رسول اللہ ﷺ کا ہنسنا ، مسکرانا اور مزاح فرمانا۔(قسط 46)۔ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

حضور ﷺ نے مسکراتے ہوئے حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی سے بیعت لی

فتح مکہ اور غزوہ حنین 8ھ کے بعد تاریخ اسلام کا ایک نیا موڑ دکھائی دیتا ہے اور اس موڑ پر ﴿وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا﴾ كا نقشہ قائم ہو گیا، عرب کے کونے کونے سے مختلف علاقوں اور قبیلوں کے وفود

جوق درجوق بارگاہ رسالت میں حاضر ہونے لگے۔ کوئی اسلام قبول کرنے کےلیے، کوئی احکام دین سیکھنے کے لیے اور کوئی معاہدہ صلح وامن طے کرنے کےلیے۔

رمضان المبارک 10ھ میں ایک دن اسی طرح کا ایک وفد مدینہ منورہ میں اس شان سے وارد ہوا کہ اہل مدینہ اس کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ وفد کے تمام اراکین نہایت عمدہ پوشاکوں میں ملبوس تھے اور سب کے کندھوں پر بیش قیمت یمنی چادریں تھیں۔ ان کی قیادت ایک کشیدہ قامت وجیہہ جوان کر رہا تھا، جس کا شہابی رنگ اور انتہائی دلکش خدوخال اس بات کی غمازی کر رہے تھے کہ وہ کسی اعلیٰ خاندان کا فرد ہے۔ یہ وفد بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو حضور ﷺ ان لوگوں کا سلیقہ اور قرینہ دیکھ کر بہت مسرور ہوئے۔ ان کو اہلاً وسہلاً و مرحبا کہا اور قائدِ وفد کے لیے اپنی ردائے مبارک بچھا دی۔ پھر مسلمانوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:

’’جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز آدمی آئے تو اس کی عزت کرو۔‘‘

اس کے بعد آپﷺ نے جوانِ رعنا سے پوچھا: ’’تمہارا کس غرض سے یہاں آنا ہوا۔‘‘ عرض کیا: ’’اسلام قبول کرنے کے لیے۔‘‘

حضور ﷺ کے روئے مبارک پر بشاشت پھیل گئی اور آپﷺ نے فرمایا: ’’اچھا تو تم ان امور پر میری بیعت کرو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اوریہ کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ نمازیں جو تم پر فرض کی گئی ہیں، ان کی پابندی کرو، مقررہ زکوٰۃ باقاعدگی سے ادا کرو، ہمیشہ مسلمانوں کی خیرخواہی اور ہمدردی کرو کیونکہ جو کسی پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرتا، اپنے امیر کی اطاعت کرو خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

قائدِ وفد نے بلاتامل عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ میں ان سب باتوں کا اقرار کرتا ہوں۔۔۔ لائیے اپنے دست مبارک۔

حضور ﷺ نے متبسم ہو کر ان سے بیعت لی اور اس کے ساتھ ہی وفد کےدوسرے ارکان بھی کلمۂ شہادت پڑھ کر پرستار ان حق کے اس گروہ میں شامل ہو گئے جن کے بارے میں رضي الله عنهم ورضوا عنه فرمایا گیا ہے۔

یہ سعادت مند خوبرو نوجوان جس کے لیے حضورﷺ نے اپنی ردائے مبارک بچھائی، حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی تھے۔ (تیس پروانے شمع رسالت کے، از طالب ہاشمی)

رسول اکرم ﷺ انہیں دیکھتے تو مسکرا اٹھتے

حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی کا شمار ان خوش قسمت صحابہ میں ہوتا ہے جن سے رحمت عالم ﷺ نہ صرف محبت فرماتے تھے بلکہ ان کی تعظیم وتکریم بھی فرمایا کرتے تھے۔ جب وہ پہلی مرتبہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان کے بیٹھنے کے لیے اپنی ردائے مبارک بچھا دی اور لوگوں کو بھی یہ حکم دیا کہ جب کسی قوم کا کوئی معزز آدمی تمہارے پاس آئے تو اس کی عزت کیا کرو۔ اس کے بعد جب کبھی حضرت جریر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپﷺ ان کے ساتھ نہایت عزت واحترام سے پیش آئے۔ وہ مدینہ منورہ آتے تو حضور ﷺ انہیں ضرور شرف باریابی بخشتے۔

صحیح مسلم میں ہے کہ حضور ﷺ انہیں دیکھتے تو متبسم ہو جاتے اور آپﷺ کے روئے انور پر بشاشت پھیل جاتی۔ اگر کبھی حضور ﷺ کی مجلس میں جریر کا ذکر آ جاتا تو آپ ﷺ نہایت اچھے الفاظ میں ان کا ذکر فرماتے۔ خود حضرت جریر کا بیان ہے کہ

’’ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ آیا اور سواری بٹھا کر کپڑوں کے تھیلے سے اپنا حلہ نکالا اور اسے زیب تن کر کے مسجد نبوی کی طرف روانہ ہوا۔ حضور ﷺ اس وقت خطبہ دے رہے تھے۔ میں سلام کر کے بیٹھ گیا۔ لوگ میری طرف عجیب شفقت کے انداز میں دیکھنے لگے۔ میں نے اپنے قریب کے آدمی سے پوچھا: ’’ عبد اللہ کیا حضور ﷺ میرا تذکرہ فرما رہے تھے؟‘‘

انہوں نے کہا: ’’ ہاں، ابھی خطبہ کے دوران حضور ﷺ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر میں اس دروازہ یا کھڑکی کے راستے تمہارے پاس یمن کا بہترین شخص آئے گا، اس کے چہرے پر بادشاہی کی علامت ہو گی۔‘‘

میں اپنے بارے میں حضور ﷺ کے یہ ارشادات سن کر بہت مسرور ہوا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔

اللہ ، اللہ، حضرت جریر کے عُلوّ مرتبت کی اس سے بڑی شہادت کیا ہو سکتی ہے کہ خود نطقِ رسالت ﷺ نے انہیں یمن کا بہترین شخص قرار دیا۔ (تیس پروانے شمع رسالت کے، از طالب ہاشمی)

رسول اکرمﷺ شمشیر بکف نوجوان کو دیکھ کر مسکرا اٹھے!

بعثت کے ابتدائی زمانے کا ذکر ہے کہ ایک دن مکہ میں ایک وحشت اثر خبر پھیل گئی۔ اس منحوس خبر نے پرستارانِ حق کو سخت اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ ہر ایک کی زبان پر یہی الفاظ تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ ابھی ابو طالب زندہ ہیں اور بنو ہاشم کی تلواریں کند نہیں ہو گئیں۔ یہ خبر صحیح تھی یا محض افواہ تھی، اس کے بارے میں کوئی بھی یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ محمد ﷺ کو مشرکین نے گرفتار کر لیا ہے اور کچھ کا کہنا تھا کہ حضور ﷺ شہید کر دیے گئے ہیں۔ بنو ہاشم سخت غیظ وغضب کے عالم میں تھے، وہ اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھانے کے بارے میں ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ بنو اسد کے ایک نوعمر لڑکے کے کانوں میں بھی اس خبر کی پٹک پڑ گئی۔ سولہ سال کی عمر کے اس کشیدہ قامت اور قوی الجثہ نوجوان کو رحمت عالم ﷺ سے والہانہ محبت تھی۔ وہ تھوڑی ہی دیر پہلے قیلولہ کرنے اپنے گھر آیا تھا۔ یہ خبر سنتے ہی تڑپ کر اٹھا، کھونٹی سے تلوار اتار کر اس کا نیام زمین پر پٹک دیا اور شمشیر بکف مکہ کی گلیوں میں کود گیا۔ اس کا رخ مکہ کے بالائی حصے میں واقع سرور عالم ﷺ کے کاشانہ اقدس کی جانب تھا۔ اس وقت جوش غضب سے اس کا چہرہ تمتا رہا تھا اور وہ نہایت تیزی سے گلیاں طے کر رہا تھا۔ جلد ہی وہ حضور ﷺ کے کاشانہ مبارک پر پہنچ گیا اور یہ دیکھ کر اس کی مسرت کی انتہا نہ رہی کہ مہبطِ وحی و رسالت خیر وعافیت کے ساتھ وہاں رونق افروز ہیں۔ حضور ﷺ شمشیر بکف نوجوان کو دیکھ کر متبسم ہو گئے اور فرمایا: ’’کیوں بھائی خیر تو ہے اس وقت تم شمشیر برہنہ سونت کر کیسے آر ہے ہو؟‘‘

نوجوان نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں نے سنا تھا کہ آپ کو دشمنوں نے گرفتار کر لیا ہے یاشاید آپ شہید کر دیے گئے ہیں۔‘‘

ارشاد ہوا: ’’اچھا، تو یہ بات ہے اور اگر واقعی ایسا ہو جاتا تو تم کیا کرتے؟‘‘ نوجوان نے بے ساختہ عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ! خدا کی قسم میں اہل مکہ سے لڑتا اس کا جواب سن کر رحمت عالم ﷺ کے روئے انور پر بشاشت پھیل گئی۔ آپﷺ نے اس نوجوان کے جذبۂ فدویت کی تحسین فرمائی اور اس کے حق میں دعائے خیر کی بلکہ اس کی تلوار کو بھی دعا دی کہ یہ پہلی تلوار تھی جو راہِ حق اور رسول برحق کی حمایت میں بلند ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ کے عاشق صادق یہ نوجوان بنو اسد کے گل سر سبد سیدنا حضرت زبیر بن العوام تھے۔ (تیس پروانے شمع رسالت کے، از طالب ہاشمی)

صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور ﷺ مسکرا دیئے

ذی قعدہ 6ھ میں رسول اکرم ﷺ چودہ سو صحابہ کے ہمراہ عمرہ کے لیے احرام باندھ کر مدینہ منورہ سے مکہ کو روانہ ہوئے۔ قریش کو معلوم ہوا تو انہوں نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونےسے روکنے کے لیے زبردست تیاریاں کیں۔ حضور ﷺ کو قریش کے عزائم کی اطلاع ملی تو آپﷺ نے مکہ سے ایک منزل ادھر حدیبیہ کے میدان میں پڑاؤ ڈال دیا اور قریش کو پیغام بھیجا کہ ہم صرف عمرہ ادا کرنے آئے ہیں اور جنگ وجدال ہمارا مقصد نہیں ہے۔ بہتر یہ ہے کہ قریش کچھ مدت کے لیے ہم سے صلح کا معاہدہ کر لیں۔ قریش نے اس کے جواب میں عروہ بن مسعود ثقفی کو اپنا سفیر بنا کر دربار رسالت میں بھیجا۔ انہوں نے واپس جاکر قریش کو مشورہ دیا کہ مسلمانوں سے صلح کر لینے میں ہی مصلحت ہے کیوں کہ میں نے مسلمانوں میں محمد ﷺ کی خاطر کٹ مرنے کا بے پناہ جذبہ دیکھا ہے۔ قریش نے عروہ کی بات نہ مانی، حضور ﷺ نے پھر ایک سفیر بھیجا، قریش نے اس سے بھی بدسلوکی کی اور مسلمانوں سے لڑنے کے لیے ایک دستہ بھیج دیا۔ مسلمانوں نے اس کو پکڑ لیا لیکن رحمت عالم ﷺ نے معاف فرما دیا اور اتمام حجت کے لیے حضرت عثمان کو اپنا سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش نے ان کو مکہ میں روک لیا۔ ادھر مسلمانوں میں خبر مشہور ہو گئی کہ عثمان شہید کر دیے گئے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے قریش کی یہ حرکت ناقابل برداشت تھی۔ وہ حضرت عثمان کا بدلہ لینے کے لیے لڑنے مرنے پر تُل گئے اورسب نے ایک ببول کے درخت کے نیچے سرور کونین ﷺ کے دستِ مبارک پر موت کے لیے بیعت کی۔ اس کا نام بیعتِ رضوان ہے کیوں کہ اس بیعت سے مشرف ہونے والے جانبازوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنی خوشنودی کی بشارت دی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت عثمان کی شہادت کی خبر صحیح نہیں تھی۔ تاہم مسلمانوں کا جوش وخروش دیکھ کر کفار کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ صلح کا معاہدہ کرنے پر تیار ہو گئے۔ شرائط صلح طےکرنے کے لیے انہوں نے سہیل بن عمرو کو اپنا سفیر منتخب کیا۔ وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صلح کا معاہدہ معرضِ تحریر میں لانے کی خواہش کی۔ حضور ﷺ نے کتابتِ معاہدہ کی خدمت حضرت علی کے سپرد کی اور ان سے فرمایا، لکھو:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سہیل چمک کر بولے۔ ہم نہیں جانتے رحمٰن کون ہے اس کے بجائے باسمك اللهم لکھا جائے کیونکہ اللهم کے بارے میں ہم اور آپ متفق ہیں۔‘‘

اس موقع پر موجود صحابہ کرام مصر ہوئے کہ جو کچھ سیدنا علی نے لکھا ہے، وہی مناسب ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے لیکن سرور عالم ﷺ نے متبسم ہو کر حضرت علی سے فرمایا:

’’اے برادر جس طرح سہیل کہتے ہیں، اسی طرح لکھ دو۔‘‘

سیدنا علی نے تعمیل ارشاد کی۔ اب حضورﷺ نے ان سے فرمایا کہ آگے لکھو:

” هذا ما قاضي عليه محمد رسول الله “

’’یہ قرار داد جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہے۔‘‘

حضرت علی نے یہ الفاظ لکھے تو سہیل نے اعتراض کیا:

’’صاحب یہ الفاظ ہمیں منظور نہیں، ہم اگر محمد ﷺ کو رسول مان لیں تو سارا جھگڑا ہی ختم ہو جاتا ہے۔ آپ یہاں محمد رسول اللہ کی بجائے محمد بن عبد اللہ لکھیں۔‘‘

حضور ﷺ نے فرمایا:

’’ میری رسالت تمہاری اور تمہارے موکلوں کی تصدیق کی محتاج نہیں میں ابن عبد اللہ بھی ہوں اور اللہ کار سول بھی تاہم میں تمہاری بات مان لیتا ہوں۔‘‘ پھر آپﷺ نے حضرت علی سے فرمایا:

’’رسول اللہ ﷺ کے الفاظ مٹا کر ابن عبد اللہ لکھ لو۔‘‘

حضرت علی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں تو رسول اللہ کے الفاظ مٹانے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتا۔‘‘

حضور ﷺ نے فرمایا: ’’ اچھا تو کاغذ ادھر لاؤ۔‘‘ جب کاغذ پیش کیا گیا تو آپﷺ نے اپنے دست مبارک سے رسول اللہ کے الفاظ مٹا دیے اور ان کی جگہ ابن عبد اللہ لکھوایا۔ یہ مرحلہ طے ہو جانے کے بعد حضور ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا: ’’ لکھو، قریش کو مسلمانوں کے عمرہ کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔‘‘

سہیل: ’’خدا کی قسم! ہم یہ نہیں مانیں گے کہ آپ اس سال عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہوں۔ اس طرح تو سارا عرب ہمیں بزدلی کا طعنہ دے گا۔ ہاں آئندہ سال آپ طواف کے لیے آسکتے ہیں۔‘‘

رحمت عالم ﷺ نے فرمایا: ’’چلو یونہی سہی‘‘ چنانچہ یہ شرط تحریر میں آ گئی۔

(تیس پروانے شمع رسالت کے، از طالب ہاشمی)

٭٭٭

وفیات

٭ بریڈ فورڈ کے چوہدری شوکت علی اور چوہدری برکت علی کی والدۂ محترمہ قضائے الٰہی سے وفات پا گئیں۔

٭ برٹن کے سابق امام وخطیب قاری فضل الرحمٰن کے والد ماجد قضائے الٰہی سے وفات پا کئے۔

٭ مولانا شفیق الرحمٰن شاہین کے ماموں گزشتہ دنوں وفات پا گئے۔

٭ ڈڈلی کے ہارون رشید کی والدہ محترمہ قضائے الٰہی سے وفات پا گئیں۔

٭ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب کے سگے چھوٹے ماموں رحیم شریف 75 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور جملہ متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ اور ادارہ صراط مستقیم برمنگھم، ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

شیخ عبدالعزیز الطریفی فرماتے ہیں:

المتكبرون أقل الناس فهما لأن قلوبهم مليئة بالوهم، وإذا جاءهم الحق فاض، قال الله: ﴿ سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ﴾ وأكثر الناس فهما المتواضعون.

’’متکبر لوگ عقل و فہم میں سب سے کم تر ہوتے ہیں کیوں کہ ان کے قلوب و اذہان ظن و وہم سے بھرے ہوتے ہیں ؛ اسی لیے جب حق ان کے پاس آتا ہے تو باہر چھلک جاتا ہے؛ اللہ عزوجل کا فرمان ہے : ’’ میں عن قریب ان لوگوں کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ۔‘‘ اس کے برخلاف تواضع کرنے والےلوگوں میں سب سے بڑھ کر فہم رسا کے حامل ہوتے ہیں ۔‘‘

تبصرہ کریں