رسول اللہ ﷺ کا پیغام با حجاب خواتین کے نام۔ محمد عبد الرحیم خرم عمری جامعی

’’حجاب ‘‘ در اصل حیا ہے اور حیا اسلام کا بنیادی وصف ہے، حیا کا تعلق براہ راست ایمان سے ہے اورایمان وحیا لازم و ملزوم ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«اَلْإيْمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّوْنَ شُعْبَةً وَالْحَيَاءُ شُعْبةٌ مِنَ الْإِيْمَانِ»

’’ ایمان کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیاء بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔‘‘( صحیح بخاری:9 )

ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا :

«اَلْحَیَاءُ لَایَأْتِیْ إِلَّابِخَیْرٍ»(صحيح بخاری: 6117 )

’’ حیاء سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے۔‘‘

ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«مَا کَانَ الفُحْشُ فِیْ شِیٍٔ إِلَّاشَانَهُ، وَمَاکَانَ الحَیَاءُ فِیْ شِیٍٔ إِلَّا زَانَهُ» ( جامع ترمذی:1974 )

’’ جس چیز میں بھی بے حیائی آتی ہے ا سے عیب دار کردیتی ہے اور جس چیز میں حیاء آتی ہے اسے زینت بخشتی ہے ۔‘‘

حجاب مسلم معاشرہ میں پاکیزگی ، فروغ اور حیا وتقدس کا تحفظ فراہم کرتا ہے،حجاب کے احکامات عورت کے لئے تحفے کا درجہ رکھتے ہیں، اسلام نے حقیقت میں عورت کو نگینے اور آبگینے جیسی حساس اور نازک طبع اور قیمتی چیز سے تشبیہ دی ہے ایک مرتبہ کا واقعہ ہے :

’’ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حی بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیویوں کے ساتھ حج کیا ، ابھی راستے میں تھے کہ ایک آدمی اترا اور ان کی سواری کو تیزی سے چلانے لگا ،نبی کریمﷺ نے فرمایا

«كَذَالِكَ سَوْقُكَ بِالقَوَارِیْرِ»

’’ تم شیشوں( عورتوں) کو اس طرح چلاؤ گے ؟(تو شیشے ٹوٹ جائیں گے۔)‘‘ (السلسلۃ الصحیحۃ :143 )

پردہ سے متعلق تین الفاظ کا تذکرہ قرآن مجید نے کیا ہے،حجاب، جلباب ، خمور ، ان تینوں الفاظ میں بڑی معنویت ہے’’ حجاب‘‘ کا لفظ عربی زبان میں مستعمل ہوا اور قرآن مجید کے چھ مقامات پر اس کا تذکرہ کیا گیا ہے اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿وَ إِذَا سَأَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعًا فَسْأَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآءِ الحِجَابِ﴾ (سورة الاحزاب:53 )

’’ جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔‘‘

جو پردہ اور لباس کے معنی و مفہوم میں ہے، جدید عربی میں اس لفظ کا مطلب مسلمان خواتین کا سکارف ہے یا حجاب جو عورت کا حسن اور بد صورتی دونوں کا چھپا کر تحفظ فراہم کرتا ہے ۔

’’ جلباب‘‘ کی جمع ’’ جلابیب ‘‘ہے یہ لفظ عربی زبان میں مستعمل ہے جس کا معنی ہے’’ ایک لمبا ڈھیلا ڈھالا لباس جو بہت سی مسلمان عورتیں پردہ یا حجاب کے لئے گھر سے باہر نکلتے ہوئے پہنتی ہیں ، یہ برقعہ سے کافی ملتا جھلتا ہے اور اس لباس کو عام طور پر عرب ممالک میں ’’ جلباب ‘‘ کہا جاتا ہے اوراسے ’’جبہ ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔

جدید جلباب چہرہ،سر، اور ہاتھوں کے علاوہ تمام جسم کو ڈھیلے ڈھالے انداز میں ڈھانپ دینا ہے ، سر اور گردن کو ایک علحدہ کپڑے کے ٹکڑے سے جسے ’’خمار‘‘ کہتے ہیں ڈھکا جاتا ہے ، بعض خواتین نقاب سے چہرہ اور ہاتھ بھی ڈھانپ لیتی ہیں ، لغت میں اس کا ایک معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ

’’ پورے جسم کو ڈھانپنے والا لباس ، اوڑھنی ، ڈپٹا ، کپڑوں کے اوپر پہنا جانے والا لباس ، چوغہ، چادر جو پورے جسم کو ڈھانپ لے۔‘‘

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ارشادفرمایاہے:

﴿ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ﴾( سورة الاحزاب آیت:59 )

’’ اے نبی! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے چہروں پر نقاب ڈالا کریں۔‘‘

’’ خمور‘‘ یہ خمر کی جمع ہے جس کا معنی ہے ، چھپنا ،پوشیدہ ہونا،ڈھانپنا، اسی سے شراب کو بھی خمر کہا گیا ہے کیونکہ وہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے، اسی سے اوڑھنی کے لئے یہ لفظ ’’ خمار‘‘ استعمال ہوا جس کی جمع ’’خمور ‘‘ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ﴾

’’اور اپنے گریبانوں پر اوڑھنیاں ڈالے‘‘ (سورۃ النور:31 )

لغت میں اس کا معنی کسی کا ایسی جگہ داخل ہونا جو لوگوں سے چھپائے ۔

حجاب سے متعلق افکار انسانی کی مختلف تشریحات وتعریفات اور ان کے مختلف نقطہ نظرسامنے آتے ہیں کچھ اس کے حق میں اور کچھ مخالف ہیں:

1۔ کچھ لوگ حجاب کو روایت سمجھ کر اس کی مخالفت کرتے ہیں یعنی وہ لوگ حجاب کو دین کا رکن نہیں سمجھتے۔

2۔ اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اسے دین سمجھ کر اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔

3۔ کچھ لوگ اسے خواتین پر پابندی قرار دیتے ہیں ۔

4۔ کچھ لوگ اسے عورت کی حفاظت سمجھتے ہیں ۔

حقیقت یہ نہیں کہ حجاب کے احکام صرف اسلام میں بیان کئے گئے ہیں سچائی تو یہ ہے کہ حجاب کے متعلق احکام دین اسلام سے ماقبل کے ادیان و مذھب اور ممالک میں بھی رہے ہیں لیکن ان کا طرز اور انداز جداگانہ تھا اسلام نے اس کو دستوری اور اساسی اور اخلاقی حیثیت دی ہے۔ ضروری ہے کہ ماقبل اسلام کی مختصر تصویر پیش کی جائے ۔

یونانیوں کے نزدیک عورت گھر کی ملکہ تھی ، اس کے فرائض کا دائرہ گھر تک محدود تھا اور ان حدود میں وہ پوری طرح بااقتدار تھی ، اس کی عصمت ایک قیمتی چیز تھی جس کو قدر وعزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ، شریف یونانیوں کے ہاں پردے کا رواج تھا ، ان کے گھروں میں زنانخانے،مردانخانوں( یعنی مردوں کے لئے علحدہ اور عورتوں کے لئے علحدہ دیوان خانے) سے الگ ہوتے تھے ان کی عورتیں مخلوط محفلوں میں شریک نہ ہوتی تھیں ۔ یہ اس زمانے کا حال تھا جب یونانی قوم خوب طاقتور تھی اور پورے زور کے ساتھ عروج و ترقی کی طرف جا رہی تھی۔

رفتہ رفتہ اہل یونان پر نفس پرستی اور شہوانیت کا غلبہ شروع ہوا ، رنڈی کا کوٹھا یونانی سوسائٹی کے ادنی سے لے کر اعلی تک ہرایک کا مرکز و مرجع بنا ہوا تھا ،حسن پرستی نے شہوانیت کی آگ کو اسطرح بھڑکایا کہ وہ مجسموں اور آرٹ کے عریاں نمونوں میں اس کا اظہار کرتے تھے،معلمین اخلاق نے اس کو دوشخصیتوں کے درمیان’’ دوستی کا مضبوط رشتہ‘‘ قرار دیا۔ بڑے بڑے فلاسفہ اور معلمین اخلاق بھی زنا اور فحش میں کوئی قباحت اور کوئی چیز قابل ملامت نہ پاتے تھے۔

عام طور پر یونانی لوگ نکاح کو ایک غیر ضروری رسم سمجھنے لگے تھے اور نکاح کے بغیر عورت مرد کا تعلق بالکل معقول سمجھا جاتا تھا جس کو کسی سے چھپانے کی ضرورت نہ تھی، حتی کہ دیوی دیوتا کا عالم یہ تھا کہ ایک دیوتا کی بیوی ہوتے ہوئے اس نے تین مزید دیوتاؤں سے آشنائی کر رکھی تھی۔ان برائیوں کے نتیجے میں اس دور کے بعد یونانی قوم کو زندگی کا کوئی دوسرا دور پھر نصیب نہیں ہوا۔(پردہ۔ مودودی)

یونان کے بعد جس ملک کو عروج حاصل ہوا وہ روم ہے، ان کا نظام معاشرت میں یونان کی طرح پردے کا رواج تو نہ تھا ، مگر عورت اور جوان نسل کو خاندانی نظام میں کَس کر رکھا گیا تھا ، عصمت و عزت خصوصا عورت کے معاملے میں ایک قیمتی چیز تھی اور اس کو معیار شرافت سمجھا جاتا ، اخلاق کا معیار کافی بلند تھا، عورت اور مرد کے تعلق کی جائز اور شریفانہ صورت نکاح کے سوا کوئی دوسری نہ تھی۔

تہذیب و تمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ اہل روم کا نظریہ عورت کے بارے میں بدلتا چلا گیا اور رفتہ رفتہ نکاح و طلاق کے قوانین اور خاندانی نظام کی ترکیب میں اتنا تغیر رونما ہوا کہ نکاح صرف ایک قانونی معاہدہ(Civel Contract ) بن کر رہ گیا۔ رومی عورتیں معاشی حیثیت سے نہ صرف خود مختار ہوگئیں بلکہ قومی دولت کا ایک بڑا حصہ بتدریج ان کے حیطہ اختیار میں چلا گیا وہ اپنے شوہروں کو بھاری شرح سود پر قرض دیتی تھیں، اور مالدار عورتوں کے شوہر عملاً ان کے غلام بن کر رہ جاتے ۔

طلاق کی آسانیاں اس قدر بڑھیں کہ بات بات پر ازدواج کا رشتہ توڑا جانے لگا عورتیں اپنی عمر کا حساب شوہروں کی تعداد سے لگانے لگیں ، اس دور میں ایک عورت یکے بعد دیگرے کئی کئی شادیاں کرتی چلی جاتی تھی ‘‘ مارشل ایک عورت کا ذکر کرتا ہے :

’’جو 10 خاوند کرچکی تھی ۔‘‘

جودنیل ایک عورت کے متعلق لکھتا ہے:

’’ اس نے پانچ سال میں آٹھ شوہر بدلے۔‘‘

سینٹ جروم ان سب سے زیادہ باکمال عورت کا حال لکھتا ہے کہ جس نے ’’ آخری بار تیئیسواں شوہر کیا تھا اور اپنے شوہر کی بھی وہ اکیسویں بیوی تھی ۔‘‘

اخلاق و معاشرت کے بند جب اتنے ڈھیلے ہوگئے تو روم میں شہوانیت، عریانی اور فواحش کا سیلاب پھوٹ پڑا ۔تھیٹروں میں بے حیائی وعریانی کے مظاہرے ہونے لگے، ننگی اور نہایت فحش تصویریں ہر گھرکی زینت کیلئے ضروری ہوگئیں ، قحبہ گری کے کاروبار کا فروغ ہوا ، فلورا نامی ایک کھیل رومیوں میں نہایت ہی مقبول ہوا ، کیونکہ اس میں برہنہ عورتوں کی دوڑ ہوا کرتی تھی ، عورتوں اور مردوں کے برسر عام یکجا غسل کرنے کا رواج بھی اس دور میں عام تھا ۔بہیمی خواہشات ایسا پیوند خاک ہوا کہ پھر اس کی اینٹ بھی اپنی جگہ پر قائم نہ رہی۔( پردہ۔ مودودی)

دنیائے انسانیت کی قدیم تہذیبوں میں ایک ہندو مذہب بھی ہے ان کے پاس بھی عورت کے لئے پردے کا رواج اور حکم تھا جو ان کی بیشتر مذہبی کتابوں میں مذکور ہے جیسا کہ ہریش چریتم میں لکھا ہے:

’’جب سے شریف اور خاندانی عورتوں کے چہروں پر نقاب کی جالی نہ رہی ان کی شرم و حیاء جاتی رہی (ہرش اجھورس۔۲) اسی طرح ایک اور مقام پر مذکور ہے :

’’ سری کرشن کے ماموں کنشن متھرا کے راجہ نے جب کشتی کا دنگل قائم کیا تو مستورات کے دیکھنے کے لئے خاص مکانات بنوائے تھے، وہ اتنی بلندی پر تھے کہ راجہ ہنس اڑتے ہوئے نظر آتے تھے ان پر باریک جالی لگائی گئی تھی، جہاں سے خواتین دیکھتی تھیں۔‘‘ (مہابھارت، وشوپرتاب ادھائے:19)

ہندو دھرم میں سیتا جی کا بڑا مقام ہے ، بن باس (جلاوطنی) کے وقت جناب رام چندر جی سیتا کے ساتھ گھر سے نکلے تو لوگوں نے شور مچایا اور آہ و بکا کرنے لگے کہ کیا برا وقت آگیا ہے ، وہ سیتا جس کو آسمانی دیوتا بھی نہیں دیکھ پائے تھے اسے بازاری لوگ دیکھ رہے ہیں۔‘‘ ( رامائن ، اجودھیا کانڈم سرگ:33)

اسی طرح ارجن کی بیوی دریدی ایک مقام پر کہتی ہیں:

’’ اے بزرگوا! راجہ نے مجھے سوئمبر کے موقع پر دیکھا تھا، اس سے پہلے مجھے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔

آج بد قسمتی سے غیر مردوں کے سامنے آنا پڑا ، اجنبی لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں ، اس سے بڑھ کر اور کیا ذلت ہوگی کہ مجھ جیسی پاک دامن خاتون لوگوں کے روبرو آئے ، ہزار افسوس کہ راجہ دھرم کھو بیٹھے ، ہم تو سنتے آئے تھے کہ قدیم زمانے کے شرفاء اپنی منکوحہ کو کبھی بھی مجمع میں نہیں لے جاتے تھے افسوس اب اس خاندان کا دھرم جاتا رہا ۔‘‘ (مہا بھارت، سنہا پرب ادھیا:49)

ہندو مذہب کی یہ وہ تصویر ہے جسے موجودہ بھگوا دھاری فراموش کرہے ہیں۔

لیکن ہندومذھب کے ماننے والوں پر 1729 ء ۔ تا۔ 1924 ء تک ایک ایسا قانون انگریزی اقتدار اور اعلیٰ ذات کی جانب سے مسلط گیا کہ نچلی ذات کی خواتین کو بدن کے اوپری حصہ( یعنی سینے) کو چھپانے کی پابندی عائد کردی گئی اور یہ پابندی 195 سال تک نافذ العمل رہی اتنا طویل عرصہ نچلی ذات کی خواتین اپنا اوپری بدن ننگا ہی رکھ کی زندگی بسر کرتی تھیں۔

نچلی ذات کی کوئی بھی خاتون اگر وہ اپنے سینے کو چھپانا چاہتی تو اسے شرم ناک ٹیکس’’ مولاکرم‘‘ ادا کرنا پڑتا،اور جو خاتون ٹیکس ادا نہیں کرتی اس کا لباس ایک ہتھیار سے پھاڑ کر سرعام بے لباس کردیا جاتا تھا کافی جدوجہد کے بعد 19ویں صدی میں نادر طبقے کی ایک بہادر غریب خاتون’’ نانگیلی‘‘ نے وقت کی حکومت سے ٹکر لی اور ٹیکس کے بدلے اپنا سینہ کاٹ کر حاکم وقت کے سامنے پیش کردیا ،اسی حالت میں وہ اپنی قوم کے حق میں تڑپتے ہوئے مرگئی اور یہ قانون کالعدم قرار دیا گیا۔

کچھ ایسا ہی حال دنیائے مسیحیت کا بھی رہا ہے اس کے بر خلاف دین اسلام کا آفاقی نظام ہے جس میں تبدیلی اور رد و بدل کا حق نہ صحابہ کو ، نہ تابعین کو ، نہ تبع تابعین کو ، نہ علمائے ربانی کو کسی بھی زمانے میں حاصل نہیں رہا اور نہ رہے گا، بلکہ اس شریعت کا نفاذ خلفائے راشدین ، امراء وبادشاہوں پر فرض عین ہے اسی لئے تاقیامت مسلمان اس کے نفاذ کی جدوجہد میں لگا رہے گا اسلامی احکام و قوانین سے سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ۔

اس کے برخلاف دین اسلام نے خواتین کو تحفط و امن فراہم کیا ہے ان کے عزت و عصمت و ناموس کی حفاظت کے لئے سخت ترین قوانین مرتب کئے گئے ہیں اور سختی سے نافذ بھی کیا گیا جب تک ماحول پر امن تھا اس وقت تک پردے کا حکم نازل نہیں ہوا لیکن جب دین اسلام کو فروغ حاصل ہوا اور ہر چارسو دشمنوں کی بھرمار ہوئی ، مختلف تہذیبوں کے لوگ مدینہ میں اکٹھا ہونے لگے-

یہود ومشرکین و منافقین کی ریشہ دوانیوں کے خطرات بڑھنے لگے تو سیدنا عمر بن الخطاب کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بہت زیادہ اصرار تھا کہ اپنی بیویوں کو پردہ کروائیں در اصل واقعہ یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں رات میں مناصع کی طرف قضا حاجت کے لئے جاتیں اور مناصع ایک کھلا میدان ہے، تو سیدنا عمر رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے کہ اپنی بیویوں کو پردہ کروائیں۔

مگر رسول اللہ ﷺ نے اس ( مشورہ) پر عمل نہیں کیا ، ایک روز رات کو عشاء کے وقت( ام المؤمنین )سودہ بنت زمعہ رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ جو دراز قد عورت تھیں ( باہر) گئیں ۔ سیدنا عمر نے انھیں آواز دی ( اور کہا ) ہم نے تمہیں پہچان لیا اور ان کی خواہش یہ تھی کہ پردہ ( کا حکم) نازل ہوجائے ۔ چنانچہ( اس کے بعد) اللہ نے پردہ( کا حکم) نازل فرمادیا۔‘‘ ( صحیح بخاری: 146 )

سیدنا اَنس بن مالک بیان فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ کا سیدنا صفیہ سے نکاح ہوا اور تقریب ولیمہ کے بعد جب ’’ ہم مدینہ جانے لگے تو میں نے دیکھا کہ

رسول اللہ ﷺ نے عباء سے سیدہ صفیہ کیلئے پردہ کرایا ۔‘‘ (صحیح بخاری:2235 )

برقعہ اور پردہ میں چہرہ داخل ہے چونکہ چہرہ ہی خوبصورتی و حسن و جمال کا مظہر ہے ، عورت کی خوبصورتی کا اندازہ چہرہ سے ہی لگایا جاتاہے ،ہم خود جب اپنے بیٹوں کے لئے لڑکیاں دیکھتے ہیں تو سب سے پہلے چہرہ ہی دیکھا جاتا ہے ، یا ہم کسی بھی لڑکی کی خوبصوتی کے بارے میں ہی سوال کرتے ہیں:

’’ ایک صحابی نے انصار کی خاتون سے نکاح کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ انصار کی عورتوں کا چہرہ دیکھ لو کیونکہ ان کی آنکھ میں عیب ہوتا ہے۔‘‘

جب ام المؤمنین سیدہ عائشہ غزوہ بنو المصطلق سے واپسی کے موقع پر پیچھے رہ گئیں اور لشکر اسلام آگے نکل گیا اور وہ چھوٹ گئیں جب وہ لوٹیں تو حیران رہ گئیں کہ اسلامی لشکر کوچ کرچکا ہے، ایک سائے دار درخت کے نیچے بیٹھ گئیں اس امید سے کہ کوئی آئے گا ، آپ کو نیند لگ گئی اور اور کچھ دیر کے بعد سیدنا صفوان بن معطل لشکر کے پڑاؤ کی جگہ واپس آئے تاکہ مسلمانوں کا گرا پڑا ساز و سامان اٹھا کر لے جائیں۔

جب انھوں نے دیکھا کہ ام المؤمنین چھوٹ گئی ہیں تو انا للہ پڑھا ، ان کی آواز سن کر سیدہ عائشہ جاگ گئیں کہتی ہیں کہ

’’ سب سے پہلے اپنی چادر سے میں نے اپنے چہرے کو ڈھانپا ۔‘‘

معلوم ہوا کہ چہرہ پردہ کی چیز ہے اس کو کسی پر ظاہر نہیں کیا جائیگا۔اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں :

’’ کعبۃ اللہ میں دوران طواف جب بھی مردوں کی کوئی جماعت ہمارے نزدیک سے گزرتی تو ہم اپنی چادروں سے اپنے چہرے کو چھپا لیتے ۔‘‘

دین اسلام نے خواتین کے لئے ستر و حجاب کے حدود بیان کئے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«لَا يَحِلُّ لِاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخَرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا »

’’ کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے جائز نہیں کہ وہ اپنا ہاتھ اس سے زیادہ کھولے، یہ کہہ کر آپ نے اپنی کلائی کا نصف حصہ پر ہاتھ رکھا۔ ‘‘ ( ابن جریر)

پردہ و حجاب کا بنیادی مقصد کسی بھی خاتون کی عدم معرفت ہے یعنی کوئی عور ت شناخت نہ کی جائے کہ وہ کس کی بیٹی بہن ، ماں، بیوی ہے، جوان ہے کہ بوڑھی ہے ، کس قبیلے ، خاندان و گھرانے کی ہے اس کے علاوہ وامن وامان میں رہے بدقماشوں ، اور آوارہ لوگوں کی شرارت کا شکار نہ ہوں کیونکہ برقعہ شرافت و تکریم کی نشانی ہے۔ اس مقصد کوخود اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بیان کیا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ﴾ (سورة الاحزاب: 59 )

’’ اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے چہروں پر نقاب ڈالا کریں اس سے ان کی بہت جلد شناخت ہوجایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔‘‘

اس آیت میں خاص حکم چہروں کے چھپانے کا دیا گیا ہے جب مسلمان عورتیں مستور ہوکر باہر نکلیں گی تو لوگوں کو معلوم ہوجائیگا کہ شریف عورتیں ہیں ، بے حیاء نہیں ہیں اسی لئے کوئی ان سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرے گا ۔

ایسی بوڑھی اور عمر رسیدہ عورتیں جن کا حسن جاتا رہا اور خوبصورتی زائل ہو چکی ہو ،اور جن کے ایام ماہواری بند ہوچکے ہوں،اور جن کی نفسانی خواہشات و نکاح کی رغبت ختم ہوچکی ہوان کے لئے حجاب کے مسائل میں اللہ سبحانہ و تعالی نے شرطیہ تخفیف دی ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

﴿وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَن يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ ۖ وَأَن يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ ﴾ (سورة النور:8 )

’’ اوربڑی بوڑھی عورتیں جو نکاح کی امید نہیں رکھتیں اگر اپنے ڈوپٹے اتار کر رکھا کریں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، بشرطیکہ اپنی زینت کی نمائش نہ ہو، اگر وہ احتیاط رکھیں تو یہ ان کے لئے بہتر ہے۔‘‘

برقعہ یا حجاب ایسے باریک کپڑے کا نہ ہو جس سے جسم کا اندرونی حصہ نظر آئے بلکہ وہ ایسے موٹے کپڑے کا ہو جس سے اندرونی حصہ دکھائی نہ دے ایک مرتبہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر جو رسول اللہ ﷺ کی سالی تھیں ایک مرتبہ باریک لباس پہن کر سامنے آئیں اور ان کا جسم اندر سے جھلک رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی نظروں کو پھیر لیا‘‘ اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ سیدہ حفصہ بنت عبد الرحمن، سیدہ عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور وہ ایک باریک ڈوپٹہ اوڑھے ہوئے تھیں ، سیدہ عائشہ نے اسے پھاڑ دیا اور ایک موٹی اوڑھنی ان پر ڈالی۔‘‘(مؤطا امام مالک)

جو عورتیں باریک و پتلا اور چست حجاب وبرقعہ اوڑھتی ہیں ان پر نبی ﷺ نے سخت تنبیہ کی ہے اور فرمایا:

«لَعَنَ اللّٰہُ الکَاسِیَاتِ العَارِیَاتِ»

’’لعنت ہے ان عورتوں پر جو لباس پہن کر بھی ننگی نظر آتی ہیں ۔‘‘

اور سیدنا عمر بن الخطاب نے ارشادفرمایا تھا:

’’اپنی عورتوں کو ایسے کپڑے نہ پہناؤ جو جسم پر اسی طرح چست ہوں کہ سارے جسم کی ہیئت نمایاں ہو۔‘‘ ( المبسوط)

اکیسویں صدی عیسوی میں مخالف اسلام تحریکوں نے حجاب کو سیاسی مسئلہ بنادیا اور اسلام اور مسلمانوں کی اندھی مخالفت پر اتر آئے اور ایوانوںمیں حجاب کے خلاف قرار دادیں منظور کیں اورسخت قوانین مرتب کئے، اس ضمن میں سب سے پہلا مغربی ملک فرانس ہے جس نے حجاب پر پابندی لگائی ، فرانس میں مسلم خواتین کو گھر سے باہر حجاب پہن کر نکلنے پر نہ صرف پابندی عائد ہے بلکہ جرمانے کے ساتھ ساتھ سات دن کی قید کی سزاء کا بھی قانون نافذ کیا ہے۔

ہرسال 4 ستمبر کو حجاب کاعالمی دن منایا جاتا ہے یہ دن 4 ستمبر 2004ء کو فرانس میں حجاب پر پابندی کے قانون کی منظوری کے بعد سے منایا جا نے لگا ،سب سے پہلے اسے منانے کا آغاز بھی فرانس ہی سے ہوا بعد میں کینڈا کی یونیورسٹیوں میں بھی اس کا آغاز ہوا۔ فرانس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بلجیم، آسٹریلیا اور ہالینڈ نے حجاب پر پابندی کا اعلان کیا ہے ’’ہالینڈ ‘‘کے وزیر اعظم ’’ میکسن‘‘ نے کہا تھا:

’’آئندہ سال برقعہ، نقاب ، یا حجاب اور ایسے ملبوسات جن سے چہرہ نظر نہ آئے ایسے لباس پہننے پر مکمل پابندی ہوگی۔‘‘

حجاب کی مخالفت میں پروان چڑھائے جانے والے فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے دو خواتین نے بہت ہی جدوجہد کی ہے ان میں سے ایک بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی ناظمہ خان نے سوشیل میڈیا پر حجاب تحریک شروع کیا ۔

ناظمہ خان بیان کرتی ہیں:

’’جب وہ نیویارک کے اسکول میں پڑھتی تھیں تو انھیں’’ حجابی لڑکی‘‘کہا جانے لگا ، جب وہ مڈل اسکول میں پہنچیں تو انھیں ’’بیاٹ میان‘‘( یعنی چمگاڈرکے نقش پر بنایا گیا ایک کردا ر ہے۔‘‘

مثال کے طور پر ’’ اسپیڈر میان‘‘ کا تصور ہے جو مکھڑی کے نقش پر بنایا گیا ایک کردار ہے) یا’’ننجا‘‘ (یعنی قدیم زمانے کے جاپانی ماشل آرٹس کے سیکھنے والوں کا وہ کالا لباس جو سیکھتے وقت پہنا کرتے تھے بالخصوص جو جاسوسی اور قتل کے ملازم ہوا کرتے تھے اور بنا ہتھیار کے لڑا کرتے تھے) کے نام سے پکارا جانے لگا ۔‘‘

اسی طرح 11؍2001ء کے بعدجب وہ کالج پہنچیں تو انھیں ’’ اسامہ بن لادن‘‘یا ’’ دہشت گرد‘‘ کہا جا تا تھا۔

مخالف تحریک’’ حجاب‘‘کے بالمقابل سینہ سپر ہونے والی دوسری خاتون ’’ مروہ الشربینی ‘‘ ہیں، جن کا تعلق مصر سے تھا ، لیکن وہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ جرمنی میں مقیم ہوگئیں ، جب بھی وہ باحجاب اپنے گھر سے نکلتیں تو ان کا پڑوسی ’ ایلکس ‘‘ نامی جو روسی نژاد جنونی قسم کا آدمی تھاان پر سخت الفاظ میں طنزیہ فقرے کستا تھا، مجبورا اس خاتون نے قانون کا سہارا لیا بالآخراس پر جرمانہ عائد کیا گیا۔

جولائی 2009ء کی بات ہے کہ قانونی لڑائی کے دوران جب عدالت میں دونوں کا آمنا سامنا ہوا تو ’’ایلکس‘‘ نے ایک تیز دھار چاقو سے اس خاتون مروہ پر یہ کہتے ہوئے حملہ کردیاکہ:’’ تم کو جینے کا کوئی حق نہیں‘‘ اور تین ماہ کی حاملہ مروہ اسلام دشمنی، نفرت و تعصب کی بھینٹ چڑھ گئیں۔(إنا للہ وإنا إلیه راجعون)

اس کا جرم صرف’’ حجاب‘‘ پہننا تھا عالم اسلام نے مروہ کو’’ شہیدۃ الحجاب‘‘ کے خطاب سے نوازا۔

حجاب کے معاملے میں کسی بھی فتنے و شرانگیزی سے ہندوستان پاک و صاف تھا لیکن اچانک مسلم دشمنی میں سنگھ پریوار اور بھگوادھار ی تحریکوں نے کرناٹکا میں اچانک سورش بپا کی، اور آنا ًفاناً ہی سارا ملک اس کی لپیٹ میں آگیابلکہ ساری دنیا میں اس کا شور مچ گیا ، لیکن میسور کی اس بہادر بیٹی مسکانخان کے حوصلے کو سلام جس نے تن تنہا بھگوا دھاریوں کا مقابلہ’’ اللہ اکبر‘‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے کیاجس کے سبب سارے مخالفین حجاب حیران و ششدر رہ گئے اور ان کے اوسان خطا ہو گئے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ حجاب پرپابندی کے ذریعہ سے مخالف اسلام محاذ کی نیت یونان اور روم کے نقوش قائم کرنے کی ہے۔ ہم اسے صرف سیاسی ہتھکنڈہ نہ سمجھیں بلکہ یہ ایک ایسی تحریک ہے جو مسلم امہ کو دین سے برگزشتہ کرنا چاہتی ہے ۔ یہاں دوسری بات یہ بھی یاد رکھنے کی ہے کہ مخالفین اسلام نے یہ پیغام مسلم امت کے اکابرین و قائدین کو صاف طور پر دے دیا ہے کہ ملک میں رہناہو تو ہمارے مرہون منت اور رحم و کرم پررہو۔

ضروری ہے کہ امت کے ٹھیکیدار جاگیں اور مسلم تعلیمی نظام کو قائم کریں ، تمام جامع مساجد اور اوقافی اراضیات پر تعلیمی ادارے قائم کرکے امت کی بقا کی فکر کی جائے ، تاکہ ملت اسلامیہ کے نونہال معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ مکمل مذہبی پیرھن اپنا سکیں جہاں ان کا دین بھی قائم رہے اور وہ دنیا میں بھی ترقی کرتے رہیں کیونکہ غیر مسلم تعلیمی ادارے مسلم امت کے ساتھ جو رویہ اختیار کرنے والے ہیں بات صاف کردی گئی ہے ۔

تبصرہ کریں