رسول اللہ ﷺ کا ہنسنا ، مسکرانا اور مزاح فرمانا۔ (قسط 43)۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا تو آپﷺ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا!

مضبوط گھٹا ہوا اور پھرتیلا جسم، کشادہ سینہ، بارعب چہرہ، عقابی نگاہیں، بلند خیالی، شعلہ نوائی اور پختہ ارادی کا قابل رشک نمونہ، ظاہری وباطنی حسن وجمال اور جاہ وجلال کا پیکر، شجاعت، بہادری اور جرات میں بے مثال، شہسواری، نیزہ بازی اور شمشیرزنی کا ماہر، بے خوف، زندہ دل اور مہم جو، غزوہ احد میں مہارت، جرأت مندی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجاہدین کا شیرازہ بکھیرنے والا جوان رعنا، غزوہ موتہ میں اپنی شجاعت اور حسن تدبیر سے مٹھی بھر مجاہدین کو دشمن کے نرغے سے سلامتی وحفاظت سے نکال لانے والا جواں مرد ومدبر قائد، روم وفارس کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دینے والا ایک عظیم جرنیل، میدان کارزار میں دشمنوں کی صفوں کو چیرنے والا ایک بہادر ونڈر جنگجو، اعدائے اسلام کے سروں پر لٹکنے والی شمشیر بے نیام جس کی بہادری وبےجگری سے کفار کے دل دہشت زدہ ہو گئے، جس کے طوفانی حملوں اور فتوحات سے دنیا محو حیرت ہو گئی، جسے شاہ امم سلطان مدینہ ﷺ نے سیف اللہ ( اللہ کی تلوار) کا لقب دے کر نشان حیدر عطا کیا۔ جو پوری دنیا کی عسکری تاریخ میں ایک عظیم جر نیل کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔ فتح ونصرت جس کی قدم بوسی کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی تھی۔ جس کی جنگی مہارت کے اپنے تو کیا بیگانے بھی معترف تھے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بچپن ہی سے نہایت پھرتیلے، چاق وچوبند اور جرأت مند تھے۔ قبیلہ بنومخزوم کے سردار ولید بن مغیرہ کے فرزند ارجمند ہونے کے سبب قبیلے کے ہر فرد کی آنکھ کا تارا تھے۔ جوان ہو کر آپ کے تدبر اور شجاعت کا رنگ اور نکھرا۔ آپ بنو مخزوم کے قابل رشک جوانوں میں شمار ہونے لگے۔ سڈول جسم میں بلا کی کشش تھی، دور جاہلیت میں اشراف میں شمار ہوتے تھے۔ بدر سے لے کر حدیبیہ تک قریش کے لشکر کی کمان ان کے سپرد رہی، اس کےبعد ان کا سینہ اسلام کی نورانی کرنوں سے منور ہو گیا۔ ان کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بھی نہایت دلچسپ ودل آویز ہے۔

طبقات ابن سعد میں حارث بن ہشام کے حوالے سے منقول ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے تقریباً ہر معرکے میں رسول اکرمﷺ کے مقابلے میں خم ٹھونک کر آیا ہوں۔ لیکن ہر مرتبہ آپ کا رعب ودبدبہ میرے دل پر طاری ہوا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی محبت میرے دل میں پیدا کر دی۔ ایک دفعہ جب رسول اکرمﷺ اپنے اصحاب کو میدان جنگ میں ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے میں نے دل میں سوچا کہ یہ بڑا مناسب موقع ہے، اگر اس وقت حملہ کر دیا جائے تو مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ لیکن حوصلہ نہیں پڑ رہا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ کسی غیبی طاقت نے مجھے روک لیا ہے۔ پھر آپ نے اسی میدان میں عصر کی نماز پڑھائی پھر دل میں خیال آیا کہ ان کی پردہ غیب سے حفاظت ہو رہی ہے۔ یقیناً خطہ عرب بلکہ پوری دنیا پر غالب آ جائیں گے۔

جب قریش سے مصالحت کرنے کے بعد آپ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ واپس مدینہ پلٹ گئے تو میں نے سوچا ، اب کیا ہو گا؟

یہ خیالات میرے دل میں آنے لگے کہ کیا میں حبشہ چلا جاؤں؟ وہاں کا حکمران نجاشی تو پہلے ہی محمدﷺ کا دامن گیر ہو چکا ہے اور آپ کے ساتھی وہاں امن کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

کیا شاہ ہرقل کے پاس چلا جاؤں اور اپنا آبائی دین چھوڑ کر نصرانیت یا یہودیت اختیار کر لوں یا خطہ عرب کو خیر باد کہتے ہوئے کسی عجمی ملک کی راہ لوں یا اپنے گھر میں ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاؤں۔ غرضیکہ خیالات کا ایک سیل رواں تھا کہ تھمتا ہی نہیں تھا۔ انہی خیالات میں گم تھا کہ میرے بھائی کا تحریری پیغام مجھے ملا جو حلقہ بگوش اسلام ہو چکا تھا۔ میرے بھائی نے بڑے ہی پیار بھرے انداز میں مجھےلکھا: ’’ بھائی جان! میرے آقا دوجہاں کے سردار شاہ امم سلطان مدینہ ﷺ نے ایک روز مجھ سے پوچھا خالد کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ(ﷺ)! اللہ ایک دن ضرور میرے بھائی کو آپ کے قدموں لے آئے گا۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ میرا ذہین وفطین اور لئیق وفہیم بھائی اسلام جیسی نعمت سے محروم رہ جائے۔‘‘

اس پیغام سے میرے دل میں اسلام قبول کرنے کی رغبت ہوئی اور اس سے مجھے مسرت ہوئی کہ رسول اقدسﷺ نے مجھے یاد کیا۔ میرے تو بخت جاگ اٹھے۔ اسی دوران ایک رات گہری نیند سویا ہوا تھا کہ مجھے ایک خواب آیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک تنگ وتاریک اور بے آب وگیاہ جگہ سے سرسبز وشاداب اور کھلے میدان کی طرف جا رہا ہوں۔ آنکھ کھلی تو میرے دل میں ایک خوش گوار احساس پیدا ہوا اور مدینہ جانے کا پختہ ارادہ کر لیا۔ میرے دل میں یہ تمنا انگڑائیاں لینے لگی کہ کاش سوئے مدینہ جانے والا کوئی راہی مل جائے جس کا میں رفیق سفر بن سکوں۔

میں نے عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے اپنے دلی ارادے کا اظہار کیا تو وہ بخوشی میرے ساتھ روانگی کے لیے تیار ہوگیا۔ ہم دونوں دیدار نبی ﷺ کا خیال نہاں خانہ دل میں سمائےہوئے مدینہ رواں دواں ہوئے۔ دوران سفر کیا دیکھتے ہیں کہ ایک طرف سے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کشاں کشاں چلے آر ہے ہیں۔ میں نے اسے خوش آمدید کہا۔ اس نے پوچھا، کہاں جا رہے ہو؟ میں نے کہا، اسلام قبول کرنے مدینے جا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا، آپ کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہی لگن مجھے بھی مدینہ کھینچے لیے جا رہی ہے۔ ہم تینوں ساتھی شاداں وفرحاں، خراماں خراماں سوئے منزل چلتے ہوئے یکم صفر 8ہجری کو مدینہ طیبہ بارگاہ ر سالت میں حاضر ہوئے۔ میں نے نہایت ادب واحترام سے رسول اللہ ﷺ کو سلام عرض کیا، آپ نے مسکراتے ہوئے میرے سلام کا جواب دیا:

میں نے سلام عرض کیا، تو آپﷺ نے خندہ پیشانی سے جواب دیا، شرمندگی سے میری نگاہیں جھکی ہوئی تھیں، آپﷺ نے کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے اپنے سایہ عاطفت میں جگہ دی۔ میں نے کلمہ شہادت پڑھتے ہی عرض کی، یا رسول اللہ(ﷺ)! میرے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے پچھلے تمام گناہ معاف کر دے۔ تو رسول اقدس ﷺ نے محبت بھرے انداز میں ارشاد فرمایا:

’’ خالد! تمہاری عقل ودانش اور فہم وفراست کی بنا پر مجھے بہت امید تھی کہ تم ایک نہ ایک دن ضرور اسلام قبول کر لو گے۔‘‘

میں نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کرتے ہوئے عرض کی:

یا رسول اللہ(ﷺ)! میرے لیے بارگاہ رب کریم میں دعا کیجیے کہ وہ میرا یہ گناہ معاف کر دے جو میں بزور شمشیر لوگوں کو راہ اسلام سے روکتا رہا اور بزور بازو مسلمانوں کے لیے طرح طرح کی مشکلات پیدا کرتا رہا۔

آپ نے میری یہ پریشانی دیکھتے ہوئے نہایت ہی شفقت بھرے لہجے میں ارشاد فرمایا:

’’ خالد! گھبراؤ نہیں۔ اسلام قبول کرنے سے دور جاہلیت کے سب گناہ از خود مٹ جایا کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ اس کے باوجود میری التجا ہے کہ آپ میرے لیے بارگاہ ایزدی میں دعا کریں۔ آپ نے میرے حق میں یہ دعا کی:

’’الٰہی ! خالد بن ولید کو بخش دے۔

الٰہی! خالد بن ولید پر رحم کر۔

الٰہی! اس کی جملہ خطائیں معاف کر دے، بلاشبہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘

اس کےبعد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور آپ کے بابرکت ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے آغوش اسلام میں پناہ گزیں ہوئے۔ (جرنیل صحابہ، تالیف مولانا محمود احمد غنضفر، لاہور)

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب رسول اقدسﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپﷺ مسکرا رہے تھے

شجاعت، بے خوفی، استقلال، علم وحکمت اور عقل وخرد کا پیکر، ذکاوت و فطانت، عزم وہمت اور فصاحت وبلاغت کے دھنی، جذبات وعواطف، قلب ونظر اور احساسات پر مکمل قابو پانے والا جوان رعنا، پاک دامن، شریف النفس اور عبادت گزار راہنما، سیادت، قیادت، سیاست اور امارت میں یدطولیٰ رکھنے والا جرنیل، مشکلات ومصائب میں پھنسے ہوئے لشکر اسلام کو اپنے تدبر اور تجربہ کی بنا پر آن واحد میں چھٹکارا دلانے والا عظیم قائد، ہر بات کا برملا اظہار کرنے والا، جری، بہادر اور پر خطر وادیوں میں بے دھڑک کود پڑنے والا مدبر سپاہی، قد چھوٹا اور گٹھا ہوا، پیشانی کشادہ، چہرہ کھلا ہوا، آنکھیں سیاہ اور موٹی موٹی، دیکھنے والے کو یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی سردار چلا آ رہا ہے۔ اگرچہ اس دور میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہ تھا لیکن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اوائل عمر میں لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا، جوانی قریش کے نوجوانوں کے ساتھ ہنستے کھیلتے گزری، شعر وشاعری میں شغف محض دل کو بہلانے کے لیے تھا، پوری زندگی اس سے مدح سرائی یا ہجو گوئی کا کام نہ لیا۔

ایک دفعہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا۔ اے عمرو! آپ کی عقل و دانش، فہم وفراست کو جب دیکھتا ہوں، تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ آپ کو سب سے پہلے دائرہ اسلام میں داخل ہونا چاہیے تھا۔ میں نے کہا:

’’اے عمر! انسانوں کے دل اس ذات کی قبضے میں ہیں، جس نے ہمیں پیدا کیا۔ اس نوعیت کی سعادت اسی وقت نصیب ہوتی ہے جب اسے منظور ہو، اس میں انسان کی عقل وفراست کا کوئی دخل نہیں۔ اب بھی یہ سعادت نصیب ہوئی تو میں اسے اپنے لیے خوشی قسمتی سمجھتا وں اور میں اس وقت کو اپنے لیے سرمایہ حیات سمجھتا ہوں کہ جب رسول اقدسﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپﷺ مسکرا رہے تھے۔

عظیم جرنیل، کامیاب سیاستدان، جرات وشجاعت کا پیکر، میدان جنگ کا بہاد، نڈر سپاہی، عراق، فلسطین اور شام میں تہلکہ مچا دینے والا سپہ سالار، مصر میں حیرت انگیز کارنامے سر انجام دینے والا مدبر وعادل حکمران، اپنی کمان فو ج کی ہر دم حفاظت کا خیال رکھنے والا محتاط اور چوکس قائد، شاہ روم ہرقل اور شاہ مصر مقوقس کو دندان شکن جواب دینے والا ایک کامیاب وقابل رشک اسلامی سفیر جس کی حاضر جوابی اور فصاحت وبلاغت سے ہی شاہی درباروں میں سناٹا طاری ہو جاتا، اپنی بھر پور زندگی پورے ٹھاٹھ باٹھ سے بسر کرنے کے بعد 43 ہجری عید الفطر کے دن راہی ملک عدم ہوا۔ (جرنیل صحابہ، از مولانا محمود احمد غنضفر)

جنگ خندق کے وقت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر رسول اکرمﷺ متبسم ہو گئے!

ہجرت سے تقریباً سات سال پہلے مکہ مکرمہ میں رسول اکرمﷺ اور آپ کے صحابہ کرام قریش کے ہاتھوں ظلم وستم کا نشانہ بنتے ہیں، تبلیغی میدان میں آپﷺ پر مسلسل حزن وملال، غم واندوہ اور مصائب وآلام کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں۔ اسی تلاطم خیز دور میں آپﷺ کی حیات طیبہ میں ایک خوشی کی لہر دوڑتی ہے، کسی نے آپ کو خوش خبری سنائی کہ ام ایمن کے گھر اللہ نے بیٹا عطا کیا ہے۔ یہ خبر سن کر آپ کے روئے انور پر بے انتہا خوشی کے آثار دکھائی دینے لگے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ خوش بخت نومولود کون ہے، جس کی ولادت پر رسول اقدس ﷺ کو اس قدر خوشی ہوئی؟

یہ نومولود اسامہ بن زید تھے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو بھی رسول کریمﷺ کی اس بے انتہا خوشی پر کوئی تعجب نہ ہوا کیونکہ سب اس نومولود کے والدین کا حضور ﷺ کے ساتھ قریبی تعلق جانتے تھے۔ اسامہ کی والدہ برکت نامی ایک حبشی عورت تھی، جو ام ایمن کے نام سے مشہور ہوئی اور یہ رسول اکرم ﷺ کی والدہ ماجدہ کی کنیز بھی رہ چکی تھی۔ انہیں یہ شرف بھی حاصل ہوا کہ جب رسول اقدس ﷺ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا تو انہوں نے آپﷺ کو اپنی گود میں لیا اور آپﷺ کی نگہداشت کی۔

آپﷺ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ام ایمن میری ماں کی مانند ہے اور یہ میرے اہل بیت میں سے ہے۔ یہ تو ہے اس خوش نصیب نومولود کی والدہ محترمہ کا تعارف، جبکہ اس کا باپ تو وہ محبوب رسول ﷺ حضرت زید بن حارثہ ہے۔ جسے آپ ﷺ نے اپنا لے پالک بیٹا قرار دیا۔ سفر وحضر میں اسے آپ ﷺ کے ساتھ رہنے کا شرف حاصل ہوا۔ علاوہ ازیں راز دان رسول ﷺ ہونے کی سعادت بھی ان کے حصے میں آئی۔

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی ولادت پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہت خوش ہوئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خوش ہونے کی وجہ صرف یہ تھی کہ جو چیز رسول مکرمﷺکی خوشی کا باعث بنتی وہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خوشی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی۔

سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم ﷺ کے نواسے سیدنا حسن بن فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے ہم عمر تھے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ تو اپنے نانا رسول اقدس ﷺ کی طرح حسین وجمیل تھے، لیکن اسامہ رضی اللہ عنہ اپنی حبشی والدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کی طرح سیاہ رنگ اور چپٹی ناک والے تھے، لیکن رسول اکرم ﷺ دونوں سے یکساں پیار کرتے تھے۔ شفقت بھرے انداز میں اسامہ رضی اللہ عنہ کو ایک ران پر بٹھا لیتے اور حسن کو دوسری ران پر۔ کبھی دونوں کو اپنے سینے سے لگاتے اور یہ دعا کرتے:

’’ الٰہی میں ان دونوں بچوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی انہیں اپنا محبوب بنا لے۔ غرضیکہ اسامہ کے ساتھ رسول اکرمﷺ کو بہت پیار تھا، ایک دفعہ اسامہ دروازے کی دہلیز پر لڑ کھڑا کر گر پڑے، جس سے پیشانی پر زخم آیا اور خون بہنے لگا۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ سے کہا کہ اس کا خون صاف کرو اور سیدہ عائشہ صدیقہ کائنات کسی کام میں مصروف تھیں تو آپﷺ نے اپنے دست مبارک سے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی پیشانی سے بہتا ہوا خون صاف کیا۔

قریشی سردار حکیم بن حزام نے ایک قیمتی لباس رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کیا۔ جسے اس نے یمن سے پچاس دینار میں خریدا تھا اور یہ فاخرانہ لباس شاہ یمن کے لیے بطور خاص تیار کیا گیا تھا۔ یہ بہترین لباس جو آپ نے صرف ایک مرتبہ جمعہ کے روز پہنا تھا، حضرت اسامہ کو عطا کر دیا اور وہ یہ لباس پہن کر صبح وشام شاداں وفرحاں اپنے مہاجر وانصار نوجوان ساتھیوں کے پاس آیا کرتے تھے۔

غزوہ خندق میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اپنے ہم عمر نوجوانوں کے ہمراہ میدان کی طرف نکلے تو اپنے پنجوں کے بل اونچے ہو کر چلنے لگے کہ کہیں آج بھی نوعمری کی بنا پر جہاد میں شریک ہونے سے محروم نہ کر دیا جاؤں، ان کی یہ حالت دیکھ نبی اکرمﷺ متبسم ہوئے اور انہیں جہاد میں شریک ہونے کی اجازت دے دی۔ جب سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے جہاد کے لیے تلوار اٹھائی، اس وقت آپ کی عمر صرف پندرہ برس تھی۔

(جرنیل صحابہ ازمولانا محمود غضنفر)

تبصرہ کریں