رشتۂ ازدواج میں تاخیر کے اسباب، ایک معاشرتی مسئلے کا تجزیہ اور حل۔حافظ عبد الوحید سوہدروی

الحمد لله والصلوة والسلام على رسول الله

انسان کی زندگی میں ایسے دن بھی آتے ہیں، جب باوجود چاہنے کے وہ مطلوبہ کام کرسکنے پر قادر نہیں ہوتا، مثلاً کاروبار میں کامیابی، بچوں کےر شتے کا معاملہ یا بیماری میں جلد صحت یاب ہونے کی تمنا وغیرہ۔ یہی مواقع ہیں کہ جب بندے کو اپنی بےبسی کا اقرار ہوتا ہے مگر وہ اللہ وحدہ لاشریک کی قدرت کاملہ کا پھر بھی اقرار ی نہیں ہوتا، ماسوائے چند افراد کے جن پر اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہے۔ عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ جب کوئی رشتے میں رکاوٹ پڑنے کی وجوہات کا ادراک نہیں کر پاتا تو اسے جادور کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ کسی دوسرے کو ملوث کر کے سارا کوڑا اس پر ڈال دیتا ہے۔

ہم نہیں کہتے کہ جادو نام کی کوئی چیز نہیں یا وہ بے اثر شئے ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ناکامی کو جادو کی طرف منسوب کر دینا اپنی کمی کوتاہی پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ کیا جادو خدائی طاقت سے بڑھ کر کوئی چیز ہے جو اللہ کی تقدیر پر غالب آ جاتی ہے؟ حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔ تو پھر جادو پر اتنا اعتماد اور خدا کی تقدیر پر بے یقینی کے کیا معنیٰ؟ یہ تو کمزور ایمان کی علامت ہے۔ ایمان کی اسی کمزوری کے سبب شیطان انسانی معاملات میں دخل اندازی کی جرأت کرتا ہے۔ اپنی ناکامی کو دوسروں کے سر تھوپنے پر اکبر الٰہ آبادی مرحوم کا یہ شعر یاد آ جاتا ہے:

ہنسی آتی ہے مجھے حضرتِ انسان پر                                                        فعل بدتو خود کرے لاحول پڑھے شیطان پر

عورت کا مقام

اسلام سے قبل جاہلیت کے دور میں کئی لوگ بیٹیوں کو اس لیے زندہ دفن کر کے ان سے خلاصی پالیتے تھے کہ ’’ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔‘‘

یعنی بیٹی نہ ہو گی تو اس کے لیے اچھے رشتے کی تلاش بھی نہ کرنی پڑے گی یا شادی کے بعد والے موہوم پریشان کن حالات میں الجھنا نہیں پڑے گا۔ اسلام نے آ کر اس نظریے کو یکسر بدل دیا اور صنف نازک پر اس قدر احسان کیا کہ اگر وہ ساری زندکی خدا کا شکر ادا کرتی رہے تو بھی ناکافی ہے۔ اپنی حقیقی بیٹی تو کیا ایک غلام لونڈی کے بارے میں نبی پاکےﷺ کی نصیحت ملاحظہ ہو۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جس کے پاس غلام لڑکی یعنی لونڈی ہو اور وہ اس کی اچھی تعلیم وتربیت کرے، پھر آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اس کو دہرا ثواب ملے گا۔‘‘ (صحیح بخاری: 2544)

ذرا سوچئے کہ اگر ایک ملازمہ کی اچھی تعلیم وتربیت کرنے کی تلقین ہے تو کیا اپنی بیٹی کو اس سے محروم رکھا جا سکتا ہے۔ بہت سارے لوگ اپنا یہ فرض ادا کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ مگر ہائے افسوس! آج کا ماڈرن مسلمان دھوکا کھا گیا۔ وہ اچھی تعلیم قرآن وسنت کی تعلیم کو سمجھنے کی بجائے دنیاوی تعلیم کو سمجھ بیٹھا اور بذاتِ خود تربیت کرنے کی بجائے بچوں کو ٹیلی ویژن کی تربیت کے سپرد کر دیا جس کا خفیہ منہج ہی خدائی تعلیمات سے انحراف اور نئی نسل میں بگاڑ پیدا کرنا ہے۔ اب اس قسم کے ماحول میں جو بچیاں جوان ہوں کی تو انہیں قبول کرنے والے بھی تو اس قسم کے ماحول میں پروردہ ہوں گے۔ پھر ان سے بےاعتنائی برتتے ہوئے اپنی بچی کے لیے نیک اور فرشتہ صفت لڑکے کی تلاش کیوں؟ جن نوجوانوں کو اللہ نے دین کی سمجھ عطا فرمائی ہے وہ تو اس حدیث نبوی کو سامنے رکھ کر دینداری کو ترجیح دیتے ہیں:

’’عورت سے چار وجوہات کی بنا پر شادی کی جاتی ہے: اس کے حسب ونسب، مال، خوبصورتی یا دینداری کی وجہ سے۔ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، اگر تو خوش رہنا چاہتا ہے تو دینداری کو ترجیح دینا۔‘‘ (صحیح بخاری: 5090)

اس حدیث کے پیش نظر بہت سارے نوجوانوں کی شادی دین دار لڑکی کی تلاش میں مؤخر ہوتی جاتی ہے۔ اس تاخیر سے بچنے کے لیے ایسے نوجوانوں کو میرا مشورہ یہ ہوتا ہے کہ اگر تم چاہو کہ اس دنیا میں سو فیصد تمہاری پسند کی لڑکی مل جائے تو یہ ناممکن ہے۔ ایسی بیوی کی امید جنت میں رکھو۔ اگر کسی خاتون میں 51 فیصد اچھی صفات تمہاری پسند کی مل جائیں تو غنیمت جان کر شادی کر لو۔ تاخیر مت کرو۔ اب یہی مشورہ لڑکی کے والدین کے لیے ہے۔ آپ کو فرشتہ صفت لڑکا ملنا آسان نہیں۔ اگر کسی میں خامیوں کی نسبت خوبیاں زیادہ ہوں تو دیر نہ کیجیے۔

ہر سمجھدار انسان کو معاملےکے روشن اور تاریک دونوں پہلوؤں پر غور کرنا چاہیے۔ مگر جس طرح ہماری زندگی کے دوسرے پہلو بے اعتدالی کا شکار ہیں، رشتے کے چناؤ میں بھی ہمارا یہی حال ہے۔ کئی لوگ صرف روشن پہلو کو سامنے رکھ کر ٹھوکر کھا جاتے ہیں اور کئی صرف تاریک پہلو پر نظر پڑتے ہی رشتے کا موقع گنوا بیٹھتے ہیں۔ بعض لوگ چھوٹی خامیوں کی وجہ سے بڑی خوبیوں کو بھول جاتے ہیں اور آئے ہوئے رشتے کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک دفعہ کا ’کھنج‘ (رہ) جانا انسان کو کتنے سال اور لیٹ کر دیتا ہے۔

یادرہے کہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے مواقع پیدا کرنے ہوتے ہیں۔ اب اگر کوئی ان سے فائدہ نہ اٹھائے تو قصور اس کا اپنا ہے۔

جادو کا حکم

جادو سے متعلق اسلامی حکم بالکل واضح ہے کہ یہ کفر اور شیطانی عمل ہے اور جس نے کسی جادوگر کی بات پر یقین کیا تو وہ محمد ﷺ پر اترنے والی ہدایت کا منکر ہوا۔ جادوگر سے نیچے قیافہ باز، دست شناس اور سنیاسی وغیرہ ہوتے ہیں جنہیں عربی میں عرّاف کہتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ جو اس کے پاس جائے، اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں ہوتی۔‘‘ (صحیح مسلم: 2330)

اب صرف وہی مسلمان اپنی نمازیں برباد کرے گا جس کی قسمت میں بربادی لکھی ہے۔ یہ حال تو ہوا عراف کے پاس جانے والوں کا ۔ اب آپ خود انداز لگا لیجیے کہ ان کا کیا حال ہو گا جو جادو کرتے اور کراتے ہیں۔ ان کی نمازیں اور ایمان کس کھاتے میں آئیں گے۔ اسی لیے قرآن وحدیث میں جادوگر کے لیے کافر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

جادو کا اثر

یہ بھی واضح رہے کہ جادو بھی اثر تب کرتا ہے جب اللہ کی طرف سے اذن (اجازت) ہو۔ اگر اللہ نہ چاہے تو جادو آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ (سورۃ البقرۃ: 102)

احادیث میں آتا ہے کہ نبی اکرمﷺ پر ایک یہودی نے جادو کردیا تھا۔ تو وہ بھی اللہ کے اذن سے ہی آپ پر اثر انداز ہوا تھا۔ امت کو یہ بتانے کے لیے کہ نبی بھی ایک انسان ہوتا ہے نہ کہ مافوق البشر کوئی چیز یا نور۔ جیسے تم ضرر رساں اشیاء سے متاثر ہوتے ہو وہ بھی اسی طرح ہوتا ہے، ورنہ نور پر تو جادو ہرگز اثر نہیں کر سکتا۔ پھر الہ کی راہنمائی میں جس طرح آپﷺ نے جادو سے چھٹکارا پایا ہمیں بھی آپ کے اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہو کر معوذتین (سورۂ فلق، اور ناس) کی برکت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے نہ کہ جادو کرنے کرانے والوں کے ہتھے چڑھ کر دین ودنیا تباہ کروا لینی چاہیے۔ اس موضوع پر دار السلام کی مطبوعہ کتب ’’جادو ٹونے کا علاج‘‘ اور ’’جادو کی حقیقت‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا۔

عامل لوگوں کی موج

رشتہ ملنے میں تاخیر یا ملا ہوا رشتہ ٹوٹ جانے کا الزام اسی پر لگایا جاتا ہے جس سے دشمنی ہو۔ ہمارے ہاں کھینچا تانی،لڑائی جھگڑااور دشمنیاں تو پہلے ہی ساس بہو، نند بھاوج اور دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ بہت ہوتی ہیں، لہٰذا یہ الزام کسی ایک پر دھر دیا جاتا ہے۔ ہر معاشرے میں پھیلے ہوئے جعلی پیروں فقیروں کے ایجنٹ اس سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کا رخ ان کی طرف موڑ دیتے ہیں جس سے ان کی موج ہو جاتی ہے۔

عاملوں کا طریقہ واردات

یہ حقیقت ہے کہ جیسے ہر چیز میں تنزل آچکا ہے، اسی طرح نام نہاد عاملوں کے فن میں بھی تنزل آ چکا ہوا ہے۔ اب تو آپ کو دھوکہ بازار میں جعلی عامل کثرت سے ملیں گے جو دھوکا فراڈ کی بنیاد پر ہزاروں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں اور لوگ اپنے کمزور ایمان کی وجہ سے لٹتے جا رہے ہیں۔ آپ کے سامنے مارکیٹ میں موجود عاملوں کے صرف ایک طریقۂ واردات کو پیش کیا جاتا ہے کہ سمجھنے والوں کے لیے ان شاء اللہ اتنا ہی کافی ہو گا۔

عاملوں نے اپنے بزنس کو ترقی دینے کے لیے معاشرے میں بعض مرد وخواتین کو بطور ایجنٹ چھوڑ رکھا ہوتا ہے۔ جب کوئی پریشان حال خاتون کسی ایجنٹ کے مشورے سے عامل کے پاس حاضری دیتی ہے تو اس سے ہر اس خاتون کے بارے میں تفصیلات حاصل کی جاتی ہیں، جس سے ان کی اَن بَن یا دشمنی ہوتی ہے۔ چاہے وہ رشتہ دار ہو یا غیر رشتہ دار۔ اسی طرح ساس، بہو، نند بھاوج اور ان کے دور نزدیک کے سب رشتہ دارں کی تفصیلات سے عامل کو آگاہ کرنا اسی طرح ضروری ہوتا ہے جس طرح علاج کے وقت معالج کو بیماری کے بارے میں سب کچھ بتانا ضروری ہوتا ہے۔ اس طریقے سے عاملین کے پاس بہت سارے خاندانوں کے مختلف افراد سے متعلق اچھی خاصی معلومات جمع ہوجاتی ہیں۔اب اس خاتون کو مطلوبہ فیس کی وصولی کے بعد ایک تعویذ دیا جاتا ہے جسے ایک خاص مقام پر دفن کرنا ہوتا ہے۔ کبھی وہ کسی کے گھر کی دہلیز ہوتی ہے، کبھی کسی کے مکان کی دیوار، کبھی کسی درخت کی شاخ یا اس درخت کے نیچے کی زمین یا کوئی اور مخصوص جگہ بتائی جاتی ہے۔ پھر دو فائدوں کے پیش نظر اس عمل کو طول دیا جاتا ہے۔ پہلا یہ کہ اس خاتون سے کمائی کا سلسلہ تادیر جاری رہے اور دوسرا یہ کہ اس عرصے میں خاتون کا کام شاید خودبخود سیدھا ہو جائے۔ مگر جونہی آمدن میں کمی یا خاتون کے اعتماد میں تزلزل کے آثار نظر آتے ہیں تو پھر کیا ہوتا ہے وہ بھی دیکھ لیجیے۔

تصور کا دوسرا رخ

اس خاتون نے جن دوسری عورتوں پر جادو کرنے کے شک کا اظہار کیا ہوتا ہے اب انہیں اپنی ہٹی پر لانے کے لیے عامل اپنے ایجنٹوں کی ڈیوٹی لگا دیتا ہے۔ ایسی کوئی خاتون جب عامل کے پاس آ کر اپنا دکھڑا سناتی ہے تو عامل اپنی پہلی خاتون سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر اس نئی خاتون کے سامنے کچھ انکشافات کرتا ہے جس کی صداقت پر وہ ششدر ہو کر رہ جاتی ہے کہ ان بزرگوں کو ایسی باتوں کا کیسے پتہ چلا۔ ہو نہ ہو ان کے قبضے میں ضرور کوئی جن ہے۔ اس طرح بےچاری عامل کے جھانسے میں آ جاتی ہے۔ حتیٰ کہ عامل پر اس کا یقین اس وقت اور پختہ ہو جاتا ہے جب وہ جادو توڑنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے پہلی خاتون کے ذریعے دفنائے ہوئے تعویذ کا محلِ وقوع بتاتا ہے۔ جسے نکال کر لانے کی وہ اسے ہدایت دیتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ’’ بزرگوں کی اتنی بڑی کرامت دیکھ کون ان کی ولایت پر شک کرے گا۔‘‘ اس طرح یہ خاتون ان کی پکی پکی مریدنی بن جاتی ہے اور دوسری خواتین سے اپنے مشاہدات بیان کر کے بزرگوں کی خوب پبلسٹی کرتی ہے۔ چنانچہ بابا جی کا حلقۂ اثر اس فراڈ کی بنیاد پر وسیع سے وسیع تر ہوتا جاتا ہے اور بڑے بااثر ومالدار لوگ بمع اونچے درجے کے سیاستدانوں کے پھنستے چلے جاتے ہیں۔ آپ ہزار سمجھائیں مگر جن کی خدا نے مت مار دی ہو وہ کیا سمجھیں گے۔ دولت بھی لٹاتے ہیں اور ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

رشتے میں تاخیر کے اسباب

نام نہاد جادو کی اصلیت کے بارے میں کچھ معلومات تو آپ نے حاصل کر لیں مگر ابھی ان امور کا کھوج لگانا باقی ہے جو رشتے میں تاخیر کے حقیقی اسباب ہیں اور جن کے ذمہ دار ہم خود ہوتے ہیں نہ کہ کوئی جادو کرنے کرانے والا۔ ان اسباب کا مطالعہ کرنے کے بعد ہمیں اپنی اور اپنے جاننے والوں کی بھی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ وگرنہ صرف مضمون پڑھ کر ماسوائے ذہنی لطف اندوزی کے معاملہ آگے نہ بڑھے گا۔ ذیل میں چند اہم اسباب کا ذکر کیا جاتا ہے:

خاندان سے باہر رشتہ

عموماً دیکھنے میں آیا کہ کسی فیملی کو اللہ تعالیٰ جب ترقی عطا فرماتا ہے تو وہ احساس برتری کا شکار ہو کر دوسرے رشتہ داروں کو اپنے سے کم تر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اپنے خاندان میں بہترین رشتہ بھی ان کی آنکھوں کو حقیر نظر آنے لگتا ہے۔ نتیجتاً رشتے کی تلاش میں انہیں کافی عرصہ باہر کی خاک چھاننی پڑتی ہے جس سے لڑکی کی شادی میں تاخیرہوتی جاتی ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ مزید تاخیر سے بچنے کے لیے مجبوراً خاندان سے باہر اپنے عزیزوں سے کم تر رشتہ بھی ان کو گوارا کرنا پڑتا ہے۔ کیسا درست مقولہ ہے یہ ’’ گھر کی مرغی دال برابر۔‘‘ اس طرح لوگوں کی کثیر تعداد اپنوں سے کٹتی چلی جاتی ہے جبکہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ صلہ رحمی کرو اور رشتہ ےداروں سے تعلقات جوڑ کر رکھو۔ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنا شیطانی سوچ اور کھلا تکبر ہے جو اللہ کو ہرگز پسند نہیں۔ اسی تکبرانہ سوچ نے شیطان کا بیڑا غرق کیا تھا۔

رشتہ داروں میں ناچاقی

عموماً نند بھاوج اور بھائی بہنوں کی ناچاقی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے رشتے آپس میں نہ کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ کئی دفعہ اولاد آپس میں رشتہ کرنے کے حق میں ہوتی ہے مگر والدین کے تلخ تعلقات کی بنا پر ان کا بس نہیں چلتا۔ پھر تلاشِ بسیار کے بعد باہر سے رشتہ لا کر تھوڑے ہی عرصے میں نئے رشتے کا مزہ چکھ لیتے ہیں۔ بسا اوقات دوسروں کے سامنے اپنی خفت مٹانے کے لیے بہو کی جھوٹی تعریف بھی کرتے ہیں۔ پھر اپنے بڑھاپے میں جب مکمل طور پر بہو کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں تو ماضی کی غلطیوں کا احساس انہیں ستانے لگ جاتا ہے۔ مگر ’’ اب کیا پچھتائے ہوت جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت۔‘‘

اپنی بڑی غلطی جس کا احساس اکثر لوگوں کو نہیں ہوتا وہ یہ ہے کہ باہر کی بہو کو ہمیشہ بہر کا ہی سمجھتے رہتے ہیں ہیں اور اسے اپنا بنانے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس کے برعکس اگر اسے اپنے ہی گھر کا فرد تسلیم کریں کریں تو بہت سارے مسئلے حل ہو جائیں۔ اپنے عزیزوں میں رشتہ نہ بھی کریں کریں صرف اچھے تعلقات ہی قائم رکھیں اس کا دہرا فائدہ ہے ۔ ایک تو صلہ رحمی کا اجر و ثواب ملتا ہے ہے دوسرا ہمارے نبی مکرمﷺ کے بقول ’’صلہ رحمی کرنے والے کے رزق اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ‘‘ (صحیح بخاری: 2985)

بتائیے کون احمق ہے جو ان دونوں چیزوں کا طلبگار نہ ہوگا ۔ اگر آپس میں رشتہ داری بھی قائم کریں تو بہت سی خارجی پریشانیوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

اونچی چھلانگ

رشتہ قائم کرنے والے والے دونوں گھرانوں کی مالی حیثیت اگر برابر ہو تو شادی کے بعد جوڑے میں موافقت آسان ہوجاتی ہے۔ مگر کئی لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر رشتے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اچھے رشتے کی خواہش تو ایک فطری بات ہے ۔ مگر جب اس میں میں طمع و لالچ کی ملاوٹ شامل ہوجائے تو ازدواجی زندگی میں میں سکون و راحت کی بجائے دکھ و پریشانی غالب آ جاتی ہے۔ خصوصاً جب بیٹے کے لئے اپنے سے بڑھ کر گھرانے کی تلاش ہو۔ البتہ بیٹی کے حیثیت سے بڑھ کر گھرانے کی تلاش میں کوئی حرج نہیں۔ بنگلہ دیش میں اسی نسبت سے ایک ضرب المثل مشہور ہے کہ ’’خوشحال زندگی کا راز یہ ہے کہ لڑکی اس گھر سے لا جو تجھ سے غریب ہوں اور اپنی لڑکی اس گھر میں بھیج جو تجھ سے امیر ہوں۔‘‘

ہر سمجھدار شخص اس ضرب المثل کی صداقت کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ ہاں اگر معاملہ اس کے برعکس ہو یعنی امیر گھرانے سے سے بہو لے آئے تو ہو سکتا ہے وہ آپ کو ناک چنے چبوائے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ یا کسی غریب گھرانے میں بیاہ دی تو ہو سکتا ہے کہ تنگدستی کے عالم میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے ۔ الا ماشاء اللہ

اچھے رشتے کا انتظار

اچھے رشتے کے انتظار میں میں بعض بیٹیوں کے بال سفید کر دیے جاتے ہیں کیونکہ اچھے رشتے کا معیار ہر ایک کا اپنا اپنا ہوتا ہے۔ جب شریعت کے معیار کو قبول نہ کریں گے تو اپنے حال پر چھوڑ دیے جائیں گے۔ پھر خاندان سے مدد کی امید کس منہ سے رکھتے ہیں؟ یہ تو یک طرفہ ٹریفک ہوئی کہ آپ خدا کی نہ مانیں اور خدا آپ کی ہر بات مانتا جائے۔ اکثر معاملات میں ہمارا یہی حال ہے۔ انصاف کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ خدا کے ساتھ بے انصافی کر کے پھر اسی سے انصاف کی امید ۔ آپ کے بے انصافی کے جواب میں خدا تو بے انصافی نہیں کرتا۔ البتہ مکافات عمل کا قانون یعنی ’’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘‘ تو معطل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا زندگی کے ہر معاملے میں انصاف پیدا کرو، پھر دیکھنا خدا اپنا یہ وعدہ پورا کرتا ہے کہ نہیں:

﴿ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا ﴾

’’ جو شخص اللہ سے ڈرے تو وہ اس کے لئے اس کے کام میں آسانی فرماتا ہے۔‘‘ ( سورۃ الطلاق: 4)

اپنی برادری کے رشتے کا انتظار

یہ بھی شادی میں تاخیر کا ایک بڑا سبب ہے۔ سب انسان آدم کی اولاد ہیں۔ قوموں اور برادریوں میں تقسیم کی غرض اللہ پاک نے شناخت و پہچان بتائی ہے ۔ رشتے کے معاملے میں ایک برادری کے فوائد سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، تاہم اس کی وجہ سے شادی میں بے جاتا خیر کرنا مستحسن فیصلہ نہیں۔ آپ کو تعجب ہوگا ہوگا کہ امریکہ میں میں اب مسلم بچوں کی شادیاں برادری اور قومیت کیا بلکہ غیر ہم وطن مسلمانوں سے ہو رہی ہیں۔ کیونکہ بچوں کی زبان مشترک یعنی انگلش ہوتی ہے تو زیادہ مشکل پیش نہیں آتی عموماً ایسی شادیاں والدین کو اپنا ہم وطن مناسب رشتہ نہ مل سکنے کے بعد ہوتی ہیں۔ نیز ان میں بچوں کی اپنی پسند کا بھی دخل ہوتا ہے۔ کم از کم ایسی شادیاں عیسائی لڑکیوں کے ساتھ شادی کرنے سے تو بدرجہا بہتر ہیں۔ جس کے نتیجے میں باپ کی غفلت سے بچے آدھے مسلمان اور آدھے عیسائی بن جاتے ہیں۔ پھر بڑے ہو کر ان کو ماں کا مادر پدر آزاد مذہب زیادہ اپیل کرتا ہے ۔ اس کے منہ پر طمانچہ بن جاتے ہیں۔ ایسا باپ قیامت کے روز خدا کو کیا منہ دکھائے گا کہ مسلمان کے نطفے سے ایک کافر نے جنم لیا۔ إنا لله وإنا إليه راجعون

بچی کی اعلی تعلیم

کئی ناسمجھ والدین بچی کی اعلیٰ تعلیم کی خاطر اچھے رشتے سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جب بیٹی کئی سال بعد اعلیٰ تعلیم مکمل کر لیتی ہے تو پھر خواہش ہوتی ہے کہ تعلیمی لحاظ سے رشتہ اس کے برابر کا ہو ۔ خوش قسمت ہیں وہ جن کو فوراً رشتہ مل جائے ورنہ ایسے رشتے کے انتظار میں تعلیم کے بعد مزید کئی سال بیت جاتے ہیں۔ کئی بچیوں کو آپ نے اسی انتظار میں جوانی ڈھلتے ہوئے بھی دیکھا ہوگا۔ بلکہ بعض تو کنواری پن میں ہی پوری زندگی گزار دیتی ہیں۔ بندہ ایسے ماں باپ سے پوچھے کہ بچی کو اس قدر اعلیٰ علیم دلانے کا تمہیں کیا فائدہ جبکہ اسے دوسرے گھر ہی سدھار جانا ہے ۔ اگر فائدہ اٹھائیں گے تو وہ اٹھائیں گے جنہیں مفت کی کمائی کی فیکٹری ہاتھ آگئی۔ اعلیٰ تعلیم کے خلاف ہم بھی نہیں مگر جس تعلیم کی خاطر اچھے رشتے سے ہاتھ دھونا پڑیں تو یہ کوئی سمجھداری والا سودا نہیں۔ دنیاوی تعلیم اور دولت سے اگر سکون میسر آتا تو امریکہ کے لوگ سب سے زیادہ سکون اور راحت میں ہوتے مگر ہمیں تو اس کے شواہد یہاں نظر نہیں آتے۔

دوسروں کے پوچھنے کا انتظار

ہمارے معاشرے میں اپنی بہن یا بیٹی کے رشتے کے لئے خود لڑکے یا لڑکے والوں سے ڈائریکٹ پوچھنے کو عار سمجھا جاتا ہے۔ اور اسی انتظار میں وقت گزرتا جاتا ہے کہ لڑکے والے ہم سے پوچھیں۔ جس کے نتیجے میں تاخیر ہو جاتی ہے، حالانکہ شریعت نے ہم پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی بلکہ اس کے برعکس ہمیں مثالیں ملتی ہیں۔ سورۃ القصص میں مذکور ہے کہ نبی شعیب نے نوجوان موسیٰ کے سامنے از خود اپنی بیٹی کا رشتہ تجویز کیا تھا۔ اسی طرح حضرت عمر کی بیٹی سیدہ حفصہ جب بیوہ ہو گئی تو حضرت عمر نے از خود اس کا رشتہ پہلے حضرت عثمان کو اور پھر ابوبکر صدیق کو پیش کیا تھا جو بعد میں نبی اکرمﷺ کی زوجیت میں آکر ام المومنین بن گئیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ بیٹی کے رشتے کے لئے خود بات نہ کرنا ماسوائے معاشرتی حجاب کے اور کچھ نہیں۔

بہن کی شادی پہلے

اکثر گھر والوں میں بیٹی کی شادی کو بیٹے پر ترجیح دی جاتی ہے چاہے بیٹا عمر میں بڑا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر والد کا سایہ سر سے اٹھ جائے تو پھر بھائی کے لیے ایک طرح کا ناممکن ہو جاتا ہے کہ رشتہ ملنے کے باوجود پہلے وہ شادی کرلے۔ یہ ترجیح رواجی اعتبار سے قابل فہم ہے اگرچہ شریعت کی طرف سے ایسی ترجیح کا کوئی حکم نہیں ۔وہاں تو حکم ہے جو بھی بالغ ہوجائے، استطاعت رکھتا ہو تو شادی کر کے اپنا نصف ایمان محفوظ کر لے۔ مگر جب کھلے طور پر پر دیکھا جا رہا ہوں کہ بہن کی خاطر بھائی کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے تو یہ اس کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔

مزید برآں اس شرعی حکم کی بجا آوری میں تاخیر کا وبال والدین پر بھی پڑ سکتا ہے۔ خدانخواستہ کوئی بچہ اگر پھسل کر گناہ کر بیٹھے تو قصور وار ماں باپ بھی ہوں گے ۔ بچے کی حرکت کا انہیں علم نہ بھی ہو کیونکہ وہ نیکی اور تقوی کے معاون بننے کی بجائے گناہ اور ان کے عدوان کے معاون بنے ہیں جبکہ حکم یہ ہے کہ

﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ﴾

’’اور تم نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اورگناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔‘‘ (سورۃ المائدۃ:2)

جہیز کی وجہ سے تاخیر

شادی بیاہ کے معاملے میں جو چیز بہت تکلیف دے بن چکی ہے وہ جہیز کا مسئلہ ہے جس کا شریعت میں سرے سے کوئی حکم ہی نہیں ۔یہ ہندوانہ رواج ہے جو ان کے ساتھ کئی صدیاں اکٹھے رہنے سے ہم میں بھی رچ بس گیا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ اسے ترک کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ہمیں صحابہ کرام کی ایک بھی شادی ایسی نہیں ملتی جس میں لڑکی والوں سے مطالبہ کیا گیا ہو ۔یہ ماں باپ کی خوشی اور ان کی حیثیت ہے کہ اپنی بیٹی کو رضاکارانہ طور پر جتنا چاہیں دیں۔ نہ دیں تو پھر بھی ان پر لازمی جز سمجھ کر اس کی تیاری کی وجہ سے بیٹی کی رخصتی میں تاخیر کرنا شریعت کے منشاء سے عدم واقفیت کی علامت ہے۔ کئی تو دلہا والوں کے مطالبے کے بغیر صرف ناک رکھنے کی خاطر یا بیٹی کو طعنوں سے بچانے کے لئے ڈھیروں جہیز بنانے میں لگے رہتے ہیں، جس سے شادی میں تاخیر بھی ہوتی ہے اور اس میں بے انتہا اسراف بھی کرتے ہیں۔ ایسے اسراف پر ثواب تو کیا الٹا گناہ ہوتا ہے اور اللہ پاک انہیں شیطان کا بھائی قرار دیتے ہیں۔

اگرچہ جہیز کا مطالبہ لڑکے والوں کی طرف سے ہو تو یہ پرلے درجے کی کمینگی ہے۔ اسلام نے ہمیشہ دینے والوں کی تعریف کی ہے اور مانگنے والوں کی مذمت۔ ہم لوگ گلیوں میں مانگنے والے فقیر کو تو ذلیل سمجھتے ہیں مگر بڑی بڑی کوٹھیوں اور مکانوں میں رہنے والے منگتوں کی تعظیم کرتے ہیں۔ کئی لوگ بڑی ڈھٹائی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بے غیرتی سے سے جہیز میں مختلف اشیاء کا مطالبہ کرتے ہیں مگر جب حق مہر دینے کا سوال اٹھتا ہے تو بھیگی بلی بن کر اپنے آپ کو شریعت کا پابند ثابت کرتے ہوئے بے بنیاد قسم کے شرعی حق مہر کا وردالاپتے ہیں۔ حالانکہ شریعت نے حق مار کی کوئی مقدار مقرر ہی نہیں کی جس سے دولہا میاں کی استطاعت پر چھوڑ دیا گیا ہو۔

ایک اہم نکتہ

آخر میں ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دلانا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہمارا ایمان ہے کہ کوئی بھی کام اللہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا، جس میں رشتہ ملنا بھی شامل ہے۔ ہم لاکھ کوشش کریں مگر جب اللہ چاہے گا تب رشتہ ہو گا۔ اللہ پاک نے فرما دیا ہے :

﴿وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ﴾ (سورة التكوير: 29)

’’تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ تعالی رب العالمین نہ چاہے۔‘ ‘

اور پھر اللہ پاک نے ہر کام کا وقت مقرر کر رکھا ہے ہے جیسا کہ فرمایا:

﴿قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا﴾

’’اللہ نے ہر شے کا ایک اندازہ،یعنی وقت مقرر کر رکھا ہے۔‘‘ (سورة الطلاق: 3)

میرے مربی شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ اپنے ترجمہ قرآن عزیز کے حاشیہ میں میں اس آیت کی مختصر سی تفسیر سادہ الفاظ میں یوں کرتے ہیں : ’’ البتہ ہر چیز کا اندازہ ہے جب وقت آئے گا تب کام ہوگا۔‘‘

لہٰذا والدین توکل کے اس پہلو کو نظر انداز کر کے رشتے میں تاخیر کے سبب اپنی نیندیں حرام نہ کریں۔ دعا کے ساتھ ساتھ تاخیری اسباب سے بچتے ہوئے اپنی کوشش جاری رکھیں۔ وقت مقررہ پر اللہ ضرور مدد فرمائے گا۔ دعا ہے کہ اللہ پاک سب کے رشتے پر کرانے میں مدد فرمائے۔ آمین

٭٭٭

اہلیہ کو بتا کر جانا بہتر ہے

اہلیہ کو یہ بتلانا مستحسن ہے کہ آپ کہاں جا رہے ہیں؛قرآن مجید میں ہے:’’(سیدنا موسیٰ ) نے اپنے اہل خانہ سے کہا:ذرا ٹھہرو!میں نے آگ دیکھی ہے؛شاید کہ تمھارے لیے ایک آدھ انگارا لے آؤں یا اس آگ پر مجھے(راستے کے متعلق) کوئی رہ نمائی مل جائے۔‘‘ (سورۃ طہ:10)

عورت اور مرد کا زیور

بنی اسرائیل کے ایک زاہد کا قول ہے کہ عورت کی زینت حیا ہے اور دانا شخص کی زینت خاموشی ۔

(الصمت لابن ابی الدنيا: ص 263)

٭٭٭

تبصرہ کریں