رسول اللہ ﷺ کا ہنسنا ، مسکرانا اور مزاح فرمانا (قسط 44)۔ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

سیدنا ضرار بن ازور اسدی کے اشعار سن کر رسول اکرمﷺ مسکرا اٹھے

سر زمین خیبر کا دولت مند، آسودہ حال، خوبصورت، بہادر، جوان مرد، کڑیل جوان، بنو اسد قبیلے کا شہزور، دلاور، شمشیر زنی، نیزہ بازی، تیر اندازی اور گھڑ سواری کا ماہر شہسوار، رومیوں کے لشکر میں چشم زدن میں بھگدڑ مچا دینے والا بے خوف مجاہد، ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل قیمتی گلے کی ملکیت رکھنے والا، دھاک بٹھا دینے والا سخت کوش، سرفروش اور جانباز جرنیل جس کے حملہ آور ہوتے ہی رومی جن آ گیا، جن آ گیا کہتے ہوئے دم دبا کر بھاگنے لگتے۔ میدان کار زار میں گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر بیٹھ کر رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے تابڑ توڑ حملہ کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ اپنی بے مثال بہادری، دلاوری اور لاجواب شجاعت و جوانمردی کی بدولت ایک ہزار دشمن افراد پر بھاری جنگجو سپاہی جس کا نام سن کر دشمن تھر تھر کانپنے لگتا۔ جو اپنی بے پناہ مجاہدانہ خوبیوں کی بنا پر تاریخ اسلام کے اوراق میں قیامت تک جگمگاتا رہے گا۔ جو ضرار بن ازور اسدی کے نام سے مشہور ومعروف ہے جسے اسلامی لشکر کا قابل رشک جرنیل ہونے کے ساتھ ساتھ بلند پایہ شاعر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ جب بنو اسد قبیلے کے وفد کی قیادت کرتا ہوا خیر الوریٰ، شمس الضحیٰ، بدر الدجیٰ، نور الہدیٰ پیارے محمد ﷺ کی خدمت اقدس میں اسلام قبول کرنے کے لیے حاضر ہوا تو اس نے پہلا کارنامہ یہ سر انجام دیا کہ ایک ہزار اونٹ ان کے چرواہوں سمیت مسلمانوں کے بیت المال کے لیے رسول اقدس کی خدمت میں پیش کیے اور دل آویز انداز میں اشعار کہے جن کا ترجمہ یہ ہے:

میں نے شراب نوشی چھوڑ دی اور شراب کے برتن بھی توڑ دیے، کھیل کود سے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی کیونکہ ان بری عادات سے جسم میں ناتوانی وکمزوری لاحق ہوتی ہے۔

ہائے افسوس میری عمر کا ایک اہم اور قیمتی حصہ مسلمانوں کے خلاف جنگ وجدل میں گزر گیا۔

میرے پروردگار اسلام قبول کر کے میں نے اپنا اور اپنا تمام مال تیری راہ میں بیچ دیا ہے، الٰہی تو میری اس تجارت کو رائیگاں نہ جانے دینا۔

سرور عالم ﷺ نے یہ اشعار سن کر مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا، اے ضرار! واقعی تیری تجارت رائیگاں نہیں گئی۔

بنو اسد قبیلے کے مالدار سردار ضرار بن ازور اسدی کے دل نے شاہ امم سلطان مدینہ ﷺ کی صداقت اور دیانت وامانت کا اعتراف کرتے ہوئے رسالت مآب پر ایمان لانے کا پختہ ارادہ کر لیا تو اپنے قبیلے کے چند افراد کو ہمنوا بنا کر رسول اقدس ﷺ کی زیارت کرنے اور اعتراف حق کرتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے مدینہ منورہ جانے کا تہیہ کیا اور جانے سے پہلے اپنا سارا قیمتی اثاثہ جو اعلیٰ نسل کے اونٹوں کی صورت میں موجود تھا، اللہ کی راہ میں وقف کر دیا، اس ادائے قلندرانہ کا حال سن کر سرور عالم، خلق مجسم ﷺ کو بہت خوشی ہوئی کہ ایک قوم کا سردار اور دشمن قبیلے کا خوفناک لڑاکا بہادر صدق دل سے متاع عقل ودانش سےکام لیتا ہوا، ملت اسلامیہ کا فرد بن کر ہمارا دامن گیر ہونے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ بھائی کی وارفتگی سے متاثر ہو کر اس کی بہادر بہن خولہ بنت ازور نے بھی اسلام قبول کرنے کا اعزاز حاصل کیا، یہ وہ عظیم خاتون ہے جس نے نقاب اوڑھ کر رومیوں کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے مد مقابل کے بیشتر افراد کو اس خوفناک انداز میں تہ تیغ کیا کہ اس کی کاٹ دار تلوار، ماہرانہ شمشیر زنی اور مجاہدانہ برق رفتاری کو دیکھ کر دشمن کا پتہ پانی ہونے لگا۔ مجاہدین یہ منظر دیکھ کر خود انگشت بدنداں رہ گئے کہ ہماری جانب سے لڑنے والا یہ تیز طراز مجاہد کون ہو سکتا ہے؟ بعض نے سوچا یہ کہیں خالد بن ولید نہ ہو جو آج بھیس بدل کر میدان میں اترا ہوا ہے، لیکن جب یہ دیکھا کہ حضرت خالد بن ولید ایک عام مجاہد کے روپ میں موجود ہیں تو ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ خود حضرت خالد بن ولید ورطہ حیرت میں مبتلا تھے، نقاب پوش مجاہد کے پاس جا کر پوچھا تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ تو آواز آئی، اے امیر لشکر! حیران نہ ہوں میں ضرار کی بہن خولہ بنت ازور ہوں۔ یہ آواز سن کر تمام مجاہدین حیرت و استعجاب کی تصویر بن گئے، آنکھوں میں آنسوؤں کی چمک اس بات کی غمازی کر رہی تھی اور زبان حال سے یہ صدا آر ہی تھی کہ جب تک ملت اسلامیہ میں یہ جذبہ جہاد موجود رہے گا کہ وقت آنے پر مرد تو کجا خواتین بھی دشمن کے دانت کھٹے کرنے میں پوری صلاحیت اور مہارت رکھتی ہوں گی، اس وقت تک دنیا کی کوئی بھی طاقت ملت اسلامیہ کو نیچا نہیں دکھا سکتی اور نہ ہی فتح وکامرانی میں کوئی رکاوٹ حائل ہو سکتی ہے۔

(جرنیل صحابہ از محمود احمدغنضفر )

سیدنا عبد اللہ بن حذافہ کا سوال سن کر رسول اکرمﷺ کا مسکرانا

سلیم الفطرت، شریف النفس، ظریف الطبع، ذہین وفطین، فہیم وعقیل، خوش اخلاق و خوش اطوار، شیریں کلام وسحر البیان گلیم فقیری میں سرمایہ سلطانی رکھنے والا بارعب وباوقار صحابی جس نے قیصر وکسریٰ کے دربار میں جرأت وشجاعت کا مظاہرہ جان ہتھیلی پر رکھ کر کیا، جس سے دربار کے تمام حاشیہ نشین انگشت بدندان رہ گئے۔ جس کی ظرافت وخوش طبعی سے مجلس کشت زعفران بن جاتی، شاہ امم سلطان مدینہ ﷺ اس کی ظریفانہ گفتگو سے مسرت وشادمانی کا خوشگوار تاثر لیتے۔ ایک روز سرور عالم، خلق مجسم، نیر تاباں، روشن درخشاں، رسول معظم ﷺ نے صحابہ کرام کے سامنے قیامت کی ہولناکیاں بیان کیں۔ قیامت کے دن پیش آنے والے حالات کا سن کر سب کے دل کانپنے لگے، آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ پورا مجمع زار وقطار رو رہا تھا، قیامت کا بیان ختم ہوا، رسول اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اگر کسی کے دل میں کوئی سوال ہو تو پوچھ لے۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن حذافہ نے افسردہ ماحول میں خوشگوار تبدیلی پیدا کرنے کے لیے ایک انوکھا سوال کیا، عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ! میرا باپ کون ہے؟

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تیرا باپ حذافہ ہے، اس سوال و جواب سے غم میں مبتلا ماں کو جب اس سوال کا پتہ چلا تو بہت زیادہ کبیدہ خاطر ہوئی اور اس نے اپنے بیٹے عبد اللہ سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، یہ کوئی سوال تھا جو تو نے رسول اکرمﷺ سے کیا۔ کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ تیرا باپ کون ہے؟ یہ بھی بھلا کوئی پوچھنے کی بات تھی۔

حضرت عبد اللہ بن حذافہ نے اپنی اماں جان سے مودبانہ انداز میں عرض کیا، اماں جان ناراض نہ ہوں، میں نے جب دیکھا کہ میرے ساتھی زبان رسالت مآب سے قیامت کے واقعات سن کر غمزدہ ہیں تو میں نے یہ انوکھا سوال صرف اس لیے کیا کہ مجمع کشت زعفران بن جائے۔ میرا یہ سوال سن کر خود رسول اقدس ﷺ بھی مسکرانے لگے، آپ کی مسکراہٹ پر میں قربان، آپ کی طبیعت میں خوشگوار تاثرات پیدا کر کے مجھے دلی راحت نصیب ہوئی۔ اماں جان، آپ یقین کیجیے میرا اس کے علاوہ اور کوئی مقصد نہ تھا، میں نے تو صرف یہ چاہا کہ اہل مجلس کا غم ہلکا ہو جائے۔

شاہ امم سلطان مدینہ ﷺ کے نزدیک حضرت عبد اللہ بن حذافہ اپنی ظریفانہ طبیعت کے باوجود قابل اعتماد تھے، آپ نے انہیں ایک ایسے لشکر کا امیر بنا کر محاذ پر روانہ کیا جس میں جلیل القدر صحابہ کرام موجود تھے۔

شاہ امم سلطان مدینہ ﷺ نے ان کی بچکانہ باتیں سن کر مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’آج تم اپنی قیام گاہ میں آرام کرو، تم ہمارے مہمان ہو، کل دیکھا جائے گا۔‘‘ دوسرے دن تیار ہو کر آپ کے پاس آئے اور پوچھا کہ کیا خیال ہے؟ کیا ارادے ہیں؟ کیا بخوشی شاہ ایران کے دربار میں پیش ہونے کے لیے تیار ہیں؟ ان کی بات سن کر آپ نے جلالی انداز میں ارشاد فرمایا: ’’ کون کسریٰ کون شاہ ایران! کان کھول کر سن لو وہ تباہ وبرباد ہو چکا ہے۔ اس کے بیٹے نے اسے قتل کر دیا ہے۔‘‘ دونوں جرنیل یہ ناگہانی خبر سن کر ورطہ حیرت میں پڑ گئے اور خوف وہراس کے ملے جلے جذبات سے شاہ امم سلطان مدینہ ﷺ کے چہرۂ انور کی طرف ٹکٹکی لگا کر حیرت کی تصویر بنے ہوئے دیکھنے لگے۔

دونوں جرنیل پوچھنے لگے جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں، کیا یہ ہولناک خبر ہم اپنے حکمران باذان تک پہنچا دیں؟

آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں، یہ سچ ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اسے بتا دینا کہ دین اسلام کا دائرہ کسریٰ کی سلطنت تک پھیل جائے گا، اگر تم اسلام قبول کر لو تو ہم وہ سبھی کچھ تمہارے حوالے کر دیں گے جو اب تمہارے پاس ہے، گویا اس صورت میں تمہاری موجودہ حکمرانی اپنی قوم پر بدستور قائم رہے گی۔

یہ دونوں نمائندے رسول اللہ ﷺ سے رخصت ہو کر باذان کے پاس پہنچے اور اسے یہ خبر سنائی، اس نے سن کر کہا ، حضرت محمد ﷺ کی یہ بات سچ ہوئی تو پھر ان کے نبی ہونے میں کوئی شبہ نہیں لیکن اگر یہ بات صحیح ثابت نہ ہوئی، تو پھر ہم ان کے متعلق جو رائے قائم کریں گے وہ تم دیکھ لو گے۔

ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ باذان کو کسریٰ کے بیٹے شیرویہ کا یہ خط موصول ہوا جس میں یہ تحریر تھا: ’’ میں نے کسریٰ کو مار ڈالا ہے اور مارا بھی اس لیے تھا کہ اپنی قوم کا انتقام لے سکوں۔ اس نے اپنے عہد اقتدار میں میری قوم کے شرفاء کا قتل عام شروع کیا تھا، یہی نہیں اس نے ان کی عورتوں کی بے حرمتی بھی کی اور ان کے مال ودولت کو غصب بھی کیا، میرا یہ خط جب تمہارے پاس پہنچے تو تم میری حلقہ بگوشی کرنا۔

باذان نے شیرویہ کا خط جب پڑھا تو خط کو ایک طرف پھینک دیا اور حلقہ بگوش اسلام ہو گیا اور اس کے ساتھ بلاد یمن کے تمام فارسی النسل باشندے بھی مسلمان ہو گئے۔(جرنیل صحابہ از محمود احمد غنضفر )

رسول اکرمﷺ نے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا، عبد اللہ بن رواحہ کی نیت خالص ہے!

جنگ موتہ میں قیادت کے فرائض سر انجام دینے والا، جنگ بدر میں شرکت کا اعزاز حاصل کرنے والا، غزوہ سویق کے دوران دربار رسالت کی جانب سے مسند خلافت پر جلوہ افروز ہونے والا، تیس مجاہدین کی قیادت کرتے ہوئےخیبر کے مشہور ومعروف یہودی اسیر بن رزام کو تہہ تیغ کرنے والا، شاہ امم سلطان مدینہ ﷺ کی جانب سے خیبر کی زمین اور اس کے مالی وسائل کا تخمینہ لگانے کی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانے والا، رزم وبزم میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھلانے والا سیدنا نعمان بن بشیر کا ماموں اور حضرت ابودرداء کا بھائی میدان جنگ کو جاتے ہوئے لشکر اسلام میں سب سے آگے اور واپسی پر لشکر کے پیچھے پیچھے آنے والا جلیل القدر صحابی حضرت عبد اللہ بن رواحہ ، جس کے متعلق حضرت انس فرماتے ہیں کہ جب یہ کسی بھی ساتھی کو ملتے تو اس کا ہاتھ پکڑ کر کہتے ، آئیے میرے بھائی کچھ دیر کے لیے ہم اپنے ایمان کی تجدید کر لیں۔

ایک دن کاواقعہ ہے کہ انہوں نے حسب عادت ایک ساتھی کو یہی الفاظ کہے تووہ غصے میں آ گیا اور اس نے دربار رسالت میں شکایت لگاتے ہوئے کہا:

یا رسول اللہﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ یہ ابن رواحہ بڑا عجیب آدمی ہے یہ ہمیں کچھ دیر کے لیے ایمان لانے کو کہتا ہے حالانکہ ہم مستقل آپ پر ایمان لا چکے ہیں۔ بھلا یہ کیا ہوا کہ کچھ دیر کے لیے ایمان کی تجدیدکر لیں؟

آپ نے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’تم محسوس نہ کیا کرو، عبد اللہ بن رواحہ کی نیت خالص ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کے دامن کو اپنی رحمت سے بھر دے ، دراصل وہ بار بار ایسی محفل سجانا چاہتا ہے جس پر فرشتے بھی فخر کریں۔‘‘

خیر الوریٰ، بدر الدجیٰ، شمس الضحیٰ، نور الہدیٰ، پیارے مصطفیٰ محمد ﷺ کی محبت، الفت، عقیدت اور اطاعت کا جذبہ ان کے نہاں خانہ دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ ایک روز عبد اللہ بن رواحہ مسجد نبوی کی طرف تشریف لا رہے تھے۔ سرور عالم خلق مجسم، رسول معظم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ یہ ابھی مسجد کے دروازے کے باہر ہی تھے کہ آپ نے دوران خطاب ارشاد فرمایا: بیٹھ جاؤ۔

یہ حکم سنتے ہی ان کے قدم اسی وقت رک گئے اور فوراً وہیں جو توں میں بیٹھ گئے۔ رحمت عالم، نیر تاباں، روشن و رخشاں، خلق مجسمﷺ کو اپنے جاں نثار صحابی کی یہ ادا بہت پسند آئی اور آپ نے خوش ہو کر ان کے حق میں یہ دعا کی :

زادك الله حرصا على طاعة الله وطاعة رسوله

’’اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کے جذبے کو تیرے دل میں پروان چڑھائے۔‘‘

عقیدت، محبت اور اطاعت ہو تو ایسی کہ جس پر ملائکہ بھی رشک کریں۔

حضرت عبد اللہ بن رواحہ بہترین کاتب ہونے کے ساتھ ساتھ بلند پایہ شاعر بھی تھے، ان کی شاعری کا چرچا دور دور تک پھیلا ہوا تھا، حضرت عروہ بن زبیر ارشاد فرماتے ہیں کہ جب قرآن مجید میں یہ آیت نازل ہوئی۔

﴿ وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ﴾

’’شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں۔‘‘

یہ قرآنی آیت سن کر حضرت عبد اللہ بن رواحہ، حضرت حسان بن ثابت اور حضرت کعب بن مالک زار و قطار رونے لگے۔ آنسوؤں کی جھڑیاں لگ گئیں، کہنے لگے، ہائے افسوس، ہم مارے گئے ، ہمارا شمار تو ان لوگوں میں ہوتا ہے، جن کی مذمت میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی، ہمارا اب کیا بنے گا، کاش کہ شعر وشاعری سے ہمارا دور کا بھی واسطہ نہ ہوتا ، ان کی گریہ زاری اور آہ وفغاں پر ترس کھاتے ہوئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ آیت نازل کی:

﴿ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ﴾

’’مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔‘‘

یعنی مؤمن اور نیک شاعر اس سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ حکم سن کر تینوں جلیل القدر شاعر صحابہ کرام کو دلی اطمینان نصیب ہوا، ان کا غم خوشی میں تبدیل ہو گیا، غمگین آنکھوں میں چمک پیدا ہو گئی اور دل حزیں مسرت وشادمانی کا گہوارہ بن گیا، پھر انہوں نے اسلام کے دفاع کی خاطر دلکش انداز اور ولولہ انگیز اسلوب میں خوب شاعری کی۔ مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت اینٹیں اور گارا ڈھوتے ہوئے شاہ امم سلطان مدینہﷺ کی زبان پر حضرت عبد اللہ بن رواحہ کا یہ مشہور ومعروف شعر جاری تھا اور آپ بار بار اسے دہرا رہے تھے:

اللهم لا عيش إلا عيش الأخرة                  فاغفر الأنصار والمهاجرة

’’الٰہی! زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے۔  الٰہی! انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔‘‘

تعمیر مسجد میں مصروف تمام صحابہ کرام بھی دلفریب انداز میں یہی شعر گنگنا رہے تھے، جس سے ماحول میں عجیب سماں پیدا ہو چکا تھا، ہر کوئی یہ شعر پڑھتے ہوئے تعمیراتی کام کو راضی خوشی سر انجام دے رہا تھا، شام امم سلطان مدینہ ﷺ کا اونچی آواز میں یہ شعر پڑھنا ، جہاں اچھی شاعری کی تعریف وتوصیف کی غمازی کرتا ہے۔

حضرت قیس بن حازم کی روایت ہے کہ رسول اقدس ﷺ نے ایک روز ارشاد فرمایا کہ ابن رواحہ اپنے تازہ کلام سے ساتھیوں کے دل گرمائیں اور ان میں تحریک پیدا کریں، عرض کی، یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ، آج کل تو میں نے شعر کہنے چھوڑے ہوئے ہیں۔

حضرت عمر پاس ہی کھڑے تھے، انہوں نے جلالی انداز میں ارشاد فرمایا:

سنو! اللہ کے رسول کی اطاعت کرو۔

حضرت عبد اللہ بن رواحہ یہ بات سنتے ہی ارتجالاً یہ شعر کہنے لگے:

تَاللَهِ لَولا اللَهُ ما اِهتَدَينا                                                                    وَلا تَصَدَّقنا وَلا صَلَّينا

فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا                                                                               وثَبِّتِ الأقْدَامَ إنْ لَاقَيْنَا

الكافِرونَ قَد بَغَوا عَلَينا                                                                إِن أَرادوا فِتنَةً أَبَينا

’’ اللہ کی قسم! اگر اللہ کی مدد شامل حال نہ ہوتی توہم ہدایت نہ پاتے۔ نہ صدقہ دیتے اور نہ ہی نماز پڑھتے، الٰہی ہم پر سکینت نازل فرما۔ الٰہی جب ہم دشمن سے نبرد آزما ہوں تو ہمیں ثابت قدم رکھنا۔‘‘

بلاشبہ دشمن نے ہم پر ظلم کیا ہے، جب یہ کسی فتنے کا ارادہ کریں گے تو ہم انکار کر دیں گے۔

ایک روز ان کی رفیقہ حیات نے تازہ کلام سننے کی فرمائش کی تو آپ نے برجستہ یہ شعر پڑھا:

شَهِدتُ بِأَنَّ وَعدَ اللَهِ حَقٌّ                                                                         وَأَنَّ النارَ مَثوى الكافِرينا

’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے اور جہنم کافروں کا ٹھکانہ ہے۔‘‘

بیوی نے جھومتے ہوئے کہا، واہ واہ کتنا اچھا شعر کہا، کچھ اور سنائیے، بڑا ہی ایمان افروز شعر تھا، آپ کی شاعری کے کیا کہنے!

وَأَنَّ العَرشَ فَوقَ الماءِ طافٍ                                                                                            وَفَوقَ العَرشِ رَبُّ العالَمينا

وَتَحمِلُهُ مَلائِكَةٌ كِرامٌ                                                                                                    مَلائِكَةُ الإِلَهِ مُقَرَّبينا

’’بلاشبہ عرش پانی پر تیر رہا ہے اور عرش کے اوپر پروردگار عالم جلوہ افروز ہیں، اس عرش کو معزز فرشتے اٹھائے ہوئےہیں اور یہ معبود حقیقی کے فرشتے اس کے ہاں مقرب اور محترم ہیں۔‘‘

(جرنیل صحابہ تالیف محمود احمد غنضفر )

بیوی کی فرمائش اور اپنی شعر گوئی کا تذکرہ سیدنا عبد اللہ بن رواحہ نے رحمت عالم ﷺ کی خدمت اقدس میں پیش کیا، تو آپ ﷺ مسکرا اٹھے۔

سر زمین شام کے سرحدی مقام موتہ کی طرف روانگی کے لیے جو اسلامی لشکر ترتیب دیا گیا، اس کے لیے شاہ امم سلطان مدینہ ﷺ نے تین سپہ سالار نامزد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، اس لشکر کے پہلے امیر زید بن حارثہ ہوں گے، اگر یہ راہ حق میں شہید کر دیے جائیں تو پھر لشکر کی قیادت جعفر بن ابی طالب کے سپرد کر دی جائے اور جب وہ شہید ہو جائیں تو لشکر کی قیادت کے فرائض عبد اللہ بن رواحہ سر انجام دیں گے، دربار رسالت سے حکم پا کر جب مجاہدین کا یہ قافلہ مدینہ منورہ سے روانہ ہونے لگا اور مدینہ منورہ میں موجود مسلمانوں نے انہیں دعاؤں اور نیک تمناؤں سے رخصت کیا تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے برجستہ یہ شعر کہے:

لَكِنّنِي أَسْأَلُ الرّحْمَنَ مَغْفِرَةً                                                                         وَضَرْبَةً ذَاتَ فَرْغٍ تَقْذِفُ الزّبَدا

أَوْ طَعْنَةً بِيَدَيْ حَرّانَ مُجْهِزَةً                                                                         بِحَرْبَةٍ تُنْفِذُ الْأَحْشَاءَ وَالْكَبِدَا

حَتّى يُقَالَ إذَا مَرّوا عَلَى جَدَثِي                                                                         أَرْشَدَهُ اللّهُ مِنْ غَازٍ وَقَدْ رَشَدَا

’’میں اللہ رحمٰن سے بخشش کا سوالی ہوں اور ایسی کاٹ دار تلوار کا سوالی ہوں جو جھاگ اڑاتی ہو یا میرے ہاتھ میں ایسا نیزا ہو جو حران مقام کا تیار شدہ ہو یا ایسا برچھا ہو جو آنتوں اور جگر کے آر پار ہو جائے۔‘‘

میری دلی تمنا ہے کہ جب لوگ میری مرقد کے پاس سے گزریں تو یہ کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس مرد میدان کی خود راہنمائی کی ہے۔

سرزمین شام کے سرحدی مقام موتہ کے میدان میں مجاہدین نے پڑاؤ کیا دیکھا کہ شاہ روم ہرقل ایک لاکھ فوج کی قیادت کرتا ہوا، میدان میں اترا ہوا ہے تو بعض مجاہدین نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی کہ ہمیں پہلے دربار رسالت میں یہ پیغام پہنچا دینا چاہیے کہ مقابلہ بہت سخت ہے، رومی فوج ایک لاکھ کی تعداد میں اسلحے سے لیس ہو کر میدان میں اتری ہوئی ہے جبکہ مجاہدین صرف تین ہزار ہیں، جنگی لحاظ سے مسلمان خطرے میں ہیں۔ دربار رسالت سے جو حکم آئے، اس کی تعمیل کی جائے۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے پورے جوش وجذبہ سے فرمانے لگے:

میرے ساتھیو! کیوں گھبرا رہے ہو؟ جنت تمہاری منتظر ہے۔ آج شہادت کا بلند رتبہ حاصل کرنے کا سنہری موقع ہے۔

میدان جہاد میں اترتے ہوئے ہمیں قلت وکثرت کو نہیں دیکھنا چاہیے ہم تو دین کی سربلندی کے لیے سربکف میدان میں نکلے ہوئے ہیں۔ اسی دین کی وجہ سے ہمیں عزت وسرفرازی نصیب ہوئی ہے، انجام سے بے خبر ہو کر میدان میں کود جاؤ، نتیجہ جو بھی ہو گا، تمہارے حق میں بہتر ہو گا، مارے گئے تو شہید بچ نکلے تو غازی۔

ان کے پرجوش خطاب نے مجاہدین کے دلوں کو گرمایا اور وہ سربکف انجام کی پرواہ کیے بغیر میدان میں اتر گئے گھمسان کا رن پڑا۔ امیر لشکر حضرت زید بن حارثہ داد شجاعت دیتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے، اسلامی لشکر کا جھنڈا جعفر بن ابی طالب نے تھام لیا، وہ بھی دیوانہ وار لڑتے ہوئے ملک عدم کو سدھار گئے۔ آگے بڑھ کر حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے لشکر کی قیادت سنبھالتے ہوئے یہ شعر پڑھے:

أَقسَمتُ يا نَفسُ لَتَنزِلِنَّه                                               لتنزلن أو لتكرهنه

إِن أَجلَبَ الناسُ وَشَدّوا الرَنَّة                         ما لي أَراكِ تَكرَهينَ الجَنَّة

قَد طالَما قَد كُنتِ مُطمَئِنَّة                          هَل أَنتِ إِلّا نُطفَةٌ في شَنَّه

’’اے نفس مجھے قسم ہے تجھے بخوشی یا بامر مجبوری میدان میں ضرور اترنا ہو گا۔

اگرچہ لوگ جمع ہو گئے اور چیخ وپکار کرنے لگے یہ کیا ہوا میں تجھے جنت میں جانے سے گریزاں دیکھ رہا ہوں۔بلاشبہ تو نے لمبی مدت اطمیان سے زندگی بسر کی۔ کیا تو ایک روز رحم مادر میں گندے پانی کا ایک حقیر قطرہ نہ تھا؟ اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو تلقین کرتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہے تھے:

يا نفس إن لا تقتلي تموتي                                                                           هذا حمام الموت قد لقيت

وما تمنيت فقد أعطيت                                                                                 ان تفعلي فعلهما هد يت

وإن تأخرت قد شقيت

’’اے نفس ! اگر تجھے قتل نہ کیا گیا تو تو پھر بھی مر جائے گا، اس موت کے پرندے سے یقیناً تو ملے گا۔ جو تو نے تمنا کی وہ تجھے عطا کر دی گئی۔ اگر تو نے اپنے پیش رو دونوں شہیدوں جیسا کام کیا تو راہ ہدایت پہ ہو گا اور اگر تو کوتاہی کا ارتکاب کرتے ہوئے میدان میں اترنے سے پیچھے ہٹا تو بدبختی تیرا مقدر بن جائے گی۔

یہ اشعار پڑھتے ہوئے آگے بڑھے اور دشمن کا دیوانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے، لشکر اسلام کا جھنڈا آگے بڑھ حضرت ثابت بن اقرم نے پکڑ کر حضرت خالد بن ولید کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا، اب آپ ہی اس کشتی کو بھنور سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، آپ آگے بڑھیں اور اس ڈولتی ہوئی ناؤ کو کنارے لگانے میں اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں، میری نظر میں اب آپ سے بہتر اس لشکر کو سبنھالنے کے لیے ہم میں اور کوئی نہیں میں اور میرے تمام ساتھی متفقہ طور پر آپ کو اپنا امیر تسلیم کرتے ہیں۔(جرنیل صحابہ تالیف محمود احمد غنضفر )

تبصرہ کریں