سب سے پہلے توحید (قسط2)۔ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق

ایک حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

«خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وإنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عن دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عليهم ما أَحْلَلْتُ لهمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بي ما لَمْ أُنْزِلْ به سُلْطَانًا»

(مسند احمد؛ صحیح مسلم )

’’میں نے اپنے تمام بندوں کو اس حالت میں پیدا کیا کہ وہ شرک سے منہ موڑنے والے تھے،لیکن ان کے پاس شیاطین آئے جنہوں نے انھیں ان کے دین سے دور کر دیا۔اور انھوں نے ان کیلئے وہ چیز حرام کردی جسے میں نے حلال کیا تھا۔اور انھیں حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ اس چیز کو شریک بنائیں جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔‘‘

یہ خوف کیوں نہ ہو جبکہ رسول اللہ ﷺ نے امت کے سب سے افضل لوگوں یعنی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا:

« إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ اَلشِّرْكُ اَلْأَصْغَرُ»

’’مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف شرکِ اصغر کا ہے۔‘‘

صحابۂ کرام نے پوچھا کہ شرک اصغر کیا ہوتا ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

«اَلرِّیَاءُ، یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِأصْحَابِ ذَلِكَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ إِذَا جَازَی النَّاسَ: اِذْهَبُوْا إِلَی الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تُرَاؤُوْنَ فِیْ الدُّنْیَا، فَانْظُرُوْا هَلْ تَجِدُوْنَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً؟» (السلسۃ الصحیحہ: 951)

’’شرکِ اصغر سے مراد ریا کاری ہے۔اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن جب لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا تو ریا کاری کرنے والوں سے کہے گا:تم ان لوگوں کے پاس چلے جاؤ جن کے لئے تم ریا کرتے تھے،پھر دیکھو کہ کیا وہ تمہیں کوئی بدلہ دیتے ہیں ؟‘‘

بلکہ نبی کریم ﷺ نے پیشین گوئی فرمائی کہ

«أَنَّ فِئَامًا مِّنَ الْأمَّةِ تَعْبُدُ الْأوْثَانَ، وَقَبَائِلَ تَلْحَقُ بِالْمُشْرِکِیْنَ»

یعنی’’اس امت کے کئی گروہ بتوں کی پوجا کریں گے اور کئی قبیلے مشرکوں سے جاملیں گے۔‘‘ (مسند احمد)

اور حافظ ابن کثیر﷫ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان

﴿ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (سورۃ الأنعام: 88)

’’اور اگر (بالفرض)یہ حضرات (انبیاء﷩)بھی شرک کرتے تو ان کے تمام اعمال اکارت ہو جاتے۔‘‘ کے متعلق کہتے ہیں:

’’ اس آیت میں شرک کے معاملے پر سختی کی گئی ہے اور اس کے حوالے سے سخت موقف اپنایا گیا ہے۔‘‘

اللہ کے بندو ! توحید میں خلل کا خوف کیوں نہ ہو اور عبادتِ الٰہی میں نقص کا اندیشہ کیوں نہ ہو اور شرک اور اس کی تمام اقسام اور اس کے اسباب سے کیوں نہ ڈرایا جائے جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ﴾ (سورۃ یوسف:106)

’’اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن وہ مشرک ہوتے ہیں۔‘‘

بعض اہلِ علم کا کہنا ہے کہ اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ بعض لوگوں کے دلوں میں لا شعوری طور پر شرکِ خفی واقع ہو سکتا ہے،کیونکہ اس طرح کا انسان اگرچہ اللہ کی توحید کا عقیدہ رکھتا ہوتاہم وہ اپنی عبادت اللہ تعالیٰ کیلئے خالص نہیں کرتا اور وہ غیر اللہ کیلئے،یا اپنے کسی دنیاوی مقصد کے حصول کیلئے،یا کسی منصب تک پہنچنے کیلئے،یا لوگوں کے ہاں اونچا مقام حاصل کرنے کیلئے عبادت کرتا ہے۔یوں اس کی عبادت میں کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کیلئے،کچھ حصہ اس کے نفس کیلئے،کچھ شیطان کیلئے اور کچھ مخلوق کیلئے ہوتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے بے نیاز ہے۔

میرے بھائیو! یہ معاملہ انتہائی خطرناک ہے۔اور محبت،عبودیت اور خشوع وخضوع میں شرکِ خفی پایا جاتا ہے،کیونکہ جو شخص اپنی محبت،اپنے خشوع وخضوع اور اپنی اطاعت وفرمانبرداری میں غیر اللہ کو شریک بناتا ہے اور جو غیر اللہ کیلئے سرِ تسلیمِ خم کرتا ہے اس کے بارے میں یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس نے حقیقی توحید کو اختیار کر لیا !

فرمان الٰہی ہے:

﴿وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ﴾

’’اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو تم بھی مشرک بن جاؤ گے۔‘‘ (سورۃ الأنعام:121)

اور فرمایا:

﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ﴾ (سورۃ التوبۃ:31)

’’انہوں نے اللہ کی بجائے اپنے علماء اور اپنے عابدوں کومعبود بنا لیا۔‘‘

یہ خوف اور امید میں شرک ہے۔اور کہیں جہاد اور قربانی میں،کہیں وسائل واسباب میں اور کہیں نفع ونقصان میں شرک پایا جاتا ہے ….

ذرا غور کرو کہ یہ جادو ٹونا،فال نکالنا،تعویذات اور جھاڑ پھونک،غیر اللہ کی قسمیں اٹھانا،صلحاء کی تعریف میں مبالغہ کرنا،غیر اللہ کو پکارنا،فوت شدگان سے مدد طلب کرنا،مزاروں کا طواف کرنا،پہلے مزاروں پر دعا کرنا پھر مزار والوں سے مانگنا اور مزاروں پر چراغ جلانا،قبروں پر چادریں چڑھانا،پہلے درباروں پرجانور ذبح کرنا،پھر دربار والوں کیلئے جانورذبح کرنا،قبروں پر تبرک کی نیت سے ہاتھ پھیرنا اور سالانہ عرس منانا یہ سب شرک کی صورتیں نہیں ہیں ! لاحول ولاقوة إلا بالله

میرے بھائیو ! توحید میں خلل کی ایک جدید شکل اب یہ پیدا ہو گئی ہے کہ اسلام کی طرف نسبت رکھنے والے کچھ لوگ جو کہ جدید ثقافت اور نئی روشنی کا دعوی کرتے ہیں ‘ وہ اللہ کے حکم کو نہیں مانتے اور اس کے سامنے سرِ تسلیمِ خم نہیں کرتے۔بلکہ وہ اپنے دلوں میں غصہ،گھٹن اور تنگی محسوس کرتے ہیں۔اور جب اللہ کی حدود میں سے کوئی حد نافذ کی جاتی ہے تو وہ کانپے لگ جاتے ہیں،ان کے دلوں میں شدید نفرت پیدا ہو جاتی ہے،کبھی کھڑے ہوتے اور کبھی بیٹھ جاتے ہیں،غصے سے چیختے اور دھمکی دیتے ہیں۔اور ان کے کچھ دوست انھیں کھینچ کر گمراہی میں پہنچا دیتے ہیں۔وہ دعوی انسانی حقوق کا کرتے ہیں حالانکہ انسانی حقوق انہی کی وجہ سے اور ان جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی ضائع ہوتے ہیں۔

ان کے نزدیک اسلام عورت پر ظلم کرتا ہے اور اس کے حقوق اس کو نہیں دیتا۔اور شرعی حدود بھی ان کے نزدیک ظلم،بھیانک جرم اور عصر جدید کے تقاضوں کے خلاف ہیں۔اور اسلام میں جو حکم مرتد کا ہے وہ ان کے نزدیک آزادیٔ فکر پر لٹکتی ہوئی ایک تلوار ہے۔اور شریعت کے احکام پر عمل پیرا ہونا ان کے نزدیک رجعیت،تعصب اور اندھیروں کی طرف واپس لوٹنا ہے،بلکہ انھوں نے اسے بھی دہشتگردی تصور کر لیا ہے۔جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾

’’(اے محمد ﷺ!)آپ کے رب کی قسم ! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے تنازعات میں آپ کو حَکَم(فیصلہ کرنے والا)تسلیم نہ کر لیں،پھر آپ جو فیصلہ کریں اس کے متعلق یہ اپنے دلوں میں گھٹن بھی محسوس نہ کریں اور اس فیصلہ پر پوری طرح سر تسلیم خم کردیں۔‘‘ (سورۃ النساء: 65)

اللہ اکبر ! توحید کو اختیار کرنا ذلیل لوگوں پر انتہائی مشکل ہے اور وہ زبانِ حال سے گویا یوں کہہ رہے ہیں:

﴿أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ (سورۃ ص: 5)

’’کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنادیا،یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘

توحید ان لوگوں پر مشکل ہے جو فساد کو خوشگوار سمجھ بیٹھے ہیں اور جہالت کی دلدل میں پھنس چکے ہیں۔

فرمان الٰہی ہے:

﴿وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ﴾ (سورۃ الزمر: 45)

’’اور جب ایک اﷲ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں۔اور جب اﷲ کے سوا غیروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوشی سے ان کے دل کھل جاتے ہیں۔‘‘

یقینی طور پر یہ لوگ توحید کو نہیں پہچان سکے اور یہ دین کے صاف و شفاف چشمے کی معرفت حاصل نہیں کر سکے،کیونکہ یہ اپنی سوچ وفکر میں دوسروں کے غلام ہیں۔یہ گویا کافروں اور وحیِ الٰہی کو نا پسند کرنے والوں کو یوں کہہ رہے ہیں کہ ہم تمہاری ہر بات ماننے کیلئے تیار ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جب ان لوگوں نے توحید کو نہیں پہچانا تو گویا یہ اپنی سوچ وفکر،اپنی شکل وصورت،اپنے نصب العین اور اپنے نظریات کے اعتبار سے امتِ مسلمہ سے ایک الگ گروہ ہیں۔ انہیں باہر(مشرق ومغرب) سے سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی حمایت ملتی ہے اور ان کی حالت یہ ہے کہ یہ امتِ مسلمہ کی تاریخ اور اس کی اقدار تک سے ناواقف ہیں !

میرے بھائیو ! توحید ایک ایسی نعمت ہے کہ جس کے ذریعے بندے کا دل شرک کی تاریکیوں اور اس کی جہالتوں سے نکل کر نورِ ایمان کی طرف آجاتا ہے، انسان گمراہی اور حیرانی سے نکل کر ہدایت اور یقین کی طرف آ جاتا ہے اور اسے اطمینانِ قلب نصیب ہوتا ہے۔وہ مختلف معبودان کے سامنے ذلیل وخوار ہونے کی بجائے ایک ہی معبودِ برحق کا غلام بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ ۚ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾ (سورۃ القصص: 88)

’’اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ہر چیز ہلاک ہو جائے گی سوائے اس کے۔ہر چیز پر اسی کی حکمرانی ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿ إِنَّ الَّذِينَ هُم مِّنْ خَشْيَةِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ ٥٧‏ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ ٥٨ وَالَّذِينَ هُم بِرَبِّهِمْ لَا يُشْرِكُونَ ٥٩‏ وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوا وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَىٰ رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ ٦٠‏ أُولَٰئِكَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ﴾ (سورۃ المؤمنون: 57۔61)

’’بے شک جو لوگ اپنے رب کے خوف سے لرزنے والے ہیں،جو لوگ اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں،جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے ہیں،جو اللہ کیلئے جو کچھ دیتے ہیں تو اسے دیتے ہوئے ان کے دل خائف ہوتے ہیں کہ بے شک انھیں اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ایسے ہی لوگ بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور وہ ان کی طرف دوسروں سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔‘‘

مسلمانو! توحید کو اپنے دل میں راسخ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان ہمیشہ دلی طور پر بیدار رہے اور اپنے دل سے ہر ایسے کھٹکنے والے امر کو دور رکھے جو رب کیلئے بندے کی عبودیت میں دراڑیں ڈال سکتا ہو۔اور اپنی تمام حرکات اور تمام اعمال میں شیطانی وساوس کو پرے پھینک دے تاکہ وہ پورے کا پورا صرف اللہ تعالیٰ کیلئے ہی خالص ہو جائے۔

لیکن میرے بھائیو! صد افسوس ہے کہ توحید میں دراڑیں ڈالنے والے امور اور اس میں نقص پیدا کرنے والی چیزیں بہت سارے لوگوں کے ہاں حکم کے اعتبار سے تو واضح ہیں لیکن اپنے صحیح مفہوم کے اعتبار سے مخفی ہیں۔اور چونکہ ان چیزوں کا حکم واضح ہوتا ہے اس لئے آپ دیکھیں گے کہ عام مسلمان ان سے اپنی براء ت کا اعلان کرتے ہیں اور اگر ان کی نسبت ان چیزوں کی طرف کی جائے تو وہ غضبناک بھی ہو جاتے ہیں۔

اور انہیں غضبناک ہونا بھی چاہئے لیکن ان کے صحیح مفہوم کے مخفی ہونے کی بناء پر بیشتر لوگ ان میں لا شعوری طور پر واقع ہو جاتے ہیں !

اہلِ علم نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ توحید میں دراڑیں ڈالنے والے امور کے بارے میں غور وخوض کرنا اور شرک کی مختلف شکلوں کے متعلق گفتگو کرنا قرآن مجید کا اسلوب ہے تاکہ مسلمانوں کو ان سے ڈرایا جائے۔نہ یہ کہ انکو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں پر فتوی لگایا جائے،کیونکہ اہل السنۃ والجماعۃ اہلِ قبلہ میں سے کسی شخص کو کسی گناہ کی بناء پر کافر نہیں کہتے جب تک کہ وہ اسے حلال نہ سمجھتا ہو۔

اہلِ علم مرتد ہونے اور اس کے اسباب کے متعلق، گمراہی کے مختلف راستوں کے متعلق اوردین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے اور اس کے خطرات کے متعلق برابر کلام کرتے چلے آ رہے ہیں۔لہذا جو شخص صحیح عقیدے کا علم حاصل کرتا ہے اور اسے لوگوں کو سکھلاتا اور اس کی طرف ان کی راہنمائی کرتاہے اور کفر وشرک اور بدعت کے راستوں سے ڈراتا ہے تو وہ یقینا مسلکِ حق پر چلتا ہے اور بالکل درست منہج اختیار کرتا ہے۔

یہاں ایک اہم منہجی غلطی کیطرف تنبیہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے جو کہ تعلیم وتربیت کے مختلف وسائل میں واضح طور پر پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ بہت ساری کتابیں ایسی دیکھیں گے کہ جن میں فروعی مسائل حتی کہ ان میں سے شاذ ونادر اور بہت کم واقع ہونے والے امور کے بارے میں نہایت تفصیل سے بحث کی جاتی ہے۔اور یہ چیز اگرچہ فی ذاتہ اچھی ہے لیکن ان کے مؤلفین ِ حضرات اصول کا صحیح مفہوم بیان نہیں کرتے اور اس سے وہ مفہوم مراد نہیں لیتے جس کے تمام لوگ محتاج ہیں۔چنانچہ وہ توحید،اس کی اقسام اور اس کے حقوق کے بارے میں تفصیلی بحث نہیں کرتے اور توحید کی ضد(شرک)کو واضح طور پر بیان نہیں کرتے اور نہ ہی اس کی مختلف شکلوں اور اس کے اسباب کے متعلق لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں !

ایک اور منہجی غلطی یہ ہے کہ بعض متقدمین رحمہم اللہ نے عقائد کے باب میں علم الکلام اور منطقی اصطلاحات کا سہارا لیا جس سے عقائد اور اصولِ دین کے اہم امور بہت سارے لوگوں پر مخفی رہ گئے۔اگر وہ اس باب میں قرآن مجید کا اسلوب اختیار کرتے تو سیکھنے والے تمام لوگ اللہ کی ہدایت اور اس کے فضل کے زیادہ لائق ہوتے۔ابن حجر الہیثمی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’جو شخص عامۃ الناس میں علم الکلام کو نشر کرنے کی کوشش کرتا ہو اسے منع کرنا چاہئے،کیونکہ ان کی عقلیں اس علم کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں اور اس سے ان کے گمراہ ہونے کا اندیشہ زیادہ ہے۔اور جو اسلوب قرآن مجید نے اختیار کیا ہے اسی کے مطابق لوگوں کو دلائل سمجھانے چاہئیں،کیونکہ وہ اتنا واضح ہے کہ عقل اس کا ادراک فورا کر لیتی ہے۔‘‘

لہذا تم سب اللہ سے ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔اور اپنا دین اللہ کیلئے خالص کردو،رب کی توحید کا سچے دل سے اقرار کرو،اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور خیر کے کام بجا لاتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔’‘انتہی

٭٭٭٭

تبصرہ کریں