رسول اللہ ﷺ کا ہنسنا، مسکرانا اور مزاح فرمانا (قسط: 41) ۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

عکرمہ بن ابی جہل کے ایمان لانے پر رسول اکرمﷺ کا فرط مسرت سے استقبال فرمانا!

جب عکرمہ مکہ کے قریب پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا، عکرمہ بن ابی جہل بہت جلد ایک مؤمن ومہاجر کی حیثیت سے تمہارے پاس پہنچنے والا ہے اس کے باپ کو بُرا مت کہنا، مردے کو  بُرا کہنے سے زندہ کو اذیت پہنچتی ہے  اور میت کو اس کی خبر  بھی نہیں ہوتی۔

اس کے تھوڑی ہی دیر بعد عکرمہ اپنی بیوی ام حکیمؓ کے ساتھ رسول اللہﷺ کی مجلس میں پہنچ گیا، آپﷺ اُسے دیکھتے ہی فرط مسرت سے اچھل پڑے اور چادر کے بغیر ہی اس  کے استقبال کے لیے لپکے  پھر جب آپﷺ  اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تو عکرمہ نے کھڑے کھڑے عرض کیا، محمد(ﷺ)! اُم حکیمؓ نے مجھے بتایا ہے کہ آپ نے مجھے امان دے دی ہے، حضور نے جواب دیا:  اس نے صحیح کہا ہے، تم مامون ہو۔‘‘ اس نےدوبارہ سوال کیا، اے محمد(ﷺ)! آپ مجھے کس بات کی دعوت دیتے ہیں؟ میں تمہیں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا  لائق عبادت وپرستش نہیں ہے اور اس بات کی کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور اس بات کی کہ تم زکوٰۃ دو، آپﷺ نے ارکان اسلام گنائے، اس عکرمہ نے کہا ،بخدا آپ نے حق کی دعوت دی اور خیر کا حکم، بخدا اسی دعوت سے پہلے بھی ہم  میں سب سے سچے اور نیکو کار تھے، یہ کہہ کر اس نے بیعت کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کلمۂ شہادت پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا! اس روز سے مسلمانوں کی  جماعت میں ایک ایسے  شخص کا اضافہ ہوا جو میدان کار زار میں ایک شیر دل شہسوار اور مسجدوں میں ایک عابد شب زندہ دار اور قاری قرآن تھا وہ قرآن کریم کو اپنے چہرے پر رکھ کر خدا کے خوف سے روتے ہوئے بڑے والہانہ انداز میں کہتے، کتاب ربی… کلام ربی.

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے جو عہد کیا تھا، اسے پورا کر دکھایا۔ ان کے قبول اسلام کے بعد کفر واسلام کے مابین جو بھی معرکہ پیش آیا، اس میں ذوق وشوق کے ساتھ  شریک ہوئے اور مسلمان جب بھی کسی مہم میں نکلے، اس میں آگے  آگے رہے۔ معرکہ یرموک  میں تو حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ میدان قتال میں اس طرح لپکے تھے جیسے کوئی تشنہ لب شدید گرمی میں ٹھنڈے میٹھے پانی کی طرف لپکتا ہے، جب فضائے یرموک پر سے  جنگ وقتال کے بادل چھٹے اور مسلمانوں کی عظیم الشان فتح کا آفتاب طلوع ہوا تو یرموک کی زمین پر تین مجاہد زخموں سے چور پڑے ہوئے تھے اور  وہ تھے حضرت حارث بن  ہشام، حضرت عیاش بن ربیعہ اور حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ۔ شدت تشنگی سے بے تاب حضرت حارث رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا جب پانی ان کو پیش  کیا جا رہا تھا، حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف دیکھا ، حضرت حارث رضی اللہ عنہ نے پہلے ان کو پانی پلانے کااشارہ کیا اور جب پانی ان کے پاس  لے جایا گیا توحضرت عیاش رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف نظر اٹھا کر  دیکھا، حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا کہ پہلے ان کی پیاس بجھائی جائے اور جب پانی پلانے والے ان کے قریب گئے تو دیکھا  کہ وہ اس سے بے نیاز ہو چکے ہیں، جب وہ پلٹ کر دونوں صحابیوں کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ لوگ بھی آبِ کوثر  سے اپنی پیاس بجھا چکے ہیں۔

(صور من حیاۃ الصحابہ، تایف: ڈاکٹر عبد الرحمٰن رافت پاشا، زندگیاں صحابہ کی مترجم، ابو جاوید اقبال احمد قاسمی)

رسول اکرمﷺ  کا اُم ایمن سے مزاح فرمانا

حضرت زید بن اسلم روایت کرتے ہیں کہ اُم ایمن نبی  اکرمﷺ کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا کہ آپ ﷺ کو میرا شوہر بلاتا ہے، آپﷺ نے فرمایا، تیرا شوہر وہی تو نہیں جس کی آنکھوں میں سفیدی ہے۔ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے عرض کیا، ان کی آنکھیں تو اچھی ہیں، ان میں سفیدی نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: بے شک ہے۔ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے قسم کھائی کہ نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: کوئی ایسا شخص نہیں جس کی آنکھ میں سفیدی نہ ہو یعنی حلقۂ چشم (آنکھ کا حلقہ ہر انسان کا سیاہی اور سفیدی دونوں رکھتا ہے۔ (مذاق العارفین: 3/181)

حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کی توبہ قبول ہونے پر رسول اکرمﷺ کا مسکرانا

غزوات میں سے غزوۂ بدر بہت مشہور ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو دیکھا اور فرمایا (اے اہل بدر) اب تم جو چاہے کرو میں تم کو بخش چکا ہوں، حق وباطل کے اس موقع کے لیے مسلمان نکلے تو سواریوں کی بہت قلت تھی، ایک سواری میں تین تین مجاہد حصہ دار تھے، حضور اکرمﷺ کی سواری کی بھی یہی حالت تھی، اس سفر میں چشمِ فلک نے ایک عجیب نظارہ  دیکھا کہ حضرت ابو  لبابہ رضی اللہ عنہ جو رحمتِ عالمﷺ کی سواری میں حصہ دار تھے، امام الانبیاء نے انہیں  اپنے اونٹ پر سوار کر رکھا ہے اور خود پیدل چل رہے ہیں، غلام بار بار عرض کرتا ہے، میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان، آپ سوار ہو جائیے، میں پیدل چلتا ہوں، نبیﷺ نے فرمایا: نہیں، بھائی! اب سوار ہونے کی  تمہاری  باری ہے اور تم مجھ سے زیادہ پیدل نہیں چل سکتے اور پھر میں بھی تو حق کی راہ میں پیدل چلنے کے ثواب سے محروم نہیں رہنا چاہتا، ابھی کچھ سفر ہی کیا تھا کہ رسول اللہﷺ نے  فرمایا، ابو لبابہ (رضی اللہ عنہ) تم مدینہ واپس چلے جاؤ اور وہاں رہ کر میری نیابت کا فرض ادا کرو، حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کا شمار عظیم صحابہ میں ہوتا ہے۔ آپ کے مقام ومرتبہ کا کیا کہنا کہ سرور عالمﷺ کی نیابت کا شرف نصیب ہوا، حضورﷺ میں حصہ دار  ٹھہرے، حضورﷺ نے خود پیدل چل کر ان کو سوار کرایا، حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ عہد رسالت  کے تقریباً تمام غزوات میں شریک رہے، غزوہ احزاب کے موقع پر ان سے ایک عجیب واقع پیش آیا، جس سے ان کو بڑا دکھ ہوا!

تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ یہ آیت ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّـهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ ’’اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے حقوق میں خلل مت ڈالو اور اپنی قابل حفاظت چیزوں میں خلل مت  ڈالو اور تم جانتے ہو۔‘‘  ( سورۃ انفال: 27)

یہ آیت ابو لبابہ بن عبد   المنذر کے حق میں اتری  ہے جبکہ رسول اکرمﷺ نے انہیں بنو قریظہ کے یہودیوں کی طرف بھیجا تھا۔ حکم رسول کی شرط مانتے ہوئے قلعہ خالی کردیں۔ یہودیوں نے ان کے حسب مرضی  مشورہ  دیا، اس کے بعد ہی ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کو احساس ہوا اور وہ ڈر گئے کہ یہ تو اللہ اور رسول کی خیانت ہوئی، چنانچہ قسم کھا بیٹھے کہ جب تک اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرما نہ لے گا ، مر جائیں گے لیکن کھانا نہ کھائیں گے۔ اب مسجد میں  آئے ، ستون سے اپنے کو باندھ دیا، نو (9) دن اسی حالت میں گزرے، بھوک پیاس سے غش کھا کر گر گئے،  حتیٰ کہ رسول اکرمﷺ کی زبانی اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول فرمائی، لوگ بشارت دیتے ہوئے آئے اور چاہا کہ ستون سے کھول دیں، ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے صرف اللہ کے رسولﷺ کھول سکتے ہیں، چنانچہ اللہ کے رسول  نے کھولا تو کہنے لگے یا رسول اللہ (ﷺ)!  میں نے سب مال صدقہ کر دیا تو آپﷺ نے فرمایا: نہیں، صرف تیسرا حصہ صدقہ ہو گا۔

 صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت حاطب بن بلتعہ رضی اللہ عنہ کا قصہ

یوں کہ انہوں نے کفار قریش کو نبی ﷺ کے قصد سے آگاہ کرنے کے لیے خط لکھا، یہ فتح مکہ کے وقت کی بات ہے، اللہ نے رسولﷺ کو آگاہ فرما دیا، آپﷺ نے پیچھے ہی آدمی کو دوڑا دیا، وہ خط پکڑا  گیا، حاطب کو بلایا گیا، حاطب نے اپنے قصور کا اعتراف کیا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ  کہنے لگے، یا رسول اللہ(ﷺ) اس کی گردن اڑا دیجیے، اس نے اللہ  ور سولﷺ سے خیانت کی ہے، تو حضرت فرمایا، عمر جانے دو، یہ بدر کے جہاد میں شامل تھا، کیا تمہیں خبر نہیں کہ مجاہدین بدر کے بارے میں اللہ نے فرما دیا ہے کہ میں نے تمہیں بخش دیا  ہے، تمہارے سب گناہ معاف ہیں، صحیح تر بات یہی ہے کہ آیت میں عمومیت سے اگرچہ یہ درست ہے کہ آیت کا شان نزول  ایک سبب خاص ہے اور علماء کے نزدیک عموم کے قائل ہو سکتے ہیں، خصوصی سبب  نہیں تو نہ سہی، اور خیانت کی تعریف چھوٹے بڑے  لازم اور متعدی سب ہی گناہ شامل ہیں۔

جب یہ آیت اتری تو رسول اللہ ﷺ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں تھے۔ اس آیت کے نازل ہونے پر رسول اللہ ﷺ خوشی سے مسکرا دیے، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جب حضورﷺ کو مسکراتا ہوا دیکھا تو عرض کیا، میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ مسکراتا رکھے، جناب کے مسکرانے کی وجہ کیا ہے، آپﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ابولبابہ رضی اللہ عنہ کی توبہ منظور کر لی ہے۔‘‘

 (تفسیر ابن کثیر، سورۃ الانفال،آیت نمبر: 27)

اللہ کے رسول ﷺ ایک بار حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، آپ ﷺ نے وضو کر کے مسکرا دیا!

حمران بن ابان روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا اور وضو کرنے کے بعد ملا دیا، اس کے بعد انہوں نے پوچھا کہ میں نے کیوں مسکرایا ہے؟ پھر انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسولﷺ    نے ایسے ہی  وضو کیا جیسا کہ میں نے کیا پھر آپﷺ مسکرائے، پھر آپﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ  کیا تم جانتے ہو کہ میں نے کس لیے مسکرایا ہے؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اس کا علم ہے! آپﷺ نے فرمایا کہ جب بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر نماز ادا کرتا ہے اور اچھی طرح نماز ادا کرتا ہے تو وہ نماز  کے بعد ایسے گناہوں سے پاک وصاف ہو جاتا ہے جیسا کہ وہ ماں کے پیٹ سے گناہوں سے پاک وصاف  ہوتا ہے۔

 (مسند احمد: ج1، حدیث: 430، صحیح)

آپﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ تم کہہ دو، دھوکہ نہیں چلے گا!

حضرت حباب بن منقذ رضی اللہ عنہ ایک انصاری صحابی تھے، ان کا پیشہ تجارت تھا ایک مرتبہ ان کے ساتھ دھوکہ ہو گیا وہ اللہ کے رسولﷺ کے پاس آئے اور سارا ماجرا سنایا کہ ان کی تجارت میں دھوکہ ہو گیا ہے، رسول اکرمﷺ نے  (مسکراتے ہوئے) فرمایا کہ آئندہ جب بھی تم تجارت کرو، سودا کرنے سے پہلے کہہ دو کہ دھوکہ نہیں چلے گا۔  (صحیح بخاری، کتاب البیوع، حدیث: 2117)

٭٭٭

تبصرہ کریں