رسول اللہ ﷺ کا ہنسنا ، مسکرانا اور مزاح فرمانا(قسط 45)۔ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

سواد بن قارب کی باتیں سن کر نبی کریم ﷺ ہنسنے لگے اور فرمایا کہ تم کامیاب ہو گئے!

سیدنا عمر بن خطاب منبر نبوی پر ایک مرتبہ خطبہ سنا رہے تھے، اسی میں پوچھا، کیا سوادبن قارب موجود ہیں؟ لیکن اس پورے سال تک کسی نے ہاں نہیں کہی، اگلے سال آپ نے پھر پوچھا توحضرت براء نے کہا، سواد بن قارب کون ہے؟ اس سے کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کے اسلام لانے کا قصہ عجیب وغریب ہے، ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں تو حضرت سواد بن قارب آ گئے، حضرت عمر نے ان سے کہا، سواد اپنے اسلام کا ابتدائی قصہ سناؤ۔ آپ نے فرمایا: ہاں سنیے، میں ہند گیا ہوا تھا، میرا ساتھی جو ایک رات میرے پاس آیا، میں اس وقت سویا ہوا تھا، مجھے اس نے جگا دیا اور کہنے لگا، اٹھ اور اگر کچھ عقل وہوش ہے تو سن لے اور سمجھ لے اور سوچ لے، قبیلہ لوئی بن غالب میں سے خدا کے رسول مبعوث ہو چکے ہیں، میں جنات کے جن اور ان کے بوریہ بستر باندھنے پر تعجب کر رہا ہوں، اگر تو طالب ہدایت ہے تو فوراً مکے کی طرف کوچ کر، سمجھ لے کہ بہتر اور بدتر جن یکساں نہیں، جا جلدی جا اور بنو ہاشم کے اس دلارے کے منور مکھڑے پر نظریں تو ڈال لے، مجھے پھر غنودگی سی آ گئی تو اس نے دوبارہ جگایا اور کہنے لگا: اے سواد بن قارب! اللہ عزوجل نے اپنا رسول بھیج دیا ہے، تم ان کی خدمت میں پہنچو اور ہدایت اور بھلائی سمیٹ لو، دوسری رات پھر آیا اور مجھے جگا کر کہنے لگا، مجھے جنات کی جستجو کرنے اور جلد جلد پالان اور جھولیں کسنے پر تعجب معلوم ہوتا ہے۔ اگر تو بھی ہدایت کا طالب ہے تو مکے کا قصد کر، تو اٹھ اور جلدی جلدی بنو ہاشم کے اسی پسندیدہ شخص کی خدمت میں پہنچ اور اپنی آنکھیں اس کے دیدار سے منور کر، تیسری رات پھر آیا اور کہنے لگا، مجھے جنات کے باخبر ہو جانے اور رات کے قافلوں کےفوراً تیار ہو جانے پر تعجب ہو رہا ہے، وہ سب طلب ہدایت کے لیے مکہ کی طرف دوڑے جا رہے ہیں، ان کے برے بھلوں کی برابری نہیں کر سکتے، تو بھی اٹھ اور اس بنو ہاشم کے چنیدہ شخص کی طرف چل کھڑا ہو، مؤمن جنات کافروں کی طرح انہیں تین راتوں تک برابر یہی سنتے رہنے کے بعد میرے دل میں بھی دفعۃً اسلام کا ولولہ اٹھا اور حضورﷺ کی وقعت اور محبت سے دل پُر ہو گیا، میں نے اپنی اونٹنی پر کجاوہ کسا اور بغیر کسی اور جگہ قیام کیے سیدھا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ اس وقت شہر مکہ میں تھے اور لوگ آپ کے آس پاس ایسے تھے جیسےگھوڑے پر بال، مجھے دیکھتے ہی یکبارگی اللہ کے پیغمبر نے فرمایا: سواد بن قارب کو مرحبا ہو، آؤ، ہمیں معلوم ہے کہ کیسے اور کس لیے اور کس کے کہنے سننے سے آر ہے ہو؟ میں نے کہا، حضور! میں نے کچھ اشعار کہے ہیں، اگر اجازت ہو تو پیش کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: سواد شوق سے کہو تو حضرت سواد نے وہ اشعار پڑھے جن کا مضمون یہ ہے: میرے پاس میرا جن میرے سونے کے بعد رات کو آیا اور اس نے مجھے ایک سچی خبر پہنچائی، تین راتیں برابر وہ میرے پاس آتا رہا اور ہر رات کہتا رہا کہ لوئی بن غالب میں اللہ کے رسول مبعوث ہو چکے ہیں، میں نے بھی سفر کی تیار کر لی اور جلد جلد راہ طے کرتا یہاں پہنچ ہی گیا، اب میری گواہی ہے کہ بجز اللہ کے اور کوئی الٰہ نہیں اور آپ خدا کے امانت دار رسول ہیں۔ آپ سے شفاعت کا آسرا سب سے زیادہ ہے، اے بہترین بزرگوں اور پاک لوگوں کی اولاد، اے تمام رسولوں سے بہترین رسول جو حکم آسمانی آپ ہمیں پہنچائیں گے، وہ کتنا ہی مشکل اور طبیعت کے خلاف کیوں نہ ہو، ناممکن ہے کہ ہم اسے ٹال دیں، آپ قیامت کے دن میرے سفارشی بننا، کیوں کہ وہاں بجز آپ کے سواد بن قارب کا سفارشی کون ہو گا؟ اس پر حضور ﷺ بہت ہنسے اور فرمانے لگے، سواد تم نے فلاح پا لی۔ حضرت عمر نے یہ واقعہ سن کر پوچھا کیا وہ جن اب بھی تمہارے پاس آتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جب سے میں نے قرآن پڑھا وہ نہیں آتا ہے اور اللہ کا بڑا شکر ہے کہ اس کے عوض میں نے رب کی پاک کتاب پائی۔

(تفسیر ابن کثیر، سورۃ الاحقاف، آیت 29)

حضرت عمیر بن سعد کی جرأت و صداقت پر نبی کریمﷺ مسکرا دیے

جلاس بن سوید کا شمار مدینہ کے شرفا میں ہوتا تھا۔ انہوں نے جب سعد بن عبید اوسی کی بیوہ سے نکاح کیا تو وہ مرحوم شوہر سے ایک کمسن بچہ بھی اپنے ہمراہ لائیں۔ یہ بچہ، جس کا نام عمیر تھا، کہنے کو تو جلاس کا ربیب تھا لیکن انہوں نے ایسی محبت اور شفقت کے ساتھ اس کی پرورش کی کہ شاید حقیقی باپ بھی اس طرح نہ کر سکتا۔ اس معصوم کو بھی جلاس سے کچھ ایسا انس اور پیار ہو گیا تھا کہ ہر وقت انگلی پکڑے ان کے ساتھ رہتا تھا۔ لوگ بھول گئے تھے کہ عمیر ، جلاس کا ربیب ہے۔ وہ اس کو ان کا حقیقی بیٹا ہی تصور کرتے تھے۔ عمیر کا عہد طفلی تھا کہ سرورِ عالم ﷺ نے مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں نزول اجلال فرمایا۔ اہل مدینہ کی ایک بڑی تعداد ہجرت نبوی سے قبل ہی نعمت اسلام سے بہرہ یاب ہو چکی تھی، اب باقی لوگ بھی آہستہ آہستہ اسلام قبول کرنے لگے۔ جلاس بھی ایک دن کمسن عمیر کے ہمراہ رحمت عالمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نعمت اسلام سے بہرہ یاب ہو گئے۔ ارباب سیر نے جلاس اور عمیر کے قبول اسلام کا زمانہ متعین نہیں کیا لیکن اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اس وقت عمیر کا لڑکپن تھا۔ وہ اوس کے خاندان عمرو بن عوف سے تھے اور ان کے والد سعد بن عبید (بن نعمان بن قیس بن عمرو بن عوف) ان کی صغر سنی میں وفات پا گئے تھے۔ گو قبول اسلام کے وقت عمیر بدوِ شعور کو نہ پہنچے تھے لیکن مبداء فیض نے انہیں نہایت صالح اور سعید فطرت سے نوازا تھا۔ رحمت عالم ﷺ کی زیارت کے بعد ان کے دل میں حضور ﷺ کے لیے ایسی محبت اور کشش پیدا ہو گئی کہ جب تک روزانہ آپ ﷺ کو دیکھ نہیں لیتے تھے، کل نہیں پڑتی تھی۔ حضور بھی ان پر بڑی شفقت فرماتے تھے۔ دن گزرتے گئے اور رسالت مآبﷺ سے سیدنا عمیر کی عقیدت، محبت اور نیازمندی میں اضافہ ہوتا رہا۔

یوں تو عرب میں بارش ویسے ہی کم ہوتی ہے لیکن 9ھ میں تو خشک سالی نے قیامت ڈھا دی اور سارے ملک میں قحط کا سماں پیدا ہو گیا۔ مدینہ باغوں کا شہر تھا لیکن قحط اور گرمی کی شدت سے اہل مدینہ بھی پناہ مانگ رہے تھے۔ لے دے کے ان کی امیدیں اپنے نخلستانوں سے وابستہ تھیں جن میں کھجور کے درختوں پر پھل گدرا چکے تھے اور ان کے اتارنے کا وقت قریب آ پہنچا تھا۔ یہی دن تھے کہ ایک دن اہل مدینہ یہ خبر سن کر چونک اٹھے کہ رومیوں کا ایک زبردست لشکر عرب پر دھاوا بولنے کے لیے پَرتول رہا ہے۔ سرور عالمﷺ صورتحال سے پوری طرح باخبر تھے۔ آپﷺ نے اہل ایمان کو جہاد کی تیاری کا حکم دیا اور فرمایا کہ ہم دشمن کا مقابلہ آگے بڑھ کر سرحد پر کریں گے۔

مسلمانوں کے لیے یہ سخت آزمائش کا وقت تھا۔ کھجور کی تیار فصل، ہولناک گرمی، تپتے ہوئے صحراؤں میں طویل سفر کی صعوبتیں، خوراک پانی اور سواریوں کی قلت ہر چیز ان کی نظر کے سامنے تھی لیکن وہ تو اپنی جانیں مال اور اولاد سب کچھ خدا کی راہ میں بیچ چکے تھے، انہوں نے سرور عالمﷺ کے ارشاد پر کسی حیل وحجت کے بغیر لبیک کہا اور ہمہ تن جہاد کی تیاری میں مشغول ہو گئے۔ یہ غزوہ تبوک یا جیش العسرۃ کی تمہید تھی۔ اس موقع پر ایثار واخلاص کے حیرت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ حضرت ابو بکر صدیق نے اپنا سارا مال واسباب حضور ﷺ کے قدموں پر لا کر ڈال دیا اور جب حضور ﷺ نے پوچھا۔ ’’ ابو بکر تم نے اپنے اہل عیال کے لیے کیا چھوڑا ہے۔‘‘ تو عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! اللہ اور اللہ کا رسول۔‘‘ حضرت عمر فاروق اپنا آدھا مال لے کر حاضر ہوئے۔ حضرت عثمان غنی نے تین سو اونٹ کجاوہ سمیت، سو گھوڑے اور ایک ہزار دینار راہِ حق میں پیش کیے۔

حضرت عبد الرحمٰن بن عوف دو سو اوقیہ چاندی لے کر آئے۔ حضرت طلحہ بن عبید مال و دولت کا ایک انبار لے کر حاضر ہوئے۔ عاصم بن عدی نے ستروسق کجھوریں پیش کیں۔ خواتین نے اپنے زیور اتار کر اللہ کی راہ میں دے دیے۔ غرض ہر ایک نے اپنی استطاعت کے مطابق بلکہ استطاعت سے بڑھ کر قربانی کا مظاہرہ کیا۔ ایک طرف تو اہل ایمان اس طرح صفحۂ تاریخ پر اپنے اخلاص اور ایثار کے عدیم النظر نقوش ثبت کر رہے تھے اور دوسری طرف منافقین اپنی رو سیاہی کا سامان فراہم کر رہے تھے۔ انہوں نے اہل ایمان کو بد دل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، کبھی ان سے کہتے کہ ’’ کھجور کی فصل بالکل تیار ہے، تمہاری غیر حاضری میں یہ برباد ہو جائے گی اور تم کہیں کے نہ رہو گے۔‘‘ کبھی کہتے: ’’ اس ہولناک گرمی میں تم جھلس کر رہ جاؤ گے اور زندہ واپس نہ آؤ گے۔‘‘ کبھی رومیوں کی زبردست جنگی قوت کا حال بتا کر انہیں مرعوب کرنے کی کوشش کرتے۔ یہ لوگ اکثر سویلم نام ایک یہودی کے مکان پر جمع ہوتے اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کے منصوبے بناتے۔ انہی ایام میں ایک دن خدا جانے جلاس بن سوید کو کیا ہو گیا۔ منافقین کے بہکاوے میں آ گئے یا کجھور کی نہایت عمدہ تیار فصل نے ان کی مَت مار دی۔ اچھےبھلے مسلمان۔ کئی غزوات میں بھی شرکت کا شرف انہیں حاصل تھا۔ لیکن وائے بدبختی کہ ایک مجلس میں ان کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے:

’’اگر محمد ﷺ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو ہم گدھوں سے بھی بدتر ہیں۔‘‘

اس موقع پر عمیر بن سعد بھی موجود تھے۔ وہ اگرچہ نوعمر تھے لیکن ان کی پیشانی پر صبح سعادت کا نور چمک رہا تھا اور دل میں رحمتِ عالم کی محبت کا سمندر موجزن تھا۔ اپنے آقا و مولا کے بارے میں جلاس کی زبان سے یہ الفاظ سنے تو ان کا خون کھول اٹھا ۔ کڑک کر بولے:

’’ محمد ﷺ ضرور سچے ہیں اور تم یقیناً گدھوں سے بدتر ہو۔‘‘

جلاس نے عمیر کی بات سنی تو سناٹے میں آ گئے۔ یہ لڑکا جس نے کبھی آپ کے سامنے آنکھ تک نہ اٹھائی تھی، آج ان کے منہ آ رہا تھا ۔ بڑے جزبز ہوئے اور بولے: ’’ کیا اسی دن کے لیے میں نے تجھے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔ اب میں تیری کفالت سے باز آیا، کوئی اور جگہ ڈھونڈو۔‘‘

سوتیلے باپ سے جلی کٹی سننے کے بعد عمیر سیدھے رسول اکرمﷺ کی خدمت میں پہنچے اور سارا واقعہ بلا کم وکاست عرض کر دیا۔ حضور ﷺ نے جلاس کی جسارت پر تعجب کا اظہار فرمایا اور فوراً ان کو بلا بھیجا۔ وہ حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے پوچھا: ’’ جلاس، کیا تم نے آج فلاں مجلس میں یہ الفاظ کہے تھے۔‘‘

جلاس کو اقرار کرنے کی ہمت نہ پڑی۔ صاف انکار کر گئے۔ اس وقت لسان رسالت پر یہ آیت جاری ہوگئی:

﴿ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَهَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا ۚ وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ ۚ فَإِن يَتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ ۖ﴾ (سورۃ التوبہ: 74)

’’ (وہ) اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم نے تو نہیں کہا، حالانکہ بے شک انہوں نے کفر کا کلمہ کہا اور مسلمان ہونے کے بعد کافر ہوئے اور ایسی چیز کا قصد کیا جس کو نہ پایا اور یہ سب اس کا بدلا دیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو دولت مند کر دیا۔ سو وہ اگر توبہ کر لیں تو ان کے حق میں بہتر ہے۔‘‘

حضور ﷺ وحی الٰہی کے الفاظ پڑھتے جاتے تھے اور جلاس کے چہرے کا رنگ متغیر ہوتا جاتا تھا۔ جب آپ ﷺ (خَيْرًا لَّهُمْ)پر پہنچے تو جلاس کی چیخ نکل گئی، بے اختیار رحمتِ عالمﷺ کے قدموں پر گر پڑے اور عرض کی:

’’ یار سول اللہ! خطا کار ہوں، درگزر چاہتا ہوں۔ مجھ سے بھول ہوئی، اب توبہ کرتا ہوں۔ للہ بخش دیجیے۔‘‘ آپ ﷺ نے معاف فرما دیا۔ اس کے بعد وہ حقیقی معنوں میں مسلمان ہو گئے اور پھر اپنے کسی قول یا فعل سے کبھی شکایت کا موقع نہ دیا۔ توبہ قبول ہونے کی خوشی میں انہوں نے عمیر کو پھر اپنی کفالت میں لے لیا اور جب تک زندہ رہے ان کو اپنے سے جدا نہ کیا۔

جلاس کے اعترافِ گناہ اور قبول توبہ کے موقع پر حضرت عمیر کو یہ شرف حاصل ہوا کہ حضور ﷺ نے شفقت آمیز انداز میں ان کا کان پکڑ کر مسکراتے ہوئے فرمایا:

’’ لڑکے تیرے کانوں نے ٹھیک سنا تھا۔‘‘

(تیس پروانے شمع رسالت کے از طالب ہاشمی)

رحمت عالم ﷺ نے متبسم ہو کر فرمایا، اس نے سچ بولا میں اس کا قصور معاف کرتا ہوں

اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین سیرت و کردار کے اعتبار سے اتنے ارفع واعلیٰ مقام پر فائز تھےکہ ان کے صدق واخلاص، دیانت و امانت اور زہد و اتقا کی قسم کھائی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مقدس اور پاکباز ترین بندوں کو کھلے لفظوں میں جنت کی بشارت دی ہے اور ان کے دشمنوں کو اپنا دشمن کہا ہے۔

سیدنا حضرت ابو امیہ عمرو بن امیہ الضمری اسی جماعت صحابہ کے ایک معزز رکن تھے۔ مبداء فیض نے انہیں بے شمار اوصاف و محاسن سے نوازا تھا۔ جن میں شجاعت، پامردی، سب تیز رفتاری، ذہانت اور فراست جیسے اوصاف بہت نمایاں تھے۔ داستان گوئی اور جہالت کا برا ہو کہ بعض لوگوں نے حضرت عمرو بن امیہ کے انہی غیر معمولی اوصاف کو سامنے رکھ کر ’ عمر عیار‘ نام کی ایک فرضی شخصیت تراش لی اور لاتعداد من گھڑت قصے اس سے منسوب کر دیے، یہاں تک کہ حضرت عمرو بن امیہ کی اصلی شخصیت نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ مشاہیر ارباب سیر نے اگرچہ حضرت عمرو بن امیہ کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں لکھا تاہم مستند روایات سے جو کچھ سامنے آتا ہے، وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ حضرت عمرو بن امیہ رحمت عالم ﷺ کے ایک مخلص جاں نثار اور راہ حق کے ایک سرفروش مجاہد تھے۔ سرور کونین کو ان پر اتنا اعتماد تھا کہ کئی اہم امور کی تکمیل ان کے سپرد فرمائی۔ یہاں تک کہ انہیں ایک غیر ملکی فرمانروا (نجاشی شاہ حبشہ) کے پاس اپنا سفیر بنا کر بھیجا۔ ایسے جلیل القدر صحابی کی زندگی کے حالات کو بگاڑ کر پیش کرنا سخت گستاخی اور بے ادبی ہے۔ آئیے سیرت اور تاریخ کی مستند کتابوں کی روشنی میں اسلام کے اس بطل جلیل کی سیرت کے اصل خدوخال کا جائزہ لیں۔

سیدنا ابو امیہ عمرو بن امیہ بنو ضمرہ کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ شجرہ نسب یہ ہے:

عمرو بن امیہ بن خویلد بن عبد اللہ بن ایاس بن عبد (یا عبید) بن فاشرہ بن کعب بن عدی بن ضمرہ۔

بنو ضمرہ بہت بڑا قبیلہ تھا اور بدر کے نواحِ شمال میں آباد تھا۔ البتہ اس کی ایک شاخ بنی عبد بن عدی مکے کے حدودِ حرم میں جا بسی تھی۔ مشہور قبیلہ بنو غفار بھی بنو ضمرہ ہی کی ایک شاخ تھا۔ ابن سعد اور سہیلی کا بیان ہے کہ صفر 6 ھ میں رسول اکرمﷺ نے بنو ضمرہ سے ایک تحریری معاہدہ کیا تھا جس میں بوقت ضرورت ایک دوسرے کو مدد دینے کا عہد کیا گیا تھا۔ بعض روایتوں کے مطابق سرورِ عالم ﷺ نے ایک موقع پر بنو ضمرہ کی تعریف وتحسین فرمائی تھی۔ اسی لیے اہل سیر نے اس قبیلہ کو معزز اور محترم گردانا ہے۔ حضرت عمرو اوائل عمر ہی سے اپنی تیز رفتاری، ذہانت، جرأت اور دلیری کی وجہ سے مشہور ہو گئے تھے۔ علامہ ابن عبد البر﷫ کا بیان ہے کہ وہ عرصہ تک کفر وشرک کی بھول بھلیوں میں بھٹکتے رہے اور بدر و اُحد کے معرکوں میں مشرکین مکہ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف بڑے جوش وخروش سے حصہ لیا۔ ان کے صاحبزادوں جعفر، فضل اور عبد اللہ سے منقول ہے کہ قریش جب احد سے واپس گئے تو ہمارے والد نے اسلام قبول کر لیا۔

علامہ ابن سعد﷫ نے طبقات کبیر میں حضرت عمروبن امیہ کے قبول اسلام سے متعلق ایک دلچسپ قصہ بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ غزوۂ احد کے بعد ایک دفعہ ابو سفیان نے سرور عالم ﷺ کو مدینہ منورہ میں شہید کرانے کا منصوبہ بنایا اور اس مقصد کے لیے عمرو بن امیہ کو منتخب کیا۔ عمرو ایک خنجر کپڑوں کے نیچے چھپا کر ایک تیز رفتار اونٹ پر عازم مدینہ ہو گئے۔ چھٹے دن مدینہ کے قریب ظہر الحرہ کے مقام پر پہنچے۔ وہاں سے پوچھتے پوچھتے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ کہاں ہوں گے، مسجد بنو عبد الاشہل میں پہنچے جہاں حضور ﷺ آرام فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ کی نظر عمرو پر پڑی تو وہاں پر موجود صحابہ سے فرمایا: ’’ دیکھو وہ شخص جو آ رہا ہے اس کا ارادہ نیک نہیں معلوم ہوتا۔‘‘ یہ سن کر حضرت اسید بن حضیر انصاری اٹھے اور لپک کر عمرو کو قابو کر لیا۔ ان کے کپڑوں سے خنجر برآمد ہوا تو بہت سٹپٹائے اور چلانے لگے: میرا خون، میرا خون۔‘‘

حضور ﷺ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’ سچ بتا تو کون ہے اور کس نیت سے یہاں آیا ہے۔‘‘

بولے: ’’اگر آپ مجھے قتل نہ کریں تو سب کچھ بتا دوں گا۔‘‘

عمرو نے تمام واقعہ بلا کم وکاست بیان کر دیا۔ یہ سن کر رحمت عالم ﷺ نے متبسم ہو کر فرمایا: ’’ اس نے سچ بولا میں اس کا قصور معاف کرتا ہوں۔‘‘

عمرو جلال نبوت سے پہلے ہی متاثر ہو چکے تھے، اب حضور ﷺ کی شان کریمی دیکھ کر بے اختیار آپﷺ کے قدموں پر گر پڑے اور مشرف بہ اسلام ہو گئے۔

(تیس پروانے شمع رسالت از طالب ہاشمی)

تبصرہ کریں