ار‘‘ ہے۔ انہوں نے تقریباً 100 سال تک لوگوں کو اپنی قوم کو بلکہ حاکم وقت کو مسلمان کرنے میں دعوت دی لیکن نتیجہ کیا نکلا کہ انہیں آگ میں پھینک دیا جو باذن الٰہی گلزار بن گئی اور آپ سلامتی کے ساتھ اس سے نکل آئے اور اللہ کے حکم سے آپ نے اپنی زوجہ سیدہ سارہ اور بھتیجے سیدنا لوط کے ساتھ مصر کی طرف ہجرت کی۔ وہاں کے بادشاہ نے ان کی غیر معمولی شخصیت سے مرعوب ہو کر اپنی شہزادی سیدہ ہاجرہ آپ کے عقد میں دے دی۔ جن کے بطن سے حق تعالیٰ نے پہلا بیٹا سیدنا اسماعیل عنایت فرمایا۔ سیدنا ابراہیم کو حکم ہوا کہ اس نومولود کو اس کی والدہ سمیت وادی حجاز وادی غیر ذرع (بے آب و گیاہ)لے جائیں۔ انہوں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بیٹے کو وادی حجاز میں اس جگہ چھوڑ آئے جہاں آج کعبۃ اللہ ہے۔ یوں یہ وقت کی شہزادی اپنے معصوم بچے کے ساتھ تن تنہا لق و دق صحراء میں اللہ کی رضا کی خاطرسختیاں سہتی رہی۔ جبکہ سیدنا ابراہیم دعوت و تبلیغ میں مصروف رہے۔ اس دوران میں اللہ نے پہلی بیوی سارہ کی گود بھی ہری کردی۔ ان کے بطن سے دوسرا بیٹا سیدنا اسحاق تولد ہوا۔ آپ فلسطین کے علاقے حبرون میں تشریف لے آئے۔ دوسرے بیٹے سیدنا اسحاق کی پرورش یہاں ہوئی۔ بڑے بیٹے سیدنا اسماعیل نے وادی حجاز میں اللہ کی عبادت کے لیے دنیا میں سب سے پہلے ایک گھر تعمیر کیا جسے بیت اللہ کے نام سے یاد کیا جاتاہے اور دوسرے بیٹے سیدنا اسحاق نے بیت اللہ کی تعمیر کے 40 سال بعد یہاں ایک مسجد بنائی جسے مسجد اقصی کہا جاتاہے۔ گویا یہ خاندان جہاں بھی گیا اللہ کی عبادت کے لیے گھر بناتا رہا۔ انہی کی سنت کو خاتم الانبیاءﷺ نے زندہ کیااور دنیاکے سارے کنارے اللہ کی مساجد کی تعمیر سے بھر دیے۔ بعدمیں سیدنا ابراہیم کی ذریت میں سے ایسے نالائقوں نے جنم لیا جنہوں نے دین اسلام کویہودیت میں پھر عیسائیت میں بدل دیا۔ یوں جس توحیدکے لیے سیدنا ابراہیم نے ساری زندگی صرف کردی تھی اسے اس نالائق ذریت نے شرک میں بدل ڈالااور آج دنیا میں سب سے زیادہ ظلم پھیلانے والے یہی لوگ ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ وہ ابراہیمی دین کے وارث ہیں۔ ’’برعکس نام نہندزنگی کافور‘‘مسجد الخلیل میں ان پاک باز ہستیوں کی قبور ہیں جو کہاجاتاہے 60، 70 گز نیچے ہیں اوپر ان جگہوں کی نشاندھی کے لیے نشانات بنادیے گئے۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کے بقول سرور انبیاءﷺکی تربت شریفہ کے کسی نبی کی قبر مبارک کی بالکل صحیح جگہ کی نشاندھی نہیں کی جاسکتی۔ اسی غار کے اوپر بنی ہوئی مسجد الخلیل میں داخل ہوں تو سیدہ سارہ کی قبر مبارک دکھائی دیتی ہے۔ دروازے میں داخل ہوں تو بائیں طرف 2 قبور ہیں ایک سیدہ رفقہ زوجہ نبی اسحاق اور اس سے متصل خود نبی اسحاق کی قبر شریف ، اس کے پہلو میں ایک بہت بڑا اونچا منبر ہے۔ جسے سلطان صلاح الدین ایوبی نے نصب فرمایا تھا۔ دائیں طرف ایک چھوٹا سا جنگلہ ہے جہاں پہلے کبھی سیڑھیاں ہوا کرتی تھیں جو قبور شریفہ تک جاتی تھیں۔ سیکیورٹی نقطہ نظر سے ان سیڑھیوں کو بند کر دیا گیا اور وہاں ایک نشان بنا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک دروازہ ہے جو سیدنا ابراہیم کی قبر شریف کی طرف کھلتا ہے۔ اس کے بعد سیدنا یعقوب اور سیدنا یوسف اور سیدنا ایوب﷩ کی قبور ہیں جنہیں اسرائیلیوں نے یہاں تسلط کے بعد ایک دیوار بنا کر الگ کرڈالا ہے۔ کہا جاتاہے کہ ان کی زیارت صرف رمضان المبارک کے آخری عشرے میں کروائی جاتی ہے۔یا کوئی گارڈ واقف کار مل جائے تو وہ بھی یہ دروازہ کھول کر قبور شریفہ کی زیارت کروا سکتا ہے ۔ ہم نے ان سب پاکباز ہستیوں پر درود و سلام پڑھ کر ہدیہ عقیدت پیش کیااور دیر تک وہاں کھڑے رہے اور اس احساس کے ساتھ کھڑے رہے کہ ہم جیسے گناہ گار اور بے مایہ لوگ کتنی پاکباز ہستیوں کے سامنے کھڑے ہیں۔ اللہ مالک الملک کا یہ احسان عظیم اور اپنے عجر و بے مائیگی کا احسا س بہت شدت اختیار کرتا جا رہا تھا اتنے میں آواز آئی کہ ایک قافلہ آیا ہوا ہے اور اس نے نماز باجماعت شروع کردی ہے ہم بھی جماعت کے ساتھ مل گئے اور دونوں نمازیں ہم نے جمع کر کے پڑھ لیں ۔ سفر میں جمع بین الصلوتین ایک بڑی سہولت ہے۔ نماز کے بعد وہاں کینیڈا ، ترکی اور مصر سے آئے ہوئے زائرین میں سے بعض کے ساتھ ملاقات ہوئی اور تحیہ و سلام کا تبادلہ ہوا۔

تاریخی عجوبہ ۔۔۔منبر ایوبی کی موجودگی

مسجد الخلیل میں بھی ایک عجوبہ دیکھنے کوملا اور وہ تھا سلطان صلاح الدین ایوبی کابنایاہوا منبر،جوبالکل اصلی حالت میں ابھی تک موجود ہے۔الحمد للہ۔ روایت کے مطابق سلطان مصر صلاح الدین ایوبی نے بڑی بڑی 3 مساجد کے لیے 3 منبر بنوائے تھے۔ جب وہ بھی عیسائی قابضین پر حملہ آور ہوتے تویہ تینوں منبر اپنے ساتھ رکھتے۔ سولہ جنگوں کے بعد اللہ نے حق کوفتح عطا فرمائی توان میں سے ایک منبرمسجد اقصٰی میں ٹکایا گیا اور دوسرا اسی مسجد ابراہیمی میں اور تیسرا دمشق کی جامع مسجد میں۔ مسجداقصی میں موجود منبر 1969ءتک 900 سال تک علماء و خطباء کے زیر استعمال رہا۔ پھر ایک بدبخت یہودی نے اسے آگ لگا دی اور وہ جل گیا۔ وہ اسی حالت میں مسجد اقصی کے پہلو میں موجود ہے۔ باقی دونوں منبر سلامت ہیں۔ اللہ انہیں بدبختوں کی شرارتوں سے محفوظ رکھے۔ یہ منبر14فٹ اونچا ہے اور تاریخ کاعجوبہ ہے کہ اتنے بڑے منبر کو بغیر کسی کیل کے یاگلو کے بنایاگیاہے۔ اگر اس میں کوئی کیل استعمال کیا گیاہوتایا گلیو لگائی گئی ہوتی تو اب تک اکھڑ چکا ہوتا۔ مگر918سال سے یہ منبر پوری آب و تاب کیساتھ موجود ہے الحمد للہ۔ اتنی زبردست ڈیزائننگ ہے کہ آدمی عش عش کر اٹھتا ہے۔ لگتاہے پورے ایک دیوہیکل درخت کواتنی خوبصورت گرافی کے ساتھ منبرمیں ڈھالاگیا ہے جسے دیکھ کر آدمی ورطہ حیرت میں ڈوب جاتاہے۔ مجھے اس منبر کے ساتھ کھڑے ہوکر اس علاقے ، اس مسجد مبارک اور اس کے بانی سیدنا ابراہیم اور اس منبر کے بانی سلطان صلاح الدین ایوبی کی شخصیت کا تعارف کرانا تھا۔ نماز کے بعد یہ فریضہ بھی سر انجام دیا گیا ۔کچھ اس جگہ کی عظمت واہمیت کچھ سلطان صلاح الدین کی شجاعت اور کچھ امت مسلمہ کی بیچارگی اور کچھ یہ احساس ستا رہاتھا کہ آج ہم جیسے گناہگار اس مقدس و تاریخی جگہ پر کھڑے ہیں جو محض اللہ کا فضل ہی ہے ورنہ

کہاں میں اورکہاں نکہت گل…نسیم صبح تیری مہربانی

آپ کومسجدالخلیل مسجد ابراہیمی کی زیارت کاموقع ملے تو اس عظیم الشان شاہکار کو اس نظر سے ضرور دیکھیے گا۔ جس سے آپ کو اپنے اسلاف کی عظمت کااحساس ہوگا۔

بیت اللحم۔۔۔ جائے ولادت سیدنا عیسیٰ

الخلیل سے فارغ ہوکر ہم بیت اللحم کے لیے روانہ ہوئے۔ حبرون سے وہ کوئی زیادہ دور نہیں ہے۔ یہ علاقہ خالص مسلمانوں کاہے یہاں لوگوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ اس لیے عام چیزیں بھی اسرائیلی مقبوضہ علاقوں سے نسبتاًسستی ہیں۔ ہم نے یہاں فلسطینی ہوٹل میں لنچ کیا۔ بازار کا چکر لگاتے ہوئے اپنی بچی فریال کے لیے ایک بڑی خوبصورت فراک پسند آئی اور کچھ ڈرائی فروٹ کے پیکٹ خریدے۔ اسی شہرمیں سیدنا داؤد سے منسوب ایک بہت بڑا محل بھی دریافت ہوا ہے۔ شہرکے قلب میں بلدیہ کے دفاتر ہیں ، یہاں فلسطینی پولیس کے خوبصورت جوان نیلی وردیوں میں بڑے خوبصورت اور چاق و چوبند نظرآئے۔ بلدیہ کے دفاتر کے ساتھ مسجد ہے جو سیدنا عمر فاروق کی طرف منسوب ہے۔ یہاں کا مشہور سیاحتی مقام سیدہ مریم کے نام سے موسوم 1400 سال پراناکنیسہ ہے، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ سیدنا عیسیٰ کی ولادت کی جگہ پر بنا ہوا ہے۔ اس کے مرکزی گیٹ میں سے داخل ہوں تو دائیں جانب اس چرچ کا بہت بڑا حصہ برائے فروخت صلیب کے نشانات اور پرچموں سے اٹا پڑاہے ۔گویا اس نام سے کاروبار خوب چمک رہاہے۔ اتنی دیر میں ایک فلسطینی سپاہی جو چرچ کاانتظام کرتے ہیں، میرے پاس آیا سلام کیا۔ حال احوال پوچھا۔ اور بولاکہ آپ نے چرچ اندر سے دیکھنا ہے، میں نے کہا۔ ہاں! تو بولا آپ ٹوکن لے لیں۔ میں نے کہا، یا اخی! اب تو ہم آگے نکل آئے ہیں واپسی ناممکن ہے تو وہ خاموش ہوگیا۔ ہم بغیر ٹوکن لیے جوتوں سمیت چرچ کے اندرونی حصے میں داخل ہوگئے ۔ جائے ولادت پرجانے کے لیے بہت نشیبی ایریا کے لیے چھوٹے سے دروازے سے باری باری گزرناپڑتاتھا۔ بڑی تعداد میں سیاح حضرات مرد و عورت قطار بنائے ہوئے اندر داخل ہونے کے منتظر تھے۔ وہاں خواتین کو بھی حجاب پہننا پڑتاتھا۔ یعنی اصل چیز حجاب ہی ہے جو ’’نن‘‘کامستقل لباس ہے۔ لیکن مسلمان عورت کازیور ہونے کی وجہ سے قابل اعتراض ہے۔ یہ عزت نسواں کالازمی عنصر ہے، نشان عفت و پاکدامنی ہے اور مذہبی تقدس کا حصہ بھی۔ عیسائیوں کے ہاں صرف کنواری مریم حجاب پہنتی ہے اور امت اسلام کی ہر بیٹی عفیفہ مریم و عائشہ وفاطمہ کی پیروکار ہے۔ اپنی باری آنے پر ہم اندر داخل ہوئے تو سیدنا عیسیٰ کی ولادت کی جگہ ایک شیلف بنی ہوئی ہے جسے بتیوں سے روشن رکھاگیاہے۔ قرآن کریم میں جذع النخلہ (کھجورکاتنا بتایا گیاتھا) اس جگہ کی نشاندھی میں کھجور کے مصنوعی پتے رکھے ہوئے ہیں۔ یعنی قرآن کے بیان کی تصدیق کی گئی ہے۔ یاقرآن نے جو بیان کیا گیا اسے ہی تسلیم کیا گیا ہے۔ عیسائی عورتیں بچے مرد سبھی اس جگہ سجدہ کرتے ہیں اسے چومتے ہیں اور اب موبائل فون نے سیلفی کارواج ڈال دیا ہے۔ اب بجائے سجدے کے زیادہ تر سیلفیاں بنائی جاتی ہیں۔ وہاں سے آگے کئی تاریخی نشانات جو انہوں نے محفوظ کیے ہیں، دکھائے گئے اور ہم چرچ سے باہر آئے تو ایک بگھی رکی جس پر سے ایک نوجوان لاٹ پادری زرق برق لباس پہنے سیکیورٹی گارڈز کے ہمراہ اترا،جیسے ہمارے ہاں دلہن بنے پیران طریقت اترتے ہیں۔ سارا مجمع اس کی ظاہری شان و شوکت سے مرعوب ہو کر اس سے مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھا۔ بتایاگیا کہ کسی یورپی ملک کامسیحی رہنما ہے۔ پھر اور ہم آگے بڑھ گئے۔ چرچ کے باہر ایک معمر فلسطینی بزرگ مسجد اقصیٰ اور ان علاقوں کی تصاویر بیچ رہاتھا۔ ہم نے اس کی حوصلہ افزائی کے لیے چند سیٹ خرید لیے۔ پھر سڑک پار کر کے 300 گز دور، 3 منزلہ مسجد عمرفاروقؓ میں چلے گئے اور نوافل ادا کیے۔ کہاجاتاہے کہ کلیسائے مریم میں سیدناعمر فاروق امیرالمومنین نے پادریوں سے مذاکرات کے دوران نماز کا وقت آنے پرلاٹ پادری کی پیشکش پر چرچ کے اندر ہی نماز ادا کرلی تھی۔ جس سے مسلمانوں کے لیے غیرمسلم عبادت گاہوں میں کچھ تحفظات کے ساتھ نماز ادا کرنے کا جواز بنا۔ لاٹ پادری نے اپنی خوشی سے مسجد کی جگہ مسلمانوں کے لیے وقف کر دی۔ جہاں آج خوبصورت مسجدبنی ہوئی ہے۔ جبکہ شہر القدس میں مسجد اقصی کے پڑوس میں واقع کنیسۃ القیامہ میں باوجود پیشکش کے امامنا وسیدنا فاروق اعظم نے نماز ادانہیں کی۔ کیونکہ حالات کا اختلاف تھا۔

بہرحال خلیفہ اسلام کی رواداری ایک غیر متنازعہ حقیقت ہے جسے آج تک ملت اسلامیہ فخر کے ساتھ پیش کرتی ہے اور اس ملت کا حق ہے کہ وہ اس پر فخر کرے۔ اس مسجد عمر فاروق کی آرائش سلطان صلاح الدین ایوبی﷫ کے دور ہمایوں میں بھی کی گئی تھی۔ اب اسے بہت خوبصورت اور جدید طرز تعمیر سے آراستہ کیا گیا ہے۔ اتنے میں وہاں سے روانگی کا اعلان ہوگیا۔ ہمارا اگلا پڑاؤ مقام سیدنا موسیٰ تھا۔

فلسطین کے شہر’’بیت اللحم ‘‘کاتعارف

فلسطین کے مشہورشہر’’بیت اللحم ‘‘ سے مقام موسیٰ، اریحا وغیرہ کی طرف روانہ ہونے سے پہلے ہم اس شہر کی تاریخی اہمیت و حیثیت سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں ، بیت اللحم کالفظی معنی توعجیب ساہے یعنی گوشت یا روٹی کا گھریا وہ علاقہ جہاں کثرت سے پھل اوررزق پایا جاتاہو۔ کہاجاتاہے کہ بیت اللحم کنعانیوں کے خدا ’’ لحمو‘‘ یا’’لاخاما‘‘ کی طرف منسوب ہے ، یادرہے کہ آرامی خداؤں میں اس نام کامعبود ’’ واؤ کی شد کے ساتھ قوّت بمعنی طاقت۔ یا۔ واؤ کے سکون کے ساتھ۔ قُوْت ( جیسے قوت لا یموت۔ نپا تلا رزق) بمعنی روزی کامعبود سمجھاجاتا تھا۔۔۔ وهو إله القوة… أو إله القوت (روزی) وهى کلمة آرامية تعنی الخصب والثمار۔ عبرانی بائبل کے مطابق یہ کنعانی شہراسرائیلی بادشاہ ’’ رحبحام ‘‘کی طرف منسوب ہے۔ ہم نے بچپن میں بیت اللحم کانام بائبل میں پڑھا تھا۔ سیدنا عیسیٰ کی جائے ولادت کے طور پر۔ اس لیے جب ہمیں بتایاگیا کہ آج ہم بیت اللحم کے وزٹ کے لیے جارہے ہیں توذہن میں عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔ اس شہر کی تاریخ ، کوئی 1350 سال قبل ولادت مسیح بتائی جاتی ہے۔ یروشلم کی تاریخ بیان کرتے ہوئے گزشتہ صفحات میں ہم بتاچکے ہیں کہ بنی اسرائیل کے 12قبیلوں میں جب یہ علاقہ تقسیم ہوا تویہ علاقہ بنی بنیامین ( جو سیدنا یوسف‎ کے چھوٹے بھائی بنیامین کی اولاد )کے حصے میں آیاتھا۔ اسی لیے اسی علاقے میں سیدنا یوسف اوربنیامین کی والدہ سیدنا یعقوب نبی کی زوجہ سیدہ راحیل کی قبر موجود ہے۔ جس کاذکرمیں کرچکا ہوں۔ ’’بیت اللحم ‘‘کوشہر داؤد بھی کہاجاتاہے ، کہاجاتاہے کہ سیدنا داؤد کی ولادت بھی بیت اللحم میں ہوئی تھی۔ شہرکے شمالی جانب سیدنا داؤد کی طرف منسوب ایک کنواں بھی ہے اور انہوں نے ایک بہت بڑا محل بھی یہاں بنایا تھا۔ اسی صدی میں اس محل داؤدی کے آثار بھی دریافت ہوئے ہیں۔ شہربیت اللحم ،یروشلم سے مشرقی جانب صرف 6، 7 میل دور ہے، دوسری صدی میں رومی بادشاہ قیصر ہیڈریان نے اسے شہر کو بھی تباہ کردیا تھا۔ نبی ﷺ کی ولادت سے 300سال پہلے ایک اور رومی بادشاہ قسطنطینConstantine نے یہودیت چھوڑ کرعیسائیت اختیار کرلی تھی۔ اس بادشاہ کی والدہ ہیلن بڑی مذہبی عورت تھی ، اس نے 327عیسوی میں اسے دوبارہ آباد کیا اور 330 عیسوی میں جائے ولادت سیدنا عیسیٰ پرگرجا گھر ’’کنیسۃ المھد‘‘ کے نام سے تعمیرکرادیا۔ یاد رہے کہ اسی لیڈی ہیلن نے یروشلم کا کنیسۃ القیامۃ بھی تعمیر کروایاتھا۔ ہجرت کے سولہویں سال 637 عیسوی میں، خلیفہ ثانی، فخر امت ،سیدنا وامامنا سیدنا عمر بن الخطاب کے عہدہمایوں میں اسے بھی یروشلم کے ساتھ فتح کر لیا گیاتھا۔ اس وقت عیسائیوں نے یہاں یہودیوں کا داخلہ بندکیا ہوا تھا۔ لیکن سیدنا عمرفاروق نے یروشلم کی طرح بیت اللحم میں بھی یہودیوں پر عائد ہر قسم کی پابندیاں ختم کردی تھیں۔ اس چرچ میں سیدنا فاروق اعظم نے نماز بھی ادا کی تھی ، جس سے غیرمسلموں کی عبادتگاہوں میں چند شرائط کے ساتھ نمازپڑھنے کاجواز ملتاہے۔

بیت اللحم میں دور عباسی یعنی خلیفہ ہارون الرشید کے عہد میں بڑی ترقی ہوئی۔ یہاں کئی مساجد و مدارس قائم کیے گئے ، گیارہویں صدی تک یروشلم کی طرح بیت اللحم بھی مسلم ریاست کا حصہ رہا۔ 1099 عیسوی میں صلیبیوں نے قبضہ کرکے یہاں بھی یروشلم کی طرح بڑی خونریزیاں کیں۔ یونانی آرتھوڈوکس رہنماؤںکو ہٹا کر لاطینی پادریوں کاتقرر کیا جنہوں نے جی بھر کرکفرو جہل پھیلایا۔ پھر سلطان صلاح الدین نے اسے فتح کرنے کے بعد یہاں سے صلیبیوں کے اثرات بد کا خاتمہ کردیا اوراسے ایک پُرامن شہر ڈکلیئرکیا۔ جہاں تمام مذاہب کو آزادی حاصل رہی۔ 1250میں ممالیک حکمرانوں ( جیسے تاریخ ہند میں خاندان غلاماں کی حکمرانی تھی ، یہی صورتحال شام و نواحی علاقوں میں بھی تھی ) نے اس شہر کی دیواریں تباہ کردیں۔ جنہیں 16 ویں صدی میں خلافت عثمانیہ کے دور میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ یورپی ممالک کی سازشوں کی وجہ سے 1917میں یہ علاقہ برطانوی فورسز کے قبضے میں آگیا۔ عثمانیوں کا برائے نام ہی سہی ،لیکن کنٹرول سمجھا جاتاتھا جوعالمی جنگ کے اختتام کے بعد ان کے ہاتھوں سے بھی نکل گیا۔ 1948میں عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں اردن کو کنٹرول مل گیا۔ لیکن 1967کی 6 روزہ جنگ کے نتیجے میں اسرائیل اس پر قابض ہوگیا۔ 1995ء کے اوسلو معاہدے کے تحت بیت اللحم فلسطینی اتھارٹی کنٹرول میں دے دیا گیا۔ بیت اللحم کی مساحت 10611ایکڑ یا4.097مربع میل ہے۔ اس چھوٹے سے شہر میں 30سے زیادہ ہوٹل 300 سے زیادہ گھریلو صنعتیں ،70بستیاں ، تین مہاجرکیمپ ایک کانام ’’ مخیم عایدہ ‘‘ دوسرا’’ مخیم بیت جبرین ‘‘اور تیسرے کانام ’’مخیم الدھیشہ‘‘ ہے جو 1949ء اور 1950ء میں قائم ہوئے تھے۔ یہاں31 تعلیمی مدارس کام کررہے ہیں ، اعلی تعلیم کے لیے’’ بیت اللحم یونیورسٹی‘‘ بھی ہے۔ جہاں کئی قسم کے علوم وفنون پڑھانے کے لیے مخصوص کالجز ہیں۔

بیت اللحم کی غاریں وخانقاہیں وگرجا گھر

بیت اللحم میں کئی غاریں بھی بڑی مشہور ہیں۔ جنوب مشرق میں ایک ’’مغارات الحلیب ‘‘ہے مشہور ہے کہ سیدنا عیسیٰ کوان کی والدہ اس غار میں دودھ پلایا کرتی تھیں۔ اسی طرح کئی خانقاہیں مختلف ادوار میں بنائی گئی تھیں۔ ایک خانقاہ عبید وادی قدرون کے سامنے ہے۔ یہ خانقاہ عبید نامی گاؤں کی مناسبت سے عبیدکہلاتی ہے۔ جبکہ خانقاہ جنت مکمل طور پربند ہے۔ اور ’’خانقاہ مارسابا‘‘جو 482 عیسوی میں یونانی دور میں تعمیر کی گئی تھی( خاتم النّبیین ﷺکی ولادت شریفہ سے تقریباًکوئی ایک صدی پہلے)اس خانقاہ کی خاص بات یہ ہے کہ شروع دن ہی سے اس خانقاہ میں عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے، روایت کے مطابق یہ خانقاہ ابھی تک انہی پرانے اصولوں پر قائم ہے۔ یوں بھی مذہبی طور پر عیسائیت میں عورتوں کو سوائے نن بننے کے کبھی کوئی اختیارنہیں دیا گیااور مظلوم ننوں کے ساتھ جبر وظلم کی بڑی المناک داستانیں تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔

٭٭٭

تبصرہ کریں