رپورٹ سالانہ تربیتی کانفرنس۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

 دعوت وتبلیغ ہر امتی کی ذمہ داری ہے، مولانا حافظ محمد شریف احمد

 یہ تربیتی اجتماعات تذکیر و یاد دہانی کے لیے ہیں تاکہ ہم اس سے ایمان کی تجدید کریں۔ مولانا محمد ابراہیم میرپوری

 حلالہ کرانا دنیا وآخرت میں ذلت وخواری ہے۔ مولانا عبد الہادی

 دنیا میں بہترین جوڑی رسول کریمﷺ اور سیدہ خدیجہ کی ہے اور بدترین جوڑی ابو لہب اور اس کی بیوی کی ہے۔ ڈاکٹر صہیب حسن

 آپ اچھی تربیت کر کے اپنی اولاد کو باقیات الصالحات بنا سکتے ہیں۔ مولانا حفیظ اللہ خان المدنی

 ہم نے کسی کو قرض دینا ہے یا لینا ہے تو وہ لکھ لینا چاہیے، اہل وعیال کو بھی بتا دینا چاہیئے۔ قاری ذکاء اللہ سلیم

’’میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا ہے، تو اس کا گواہ رہ۔‘‘

عرفات کے میدان میں اس آیت کریمہ کا نزول ہوا۔

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ﴾ (سورۃ المائدہ: 3)

’’ آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔‘‘

دین اسلام مکمل دین ہو، خواہ تجارت ہو کہ سیاست، معاشرت ہو کہ معیشت ، اخلاق ہو کہ معاملات ، ہر اعتبار سے اس میں کسی اضافہ کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن وحدیث کے ترجمے ہمارے پاس موجود ہیں، ہم ان کو پڑھیں اور عمل کریں، ہم کتنی تبلیغ کیے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا:«لا تسودوا وجهي يوم القيامة» (سنن ابن ماجہ)

’’میرا چہرہ قیامت کے دن کالا مت کرو۔‘‘

ہر امت محمدی کی یہ ذمہ داری ہے کہ یہ ذمہ داری پوری کرے۔

پاکستان سے تشریف لائے ہوئے مخلص داعی اور اسکالر مولانا محمد شریف صاحب المدنی جامع مسجد اہل حدیث اولڈھم کے سالانہ تربیتی اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔

امیر مرکزی جمعیۃ اہل حدیث برطانیہ مولانا محمد ابراہیم میرپوری نے تربیتی اجتماع کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں 60 سال سے امامت وخطابت کے فرائض ادا کر رہا ہوں، مگر پھر بھی یہ تربیتی اجتماع تذکیر و یاد دہانی کے لیے ہیں تاکہ اس سے ایمان کی تجدید ہو سکے۔

صدر مجلس القضاء الاسلامی مولانا محمد عبد الہادی العمری نے ’طلاق وخلع اور فسخ ‘ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں جہاں مرد کو طلاق کا اختیار ہے وہیں عورت کو خلع کا اختیار ہے، کرسچنوں میں طلاق کا تصور نہیں تھا، اب انہوں نے اس کا اضافہ کیا ہے، طلاقوں کی کثرت کا ایک سبب ہم اپنی بیٹی کو ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں اور بہو کو دوسری آنکھ سے دیکھتے ہیں، ہمارا دوہرا معیار ہے، اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:«خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي»

’’تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہترین ہو اور میں اپنی بیوی کے ساتھ بہترین ہوں۔‘‘

سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 226 کی آیت میں کہا گیا کہ

جو لوگ اپنی بیویوں سے قسمیں کھائیں، ان کے لیے چار مہینے کی مدت ہے پھر اگر وہ لوٹ آئیں، تو اللہ تعالیٰ بھی بخشنے والا ہر بات ہے، ہمارے ہاں آٹھ دس سال چھوڑ دیتے ہیں، نہ ہی رجوع کرتے ہیں اور نہ ہی طلاق دے کر فارغ کرتے ہیں! طلاق کا مسئلہ بہت ہی نازک مسئلہ ہے۔

ہمیں چاہیے کہ متقی وپرہیزگار عالم سے مسئلہ دریافت کریں ورنہ عموماً حلالہ کا فتویٰ دے کر ہماری بیٹیوں بہنوں کی عزت تارتار کرتے ہیں اور دنیا وآخرت میں ذلت وخوار ی کا سبب بنتے ہیں۔

شریعہ کونسل لندن کے صدر مولانا ڈاکٹر صہیب حسن نے نکاح پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں میاں بیوی کا بہترین نمونہ سیدنا محمد ﷺ اور سیدہ خدیجہ ہیں اور بدترین نمونہ ابو لہب اور اس کی بیوی ام جمیل کا ہے۔اللہ پاک کا ارشاد ہے:

﴿ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴾ (سورۃ الروم: 21)

’’اور اس کی نشانیوں میں سے تمہاری ہی جنس کی بیویاں پیدا کرنا ہے تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور مہربانی قائم کر دی، یقیناً غوروفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔‘‘

اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لا نكاح إلا بولي و شاهدين»

’’نکاح ولی اور دو گواہوں کے بغیر منعقد نہیں ہوتا ۔‘‘

اللہ کے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر نکاح کا پیغام آئے اور لڑکے کا دین اور اس کے اخلاق اچھے ہوں تو آپ اس پیغام کو قبول کر لو، اگر نہ کرو گے تو زمین میں بہت بڑا فتنہ برپا ہو گا۔

نائب امیر مرکزی جمعیۃ اہل حدیث برطانیہ مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی نے ’تربیت اولاد ‘پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اولاد یقیناً ایک نعمت ہے جیسا کہ سورۂ کہف میں ارشاد ہوا:

﴿الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ﴾ (سورۃ الکہف: 46) ’’مال اور اولاد تو دنیا کی ہی زینت ہے۔‘‘

اور سورۂ توبہ میں ارشاد ہے: ﴿فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ﴾آپﷺ کو ان کے اموال و اولاد تعجب میں نہ ڈال دیں۔‘‘

آپ اچھی تربیت کرکے اپنی اولاد کو باقیات صالحات بنا سکتے ہیں اور اگر ایسا نہ کرو گے تو دنیا میں وبال جان اور قیامت میں عذاب الیم کا ذریعہ ہو گی!

یہاں کی آبادی میں مسلمان اقلیت ہی ہے اور جیل میں اکثریت ہے۔ آج ہماری اولاد چاروں طرف سے شیطان کے چنگل میں ہے، بچوں کی تربیت ہمیں ماں کے پیٹ سے کرنی چاہیئے جیسا کہ سیدنا ابراہیم نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی: ﴿رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ ’’اے اللہ! مجھے نیک اولاد بخش۔‘‘

آج ہمارے بچوں میں الحاد اور جنس پرستی آ رہی ہے۔ ماں باپ کا آپس میں اختلاف بھی بچوں کے بگاڑ کا سبب ہے، اس لیے والدین خود نیک بنیں اور اولاد کو بھی نیک بنائیں۔

امام و خطیب مسجد گرین لین برمنگھم، مولانا قاری ذکاء اللہ سلیم نے ’وصیت‘ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ….﴾(سورۃ النساء: 11)

’’اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیاده ہوں تو انہیں مال متروکہ کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے، اگر اس (میت) کی اولاد ہو، اور اگر اوﻻد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے، ہاں اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو پھر اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت (کی تکمیل) کے بعد ہیں جو مرنے والا کر گیا ہو یا ادائے قرض کے بعد، تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کون تمہیں نفع پہچانے میں زیاده قریب ہے، یہ حصے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کرده ہیں بے شک اللہ تعالیٰ پورے علم اور کامل حکمتوں واﻻ ہے۔‘‘

اللہ کے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی زندگی میں وصیت کرنا چاہتا ہو تو فوری عمل کرے، تین راتیں بھی ایسی نہ گزاریں۔

تو اس کی وصت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔ مغربی ممالک وصیت لکھنا بہت ہی ضرور ی ہے کیونکہ ان ممالک میں سولیٹیرز کے ذریعے جو وصیت لکھائی جاتی ہے، اس کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، بغیر سولیٹرز کے سادہ کاغذ پر ہم وصیت لکھ لیں تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، یہ کہنا کہ میرے بچے دیندار ہیں، انہیں احکام ومسائل معلوم ہیں اور وہ شریعت کے مطابق ہی تقسیم کر لیں گے، کہنا غیر ضروری ان پر اعتماد کرنا ہے، سیدنا یعقوب کے بچوں میں حسد آ سکتا ہے تو ہم کس کھیت کے مولی؟ دوسری بات یہ ہے کہ آپ کس سے کچھ قرض لیتے ہیں تو وہ اہل وعیال کو بتا دیں۔ عموماً ہمارے معاشرہ میں قرض دیتے ہیں یا لیتے ہیں مگر اس کو لکھن لینے کا رواج نہی ہے اور انتقال کے بعد اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مرحوم کا مجھ پر اتنا قرض تھا تو وہ کہے گا ، اس کا کیا ثبوت ہے؟ چونکہ ہم لکھائی پڑھائی نہیں کرتے ہیں، اس لیے اس کا ثبوت کہاں سے لائیں گے، جس کے نتیجے میں ہمارے مرحوم کو عذاب دیا جائے گا، اس لیے کسی کو قرضہ دینا ہے یا کسی کا قرضہ لینا ہے تو وہ زندگی میں صاف صاف اہل وعیال کو بتا دینا چاہیے اور اس کی لکھائی پڑھائی کر لینی چاہیے۔ قرض سے متعلق آیت کو آیت دین کہا جاتا ہے اور اس کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ یہ قرآن حکیم کی سب سے بڑی آیت ہے! مگر ہم لکھائی پڑھائی سے اتنی ہی زیادہ غفلت برتتے ہیں!

ایک ضروری بات یہ ہے کہ اگر کسی کو وصیت کرنا ہو تو وہ کر سکتے ہیں مگر وہ وارث کے لیے وصیت نہ کریں کیونکہ اللہ عزوجل نے ان کے لیے حصہ مقرر کیا ہے۔ حدیث میں کہا گیا ہے: «لا وصية لوارث»

کہ وارث کے لیے وصیت نہیں ہے، جنازہ کس مسجد میں پڑھایا جائے؟ کون پڑھائے؟ کہاں تدفین عمل میں آئے؟ فاتحہ، سوم، ساتواں، دسواں، چالیسواں، برسی ان تمام چیزوں سے وصیت میں منع کر دیا جائے، اس لیے کہ یہ بدعات اور ہندوانہ رسومات ہیں، اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ عموماً ایسی چیزوں کی وصیت نہیں کی جاتی، مرنے کے بعد جہلاء کی اکثریت شرک وبدعات کے کام کر کے اہل توحید وسنت کو دلی صدمہ پہنچائے۔

بانی مسجد شبلی بریڈ فورڈ مولانا منیر قاسم نے ’صداقت‘ پر اور خطیب گلاسگو مولانا محمد ادریس مدنی نے ’اتحاد واتفاق‘ اور برادر صہیب حسن مدنی گلاسگو نے بہترین خطاب کیے۔ ناظم اعلیٰ حافظ حبیب الرحمٰن جہلمی، حافظ شریف اللہ شاہد، ابو حمنہ قاری ذکاء اللہ سلیم اور عبد الباسط العمری نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ حافظ حذیفہ یاسر، حافظ عطاء اللہ کانفرنس میں تلاوت قرآن سے کانفرنس کو منور کیا۔ جناب اقبال بھٹی، مولانا شفیق الرحمٰن شاہین ، مولانا محمد عبد الکریم ثاقب مدنی المعروف برادر ثاقب، حافظ ذکریا سعود، مولانا شعیب احمد میرپوری، مولانا عبد الستار عاصم، مولانا جمال انور مدنی، برادر حافظ حذیفہ شفیق الرحمٰن مدنی، حافظ عمار عبد الہادی انجینئر، مولانا محمود الحسن اسد، اور دیگر علمائے کرام نے شرکت کی۔ منتظمین مسجد نے مہمانوں کو دل کھول کر خدمت کی اور مہمانوں سے دعائیں لیں۔ یہ کانفرنس ظہر سے قبل 12 بجے سے شروع ہو ئی اور رات 8 بجے تک جاری رہی۔ بعد ازاں مولانا حافظ شریف احمد مدنی اور ڈاکٹر صہیب حسن لندن نے علمائے کرام سے خصوصی طور پر تربیتی نقطۂ نظر سے خطاب کیا اور بعد طعام اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔ اللہ کریم منتظمین و حاضرین اور ععلمائے کرام اور قائدین کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

تبصرہ کریں