رسول اللہ ﷺ کا ہنسنا ، مسکرانا اور مزاح فرمانا ( قسط 49)۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

جب سیدنا عباس بن مرداس مسجد میں داخل ہوئے تو رسول اکرمﷺ کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی!

سیدنا عباس بن مرداس روایت کرتے ہیں کہ ایک دوپہر عمرہ نامی مقام پر میں اونٹ چرا رہا تھا، اچانک میں نے ایک سفید شتر مرغ دیکھا کہ جس پر ایک سفید سوار تھا، اس نے مجھ سے کہا کہ اے عباس بن مرداس! کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ آسمان سے گھنٹیوں کی آوازیں آنا بند ہو گئی ہیں؟ جنگ نے طبل بجانا چھوڑ دیا ہے اور گھوڑوں نے اپنے زین اتار دیے ہیں کیونکہ قصوأ اونٹنی کا سوار غار حرا سے ہدایت لے کر اتر پڑا ہے۔

سیدنا عباس یہ دیکھ کر خوف کے مارے وہاں سے چل پڑے اور ان کے بت جس کا نام ضماد تھا، وہاں گئے اور وہاں جا کر اس جگہ کی صفائی کر کے بڑی ہی عقیدت اور پیار ومحبت کا اظہار کرنے لگے تو اس بت میں سے آواز آئی کہ اے عباس بن مرداس سلیم کے تمام قبائل سے کہہ دو کہ مسجد والے کامیاب ہو گئے اور ضماد بت رو سیاہ ہو گیا!

جو پہلے پوجا جاتا تھا، جب نبیﷺ پر درود پڑھا جانے لگا یعنی آپﷺ نبی بنائے گئے تو بتوں کی قدروقیمت خود بخود ختم ہو گئی!

إن الذي جاء بالنبوة والهدى بعد بن مريم من قريش مهتد

’’ بے شک جو عیسیٰ بن مریم کے بعد قریش میں نبی ہوا ہے وہ ہدایت لے کر آیا ہے۔‘‘

عباس کہتے ہیں کہ میں اس واقعہ سے بہت ڈر گیا اوراپنی قوم سے یہ سارا واقعہ بیان کیا تو وہاں بنو حارثہ کے 300 سواروں کے ساتھ رسول اکرمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور جب مسجد میں داخل ہوا تو آپﷺ مجھے دیکھ کر مسکرا اٹھے اور فرمایا: عباس اپنے اسلام لانے کا واقعہ بیان کرو جب میں نے آپﷺ کے سامنے بیان کیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ تم نے سچ کہا، بعد ازاں میں اور اپنی قوم نے اسلام قبول کر لیا ا، جس سے اللہ کے نبیﷺ کو دلی فرحت اور مسرت ہوئی۔ (البدایہ والنہایہ: 2؍341)

اللہ کے رسولﷺ نےفرمایا، اللہ رب العالمین کو اسی طرح ہنستے ہوئے دیکھ کر مجھے بھی ہنسی آ گئی!

رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں اس شخص کو جانتا ہوں جو دوزخ میں سے سب سے آخر میں نکالا جائے گا اور جنت میں سب سے آخر میں داخل کیا جائے گا، ایسا شخص وہ ہو گا جو چلے گا، لیکن اپنے گناہوں کی وجہ سے اوندھا گر پڑے گا اور جہنم کی آگ اس کو جلائے گی، جب وہ شخص دوزخ سے باہر ہو جائے گا تو پیٹھ موڑ کر اس کو دیکھے گا اور کہے گا بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی ، بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی چیز عطا کی جو بعد والوں میں سے کسی کو نہیں دی،اتنے میں اس کو ایک درخت دکھائی دے گا جسے دیکھ کر وہ کہے گا یا اللہ! مجھے اس کے قریب کر دے تاکہ میں اس درخت کے سائے میں رہوں اور اس کا پانی پیوں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے آدم کے بیٹے اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں تو تو اور سوال تو نہ کرے گا؟ وہ کہے گا نہیں، اے میرے رب! میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اور کوئی سوال نہیں کروں گا، اب اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول کرے گا، اس لیے کہ وہ ایسی نعمت کا مشاہدہ کر چکا ہے کہ جس پر اس کو صبر نہیں ہو سکتا، (انسان بے صبرا ہے) وہ جب تکلیف میں مبتلا ہو اور عیش کی چیز دیکھے توبے اختیار اس کی خواہش کرتا ہے، آخر کار اللہ تعالیٰ اس کو درخت کے نزدیک کر دے گا، وہ اس کے سائے میں رہے گا اور اس کا پانی پیئے گا، اتنے اس کو پھر ایک درخت دکھائی دے گا جو اس سے بھی اچھا ہو گا، پھر عرض کرے گا، اے میرے پروردگار! مجھ کو اسی درخت کے قریب پہنچا دے تاکہ میں اس کا پانی پیوں ، اس کے بعد اور کوئی سوال نہ کروں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے یہ عہد نہیں کیا تھا کہ اب سوال نہ کروں گا اور اگر اب میں تجھے اس درخت تک پہنچا دوں تو تو پھر کوئی اور سوال تو نہ کرے گا؟ وہ کہے گا کہ نہیں، اے میرے مالک! میں اور سوال نہ کروں گا، تب اللہ تعالیٰ اس کو اس درخت کے نزدیک کر دے گا، پھر اس کو ایک اور درخت دکھائی دے گا جو جنت کے دروازے پر ہو گا اور پہلے کے دونوں درختوں سے بہتر ہو گا، وہ کہے گا، اے میرے رب! مجھے اس درخت کےپاس پہنچا دے تاکہ میں اس کےسایہ تلے رہوں اور اس کا پانی پیوں، اب میں کچھ اورسوال نہ کروں گا، (اللہ تعالیٰ اس کو معذور رکھے گا اس لیے کہ وہ ایسی نعمتوں کو دیکھ رہا ہے جن پر صبر نہیں کر سکتا) آخر اللہ تعالیٰ اس کو اسی درخت کے قریب کر دے گا، جب وہ اس درخت کے پاس پہنچ جائے گا تو جنت والوں کی آوازیں سنے گا اور کہے گا۔

اے میرے رب! مجھے جنت کے اندر پہنچا دے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم کے بیٹے! تیرے سوال کو کیا چیز پورا کرے گی؟ یعنی تیری خواہش کب موقوف ہو گی اور یہ بار بار سوال کرنا کب بند ہو گا؟ بھلا تو اس پر راضی ہے کہ میں تجھے ساری دنیا کے برابر دوں اور اتنا ہی اور دوں؟ وہ بندہ کہے گا کہ اے میرے پروردگار! آپ مجھ سے مذاق اور ہنسی کرتے ہیں باوجود اس کے آپ سارے جہاں کے مالک اور شہنشاہ ہیں، (یہ واقعہ بیان کر کے) سیدنا ابن مسعود ہنسنے لگے اور اپنے شاگردوں سے فرمایا: تم مجھ سے پوچھتے کیوں نہیں کہ میں کیوں ہنس رہا ہوں ؟ لوگوں نے کہا، اچھا فرمائیے بے محل آپ کیوں ہنس پڑے؟ سیدنا ابن مسعود نے فرمایا:رسول اللہﷺ بھی اسی طرح اس حدیث کے بیان کرتے وقت ہنس پڑے تھے، اس وقت لوگوں نے آپﷺ سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ!آپ کیوں ہنس پڑے؟ آپﷺ نے فرمایا: اللہ رب العالمین کو اس طرح ہنستے ہوئے دیکھ کر مجھے بھی ہنسی آئی، جب بندہ یہ کہے گا، آپ سارے جہاں کے پروردگار ہوتے ہوئے بھی مذاق فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں مذاق نہیں کرتا،میں ہر چیز پر قادر ہوں، جو چاہتا ہوں کر سکتا ہوں، یعنی دنیا اور دنیا کے برابر دنیا میرے نزدیک کوئی مشکل بات انہیں صرف کُن کہہ دینے سے لاکھوں دنیا پیدا کر سکتا ہوں۔

(مسند احمد بن حنبل﷫: حدیث نمبر: 3714)

سیدنا ابو لبابہ کی مغفرت کی تعلق سے سورۂ انفال کی آیت نازل ہوئی تو رسول اکرمﷺ خوشی سے مسکرا دیئے!

غزوات رسول ﷺ میں سے غزوۂ بدر بہت مشہور ہے، سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو دیکھا اور فرمایا (اے اہل بدر)! اب تم جو چاہو کرو میں تم کو بخش چکا ہوں۔‘‘ (سنن ابو داؤد)

حق وباطل کے اس معرکہ کے لیے مسلمان نکلے تو سواریوں کی بہت قلت تھی، ایک سواری میں تین تین مجاہد حصہ دار تھے، حضورﷺ کی سواری کی بھی یہی حالت تھی، اس سفر میں چشم فلک نے ایک عجیب نظارہ دیکھا کہ سیدنا ابو لبابہ جو رحمت عالمﷺ کی سواری میں حصے دار تھے، امام الانبیاءﷺ نے انہیں اپنے اونٹ پر سوار کر رکھا ہے اور خود پیدل چل رہے ہیں، غلام بار بار عرض کرتا ہے، میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ سوار ہو جائیے، میں پیدل چلتا ہوں، نبی کریمﷺ نے فرمایا:

’’ نہیں بھائی، اب سوار ہونے کی تمہاری باری ہے اور تم مجھ سے زیادہ پیدل نہیں چل سکتے اور پھر میں بھی تو حق کی راہ میں پیدل چلنے کے ثواب سے محروم نہیں رہنا چاہتا۔‘‘

ابھی کچھ سفر بھی کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ ابو لبابہ تم مدینہ واپس چلے جاؤ اور وہاں رہ کر میری نیابت کا فرض ادا کرو۔‘‘

سیدنا ابو لبابہ کا شمار عظیم صحابہ میں ہوتا ہے ، آپﷺ کے مقام ومرتبہ کا کیا کہنا کہ سرور عالمﷺ کی نیابت کا شرف نصیب ہوا، حضورﷺ کی سواری میں حصہ دار ٹھہرے۔ حضورﷺ نے خود پیدل چل کر ان کو سوار کرایا۔

سیدنا ابو لبابہ عہد رسالت کے تقریباً تمام غزوات میں شریک رہے، غزوۂ احزاب کے موقع پر ان سے ایک عجیب واقعہ پیش آیا ، جس سے ان کو بہت شہرت ملی۔

امام ابن کثیر﷫ اور امام زہری﷫ کا بیان ہے کہ

’’جب بنو قریظہ کے یہودی گھر گئے تو ان کو قلعہ سے اترنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے سیدنا ابو لبابہ سے دریافت کیا کہ ہم سعد بن معاذ کے حکم پر اتر آئیں تو سیدنا ابو لبابہ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا کہ ایسا کرنے سے قتل کر دیے جاؤ گے پھر اسی وقت سیدنا ابو لبابہ کو احساس ہوا کہ جنگی راز فاش کر دیا ہے، اب اگر یہودی یہ جان کر کہ ہم تو مر رہے ہیں اگر کوئی قدم اٹھائیں اور اس سے مسلمانوں کو کوئی نقصان ہو جائے تو اس کا گناہ مجھ پر ہو گا، اسی خیال سے یہ کانپ اٹھے اور حضورﷺ کو منہ دکھانے کی ہمت نہ ہوئی تو روتے ہوئے سیدھے مسجد نبوی میں پہنچے اور خود کو ستون کے ساتھ باندھ لیا، رو رو کر آنکھیں سوجھ گئیں، نو روز تک باندھے رہے۔

ارباب سیر کا بیان کا ہے کہ بعض دفعہ روتے روتے بے ہوش ہو جاتے، نظر کمزور ہو گئی اور کان بہرے ہو گئے، نبیﷺ کو جب ساری صورتحال کا علم ہوا تو فرمایا: اب تو جو ہو سو ہو، اگر ابو لبابہ ( ) میرے پاس آ جاتے ہیں، ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتا، آخر رحمت الٰہی جوش میں آئی تو ان کی توبہ قبول ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ پر آیت اتاری:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾

’’اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو اور اپنی (آپس کی) امانتوں میں بھی اور تم جانتے ہو۔‘‘ (سورۃ انفال: 27)

جب یہ آیت اتری تو اس وقت رسول اللہﷺ سیدہ ام سلمہ کے حجرے میں تھے، اس آیت کے نازل ہونے پر رسول اللہﷺ خوشی سے مسکرا دیئے، سیدہ ام سلمہ نے جب نبی کریمﷺ کو مسکراتا ہوا دیکھا تو عرض کیا، میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ مسکراتا رکھے، جناب کے مسکرانے کی وجہ کیا ہے، آپﷺ نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ نے ابو لبابہ کی توبہ قبول کر لی ہے۔‘‘

ام المؤمنین نے عرض کیا، اگر اجازت ہو یہ خوشخبری میں ابو لبابہ کو سنا دوں، سیدہ ام سلمہ کا حجرہ مسجد نبوی کے قریب ہی تھا، انہوں نے وہیں سے پکارا، ابو لبابہ مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی ہے، یہ خبر آناً فاناً سارے شہر میں پھیل گئی، لوگ انہیں مبارک باد دینے اور ستون سے کھولنے کے لیے دوڑے، جب لوگ آپ کی رسیاں کھولنے لگے تو انہوں نے منع کر دیا اور کہا کہ

’’جب تک خود رسول اللہﷺ مجھے آ کر نہ کھولیں میں بندھا رہوں گا، آخر خود رسول اللہﷺ آئے اور اپنے دست مبارک سے ابو لبابہ کو آزاد کیا۔‘‘

(قصہ غزوۂ بدر، البدایہ والنہایہ: 3؍269؛ قصہ بنو قریظہ، البدیہ والنہایہ: 4؍144)

٭٭٭

تبصرہ کریں