سب سے پہلے توحید (قسط1)۔ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق

الدکتور صالح بن حمید  حفظہ اللہ نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا: ’’ اے مسلمانو ! بنی نوع انسان جب اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں تو وہ دین پر عملدرآمد کے سلسلے میں آزاد ہو کر ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں اور شرک کی مختلف شکلوں اور جاہلیت کے کیچڑ میں غرق ہو جاتے ہیں۔فرمان الٰہی ہے:

﴿وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ *‏ مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ﴾ (سورۃ الروم:31۔32)

’’اور مشر رضی اللہ عنہ کین میں سے نہ ہو جاؤ،ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور خود بھی گروہ گروہ ہو گئے،ہر گروہ اس چیز پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔‘‘

اور فرمایا: ﴿وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا﴾ (سورۃ النساء:116)

’’اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ دور کی گمراہی میں چلا جاتا ہے۔‘‘

انسانوں کی عقلیں اس بات سے قاصر ہیں کہ وہ خود بخود درست راستے کا ادراک کر لیں،یا اپنے آپ ہی ہدایت کی راہ پا لیں۔وہ اپنے لئے نفع لانے اور اپنے آپ سے نقصان کو دور کرنے پر قادر نہیں ہیں۔

بد بختی ختم نہیں ہو سکتی،عقلوں سے اضطراب زائل نہیں ہو سکتا اور سینوں سے پریشانی اور گھٹن ختم نہیں ہو سکتی جب تک کہ دلی طور پر یہ بات تسلیم نہ کر لی جائے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے،وہ اکیلا ہے،بے نیاز ہے،زور آور اور بڑائی والا ہے،تمام بادشاہت کا مالک ہے،تمام امور اسی کے ہاتھ میں ہیں اور ہر قسم کا معاملہ اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ (سورۃ البقرۃ:112)

’’سنو ! جو بھی اپنے آپ کو خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکا دے،بے شک اس کا رب اسے پورا بدلہ دے گا،اس پر نہ تو کوئی خوف ہو گا،نہ غم اور اداسی۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا﴾

’’با اعتبار دین کے اس سے اچھا کون ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے تابع کردے اور ہو بھی نیکو کار۔اور ساتھ ہی یکسو ہو کر ابراہیم( )کے دین کی پیروی بھی کر رہا ہو۔‘‘ (سورۃ النساء:125)

میرے بھائیو! اپنے آپ کو اللہ کے تابع کرنا اور صرف اسی کی عبادت کرنا ایسا امر ہے جو مومن کے اخلاق اور اس کی سوچ وفکر کو اونچے مقام تک پہنچا دیتا ہےاور اسے دلوں کے ٹیڑھ پن سے،خواہشات کے انحراف سے،جہالت کے اندھیروں سے اور خرافات کے وہموں سے نجات دیتا ہے۔اسے ان حیلہ کرنے والوں،دجالوں اور برے علماء سے بچا لیتا ہے جو اللہ کی آیات کو بیچ کر تھوڑی سی کمائی کر لیتے ہیں۔توحیدِ خالص ہی وہ چیز ہے جو انسان کو قید وبند سے آزاد جذبات سے محفوظ کر لیتی ہے۔

میرے بھائیو ! اللہ کی توحید اللہ وحدہ لا شریک کیلئے مکمل غلامی کا نام ہے۔اور اسی کے ذریعے کلمہ طیبہ(لاَ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ)کا معنی صحیح طور پر ثابت ہوتا ہے۔اس کلمہ کے الفاظ ومعانی اور ان کے مطابق عمل کرنا ایسا امر ہے جس پر مسلمان اپنی پوری زندگی قائم کرتا ہے۔اور اس کی نماز،اس کی قربانی،اس کی زندگی اور موت اسی پر موقوف ہوتی ہے۔

عقیدے میں توحید،عبادت میں توحید،احکامات میں توحید۔یہ ایسی توحید ہے جس سے دل غیر اللہ کی الوہیت پر یقین رکھنے سے اور اعضاء اللہ کے علاوہ کسی اور کیلئے عبادت کرنے سے پاک ہو جاتے ہیں۔اور احکامات اس بات سے پاک ہو جاتے ہیں کہ انھیں اللہ کے علاوہ کسی اور سے حاصل کیا جائے۔

توحید ہی دین کا اول وآخر،ظاہر وباطن اور اس کی کوہان ہے اور اسی پر اس کا مدار ہے۔توحید پر دلائل قائم ہیں،شواہد پکار پکار کر اس کی گواہی دے رہے ہیں،آیات اس کی وضاحت کر رہی ہیں،براہین اسے ثابت کر رہے ہیں،قبلہ کی بنیاد اسی پر رکھی گئی ہے اور ملت کی اساس یہی توحید ہے۔اور توحید ہی کے اقرار سے جان ومال اور عزت محفوظ ہو جاتی ہے۔اور اسی کے ذریعے دار الکفر کو دار الاسلام سے جدا کیا جا سکتا ہے۔ اور توحید کی بناء پر ہی لوگ خوش نصیب اور بد نصیب اور ہدایت یافتہ اور گمراہ میں منقسم ہیں۔

میرے بھائیو ! قرآن نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا سب سے زیادہ اہتمام کیا ہے کیونکہ توحیدِ الٰہی ہی سب سے بڑا معاملہ اور انبیاء ورسل ﷩ کا پہلا مشن ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾ (سورة النحل:36)

’’اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ(لوگو)صرف اللہ کی عبادت کرو اور غیر اللہ کی پوجا کرنے سے پرہیز کرو۔’‘

اور فرمایا:

﴿ وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ﴾

’’اورآپ ہمارے ان رسولوں سے پوچھ لیجئے جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ کیا ہم نے سوائے رحمن کے اور معبود مقرر کئے تھے جن کی عبادت کی جائے؟‘‘(سورة الزخرف:45)

قرآن پورے کا پورا توحید کی بات کرتا ہے اور اس کی حقیقت کو بیان کرتا اوراس کی طرف دعوت دیتا ہے۔اور وہ یہ واضح کرتا ہے کہ دونوں جہانوں میں نجات اور سعاتمندی توحید پر موقوف ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں باعزت مقام توحید والوں کا بدلہ ہے۔قرآن توحید کی ضد(شرک)سے بھی ڈراتا ہے اور شرک کرنے والوں کے برے انجام اور آخرت میں ان کیلئے ذلت آمیز عذاب کی بات کرتا ہے۔

فرمان الٰہی ہے:

﴿وَمَن یُّشْرِکْ بِاللّٰهِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآئِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَھْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ﴾ (سورۃ الحج:31)

’’ اور جو شخص اﷲ کے ساتھ شریک بناتا ہے،گویا وہ آسمان سے گرتا ہے،اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا اسے کسی دور دراز جگہ پر پھینک دے گی۔‘‘

اور فرمایا:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾ (سورۃ النساء:48)

’’بے شک اﷲ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو معاف نہیں کرتا اور اس کے علاوہ دیگر گناہوں کو جس کے لئے چاہتا ہے،معاف کردیتا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا اور ہمیشہ اس کی فرمانبرداری کرنا اور اس کی منع کردہ اور حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا یہ سب توحید کے حقوق اور اس کو مکمل کرنے والی چیزوں میں سے ہے۔

قرآن مجید کافروں کو توحید کے ساتھ خطاب کرتا ہے تاکہ وہ اسے پہچانیں اوراس پر ایمان لے آئیں اور اسے اپنے گلے کا ہار بنائیں۔فرمان الٰہی ہے:

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ (سورۃ البقرۃ:21)

’’اے لوگو ! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔’‘

نیز فرمایا:

﴿فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ ۖ إِنِّي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ *‏ وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ ۖ إِنِّي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ﴾ (سورۃ الذاریات:50۔51)

’’لوگو! تم سب اللہ کی جناب میں پناہ لو،میں بے شک اس کی طرف سے تمہارے لئے صاف صاف ڈرانے والا ہوں اور تم لوگ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بناؤ،میں بے شک اس کی جانب سے تمہارے لئے صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔‘‘

اور ہر نبی نے اپنی قوم کو یہی دعوت دی:

﴿يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ﴾ (سورۃ الأعراف: 59)

’’اے میری قوم ! تم اﷲ ہی کی عبادت کرو،اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾

’’اور ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھی بھیجا اس پر یہی وحی نازل کی کہ میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے،اس لئے تم سب میری ہی عبادت کرو۔‘‘ (سورۃ الأنبیاء:25)

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو بھی توحید ہی کے ساتھ خطاب فرماتا ہے تاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو اور توحید پر یقین ِ کامل رکھتے ہوئے انھیں اطمینان نصیب ہو اور وہ اس میں کسی قسم کا خلل لانے سے بچے رہیں۔ارشاد ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا﴾ (سورۃ النساء:136)

’’اے مؤمنو! اللہ تعالیٰ پر،اس کے رسول(ﷺ) پر اور اس کتاب پر ایمان لے آؤ جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اسی طرح ان کتابوں پر بھی جو اس نے اس سے پہلے نازل کی ہیں۔ اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ،اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں،اس کے رسولوں اور قیامت کے دن سے کفر کیا وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ نے عباد الرحمن کی ایک صفت یوں ذکر فرمائی ہے:

﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ﴾

’’اور وہ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ (سورۃ الفرقان:68)

اور وہ اہلِ ایمان جن سے زمین میں اقتدار دینے کا وعدہ کیا گیا ہے ان کی ایک صفت یوں بیان فرمائی:

﴿یَعْبُدُوْنَنِیْ لاَ یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئاً﴾

’’وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرے ساتھ شریک نہیں بنائیں گے۔‘‘ (سورة النور: 55)

بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو انبیاء ورسل﷩ کو بھی شرک کو چھوڑنے اور اس سے اعراض کرنے اور شرک کرنے والوں سے اپنی لا تعلقی اور اظہارِ براء ت کا حکم دیا ہے:

﴿وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ (سورة الحج:26)

‘’اور جب ہم نے ابراہیم(   علیہ السلام )کیلئے خانہ کعبہ کی جگہ مقرر کردی(اور ان سے کہا کہ)آپ کسی چیز کو بھی میرا شریک نہ ٹھہرائیے۔ اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں،قیام کرنے والوں اور رکوع وسجود کرنے والوں کیلئے(شرک وبت پرستی سے)پاک رکھئے۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ *‏ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ﴾

’’اور یہی وصیت ابراہیم(   علیہ السلام )نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب(  علیہ السلام )نے کی کہ اے میرے بیٹو ! اللہ نے تمہارے لئے دین اسلام کو اختیار کر لیا ہے،اس لئے جب تمہاری موت آئے تو اسلام کی حالت میں آئے۔کیا جب یعقوب(   علیہ السلام )کی موت کا وقت قریب تھا تو تم لوگ وہاں موجود تھے ؟ جب انھوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم لوگ کس کی عبادت کروگے ؟ تو انھوں نے کہا:ہم آپ اور آپ کے آباء ابراہیم،اسماعیل اور اسحاق(  علیہم السلام ) کے معبود، ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور ہم اسی ایک اللہ کے اطاعت گذار ہیں۔‘‘ (سورة البقرۃ:132۔133)

نیز فرمایا:

﴿وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ *‏ بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ﴾ (سورة الزمر:65)

’’یقیناً آپکی طرف بھی اور آپ سے پہلے(کے تمام نبیوں)کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر آپ نے شرک کیا تو بلا شبہ آپ کا عمل ضائع ہوجائے گا اور یقینا آپ خسارہ پانے والوں میں ہوجائیں گے۔بلکہ آپ صرف اللہ کی عبادت کریں اور شکر کرنے والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿ قُلْ إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ وَلَا أُشْرِكَ بِهِ ۚ إِلَيْهِ أَدْعُو وَإِلَيْهِ مَآبِ﴾ (سورة الرعد:36)

’’آپ کہہ دیجئے کہ مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤں۔میں لوگوں کو اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَادْعُ إِلَىٰ رَبِّكَ ۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ (سورة القصص:87)

’’اور آپ اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہیں اور مشرکوں میں سے نہ ہوں۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ﴾ (سورة الأنعام: 106)

’’ آپ پر آپ کے رب کی جانب سے جو وحی نازل ہوئی ہے اسی کی پیروی کیجئے،اس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔اور مشرکوں کی باتوں پر دھیان نہ دیجئے۔‘‘

اہلِ علم رحمہم اللہ ان آیات او ر ان جیسی دیگر آیات کے متعلق کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب ان شخصیات کو بھی شرک سے منع کیا ہے کہ جن سے اس کا واقع ہونا ہی نا ممکن تھا تو ان کے علاوہ دیگر لوگوں کیلئے یہ نہی کس قدر شدید ہو گی !!

امام الحنفاء حضرت ابراہیم(علیہ السلام)نے کہا تھا:

﴿وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ * رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ ۖ﴾

’’اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کی عبادت سے بچا لے۔ میرے رب ! ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔‘‘ (سورة إبراہیم:35۔36)

ابراہیم التیمی﷫ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم(  علیہ السلام )اللہ تعالیٰ سے شرک سے بچنے کی دعا کر رہے ہیں تو اور کون ہے جو اس سے بے خوف رہ سکتا ہے؟

یہ تو تھیں قرآن مجید میں شرک کے متعلق چند آیات۔اور جہاں تک احادیث مبارکہ کا تعلق ہے تو رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی زندگی،اول سے لے کر آخر تک،مکی ہو یا مدنی،سفر کی ہو یا حضر کی،جنگ کی ہو یا امن کی،پوری کی پوری زندگی توحید میں گذری۔اور ابتدائے وحی میں ہی آپ ﷺ کو(اور آپ کے ذریعے آپ کی امت کو)حکم دیا گیا کہ ﴿وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ (سورة المدثر:5)

’’اور نا پاکی(بتوں کی پوجا)سے کنارہ کش ہو جائیے۔’‘

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اپنے رشتہ داروں کو بھی شرک سے ڈرانے کا حکم دیا:

﴿ فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ * وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾

’’پس آپ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو مت پکاریں،ورنہ آپ ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنہیں عذاب دیا جائے گا۔ اور آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی ڈرائیے۔‘‘ (سورة الشعراء:213۔214)

اور جب آپﷺ کو کھلے عام دعوت دینے کا حکم دیا گیاتو اس میں بھی یہ بات شامل تھی کہ آپ مشرکوں سے اعراض کیجئے:

﴿فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ﴾ (سورة الحجر:94)

’’پس آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اسے کھول کر بیان کر دیجئے اور مشرکوں سے اعراض کیجئے۔‘‘

پھر جب ہجرت کا حکم نازل ہوا تو اس میں یہ بھی تھا کہ

﴿لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾ (سورة التوبۃ:40)

’’غم نہ کرو،بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘

اس کے بعد جب جہاد اور قتال کا حکم آیا تو اس میں فرمایا:

﴿الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ ۗ﴾ (سورة الحج: 40)

’’جو لوگ اپنے گھروں سے نا حق محض اس لئے نکال دئیے گئے کہ انھوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے۔‘‘

بعد ازاں جب فتح مکہ کے موقعہ پر بتوں کو توڑ دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کرنے کا حکم دیا:

﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ﴾(سورة الإسراء:81)

‘’اور کہہ دیجئے کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔‘‘

اور جب آپ ﷺ کے انتقال کا وقت قریب آیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا:

﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا﴾ (سورة النصر:3)

’’ لہذا آپ اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے،اس کی حمد وثناء کیجئے اور اس سے مغفرت طلب کیجئے،یقینا وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘

حتی کہ آپ ﷺنے اپنی مرض الموت میں بھی شرک سے ڈرایا جیسا کہ حضرت عائشہ و حضرت عبد اﷲ بن عباس  رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اﷲ ﷺ مرض الموت میں مبتلا تھے تواسی دوران آپ ﷺنے کئی بار فرمایا:

«لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَی الْیَهُوْدِ وَالنَّصَارٰی، إِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِهِمْ مَّسَاجِدَ»

’’یہود ونصاریٰ پر اﷲ کی لعنت ہو جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔‘‘ (صحیح بخاری: 435)

خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا کوئی حصہ ایسا نہیں گذرا کہ جس میں آپ ﷺ نے توحید کا اعلان نہ کیا ہو اور جس میں شرک اور اس کی مختلف شکلوں کے خلاف جنگ نہ کی ہو۔بلکہ اگر ہم یوں کہیں کہ آپ کی پوری بعثت اسی میں منحصر تھی تو یہ بے جا نہ ہو گا،کیونکہ جب آپ ﷺ اکیلے تھے تو اس وقت بھی آپ توحیدِ الٰہی کو ثابت کرتے رہے اور جب گھاٹی میں محصور تھے تو تب بھی اس سے غافل نہ رہے اور جب آپ ہجرت کر رہے تھے اور دشمن آپ کو تلاش کرتے پھر رہے تھے تو تب بھی آپ نے اس سے اعراض نہ کیا۔ اور جب آپ مدینہ منورہ میں انصار کے ہاں پہنچے اور آپ کا معاملہ غالب تھا تو وہاں بھی آپ نے توحید کی بات نہ چھوڑی۔اور فتحِ مکہ کے بعد بھی آپ نے اس کا دروازہ بند نہ کیا۔اور جب آپ لوگوں سے قتال پر بیعت طلب کرتے تو آپ صرف اسی پر اکتفاء نہ کرتے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ توحید پر قائم رہنے اور شرک کو پرے پھینکنے پر بھی بیعت کرنے کا مطالبہ فرماتے ۔۔۔ سو یہ ہے آپ ﷺ کی سیرت طیبہ اور یہ ہیں آپﷺ کی احادیث صحیحہ اور ان سب کے پیچھے قرآن مجید کی واضح تعلیمات تھیں جن پر آپ ﷺ نے عمل کیا۔

اس بناء پر یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ توحید ہی نقطۂ آغاز ہے اور ہر زمانے میں اور ہر جگہ پر توحید ہی سب سے پہلے ہے۔

جہاں تک اسلام کے پانچ بڑے ارکان کا تعلق ہے تو وہ مشروع ہی اسی لئے کیے گئے ہیں کہ ان کے ذریعے توحید کا اعلان ہو،توحید کو ثابت کیا جائے اور عملی طور پر اس کی یاددہانی کرائی جائے۔ چنانچہ پہلا رکن کلمۂ طیبہ ہے اور اس کا پہلا جزو(لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ)تعددِ معبودان کی نفی اور ایک ہی معبود کو ثابت کر رہا ہے اور اس کا دوسرا جزو حضرت محمد ﷺ کی رسالت کو ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ صرف آپ کی اتباع اور شریعت کا اثبات کر رہا ہے۔

اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے جس کا آغاز ہی اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے ساتھ ہوتا ہے۔جس سے مقصود یہ ہے کہ اللہ کے مقابلہ میں ہر چیز چھوٹی ہے اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔ پھر اس کے بعد نماز کے دیگر اذکار اور اس میں قرآن مجید کی تلاوت،خاص طور پرہر رکعت میں﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾کو بار بار پڑھنا توحید ہی کا اقرار ہے۔

تیسرا رکن زکاۃ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ کی عبادات میں نماز کے ساتھ ساتھ کیا جاتا ہے۔اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے،دل کی خوشی کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔اور اس میں اللہ رب العز ت کی عبادت کا اعتراف اور دینارو درہم کی عبادت کا انکار ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِينَ ‎*‏ الَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ﴾ (سورۃ فصلت:6۔7)

’’اور بربادی ہے ان مشرکوں کیلئے جو زکاۃ ادا نہیں کرتے اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں۔‘‘

چوتھا رکن روزے ہیں جن میں روزہ دار انسان محض اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت تک کو چھوڑ دیتا ہے۔

پانچواں رکن حج ہے جس میں پوری امت کا شعار ہی تلبیۂ توحید ہوتا ہے اور تمام حجاج بیک آواز ہو کرہر گھاٹی اور ہر وادی میں توحید کا اعلان اور شرک کی نفی کرتے ہیں۔ امام ابو اسحاق الشاطبی ﷫ کہتے ہیں:

’’ہمیں یقین ہے کہ شہادتین کا اقرار اور نماز اور اس کے علاوہ دیگر تمام عبادات اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے،اس کی طرف رجوع کرنے،محض اسی کی تعظیم اور بزرگی کو بیان کرنے اور اطاعت وفرمان برداری میں اعضاء کے ساتھ دل کی مطابقت پیدا کرنے کی غرض سے مشروع کی گئی ہیں۔‘‘

اور حضرت محمد ﷺ اپنے روزانہ کے ورد میں جسے ہر مسلمان کو اپنا یومیہ ورد بنانا چاہئے ‘ ایک دعا یہ پڑھتے تھے:

«أَصْبَحْنَا عَلٰی فِطْرَةِ الْإسْلاَمِ وَکَلِمَةِ الْإِخْلاَصِ، وَدِیْنِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ، وَمِلَّةِ أَبِیْنَا إِبْرَاهِیْمَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَمَاکَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ»

’’ہم نے فطرت اسلام،کلمۂ اخلاص اور اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کے دین اور اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی ملت پر صبح کی۔وہ(ابراہیم ) شرک سے اعراض کرنے والے تھے،مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔‘‘ (مسنداحمد)

سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«اَلشِّرْكُ فِيْكُمْ أَخْفَى مِنْ دَبِيْبِ النَّمْلِ ، وَ سَأَدُلُّكَ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتَهُ أَذْهَبَ عَنْكَ صِغَارُ الشركِ وَكِبَارُه ، تَقُوْلُ : اللهم إِنِّي أَعُوْذُبِكَ أنْ أُشرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلمُ ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِـمَا لَا أَعْلَمُ»

’’تم میں شرک چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہو گااور میں تمہیں ایک ایسی دعا بتاتا ہوں کہ اگر تم اسے پڑھتے رہے تو اللہ تعالیٰ تم سے چھوٹے بڑے شرک کو دورکر دے گا۔تم یہ دعا پڑھنا:

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِكَ أنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لاَ أَعْلَمُ»

’’اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں جانتے ہوئے تیرے ساتھ شرک کروں اور جو کام میں لا علمی میں کر لوں اس پر تجھ سے معافی کا طلبگار ہوں۔‘‘ (مسند احمد؛ صحیح جامع از البانی: 3731)

اللہ کے بندو ! یہ تمام دلائل وبراہین اس موضوع کی اہمیت،عقیدۂ توحید کی عظمت اور لوگوں پر منڈلاتے ہوئے شرک کے بہت بڑے خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔یہ خطرہ کیوں نہ ہو جبکہ شیطان بنو آدم کو گمراہ کرنے پر تلا ہوا ہے ۔

٭٭٭

 

امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

لا يجوز لأحد أن يذكر شيئا من مساويهم ولا يطعن على أحد منهم بعيب ولا نقص فمن فعل ذلك فقد وجب على السلطان تأديبه وعقوبته ليس له أن يعفو عنه بل يعاقبه ويستتيبه فان تاب قبل منه وإن ثبت أعاد عليه العقوبة وخلده الحبس حتى يموت أو يراجع

’’کسی کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ صحابہ کے معایب کا تذکرہ کرے یا کسی نقص و عیب سے متہم کر کے ان پر زبان طعن دراز کرے ۔جو اس حرکت کا مرتکب ہو ، مجاز اتھارٹی پر لازم ہے کہ اس کی تادیب کرے اور اسے سزا دے ۔حاکم کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس مجرم سے درگزر کرے بل کہ اس کا احتساب کرنا چاہیے اور اس سے توبہ کرانی چاہیے؛ اگر وہ تائب ہو جائے تو اسے قبول کر لیا جائے ۔ لیکن اگر وہ اسی پر اڑا رہے تو اسے دوبارہ سزا دی جائے اور مسلسل قید میں رکھا جائے ، یہاں تک کہ وہ موت کے گھاٹ اتر جائے یا پھر وہ اپنی عادت بد سے رجوع کر لے ۔‘‘(الصارم المسلول)

 

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

إِنَّ الفَقِيْهَ كُلَّ الفِقيْهِ الَّذِي لَا يُقَنِّطُ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ الله، وَلَا يُؤَمِّنُهُم مِنْ عَذَابِ الله، وَلَا يُرَخِّصُ لَهُم فِي مَعَاصِي الله، وَلَا يَدَعُ القُرْآنَ رَغْبَةً عَنْهُ إِلَى غَيْرِهِ، وَلَا خَيْرَ فِي عِبَادَةٍ لَا عِلْمَ فِيْهَا، وَلَا خَيْرَ فِي عِلْمٍ لَا فَهْمَ فِيْهِ، وَلَا خَيْرَ فِي قِرَاءَةٍ لَا تَدَبُّرَ فِيْهَا

’’کامل فقیہ وہ ہے جولوگوں کو رحمت الٰہی سے مایوس کرے ، نہ انھیں عذاب خداوندی سے بے خوف کرے اور نہ اللہ عزوجل کی نافرمانیوں کے لیے انھیں رخصتیں فراہم کرے ۔ وہ دیگر مشاغل کی بنا پرقرآن سے بے رغبتی کرتا ہے ، نہ اسے ترک کرتا ہے ۔ یاد رکھو! ایسی عبادت میں کوئی خیر نہیں جس کی بنیاد علم پر نہ ہو ؛ایسے علم میں کوئی خیر نہیں جس میں فہم نہیں اور ایسی قراَت خیر سے خالی ہے جس میں تدبر نہیں۔‘‘

٭٭٭

دل ایمان سے بھر دینے والی 3 چیزیں

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ

’’جس شخص میں 3 اوصاف پائے جائیں ، اللہ عزوجل اس کا دل ایمان سے بھر دیتے ہیں :

(1)فقیہ کی صحبت ( 2 )قرآن کی تلاوت ( 3) اور روزہ رکھنا ۔ ‘‘ (بہجۃ المجالس: ص 199)

 

تبصرہ کریں