روزہ اور جسمانی صحت-ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا کا کہنا ہے کہ اکثر مذاہب کے پاس روزے فرض اور واجب قرار دیئے گئے ہیں، چنانچہ زمانہ قدیم میں مصر کے لوگ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے۔ مشہور فلاسفر سقراط جس کا زمانہ 470 سال قبل مسیح ہے جب اسے کسی اہم موضوع پر غور و فکر کرنا ہوتا تو وہ 10 دن روزے رکھ لیتا تھا اور بقراط کو اس حیثیت سے اولیت حاصل ہے کہ اس نے روزہ کے طبی فوائد پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ لہٰذا اپنی تحقیق کے پیش نظر وہ مریضوں کو روزہ رکھنے کی ہدایت کرتا اور کہا کرتا تھا کہ ہر انسان کے اندر ایک ڈاکٹر ہے اور یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے اندرونی ڈاکٹر کی معاونت کریں تا کہ وہ کما حقہ اپنی ڈیوٹی انجام دے سکے۔

٭ بلزاک (1964ء) میں جو اپنے زمانے کا مشہور معالج تھا اس کا کہنا تھا کہ کئی دن دوا استعمال کرنے سے یہ بہتر وافضل ہے کہ ایک دن روزہ رکھ لیا جائے۔

٭ابن سینا کی تحقیق میں روزہ سے زیادہ ارزاں اور اعلیٰ کوئی دوا نہیں ہے۔

٭بیسویں صدی میں امریکہ اور یورپ میں روزہ کے میڈیکل فوائد پر بہت ساری کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جن کے کچھ مشہور ٹائیٹل یہ ہیں، روزہ کے ذریعہ علاج، طبی روزہ ، روزہ اکسیر حیات ہے، صحت مند زندگی کیلئے میڈیکل روزہ …. وغیرہ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے، جسمانی اعتبار سے روزہ کے بہت سے فوائد ہیں۔

٭نظام ہاضمہ سے تعلق رکھنے والے امراض ، خصوصاً معدہ کا پرانا مرض، ہاضمہ کی تکلیف اور آنتوں کی سوزش میں اس کا فائدہ بالکل ظاہر اور عیاں ہے۔ روزہ ان امراض میں راحت وسکون پہنچاتا ہے اور رمضان المبارک کا مہینہ انہیں صحت و تندرستی اور شفا بخشتے ہوئے گزر جاتا ہے۔

٭ اسی طرح قولون کے مریضوں کو روزہ سے بہت فائدہ ہوتا ہے اور الرجک کے بعض امراض میں بھی روزہ بہت ہی مفید ہے۔

٭موٹاپا کے مرض میں بھی روزہ تیر بہدف ہے کیونکہ زیادہ کھانا اور کم کام کرنا اس مرض کے دوا ہم سبب ہیں ۔

٭اسی طرح دل کے اکثر مریضوں کے لیے بھی روزہ بہت ہی زیادہ فائدہ بخش ثابت ہوا ہے۔

وہ اس طرح کہ دل جو خون کو جسم میں سپلائی کرتا ہے اس کا دس فیصد غذا کے ہضم کرنے کے لیے اعضاء ہضم میں چلا جاتا ہے اور یہ مقدار روزہ کے دوران کم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ دن میں ہاضمہ کا کام نہیں رہتا، اسی طرح دل کو کام تو بہت کم کرناپڑتا ہے اور آرام بہت زیادہ ۔

٭وزن کو کم کرنے اور ہائی بلڈ پریشر کو اعتدال میں لانے کے لیے بھی روزہ رکھنامفید ہے۔

٭ دینی فوائد کے علاوہ نماز تراویح اور تہجد سے جسمانی ورزش ہوتی ہے۔ اس طرح ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لیے بھی یہ عبادات مفید ہیں، روزہ دار اگر معتدل غذا کا التزام کرے اور تلی ہوئی چکنی اور مرغن چیزوں سے پر ہیز کرے تو وہ رمضان کے اختتام پر اپنے جسم کے کولیسٹرول کو معتدل اور وزن کو ہلکا پھلکا اور رمضان کو دل کےامراض سے بچانے والا بلکہ اس کا مداوا اور مسیحا محسوس کرے گا۔

٭ گھٹنوں کے ورم میں مبتلا مریضوں کے لیے رمضان ایک سنہری موقع ہے کہ اس کو غنیمت سمجھتے ہوئے مریض اپنا وزن کم کر کے گھٹنوں پر سے وہ بوجھ کم کر سکتے ہیں،جس کو اس کے اعضاء و جوارح اٹھائے پھرتے ہیں۔

٭اسی طرح ذیا بیطس کے قدیم مریضوں کے لیے بھی نادر موقع ہے کہ روزہ کے ذریعے سے اپنا وزن کم کر کے شوگر کے مرض پر قابو پا لیں۔ اس سلسلہ میں علمی دروس اور اسباق بھی موجود ہیں کہ جن کے ذریعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کے روزوں سے جسم میں مختلف امراض سے بچنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

٭اگر ہم اپنی غذا کے سلسلہ میں اور اس کی باریکیوں پر نظر رکھیں اور افطار وسحری میں اپنے ہاضمہ کی قوت سے زیادہ نہ کھا ئیں تو روزوں کی حکمت کے ظاہری مقصد کو بھی حاصل کر سکتے ہیں، لیکن سخت افسوس اس پر ہے کہ بہت سے روزے دار رات دیر گئے تک مختلف قسم کے کھانے نوش جان کرتے رہتے ہیں بلکہ عموما یہ دیکھا گیا ہے کہ سال کے دیگر مہینوں کی بہ نسبت رمضان کے مہینے میں کئی گنا زیادہ کھایا پیا جاتا ہے اور ظاہر ہے ایسے لوگ روزہ سے حاصل ہونے والے طبی فوائد سےاستفادہ نہیں کر پاتے ۔

٭روزہ میں جب بھوک اور پیاس ، منہ کی ناپسندیدہ بُو کا سبب بنتی ہے تو اللہ کے آخری رسول محمد ﷺ کی طرف سے دی گئی یہ خوشخبری استقبال کرتی ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بواللہ کے پاس مشک وکستوری سے زیادہ مطہر اور معطر ہے۔ (عربی سے ترجمہ)

تبصرہ کریں