صدقات کا ضیاع بِالْـمَنِّ وَالْأَذَى۔ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

نیکی چھوٹی ہو یا بڑی، سِرّی ہو کہ جہری، اپنوں سے کی جائے یا بیگانوں سے یہ اپنی ذات میں نیکی ہی رہتی ہے۔ اللہ کی بارگاہ میں نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ﴾

اور آخرت میں نیکی کا صِلہ تبھی ممکن ہوگا جب نیکی سے جُڑی تمام شرائط پوری ہوں۔ یعنی نیکی کرنے والا للہیت و خلوص سے سرشار ہونے کے ساتھ ساتھ جِن کے ساتھ نیکی کی جائے اُن سے کسی مفاد کی امید اور ستائش و تعریف کی تمنا نہ کرے۔ بصورتِ دیگر نیکی نیکی نہیں رہتی بلکہ وبالِ جان بن جاتی ہے۔ مثلاً

نماز نیکی کی ایک اعلیٰ ترین صورت ہے۔ اسلام میں یہ واحد عبادت ہے جس میں عبودیت اپنے کامل ترین مظہر میں جلوہ گر ہوکر عابد اور معبود کی قُربتوں کو منتہائے کمال تک لے جاتی ہے۔

دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد پہلا فرض جس کی ادائیگی پہ انتہائی زور دیا گیا وہ نماز ہی ہے۔ الغرض نماز کی اہمیت و فضیلت ہر پہلو سے عیاں ہے۔ مگر اس عظیم ترین عبادت کا اگر دوسرا رُخ دیکھا جائے تو قرآن پاک (سورة الماعون) میں یہی نیکی کرنے والوں کو تساہل اور ریاکاری کی بِنا پر ہلاکت کی وعید سنائی گئی۔

اِسی طرح شہادت بھی نیکی کے اعتبار سے اسلام میں ایک اعلی ترین مقام رکھتی ہے۔ صحیح حدیث کے مطابق شہید کے خون کا قطرہ بعد میں گرتا ہے جبکہ اس کے تمام گناہ پہلے مٹا دیے جاتے ہیں۔ پھر اسی شہید کے متعلق آپ ﷺ کے ایک ارشاد میں دوسرا پہلو یہ بھی پایا جاتا ہے کہ بروزِ قیامت شہید سے بازپرُس ہوگی کہ تُو نے میرے لیے کیا کیا؟ وہ کہے گا تیرے لیے اپنی جان کا نذرانہ دیا۔ جواب آئے گا: ابنِ آدم! تُو جھوٹ بولتا ہے۔ تُو نے اس لیے جان دی کہ لوگ تیری مدح سرائی کریں۔ وہ تم نے کروا لی اب میرے پاس تیرے لیے کچھ نہیں۔ بعد ازاں اُسے دوزخ میں دھکیل دیا جائے گا۔

شہادت بے شک بیسیوں فضائل سے لبریز ایک اعلی ترین نیک عمل ہے، مگر جب اس نیکی میں خلوص کی بجائے ریاکاری شامل ہوئی تو یہ نہ صرف بے نتیجہ رہا بلکہ شہید کیلیے وبالِ جان بھی بن گیا۔ عالم دین کے بارے میں بھی شہید کی طرح تفصیل موجود ہے۔

قارئین! اب آئیے اصل عنوان کی طرف جس کے لیے سابقہ سطور کی تمہید بندھی۔ کہ نماز، روزے، حج اور شہادت وغیرہ کی طرح صدقہ و خیرات (مثلاً

فی سبیل اللہ مساجد، مدارس، سکولز، ہسپتال، پُلیں یا سڑکیں تعمیر کروانا۔ کسی بیوہ، یتیم، معذور، بیمار یا عالم دین کی کفالت ؍ مالی امداد کرنا۔ واٹر فلٹریشن پلانٹ یا نلکا لگوانا، کنواں یا نہر کھدوانا۔ کسی نیک مقصد کیلئے زمین، مکان یا کوئی جائداد وقف کرنا۔ کسی غریب بچی کی شادی کروانا وغیرہ وغیرہ) بھی نیکی کی عظیم انواع میں سے ہیں۔ صدقات کی اہمیت و فضیلت پر سیکڑوں آیات اور صحیح روایات موجود ہیں۔

شریعت میں جہاں بار بار صدقہ دینے کی ترغیب اور صاحبِ صدقہ کو عظیم اجر و ثواب کا مژدہ سنایا گیا ہے وہاں اس کا ایک زاویہ ایسا بھی ہے کہ یہی صدقہ صاحبِ صدقہ کےلیے وبالِ جان بن جاتا ہے۔ کیونکہ صدقات و خیرات میں جہاں نیک نیتی کا عمل دخل بےحد ضروری ہے وہاں اس میں احسان جتانے یا ایذا پہنچانے کا ہلکا سا شائبہ بھی کار فرما نہیں ہونا چاہیے۔ ورنہ ایسی نیکی کے اَکارت ہونے میں ادنی سا بھی شک نہیں ہو گا۔ بلکہ بزعمِ خویش یہ نیکی اُلٹا گلے پڑ جائے گی۔

چنانچہ قرآن مجید بڑے ہی توضیحی انداز سے اِس نیکی نما بدی کو زیرِ بحث لا کر صاحبِ صدقہ کو شرم دلاتا ہے:

’’ اے ایمان والو! صدقہ لینے والے پر احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر اپنے صدقات ضائع نہ کرو۔‘‘

گویا انسان جس قیمتی متاع کی بطورِ صدقہ قربانی دے کر کسی انسان کو مُستفید کرتا ہے تو ایذارسانی یا احسان جتانے کے باعث خدا اُس کی اسی قربانی کو مردود کر دیتا ہے۔

ویسے بھی رضائے الٰہی کا حصول اور احسان جتلانا یا ایذا پہنچانا باہم دو متضاد چیزیں ہیں۔بالفاظ دیگر اگر صدقہ دینے والے کے پیشِ نظر رضائے الٰہی ہے تو پھر احسان جتانا کیسا اور ایذا رسانی کیوں!!! اور اگر صدقہ دیکر احسان جتانا یا ایذا پہنچانا مقصود ہے تو پھر رضائے الٰہی کیسی!!!

گویا یہ آگ اور پانی کو ایک مقام پہ جمع کرنا ہے جو کہ در حقیقت ناممکن ہے۔

پس صدقات کے دو اہم ترین متعلقات ہیں:

ایک اللہ کی ذات کہ جس کی رضا کیلیے صدقہ دیا جاتا ہے۔

اور دوسرا صدقہ لینے والا آدمی۔ سو دونوں کے حوالے سے مذکورہ نیکی میں فکری آلودگی بالکل حائل نہیں ہونی چاہیے۔

یعنی ایسا نہ ہو کہ صدقہ دینے والا لینے والے پر احسان جتا کر یا ایذا پہنچا کر اس نیکی کو اپنے لیے ثواب کی بجائے عذاب کا باعث بنا لے۔ کیونکہ اس قباحت سے صدقہ لینے والا زِچ ہو کر سوچتا ہے کہ کاش! یہ صدقہ نہ ہی لیا ہوتا۔

لہٰذایہ خیال رہے کہ

صدقہ لینے والے کے احساسات کسی صورت میں مجروح نہ ہونے پائیں۔ یہی صدقے کی اصل روح اور معراج ہے اور یہی ایک اعلیٰ ظرف متصدق کی اعلی ظرفی ہے۔

یہاں ایک اور قابل فکر بات یہ بھی ہے کہ

دینے والا کس وجہ سے لینے والے پہ احسان جتاتا یا اُسے اذیت میں مبتلا کرتا ہے! جب دینا خدا کےلیے اور خدا کے ہی دیے میں سے تو احسان جتانا اور تکلیف پہنچانا تو بالکل نہیں بنتا۔ یہ دولت کیا ہماری ملکیت میں تو کچھ بھی نہیں، بلکہ ہمارا تو اپنا آپ بھی ہمارا نہیں، تو پھر پرائے سرمائے پہ یہ فضول افتخار اور ناداروں سے یہ استحقار جچتا ہے کیا!؟

قارئین! آپ عصرِ حاضر ہی کو دیکھ لیں۔ فی زمانہ غرض و غایت کے حصول کے ساتھ خیرات وصدقات ایک کریہہ صورت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ دور چونکہ سرمایہ دارانہ ہے اس لیے موجودہ دور کے صدقات بھی سرمایہ دارانہ سے ہو کے رہ گئے ہیں۔

مذکورہ ذہنیت جہاں دنیاوی امور میں اپنی غرض کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی، دینی امور میں بھی یہ یہی گُل کِھلانے پہ اُکساتی ہے۔ کچھ سرمایہ دار صدقہ دیتے ہوے استحقاق سے پہلے اپنا مفاد دیکھتے ہیں۔ جہاں ان کی good will ہو، جہاں ان کیpr بنے، جہاں انہیں سپورٹ ووٹ ملے، وہاں جھٹ سے تجوری کا منہ کھول دیتے ہیں۔ اگر مفاد کی امید نہیں تو استحقاقِ صدقہ جائے بھاڑ میں۔

المختصر! نیکیوں کی قبولیت یا عدمِ قبولیت کا معیار نیکی سر انجام دینے والے شخص کی نیت اور سوچ پر منحصر ہے۔ وہ چاہے تو صدقات کی ادائیگی بغیر کسی دنیاوی غرض کے پورے اخلاص کے ساتھ کرے اور نتیجے میں اُخروی سعادتوں سے بھرپور سرفراز ہو جائے یا پھر احسان جتانے اور ایذا پہنچانے کی بُری لَت کے باعث آخرت میں اجر و ثواب کی بجائے خدا کی ناراضی کا سامنا کرے۔

اب یہ تو صاحبِ صدقہ کی نیت، ظرف، شرف اور سوچ کا امتحان ہے! چاہے وہ اِس نیکی کو بارگاہ الٰہی میں قبولیت سے ہمکنار کروالے یا پھر اپنے لیے وبالِ جان بنا لے!!!

٭٭٭

تبصرہ کریں