رسول اللہ ﷺ کا ہنسنا ، مسکرانا اور مزاح فرمانا۔ ( قسط 47)۔ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

سرور کائنات ﷺ ان لڑکیوں کے پاس سے گزرے تو متبسم ہو کر ان سے فرمایا:

’’بچیو کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔‘‘

نماز جمعہ سے فارغ ہو کر ہادئ اکرمﷺ یثرب کی جنوبی سمت شہر میں داخل ہوئے۔ حضور ﷺ کا یثرب میں داخلہ دنیائے شوق اور تاریخ عشق میں اپنی مثال نہیں رکھا، جس والہانہ جوش وخروش اور بے پناہ ذوق وشوق سے اہل یثرب نے رحمت عالم ﷺ کا استقبال کیا، تاریخ عالم میں اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس دن یثرب ’مدینۃ النبی‘ بن گیا اور اس کی زمین رشک آسمان بن گئی۔ انصار کے وفور مسرت کا یہ عالم تھا کہ قبا سے لے کر مدینہ تک تین میل کا راستہ جمالِ رسالت کے مشتاقان دید سے پٹا پڑا تھا۔ یہ مدینہ کی تاریخ میں سب سے بڑا یومِ مسرت تھا۔ خاکِ یثرب کے ذرّات ابھر ابھر کر ہمہ تن دید بن گئے تھے کہ آج انہیں اس رحمت مجسم کے پائے اقدس چومنے کا شرف حاصل ہونے والا تھا، جو تمام کائنات ارضی وسماوی کا سرمایۂ افتخار تھا، سارا شہر جوشِ مسرت اور فرطِ عقیدت سے گہوارۂ بہار بنا ہوا تھا، اور فضا تحمید وتقدیس کے نغموں سے گونج رہی تھی۔ مدینہ کے حبشی غلام وفور مسرت میں اپنے فوجی کرتب دکھا رہے تھے اور بچے جاء رسول الله، جاء رسول الله (رسول اللہ آئے، رسول اللہ آئے) کے نعرے لگاتے ہوئے ہر طرف خوشی سے اچھل کود کر رہے تھے۔ جوشِ مسرت میں پردہ نشین خواتین بھی گھروں کی چھتوں پر نکل آئی تھیں، دوشیزہ لڑکیاں غرفوں سے جھانک رہی تھیں۔ راہ میں انصار کا ہر قبیلہ بصد نیاز سرور ِ کونین ﷺ کے سامنے آتا اور عرض کرتا:

’’ یا رسول اللہ (ﷺ)! ہمارا گھر حاضر ہے، جان حاضر ہے، مال حاضر ہے۔‘‘

حضور ﷺ ہر قبیلے کے احسان کا اعتراف فرماتے اور اس کے حق میں دعائے خیر کرتے۔

جس وقت کوکبۂ نبوی کے کوچے میں داخل ہوتا تو دونوں طرف کے مکانات کی چھتوں پر ایستادہ پردہ نشین انصار کے لبوں پر ہجوم شوق ومسرت میں یہ ترانہ جاری ہو جاتا:

طَلَعَ البَدْرُ عَلَيْنَا مِنَ ثَنِيَّاتِ الوَدَاع

وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَى لِلَّهِ دَاع

أَيُّهَا المَبْعُوثُ فِينَا جِئْتَ بِالأَمْرِ المُطَاع

’’ ہم پر چودھویں کا چاند طلوع ہوا ہے۔ کوہِ وداع کی گھاٹیوں سے ہم پر خدا کا شکر واجب ہے۔ جب تک دعا مانگنے والے دعا مانگیں۔ اے ہم میں مبعوث ہونے والے آپ ایسے امر کے ساتھ آئے ہیں جس کی اطاعت فرض ہے۔‘‘

بنو نجار کے جوش و خروش اور مسرت وابتہاج کی تو کوئی انتہا نہ تھی کیونکہ حضور ﷺ کے نانہالی رشتہ دار ہونے کی بناء پر ان کو یقین تھا کہ سرورِ عالمﷺ انہی کو شرف میزبانی بخشیں گے اور اس طرح ان کو محبوب کبریا کا ہمسایہ بننے کی سعادت نصیب ہو گی۔ بنو نجار کی معصوم بچیاں دف بجا بجا کر یہ ترانہ گا رہی تھیں:

نحنُ جَوَارٍ من بَنِي النَّجَّارِ يا حَبَّذَا محمدٌ من جَارِ

’’ہم بنو نجار کی لڑکیاں ہیں، محمد ﷺ کیا ہی اچھے ہمسایہ ہیں۔‘‘

سرورکائنات ﷺ ان لڑکیوں کے پاس سے گزرے تو متبسم ہو کر ان سے فرمایا:

’’بچیو کیا تم مجھ سے محبت رکھتی ہو۔‘‘

انہوں نے بیک آواز کہا: ’’ ہاں یا رسول اللہ‘‘

حضورﷺ نے فرمایا: ’’ تم بھی مجھ کو عزیز ہو۔‘‘

سرور عالم ﷺ کے خادم خاص سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے اس دن سے زیادہ مبارک اور پُرمسرت دن کوئی نہیں دیکھا جس میں رسول اکرمﷺ رونق افروزِ مدینہ ہوئے۔ اس دن مدینہ کے درو دیوار طلعت اقدس سے جگمگا اٹھے۔ (30 پروانے شمع رسالت کے از طالب ہاشمی)

رحمت عالم ﷺ نے متبسم ہو کر حضرت اسید سے فرمایا: ’’ اسے چھوڑ دو، میں اسے معاف کرتا ہوں۔‘‘

سیدنا اسید اکثر دربار رسالت میں حاضر رہتے تھے اور سرورعالم ﷺ کی حفاظت کا خاص خیال رکھتے تھے۔ علامہ محمد بن سعد (کاتب الواقدی) نے طبقات میں لکھا ہے کہ ہجرت نبوی کے بعد (غالباً 5 ہجری میں) ایک دفعہ ابو سفیان نے رسول اکرمﷺ کو مدینہ منورہ میں شہید کرانے کا منصوبہ بنایا اور اس کام کے لیے عمرو بن امیہ الضمری کو منتخب کیا۔ (ابھی وہ مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے۔) عمرو ایک خنجر کپڑوں کے نیچے چھپا کر ایک تیز رفتار اونٹ پر عازم مدینہ ہو گئے۔ چھٹے دن مدینہ کے قریب ظہر الحرہ کے مقام پر پہنچے، اونٹ کو وہیں چھوڑا اور خود رسول کریمﷺ کا پتہ پوچھتے پوچھتے مسجد بنو عبد الاشہل میں آئے، جہاں حضور ﷺ صحابہ کی ایک جماعت کے درمیان استراحت فرما رہے تھے۔ آپﷺ کی نگاہ عمرو پر پڑی تو فرمایا، اس شخص کی نیت نیک معلوم نہیں ہوتی۔ صحابہ میں حضرت اسید بن حضیر بھی موجود تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ کا اشاد سن کر چیتے کی طرح جست لگائی اور عمرو کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ ان کی تلاشی لی گئ تو کپڑوں سے خنجر برآمد ہوا۔ عمرو بڑے شہ زور اور تیز رفتار آدمی تھے۔ انہوں نےبھاگنے کی بہتیری کوشش کی لیکن اسید کی مضبوط گرفت کے سامنے ان کی کچھ پیش نہ چلی ، بے بس ہو کر اپنے جرم کا اقرار کرلیا اور سارا واقعہ من وعن بیان کر دیا۔

رحمت عالمﷺ نے متبسم ہو کر حضرت اسید سے فرمایا: ’’ اسے چھوڑ دو، میں اسےمعاف کرتا ہوں۔‘‘

سیدنا عمرو حضور ﷺ کی شان رحیمی دیکھ فوراً مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ لیکن حافظ ابن عبد البر ﷫اور امام ابن اثیر﷫ نے لکھا ہے کہ ایسی تمام روایات جن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابو سفیان نے اسلام لانے سے پہلے فلاں موقع پر حضورﷺ کے قتل کی سازش کی ، ضعیف ہیں۔ ہو سکتا ہے دوسرے اہل مکہ نے کوئی ایسا منصوبہ بنایا ہو۔ (30 پروانے شمع رسالت کے از طالب ہاشمی)

رسول اکرمﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: ابو یحییٰ تم نے بڑی نفع مند تجارت کی!

پھر انہوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ نے بھی اس عاجز کا خیال نہ فرمایا۔ میں مکہ میں تنہا رہ گیا اور قریش مجھ پر چڑھ دوڑے۔ اپنا مال و اسباب سب کچھ انہیں دے کر بڑی مشکل سے جان چھڑائی اور آپ تک پہنچا۔‘‘

حضور ﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: ’’ ابو یحییٰ تم نے بڑی نفع مند تجارت کی۔ ابو یحییٰ تم نے بڑی نفع مند تجارت کی۔‘‘

اس کے ساتھ ہی وحی الٰہی کے یہ الفاظ لسانِ رسالت پر جاری ہو گئے۔

﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ﴾

’’لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو اپنی جانیں اللہ کی رضا کے لیے بیچ دیتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔‘‘ (سورة البقرة: 25)

یہ صاحب جن کی استقامت اور قربانی کو بارگاہ خداوندی میں کھلے لفظوں میں شرفِ قبول حاصل ہوا، اور جن کے جذبہ فدویت کی خیر الخلائق فخر کائنات محبوبِ خدا ﷺ نے تحسین فرمائی، حضرت صہیب بن سنان رومی تھے۔

(30 پروانے شمع رسالت کے از طالب ہاشمی)

سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ مجھے دیکھتے ہی مسکرائے!

کثیر بن زید ولید بن رباح کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ فرمایا کرتے تھے کہ نبی اقدس ﷺ مجھے ابو ہر کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ (بحوالہ مستدرک حاکم: 3؍506)

اسامہ بن زید عبد اللہ بن رافع کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ سے پوچھا لوگ آپ کو اس کنیت سے کیوں پکارتے ہیں، فرمایا میں بکریاں چرایا کرتا، میرے پاس ایک بلی تھی جس سے بسااوقات کھیلا کرتا تھا۔ اسےاپنی آستین میں بٹھا لیا کرتا تھا۔ لوگوں نے میرا اشتیاق دیکھتے ہوئے مجھے ابو ہریرہ کہنا شروع کر دیا۔

(جامع ترمذی، طبقات ابن سعد، تاریخ ابن عساکر)

مفسر قرآن امام مجاہد ﷫بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا:

’’میں سخت بھوک کی وجہ سے بعض اوقات اپنا جگر تھام کر زمین پر لیٹ جاتا اور کبھی اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا۔ ایک دن میں اس راستے بھوکا پیاسا بیٹھا ہوا تھا۔ جہاں سے صحابہ کا گذر ہوتا تھا ، میرے پاس سے ابو بکر صدیق گذرے میں نے ان سے قرآن حکیم کی اس آیت کا مطلب پوچھا:

﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا﴾

’’ کہ وہ اپنی چاہت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔‘‘ میرا پوچھنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے کھانا کھلا دیں گے۔ لیکن انہوں نے میری منشاء کے مطابق کچھ نہ کیا اور چل دیے پھر وہاں سے عمر بن خطاب کا گذر ہوا ، میں نے اسی آیت کا مفہوم پوچھا وہ بھی اس کا مفہوم بتا کر کچھ کھلائے بغیر یونہی چلے گئے، اس کے بعد رسول اقدس ﷺ تشریف لائے، آپ مجھے دیکھتے ہی مسکرائے، میرا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھ کر حقیقت حال سمجھ گئے۔

آپ نے شفقت بھرے انداز میں فرمایا: ابو ھر! میں نے کہا ، لبیک یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے فرمایا: اٹھو میرے ساتھ آؤ، میں آپ کے پیچھے چل دیا۔ آپ گھر میں داخل ہوئے، مجھے اندر آنے کی اجازت دی۔ آپ نے گھر میں دودھ کا پیالہ پڑا دیکھا، اہل خانہ سے پوچھا یہ دودھ کہاں سے آیا، جواب ملا کہ یہ کسی نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا ہے۔

آپ نے آواز دی، ابو ھر! میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے فرمایا: جاؤ اصحاب صفہ کو بلا لاؤ اور فرمایا: اصحاب صفہ اسلام کے مہمان ہیں۔ نہ ان کا کوئی گھر ہے نہ ان کے پاس مال و دولت ہے اور نہ ہی ان کا کسی پر کوئی زور۔ جب آپﷺ کے پاس کوئی صدقہ آتا تو آپ وہ ان کے پاس بھیج دیتے اور خود اس میں سے کوئی چیز نہیں لیتے تھے۔ اور جب کوئی آپ کے پاس تحفہ آتا وہ بھی انہیں عطا کر دیتے لیکن کبھی اس میں سے خود کچھ قبول فرما لیتے۔

مجھے آپ کا حکم سن کر اندیشہ ہوا کہ اس دودھ سے اصحاب صفہ کا کیا بنے گا؟ میرے ارمان تو پورے نہ ہو سکیں گے۔ میں تو چاہتا تھا کہ دودھ پی کر میری جان میں جان آئے، جسم میں کچھ توانائی آئے، لیکن آپ کا حکم بجا لانا مقدم تھا۔ جب وہ سبھی آگئے تو آپﷺ نے مجھے حکم دیا کہ یہ دودھ کا پیالہ ان کی خدمت میں پیش کرو۔ میرے دل میں خیال آیا کہ یہ دودھ مجھ تک تو پہنچنے سے رہا لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت میرے ضروری تھی۔ تو میں ان کے پاس گیا اور انہیں بلا لایا، اندر آنے کی اجازت طلب کی، اجازت مل گئی تو سب اندر آئے۔ آپﷺ نے مجھے آواز دی میں نےسرتسلیم خم کرتے ہوئے لبیک کہا، آپﷺ نے فرمایا: یہ دودھ ان کی خدمت میں پیش کرو، میں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دودھ کا پیالہ باری باری ان کی خدمت میں پیش کرنا شروع کیا، ہر ساتھی دودھ پی کر پیالہ واپس مجھے پکڑا دیتا ، پیالہ لبالب اس طرح بھرا ہوتا۔ پھر میں وہ دوسرے کی خدمت میں پیش کر دیتا وہ بھی خوب سیر ہو کر پیتا اور پھر پیالہ مجھے پکڑا دیتا یہاں تک کہ سب ساتھی خوب سیر ہو کر دودھ پی چکے، آخر میں وہ پیالہ میں نے رسول اقدسﷺ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ! سب پی چکے۔ آپ وہ پیالہ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔ میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: ابو ہریرہ میں نے کہا، جی یا رسول اللہﷺ! فرمایا: اب میں اور آپ باقی رہ گئے۔ میں نے عرض کیا بالکل، آپ ﷺ نے سچ فرمایا:

’’اب میں بھوک سے نڈھال کھڑا ہوں۔ پیالہ آپﷺ نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے۔ امتحان کی نازک گھڑی ہے سرتسلیم خم کیے ہوئے حکم کا منتظر ہوں، آپ نے میری طرف شفقت بھرے انداز سے دیکھتے ہوئے فرمایا: بیٹھو، یہ پیالہ لو اور دودھ پیو۔ میں بیٹھ گیا اور دودھ پینے لگا جب پی چکا تو آپﷺ نے فرمایا: مزید پیو، میں نے پھر پینا شروع کر دیا ، جب خوب سیر ہو چکا تو پیالہ ہونٹوں سے الگ کیا۔ آپﷺ نے کہا ابو ہر اور پیو، میں نے عرض کی ، بس یا رسول اللہﷺ! اب تو کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ میں نے پیالہ آپ کی خدمت میں پیش کر دیا، آپ ﷺ نے بسم اللہ پڑھتے ہوئے دودھ پیا اور اور الحمد للہ کہتے ہوئے اسے ختم کیا۔ اللہ اکبر

(حکمران صحابہ از محمود احمد غنضفر)

رسول اقدسﷺ مسکراتے ہوئے بغیر کوئی بات کہے ثمامہ بن اثال کے پاس سے تشریف لے گئے!

ثمامہ بن اثال نجد سے مکہ پہنچنے کے لیے مدینے کا راستہ اختیار کیا، وہ مدینہ منورہ کے قریب سے گزر رہا تھا کہ گشت پر موجود صحابہ کرام نے اسے مشکوک سمجھتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ مسجد نبوی میں لا کر اسے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ رسول اقدس ﷺ جب مسجد نبوی میں تشریف لائے آپ نے دیکھا کہ ایک شخص ستون کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ آپ اس کے قریب گئے۔ تو وہ ثمامہ بن اثال تھا۔

آپ نے اپنے جاں نثار صحابہ سے پوچھا، کیا تم جانتے ہو کہ ستون کے ساتھ کس کو باندھا ہوا ہے؟

سب نےبیک زبان کہا: یا رسول اللہﷺ! ہم تو اسے نہیں جانتے۔

آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ نجد کے مشہور قبیلہ بنو حنیفہ کا سردار ثمامہ بن اثال ہے۔ اب اسے مزید کوئی سزا نہ دینا، البتہ ابھی ستون کے ساتھ بندھا رہے۔

رسول اقدسﷺ اپنے گھر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: گھر میں کھانے کے لیے جو کچھ میسر ہے وہ مسجد میں ثمامہ بن اثال کے لیے بھیج دیا جائے۔

پھر آپﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ صبح وشام میری اونٹنی کا دودھ اسے پینے کے لیے دیا جائے۔ آپ کےحکم کی تعمیل کی گئی۔

رسول اقدسﷺ نےبڑے ہی شفقت بھرے انداز میں ثمامہ سے کہا: ثمامہ کیا رائے ہے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے، اس نے برجستہ کہا۔ اگر آپ مجھے قتل کر دیں گے تو آپ کو اس کا حق حاصل ہے کیونکہ مجھ سے آپ کے ساتھیوں کو قتل کرنے کا جرم سرزد ہوا ہے۔

اگر معاف کردیں تو ایک قدردان پر آپ کی مہربانی اور شفقت ہو گی۔ اگر مال کےبدلے آزاد کر دیں تو جس قدر آپ کا مطالبہ ہو میں پورا کروں گا۔

رسول اقدسﷺ مسکراتے ہوئے بغیر کوئی بات کہے وہاں سے تشریف لے گئے اور دو دن اسے اسی حالت میں رکھا۔ لیکن اس کی دیکھ بھال اور کھانے دانے کا باعزت اہتمام کیا گیا۔

آپ نے ثمامہ سے پھر وہی سوال کیا۔

ثمامہ کیا رائے ہے؟ تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟

اس نے پھر وہی جواب دیا۔

کہ اگر آپ معاف فرما دیں تو ایک قدر دان پر شفقت اور مہربانی ہو گی۔ اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس نے آپ کے ساتھیوں کا ناحق خون بہایا ہے۔ اگر مال چاہیے تو آپ کے مطالبے کے مطابق مال آپ کی خدمت میں پیش کر دیا جائے گا۔ رسول اقدسﷺ نے تیسرے روز ثمامہ سے پھر وہی سوال کیا۔

اس نے برجستہ پھر وہی جواب دیا۔

إنْ تَقتُلْني تَقتُلْ ذا دَمٍ

إنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ علَى شَاكِرٍ

’’اگر قتل کر دیں گے تو ایک خونی کو قتل کریں گے اور اگر کرم کریں گے تو ایک قدر دان پر کرم ہو گا۔‘‘

یہ ادیبانہ جواب سن کر رسول اقدسﷺ نےصحابہ کرام کو حکم دیا کہ ثمامہ کو آزاد کر دو اس کےبندھن کھول دو۔ اسے کچھ نہ کہو، جانے دو۔

ثمامہ کے بندھن کھول دیے گئے۔ اسے آزاد کر دیا گیا، کسی نے اسے کچھ نہ کہا۔ وہ یہ حسن سلوک دیکھ کر حیران رہ گیا۔ چند لمحات پہلے اسے یقین تھا کہ اب میں یہاں سے بچ نہیں کر جا سکتا۔ لیکن شفقت ومحبت، ہمدردی اور حسن سلوک کا یہ کریمانہ انداز دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوا۔ دل میں خیال آیا یہ لوگ حق پر ہیں۔ مدینے کا ماحول تو فرشتوں کا ماحول دکھائی دے رہا ہے۔

رسول اقدسﷺ کی دعوت برحق محسوس ہو رہی ہے۔

یہ خیال دل میں آتے ہی مدینے کے قریب نخلستان میں واقع پانی کے تالاب میں اچھی طرح غسل کیا اور واپس رسول اقدسﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، یا رسول اقدسﷺ آپ کے ساتھیوں نے تو میرا جسم باندھا تھا، لیکن آپ کے حسن سلوک اور مشفقانہ طرز عمل نے میرے دل کو گھائل کر دیا ہے۔ میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی ہیں۔ اب میں کہیں نہیں جا سکتا۔ مجھے قبول فرما لیجیے مجھے معاف کر دیجیے میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں ۔ اور اس نے بھری محفل میں باآواز بلند۔ أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده و رسوله

’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کےر سول ہیں۔‘‘

ثمامہ بن اثال نے اسلام قبول کرنے کے بعد عرض کی۔ یا رسول اللہﷺ! میری دل کی کیفیت یہ تھی کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ کا چہرہ دیکھنے کا میں روا دار بھی نہ تھا۔ لیکن اسلام قبول کرنے سے میری دل میں تبدیلی پیدا ہوئی ہے کہ میں آپ کے چہرہ انور کو دیکھتا ہی رہوں۔ اب مجھے یہ چہرہ دنیا میں بسنے والے انسانوں میں سب سے زیادہ حسین وجمیل دکھائی دے رہا ہے۔

اللہ کی قسم! آپ کا پیش کردہ دین پہلے مجھے بہت برا محسوس ہوتا تھا۔ اب میرے لیے تمام ادیان سے زیادہ یہی دین مجھے محبوب ہے۔

اللہ کی قسم! آج سے پہلے آپ کا یہ شہر مدینہ تمام شہروں سے زیادہ برا لگتا تھا اور آج یہ شہر مجھے جنت نظیر دکھائی دیتا ہے۔ پھر اس کے بعد درد بھرے لہجے میں عرض کی۔

یا رسول اقدس ﷺ مجھے انتہائی افسوس ہے کہ میں نے آپ کے صحابہ کو بے دریغ قتل کیا، میں نے اپنی زندگی میں بہت بڑے جرم ارتکاب کیا۔ بھلا میرے اس گھناؤنے جرم کا مداوا کیسے ہو گا۔

رسول اقدسﷺ نے ثمامہ بن اثال کی پریشانی کو دیکھ کر ارشاد فرمایا۔

ثمامہ گھبراؤ نہیں، اسلام قبول کرنے سے پہلے سب گناہ ازخود مٹ جاتے ہیں۔ توبہ انسان کے پہلے گناہوں کو ملیامیٹ کر دیتی ہے۔

اور آپ نے اسے خیر وبرکت کی بشارت دی، یہ باتیں سن کر ثمامہ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا اور وہ وفور شوق میں کہنے لگا:

اللہ کی قسم میں نے زمانہ جاہلیت میں جس قدر مسلمانوں کا ناحق خون بہایا ہے۔ ان سے دو گنا زیادہ مشرکین کو تہہ تیغ کروں گا۔

(حکمران صحابہ ازمولانا محمود احمد غنضفر)

٭٭٭

علامہ سعدی ﷫ فرماتے ہیں:

“عزفو القلوب عن الشواغل کلھا قد فرغوھا من سوی الرحمٰن.”

’’مخلص مسلمانوں نے اللہ کے علاوہ تمام چیزوں سے اپنا دل فارغ اور خالی کر لیا۔‘‘

“حركاتھم وھمومھم وعزومھم للہ لاللخلق والشیطان.”

’’ان کے حرکات، افکار اور ارادے اللہ عزوجل کے لئے ہیں نہ کہ مخلوق اور شیطان کے لئے۔‘‘

(تذکير الانسان بعداوۃ الشیطان:40)

تبصرہ کریں