روزہ سے حاصل ہونے والے اسباق-فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر بندر بن عبد العزیز بلیلہ

الحمد للہ! ہر طرح کی حمد وثنا اللہ ہی کے لیے کیونکہ وہی حمد وثنا کے لائق ہے، وہی عبادت کے قابل ہے، اپنے پیروکاروں کی مدد اور نصرت فرمانے والا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ

اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ ایسی گواہی جو صحیح معنوں میں اخلاص کے ساتھ اللہ کی وحدانیت کا معترف ہو۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ نے فرشتوں کے آمد کے سلسلے میں تھوڑے توقف کے بعد آپ ﷺ کو بھیجا، تو آپ ﷺ کے ذریعے لوگوں کو راہِ ہدایت دکھائی۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، صحابہ کرام پر اور آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلنے والوں اور کامیابی کی راہ اختیار کرے والوں پر۔

بعدازاں! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ کیونکہ تقویٰ ہی سعادت کا راستہ ہے، اور برتری کی شاہراہ ہے۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔‘‘ (سورۃ التوبہ: 119)

اے مسلمانو! ماہِ رمضان آ چکا ہے، اس کی خوبصورت چمک نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہے، اس کی خوشبو ہر طرف پھیل چکی ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“إذا دخَلَ رمضانُ فُتِّحَتْ أبوابُ الجَنَّةِ، وغُلِّقَتْ أبوابُ النار، وسُلسِلَتِ الشياطينُ”

’’جب رمضان شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ آگ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔‘‘(صحیح بخاری؛ صحیح مسلم)

رمضان لوگوں کو نصیب ہو جاتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ ان کے لیے نا گزیر ہے، ان کی روحیں اس سے بے نیاز ہو ہی نہیں سکتیں، کیونکہ یہ ان کے دلوں میں نیکی کی نہریں بہا دیتا ہے، ان کے نفسوں میں بھلائی کا مردہ احساس جگا دیتا ہے، اللہ کے ساتھ تعلق جو ماند پڑ گیا ہوتا ہے، اسے بھر سے بحال کر دیتا ہے، ان کی فطرتوں کو پھر سے پاکیزگی اور صفائی کی طرف لیجاتا ہے۔

رمضان نفس کے لیے تربیت گاہ ہے جو انہیں خواہشات سے بچنا سکھاتا ہے، روحوں کو آسمانوں تک بلند کر دیتا ہے، مال داروں اور فقیروں کے فرق کو نرمی اور شفقت کے ذریعے ختم کر دیتا ہے۔ اللہ کے بندو! رمضان کی نیکیوں میں سر فہرست روزے ہیں۔ حق تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔‘‘ (سورۃ البقرہ،: 183)

اس کا پہلا ثمرہ تقویٰ ہے، جو روزہ دار کو نصیب ہوتا ہے، اور یہ ثمرہ کیا کم ہے؟ یہ روزہ دار کو اس لیے نصیب ہوتا ہے کہ روزہ اسے خواہشاتِ نفس سے بچا کر رکھتا ہے، اس لیے اس کے نفس میں انکساری پیدا ہو جاتی ہے، اس کی خواہشات زور توڑ جاتی ہیں، اور وہ تکبر اور دکھاوے سے دور ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے روزے کی شان بہت بلند فرمائی ہے، اس کے اجر کو بہت زیادہ اور وافر رکھا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“كلُّ عملِ ابنِ آدمَ يُضاعَفُ، الحسنةُ عشرُ أمثالِها إلى سبعِ مئةِ ضِعفٍ، قال اللهُ -عزَّ وجَلَّ-: إلا الصومَ فإنه لي وأنا أجزي به، يَدَعُ شهوتَه وطعامَه من أجلي”

’’ابن آدم کی ہر نیکی کا اجر بڑھایا جاتا ہے، ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: سوائے روزے گے۔ وہ تو میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ بندہ میری خاطر خواہشات اور کھانا چھوڑ دیتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری؛ صحیح مسلم)

روزہ داروں کے لیے ایک خاص دروازہ ہے، جس سے وہ جنت جائیں گے، ان کے سوا اس دروازے سے جنت میں کوئی نہیں جائے گا۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“إنَّ في الجنةِ بابًا يُقالُ له الريانُ، يَدخُلُ منه الصائمونَ يومَ القيامةِ، لا يدخلُ منه أحدٌ غيرُهُم، فإذا دخلوا أُغلِقَ فلم يدخُل منه أحدٌ” ( صحیح بخاری؛ صحیح مسلم)

’’جنت میں ایک دروازہ ہے، جس کا نام الریان ہے، روزِ قیامت اس میں سے صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے، ان کے سوا اس دروازے سے جنت میں کوئی نہیں جائے گا۔ جب وہ چلے جائیں گے تو اسے بند کر دیا جائے گا اور پھر کوئی نہیں جائے گا۔‘‘

مدرسۂ صیام سے روزہ داروں کو جو فوائد حاصل ہوتے ہیں ان میں اولیں چیز توحید کی تکمیل ہے، اللہ کی یاد کو دل میں راسخ کرنا ہے۔ روزہ ایک ایسی مخفی عبادت ہے جس کی حقیقت صرف اللہ ہی جانتا ہے، اس لیے اس کے اثرات روزہ دار کے نفس، حالات اور معمول پر ہوتے ہیں۔

رمضان میں قرآن کریم کی تلاوت بھی ہوتی ہے، روزہ دار دن رات اسے اپنے ہونٹوں پر جاری رکھتا ہے، رکھے بھی کیوں نہ؟ جبکہ رمضان ہے ہی ماہِ قرآن، اسی میں وہ نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا تھا۔

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ﴾

’’رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے۔‘‘(سورۃ البقرہ: 185)

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

“يلقى جبريل -عليه السلام- كل ليلة، فيدارسه القرآن.”

’’اس کی ہر رات میں جبریل سے ملتے اور قرآن کا دور کرتے۔‘‘(صحیح بخاری؛ صحیح مسلم)

رمضان تہجد گزاری کا مہینہ بھی ہے۔ ایمان کے ساتھ اور اجر کی خاطر جو اس کی راتوں میں تہجد پڑھتا ہے، اللہ نے اسے تمام گناہوں کی معافی کی ضمانت دی ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مَنْ قام رمضانَ إيمانًا واحتسابًا غُفِرَ له ما تقدَّم من ذنبه”

’’جو ایمان کے ساتھ اجر کی خاطر رمضان کی راتوں میں تہجد گزاری کرتا ہے، اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔‘‘( صحیح بخاری؛ صحیح مسلم)

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم سے برکت عطا فرمائے! اس میں آنے والی آیات اور ذکر حکیم سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے! میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ یقیناً! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کیلئے ہے، جو صاحب فضل ونوازش ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ صرف وہی عزت اور کبریائی والا ہے۔ وہی بلندی اور ہمیشگی والا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے خاتم الانبیاء اور سید الاتقیاء ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، اہل بیت پر، صحابہ کرام پر اور بعث وجزاء کے دن تک ان کی پیروی کرنے والوں پر۔

بعدازاں! اے مؤمنو! اس مہینے میں بہت سی عطاؤں سے اللہ نے آپ کو نوازا ہے، اس میں وہ بہت مہربانیاں فرماتا ہے۔ جو اس موسم میں بھی منافع نہ کمائے، پھر وہ کب منافعہ کمائے گا؟ جو اس میں بھی خیر کا سامان جمع نہ کرے، وہ آخر پھر کب کرے گا؟ جو اس میں بھی اپنے رب سے توبہ نہ کرے، تو پھر وہ کب تک برائیون میں بڑھتا جائے گا اور آخر کب اپنی اصلاح کرے گا؟ حدیث میں آتا ہے:

“رَغِمَ أنفُ رجلٍ دخَل عليه رمضانُ ثم انسَلَخَ قبلَ أن يُغفَرَ لَهَ.”

’’وہ شخص ذلیل ورسوا ہو، جو رمضان کو پا لے اور اپنے گناہ معاف کرائے بغیر اسے گزار دے۔‘‘( جامع ترمذی)

سنو! درود وسلام بھیجو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں بہترین ہستی پر، جو وحیِ الٰہی کے امانت دار ہیں، محمد بن عبد اللہ، اللہ کے رسول ﷺ پر۔

اے اللہ! رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل فرما آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے نیک اور پاکیزہ اہل بیت پر، آپ ﷺ کی بیویوں، امہات المؤمنین پر۔

اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! وہ اصحاب ہدایت ائمہ، ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے، تمام اہل بیت اور صحابہ کرام سے راضی ہو جا۔ تابعین پر اور قیامت تک استقامت کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر۔

اے سب سے بڑھ کر کرم نوازی فرمانے والے! اپنی رحمت اور کرم سے ہم پر بھی رحمتیں نازل فرما۔

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! دین کے مرکز کی حفاظت فرما! اپنے مومن بندوں کی نصرت فرما! اے اللہ! تمام مسلمانوں کی پریشانیاں دور فرما! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبتیں دور فرما۔ قرض داروں کے قرض ادا فرما۔ ہمارے اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما! اپنی رحمت سے، اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے!اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! حق کے ساتھ ہمارے حکمران اور امام کی تائید فرما۔ اے اللہ! اے پروردگار عالم! اسے اور اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں ملک اور قوم کی فلاح وبہبود ہے۔ اے اللہ! سرحد پر تعینات فوجی جوانوں کے نشانے درست فرما۔ اے اللہ! تو ان کا معین اور نصرت کرنے والا بن جا۔ ان کی تائید کرنے والے اور نصرت کرنے والا بن جا۔اے اللہ! ہمارے روزے اور تہجد گزاری قبول ومنظور فرما! اپنی خوشنودی اور قرب سے نواز کر ہم پر مہربانی فرما۔ اے زندہ وجاوید! اے رب ذو الجلال!

﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ * وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ﴾

’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں اور سلام ہے مرسلین پر۔‘‘ (سورۃ الصافات: 180-181)

اور ہماری ہر بات کا خاتمہ اسی پر ہے کہ ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔

تبصرہ کریں