رسول اللہﷺ کا پیغام دودھ پینے والوں کے نام۔محمد عبد الرحیم خرم عمری جامعی

دودھ کا معنی و مفہوم:’’دودھ‘‘در اصل ’’پراکرت‘‘ زبان کا لفظ ہے جو اردو میں مستعمل ہے ، سنسکرت میں اس کو ’’ ڈگدھ‘‘ کہتے ہیں۔

عربی زبان میں سے ’’لبن‘‘ کہتے ہیں جو قرآن و سنت میں ذکر کیا گیا ہے جس کا معنی ہے ’’ بچہ جننے والی مادہ(حیوان یا انسان) کے جسم کا سفید رنگ کا سیال مادہ جو بچے کی خوراک کے لئے ایک خاص مدت تک چھاتی یا تھنو ںمیں پیدا ہوتا رہتا ہے۔‘‘

اسی دودھ سے بہت سے جملے اور محاورے بنائے گئے ہیں جیسے کہتے ہیں:

’’دودھ کی دھار، دودھ کا جوش ، دودھ پیتا بچہ ، دودھ پیڑا ، دودھ دانی ، دودھ کا ابال ، دودھ کا رشتہ ، دودھ کی ندی ، دودھ میں مکھی ، دودھ نالی ، دودھ والی ، دودھیا چائے ،دودھ کے دانت، دودھ کی نہر ، دودھ اتارنا ، دودھ بخشنا دودھ سا ، دودھیا وغیرہ ان تمام الفاظ کے استعمال حسب موقع ہوتا رہتا ہے ۔‘‘

دودھ کی اہمیت شعراء کی نظر میں: شعرائے کرام نے اپنے کلام میں معنی خیز انداز میں لفظ’’ دودھ‘‘ کا استعمال کیا ہے ، جیسا کہ ایک شاعر نے کہا:

اب یہاں کون نکالے گا بھلا دودھ کی نہر

عشق کرتا ہے تو جیسا بھی ہے اچھا ہے میاں

اسی طرح ایک اور شاعر اکبر الٰہ آبادی نے کہا :

ہر سو نعمت رکھی دیکھی

شہد اور دودھ کی مکھی دیکھی

اسی طرح کیفی اعظمی نے کہا تھا :

چاندنی اور یہ محل عالم حیرت کی قسم

دودھ کی نہر میں جس طرح ابال آجائے

اسی طرح ایک اور شاعر نے کہا تھا :

نئے کپڑے کھلونے دودھ کی بوتل خریری تھی

بہت بے چین ہوتا تھا جو تم راتوں کو روتی تھیں

اسی طرح ایک اور شاعر نے عرض کیا:

اس مالک کو کیوں نہ پکاریں

جس نے پائیں دودھ دھاریں

دودھ کا تذکرہ قرآن میں:دودھ اللہ سبحانہ وتعالی کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے جو انسانی غذا و توانائی کا انمول خزانہ ہے جس کے بے شمار فوائد ہیں، اسی دودھ کا تذکرہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی کیا ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے :

﴿وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۖ نُّسْقِيكُم مِّمَّا فِي بُطُونِهِ مِن بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِّلشَّارِبِينَ﴾ (سورۃ النحل:66 )

’’تمہارے لئے یو چوپایوں میں بھی بڑی عبرت ہے کہ ہم تمہیں اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اسی میں سے گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے کے لئے سہتا پچتا ہے۔‘‘

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال تخلیق کے ذکرکے ساتھ ساتھ دودھ کے عظیم فائدے کا تذکرہ کیا ہے کہ اس کا نوش کرنا پیٹ پر ثقل نہیں بلکہ یہ پیٹھ میں پچنے والا ہے ۔ قدیم زمانے سے دودھ غذا کی حیثیت سے استعمال ہوتا رہاہے سفر میں، حضر میں ہر وقت یہ غذا ہمارے ساتھ ہوتی ہے اسی لئے زمانہ قدیم کے لوگ صحت مند و توانا اور مضبوط جسم کے مالک ہوا کرتے تھے ۔ زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ لوگوں میں جانور پالنے کا شوق و ذوق ختم ہوچکا اور وہ غذا کے طور پرآلودہ بازاری غذاؤں کے عادی ہوگئے اب تو لوگوں کو خالص دوھ بھی میسر نہیں ، پاؤڈر کا دودھ ، ڈیری کا جمع شدہ دودھ، یا جانوروں کو زبردستی انجکشن لگا کر دودھ پیدا کیا جانے لگا ہے جس کے سبب موجودہ انسانوں کی صحت کمزور ہوچکی ، ان کے ہمتیں جواب دے چکیں ، عمریں کم ہوچکیں۔ موجودہ دور کے دودھ سے متعلق شاعر پاگل عادل آبادی نے کہا تھا:

ڈبوں کا دودھ پی کر بچے جو پل رہے ہیں

وہ سب جوان ہوکر بڈھے نکل رہے ہیں

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کچھ جانور ایسے پیدا کئے ہیں جن کا کھانا جائز و حلال ہے اور کچھ جانور ایسے ہیں جن کا کھانا حرام ہے وہ جانور جو حلال ہیں ان کا دودھ پینا جائز ہے گائے ، بکری ، اونٹ ،بھینس وغیرہ دودھ بہت سے فوائد کا خزانہ ہے جیسے اس کو نوش فرمانے سے اچھی نیند آتی ہے ، وزن میں کمی ہوتی ہے جلد خوبصورت ہوتی ہے ، ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں ، ذہن کا تناؤکم ہوتا ہے، جسم کو مستحکم توانائی حاصل ہوتی ہے،کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے، رگوں اور پٹھوں کو مضبوطی حاصل ہوتی ہے اور یہ پروٹین و وٹامن کا بہترین خزانہ ہے جو وٹامن B12 ،وٹامنA ، وٹامنD ،کیلشیم ، میگنیشیم ، زنگ، جسے بے شمار فوائد کا مرکب ہے ۔ماں کے دودھ کے بعدانسان کے لئے سب سے زیادہ نفع بخش دودھ بکری کا ہے اس کے بعد گائے اور اونٹ کا دودھ ہے، لوگ عموما بھینس کاگاڑھا دودھ استعمال کرتے ہیں جو انتہائی مضر صحت ہے ، ہم لوگ گاڑھا دودھ پینے کے عادی ہیں لیکن درست بات یہ ہے کہ دودھ میں پانی ملاکر پینا چاہئے یہ عادت رسول اللہﷺ کی تھی جس کا تذکرہ احادیث میں کیا گیا ہے،مسلمان کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ خود گائے ، بکری پالیں اور تندرست و توانا دودھ پئیں بازاری دودھ ہماری زندگیوں کو تباہ کرچکے ہیں ۔ موجودہ دور کی بھیانک بیماریوں کے بہت سے اسباب میں سے یہ بھی ہے۔

دیکھنے میں دودھ ایک غذا ہے لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس میں لذتوں کے خزانے رکھا ہے ،اسی دودھ سے ہم دھی بناتے ہیں ، مکھن حاصل کرتے ہیں ،مسکاتیار کیا جاتا ہے، گھی تیار کیا جاتا ہے ، اسی سے کھوّا اور پنیر بنتا ہے جتنی بھی مٹھائیاں تیار کی جاتی ہیں تمام میں کسی نہ کسی طرح دودھ شامل کیا جاتا ہے ، گویا دودھ ایک فیکٹری ہے جس میں ہمہ اقسام کی غذائیں تیار کی جاسکتی ہیں،کبھی ہم اس میں غور کریں اور اللہ کی توحید کا اقرار کریں اور اس کی ثناخوانی کریں ،دودھ سے متعلق احادیث مبارکہ میں بہت سی تعلیمات دی گئی ہیں ہم یہاں تفصیل سے پیش کریں گے شاید کبھی ہم نے اس جانب توجہ دیا بھی ہو کہ نہیں ۔

خواب میں دودھ پینے کی تعبیر:ہم میں کے بہت سے لوگ مختلف قسم کے خواب دیکھتے ہیں انہیں میں سے خواب میں دودھ پینا بھی ہے،اور اس کی بہت ہی بہترین تعبیر بتائی گئی ہے اگر کوئی مسلمان خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ پیالے میں دودھ نوش فرمارہا ہے تو اس کی تعبیر علم کی زیادتی وعلم صالح کا حصول ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ

«بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ فِي أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «العِلْمَ»

’’ میں سورہا تھا مجھے دودھ کا ایک پیالہ دیا گیا میں نے خوب اچھی طرح نوش فرمالیا حتی کہ میں نے دیکھا کہ تازگی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے ، پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر بن خطاب کو دے دیا ، صحابہ کرام نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ نے آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ہے ؟ آپ نے فرمایا : علم۔‘‘ (صحیح بخاری:82 )

رسول اللہ ﷺ کے ایک دوسرے خواب کا تذکرہ حدیث مبارکہ میں یوں کیا گیا ہے کہ

’’ دو برتن میرے سامنے لائے گئے ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب تھی ، سیدنا جبرئیل نے کہا کہ دونوں چیزوں میں سے آپ کو جو چاہئے نوش فرمائیں ، میں نے دودھ کا پیالہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اسے پی گیا ، مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا اگر اس کے بجائے آپ نے شراب پی ہوتی تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔‘‘ ( صحیح بخاری: 3394،3437)

اس حدیث سے اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ امت مسلمہ طاہر و مطہر امت ہے لہٰذا وہ پاک و صاف اور حلال چیزیں استعمال کریں۔

دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ حرام چیزوں کے استعمال سے امتیں زوال پذیر ہوجاتی ہیں ،لیکن افسوس کہ اب ہم امتی دودھ پینے کو فراموش کرچکے ہیں اورغیر اقوام کا دیکھا دیکھی اور فیشن سمجھتے ہوئے ایسے مشروبات کے عادی بن چکے ہیں جس میں حرام اشیاء بھی شامل ہیں جو صحت کے لئے انتہائی مضر ہیں، ہمیں اس بات سے خائف کردیاگیا کہ دودھ پینے سے موٹاپا بڑھ جائیگا ، وزن بڑھ جائیگا ، یا دودھ ثقل ہوتا ہے۔ حالانکہ دودھ پینے سے ہر عمر کے لوگوںکو صحت حاصل ہوتی ہے، ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں ،لیکن ہم لوگ دودھ کو ناپسند کرتے ہیں اور چائے کو پسند کرتے ہیں جبکہ چائے بیماروں کا منبع ہے۔

دودھ پی کر کلی کرنا چاہئے: دین اسلام نے ہر چیز کے آداب بیان کئے ہیں ان آداب پر عمل کرنے کا فائدہ ہماری ہی ذات کو ہوتا ہے ان ہی آداب میں سے ایک ادب دودھ پینے کے بعد کلی کرنا ہے رسول اللہ ﷺ کا طریقہ تھا کہ جب بھی آپ دودھ نوش فرماتے تو کلی کر لیا کرتے تھے ، کیونکہ دودھ میں چکنائی ہوتی ہے ، کلی کرنے سے چکنائی دور ہوجاتی ہے، اگر ہم کلی نہ کریں تو یہ چکنائی ہمارے دانتوں اور زبان پر چڑھی رہے گی کچھ دیر بعد ہمارے منہ سے عجیب قسم کی بدبو محسوس ہوسکتی ہے اسی لئے ہمیں بھی چاہئے کہ جب بھی ہم یا ہمارے بچے دودھ نوش فرمائیں تو ہم بھی کلی کر لیں اور اپنے بچوں کو بھی کلی کروائیں جس سے بچوں کی تربیت بھی ہوگی ، اور سنت پر عمل کرنے کا اجر وثواب بھی ملے گا ، ناواقفیت کے سبب اکثر لوگ اس پر عمل نہیں کرتے ہیں معصوم و نونہال بچوں کو آپ نے دیکھا ہوگاکہ جب وہ دودھ پیتے ہیں اور ان کا منہ صاف نہیں کیا جاتا تو ان کے گالوں سے دودھ کی بو محسوس ہوتی ہے اور یہ بو کراہت پیدا کرتی ہے حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں کہ

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ، وَقَالَ: «إِنَّ لَهُ دَسَمًا»

’’رسول اللہ ﷺ نے دودھ نوش فرمایا ، پھر کلی کی اور فرمایا اس میں چکنائی ہوتی ہے۔‘‘ ( صحیح بخاری:211)

دودھ سے افطارکرنا:اہل عرب کی غذاؤں میں کھجور اور دودھ شامل ہے کھجور بھی عام تھا اور دودھ بھی عام تھا جو بآسانی میسر ہوجاتا تھا،اونٹ اور بکری پالنے کا عموما رواج تھا اور وہ بطور غذا کے اس کا دودھ استعمال کیا کرتے تھے ،اسی لئے افطار کے لئے دودھ کا استعمال کیا جاتا تھا، آج جس طرح بہ آسانی پھل میسر ہیں عہد نبوی میں میسر نہ تھے اسی لئے عموما لوگ کھجور اور دودھ سے افطار کیا کرتے تھے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدہ ام الفضل بنت الحارث بیان فرماتی ہیں کہ

أَنَّ نَاسًا اخْتَلَفُوا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ صَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ بِصَائِمٍ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَهُ

’’ان کے یہاں لوگوں کا عرفات کے دن رسول اللہﷺ کے روزے سے متعلق کچھ اختلاف ہوگیا ، بعض نے کہا کہ آپ ﷺ روزے سے ہیں اور بعض نے کہا کہ: آپ روزے سے نہیں ہیں ، اسی لئے انہوں نے آپ کے پاس دودھ کا ایک پیالہ بھیجا ، رسول اللہ ﷺ اس وقت اونٹ پر سوار ہوکر عرفات میں وقوف فرما رہے تھے ،آپ نے وہ دودھ نوش فرمالیا۔ ‘‘ (صحیح بخاری:1661)

ایک اور واقعہ حدیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے کہ

’’ نبی کریم ﷺ رمضان میں حنین کی طرف تشریف لے گئے ، مسلمانوں میں بعض حضرات تو روزے سے تھے اور بعض نے روزہ نہیں رکھا تھا لیکن جب رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر پوری طرح بیٹھ گئے تو آپ نے برتن میں دودھ یا پانی طلب فرمایا اور اسے اپنی اونٹنی پر یا اپنی ہتھیلی پر رکھا اورپھر نوش فرمالیا پھر آپ نے لوگوں کو دیکھا تو جن لوگوں نے پہلے سے روزہ نہیں رکھا تھا انہوں نے روزہ داروں سے کہا کہ اب روزہ توڑ لو۔‘‘ (صحیح بخاری:4277 )

چوری کا دودھ استعمال نہ کیا جائے :جس طرح ساز وسامان کی چوریاں ہوتی ہیں اسی طرح دودھ کی بھی چوری ہوا کرتی تھی دودھ کی چوری اس طرح سے کہ اگر کوئی جانورچر رہا ہوتا تو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کا دودھ نکال لیا جاتا تھا یہ چوری ہی ہے ، چوری کا یہ انداز قدیم زمانے سے آج تک چلا آرہا ہے، اسی لئے مالک کی اجازت کے بغیر کسی بھی جانور کا دودھ نہیں نکالا جاسکتا ، اگر کسی نے ایسا کیا ہوگا تو وہ چوری کا مال تصور ہوگا اسی سے ایک مسئلہ یہ نکلتا ہے کہ صرف دودھ ہی نہیں بلکہ کوئی بھی چیز مالک کی اجازت کے بغیر نہیں لی جا سکتی ، عموما گھروں اور باغوں کے پاس سے لوگ مالک کی اجازت کے بغیر پھل ، پھول لے لیتے ہیں اس سے احتراز کرنا چاہئے، حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ کوئی شخص کسی دوسرے کے دودھ کے جانور کو مالک کی اجازت کے بغیر نہ دوہے ، کیا کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ ایک غیر شخص اس کے گودام میں پہنچ کر اس کا ذخیرہ کھولے اور وہاں سے اس کا غلہ چرا لائے؟ لوگوں کے مویشیوں کے تھن بھی ان کے لئے کھانا یعنی دودھ کے گودام ہیں ،اس لئے انہیں بھی مالک کی اجازت کے بغیر نہ دوہا جائے ۔‘‘ (صحیح بخاری:2435)

(رہن)گروی والے جانور کا دودھ قابل استعمال ہوگا: قدیم زمانے میں سیم وزر ،واملاک بہت کم لوگوں کے پاس ہوتا تھا اسی لئے لوگ گروی میں اپنے جانور رکھا کرتے تھے ، آج بھی یہ سلسلہ یوپی ، بہار وغیرہ میں چلتا ہے ،گروی ر کھے گئے جانور کا دودھ پینا جائز ہے کیونکہ اس کے چارے کا ذمہ دار گروی رکھا ہوا شخص ہوگا، اس کی اجازت ر رسول اللہ ﷺ نے دی ہے حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا:

’’ گروی رکھے گئے جانور پر اس کے خرچ کے بدل سواری کی جائے ، اسی طرح دودھ والاجانور جب گروی رکھا جائے تو خرچ کے بدل اس کا دودھ پیا جائے اور جو کوئی سواری کرے یا دودھ پئے وہی اس کا خرچ اٹھائے ۔‘‘ (صحیح بخاری: 2512، 2511،2451 )

تحفے میں دودھ دینا:د ودھ سب سے بہترین تحفہ ہے کیونکہ یہ غذا بھی ہے اور طاقت و قوت بھی ، عموماً جب بھی ہم کسی مریض کی عیادت کے لئے جاتے ہیں تو بسکٹ، بریڈ، فروٹ وغیرہ لے کر جاتے ہیں ، ان میں سے بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جسے کھانا مریض کو گوارہ نہیں ہوتا البتہ دودھ ہے جسے مریض پسند کرتا ہے ۔ قدیم زمانے میں نہ بیکری نہ ہوٹل ہوا کرتی تھی اسی لئے سب سے بہترین چیز دودھ تصور کیا جاتا تھا حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ دو دو ماہ تک رسول اللہﷺ کے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہوا کرتا تھا ، سیدہ عائشہ صدیقہ کے بھانجے سیدنا عروہ اپنی خالہ سے سوال کرتے ہیں کہ پھر آپ لوگوں کا گزران کیسے ہوا کرتا تھا ؟آپ نے فرمایا کہ 2 کالی چیزوں کھجور اور پانی پر، البتہ رسول اللہ ﷺ کے چند انصاری پڑوسی تھے ، جن کے پاس دودھ دینے والی بکریاں تھیں وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے یہاں بھی ان کا دودھ تحفہ کے طور پر پہنچادیا کرتے تھے آپ ﷺ وہ ہمیں پلادیا کرتے تھے۔‘‘ (صحیح بخاری:2567)

اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ دودھ دینے والی بکری اور اونٹ تحفہ میں دینا بہت ہی عمدہ تحفہ ہوتا ہے، سیدہ ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«نِعْمَ المَنِيحَةُ اللِّقْحَةُ الصَّفِيُّ مِنْحَةً، وَالشَّاةُ الصَّفِيُّ تَغْدُو بِإِنَاءٍ، وَتَرُوحُ بِإِنَاءٍ»

’’ کیا ہی عمدہ ہے ہدیہ اس دودھ دینے والی اونٹنی کا جس نے ابھی حال ہی میں بچہ جنا ہو اور دودھ دینے والی بکری کا جو صبح و شام اپنے دودھ سے برتن بھر دیتی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری:2429)

اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ چالیس خصلتیں ہیں جن میں سب سے اعلیٰ خصلت دودھ دینے والی بکری کا ہدیہ کرنا ہے ،ان خصلتوں میں سے جو شخص ایک خصلت پر بھی عمل کرے گا اجر و ثواب کی نیت سے اور اللہ کے وعدے کو سچا سمجھتے ہوئے تو اللہ تعالی اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کرے گا ۔۔۔الخ۔‘‘ (صحیح بخاری:2631)

اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں کہ میری خالہ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ساہنہ کا گوشت ، پنیر اور دودھ ہدیتا پیش کیا تو ساہنہ کا گوشت آپ کے دستر خوان پر رکھا گیا اور اگر ساہنہ حرام ہوتا تو آپ کے دستر خوان پر نہیں رکھا جاسکتا تھا لیکن آپ نے دودھ پیا اور پنیر کھایا۔ ‘‘ (صحیح بخاری:5402)

غرباء و مساکین میں د ودھ تقسیم کرنا : دین اسلام نے تمام مسلمانوں کو بار بار خدمت خلق کی تعلیم دی ہے، خود رسول اللہ ﷺ بلالحاظ مذھب و ملت کثرت سے خدمت رفاہ عامہ میں مشغول رہا کرتے تھے اور آپ نے انسانیت کو خدمت خلق کے لئے ابھار ہے اس کی بہت سی مثالیں کتب سیرت و کتب احادیث مبارکہ میں ملتی ہیں ، چنانچہ حدیث مبارکہ میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ ’’ ایک اعرابی ( یعنی بدو ، گنوار) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے پوچھنے لگا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ! ہجرت تو بہت مشکل ہے ،تمہارے پاس کچھ اونٹ بھی ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ہیں !آپ نے فرمایا :’’ کہ کیا تم اس کی زکوۃ بھی ادا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! ادا کرتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’کیااونٹنیوںکا دودھ دوسرے محتاجوں کو بھی دوہنے کے لئے دے دیا کرتے ہو ؟‘‘ اس نے کہا : ہاں ایسا بھی کرتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’کیا انہیں گھاٹ پر لے جاکر محتاجوں کے لئے دوہتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ایسا بھی کرتا ہوں۔اس پر آپﷺ نے فرمایا :’’ پھر تم سات سمندر پار عمل کرو ،اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کا بھی ثواب و اجر کم نہیں کرے گا ۔‘‘ (صحیح بخاری: 3923)

دودھ یا کسی بھی مشروب کو ڈھک کر رکھنا چاہئے: دودھ اور کسی بھی مشروب یعنی نوش فرمانے والی چیز کو ڈھانک کر رکھنا چاہئے عموماہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمارے گھروں ، ہوٹلوں میں پانی وغیرہ ڈھک کر نہیں رکھا جاتا ہے ، اسی طرح دودھ وغیرہ کو ڈھک کر نہیں رکھا جاتا یہ اسلامی آداب کے خلاف ہے ،ہر چیز جو مشروب ہو دودھ ، چائے ،پانی وغیرہ تھوڑی دیر کے لئے سہی ڈھک کر رکھنا چاہئے اس کے بہت سے فوائد ہیں جیسے دھول و گردوغبار کے ذرات سے محفوظ رہے گی، یا گھروں میں اگر برتن کا منہ کھلا دکھ دیں تو اس میں کوئی کیڑا، مچھر ، مکھی ، پتنگے وغیرہ گر سکتے ہیں، حدیث مبارکہ میں ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے سیدنا جابر بن عبد اللہ بیان فرماتے ہیں کہ’’ ایک مرتبہ کی بات ہے کہ سیدنا ابو حمید ساعدی مقام نقیع سے دودھ کا ایک پیالہ ( کھلا ہوا ، بغیر ڈھانکے) لے آئے (یہ دیکھ کر)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«أَلَاخَمَّرْتَهُ ،وَلَوْأَنْ تَعْرُضَ عَلَیْهِ عُوْداً»

’’اسے ڈھانک کر کیوں نہیں لائے ہو ایک لکڑی ہی سہی اس پر رکھ لیتے ۔‘‘ (صحیح بخاری:5605؛ 5606)

دودھ کی پیش کش ناراضگی کو دور کرتی ہے:اگر کوئی بندہ اپنے کسی محبت کرنے والے کے متعلق یہ گمان کر لیتا ہے کہ وہ کسی معاملے میں ناراض ہے تو اس کی ناراضگی کو دور کرنے کے لئے اسے دودھ پلائیں جس سے اس کا گمان دور ہوجائے گا ، حدیث مبارکہ میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے جس میں 2صحابہ سیدنا اُسید بن حضیر اور سیدنا عباد بن بشیر نے شرم وحیاء سے متعلق ایک معاملے میں یہودیوں کے طنز وتشنیع کے رد میں سوال کر لیا جس سے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا ،جس کے سبب ان دونوں صحابہ کرام نے سمجھ لیا کہ آپ ﷺ ان سے ناراض ہو گئے ہیں ،وہ دونوں وہاں سے نکل گئے ، کچھ ہی دیر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس دودھ کاہدیہ آیا ہوا تھا آپ نے ایک شخص کو ان دونوں کے پیچھے بھیجا اور انہیں بلواکر دودھ پلایا ، وہ سمجھ گئے کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم:694)

دودھ سے ضیافت:جب بھی ہمارے گھر کوئی مہمان آتا ہے تو ہم کسی نہ چیز سے اس کی ضیافت کرتے ہیں،کھانے کے لئے کچھ پیش کرتے ہیں یا نوش فرمانے کے لئے مشروبات دیتے ہیں یہ آدب دین اسلام نے سکھائے ہیں اور مہمان کی ضیافت میزبان کا حق ہے عہد صحابہ میں وسائل و ذرائع کے فقدان کے باوجود میزبانی کو صحابہ کرام شرف سمجھا کرتے تھے ، جو بھی میسر ہو مہمان کی خدمت میں پیش کردیا جاتا، عہد صحابہ میں میزبانی کے لئے سب سے زیادہ دودھ پیش کیا جاتا تھا چاہے وہ بکری کا ہو کہ اونٹ کا ، لیکن دودھ سے میزبانی کی جاتی تھی جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا سہل بن سعد بیان فرماتے ہیں کہ ’’ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دودھ اور پانی کا ایک ایک پیالہ پیش کیا گیا ، آپ نے اسے نوش فرمایا ، آپ کی دائیں طرف ایک نوعمر لڑکا بیٹھا ہوا تھا ،اور بڑے بزرگ لوگ بھی بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے ، آپﷺ نے فرمایا :

’’ اے لڑکے! کیا تو اجازت دے گا کہ میں پہلے یہ پیالہ بزرگوں کو دے دوں ،اس پر اس نے کہا : یا رسول اللہ ! میں تو آپ کے جھوٹے میں سے اپنے حصے کو اپنے سوا کسی کو نہیں دے سکتا ، چنانچہ آپ نے وہ پیا لہ اس کو دے دیا۔‘‘ (صحیح بخاری:2351)

اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ ’’ رسول اللہ ﷺ کے لئے گھر میں پلی ہوئی ایک بکری کا دودھ دوہا گیا ، جو انس بن مالک کے گھر میں پلی ہوئی تھی پھر اس کے دودھ میں اس کنویں کا پانی ملاکر جو انس کے گھر میں تھا ، رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا، آپ نے اسے نوش فرمالیا ، جب اپنے منہ سے آپ نے پیالہ ہٹایا تو بائیں طرف سیدنا ابوبکر تھے اور دائیں طرف ایک دیہاتی تھا، سیدنا عمر کو خدشہ محسوس ہوا کہ کہیں آپ یہ پیالہ دیہاتی کو نہ دے دیں، اس لئے انھوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ابو بکر کو دے دیجئے ، آپ نے پیالہ اسی دیہاتی کو دیا جو آپ کی دائیں طرف تھا اور فرمایا کہ ’’ دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے اور پھر وہ جو اس کی دائیں طرف والا ہے ۔‘‘ (صحیح بخاری:2352)

رسول اللہ ﷺ کی دودھ سے میزبانی سے متعلق سیدنا ابو ہریرہ کا ایک واقعہ حدیث مبارکہ میں ذکر کیا گیا ہے یہاں حدیث مبارکہ کانصف حصہ ذکر کیا جارہا ہے،سیدنا ابو ہریرہ خود اپنا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’ فاقہ کی وجہ سے میں سخت مشقت میں مبتلاتھا ،پھر میری ملاقات سیدنا عمر بن خطاب سے ہوئی اور ان سے میں نے قرآن مجید کی ایک آیت پڑھنے کو کہا ، انہوں نے مجھے وہ آیت پڑھ کر سنائی اور پھر اپنے گھر میں داخل ہوگئے ،اس کے بعد میں بہت دور تک چلتا رہا، آخر مشقت اور بھوک کی وجہ سے میں منہ کے بل گر پڑا ، اچانک میں نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ میرے سر کے پاس کھڑے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ابو ہریرہ ! میں نے کہا: حاضر ہوں ،یا رسول اللہ !تیار ہوں ، پھر رسول اللہﷺ نے میرا ہاتھ پکڑکر مجھے کھڑا کیا ، آپ سمجھ گئے کہ میں کسی تکلیف میں مبتلا ہوں ، پھر آپ مجھے اپنے گھر لے گئے اور میرے لئے دودھ کا ایک بڑا پیالہ منگوایا ، میں نے اس میں سے دودھ پیا ، رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’(ابو ہریرہ !)دوبارہ پیوامیں نے دوبارہ پیا ،آپ ﷺ نے فرمایا اور پیو میں نے اور پیا ، یہاں تک کہ میرا پیٹ بھی پیالے کی طرح بھر پور ہوگیا ۔‘‘ (صحیح بخاری:5375 )

دودھ کے ذریعہ ضیافت کرنے کے سلسلے میں ایک اور حدیث یوں ذکر کی گئی ہے کہ

سیدنا ت مقداد بن اسود بیان فرماتے ہیں کہ میں اور میرے دودوست مدینہ آئے ، فقر وفاقہ جہد و مشقت کے سبب ہماری سماعت متأثر ہوچکی تھی اور ہماری آنکھیں دھنس چکی تھیں ہم نبی کریم ﷺ کے صحابہ کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنے لگے لیکن ہمیں کسی نے قبول نہ کیا پھر ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت مبارکہ میں حاضرہوئے تو آپ ہمیں اپنے گھر لے گئے اس وقت آپ کے پاس تین بکریاں تھیں ، آپ نے فرمایا :ان کا دودھ ہم سب کے لئے دوہو ،تو ہم دوہتے اور ہر شخص اپنا حصہ نوش فرماتا اور ہم رسول اللہ ﷺ کا حصہ اٹھا کر رکھ دیتے پھر رسول اللہ ﷺ رات میں تشریف لاتے اور اس انداز سے سلام کرتے تھے کہ سونے والا جاگ نہ جائے ،اور جاگنے والا( سلام) سن بھی لے ، پھر آپ مسجد آتے نماز تہجد پڑھتے پھر جاکر اپنے حصے کا دودھ پیتے۔‘‘ (جامع ترمذی:2719 )

دودھ کو بطور عطیہ دینا:عطیہ کے طور پربہت سی چیزیں دی جاتی ہیں جیسے اجناس ،پکی ہوئی غذا ، پیسہ، رقم، اشیائے ضروریہ، کپڑے وغیرہ اسی طرح عطیہ میں دودھ بھی پیش کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اس پر ایک غلام کو آزاد کرنے کے برابرا اجر مقرر کیا گیا ہے کیونکہ دودھ بچوں ، مریضوں ، ناتواں و کمزور افراد کے لئے قوت و طاقت بخشتا ہے عمدہ و نفیس پچنے والی غذا بھی ہے اسی لئے حدیث شریف میں ہے کہ سیدنا براء بن عازب فرماتے ہیں کہ

سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ مَنَحَ مَنِیْحَةَ لَبَنٍ أَوْوَرِقٍ أَوْهَدَی زُقَاقًا کَانَ لَهُ مِثْلَ عِتْقِ رَقَبَةٍ»

’ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جس شخص نے دودھ کا عطیہ دیا ، یا چاندی بطور قرض کے دیا ، یا کسی کو راستہ بتایا ، اسے غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔‘‘ ( جامع ترمذی:1957)

سب سے بہترین صدقہ: صدقہ کئی چیزوں کا کیا جاتا ہے اور صدقہ اللہ کے حضور میں قابل قبول ہے سب سے افضل صدقہ کونسا ہے ؟ اس کا بھی تعین کیا گیا ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہےکہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«أَتَدْرُوْنَ أَیُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَل؟ قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: المَنِیْحَةُ، أَنْ یَمْنَحَ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ الدِّرْهَمُ أَوْ ظَهْرَ الدَّابَّةِ أَوْ لَبَنَ الشَّاةِ أَوْلَبَنَ البَقَرَةِ» (مسند احمد:3596)

’’ کیا تم جانتے ہو کہ سب سے افضل صدقہ کونسا ہے؟ صحابہ نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا :کسی کو کوئی چیز عاریۃ دے دینا مثلا تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کو درہم یا سواری یا بکری کا دودھ یا گائے کا دودھ دے دے ۔’’

کھانے میں دودھ استعمال کرنا:کھانا کھاتے وقت ہم بہت سے لوازمات کا استعمال کرتے ہیں جیسے کھانے کو ذائقہ دار بنانے پاپڑ ، چٹنی ،اچار، گھی وغیرہ،اسی طرح بعض صحابہ کرام کھانے کے ساتھ دودھ بھی استعمال کیاکرتے تھے جیسے ہمارے پاس بعض بزرگ دھی کا استعمال کرتے ہیں۔ ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا سماک بیان فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عکرمہ کے پاس ایسے دن گیا جس کے بارے میں شک تھا کہ یہ شعبان کا دن ہے یا رمضان المبارک کا ؟ (یعنی مہینہ کا آخری چاند دیکھنے میں شک ہوگیا)عکرمہ روٹی ، سبزی ،اور دودھ تناول فرمارہے تھے۔۔۔الخ‘‘ (سنن نسائی:2191)

دودھ بطور مشروب: ہم بہت سے مشروب نوش فرمانے کے عادی ہیں کبھی ہم پھلوں کا جوس پیتے ہیں ، کبھی ہم بازاری مشروب بھی نوش فرمانے کے عادی ہیں حالانکہ بازاری مشروب مضر صحت ہوتے ہیں اسی طرح ہم چائے نوشی کے عادی ہیں جو انتہائی نقصان دہ ہے لیکن اہل عرب دودھ کو بطور مشروب کے استعمال کیا کرتے تھے کیونکہ یہ قوت و طاقت کا خزانہ ہے حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ سیدنا جریر بیان فرماتے ہیں کہ

«کَانَ ابن شِبْرَمَةَ لاَیَشْرَبُ إِلَّا المَاءَ وَاللَّبَن»

’’ابن شبرمہ پانی اور دودھ کے علاوہ کوئی مشروب نوش نہیں فرماتے تھے۔’’ (سنن نسائی:5761 )

دودھ میں مکھی گرجائے:جب بھی ہمارے کسی نوش فرمانے والے مشروب جیسے دودھ ، چائے ،شربت وغیرہ میں مکھی گرجائے تو اس مکھی کو ڈبو دیا جائے اور مشروب نوش فرمائیں کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے اور دوسرے پر میں شفا ہے یہ ارشاد نبوی حکمتوں سے خالی نہیں جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِیْ شَرَابِ أَحَدِکُمْ فَلْیَغْمِسْهُ (کُلَّهُ) ثُمَّ لَیَنْتَزِعَهُ، فَإِنَّ فِیْ إِحْدَی جَنَاحَیْهِ دَاءً وَفِیْ الأخْرَی شِفَاءٌ»

’’جب مکھی تمہارے مشروب میں گرجائے تو اسے پورا ڈبو دیں کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہوتی ہے۔‘‘ (السلسلہ الصحیحہ:811)

ریوڑ کی بکریوں کا دوھ پینا کیسا ہے: اگر کوئی آدمی کسی جنگل میں جارہاہو اور وہاں بکریاں چر رہی ہوں اسے شدید بھوک لگی ہوتو ریوڑ کے نگران کی اجازت سے اس کا دودھ پی سکتا ہے اور اگر ریوڑ کا مالک نہ ہوتو مالک کو تین مرتبہ آواز دی جائے جواب آئے تو ٹھیک ہے ورنہ ان بکریوں کا دودھ پینا جائز ہے لیکن دودھ کو اپنے برتن میں اپنے ساتھ لے جانا جائز نہیں ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا سمرہ بن جندب بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«إِذَاأَتَی أَحَدُکُمْ عَلَی مَاشِیَةٍ فَإِنْ کَانَ فِیْهَا صَاحِبُهَا فَلْیَسْتَأذِنُهُ، فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْیَحْلَبِ وَلْیَشْرَبْ، وَ إِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْهَا أَحَدٌ فَلْیَصُوتُ ثَلاثًا، فَإِذَا أَجَابَهُ أَحَدٌ فَلْیَسْتَأْذِنُهُ، فَإِنْ لَمْ یُجِبْهُ أَحَدٌ فَلْیَحْتَلِبْ وَلْیَشْرَب وَلایَحْمِلْ»

’’ جب تم میں سے کوئی کسی ریوڑ کے پاس آئے تو اگر ان میں ان کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ پی لے ،اگر ان میں کوئی نہ ہوتو تین بار آواز لگائے ،اگر کوئی جواب دے تو اس سے اجازت لے لے ،اگر کوئی جواب نہ دے تو دودھ پی لے لیکن ساتھ نہ لے جائے۔‘‘ (جامع ترمذی:1296)

غیر مسلم کودودھ پلانا:کسی بھی غیر مسلم بھوکے کو پیٹ بھر کھلانے اور پلانے کی تعلیم رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو دی ہے،کیونکہ یہ حسن سلوک اور احسان ہے، اس عمل سے دلوں میں نرمی پیدا ہوتی ہے اس طرح غیر مسلم مسلمانوں کے قریب آسکتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال ہوتو دائرہ اسلام میں بھی داخل ہو سکتے ہیں، ہمارے ملک میں بہت سے غیر مسلم ایسے ہیں جنہیں پیٹ بھر غذا میسر نہیں ہوتی،رسول اللہ ﷺ نے غیر مسلموں کے ساتھ بھی حسن سلوک کیا ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے ،سیدنا ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ

’’ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک کافر مہمان کی حیثیت سے آیا آپ ﷺ نے اس کے لئے بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا ، بکری دوہی گئی، وہ مہمان دودھ پی گیا ، پھر دوسری بکری کا دودھ دوہا گیا ،اس مہمان نے اس کو بھی پی لیا ، اس طرح وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا ، پھر وہ دوسرے دن صبح ایمان لے آیا ،رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے ایک بکری کا دودھ دوہنے کاحکم دیا وہ دو ہی گئی وہ اس کا دودھ پی گیا ،پھر آپ نے دوسری بکری کا دودھ دوہنے کاحکم دیا تو وہ مہمان اس کا پورا دودھ نہ پی نہ سکا اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مؤمن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے‘‘۔(ترمذی:1819 )

ناپاک و نجس جانوروں کا دودھ نہیں پینا چاہئے: اللہ تعالیٰ نے 2قسم کے جانور پیدا کئے ہیں:

پہلی قسم کے وہ جانور ہیں جو حلال ہیں، جن کا گوشت کھانا حلال وجائز ہے جیسے گائے ،بیل ، بھینس ،اونٹ، بکری،مرغ اور اسی قبیلے کے اور جانور وپرندے ۔

اسی طرح دوسری قسم کے وہ جانور ہیں جو حرام ہیں جن کا گوشت کھانا حرام وناجائز ہے جیسے درندے، گدھا، کتا، بلی، پنجوں سے شکار کرنے والے پرندے، خنزیر وغیرہ۔

ا س بات کا خیال ہر مسلمان رکھے کہ جو بھی حلال جانور ہیں وہ اناج اور گھاس درخت کے پتوں جیسی پاک و صاف چیزیں کھاتے ہیں اسی لئے ان کا کھانا جائز ہے اسی طرح جو بھی حرام جانور ہیں وہ گندی اورنجس چیزیں کھاتے ہیں اسی لئے اسے حرام قرار دیا گیا ہے حدیث مبارکہ میں آتا ہےکہ سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان فرماتے ہیں کہ

«نَهَی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ أَکْلَ الجَلَّالَةِ وَالبَانِهَا»

’’ رسول اللہ ﷺ نے گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کھانے اور ان کے دودھ پینے سے منع فرمایا۔‘‘ (جامع ترمذی: 1824، 1825 ؛ سنن ابوداؤد: 3785؛ سنن نسائی:4453؛ سنن ابن ماجہ:3321 )

گائے کے دودھ کا حکم:مأکول اللحم یعنی وہ جانور جن کا کھانا جائز اور حلال ہے ان کا دودھ حلال ہے جانوروں میں سب سے بہترین اور اچھا و شفا مند دودھ گائے کا ہوتا ہے اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے گائے کے دودھ کو ترجیح دی ہے کیونکہ یہ غذا کے ساتھ دوا بھی ہے۔

جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَ جَلَّ لَمْ یَنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً إِلَّا الھَرَمَ، فَعَلَیْکُمْ بِأَلْبَانِ البَقَرِ فَإِنَّهَا تَرُمُّ مِنْ کُلِّ شَجَر»

’’یقینا اللہ عزوجل نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کے ساتھ شفاء بھی نازل کی ہے سوائے بڑھاپے کے ، گائے کا دودھ لازم کرلو کیونکہ یہ ہردرخت سے چرتی ہے۔‘‘ (السلسلہ الصححیحہ: 2296؛ مسند احمد:7698)

اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ

«عَلَیْکُمْ بِأَلْبَانِ البَقَرِ فَإِنَّهَا تَرُمُّ مِنْ کُلِّ شَجَرٍ، وَهُوَ شِفَاءٌ مِنْ کُلِّ دَاءٍ»

’’گائے کا دودھ لازم کر لو کیونکہ یہ ہردرخت سے چرتی ہے اور یہ دودھ ہر بیماری سے شفا ہے ۔‘‘ ( السلسلہ الصحیحہ:2320 )

ان دونوں احادیث میں گائے کے دودھ کی اہمیت معلوم ہوئی لہذا ہم گائے کا دودھ استعمال کریں کیونکہ بھینس کے دودھ میں بیماری ہوتی ہے وہ انتہائی گاڑھا ہوتا ہے گائے کے دودھ اور شہد میں ہر بیماری کے لئے شفا ہے لیکن ہم لوگ گائے کا دودھ پسند نہیں کرتے کیونکہ ہماے ذہن میںیہ غلط بات ڈال دی گئی کہ گائے اور بکری کا دودھ مزاجا گرم ہوتا ہے ، اسی خوف سے ہم ان دونوںکا دودھ نہیں پیتے بلکہ بھینس کا ثقل دودھ پیتے ہیں جو قبض کرنے والا ہے حقیقت یہ ہے کہ گائے کا گوشت اور بھینس کا دودھ مضر صحت ہے اس کے برخلاف ہمارے ملک کے غیر مسلم گائے کا دودھ اور گائے کا گھی پسند کرتے ہیں۔

گاڑھا دودھ فتنہ ہے:گاڑھا ،جھاگ والا دودھ خالص تصور کیا جاتا ہے اسی لئے لوگ عموما گاڑھے دودھ کو ترجیح دیتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو پسند نہیں فرمایا، اسی لئے گزشتہ احادیث میں آپ نے پڑھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ دودھ میں پانی ملاکر پیتے تھی ، یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا مناسب ہوگا کہ ہم نے مشاہدہ کیاہے کہ صوبہ کیرالہ اور تملناڈو میں چائے کی طرح دودھ پیا جاتا ہے جس میں گرم پانی ملاکر اسے پتلا کرتے ہیں جس کو تمل ناڈو میں’’ چینا‘‘ کہتے ہیں یہی درست بات ہے گاڑھا دودھ ثقل ہوتا ہے اسی لئے اسے پتلا کرنا چاہئے ۔گاڑھے دودھ کے پیچھے امت پڑجائے گی اس کا خدشہ رسول اللہ ﷺ کو پہلے ہی سے تھا جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«لَا أَخَافُ عَلَی أُمَّتِیْ إِلَّا اللَّبَنَ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ بَیْنَ الرَّغْوَةِ وَالضَّرِیْحِ»

’’اپنی امت پر مجھے سب سے زیادہ خوف دودھ کے معاملے کا ہے ، کیونکہ شیطان، خالص دودھ اور جھاگ کے درمیان ہے۔‘‘ (مسند احمد:5932 )

دودھ پیتے ہوئے اللہ کی تعریف بیان کرنا چاہئے: جب ہم کھانے کی کوئی بھی چیز تناول فرمائیں یااور کوئی مشروب نوش فرمائیں تو کھاتے پیتے درمیان میں اللہ کی تعریف کرتے رہیں ، جیسے الحمد للہ کہیں، سبحان اللہ کہیں ، ماشاء اللہ کہیں ، تبارک اللہ کہیں،ان کلمات کے ادا کرنے سے کھانے پینے میں برکت آتی ہے اور شکر گزاری کا اظہار ہوتا ہے مشروبات میں دودھ سب سے لذیز و صحت بخش نعمت ہے جس کی ایک ایک چسکی پر ہم اللہ کی حمد بیان کریں جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے سیدنا انس بن مالک بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«إِنَّ اللّٰہَ لَیَرْضٰی عَنِ العَبْدِ أَنْ یَأکُلَ الأکَلَةَ فَیَحْمَدَہُ عَلَیْهَا أوْیَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَیَحْمَدَہُ عَلَیْهَا»

’’ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس بات پر بندے سے راضی ہوتا ہے کہ وہ جب بھی کھانا کھائے اس پر اللہ کی تعریف و بڑائی بیان کرتا رہے اور پینے کی کوئی بھی چیز جب پیتا ہے تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہے‘‘ ( مسلم:6932 )

دودھ پینے کے بعد کی دعا : دین اسلام نے ہر کام کے بعد یا پہلے دعائیں پڑھنے کی تعلیم دی ہے دعا پڑھنے سے برکت حاصل ہوتی ہے اور انسان شیطانی شرارتوں سے محفوظ رہتا ہے دودھ پینے کے بعد بھی دعا کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اکثر مسلمانوں کو دودھ پینے کی دعا معلوم نہیں ہمیں چاہئے کہ اپنی اولاد کو یہ دعا سکھائیں ،حدیث مبارکہ میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«اِذَا أکَلَ أَحَدُکُمْ طَعَاماً فَلْیَقُلْ: اللّٰهُمِّ بَارِكْ لَنَا فِیْهِ، وَأَطْعِمْنَا خَیْراً مِنْهُ، وَإِذَا سُقِیَ لَبَنًا، فَلْیَقُلْ: اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِیْهِ وَزِدْنَا مِنْهُ، فَإِنَّهُ لَیْسَ بِشَیٍٔ یُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلَّا اللَّبَن»

’’جب تم میں کا کوئی آدمی کھانا کھائے تو یہ دعا پڑھے:’’ اے اللہ ہمیں اس میں برکت اور مزید اس سے اچھا کھلا ، اور جب میں کا کوئی آدمی دودھ سے سیراب ہو تو یہ دعاپڑھے :’’ اے اللہ تو اس میں برکت عطا فرما اور اس مزید عطا فرما‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’دودھ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جو کھانے اور پینے دونوں کی جگہ کھانے اور پینے کی ضرورت پوری کرے۔‘‘ (سنن ابو داؤد:3730 ؛ جامع ترمذی:3455 )

دودھ سے متعلق یہ چند تفصیلات تھیں جو افادہ عامہ کی خاطر تحریر کردی گئیں اللہ تعالیٰ ان باتوں پر غور و فکر کرنے اور حسن عمل کی توفیق و سعادت نصیب فرمائے ۔ ( آمین)

تبصرہ کریں