رسول اللہ ﷺ کا ہنسنا ، مسکرانا اور مزاح فرمانا۔( قسط 42)۔ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حبشہ سے مدینہ منورہ آمد پر آپﷺ کا خوش ہونا!

حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حبشہ سے مدینہ منورہ آمد پر آپﷺ نے انہیں چوم کر فرمایا، مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کس بات کی خوشی زیادہ ہے۔

غزوۂ خیبر میں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئے، ان کے ساتھ  اَشعری مسلمان یعنی حضرت ابو موسی اَشعری رضی اللہ عنہ اور ان کے رُفقاء بھی تھے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ یمن میں ہمیں رسول اللہ ﷺ کے ظہور کا علم ہوا تو ہم لوگ یعنی  مَیں اور میرے دو بھائی اپنی قوم کے پچاس آدمیوں سمیت اپنے وطن سے  ہجرت کر کے ایک کشتی پر سوار آپ کی خدمت میں روانہ ہوئے، لیکن ہماری کشتی نے ہمیں  نجاشی کے ملک حبشہ میں پھینک دیا، وہاں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان  کے رفقاء سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بھیجا ہے اور یہیں  ٹھہرے رہنے کا حکم دیا ہے اور آپ لوگ بھی ہمارے ساتھ ٹھہر جائیے۔ چنانچہ ہم لوگ بھی ان کے ساتھ ٹھہر گئے اور خدمت نبوی میں اس وقت  پہنچ سکے جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے، آپ نے ہمارا بھی حصہ لگایا، لیکن ہمارے علاوہ کسی بھی شخص کا جو فتح خیبر  میں موجود نہ تھا، کوئی حصہ نہیں لگایا، صرف شرکاءِ جنگ ہی کا حصہ لگایا، البتہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کے ساتھ ہماری کشتی والوں کا بھی حصہ لگایا اور ان کے لیے بھی مال غنیمت تقسیم کیا اور جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو آپﷺ نے ان کا استقبال کیا اور انہیں چوم کر فرمایا، واللہ میں نہیں  جانتا  کہ مجھے کس بات کی خوشی زیادہ ہے، خیبر کے فتح کی یا جعفر کی آمد کی۔

یاد رہے کہ ان لوگوں کو بلانے کے لیے رسول اللہﷺ نے حضرت عمرو بن ابی اُمیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو نجاشی کے پاس بھیجا تھا اور اس سے کہلوایا تھا کہ وہ ان لوگوں کو آپ کے پاس روانہ کرے، چنانچہ نجاشی نے دو کشتیوں پر سوار کر کے انہیں روانہ کر دیا، یہ کل 16 آدمی تھے اور ان کے ساتھ ان کے باقی ماندہ بچے اور عورتیں بھی تھیں، بقیہ لوگ اس سے  پہلے مدینہ آ چکے تھے۔

(الرحقیق المختوم، بحوالہ صحیح بخاری: ج1، حدیث: 443، زاد المعاد: 2؍139؛ تاریخ خضری: 1؍128)

اس رب سے جو ہنستا ہے، اس سے ہم مایوس نہیں ہیں، یہ سن کر آپﷺ ہنس پڑے

ابو الربیع بن سالم نے اپنی کتاب الاکتفاء میں بیان کیا ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ تبوک سے واپس ہوئے تو بنی خزارہ کا وفد آپ کی خدمت میں آیا جو دس سے زیادہ لوگوں پر مشتمل تھا، جو رملہ بنت الحارث کے گھر میں ٹھہرے تھے جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اسلام کا  اقرار کرنے کے لیے آئے تھے اور جو دبلی پتلی سواریوں پر آئے ہوئے تھے، اللہ کے نبی ﷺ ان کے ملکوں کے متعلق دریافت فرما رہے تھے، ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول (ﷺ) ہمارے ملک  خشک ہو چکے ہیں، ہمارے مویشی ہلاک ہو چکے ہیں، ہمارے بچے فاقہ کشی کا شکار ہیں، اپنے پروردگار سے آپ دعا فرمائیے کہ وہ ہم پر بارش نازل فرمائے، اپنے رب سے ہمارے لیے سفارش فرمائیے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: پاک ہے اللہ کی ذات، خرابی ہو تیری، میں نے اللہ سے سفارش کی ہے، کون ہے جو اللہ کے پاس سفارش کرے گا، اس اللہ عظیم کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کی کر سی آسمانوں اورزمین پر وسیع ہے، اس کی کرسی سے ایسی آواز آتی ہے جیسے نئی سواری سے آواز آتی ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ ہنستا ہے۔ دیہاتی نے پوچھا کہ اللہ کے رسول (ﷺ) اس نے کہا کہ پھر ہم ہنسنے والے رب  کی خیر سے مایوس نہیں! اللہ کے نبی ﷺ اس کی بات پر ہنس پڑے۔ پھر منبر پر چڑھے اور چند کلمات ارشاد فرمائے اور آپ ﷺ کسی دعا پر اپنے دونوں  ہاتھوں کو بلند نہیں فرماتے تھے، سوائے استسقاء (بارش طلب کرنے کی دعا) کے، چنانچہ آپ ﷺ نے  دو نوں ہاتھوں کو بلند فرمایا،یہاں تک کہ آپﷺ کے بغلوں کی سفیدی دیکھی گئی، آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! تو ہمیں سیراب کر ایسی بارش سے جو مددگار خوش گوار، سرسبز کرنے والی اور مفید ہو، نقصان دہ نہ ہو، جلد ہو  نہ کہ دیر سے آنے والی، اے اللہ! پانی پلا اپنے بندوں کو اور اپنے چوپایوں کو اور پھیلا دے اپنی رحمت اور زندہ کر دے اپنے مردہ (بنجر اور بے آباد) شہر کو۔  (زاد المعاد: 3؍571)

جنگ حنین کے موقع پر ہوازن قبیلہ کا تیاری کے ساتھ میدان جنگ کی طرف جانے کا سن کر آپﷺ کا مسکرانا

حضرت سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرمﷺ کےساتھ مقام حنین کو نکلے،جب شام ہوئی تو نماز کے لیے رسول اکرمﷺ کے پاس آ گئے، اتنے میں  ایک آدمی آپ کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا کہ میرے سامنے قبیلہ ہوازن کے لوگ اپنے مال اور مویشی اور اہل وعیال کے ساتھ مسلمانوں سے  مقابلہ کے لیے حنین کی طرف رواں دواں ہیں، یہ سن کر اللہ کے نبی ﷺ نے مسکرایا اور فرمایا کہ اگر اللہ چاہے تو کل یہ سب مسلمانوں کا مال غنیمت ہو گا، پھر آپﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ آج رات کون ہمارے لیے پہرہ دے گا؟انس بن  مرثد الغنوی نے کہا کہ میں اے اللہ کے رسول (ﷺ!) آپﷺ  نے فرمایا: سوار ہو جاؤ، اپنی سواری پر اور اس گھاٹی کی سب سے اونچی جگہ پر چلے جاؤ، چنانچہ جب صبح ہوئی تو وہ نماز کے لیے آپ ﷺ کی خدمت میں آئے،آپ ﷺ نماز صبح سے  فارغ ہو چکے تھے، آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا رات میں کچھ محسوس کیے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا، کیا اپنی جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہوئے، انہوں نے کہا کہ نہیں،  صرف نماز کے لے یا ضرورت کے لیے!آپ ﷺ نے یہ سن کر ان سے فرمایا کہ تم پر واجب ہو گئی ہے (جنت)، اب اس  کے بعد تمہیں کچھ بھی عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (سنن ابو داؤد، کتاب الجہاد، حدیث صحیح: 2501)

حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو ایک سفر میں اللہ کے نبیﷺ نے بطور مزاح زاملہ فرمایا!

حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں  اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ تھا، پڑاؤ کرنے کے بعد جب قافلہ چل پڑتا تو بچا ہوا  سامان آپﷺ مجھ پر لاد دیتے اور آپﷺ مجھے بطور مزاح  زاملہ (باربرداری کرنے والا اونٹ) سے یاد فرماتے تھے۔  (مجمع الزوائد:  ج 9، حدیث: 398)

رسول اکرم ﷺ کی سب سے زیادہ محبوب سورت

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال  اثناءِ سفر میں راہ چلتے رسول اللہﷺ  نے اپنی اونٹنی پر ہی سورۃ  فتح کی تلاوت کی اور ترجیع سے پڑھ رہے تھے، اگر مجھے لوگوں کے جمع ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا  تو میں آپ کی تلاوت کی طرح ہی تلاوت  کر کے تمہیں سنا دیتا۔ (تفسیر ابن کثیر، سورۂ فتح کی تفسیر بحوالہ بخاری ومسلم اور مسند احمد)

﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا ١ لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّـهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا٢ وَيَنصُرَكَ اللَّـهُ نَصْرًا عَزِيزًا﴾ ’’بے شک  اے نبی ہم نے تمہیں ایک ظاہر فتح دی ہے تاکہ جو کچھ  آپ کے گناہ کئے ہوئے اور جو پیچھے رہے سب کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے اور تم پر اپنا احسان پورا پورا کرے اور آپ کو سیدھی راہ چلائے۔ اور آپ کو ایک زبردست مدد دے۔ (سورۃ الفتح: 1۔3)

مسند احمد میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، تین مرتبہ میں نے آپ سے کچھ پوچھا، آپ نے کوئی جواب نہ دیا، اب تو مجھے سخت ندامت ہوئی  اس امر پر کہ افسوس میں نے حضور کو تکلیف دی، آپ جواب دینا نہیں  چاہتے اور میں نے خواہ مخواہ آپ کو پریشان کیا، پھر مجھے ڈر لگنے لگا کہ اس بے ادبی  پر میرے بارے میں کوئی وحی آسمانی نہ نازل ہو، چنانچہ میں نے اپنی سواری کو تیز کیا اور آگے نکل گیا،  تھوڑی دیر  گزری تھی کہ  میں نے سنا کوئی منادی  میرے نام کی ندا کر رہا ہے، میں نے جواب دیا تو اس نے کہا چلو تمہیں حضور یاد فرماتے ہیں، اب تو ایک دم ڈر گیا کہ ضرور کوئی وحی نازل ہوئی اور میں ہلاک ہوا،  جلدی جلدی حاضرِ حضور ہوا تو آپﷺ نے فرمایا، گزشتہ شب مجھ پر ایک  ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا ومافیہا سے زیادہ عزیز ہے اور وہ ہے: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا﴾’’ اے محمد (ﷺ)! بے شک ہم نے آپ کو فتح دی، فتح بھی صریح وصاف تاکہ  اللہ آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے۔

(مسند احمد: 1؍31)

امام احمد رحمہ اللہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ آیت کریمہ ﴿لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّـهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ نبی اکرمﷺ پر حدیبیہ سے واپسی پر نازل ہوئی، نبی اکرمﷺ نے  فرمایا، رات مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا کی ساری چیزوں سے زیادہ عزیز ہے، پھر نبی اکرمﷺ نے  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ آیت پڑھ کر سنائی تو  صحابہ  رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، اے اللہ کے نبی(ﷺ!) مبارک مبارک! اللہ تعالیٰ نے یہ تو بیان  فرما دیا  کہ وہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا لیکن سوال یہ ہے کہ وہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ تو اس کےجواب میں آپ پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:

﴿لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عِندَ اللَّـهِ فَوْزًا عَظِيمًا﴾

’’اس لیے کہ وہ مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو بہشتوں  جن کے نیچے نہریں بہہ رہیں، داخل کرے وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور تاکہ ان سے ان کی برائیاں دور کر دے اور یہ اللہ  کے ہاں بہت بڑی کامیابی ہے۔ ‘‘ (سورۃ الفتح: 5) (مسند احمد: 4؍ 255؛ صحیح بخاری: 4836؛ صحیح مسلم: 2819)

٭٭٭

تبصرہ کریں