رسول اللہ ﷺ کا ہنسنا ، مسکرانا اور مزاح فرمانا (قسط 48)۔ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

رسول اقدس ﷺ یہ ارشاد سن کر مسکرائے اور ارشادفرمایا:’’حسان تم نے سچ کہا۔‘‘

جب تاریخ انسانی کا حیرت انگیز واقعہ معراج کی صورت میں رونما ہوا تو رسول اقدسﷺ نے شب معراج میں پیش آنے والے واقعات ومشاہدات کا تذکرہ صنادید قریش کے سامنے کیا تو وہ اپنی ہنسی پر قابو نہ پا سکے۔ ازراہ مذاق سیدنا صدیق اکبر سے کہا: لو سن لو، اپنے پیشوا کا عجیب وغر یب انکشاف۔ کہتا ہے کہ میں ایک ہی ر ات میں بیت المقدس، مسجد اقصیٰ اور پھر ساتوں آسمانوں کی سیر کر آیا ہوں۔ ابو بکر تم ان کی ہر بات کو سچ مانتے ہو۔ ہمیں بھی مجبور کرتے رہتے ہو کہ ہم ان پر ایمان لے آئیں۔ اب بتاؤ کیا یہ بات بھی سچ ہے؟ آپ نے پوچھا تم نے یہ بات کس سے سنی ہے؟ کہنے لگے ، آپ کے پیر ومرشد سے ہم نے اپنے کانوں سے سنا ہے۔

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سنتے ہی برجستہ ارشاد فرمایا:

’’ سردارانِ قریش میری بات کان کھول کر سن لو۔ اگر یہ بات میرے پیرومرشد ہادی برحق حضرت محمدﷺ کی زبان مبارک سے نکلی ہے تو میں صدق دل سے اس کی سچائی کو تسلیم کرتا ہوں۔ مجھے اس کے سچ ہونے میں ذرہ برابر بھی شک نہیں۔‘‘

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ انتہائی رقیق القلب تھے۔ جب قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی۔ ان کی مخلصانہ دعوت پر لبیک کہتے ہوئے سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا طلحہ بن عبد اللہ، سیدنا عثمان بن مظعون، سیدنا ابو عبیدہ بن جراح، سیدنا ابو سلمہ اور سیدنا خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہم جیسی جلیل القدر ہستیاں دائرہ اسلام میں داخل ہوئیں۔ ایک دن رسول اقدسﷺ نے شاعر اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے پوچھا۔ کیا تم نے ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی کوئی شعر کہا ہے؟عرض کیا کیوں نہیں؟ سماعت فرمائیں:

إِذا تَذَكَّرتَ شَجواً مِن أَخي ثِقَةٍ

فَاِذكُر أَخاكَ أَبا بَكرٍ بِما فَعَلا

خَيرَ البَرِيَّةِ أَتقاها وَأَعدَلَها

إِلّا النَبِيَّ وَأَوفاها بِما حَمَلا

وَالثانِيَ الصادِقَ المَحمودَ مَشهَدُهُ

وَأَوَّلَ الناسِ مِنهُم صَدَّقَ الرُسُلا

’’جب تمہیں قابل اعتماد بھائی کا غم یاد آئے تو اپنے بھائی ابو بکر کو ان کے کارنامے کی بنا پر یاد کر لیا کرو۔ وہ نبی اقدسﷺ کے بعد تمام مخلوق میں تقویٰ اور عدل کے اعتبار سے بہتر ہے۔ انہوں نے جو ذمے داری لی اسے پورا کر دکھایا۔ وہی ثانی اور آپﷺ کے بعد متصل ہیں۔ جن کی مشکلات میں موجودگی قابل قدر کارنامہ ہے۔ لوگوں میں وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔‘‘

رسول اقدسﷺ یہ اشعار سن کر کر مسکرائے اور ارشاد فرمایا:

’’حسان تم نے سچ کہا۔ واقعی ابو بکر ایسے ہی ہیں جس کا اظہار تم نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔‘‘

مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے مدینہ منورہ کے دو یتیم بچوں سہل اور سہیل سے جو زمین خریدی گئی تھی اس کی تمام قیمت بھی سیدنا ابو بکر صدیق نے اپنی جیب سے ادا کی۔ سیدنا ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ کے جود وسخا کا اعتراف کرتے ہوئے رسول اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا:

«ومَا نفَعَنِي مَالُ أحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعِني مالُ أبي بِكْرٍ » (صحيح الجامع: 5661)

’’ ابو بکر کے مال نے جو مجھے فائدہ دیا اتنا کسی اور کے مال نے مجھے فائدہ نہ دیا۔‘‘

وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے مفلسی اور تنگدستی کے دور میں جانی اور مالی قربانیاں پیش کیں۔ قرآن کریم میں ان کی عظمت، رفعت اور سربلندی کا تذکرہ ان نورانی الفاظ میں کیا ہے۔

﴿لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا﴾ (سورة الحديد: 10)

’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور اللہ کی راہ میں لڑے۔ ان لوگوں کے برابر وہ لوگ نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح کے بعد خرچ کیا اور لڑے۔‘‘

اس آیت کریمہ میں جن جود وسخا کے پیکر صحابہ کرام کا تذکرہ کیا گیا ہے، ان میں سیدنا ابو بکر صدیق سرفہرست ہیں۔ رسول اقدسﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیق کے احسانات کا اعتراف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

« إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَىَّ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ»(صحيح بخارى)

’’بلاشبہ لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جس کا جان ومال کے اعتبار سے ابو بکر سے زیادہ مجھ پر کوئی احسان ہو۔‘‘

لسان رسالت سے خراج تحسین کے یہ الفاظ صرف سیدنا ابوبکر صدیق کے بارے میں ادا کیے گئے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ پوری امت میں ممتاز اور منفرد دکھائی دیتے ہیں۔ (حکمران صحابہ از محمود احمد غضنفر)

رسول اقدسﷺ نے کھڑکی سے پردہ ہٹایا، مسکراتا ہوا چہرہ جھلملانے لگا!

سیدنا ابو موسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اپنی آخری علالت وبیماری کے دنوں میں ارشاد فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ! وہ بڑے نرم دل ہیں، وہ آپ کے مصلے پر کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ آپﷺ نے دوبارہ ارشاد فرمایا: جاؤ ابو بکر سے کہو کہ نماز پڑھائیں۔ میں نے پھر سیدہ حفصہ سے کہا کہ اب آپ رسول اقدسﷺ کی خدمت میں عرض کریں۔ انہوں نے یہی عرض کیا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بجائے سیدنا عمررضی اللہ عنہ  کو نماز پڑھانے کا کہہ دیں۔ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’ جاؤ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ تم یوسف کے ساتھی عورتوں کی مانند ہو۔ لہٰذا سیدنا ابوبکر صدیق نے رسول اقدسﷺ کی موجودگی میں لوگوں کو نماز پڑھائی۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

یہ حدیث بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کی خلافت پر دلالت کرتی ہے۔ ایک دن سیدنا ابو بکر صدیق معمول کے مطابق نماز پڑھا رہے تھے۔ دوران جماعت رسول اقدسﷺ تشریف لے آئے۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  پیچھے ہٹنے لگے۔ آپﷺ نے اشارے سے منع کر دیا اور خود ان کی دائیں طرف بیٹھ کر نماز ادا کی۔ (صحیح بخاری)

یہ حدیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق امت میں سب سے افضل تھے اور وہی خلیفہ رسول ﷺ ہونے کے حقدار تھے۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کے اقامت کہی گئی۔ رسول اقدسﷺ نے کھڑکی سے پردہ ہٹایا ، مسکراتا ہوا چہرہ جھلملانے لگا، ایسا دلکش ودلآویز منظر ہم نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ آپﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ جماعت کرائیں۔ پھر پردہ لٹکا دیا، اس کے بعد وفات تک ہمیں آپﷺ کی امامت میں نماز پڑھنے کی سعادت نصیب نہ ہو سکی۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

اس حدیث سے بھی خلافت صدیق اکبر کی طرف واضح اشارہ ملتا ہے کیونکہ رسول اقدسﷺ کی بیماری کے ایام میں سیدنا ابو بکر صدیق ہی نماز لوگوں کو پڑھاتے رہے۔(حکمران صحابہ از محمود احمد غضنفر)

آپﷺ اپنی لاڈلی بیٹی کے گھر گئے، بیٹے کو دیکھا، مسکرائے!

3 ہجری رمضان المبارک کی 15 تاریخ تھی، رسول اقدسﷺ کو خبر ملی کہ سیدہ فاطمۃ الزہراء کے آنگن میں ایک پھول کھلا ہے۔ اس کی گود کو اللہ تعالیٰ نے ایک چاند سے بیٹے سے مزین کیا ہے، آپ یہ خبر سن کر بہت خوش ہوئے۔ اپنی لاڈلی بیٹی کے گھر گئے۔ بیٹے کو دیکھا، مسکرائے پوچھا، اس کا نام کیا رکھا ہے؟ عرض کیا گیا کہ اس کا نام ’حرب‘ تجویز کیا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’ نہیں، اس کا نام ’حسن‘ ہو گا۔ یہ انوکھا نام سرزمین عرب میں معروف نہ تھا۔ ساتویں دن 2 مینڈھے عقیقے کے لیے ذبح کیے گئے۔ سر کے بال اتروا کر ان کے ہم وزن چاندی اللہ کی راہ میں دی گئی۔

رسول اقدسﷺ اپنے نواسے کو دیکھ کر مسرت کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔ اسے پل بھر دیکھنے کے لیے اکثر اپنی لخت جگر خاتون جنت فاطمۃ الزہراء  رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جایا کرتے۔ جب یہ چلنے کے قابل ہوئے تو اکثر وبیشتر مسجد نبوی میں آ جاتے، رسول اقدسﷺ اگر نماز میں مشغول ہوتے تو یہ معصومانہ انداز میں کھیلتے کبھی قیام کی حالت میں ٹانگوں کے درمیان سے گزرتے کبھی سجدے کی حالت میں پیٹھ پر سوار کبھی آپ اسے اپنی گود میں اٹھا لیتے۔

’’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات‘‘ کا خوشنما منظر دیکھ کر آپ خوش ہوتے۔

اس طرح ان کے چھوٹے بھائی حضرت حسین سے بھی محبت وشفقت بھرے انداز میں پیش آتے۔ ایک دفعہ آپ نے اپنے دونوں لاڈلے نواسوں کو گود میں بٹھایا ہوا تھا، آپ نے ان دونوں کی طرف محبت بھرے انداز میں دیکھتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ یہ دونوں شہزادے میرے لیے دنیا کی خوشبو ہیں۔ یہ دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہوں گے۔‘‘

سیدنا حسین  رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا:

’’ میرا یہ بیٹا سردار ہے، امید ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا۔‘‘

آپ کی پیشین گوئی اس وقت سچ ثابت ہوئی جب انہوں نے رضائے الٰہی کے حصول اور امت مسلمہ کے مفاد کی خاطر سیدنا امیر معاویہ کے حق میں مسند خلافت سے دستبرداری کا اعلان کر دیا اور امت کو خونریزی سے بچا لیا۔(حکمران صحابہ از محمود احمد غضنفر)

آپﷺ اسے اپنی طرف آتا ہوا دیکھ کر مسکرائے پھر اس سے بیعت لی!

سیدہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب ہجرت کی تو وہ اس وقت حاملہ تھیں جب وادی قباء میں پہنچی تو اس نے عبد اللہ بن زبیر کو جنم دیا۔ وہ اسے لے کر رسول اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ نے نومولود کو اپنی گود میں لیا پھر ایک کھجور منگوائی۔ سیدہ عائشہ  رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے گھر میں کھجور تلاش کی اور آپﷺ کی خدمت میں پیش کر دی۔ آپ نے اسے چبایا اور پھر اس نومولود کے منہ میں ڈال دیا، اس طرح اس کے بدن میں سب سے پہلی غذا جو داخل ہوئی وہ رسول اقدسﷺ کا لعاب دہن تھا۔

سیدہ اسماء كہتی ہیں کہ پھر رسول اقدسﷺ نے اس کے سر پر اپنا مبارک ہاتھ پھیرا، اس کے لیے رحمت کی دعا کی اور اس کا نام عبد اللہ رکھا۔ جب اس کی عمر سات آٹھ سال ہوئی تو اس کے والد سیدنا زبیر بن عوام اسے لے کر بیعت کے لیے رسول اقدسﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اسے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھ کر مسکرائے پھر اس سے بیعت لی۔ (صحیح مسلم)

سیدنا عامر بن عبد اللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ میرے ابا جان ایک روز رسول اقدسیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ نے سنگی لگائی ہوئی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا، یہ خون ایسی جگہ پھینک آؤ جہاں تجھے کوئی نہ دیکھتا ہو۔ وہ باہر گیا اور خون پی لیا، واپس آئے تو رسول اقدسﷺ نے پوچھا خون کا کیا کیا؟ عرض کیا، یا رسول اللہﷺ! میں نے اپنی دانست کے مطابق سب سے زیادہ مخفی جگہ میں اسے انڈیلا، آپ نے یہ بات سن کر ارشاد فرمایا:

’’مجھے یوں محسوس ہوتا ہے، شاید آپ نے اسے پی لیا ہے۔ عرض کی، ہاں یا رسول اللہﷺ! آپ کی بات درست ہے۔ آپ نے جلال میں آ کر کہا، ارے بھائی آپ نے خون کیوں پی لیا؟

لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کے جسم میں جو حیرت انگیز طاقت تھی وہ اسی خون کی برکت کا اعجاز تھا۔ (حلیۃ الاولیاء، مستدرک حاکم، مجمع الزوائد)

محمد بن ابی یعقوب بیان کرتے ہیں کہ جب امیر معاویہ عبد اللہ بن زبیر سے ملتے تو خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرماتے:

’’ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی کے بیٹے حواری رسول زبیر بن عوام کے فرزند ارجمند خوش آمدید۔ اور اس کی خدمت میں ایک لاکھ درہم پیش کرنے کا حکم صادر فرماتے۔ (تہذیب از ابن عساکر)

ابن جریج بن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ایک دفعد سیدنا عبد اللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما کے پاس عبد اللہ بن زبیر کا تذکرہ کیا گیا۔ تو آپ نے اس کی تعریف کرتے ہوئے ار شاد فرمایا: ’’ اس کے کیا کہنے، کتاب اللہ کا علامہ، پاک دامن، اس کا باپ زبیر بن عوام اس کی والدہ اسماء بنت ابی بکر ، اس کا نانا ابو بکر صدیق ، اس کی پھوپھی سیدہ خدیجۃ الکبریٰ ، اس کی خالہ سیدہ عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا، اس کی دادی صفیہ بنت عبد المطلب۔

یہ نصیب کی بات ہے۔ یہ پاکیزہ واعلیٰ نسبتیں اعلیٰ مقدر والے ہی کو ملتی ہیں۔ ( صحیح بخاری، حلیۃ الاولیاء، مستدرک حاکم؛ حکمران صحابہ از محمود احمد غضنفر)

٭٭٭

دین اخلاق ہی کا نام ہے

حافظ ابن قیم الجوزیہ  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

’’دین تمام تر حسن اخلاق ہی سے عبارت ہے ، جو اخلاق عالیہ میں تم سے بڑھا ہوا ہے ، وہ دین میں تم سے زیادہ ہے ۔‘‘

خلفاے راشدین کی محبت اوراس کی برکات

امام ایوب سختیانی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

مَنْ أَحَبَّ أَبَا بَكْرٍ فَقَدْ أَقَامَ الدِّينَ ، وَمَنْ أَحَبَّ عُمَرَ فَقَدْ أَوْضَحَ السَّبِيلَ ، وَمَنْ أَحَبَّ عُثْمَانَ فَقَدِ اسْتَنَارَ بِنُورِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمَنْ أَحَبَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَقَدِ اسْتَمْسِكْ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى ، وَمَنْ قَالَ الْحُسْنَى فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ بَرِئَ مِنَ النِّفَاقِ

’’جس نے سیدنا ابوبکر  رضی اللہ عنہ سے محبت کی ،اس نے دین کو قائم کیا ؛ جس نے سیدنا عمر سے محبت کی ، اس نے راہِ حق کو واضح کر دیا؛ جس نے سیدنا عثمان سے محبت کی ، اس نے نورِ خداواندی سے روشنی پائی ؛ جس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ  سے محبت کی ، اس نے مضبوط حلقے کو تھام لیا اور جس نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے باب میں اچھی بات کہی ، وہ نفاق سے بری ہو گیا ۔( کتاب الثقات ، ابن حبان ؛ البدایۃ و النھایۃ)

مشاجراتِ صحابہ اورعلماے سلف

وجاء رجل إلى الإمام أبي زرعة الرازي -رحمه الله- فقال : يا أبا زرعة أنا أبغض معاوية . قال : لِمَ ؟ قال : لأنه قاتَل عليا . فقال أبو زرعة : إن ربَّ معاوية ربٌّ رحيم وخصمَ معاوية خصمٌ كريم فما دخولك أنت بينهما _رضي الله عنهم_ أجمعين .

ایک شخص امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں سیدنا معاویہ سے بغض رکھتا ہوں ؟ امام نے پوچھا : کیوں ؟ کہا : کیوں کہ انھوں نے سیدنا علی  رضی اللہ عنہ سے جنگ کی۔ امام ابو زرعہ رحمہ اللہ  نے فرمایا :

’’معاویہ کا رب رحیم ہے اور ان کے مد مقابل کریم ہیں ؛ تو بیچ میں دخل دینے والا کون ہے ؟‘‘ (حوالہ فتح الباری)

تبصرہ کریں