رسول اللہﷺ کا پیغام سفید بالوں والوں کے نام۔ محمد عبد الرحیم خرم جامعی

بالوں کی سفیدی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے کیا بوڑھے، کیا جوان، کیا بچے، ہر ایک کے سر میں چاندنی نظر آتی ہے،لوگ سفید بالوں کو لے کر بڑے پریشان نظر آتے ہیں ،ڈاکٹروں ، حکیموں کے در کی خاک چھانتے رہتے ہیں جس نے جو مشورہ دیا اس پر تجربات شروع کردیتے ہیں، سفید بالوں کو لے کر بعض حکیموں کی زندگی کی چاندنی ہو جاتی ہے جو بڑے بیباک دعوے کرتے ہوئے نئے نئے تیل ایجاد کرتے رہتے ہیں،اور بھاری قیمتوں میں فروخت کرتے ہیں ، نہ جانے کس کو فائدہ ہوا؟ لیکن یہ بات مشاہدے میں آئی کہ جس کے بال کسی بھی سبب سے سفید ہوئے ہیں وہ پھر دوبارہ کالے نہ ہوسکے، بزرگی سے قبل سفید ہونے والے بالوں کی سفیدی کو چھپانے کے لئے لوگ مختلف قسم کی ڈائی کرواتے رہتے ہیں اور مختلف نسخے استعمال کرتے ہیں ۔

سفید بالوں کو لے کر لوگ شرم محسوس کرتے ہیں۔سر اور داڑھی میں سفید بال پیدا ہونے کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں جیسے بزرگوں میں عمر کے سبب ، نوجوانوں اور بچوں میں دائمی نزلہ و زکام کے سبب بال سفید ہوجاتے ہیں اور حکماء ہی بعض طبی اسباب کو بہتر جانتے ہیں ، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سفید بال تجربات و پختگی کی دلیل ہیں اسی لئے بعض بزرگوں کو آپ نے یہ جملہ کہتے سنا ہوگا کہ

’’ چپ ہی یہ بال سفید نہیں ہوگئے ‘‘اسی طرح بعض بزرگوں کوبطور طعنہ کہا جاتا ہے کہ

’’ ذرا سفید بالوں کا تو خیال کرو ‘‘۔ بالوں کی سفید ی پر شعرائے کرام نے پرلطف گفتگو کی ہے ۔

ایک شاعر نے کہا :

اپنے بالوں کی سفیدی پہ سہم جاتا ہوں

زندگی …! اب تیری رفتار سے ڈر لگتا ہے

ایک اور شاعر نے کہا:

جب اس کی زلف پر پہلا سفید بال آیا

تب اس کو پہلی ملاقات کا خیال آیا

ایک اور شاعر نے کہا:

سفید بال غم ہجر میں ہوئے ورنہ

اٹھارہ سال کا بوڑھا کہیں پہ دیکھا ہے؟

بالوں کی سفید ی کے سبب عوام الناس کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اسلامی شریعت میں ہر پریشانی کا علاج ہے اکثر لوگ شرعی تعلیمات سے وابستگی نہ رہنے کے سبب حیران اور پریشان ہوجاتے ہیں اس ضمن میں ہم شرعی دلائل کی روشنی میں سفید بالوں کی حقیقت کو آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کریں گے ۔

سفید بالوں کی فضیلت:

ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ سفید بالوں کی حفاظت کرتا رہے کیونکہ یہ اس کے لئے نیکیوں میں اضافے اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہیں حدیث شریف میں ہے سیدنا عمرو بن شعیب بیان فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

’’ سفید بالوں کو نہ اکھیڑو کیونکہ بڑھاپا ( بالوں کا سفید ہوجانا) مسلمان کے لئے نور ہے اور جو شخص حالت اسلام میں بڑھاپے کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالی اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹادیتا ہے اور اس کا درجہ بلند کردیتا ہے۔‘‘ (سنن ابوداؤد:4202؛ صحیح ابن حبان: 2985؛ جامع ترمذی:2821)

معلوم ہوا کہ سفیدکو اکھاڑ دینا اپنے آپ کو نیکی سے محروم کر لینا ہے۔

اسی طرح سفید بالوں کی فضیلت میں ایک حدیث یوں ذکر کی گئی ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمرو بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«الشَیِّبُ نُوْرُالمؤمنِ، لا یشیب رجل شیبة فى الإسلام إلا کانت له بکل شیبة حسنة ورفع بها درجة»

’’ سفید بال مؤمن کا نور ہیں ، اسلام میں جس آدمی کے بال سفید ہوجاتے ہیں تو ہر ایسے بال کی وجہ سے اس کو ایک نیکی ملتی ہے اور اس کا ایک درجہ بلند ہوتا ہے۔‘‘ (السلسلۃ الصحیحۃ:1976 )

ہر مسلمان مؤمن کو یہ بات اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ سفید بال مؤمن کا نور ہیں اسی لئے اس کی حفاظت کرنی چاہئے جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے :

«هو نور المؤمن »

’’ وہ مؤمن کا نور ہے۔‘‘ ( سنن ابن ماجہ:3721 )

سفید بالوں کو اکھیڑنے کی ممانعت:

بہت سے لوگوں کو آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ اپنے سر اور داڑھی کے سفید بالوں کو اکھیڑ دیتے ہیں اور جب تک وہ سفید بال اکھیڑا نہ جائے انہیں سکون حاصل نہیں ہوتا کسی بھی مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے سفید بالوں کو ہر گز نہ اکھاڑے۔ایک حدیث میں ہے سیدنا طلق بن حبیب فرماتے ہیں :

«أن حجاماأخذ من شارب النبی ﷺ فرأی شیبة فی لحیته، فأبوی إلیها، فأخذ النبیﷺ بیده. وقال:من شاب شیبة فی الإسلام کانت له نور یوم القیامة»

’’( ایک دفعہ کی بات ہے) حجام نے نبی ﷺکی مونچھ کو چھانٹا اس نے نبی ﷺ کی داڑھی میں ایک سفید بال دیکھا تو اس کو کاٹنا چاہا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور ارشاد فرمایا :’’ جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو تو قیامت کے دن اس کے لئے ایک نور ہو گا۔‘‘ ( جامع ترمذی:1635؛ مصنف ابن ابی شیبۃ:26472 )

اسی طرح سیدنا عمرو بن شعیب اپنے پر دادا محترم( سیدنا عبد اللہ بن عمرو ) سے روایت کرتے ہیں:

’’ رسول اللہ ﷺ نے سفید بال اکھیڑنے سے منع فرمایا۔ ‘‘(سنن نسائی:5071 )

یہ حدیث مبارکہ داڑھی اور سر کے سفید بال باقی رکھنے اور ان کو زائل نہ کرنے پر دلالت کرتی ہے۔

اسی طرح ایک اور روایت میں مذکور ہے سیدنا عمرو بن شعیب اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں :

«أن النبی ﷺ نهى عن نتف الشیب، وقال: إنه من نُوْرِ الإِسْلَام»

’’ نبی ﷺ نے سفید بال اکھیڑنے سے منع فرمایا اور فرمایا یہ اسلام کا نور ہے۔‘‘ (سنن کبری للبیہقی: 4833 ، حسن لغیرہ)

سفید با ل اکھاڑنے سے متعلق بعض صحابہ و تابعین وغیرہ کا یہ نقطہ نظر تھا کہ انہوں نے اس ضمن میں وعیدوں کا تذکرہ کیا ہے حدیث شریف میں ہے سیدنا قتادہ ، سیدنا اَنس بن مالک کے متعلق بیان فرماتے ہیں:

«کان یکره نتف الرجل الشعرة البیضاء من رأسه ولحیته»

’’ وہ سفید بالوں کے اکھیڑنے کو مکروہ سمجھتے تھے چاہے وہ بال داڑھی کے ہوں کہ سر کے ۔‘‘ ( صحیح مسلم: 6077؛ مصنف ابن ابی شیبۃ:26473)

سیدنا قتادہ بیان فرماتے ہیں کہ سیدنا سعید بن جبیر نے ارشادفرمایا :

«عُذِّبَ رَجُلٌ فِیْ نَتْفِ الشَّیْبِ »

’’ سفید بال اکھیڑنے کی وجہ سے آدمی عذاب دیا جائے گا۔‘‘ ( مصنف ابن ابی شیبۃ:26474 )

اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا حمید اعرج﷫ فرماتے ہیں، فرماتے ہیں کہ سیدنا مجاہد﷫ فرمایا کرتے تھے:

«لا تَنْتِفُوْالشِّیْبَ فَاِنَّه نُوْرٌ یَوْمَ القِیَامَةِ»

’’ تم سفید بالوں کو مت اکھیڑو بیشک یہ قیامت کے دن نور ہوگا-‘‘ ( مصنف ابن ابی شیبۃ:26475 )

سفید بالوں کا اکھیڑنا نبی کو ناپسند تھا:

بعض ایسے امور ہیں جو رسول اللہ ﷺ کو ناپسند تھے امت کو بھی ان امور سے اجتناب حاصل کرنا چاہئے ان میں سے ایک سفید بالوں کا اکھیڑنا بھی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے، سیدنا عبد اللہ بن مسعود بیان فرماتے ہیں اللہ کے نبی ﷺ ’’صفرہ‘‘ کو ناپسند کرتے تھے یعنی خلوق کو ( مراد ایسی خوشبو جس میں زرد رنگ ہو)اور سفید بالوں کے اکھاڑنے کو ناپسند فرماتے ،اور شلوار یا تہبند یا چادر وغیرہ لٹکانے کو ناپسند فرماتے ، اور ایڑھیوں کے نشانات کا اور زینت و خوبصورتی کو ظاہر کرنے کو اور محرم کے علاوہ بچوں کے فساد کو ناپسند فرماتے تھے۔‘‘ (سنن الکبری للبیہقی:15692 ، ضعیف)

سفید بالوں کو رنگین کرنا:

بہت سے لوگوں کو دیکھا گیا کہ وہ بالوں کی سفیدی کو چھپانے کے لئے مختلف قسم کے جائز و ناجائز وسائل کا استعمال کرتے ہیں ، ہر مسلمان کو چاہئے کہ اہل علم ودانش علمائے اکرام سے جائز و ناجائز کے سلسلے میں رہنمائی حاصل کر لیں کیونکہ کوئی بھی حرام عمل کے سبب ہماری عبادات غارت ہوسکتی ہیں اور یہ حرام عمل نیکیوں کو ضائع کردے گا اور اللہ کو ناراض کر دے گا ۔ بعض لوگ بالوں کو مہندی سے رنگین کرتے ہیں تو بعض لوگ مختلف قسم کے کمیکلس کا استعمال کرتے ہوئے اپنے بالوں کو مختلف رنگوں میں رنگ دیتے ہیں اور بعض لوگ سیاہ یعنی کالا خضاب استعمال کر تے ہیں۔اس ضمن میں عوام کی رہنمائی کرنا ضروری ہے اس ضمن میں بعض احادیث مبارکہ وراد ہوئی ہیں۔

بالوں کو رنگنا خضاب کہلاتا ہے اور اس کی مختلف صورتیں اور قسمیں ہیں :

(1) پہلی صورت یہ ہے کہ سفید بالوں کو رنگین کرنے کاحکم رسول اللہ ﷺ نے دیا ہے حدیث شریف میں ہے، سیدنا ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ پڑھابے (بالوں کی سفیدی) کو (خضاب کے ذریعہ) بدل ڈالو، یہودیوں کی مشابہت نہ کرو۔‘‘ (جامع ترمذی: 1752 ،حسن صحیح)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

’’ یہودی و نصرانی خضاب نہیں لگاتے لہٰذا تم ان کے خلاف کرو ( تم خضاب لگاؤ)۔‘‘ (صحیح بخاری:5899؛ صحیح مسلم : 2103 )

(2) دوسری صورت یہ ہے کہ مہندی کا خضاب (رنگ) لگانا یا مہندی میں کوئی چیز ملاکر سفید بالوں کو رنگین کرنا بھی جائز ہے۔

(3) تیسری صورت یہ ہے کہ زرد خضاب لگانا بھی جائز ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ دباغت دئے ہوئے ،بغیر بال کے چمڑے کا جوتا پہنتے تھے اور اپنی ریش مبارکہ( داڑھی)پر ’’وَرْسٌ‘‘( ایک گھاس جو یمن کے علاقے میں ہوتی تھی) اور زعفران کے ذریعہ زرد رنگ لگاتے تھے۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 4210 ، حسن؛ سنن نسائی :5246 ؛ فتح الباری:10؍354 )

یہ وہ جائز صورتیں تھیں جس کی تفصیل بیان کردی گئی۔اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں ہے سیدنا ابوذر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

’’ تحقیق سب سے بہتر چیز جس سے یہ سفید بال رنگے جاتے ہیں ’’مہندی ‘‘اور’’ کتم ‘‘ ہے۔‘‘ ( سنن ابو داؤد: 4205 ، صحیح)

بالوں کے رنگنے میں صحابہ کا عمل:

بعض صحابہ کرام اپنے بالوں کو مختلف رنگوں سے رنگا کرتے تھے، بالوں کو رنگین کرنے کا سلسلہ انتہائی قدیم ہے یہ کوئی نئی تخلیق نہیں ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ سیدنا ابن سیرین ﷫ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا أنس بن مالک سے سوال کیا : کیا رسول اللہ ﷺ نے بالوں کو رنگ لگایا تھا ؟ انہوں نے کہا : آپ رنگنے کے مرحلے تک نہیں پہنچے تھے ، کہا : آپ کی داڑہی میں چند ہی بال سفید تھے۔ میں نے کہا : کیا سیدنا ابو بکر صدیق رنگتے تھے ؟ انہوں نے کہا :’’ ہاں ! وہ مہندی اور کتم سے رنگتے تھے۔‘‘ ( صحیح مسلم :6074 )

اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں ہے سیدنا ابن سیرین ﷫بیان فرماتے ہیں کہ ( انہوں کہاکہ) سیدنا ا نس سے پوچھا گیا کہ: کیا رسول اللہ ﷺ نے (کبھی) بالوں کو رنگا تھا ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے سفید بال نہیں دیکھے تھے سوائے ( چند ایک کے) ابن ادریس نے کہا گویا وہ ان کی بہت ہی کم تعداد بتا رہے تھے، جبکہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر مہندی اورکتم( کو ملا کر ان) سے رنگتے تھے۔‘‘ (صحیح مسلم :6073 )

خادم رسول سیدنا انس بن مالک بیان فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ ( مدینہ منورہ) تشریف لائے تو سیدنا ابو بکر کے سوااور کوئی آپ کے اصحاب میں ایسا نہیں تھا جس کے بال سفید ہو رہے ہوں اس لئے آپ نے مہندی اور’’ وسمہ‘‘ کا خضاب استعمال کیا تھا۔‘‘(صحیح بخاری:3919 )

کالا خضاب کا استعمال:

بہت سے لوگ اپنے بالوں کو سیاہ کرنے کے لئے کالا یعنی سیاہ،Black خضاب استعمال کرتے ہیں اور کالی ڈائی لگاتے ہیں جس کے سبب ان کے بال کالے اور سیاہ دکھائی دیتے ہیں اور جب یہی خضاب ہلکا پڑجاتا ہے تو ان کے بال انتہائی معیوب نظر آتے ہیں،اور انہیں جلدی سے پھر ڈائی کروانا پڑتا ہے، حالانکہ کالے خضاب کی سیاہی بالوں کی سیاہی سے میل نہیں کھاتی ،بالوں کی سیاہی کو اللہ تعالی نے بڑی خوبصورتی بخشی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ۔ہر مسلمان کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ بالوں کو سیاہ رنگ ،سیاہ خضاب ، سیاہ ڈائی لگانے سے رسول اللہ ﷺ نے سختی کے ساتھ منع کیا ہے ، آپ کے منع کرنے کی حقیقت کو اللہ بہتر جانے لیکن بعض احادیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ شاید یہ فعل یہودیوں کا رہا ہوگا اسی لئے آپ نے یہود کی مخالفت کی ہے اسی لئے مسلمان کو ہر اس عمل سے باز آجانا چاہئے جس سے رسول اللہﷺ نے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ سیدنا جابر بن عبد اللہ روایت فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن سیدنا ابو بکر صدیق کے والد سیدنا ابو قحافہ کو لایا گیا ان کے سر اور داڑھی کے بال بالکل سفید تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

’’ اس کا رنگ بدلو اور کالے رنگ سے بچو۔‘‘ ( صحیح مسلم : 5508 ، 5509)

ایک اور حدیث شریف میں سیدنا ابوبکر کے والد کے بالوں کی تشبیہ اس طرح دی گئی :

’’ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :

’’ انہیں کسی رنگ سے بدل دو اور سیاہی سے بچو۔‘‘ (سنن ابو داؤد:4204 )

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے سیدنا عبد اللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’ ’ ایسی قومیں آخری زمانے میں آئیں گی جو کبوتر کے پپوٹوں کی طرح کالے رنگ کا خضاب کریں گی، وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائیں گے۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 4212 ، سندہ صحیح)

اللہ کا فضل اور کالے بال:

بالوں کا سفید ہونا یہ معروف بات ہے لیکن بعض ایسے عمر رسیدہ افراد بھی ہوتے ہیں درازی عمر کے باوجود ان کے بال سفید نہیں ہوتے بلکہ کالے ہی رہتے ہیں اس زمانے میں ایسے افرادشاذ ہی پائے جاتے ہیں لیکن تاریخ میں ایسے بعض صحابہ کی مثالیں موجود ہیں جن کے حق میں نبی ﷺ کی دعائیں تھیں ان ہی دعاؤں کی بدولت طوالت عمری کے باوجود ان کے بال سیا ہ ہی رہے اس ضمن میں بعض احادیث مروی ہیں جس کا ذکر کرنا مناسب ہوگا۔

سیدنا ابوزید بن أخطب بیان فرماتے ہیں کہ

مَسَحَ رَسُوْلُ اللّٰہَ ﷺ یَدَہُ عَلَی وَجْهِیْ وَ دَعَالِیْ، قَالَ عَزْرَةُ: اَنَّهُ عَاشَ مِائَةُ وَعِشْرِیْن سَنَةً وَلَیْسَ فِیْ رَأْسِهِ اِلَّاشَعَرَاتٍ بِیْضٌ»

’’رسول اللہ ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے چہرے پر پھیرا اور میرے لئے دعافرمائی ، عزرہ کہتے ہیں: وہ ایک سوبیس(120 ) سال تک پہنچے پھر بھی ان کے سر کے صرف چند بال سفید تھے۔‘‘

( جامع ترمذی:3629 ،حدیث حسن)

سیدنا ابن نہیک بیان فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمرو بن اخطب ابوزید انصاری کو فرماتے ہوئے سنا کہ (ایک دن کی بات ہے ) رسول اللہ ﷺ نے پانی طلب کیا، تو میں آپ کے پاس ایک پیالہ لایا ، اس میں ایک بال تھا ، میں نے اس کو نکال دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ جَمِّلْهُ» ’’ اے اللہ اس کو خوبصورت فرمادے ۔‘‘ فرماتے ہیں کہ ان کو چورانوے(94 ) سال کی عمر میں دیکھا کہ اس وقت بھی ان کے سر میں سفید بال نہیں تھے۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبۃ: 32416 ؛ جامع ترمذی: 3629 ؛ مسند احمد:341 )

اسی طرح ایک اور روایت میں منقول ہے کہ سیدنا عمرو بن الحمق فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دودھ پلایا ، آپ نے فرمایا کہ

«اَللّٰهُمَّ اَمْتِعْهُ شَبَابَهُ. فَلَقَدْ أَتَتْ عَلَیْهِ ثَمَانُوْنَ سَنَةً لَایَرَی شِعْرَهُ بَیْضَاءَ»

’’ اے اللہ! اس کو اس جوانی سے فائدہ پہنچا ، چنانچہ ان کی عمر اسّی (80 )سال ہوگئی اور ان کے سر میں ایک سفید بال بھی نہ تھا۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ: 32417)

سیدنا ابراہیم کے سفید بال:

سفید بال کا معاملہ انبیاء کو بھی لاحق تھا ، سیدنا ابرہیم کے سر میں بھی سفید بال ہوگئے تھے لیکن یہ اللہ کی جانب سے عطاء کردہ وقار تھا جس کا ذکر حدیث شریف میں کیا گیاہے، سیدنا سعید بن المسیب﷫ فرماتے ہیں کہ

«أول الناس أضاف الضیف. و أول الناس قص شاربه وقلم أظفاره واستحدَّ. و أول الناس اختتن. و أول الناس رأی الشیب. فقال: یارب ماھذا؟ قال: الوقار!۔ قال:رب زدنی وقارا»

’’سیدنا ابراہیم سب سے پہلے شخص تھے جنہوں نے مہمان کی ضیافت کی، اور سب سے پہلے شخص تھے جنہوں نے مونچھ کاٹی اور اپنے ناخنوں کو کاٹا اور شرمگاہ کے بال صاف کئے، اور پہلے شخص تھے جنہوں نے ختنہ کیا ،اور پہلے شخص تھے جنہوں نے سفید بال دیکھے ۔تو کہنے لگے : اے میرے پروردگار! یہ کیا چیز ہے ؟اللہ رب العزت نے فرمایا :

’’یہ عزت ووقار ہے!!! آپ نے عرض کیا:

’’پروردگار ! میرے وقار میں اضافہ فرما۔‘‘

( مصنف ابن ابی شیبہ:26996 ، 32491؛ مؤطا امام مالک:4 ؛ ابن عدی:1511 )

رسول اللہﷺ کا سر مبارک:

رسول اللہ ﷺ انتہائی خوبصورت تھے بہت سی احادیث میں اس کا تذکرہ موجود ہے سیدنا انس بیان فرماتے ہیں :

’’رسول اللہ ﷺ نہ بہت لمبے قدوالے تھے نہ بہت ناٹے، اور نہ بہت زیادہ سفید ،نہ بالکل گندم گوں، آپ کے سر کے بال نہ گھنگرالے تھے نہ بالکل سیدھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیسویں سال کے شروع میں مبعوث فرمایا ،پھر مکہ میں آپ دس برس رہے اور مدینہ میں دس برس اور ساٹھویں برس کے شروع میں اللہ نے آپ کو وفات دی اور آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں رہے۔‘‘ (صحیح بخاری:3548؛ جامع ترمذی:3623 ،صحیح)

ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا اَنس بن مالک بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے بالوں کو رنگ نہیں لگایا آپ کی داڑھی اور کنپٹیوں میں کچھ سفیدی تھی اور سر مبارک میں چند بال سفید تھے۔‘‘ (صحیح بخاری:3550،3547 ؛ صحیح مسلم :6077 )

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے سیدنا سماک بن حرب بیان فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن سمرہ سے سنا ،ان سے نبی کریمﷺ کے بالوں کے متعلق سوال کیا گیا تھا ، انہوں نے کہا : جب آپ سر مبارک کو تیل لگاتے تھے تو سفید بال نظر نہیں آتے تھے اور جب تیل نہیں لگاتے تھے تو نظر آتے تھے۔‘‘ ( صحیح مسلم:6083 )

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے سیدنا محمد بن سیرین﷫ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک سے سوال کیا :کیا رسول اللہ ﷺ نے بالوں کا رنگا تھا ؟ انہوں نے کہا : آپ کے بہت ہی کم سفید بال دیکھے گئے ۔‘‘ ( صحیح مسلم : 6075 )

اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا اَنس بن مالک سے نبی کریمﷺکے خضاب کے متعلق سوال کیا گیاتو احول نے کہا کہ نبی ﷺ کو خضاب کی نوبت ہی نہیں آئی تھی اگر میں آپ کی داڑھی کے سفید بال گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔‘‘ (صحیح بخاری:5895؛ 5894 )

سیدنا جحیفہ سے عرض کیا گیا کہ آپ رسول اللہﷺ کی صفت بیان کریں ، انہوں نے کہا : آپ سفید رنگ کے تھے ، کچھ بال سفید ہوگئے تھے۔۔‘‘ (صحیح بخاری:3544 )

سفید و کالے بال کی تشبیہ:

سفید بالو ں اورکالے بالوں کو بطور تشبیہ کے بھی ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے سیدنا عبد اللہ بن مسعود بیان فرماتے ہیں کہ ایک خیمے میں ہم تقریباً 40آدمی نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے،آپ نے ہم سے فرمایا :

’’ کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تم جنتیوں کی چوتھائی رہو ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں، آپ نے فرمایا :’’ کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تم جنتیوں کی تہائی رہو؟‘‘ لوگوں نے کہا : جی ہاں، آپ نے فرمایا :’’ کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تم جنتیوں کے آدھے رہو ؟ جنت میں صرف مسلمان ہی جائیگا اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کالے بیل کے چمڑے پر سفید بال یا سرخ بیل کے چمڑے پر کالا بال۔‘‘ ( جامع ترمذی:2547 ، حسن)

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ اس دن لوگوں میں تم ( اس سے زیادہ)نہیں ہوگے مگر( ایسے) جس طرح ایک سفید بال جو سیاہ بیل پر ہوتا ہے یا سیاہ بال جو سفید بیل پر ہوتا ہے۔‘‘ ( صحیح مسلم :532، 533 )

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’ تمام امتوں میں میری امت اتنی ہی تعداد میں ہوگی جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری:6259 )

اللہ تعالی ہم سب کو شریعت کی راہ پر چلائے،ہر چھوٹے اور بڑے معاملے میں شریعت سے رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔( آمین)

تبصرہ کریں