رسول اللہ ﷺکا پیغام حاملین قرآن کے نام۔محمد عبد الرحیم خرم عمری جامعی

رمضان المبارک کے مہینے میں الله تعالیٰ نے قرآن مجید کو سیدنا جبرئیل کے ذریعہ رسول الله ﷺ کے قلبِ اطہر پرنازل فرمایا ، جس کی تکمیل 23 سالہ دورِ نبوت میں ہوئی ،قرآن مجید انسانیت کی رہنمائی وہدایت کے لئے نازل کیا گیا ہے، یہ الله سبحانہ وتعالیٰ کافضل اور شکر واحسان ہے کہ اس نے مسلم امت کو حاملین قرآن ہونے کا شرف بخشا ہے، یہ عظیم اعزاز کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کا بوجھ بھی ہے، اس بوجھ کو ملت اسلامی کا ہرفرداٹھائے گا کسی کو چھٹکارا نہیں۔ مسلمان جو حاملین قرآن ہیں، ان کا فریضہ ہے کہ اس کو پڑھیں، اس پر غور وتدبر کریں اور اس پرعمل کریں، اپنے آپ پر اس کو نافذ کر کے قرآن کا عملی نمونہ بنیں اور دیگر اقوام و ملل تک اس کا پیغام پہنچائیں، یہی ذمہ داری شارع قرآن رسول الله ﷺ نے ادا کی ، آپ کے بعد آپ کے صحابہ نے ادا کی اور قیامت تک ملت کا ہر فرد یہی ذمہ داری ادا کرے گا۔ اس کا مکمل فائدہ ملت ہی کو حاصل ہوگا۔ اگر حاملین قرآن نے اپنی ذمہ داریوں سے روگردانی کی تو وہ ذلیل و رسوا کر دئیے جائیں گے، بزدل بنادئے جائیں گے، اغیار کا خوف ان کے دلوں میں ڈال دیا جائے گا ، یہ پراثر انقلاب آفریں کلام قوم وملت کے لئے بے اثر ہوجائے گا۔ وہ حاملین قرآن تو رہیں گے لیکن ان میں روح و جان نہیں رہے گی جیسے فی زمانہ ہماری زندگیاں ہیں۔

قرآن مجید کے پڑھنے سے دلوں کو سکون ملتا ہے اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے الله سبحانہ وتعالیٰ نے ارشادفرمایا:

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا ﴾ (سورۃ الانفال: 2)

’’در حقیقت مومن وہ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر کانپ اٹھتے ہیں جب اللہ کی آیات ان پر پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے ۔‘‘

لیکن امت مسلمہ نے قرآن سے ایمان بڑھانے کے بجائے ناچ گانے، سیٹیاں بجانا اور قوالی و غزلیات کی محفلوں سے اپنے دلوں کو سکون پہنچانا شروع کر دیا ہے، اسی لئے اب قرآن مجید ان کے دل پر اثرانداز نہیں ہورہا ہے۔

قرآن مجید کا اثر انسان پر ایسا ہوتا ہے کہ اس پر خوف خدا طاری ہوجاتا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسونکل جاتے ہیں، چاہے قرآن کے سننے والے مسلمان ہوں کہ غیر مسلم ہوں، ہر سننے والے پر قرآن اثر انداز ہوتا ہے، جب مسلمانوں کا قافلہ ہجرت کر کے سرزمین حبشہ کو پہنچا اور شاہ حبشہ نجاشی کے دربار میں سیدنا جعفر بن ابی طالب نے سورہ مریم پڑھ کر سنائی تو حبشہ کا بادشاہ نجاشی رونے لگا، اتنا رویا کہ اس کی داڑھی بھیگ گئی کیونکہ اسے حق سمجھ میں آ چکا تھا، یہی بادشاہ جب وفات پایا تو رسول الله ﷺ نے اس کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی، اسی طرح جب سیدنا عمر نے اپنی بہن کی زبانی قرآن مجید سنا تو ان کے دل پر اس کا بڑا اثر پڑا اور آنکھ سے آنسونکل گئے اور انہیں حق کی تفہیم ہوئی۔ اسی طرح مشرکین کے سفیر عقبہ بن ربیعہ نے رسول الله ﷺ سے مذاکرات کئے اس کے جواب میں رسول الله ﷺ نے اسے سورہ فصلت کی آیات پڑھ کر سنایا تو وہ اس قدر متاثر ہوا کہ کچھ جواب دئے بغیر اٹھ کر چلا گیا اور سرداران قریش سے کہا کہ تمہیں میرا مشورہ ہے کہ محمد کو اس کے حال پر چھوڑ دو، واللہ! قرآن نہ شاعری ہے اور نہ کہانت ہے۔‘‘ اسی طرح جب سیدنا ابوبکر صدیق قرآن مجید کی بآواز بلند تلاوت کرتے تومشرکین مکہ کی عورتیں، بچے سننے کے لئے ہجوم لگا دیتے۔ اسی لئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

﴿وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ﴾ (سورۃ المائدۃ: 83)

’’اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو اس کے رسول کی طرف نازل ہوا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ شناسی کے اثر سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے ہیں اور وہ پکار اٹھتے ہیں: اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ۔‘‘

اسی لئے قرآن کاسننا عبادت بھی ہے اور دعوت تبلیغ کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ ہم اپنے برادران وطن کو ایسی محفلوں میں مدعو کریں اور عمده تلاوت کرنے والے قاری حضرات کے ذریعہ انہیں قرآن سنائیں ، یہ قرآن زبان جاننے والے اور زبان نہ جاننے والے ہر ایک پر اپنا اثر دکھاتا ہے۔ امت نے اس پہلو کو فراموش کردیا ہے، آج بھی بعض مسلم ممالک میں اس طرح کی روحانی مجلسیں قائم ہوتی ہیں، جس کے سبب عوام الناس میں قرآن کے سننے، پڑھنے اور سمجھے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس میں ایک واقعہ ذکر کیا جاتا ہے کہ مصر کے فرمانروا جمال عبدالناصر جب روس کا دورہ کیا تو امراء ونظماء اور وزراؤں نے اسے کمیونزم اختیار کرنے کی دعوت دی اور اسلام کی کمزوری کا ذکر کیا اور کہا کہ اسلام کے پاس ہے کیا؟ سن کر وہ بڑا نادم ہوا اور اس کے اندر احساس پیدا ہوا۔ جب دوسری مرتبہ اسے روس جانے کا موقع ملا تو اس نے قاری عبد الباسط ﷫ کو اپنے ساتھ لے گیا ، اور سارے امراء ونظماء اور وزرائے روس کے سامنے تلاوت قرآن کی تلاوت فرمائی ، قرآن سن کر سب حیرت زدہ رہ گئے اور اشکبار ہوئے۔ جب تلاوت مکمل ہوئی تو کہنے لگے کہ ہمیں یہ تو سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا پڑھا گیا ہے لیکن اس بات کا یقین ضرور ہوا ہے کہ ایک خدا ہے اور اس کے پیغام میں بہت اثر ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس روایت فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول الله ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے رات خواب میں دیکھا کہ بادل سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں کےلپ میں لے رہے ہیں کوئی کم لیتا ہے کوئی زیادہ !سیدنا ابوبکر نے عرض کیا: یا رسول الله ﷺ ! میرے والد آپ پر قربان ! واللہ! مجھے اس خواب کی تعبیر بیان کرنے کی اجازت دیجئے۔ آپﷺنے ارشاد فرمایا: اچھا، بتاؤ۔ سیدنا ابوبکر نے کہا: بادل تو اسلام ہے اور بادل سے ٹپکنے والا گھی اور شہد سے مراد قرآن مجید کی حلاوت اور شیرینی ہے اور کم یا زیادہ حاصل کرنیوالے سے مراد قرآن مجید کا کم یازیادہ یاد کرنا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم :5928)

جہاد کی بڑی وسیع تعریف ہے، ان سب میں سب سے بڑا جہادیعنی جہادا کبر قرآن مجید کے پیغام کو انسانیت تک پہنچادینا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا:

﴿فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا ﴾ (سورۃ الفرقان: 52)

’’(اے نبی) کافروں کی باتوں کو نہ مانو اور اس قرآن کے ذریعے ان کے خلاف بڑا جہاد کرو۔‘‘

قرآن کوئی ہتھیار نہیں ہے بلکہ وہ پیغام امن ہے، وہ پیغام رُشد و ہدایت ہے، اسی لئے مسلمان کا فریضہ ہے کہ قرآن کے پیغام کو غیروں تک پہنچائیں، یہی کام ہمارے ملک میں نہیں ہورہا ہے۔ کئی دینی جماعتیں ہیں، مدارس و ادارے ہیں لیکن برادران وطن تک ان کی زبانوں میں تراجم کے ساتھ قرآن کی اشاعت کا فریضہ اس انداز میں ادا نہیں کیا جارہا ہے جس طرح اس کا حق ہے، وہ سرعت و تیزی نہیں ہے اسی لئے آج غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں، ہندوستان میں بسنے والے ہر مسلمان کو یہ جاننا ضروری ہے کہ ایک سو کروڑ لوگوں تک قرآن کا پیغام ہمیں پہنچانا ہے ورنہ اللہ ہمیں نہیں بخشے گا۔ اغیار کی مسلم دشمنی اس بات کا سبب بھی ہے کہ ہم نے ان لوگوں تک قرآن کا پیغام نہیں پہنچایا۔ یہ بڑی بدنصیبی ہے مسلمانوں کی کہ اپنالباس، اپنے عمدہ و معیاری غذائیں غیرمسلموں تک پہنچا دئے، انھیں حلیم وہریسں، بریانی و شیروانی کا عادی تو بنا دیالیکن ان تک اللہ کے پیغام کونہیں پہنچایا۔ اگر ہم قرآن کا پیغام ان تک نہیں پہنچائیں گے تو نفرتیں، کدورتیں اور دشمنیاں وغلط فہمیاں اور بڑھیں گی۔

قرآن مجید کے پیغام اور اس کی تعلیمات کو پھیلنے سے کوئی بھی طاقت روک نہیں سکتی ، یہ الله تعالیٰ کا عہد ہے۔ الله تعالی نے ارشادفرمایا:

﴿لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ﴾ (سورۃ حم السجد: 42)

’’باطل نہ آگے سے اس قرآن پر حملہ آور ہوسکتا ہے اور نہ پیچھے سے ، یہ نازل کردہ ہے اس کی طرف سے جوحکمت والا ہے اور تعریف کے لائق ہے۔‘‘

آج ساری دنیائے کفر چاہے وہ یہودی ہوں یا نصاری یا شوشلسٹ ہوں یا کمیونسٹ سب کے سب اپنے اپنے ممالک میں قرآن پر پابندی لگا رہے ہیں اور قرآن کے متعلق غلط فہمیاں پیدا کررہے ہیں، ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ کامیاب ہو جائیں گے؟ ہرگز نہیں! الله کی قسم !وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ایسے میں مسلم ممالک کا فریضہ ہے کہ وہ پوری طاقت کے ساتھ قرآن کے پیغام کو ان ممالک تک پہنچائیں لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلامی ممالک میں سوائے سعودی عرب کے کوئی بھی قرآن کی اشاعت کا کام نہیں کر رہا ہے، سعودی حکمت نے قرآن مجید کی اشاعت کا پریس قائم کیا اور دنیا کی 38 سے زائد زبانوں میں اس کی اعلیٰ معیار پر اشاعت کر رہا ہے اور قرآن مجید کوان ممالک میں مفت تقسیم کیا جارہا ہے یہ کام ہرمسلمان ملک وادارے کو کرنا چاہئے۔

مسلمانوں کا عروج قرآن مجید کوتھا منے کی وجہ سے ہے اور مسلمانوں کا زوال وتباہی قرآن مجید کو چھوڑنے کی وجہ سے ہے کیونکہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«إن اللهَ يَرفعُ بهذا الكِتابِ أقْواماً ويَضَعُ به آخَرِينَ»

’’بے شک اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن مجید ) کے ذریعہ بعض لوگوں کو غلبہ اور عروج عطا فرماتا ہے اور بعض لوگوں کو ذلیل و رسوا کرتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم :1897)

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:

”یقیناً اس قرآن کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سراتمہارے ہاتھ میں ۔ اسے مضبوطی سے تھامے رکھنا، اور اسے تھامنے کے بعد کبھی ہلاک ہوں گے نہ گمراہ ہوں گے۔‘‘ (صحیح الجامع الصغیر للطبرانی:34)

اسی طرح ایک اور حدیث میں رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:”میں تمہارے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر ان پرعمل کرو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوں گے ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت۔‘‘ (حاکم ام الجامع الصغير:2937)

ہم مسلمانوں کو اپنے عروج وزوال کی تاریخ پرغورکرنا ہے جب تک ہم قرآن تھامے رہے عروج پر ہے اور جب ہم نے قرآن چھوڑ دیا تو روبہ زوال ہوئے۔ اسی لئے شاعرمشرق اقبال نے کہا تھا:

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر

اورتم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر

دنیا کی زندگی میں بھی باعزت جینا ہے اور دنیا سے رخصت ہونے کے بعد قبر کی زندگی میں بھی آرام و سکون حاصل کرنا ہے۔ ان دونوں زندگیوں کی کامیابی کے لئے قرآن مجید کو تھامنا اور اس پرعمل کرنا ضروری ہے، قبر کے تین سوالوں کے جوابات قرآن مجید کے پڑھنے اور اس پرعمل کرنے کے سبب دئیےجائیں گے، جس مسلمان نے نہ قرآن کو پڑھا اور نہ سمجھا اور نہ اس پرعمل کیا اس کے لئے سوالات کا یہ مرحلہ مشکل ہو جائے گا۔

سیدنا براء بن عازب روایت کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا:

”قبر میں مومن آدمی کے پاس دوفرشتے آتے ہیں، وہ اسے بٹھادیتے ہیں اور پوچھتے ہیں، تیرارب کون ہے؟ وہ کہتا ہے:”میرارب اللہ ہے‘‘ پھر وہ پوچھتے ہیں : ’’تیرا دین کونسا ہے؟‘‘ وہ کہتا ہے: ’’ میرا دین اسلام ہے‘‘ پھر وہ پوچھتے ہیں :”تمہارے در میان جوشخص نبی بنا کر بھیجا گیا اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ وہ جواب دیتا ہے: ’’ وہ اللہ کے رسول ﷺہیں“ فرشتے پوچھتے ہیں: ” تمہیں یہ ساری باتیں کیسے معلوم ہوئیں؟‘‘ وہ آدمی کہتا ہے:”میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔‘‘ (سنن ابوداؤد:3979)

سب سے بہترین تعلیم قرآن مجید کی ہے اور سب سے بہترین معلم قرآن مجید کا ہے اور سب سے بہترین طالب علم قرآن سیکھنے والا ہے، سیدنا عثمان سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«خَيرُكُم من تعلَّمَ القرآنَ وعلَّمَهُ»

’’تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور قرآن سکھائے۔“ (صحیح بخاری:5027)

قرآن مجید سیکھنے والوں پر الله تعالیٰ سکینت نازل فرماتے ہیں، ان پر الله کی رحمت سایہ فگن ہوتی ہے، فرشتے ان کے اردگرد احتراماً کھڑے ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا ذکر فخریہ طور پر فرشتوں میں کرتا ہے۔ قرآن مجید کاعلم سیکھنا دنیا میں خیر و برکت کا باعث ہے، قرآن مجید کا علم تمام عبادات سے افضل ہے، زمین و آسمان کی مخلوقات قرآن کا علم سیکھنے والے کے حق میں مغفرت کی دعائیں کرتی ہیں، قرآن مجید کا طالب علم مجاہد فی سبیل اللہ ہے اسی لئے قرآن مجید سیکھنے والوں کا احترام و اکرام کرنے کی وصیت ونصیحت رسول اللہﷺ نے فرمائی ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللهﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’تمہارے پاس لوگ علم حاصل کرنے کے لئے آئیں گے جب انہیں دیکھو تو رسول اللهﷺ کی وصیت پرعمل کرتے ہوئے مبارکباددینا۔ ( مرحبا مرحبا کہنا) اور انہیں تلقین کرنا۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)

لیکن افسوس صد افسوس کہ ملت اسلامیہ نے قرآن کی تعلیم کو نظر انداز کردیا، اب یہ تعلیم غریبوں و مساکین کی حد تک محدود ہوکر رہ گئی وہ بھی ایسے غریب لوگ جن کا دین کی جانب اشتیاق ہے ورنہ امت کا ذہن وفکر انگریزی تعلیم کی جانب موڑ دیا گیا، قرآن کی تعلیم کو امت حقیر نظروں سے دیکھنے لگی ۔ امت کا خوش حال طبقہ اپنی اولادکو بڑے بڑے کانونٹ میں تعلیم دلاتا ہے، لیکن حافظ قرآن بنانا نہیں چاہتا اور انہیں قرآن سکھانے کی فرصت نہیں ہے۔ یہ ایک سچی حقیقت ہے کہ قرآن مجید علوم وفنون کا خزانہ ہے، عموماً ہم مسلمان قرآن کوصرف تبرک و تقدس کی کتاب سمجھ کر پڑھتے ہیں، حالانکہ قرآن مجید کا تبرک وتقدس اپنی جگہ مسلم ہے لیکن بحیثیت حامل قرآن ہونے کے اس سے علوم وفنون کا استنباط کرنا ہم پرفرض ہے، قرآن مجید علوم وفنون کا سرچشمہ ہے، بقوم امام ابن تیمیہ﷫ کے الله سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں 365 علوم بیان فرمائے ہیں۔‘‘

صحابہ کرام ، تابعین وتبع تابعین اور ان کے بعد آنے والے محققین نے قرآن مجید سے کئی ایک علوم کا استنباط کیا ہے،قرآن مجید میں سائنس و ٹیکنالوجی کا علم ہے جو ہر زمانے میں ترقی پذیر رہا، اگر یہ کہا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہوگا کہ علوم سائنس کا سرچشمہ قرآن مجید ہی رہا بعض علوم جو قرآن مجید میں بیان کئے گئے ہیں، اس کا سرسری جائزہ اس طرح ہے، قرآن مجید میں انسانیت کی رہنمائی کے لئے احکام و مسائل کا علم ہے۔ حلال وحرام کا علم ہے۔ قرآن مجید میں اخلاقیات کا علم ہے، قرآن مجید میں معاشرت و معاشرتی اصلاحات کا علم ہے قرآن مجید میں علم حساب یعنی اعداد و ارقام کا علم ہے، جس میں اکائی سے لیکر ہزاروں کی گنتی بیان کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں تمام اعضائے انسانی کا علم ہے۔ قرآن مجید میں القاب و کنیت کا علم ہے، قرآن مجید میں انبیاء ورسل اور اقوام وملل، قبائل وغزوات کی تاریخ کاعلم ہے، قرآن مجید میں اوقات کا علم ہے۔ قرآن مجید میں ایام و مہینوں وسال کا علم ہے۔ قرآن مجید میں انسان وحیوان، پرندے، چرند، تخلیق کائنات ومختلف مخلوقات جیسے ملائکہ ، شیاطین و جن کا علم ہے، قرآن مجید میں جمادات کا علم ہے۔ قرآن مجید میں جرائم اور ان کے سد باب کا علم ہے۔ قرآن مجید میں حیوانات کا علم ہے۔ قرآن مجید میں رنگوں کا علم ہے، قرآن مجید میں شخصیات کا علم ہے، قرآن مجید میں صنعت و حرفت کا علم ہے۔ قرآن مجید میں اموال کا علم ہے، قرآن مجید میں معدنیات کا علم ہے،قرآن مجید میں نباتات کا علم ہے، قرآن مجید میں جنت اور اس کے مستحقین کا علم ہے۔ قرآن مجید میں جہنم اور اس کے حقداروں کاعلم ہے۔ قرآن مجید میں عالم برزخ کا علم ہے ۔ قرآن مجید میں الله سبحانہ وتعالیٰ کی ربوبیت ، الوهیت اور اس کے اسماء و صفات کا علم ہے۔ قرآن مجید میں معبودان باطل کا علم ہے ۔ قرآن مجید میں عدل و انصاف و مساوات کا علم ہے۔ قرآن مجید میں حقوق و معاملات کا علم ہے۔ عظیم محقق ومصنف مولانا ابوالبرکات محمد عبداللہ حیدر آبادی متوفی 1918ء نے علوم قرآن پربعض رسائل مرتب کئے ہیں جن کے نام اس طرح ہیں:

1۔ علم الأمر من القرآن

2۔ علم النبي من القرآن

3۔علم الاستفهام من القرآن

4۔علم النداء من القرآن

5۔علم التمني من القرآن

5۔علم الترجي من القرآن

6۔علم الدعاء من القرآن

7۔ علم وجوه مخاطبات القرآن

اس کے علاوہ بعض مصنفین نے تبویب القرآن ، لغات القرآن قصص القرآن جیسے علوم کا احاطہ کیا ہے۔ اس بات کا تذکرہ اس لئے ضروری سمجھا گیا تا کہ خصوصاً مسلمانوں کو اور عموماً عام انسانیت کو اس بات کا علم ہوجائے کہ قرآن مجید علوم و فنون کا سرچشمہ ہے اس سے انسان جس قسم کا فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے، اسے رہنمائی مل جائے گی ، ہر علم کا آغاز قرآن مجید ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم نے قرآن سے علوم وفنون کی تحقیق کو نظر انداز کر دیا ہے۔ دیگر مذاہب کے لوگ اپنی اپنی کتابوں کو مقدس ہی سمجھتے ہیں لیکن ان کی کتابوں میں علوم وفنون کا تذکرہ نہیں ہے۔ اسی لئے مسلمان کو کوتاہ نظری سے نکل کر وسعت نظری اختیار کرنی چاہئے۔

قرآن مجید عبرت وموعظت اور باعث شفاء ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ﴾ (سورۃ یونس: 57)

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کے لئے شفاء آئی ہے۔‘‘

اور ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۙ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا﴾ (سورۃ بنی اسرائیل: 82)

’’اور ہم قرآن میں جو کچھ نازل کرتے ہیں وہ مؤمنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کے لئے یہ قرآن خسارے کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔‘‘

انسانیت کا ہر علاج قرآن مجید ہے۔ اور مسلمانوں کی فلاح قرآن مجید میں ہے۔

اس وقت مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کا خوف ہے، سنگھ پریوار اور اس کا ٹولہ ہر روز مسلمانوں کو خوفزدہ کر رہا ہے اور مسلمان ان سے یقیناً خوف زدہ بھی ہیں، آخر اس کا علاج کیا ہے؟ کس طرح ہم اس خوف سے باہرنکل سکتے ہیں؟ امن کی زندگی ہمیں کس طرح میسر آسکتی ہے؟ یہ ایک حقیقی بات ہے کہ ہماری ساری تدبیریں ماند پڑ جائیں گی، لیکن اللہ کی تدبیر ہی غالب آکر رہے گی، مسلمانوں کے تمام مسائل کا علاج قرآن مجید میں ہے، جب مسلمان قرآن مجید کاپابند ہو جائے گا۔ تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کفار اور مسلمانوں کے درمیان ایک پردہ حائل کر دیں گے جس کے سبب کوئی بھی کافر مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :

﴿ وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا ﴾ (سورۃ الاسراء: 45)

’’(اے نبی) جب آپ قرآن پڑھتے ہیں ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ایک پوشیده حجاب ڈال دیتے ہیں۔‘‘

مسلمان اس الٰہی حکمت عملی کو سمجھیں اور قرآن کے پابند بن جائیں، اسی میں ان کے لئے راہِ نجات ہے۔ ہم خود قرآن مجید کے پابند بنیں اور اپنی اولاد کو اور اہل وعیال کو بھی پابند بنائیں، روزانہ ہر صبح ہمارے گھروں میں تلاوت قرآن مجید ہو، اپنی اولاد کو پارٹ ٹائم پافل ٹائم وقت دے کر حافظ قرآن بنائیں۔ الله تعالیٰ ہم سب کو قرآن مجید کا پابند بنائے۔ (آمین)

٭٭٭

سیدنا مسلمہ بن عبدالملک رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

المـــرأة الصالحـــة خير للمـــؤمن من العينيــن، واليديــــن، والرجليــــن.

’’نیک عورت مومن کے لیے آنکھوں، ہاتھوں اور پاؤں سے زیادہ قیمتی ہے!‘‘

(أحسن المحاسن للثعالبي: 368)

تبصرہ کریں