صاف گوئی کا مفہوم اور اس کے انفرادی اور معاشرتی اثرات۔ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود بن ابراہیم الشریم

پہلا خطبہ

ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ وہی بلند وبالا ہے۔ اسی نے مخلوق کو پیدا کیا پھر ان کی بہترین شکلیں بنائیں۔ اسی نے تقدیر بنائی اور پھر راہ دکھائی۔ جس نے پودے اگائے، پھر انہیں سیاہ کوڑا کرکٹ بنا دیا۔ میں اس بلند ہستی کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں اور اسی کا شکر ادا کرتا ہوں۔ میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں اور اسی سے معافی مانگتا ہوں۔ اسی نے اپنی علم کی بنیاد پر مخلوقات کو پیدا کیا۔ ان کی تقدیریں بنائیں، ان کی عمریں طے کیں۔ اب نہ ان کی عمریں وقت سے پہلے ختم ہو سکتی ہیں اور نہ ایک گھڑی کی مہلت ہی مل سکتی ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ ہی امام المتقین ، روشن پیشانیوں اور چمکتے اطراف والوں کے قائد ہیں۔ ساری اولادِ آدم کے سردار ہیں۔ اللہ نے آپ کو سارے انسانوں اور جنوں کے لیے بشارت دینے والا، ڈرانے والا اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا روشن چراغ بنا کر بھیجا۔ تو اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے نیک اور پاکیزہ اہل بیت پر، آپ ﷺ کی بیویوں، امہات المؤمنین پر۔ صحابہ کرام پر، تابعین پر اور قیامت تک ان کی پیروی کرنے والوں پر بہت سلامتی بھی نازل ہوتی رہے!

بعد ازاں! اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! اس کے احکام بجا لاؤ۔ اس کی نافرمانی سے بچو۔ اس کی مضبوط رسی کو تھامے رکھو کہ جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتی۔

﴿فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ (سورۃ البقرہ: 256)

’’اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اُس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘

اے مسلمانو! دین اسلام میں ایک قابل تعریف خصوصیت ہے، جو لوگوں کو صاف نظر آتی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ دین ہر طرح سے واضح دین ہے۔ اس کا عقیدہ بھی، اس کی شریعت بھی اور اس کے احکام بھی۔ یہ ایک آسان اور نرم دین ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ اس کے ماننے والوں کو اسے سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ یہ پیچیدگی، تعجب آمیز چیزوں اور پہیلیوں سے پاک ہے۔ اس کا عقیدہ بھی واضح ہے۔ اس کی عبادات بھی واضح ہیں، اس کا تصورِ اجر وثواب بھی واضح ہے اور تصورِ سزا بھی بالکل واضح ہے۔ جی ہاں! اس کے احکام اتنے واضح ہیں کہ ان میں کسی ابہام کی جگہ ہی نہیں۔ یہ ہر طرح کی جہالت کو ختم کر دینے والا دین ہے۔ یہ ہے اسلام کی شاندار شریعت۔ واضح اور صاف شریعت۔ جس کے اصول وفروع بھی واضح ہیں، ذرائع اور مقاصد بھی واضح ہیں اور اصول وقواعد بھی واضح ہیں۔ اس دین کو لانے والے رسولﷺ کا فرمان ہے:

«تركتُكم على البيضاء، ليلُها كنهارها، لا يَزِيغ عنها بَعدِي إلا هالك»

’’میں نے تمہیں واضح اور صاف دین پر چھوڑا ہے، جس کی رات بھی دن کی طرح واضح ہے، میرے بعد جو کوئی اس سے انحراف کرے گا، وہ ہلاک ہو جائے گا۔‘‘

آپ ﷺ ہی کا فرمان ہے:

«والذي نفسي بيده لقد جئتُكم بها بيضاءَ نقية»

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے تمہیں بالکل صاف اور واضح شریعت پہنچائی ہے۔‘‘

اسی طرح آپﷺ ہی کا فرمان ہے:

«إن الحلال بيِّن والحرام بيِّن»

’’حلال بھی واضح ہے اور حرام واضح ہے‘‘

یعنی یہ دین ہر طرح سے واضح ہے۔ اس میں کسی چیز کے چھپے رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس میں کسی ابہام کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسا ہو بھی کیوں ناں؟! جبکہ اسے لانے والے رسول صاف گو، دو ٹوک اور سچی بات کرنے والے تھے۔ آپ ﷺ گی گفتگو سے پہلے آپ کے چہرہ مبارک پر ہی سچائی کے اثرات واضح نظر آتے تھے۔ الفاظ سے پہلے کردار میں شفافیت نظر آتی تھی۔ سیدنا عبد اللہ بن رواحہ نے آپﷺ کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا:

لو لم تكن فيه آياتٌ مبيِّنةٌ

كانت بديهتُه تُنبيك بالخبرِ

’’اگر آپ ﷺ کی سچائی کی واضح نشانیاں نہ بھی ہوتیں، تو آپ ﷺ کے بے ساختہ الفاظ ہی خیر کا پیغام دینے کے لیے کافی ہوتے۔‘‘

یعنی آپ ﷺ انتہائی صاف گو، سچے اور بہترین شکل وصورت والے تھے، جن کا ظاہر دیکھتے ہی باطن کی نیکی کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ پھر بھی صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ ایک رات آپ ﷺ اپنی اعتکاف گاہ سے نکلے، تاکہ اپنی بیوی صفیہ کو اپنے گھر تک چھوڑ آئیں۔ اتنے میں وہاں سے دو انصاری گزرے، جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو جلدی جلدی چلنے لگے، تو آپ ﷺ نے ان سے کہا:

«على رِسْلِكُما؛ إنَّها صفيةُ بنتُ حُيَيّ»

’’آرام سے جاؤ۔ یہ صفیہ بنت حیی ہی ہے۔‘‘

وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! سبحان اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: «إن الشيطان يجري من ابن آدم مجرى الدم، وإني خشيتُ أن يقذف في قلوبكما شرًّا»

’’شیطان ابن آدم کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کوئی بری بات نہ ڈال دے۔‘‘

اللہ کے بندو! اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کتنے صاف گو تھے، کیونکہ آپ ﷺ بر وقت حقیقت بیان کر دی، تاکہ بدگمانی کا راستہ روک دیں، اور شکوک وشبہات کا دروازہ بند کر دیں۔

امام ابو داود اور امام نسائی روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کچھ صحابہ سے چاہتے تھے کہ وہ بیعت کے لیے آنے والے کسی شخص سے کوئی بات کریں، لیکن انہیں اندازہ نہ ہوا کہ آپ ﷺ کیا چاہتے ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہمیں تو معلوم نہیں تھا کہ آپ کے دل میں کیا ہے، تو آپ نے ہمیں آنکھوں سے اشارہ کیوں نہیں کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

«إنَّه لا ينبغي لنبيٍّ أن تكون له خائنةُ الأعين»

’’کسی نبی کو زیب نہیں دیتا کہ اس کی آنکھیں خیانت کریں‘‘

امام ابن قیم ﷫ فرماتے ہیں:

“أي أن النبي -صلى الله عليه وسلم- لا يُخالِف ظاهرُه باطنَه، ولا سِرُّه علانيتَه، وإذا نفَّذ حكمَ الله وأمرَه، لم يُومِ به، بل صرَّح به وأعلَنَه وأظهَرَه.”

’’یعنی کہ نبی کے ظاہر وباطن میں تضاد نہیں ہونا چاہیے، جو وہ ظاہر کرتا ہے اور جو چھپاتا ہے، ان میں فرق نہیں ہونا چاہیے۔ جب اللہ کے حکم یا فرمان کو نافذ کرنا ہو، تو ابہام کے ساتھ نہیں، بلکہ وضاحت کے ساتھ علیٰ الاعلان اسے ظاہر کرنا چاہیے۔‘‘

اللہ کے بندو! صاف گوئی سے چہرے پر رونق آتی ہے، گفتار میں خوبصورتی آتی ہے، دل میں پاکیزگی آتی ہے، اختلاف میں بھی وقار آتا ہے اور بات میں سچائی آتی ہے۔ دوسروں کے ساتھ صاف گوئی اختیار کرنا ایسی ٹھوس بنیاد ہے، جس کے بغیر انسان کے قدم جم ہی نہیں سکتے اور جس کے بغیر لوگوں کا بھروسہ کمایا ہی نہیں جا سکتا۔ صاف گوئی اپنانے والے کو اپنی دو ٹوک گفتگو کی وجہ سے بے وقوفوں کا ڈر نہیں رہتا، بلکہ وہ عقل و دانش والوں کی پسندیدگی کما لیتا ہے اور اہمیت تو اہلِ دانش ہی کی ہوتی ہے، چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہوں، اہلِ غفلت کی آرا کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، چاہے وہ بہت زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔

اللہ کے بندو! صاف گوئی میں بے تکلفی پائی جاتی ہے، بناوٹ اور تکلف سے دوری ہوتی ہے۔ صاف گوئی سے انسان ایک کھلی کتاب بن جاتا ہے، جسے جو چاہے پڑھ لے، ایک کھلا دروازہ بن جاتا ہے، جس میں ہر بندہ اپنی عقل اور سمجھ کے ساتھ گھس سکتا ہے۔ یہ بد اعتمادی، دوغلہ پن اور تعلقات کی خرابی کو ختم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! صاف گوئی ابہام کی دشمن ہے، اس میں الفاظ ذو معنی نہیں ہوتے۔ اس لیے فضولیات کے پیچھے بھاگنے والوں کو پراسرار شخصیت کی گہرائیوں کی کھوج لگانے، اس کے اسرار ورموز حل کرنے اور اس کے ساتھ تعامل میں توڑ موڑ کا موقع نہیں ملتا۔ صاف گو آدمی کے ساتھ رہنا آسان ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا ظاہر باطن کی ضد نہیں ہوتا۔ اکثر لوگ اس کی بات آسانی سے سمجھ جاتے ہیں اور اس سے مانوس ہو جاتے ہیں۔ وہ نرم طبیعت کا ہوتا ہے۔ اس میں ایسی صفات نہیں ہوتیں، جو اسے لوگوں سے دور کر دیں یا ان کی قربت کے آڑے آئیں۔ صاف گو آدمی کو اپنا آپ بھی نظر آتا ہے اور لوگ بھی دکھائی دیتے ہیں، جبکہ پُر اسرار اور مبہم شخص کو صرف اپنا آپ ہی دکھائی دیتا ہے، اس لیے وہ اپنی زندگی میں اپنی ذاتی پسند کے مطابق ہی چلتا ہے، ہر کام میں خود نمائی کو پسند کرتا ہے، اکثر ایسی چیزوں کو بھی دشمنی کی نگاہ سے دیکھتا ہے جنہیں رضامندی کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے ، یا ایسی چیزوں کو رضامندی کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جنہیں دشمنی کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔

صاف گو شخص کو لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچنے کے لیے کسی جعلی چہرے کے ضرورت نہیں ہوتی۔ ان سے مصافحہ کرنے کے لیے دستانوں کی حاجت نہیں ہوتی۔ بلکہ صاف گو شخص کا ایک ہی چہرہ ہوتا ہے، ایک ہی دل، ایک ہی اصول اور ایک ہی اخلاق۔ صاف گوئی کی بنیاد پر ہی وہ لوگوں کے ساتھ اپنے تعلق کو برقرار رکھتا ہے چاہے کسی معاملے میں ان کے ساتھ اختلاف بھی کیوں نہ ہو، کیونکہ صاف گوئی سے شکوک وشبہات اور بد گمانی کے تمام تر راستے بند ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر صاف گوئی کی جگہ ابہام اور ذو معنی الفاظ ہوں، تو لوگوں کے تعلق ٹوٹ جاتے ہیں، کیونکہ ان میں صراحت اور وضاحت کی کمی ہوتی ہے اور لوگ پر اسرار لوگوں سے فطری طور پر دور رہنا پسند کرتے ہیں، جس کے بارے میں یہ بھی معلوم نہیں ہو پائے کہ وہ خوش ہے یا ناراض، کسی کام کو خوشدلی سے کر رہا ہے یا با دل نخواستہ، وہ شکر گزار ہے یا ناشکرا، فرمان بردار ہے یا متکبر؟! لوگ اس سے اسی لیے ڈرتے اور دور بھاگتے ہیں کہ اس کی شخصیت میں غموض کا عنصر موجود ہوتا ہے۔ صاف گوئی لوگوں کے ساتھ تعلق کی درستی کی علامت ہوتی ہے، تعلقات کے بگاڑ کی نہیں، اس سے لوگوں کی نظریں انسان کی طرف پھرتی ہے، اس سے دور نہیں ہوتیں، کیونکہ ابہام ایک ایسی گندگی ہے جو دوسروں کے جذبات سے کھیلنے کا کام کرتی ہے اور لوگوں کے جذبات سے کھیلنا بذات خود ایک سنگین برائی ہے۔ اللہ ہمیں آپ کو اس کی برائیوں سے محفوظ رکھے۔ اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی باتوں میں صاف گوئی کو اختیار کرے، تاکہ اس کی بات واضح ہو، اس کا مفہوم بھی سب کے لیے عیاں ہو، یوں کوئی اس کی بات کی کوئی غلط تشریح نہیں کر سکے گا، کیونکہ لوگوں کی سمجھیں مختلف ہوتی ہیں اور الفاظ محتمل ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسان کو اپنے کاموں میں سچائی اور وضاحت سے کام لینا چاہیے، کیونکہ یہ بھی ایک بڑا مقام اور اعلیٰ مرتبہ ہے۔ پوری کوشش کرنی چاہیے کہ لوگوں کے پاس سے آتے وقت بھی اس کی وہی حالت ہو جو جاتے وقت تھی، ان کی موجودگی میں بھی انسان ویسا ہی ہو جیسا ان کی غیر موجودگی میں ہوتا ہے۔ قول وعمل اور خلوت وجلوت کی یکسانیت ہی سچے مسلمان کا شعار ہوتا ہے، جس سے اس کے مظہر اور گفتگو میں تناقض نہیں رہتا۔

ولا تَكُ ذَا باطلٍ في الورى

يُخالِف في طبعه مظهرَكْ

وصَاحِبْ نصوحًا تُسَرُّ به

ففيه الوضوحُ إذا بصَّرَكْ

’’اس زندگی میں باطل پرست نہ بننا، نہ اپنے مظہر کو اپنی طبیعت کے خلاف بنانا، ہمیشہ خلوص والے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا، جو نصیحت کریں تو صاف گوئی سے کام لیں۔‘‘

اللہ کے بندو! یاد رکھو کہ صاف گوئی انسان کی مستقل طبیعت اور ہمیشہ کی عادت ہونی چاہیے، یہ کوئی عارضی صفت بن کر نہ جائے۔ یہ بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ صاف گوئی کو اپنانے میں پہل نہ کی جائے، بلکہ مزاج داری اور ابہام کی بنیاد پر لڑائیوں اور جھگڑوں کے رونما ہونے کے بعد ہی اس کا رخ کیا جائے۔ ایسی صاف گوئی کو صاف گوئی نہیں، بلکہ طعنہ زنی کہنا زیادہ موزوں ہو گا، کیونکہ ان دونوں میں فرق تو اس شخص کے لیے بڑا واضح ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اچھے اقوال وافعال کی ہدایت عطا فرمائی ہو، کیونکہ اس کے سوا ان کی راہ دکھانے والا کوئی نہیں ہے۔

تو اے مسلمان! ویسا ہی رہنے کی کوشش کر جیسا تو ہے۔ تمہیں پہچاننے کا راستہ مختصر ہونا چاہیے، طویل نہیں، ایسا آسان ہونا چاہیے، جو لوگوں کو تم سے متعارف کرا دے، ایسا مشکل نہیں ہونا چاہیے جو لوگوں کو تم تک پہنچنے ہی نہ دے۔ صاف گوئی اپناؤ، روادار بنو، نرم اور لچک دار بنو۔ لوگوں کے لیے اپنے دل میں کھلی جگہ بناؤ، تنگ دل نہ بنو۔ اپنی شخصیت کے بارے میں مختلف تاویلیں اور تشریح کرنے کی گنجائش ہی نہ چھوڑو۔ لوگوں کے درمیان اجنبی نہ بنو۔ ایسا رویہ نہ اپناؤ کہ لوگ تم سے ڈریں یا محتاط رہیں۔ یاد رکھو کہ ابہام لوگوں کو دور کرتا ہے، قریب نہیں کرتا، انہیں متنفر کرتا، محبت پیدا نہیں کرتا۔ اسی طرح یہ بھی یاد رکھو کہ جو لوگ ابہام کی تلقین کرتے ہیں یا بناوٹی طریقے سے اسے اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ حقیقت میں لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔ وہ انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی سوچ زیادہ گہری اور بہتر ہے۔ وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں گمان کے سمندر میں ڈوب رہے ہیں، مگر وہ صاف گوئی اور صراحت اپنا کر ان کی طرف حفاظتی رسی نہیں پھینکتے، جس سے وہ خود کو جھوٹے گمانوں اور پر تکلف تاویلوں اور تشریحوں سے بچا لیں۔

اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! یہ بھی یاد رکھو کہ صاف گوئی اور بے وقوفی میں بڑا فرق ہے۔ اسی طرح ابہام اور راز داری میں بھی بہت واضح اختلاف ہے۔ صاف گوئی کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ اتنا بے وقوف ہو کہ کسی بات کو چھپائے ہی نہ ، یا اس کا کوئی راز ہی نہ ہو، یا مصلحت کی بنیاد پر بھی کسی بات کو مخفی ہی نہ رکھے۔ اسی طرح ابہام ہی احتیاط نہیں ہے۔ نہ ابہام یہ ہے کہ ظاہر سی باتوں کو بھی چھپایا جائے، یا اچھی باتوں سے رکا جائے، یا واضح تعامل کو اختیار نہ کیا جائے۔ اسی طرح، اے مسلمان! میانہ روی کے بہترین اصول کو کبھی نہ چھوڑنا، تاکہ تمہاری صاف گوئی بھولے پن کی حد تک نہ پہنچ جائے اور تم لوگوں کو اذیت نہ دینے لگو، یا چیزوں کو چھپانا ابہام کی حد تک پہنچ جائے اور لوگ تم سے متنفر ہونے لگیں۔ سمجھدار اور دانشمند وہ ہے جو ان دونوں انتہاؤں میں سے درمیانی راہ اختیار کریں۔

كَنْ واضحًا إِنْ رُمتَ عِزًّا شَامِخًا

إِنَّ الْوُضُوحَ مِنَ اللَّبِيبَ لَتَاجُ

بِئسَ الغموضُ ففيه سوءُ مَظِنَّةٍ

ومَسِيرُهُ بالغامضينَ خِدَاجُ

’’اگر عزت وبرتری کے طالب ہو، تو صاف گوئی اختیار کرو، کیونکہ صاف گوئی سمجھدار انسان کا تاج ہوتی ہے۔ ابہام بہت بری چیز ہے، اس سے بدگمانی کا راستہ بھی کھلتا ہے اور اسے اپنانے والوں کا معاملہ فریب پر مبنی ہوتا ہے۔ ‘‘

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے اللہ سے ہر گناہ اور غلطی کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو اور اسی کی طرف رجوع کرو۔ یقینًا! میرا رب معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

اللہ کے احسان پر میں اسی کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں۔ اس کی توفیق اور نوازشوں پر میں اسی کا شکر ادا کرتا ہوں۔ اس کی خوشنودی کی طرف بلانے والے نبی مصطفیٰ ﷺ پر درود بھیجتا ہوں۔

بعدازاں! اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! یاد رکھو کہ انسان کو ان نتائج کو ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے جو صاف گوئی کے فقدان کی وجہ سے خاندان، معاشرہ، تعلیم، کام کاج اور اداروں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اس لیے صاف گوئی کے راستے کی تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ جہاں تک ملکی سطح کے انتظامی ا مور کی بات ہے، تو ان میں تو صاف گوئی اور وضاحت زیادہ ضروری ہے، کیونکہ ان میں وضاحت ہونے اور نہ ہونے کے بہت سے مثبت اور منفی اثرات ہیں۔ اس لیے حکومتی سطح کے ذمہ داران اللہ کے ہاں بھی جواب دہ ہیں اور حکمران کے سامنے بھی، جس نے ان پر اعتماد کیا ہے۔ دور جدید میں ادارتی نگرانی کی بات بار بار اسی لیے کی جاتی ہے کہ انتظامی امور، مالی معاملات اور پیداوار کو درست کیا جا سکے، تاکہ عوام کی فلاح وبہبود ممکن ہو، شفافیت یقینی بنے اور کرپشن کا دروازہ بند ہو۔ اگر ادارتی نگرانی میں تین اصول نہ ہوں تو اس کا کوئی مقصد نہیں رہتا، ایک فرمان برداری اور حکمران کے احکام کی تعمیل، جس سے لوگوں کی ضرورتوں کی تکمیل یقینی بنتی ہے، دوسرا مالی حفاظت، جس سے حکومتی اور عوامی املاک کو تخریب کاری سے بچایا جاتا ہے، اور تیسرا شفافیت اور وضاحت، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی کام سے متعلقہ تمام لوگوں کو اس میں حصہ ڈالنے کا موقع دیتے ہوئے مکمل وضاحت اور حق گوئی سے کام لیا جائے، تاکہ ہر کام بصورت اکمل پورا ہو سکے۔ یہ اصول بھی کوئی نئے نہیں ہیں، بلکہ اسلام نے ان میں ہر ایک پر زور دیا ہے، لیکن جب یہ چیزیں ذمہ داروں کی نگاہوں سے اوجھل ہوں، تو پھر معاشرے کو سخت تکلیف دہ چوٹ لگتی ہے اور امانت کی ادائیگی میں سخت قسم کی کوتاہی ہوتی ہے۔

اللہ کے بندو! یہ بھی یاد رکھو کہ مالی اور ادارتی وضاحت اور شفافیت بھی کم اہم نہیں ہے، خاص طور پر جب معاملہ خیراتی، سماجی، رضاکارانہ اور خدمت خلق کے کاموں سے متعلقہ ہو، کیونکہ یہ کام براہ راست دین، ثقافت اور معاشرے سے جڑے ہوتے ہیں اور اگر انہیں کسی ادارے یا قانون کے زیر نگرانی نہ رکھا جائے تو بہت سے ذمہ داران صاف گوئی اور وضاحت کے معاملے میں تساہل کا شکار ہو سکتے ہیں، اور جب ایسے معاملے میں تساہل آ جائے تو پھر مسلمانوں کے خیرات اور صدقات کے اموال کے حوالے سے پُر تکلف قسم کی تاویلیں سامنے آنے لگتی ہیں۔ اس لیے اگر کوئی کمیٹی یا ادارہ خیراتی ہے یا رضاکارانہ طور پر کام کر رہا ہے، تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ اس سے ادارتی امور، ذرائع آمدن اور اخراجات کے حوالے سے صاف گوئی اور وضاحت کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا، یا اسے احتساب اور تنقید سے بالاتر سمجھا جائے گا، کیونکہ اس کے ذمہ داران ان لوگوں کے اموال میں تصرف کے جواب دہ ہیں جنہوں نے اپنے مال ان کے سپرد کیے ہیں۔ اس لیے یہ غلطی انتہائی سنگین ہو گی کہ جذبات میں آ کر امانت داری اور وضاحت کو نظر انداز کر دیا جائے، یا متابعت اور سوال سے پہلو تہی کر لی جائے۔ دیکھو تو سہی، وقتًا فوقتًا ہمیں کتنے فراڈ اور دھوکہ بازی کے واقعات سننے کو ملتے ہیں، جن میں کبھی خیراتی کاموں کا سہارا لیا جاتا ہے اور کبھی رضاکاری کا، یوں لوگوں کے مال ہڑپ کیے جاتے ہیں اور ان کے جذبات سے کھیلا جاتا ہے۔ یہ کوئی نئی اور انوکھی بات بھی نہیں ہے، کیونکہ جب خیراتی جذبے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو لوگ بڑی آسانی سے دھوکے میں آ جاتے ہیں، کیونکہ اس میں دینی جذبہ بھی شامل ہوتا ہے، جو کہ جذبات کو ابھارنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر کہتے تھے:

“مَنْ خَدَعَنَا باللهِ انْخَدَعْنَا له.”

’’جو اللہ کے نام پر ہمیں دھوکہ دیتا ہے، ہم اس کے دھوکے میں آ جاتے ہیں۔‘‘

مزید یہ کہ ہماری گفتگو کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ سب کے سب خیراتی ادارے لازمی دھوکہ اور فریب ہی کر رہے ہیں۔ نہیں! بہت سے خیراتی، رضاکار ادارے بڑے نظم وضبط، اتقان اور امانت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ جن کے بہت سے قابل تحسن کام ہیں۔ ہماری بات چند انفرادی یا اجتماعی کاموں کے حوالے سے ہے، جن کے ذمہ داران صاف گوئی اور قابلِ اعتبار وضاحت سے کام نہیں لیتے، یا جن میں نگرانی اور احتساب کا کوئی تصور نہیں، یا جو صدقات اور زکوٰۃ دینے والوں کو تسلی بخش حساب کتاب دینے میں ناکام رہتے ہیں۔

ایسے کاموں کے نگرانوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ لوگوں نے نیکی کے جذبے میں آ کر اپنے مال ان کے سپرد کیے ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ کھیلنا یا ان میں کوتاہی کرنا، یا غلط قسم کی تاویلیں یا بہانے بنا کر انہیں اپنے لیے جائز کر لینا، یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا انہیں اللہ کے یہاں یا لوگوں کے ہاں بری نہیں کر سکتا، بلکہ ان کی یہی تاویلیں اور یہی اموال دنیا وآخرت میں ان کے لیے وبال بن جائیں گے اور خالق کے ہاں ان کا حساب بڑا سخت ہو گا۔

﴿وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا﴾ (سورۃ الکہف: 49)

’’اور تیرا رب کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا۔‘‘

اے اللہ! رحمتیں نازل فرما، محمد ﷺ پر اور آپ ﷺ کے اہل بیت پر، جس طرح تو نے ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ اور آل ابراہیم پر تمام جہانوں میں تو سب سے زیادہ قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔

اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، اور سیدنا علی سے، نبی اکرم ﷺ کے تمام صحابہ کرام سے، تابعین عظام سے اور قیامت تک ان کےنقش قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اپنی کرم نوازی اور احسان سے اور خصوصی معافی دے کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے!

اے اللہ! جو ہمارے یا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کوئی چال چلے تو اسے خود ہی میں مصروف کر دے۔ اس کی چال اسی پر لوٹا دے۔ اے دعا سننے والے!

﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (سورۃ البقرہ: 201)

’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی! اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا!‘‘

اللہ کے بندو! اللہ عظیم وجلیل کو یاد کرو، وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں مزید عطا فرمائے گا۔ اللہ کا ذکر تو سب سے بڑی چیز ہے۔ اور اللہ آپ کے اعمال سے باخبر ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں