رسول اللہ ﷺ کا ہنسنا ، مسکرانا اور مزاح فرمانا ( قسط 51)۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

صُلائے عام ہے علمائے تخریج داں کے لیے!

ذیل میں جو روایات درج ہیں ان کے حوالہ جات نہیں مل سکے اس لیے قارئین صراط مستقیم برمنگھم کے وہ علماء اور دانش ور جو تخریج کے فن سے واقف ہیں ان سے گزارش ہے کہ ان کی تخریج فرما کر راقم الحروف کو واٹس ایپ فرما دیں تو اس موضوع پر ایک کتاب جو اسی سال 2022ء میں زیور طباعت سے آراستہ وپیراستہ ہو کر منظر عام پر آ ئے گی اور ان علماء کرام و احباب کے اسماء گرامی شکریہ کے ساتھ اس کتاب میں شائع کیے جائیں گے۔ ان شاء اللہ

رقم الحروف کا واٹس ایپ نمبر یہ ہے: ڈاکٹر عبد الرب ثاقب : 07306457000

رسول اکرمﷺ نے مسکراتے ہوئے سرمبارک آگے کیا وہ حضرت معمر بن عبد اللہ تھے!

10ھ نبیﷺ حجۃ الوداع سے فارغ ہوئے تو موئے مبارک تراشنے کی ضرورت ہوئی۔ نبیﷺ نے موئے تراشی کےلیے ایک جاں نثار کو یاد فرمایا جو اس سفر میں آپ کے ہمرکاب تھے۔ جب اس خوش نصیب کو حضورﷺ کے یاد فرمانے کا علم ہوا تو یہ شاداں فرحاں خدمت اقدس میں حاضر ہوئے نبیﷺ نے سرمبارک ان کے آگے کیا اور مسکراتے ہوئے مزاحاً فرمایا: بھائی تم کو اللہ کے رسولﷺ نے اپنے سر پر اس حال میں قابو دیا ہے کہ تمہارے ہاتھ میں استرا ہے۔ اس خوش نصیب نے عرض کیا ، میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر احسان ہے کہ اس نے مجھ جیسے عاجز کو آپﷺ کے بال مبارک تراشنے کی سعادت بخشی یہ سعادت مند جس کے آگے رحمت عالمﷺ نے مسکراتے ہوئے سرمبارک کیا، سیدنا معمر بن عبد اللہ تھے۔

یہ سردار جس کے اسلام لانے پر رحمت عالمﷺ کے لبوں پر مسکراہٹ آئی ، سیدنا حویطب تھے!

8 ہجری کو جب اسلامی فوج مکہ مکرمہ میں داخل ہوئی، تو قریش مکہ کے بعض رئیس جان کے خوف سے کہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ (انہیں کیا خبر کہ یہ انقلاب عام انقلابوں کی طرح خونی نہیں بلکہ عفو و درگزر امن و سلامتی کا انقلاب تھا) جان کے خوف سے بھاگ جانے والوں میں حضرت حویطب بھی تھے، ان کا اپنا بیان ہے کہ بدر کی جنگ میں جب میں مشرکین کی طرف سے تھا، میں نے دیکھا آسمان سے فرشتے اتر رہے ہیں، میں نے سمجھا کہ محمد ﷺ کی حفاظت کی گئی ہے۔ اسی دن اسلام کی عظمت میرے دل میں گھر کر گئی۔ ہم شکست کھا کر کے آئے تو میں نے کئی مرتبہ اسلام لانے کی خواہش کی مگر بعض سرداروں نے کہا اگر اس عمر میں اپنے آباؤ اجداد کا دین چھوڑ کر محمدﷺ کی پیروی کرو گے تو اس سے بڑھ کر تمہاری ذلت کیا ہو گی۔ حضرت حویطب فرماتے ہیں لوگوں کے کہنے پر یہ جھوٹی خاندانی عزت میرے اور حق کے رستہ میں رکاوٹ بنی رہی، جب نبی ﷺمکہ میں داخل ہوئے تو میں اپنے بیوی بچوں کو ایک جگہ چھوڑ کر خود بھاگ گیا اور عوف کے باغ میں جا کر پناہ لے لی، اللہ کی رحمت کہ میری قسمت میں ہدایت لکھی تھی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو میرا جاہلیت کا دوست اور رسول اللہﷺ کا بہت ہی قریبی دوست سیدنا ابوذر غفاری میری طرف آرہے ہیں، میں نے ان کو دیکھا تو بھاگ کھڑا ہوا ۔ سیدنا ابوذر نے مجھے پیچھے سے پکارا کہ رک جاؤ، کیوں بھاگتے ہو، میں نے آواز دی کہ جان کے خوف سے کہ کہیں تمهارے نبیﷺ میرے قتل کا حکم نہ دے دیں۔ سیدنا ابوذر نے کہاتم مامون ہو، میں رک گیا، اس کے بعد آپ مجھے ساتھ لے کر نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے جا کر سلام کیا اور ساتھ ہی کہا، میں اسلام اور آپﷺ کی صداقت کا اعتراف کرتا ہوں، جب میں مسلمان ہوا تو رخ انور پر بشاشت پھیل گئی۔

ارباب سیر کا بیان ہے کہ سیدنا حویطب ایک امیر آدی تھے، نبی ﷺ نے اس سے کچھ قرض طلب کیا، تو انہوں نے فورا چالیس ہزار درہم پیش کر دیئے۔ یہ سردار جس کے اسلام لانے پر رحمت عالم ﷺ کے لبوں پر مسکراہٹ آئی ،سیدنا حویطب تھے۔ ان کی عمر اس وقت 80 برس کے قریب تھی۔ اس عمر میں ان کا اسلام لانا واقعی آپﷺ کے لئے مسرت کا باعث تھا، کیونکہ اس عمر میں پہنچ کر کم ہی لوگ اپنا دین بدلتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوں۔ آمین

رسول اکرمﷺ یہ دیکھ کر مسکرا پڑے اور فرمایا، اچھا کیا تم نے اے ابو عبد اللہ!

دامن احد میں گھمسان کی جنگ شروع ہو چکی تھی اسلام کی خاطر لڑنے والے اور آباؤ اجداد کے دین پر مرنے والے پوری سرگرمی سے میدان میں کود پڑے تھے۔ اسی اثنا میں ایک زره پوش کافر بڑی تیزی سے مشہور بدری صحابی سیدنا حاطب کے غلام سیدنا سعد بن خولہ بدری کی طرف بڑھا اور نعرہ لگاتے ہوئے اور یہ نعرہ لگاتے ہوئے (انا ابن او عمیر)

میں او عمیر کا بیٹا ہوں یہ کہتے ہی حضرت سعد پر ایسا زبردست وار کیا کہ آپ شہید ہو گئے۔ قریب ہی حضور ﷺ کے ایک جاں نثار حضرت رشید فارسی کھڑے تھے، یہ فوراً اس شخص کی طرف بڑھے اور نعرہ لگایا ، و انا غلام الفارسی، میں فارسی کا غلام ہوں اور ساتھ ہی تلوار کا ایسا زبردست وار کیا کہ ابن او عمیر کی زرہ کاٹتا ہوا شانے میں اتر گیا اور اس کے ساتھ ہی وہ وہیں تڑپ تڑپ کر جنم واصل ہو گیا۔

رسالت ماب ﷺ قریب کھڑے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے آپﷺ نے حضرت رشید سے فرمایا ، اے رشید تو نے یہ کیوں نہ کہا:

خذها وأنا الغلام أنصارى

اتنے میں او عمیر کو خاک و خون میں تڑپا ہوا دیکھ کر ایک مشرک تیزی سے ادھر بڑھا، ابھی وہ حضرت رشید پر وار کرنا چاہتا تھا کہ آپ نے باز کی طرح جھپٹ کر ایسا وار کیا کہ اس کا سر دو ٹکڑے ہو گیا اور ساتھ نعرہ بلند کیا۔

وأانا الغلام انصاری

’’لے میں ہوں غلام انصاری۔ ‘‘

رسول اللہﷺ یہ دیکھ کر مسکرا پڑے اور فرمایا:

أحسنت يا أبا عبد الله

’’اچھا کیا تو نے اے ابو عبد اللہ ۔‘‘

سیدنا علی کا جواب سن کر رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام ہنس پڑے

ایک دن رسول اللہﷺ چند جانثاروں کے ساتھ تشریف فرما تھے، کسی نے کچھ کجھوریں تحفہ بھیجیں، نبیﷺ نے حکم فرما دیا، کھاؤ اور خود بھی کھانے لگے، اس محفل میں سیدنا علی بھی تھے جو ان سب سے کم عمر تھے، نبیﷺ نے کھجوریں کھا کر گھٹلیاں سیدنا علی کے سامنے رکھنا شروع کر دیں، صحابہ کرام نے دیکھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا جب کھانے سے فارغ ہو گئے تو رحمت عالمﷺ نے فرمایا: بتاؤ، سب سے زیادہ کھجوریں کس نے کھائی ہیں، صحابہ نے عرض کیا، اللہ کے رسولﷺ جس کے آگے زیادہ گھٹلیاں ہیں، سیدنا علی بڑے ذہین ثابت ہوئے فوراً بولے ، نہیں جنہوں نے گھٹلیاں تک نہیں چھوڑیں وہ سب سے زیادہ کھا گئے ہیں۔ سیدنا علی کا جواب سن کر سب ہنس پڑے۔

آپﷺ نے فرمایا، بتاؤ تمہارے ماموں کی بہن تمہاری کیا لگی!

ایک دفعہ بطور مزاح رسولﷺ نے ایک صاحب سے پوچھا، بتاؤ تو تمہارے ماموں کی بہن تمہاری کیا لگی؟ وہ صاحب سر جھکا کرسوچنے لگے، اللہ کے رسولﷺ نے مسکرا کر فرمایا، ہوش کرو، کیا تجھے اپنی ماں بھول گئی وہی تو تیرے ماموں کی بہن ہے۔

سیدہ ام قیسؓ کی بدحواسی کا علم ہو تو آپﷺ نے مسکرا دیا!

سیدہ ام قیس کا لڑکا فوت ہو گیا تو وہ اس قدر بدحواس ہو گئیں کہ بیٹے کو غسل دینے والے سے کہنے لگیں، میرے بچے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دینا ورنہ یہ مر جائے گا۔ آنحضرتﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو مسکرائے اور ان کو طول عمر کی دعا دی۔ چنانچہ انہوں نے تمام عورتوں سے زیادہ عمر پائی۔

رسول اکرمﷺ نے سیدنا زید بن ثابت کو دیکھا تو مسکرا پڑے!

5 ہجری میں جب غزوہ خندق پیش آیا تو سیدنا زید بن ثابت نے بڑی سرگرمی سے اس حصہ لیا نبیﷺنے سیدنا زید کو خندق سے مٹی نکالتا دیکھا تو چہرہ مبارک خوشی سے چمک اٹھا اور زبان اقدس سے ارشاد فرمایا کہ اچھا لڑکا ہے، سیدنا زید کو خندق کی کھدائی میں کام کرتے کرتے نیند آ گئی، سیدہ عمارہ انصاری نے دیکھا تو ان کے ہتھیار اتار دیے۔ یہ اتنی گہری نیند سوئے ہوئے تھے کہ ان کو مطلق علم نہ ہوا، رسول اللہﷺ نے دیکھا تو مسکرا پڑے، پھر ان کو جگاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’قم یا ابا رقاد‘‘ اے سونے والے! اٹھو، حضورﷺ کی آواز سنتے ہی ان کی آنکھ کھل گئی پھر حضورﷺ نے صحابہ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا، کسی سے اس طرح مذاق نہ کیا کرو۔

رسول اکرمﷺ کے مزاح فرمانے کا ایک انداز!

عطا کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عباس سے پوچھا، کیا رسول اکرمﷺ مذاق فرمایا کرتے تھے؟

سیدنا عبد اللہ بن عباس نے فرمایا: ہاں۔

اس نے پوچھا: آپ کا مذاق کس انداز کا ہوا کرتا تھا؟

سیدنا ابن عباس نے کہا: آپﷺ کا مذاق اس انداز کا ہوا کرتا تھا کہ ایک دن آپﷺ نے اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کو لمبا چوڑا لباس زیب تن کرا دیا اور فرمایا:

“البسيه وأحمدي وجرى منه ذيلا كذيل العروس.”

’’اسے پہن لو اور (اللہ کا) شکر ادا کرو اوراسے دلہن کے لباس کی طرح کھینچتی ہوئی چلو!‘‘

٭٭٭

سنت رسول کی تعظیم

ابو قلابہ ﷫ فرماتے ہیں:

’’جب تم کسی آدمی سے سنت رسول بیان کرو اور وہ کہے کہ اسے چھوڑو، اور اللہ کی کتاب قرآن لاؤ، تو تم جان لو کہ وہ گمراہ ہے۔‘‘

(طبقات ابن سعد :7؍184)

تبصرہ کریں