رسول اللہ ﷺ کا پیغام افواہیں پھیلانے والوں کے نام۔ محمد عبد الرحیم خرم عمری جامعی

’’ افواہ‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جو ’’فَوَهٌ‘‘ سے بنا ہے اردو زبان میں بھی مستعمل ہے، قرآن مجید میں اس لفظ کو بارہ(12) مقامات پر ذکر کیا گیا ہے، جس کے معنی ہیں ’’بے اصل بات مشہور کرنا ، جھوٹی خبر مشہور کرنا، اڑتی ہوئی خبر ، غیر یقینی و نامعتبر لوگوں کی خبریں۔

لفظ’’ افواہ‘‘کو مختلف اندازاور لب و لہجے میں شعراء کرام نے بھی استعمال کیا ہے کسی شاعر نے کہا :

آتا ہے کون کون میرے غم کو بانٹنے

محسن تو میری موت کی افواہ اڑا کے دیکھ

شاعر راحت اندوری نے کہا تھا:

افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہے

لوگوں نے پوچھ پوچھ کے بیمار کردیا

اور ایک شاعرحزیں لدھیانوی نے کہا تھا:

جتنے مفلس ہیں وہ ایک روز تونگر ہوں گے

ایک افواہ سنی ہے مگر اخباری سی

دین اسلام نے افواہ کو برائی گناہ اور ایک سماجی برائی تصور کیا ہے اوراس سماجی برائی کو سختی کے ساتھ ختم کرنے کی تعلیم دی ہے اور اور ایسے لوگوں کو دنیا و آخرت کے انجام بد سے باخبر بھی کیا ہے ، عوام الناس میں سے بعض کا یہی مشغلہ ہوتا ہے کہ وہ صبح سے شام تک کوئی نہ کوئی افواہ پھیلاتے رہتے ہیں اور انسانی سماج بالخصوص مسلم امت کو آزمائشوں،اضطراب و کرب سے دوچار کرتے رہتے ہیں ۔اس دور میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جدید میڈیا و ذرائع ابلاغ و خبر رساں ادارے بھی اس کے محرک و علمبردار ہیں جس کے سبب سماجی زندگیاں درہم برہم ہیں ، بنا کسی تحقیق و تصدیق کے کوئی نہ کوئی خبر مشہور کردی جاتی ہے کسی کے ساتھ بھی ناجائز رشتوں کو جوڑ دیا جاتا ہے ، کسی بھی خاندان کو بد نام کردیاجاتا ہے ، کسی کے بھی انتقال کی خبر عام کردی جاتی ہے ، کہیں بھی فسادات کی خبریں مشہور کردی جاتی ہیں، کسی کا الزام کسی کے سرڈال دیا جاتا ہے ، ایسی خبروں سے انسانیت مجروح ہوجاتی ہے اور سماج میں کشمکش شروع ہوجاتی ہے ، خاندان ٹوٹ جاتے ہیں ، فرقہ وارانہ منافرت پھیل جاتی ہے ، دنگا و فساد مچ جاتا ہے اسی لئے دین اسلام نے سب سے پہلے اس بات کی تعلیم دی ہے کہ

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾ (سورۃ الحجرات:6)

’’اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے لئے پریشانی اٹھاؤ۔‘‘

کسی بھی خبر کی تصدیق سے پہلے تحقیق ضروری ہے میڈیا اور واٹس اپ کے اس دور میں لوگوں کو غیر مصدقہ خبریں اڑانے میں بڑی دلچسپی نظر آتی ہے یہ سلسلہ چنگاری کو آگ بنا دیتا ہے ، شعلے کو آتش فشاں بنا دیتا ہے اور لوگ اس سے لذت حاصل کرتے ہیں یہی نہیں گھریلو جھگڑے ،مساجدو مدارس اور مذہبی جماعتوں کے اختلافات، مذہبی و سیاسی شخصیتوں کی کمزوریوں کو بڑی لذت نفس کے ساتھ پھیلایاجا رہا ہے، ایک زمانہ تھا خبیث و جاہل قسم کے گروہ یہ کام کیا کرتے تھے اب تو شریف النفس علماء زعماء قائدین ہر کس و ناکس اس میدان کا ہیرو نظر آتا ہے، اسلامی شریعت نے گمراہ کن خبروں اور افواہوں سے نمٹنے کے متعدد طریقے استعمال کئے ہیں ، اس میں سے ایک جھوٹ کے خلاف جنگ ہے ، کیونکہ افواہ پھیلانے والوں کی ابتداء ایسے ہی لوگوں سے شروع ہوتی ہے جو حقیقت واقعہ کے بالکل خلاف باتوں کو گھڑتے ہیں جو شریعت کی نظر میں حرام اور جھوٹ ہے اسی لئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا :

﴿ لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ﴾

’’ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘ (سورۃ آل عمران:61)

اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«وَأَنَّ الکَذِبَ یَهْدِیْ إِلَی الفُجُوْرِ، وَإِنَّ الفُجُوْرَ یَهْدِیْ إِلَی النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَکْذِبُ حَتَّی یُکْتَبُ عِنْدَ اللّٰہِ کَاذِبًا»

’’یقیناً جھوٹ برائی کی جانب لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘( صحیح بخاری:6094)

اسی طرح جھوٹ کی مذمت یوں بیان کی گئی ہے کہ سیدنا حسن بن علی روایت کرتے ہیں کہ

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«دَعْ مَایُرِیْبَكَ إِلَی مَالَایُرِیْبُكَ فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأنِیْنَةٌ وَالکِذب رِیْبَةٌ»

’’ اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اس چیز کو اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے ،سچائی دل کو مطمئن کرتی ہے اور جھوٹ دل کو بے قرار کرتا ہے۔‘‘ (جامع ترمذی:2518 )

جھوٹی خبروں کو عام کرنے والوں اور افواہوں کو پھیلانے والوں کو اس حدیث سے سبق لینا چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ

’’ دو فرشتے آپ کو لے کر ایک ایسے شخص کی جانب چلے جو اپنی گدّی کے بل چت لیٹا ہوا تھا ،اور اس کے پاس ایک اور شخص( فرشتہ) لوہے کا ترشول لئے کھڑا تھا ، پھر وہ اس کے منہ کے ایک طرف جاکر اس کا جبڑاگدّی تک پھاڑ ڈالتا۔ نتھنے اور آنکھ کو بھی اسی طرح گدی تک چیز دیتا پھر دوسری جانب پلٹ کر ایسا ہی کرتا ، جیسا کہ پہلی جانب کیا تھا ،اور ایک طرف چیرکر فارغ نہیں ہوتا کہ دوسری طرف کا حصہ بالکل درست ہوکر اپنی اصلی حالت پر آجاتا ،پھر وہ اس کی طرف پلٹ کر ایسا ہی چیر پھاڑ کرتا جیسا کہ پہلی بار چیرا پھاڑا تھا ، نبی کریم ﷺ کہتے ہیں تو میں نے اپنے ساتھ والے دونوں فرشتوں سے پوچھا : سبحان اللہ ، یہ دونوں کون ہیں ؟ تو ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ: وہ شخص جس کے پاس آپ آئے اور جس کا جبڑا اور نتھنے کو گدّی تک چیرا جا رہا تھا وہ ایسا شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور جھوٹ بولتا جو دور دور تک پھیل جاتا(افواہ بن جاتی) ۔‘‘ ( صحیح بخاری:7047 )

اسی طرح جھوٹی خبر اور افواہ پھیلانے والے ہر مسلمان کو رسول اللہ ﷺکے اس ارشاد پر غور و فکر کرناچاہئے :

«إِنَّ العَبْدَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مَایَتَبَیَّنُ فِیْهَا یَزِلُّ بِهَا فِیْ النَّارِ أَبْعَدَ مِمَّا بَیْنَ المَشْرِقِ وَالْـمَغْرِب»

’’ آدمی اپنی زبان سے ایک بات بولتا ہے اور اس کے متعلق سوچتا نہیں (کہ وہ بات کتنی پھیلے گی کتنا کفر وفساد اور بے حیائی کی طرف لے جائیگی ،قوم و ملت پر اس کا کیا اثر پڑے گا )جس کی وجہ سے وہ جہنم کے گڈھے میں اتنی دور تک گرتا ہے جتنا پچھّم سے پورپ کا فاصلہ ہے۔‘‘ (صحیح مسلم:8892 )

افواہوں کو ہوا دینے والا ایک دوسرا عنصر یہ ہے کہ آدمی جو سنتا ہے اسے بنا تصدیق کے پھیلا دیتا ہے ایسے بہت سے کم ظرف ہیں وہ کہتے ہیں کہ بات میڈیا اورواٹس اپ پرآئی ہم نے شیئر کردی، فلاں فلاں شخص نے کہہ دی ہم نے پھیلا دیا ، یہ انداز فکر انتہائی گھناونا ہے اور اللہ کی نظر میں بہت ہی بری بات ہے رسول اللہﷺ نے ایسے شخص کی مذمت کی ہے اور کہا کہ ایسا ہی آدمی سب سے بڑا جھوٹا و کذاب ہے اور فرمایا :«کَفَی بِالْمَرْءِ کَذِباً أَنْ یُحَدِّثَ بِکُلِّ مَاسَمِعَ » (صحیح مسلم:5 )

’’ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات ( بلاتحقیق) بیان کردے۔‘‘

اسی لئے تمام مسلمانوں کو رسول اللہﷺ نے اس بات کی تعلیم دی ہے کہ

«مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالیَوْمِ الآخِرِ، فَلْیَقُلْ خَیْرًا ، أَوْ لَیَصْمُتْ»

’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان و یقین رکھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اپنی زبان کھولے تو بھلی بات کرے یا خاموش ہوجائے۔‘‘ (صحیح بخاری: 6019)

ہر افواہ پھیلانے والے اور جھوٹی خبر کو عام کرکے اضطراب پیدا کرنے والے مسلمان کو یہ عقیدہ رکھنا چاہئے کہ ان کی ہرحرکت کو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعہ محفوظ کرو ارہا ہے کراما کاتبین ہمارے ہر بول کو محفوظ کر رہے ہیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں کیا ہے:

﴿مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾ (سورۃ ق:18 )

’’ (انسان) منہ سے جو لفظ بھی نکالتا ہے ، اس کے پاس نگہبان ( فرشتے اسے لکھنے کے لئے) تیار رہتے ہیں۔‘‘

جو لوگ افواہوں کو سن کی یقین کرلیتے ہیں انھیں اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ہر گز یقین نہ کریں بلکہ کنارہ کشی اختیار کرلیں، افواہ پھیلانے والے در اصل مسلم سماج میں خفیہ طور پر داخل ہوجاتے ہیں در اصل وہ منافق ہیں جو چاہتے ہیں کہ مسلم سماج میں اضطراب پیدا ہوجائے جس کا ذکر اللہ نے کیا ہے:

﴿لَوْ خَرَجُوا فِيكُم مَّا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًا وَلَأَوْضَعُوا خِلَالَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَفِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ﴾ (سورۃ التوبہ: 47)

’’اگر یہ تم میں مل کر نکلتے بھی تو تمہارے لئے سوائے فساد کے اور کوئی چیز نہ بڑھاتے بلکہ تمہارے درمیان خوب گھوڑے دوڑا دیتے اور تم میں فتنے ڈالنے کی تلاش میں ر ہتے ان کے ماننے والے خود تم میں موجود ہیں اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘

اس آیت کی رو سے وہ سب لوگ منافقانہ عادتوں کو اختیار کئے ہوئے ہیں جو افواہوں کو پھیلا کر مسلم امت و سماج کو انتشار کی سمت ڈالنا چاہتے ہیں اور ان میں باہمی افتراق پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔

افواہیں اور جھوٹی خبروں کو سننے کے بعد اہل ایمان کا یہ رد عمل ہونا چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو کنارہ کش کر لیں اور اپنے دامن کو بچا لیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

﴿وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ﴾ ( سورۃ القصص: 55)

’’اور جب بیہودہ بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کنارہ کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے عمل تمہارے لئے ، تم پر سلام ہوہم جاہلوں سے ( الجھنا) نہیں چاہتے۔‘‘

امام ضحاک﷫بیان فرماتے ہیں کہ

’’ جب کوئی آدمی تمہارے پاس آکر یہ کہے کہ فلاں مرد اور فلاں عورت ایسے ایسے برے کام کرتے ہیں تو اس کی تصدیق نہ کرو۔‘‘( الدر المنثور)

تاریخ اسلام اور احادیث میں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جس میں دشمنان اسلام اور منافقین اور حاسدین کی جانب سے پھیلائی جانے والی افواہوں کے سبب ملت اسلامیہ کوبڑا نقصان اٹھانا پڑاہے پوری ملت اسلامیہ میں ہیجان بپا ہوا، نفسا نفسی کا معاملہ پیش آیا چند واقعات کا تذکرہ یہاں کیا جاتا ہے:

1۔ سب سے پہلا واقعہ توام المؤمنین سیدہ عائشہ پر عائد کیا جانے والا’’واقعہ افک‘‘ ہے جو منافقین کی جانب سے پھیلائی جانے والی افواہوں میں سے سب سے بڑی افواہ تھی جسے ان کے سردار عبد اللہ بن اُبی بن سلول اور اس کے چیلوں نے تحریک بنا کر پیش کیا ، سارے منافقین اس افواہ کو پھیلا کر اپنے کمینے پن اور دل کے روگ کو ثابت کیا ، لیکن اس کی زد میں بعض مسلمان بھی آگئے اور اس افواہ کو یقینی سمجھ لیا ، خود رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق الم واضطراب اور کشمکش کی صورت حال سے گزرے ، سارے صحابہ کرام حیران و پشیمان ہوگئے ، اس وقت کا سارا اسلامی معاشرہ ہیجان و اضطراب کی کیفیت کا شکار ہوگیا، سارے مسلم سماج پر غم کی تاریکی چھا گئی ، صورت حال ایسی ہوگئی کہ کریں تو کیا کریں اور کہیں تو کیاکہیں ۔ افواہیں اسی طرح سارے سماج کو ششدر کردیتی ہیں ۔حتی کہ سیدہ عائشہ کو اپنے والد کے گھر جانا پڑا ۔اس افواہ کے متعلق جوبھی واقعات کتب احادیث ہیں ہم پڑھ سکتے ہیں لیکن اس کی تصویر و تکلیف کو قلمبند نہیں کر سکتے۔ایک مہینہ کے اضطراب کے بعد اللہ تعالیٰ نے جب آپ کی شان میں پاکدامنی کی آیتیں نازل فرمایا تب جاکر رسول اللہ ﷺ ، سیدنا ابو بکر صدیق اور تمام صحابہ کرام اور مسلم سماج کو سکون نصیب ہوا ۔اس سارے واقعہ میں کمال کا پہلو یہ ہے کہ افواہ کی اس تحریک سے خود سیدہ عائشہ بے خبر رہیں۔ اسی چیز کو افواہ کہتے ہیں، شخصیتیں حقیقت حال سے بے خبر رہتی ہیں لیکن اس کے خلاف افواہ پھیلادی جاتی ہے۔ اسی لئے اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ جب ایسی افواہ والی، بے بنیاد جھوٹی خبریں عام ہوجائیں تو اسے یقین کرنے کے بجائے اس کا رد کریں، کہیں کہ

﴿سُبْحَانَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ﴾

’’ اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے یہ تو سب سے بڑا الزام ہے۔‘‘ (سورۃ النور:12 )

اسی طرح اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ کسی معزز ومعتبر متقی ، پرہیزگار ، قائد ، رہنما ، رہبر ، عالم و فاضل کے متعلق خبر آئے تو اس کے متعلق خیر و بھلائی سوچیں اور کہیں کہ یہ تو واضح کھلم کھلا بہتان ہے۔‘‘

2۔ افواہوں کی تاریخ میں دوسرا واقعہ یہ کہ مدینہ میں یہ افواہ پھیلائی جارہی تھی کہ یہودیوں نے مسلمانوں پر جادو کر دیا ہے اسی لئے مسلمانوں کے یہاں کوئی اولاد پیدا نہیں ہورہی ہے ،(اور ظاہر سی بات ہے کہ موجودہ زمانے میں ایسی ہی افواہیں پھیلاکر رشتے اور ناطے توڑدئے جاتے ہیں اور ازدواجی زندگی کو اجیرن بنا دیا جاتا ہے )

اس طرح کی افواہوں کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سماج ومعاشرے کو ذہنی طور پر الجھا دیا جائے اور ان میں اضطراب پیدا کیا جائے اس افواہ سے متعلق پوری روایت کتب حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ ’’ سیدہ اسماء بنت ابوبکر فرماتی ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ان کے پیٹ میں تھے انہوں نے کہا کہ پھر میں ( جب ہجرت کے لئے) نکلی تو وقت ولادت قریب تھا ، مدینہ منورہ پہنچ کر میں نے پہلی منزل قبا میں کی اور یہیں سیدنا عبد اللہ بن زبیر پیدا ہوئے ، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بچے کو لے کر حاضر ہوئی اور اسے آپ کی گود میں رکھ دیا ، رسول اللہ ﷺ نے کھجور طلب فرمایا اور اسے چبایا اور بچے کے منہ میں اپنا تھوک ڈال دیا ، چنانچہ پہلی چیز جو اس بچے کے منہ میں گئی وہ رسول اللہ ﷺ کا تھوک مبارک تھا ، پھر آپ نے کھجور سے تحنیک کی اور اس کے لئے برکت کی دعا فرمائی ، یہ سب سے پہلا بچہ اسلام میں ( ہجرت مدینہ کے بعد ) پیدا ہوا ، صحابہ کرام بہت خوش ہوئے کیونکہ یہ افواہ پھیلائی جارہی تھی کہ یہودیوں نے تم مسلمانوں پر جادو کردیا ہے اس لئے تم مسلمانوں کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوگا ۔‘‘ (صحیح بخاری:5469)

3۔ افواہوں کی تاریخ میں تیسرا واقعہ سیدنا عثمان کی شہادت کی افواہ کا ہے جب صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺنے سیدنا عمر کے مشورہ سے سیدنا عثمان کو اپنا سفیر بنا کر اہل مکہ کی خدمت میں روانہ کیا ، کیونکہ ان کا خاندان وقبیلہ مکہ میں قیام پذیر تھااور وہ اچھی طرح آپ کا پیغام پہنچانے کے متحمل تھے رسول اللہ ﷺ نے انہیں سیدنا عثمان کو حکم دیا کہ

’’ انہیں( اہل مکہ) کو بتادو کہ ہم لڑنے کے لئے نہیں آئے ہیں ،بلکہ عمرہ کرنے آئے ہیں ، انہیں اسلام کی دعوت بھی دو۔‘‘

اور آپ نے فرمایا کہ

’’ مکہ میں اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے پاس جاکر انہیں فتح کی بشارت سنا دیں اور بتلادیں کہ اللہ عزوجل اب اپنے دین کو مکہ میں ظاہر و غالب کرنے والا ہے یہاں تک کہ ایمان کی وجہ سے کسی کو یہاں روپوش ہونے کی ضرورت نہ ہوگی۔‘‘

سیدنا عثمان آپ کا پیغام لے کر روانہ ہوئے ،مکہ پہنچ کر سیدنا عثمان نے سربراہان قریش کو رسول اللہ ﷺ کا پیغام سنا دیا، جب آپ کی سفارت مکمل ہوچکی تو قریش نے باہمی مشورہ اور قطعی فیصلہ کرنے کے لئے آپ کو روک لیا تاکہ سیدنا عثمان کو جواب دے کر واپس کردیں ، لیکن دوسری جانب (منافقین کی جانب سے)یہ افواہ پھیلادی گئی کہ سیدنا عثمان کو اہل مکہ نے قتل کردیا ہے ، جب رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے ایک درخت کے نیچے تمام صحابہ سے سیدنا عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے بیعت رضوان لی ، جب بیعت مکمل ہوئی تو سیدنا عثمان بھی واپس آگئے اور انہوں نے بھی بیعت کی۔‘‘ اس بیعت میں سب حاضر تھے سوائے ایک منافق کے جس کا نام جد بن قیس تھا۔( الرحیق المختوم:533؛ مسند احمد:10790)

( اس واقعہ کو ہم نے یہاں بہت ہی مختصر بیان کیا ہے)

4۔ افواہوں کی تاریخ میں چوتھا واقعہ جنگ اُحد کا ہے جو سنہ 3 ہجری میں واقع ہوا، جب جنگ کا شیرازہ بکھر گیا اور مسلمان حیران و سرگرادان تھے ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کدھر جائیں ، شیطان نے یہ افواہ پھیلادی ، کسی پکارنے والے کی پکار سنائی دی کہ محمدﷺ قتل کردئے گئے ہیں ،اس خبر سے مسلمانوں کا رہا سہا ہوش بھی جاتا رہا ، اکثر لوگوں کے حوصلے بھی ٹوٹ گئے، بعض نے لڑائی سے ہاتھ روک لیا اور درماندہ ہوکر ہتھیار پھینک دئے۔ اس خبر کے صحیح ہونے میں شک و شبہ کی گنجائش تک باقی نہ تھی ، بقول سیدنا عبد اللہ بن عباس کے ابھی ہماری یہی کیفیت تھی کہ نبی کریم ﷺسعد نامی دو صحابہ کے درمیان نمودار ہوئے ہم نے ان کی چال ڈھال سے پہچان لیا ، ہم بہت خوش ہوئے اور ایسی خوشی محسوس ہوئی کہ گویا ہمیں کوئی تکلیف پہنچی ہی نہیں۔‘‘

( الرحیق المختوم:413؛ مسند احمد:2478) (یہاں واقعہ مختصربیان کیا گیا ہے)

5۔افواہوں کی تاریخ کا پانچواں واقعہ یہ ہے کہ سیدنا عروہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں سب سے پہلے تلوار چلانے والے سیدنا زبیر ہیں، ایک مرتبہ یہ افواہ پھیلی کہ رسول اللہ ﷺ کو کافروں نے گرفتار کر لیا ہے ، اس خبر پر سیدنا زبیر تلوار تھام کر لوگوں سے گزرتے ہوئے گئے، رسول اللہ ﷺ مکہ کے بالائی حصے میں تھے ملاقات ہوئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’اے زبیر ! کیا ہوا ؟ سیدنا زبیر نے عرض کیا کہ مجھے خبر ملی تھی کہ آپ کو کافروں نے پکڑ لیا ہے ، اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں دعا دی اور ان کی تلوار کے لئے بھی دعا فرمائی ۔‘‘ ( ابن ابی شیبہ:19864)

الغرض افواہوں کی بھی ایک تاریخ ہے لیکن یہاں غور کرنا ہے کہ افواہیں پھیلانا اور افواہوں پر یقین کرنا مسلمان کا کام نہیں ہے افواہ پھیلانا، در اصل یہ منافقین ، مشرکین اور یہود و کفار کا طریقہ ہے جو افوہوں کے ذریعہ مسلمانوں کو خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں۔ امت مسلمہ میں جو لوگ افواہوں کو پھیلانے کے عادی ہیں یا اس طرح کی افواہوں کی تصدیق کرتے ہیں تو انھیں اپنی عادتیں بدلنی چاہیے کیونکہ یہ غیر مسلمانہ عادتیں ہیں ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو اضطراب آمیز جھوٹی افواہیں پھیلانے سے محفوظ رکھے۔ ( آمین )

شبِ قدر

شاد وخرم نہ ہوں کیوں اہل زمیں آج کی رات

ہے جو مائل بہ کرم عرشِ نشیں آج کی رات

حاملِ دین بنے سرورِ دیں آج کی رات

جن پہ نازل ہوا قرآنِ مبیں آج کی رات

آج کی رات پہ قربان ہزاروں راتیں

صرف اک رات بس اک رات نہیں آج کی رات

بزمِ دنیا میں فرشتوں کی جماعت لے کر

رونق افروز ہیں جبریلؑ امیں آج کی رات

لیلۃ القدر ملی ہے تو غنیمت سمجھو

کیا ہر انسان کو ملتی ہے کہیں آج کی رات

مری شبہہ رگ سے ہے نزدیک مکر اے مولا

آمرے اور قریں اور قریں آج کی رات

پوچھتے کیا ہو شب قدر کی قدر وقیمت

آسماں بن گئی یہ سطح زمیں آج کی رات

خیر وبرکت بھی ہے انوار کی با رش بھی ہے

کتنی پُرکیف ہے اور کتنی حسیں آج کی رات

آج کی رات شب قدر جو کہلاتی ہے

ہر خذف ریزہ ہے ایک درّثمیں آج کی رات

روح کو ملتی ہے بالیدگئ فکر ونظر

تازہ ہو جاتا ہے ایمان ویقیں آج کی رات

بھر گیا گوہرِ مقصود سے دامانِ طلب

شادماں ہو گیا ہر قلب حزیں آج کی رات

آج کی رات ہر اک ذرّہ ہے جو سربہ سجود

خود بخود جھک گئی میری بھی جبیں آج کی رات

چاند سورج کو ضیاء بخشی ہے جس نے حماد

خانۂ دل میں مکیں ہے وہ حسیں آج کی رات

مولانا ابو البیان حماد عمری

تبصرہ کریں