رسول اللہﷺ کا آخری پیغام ملت اسلامیہ کے نام۔محمد عبد الرحیم خرم عمری جامعی

رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ عمومی طور پر ساری انسانیت کے لئے اور خصوصی طور پر مسلمانوں کے لئے نمونہ و اسوہ حسنہ ہے،آپ کا پچپن بھی کائنات کے لئے مثالی ہے اور آپ کی جوانی بھی باعث عبرت و نصیحت ہے اور آپ کا نبوی دور کائنات کے لئے رہنمائی و رہبری سے معمور ہے رسول اللہ ﷺ نے قدم قدم پر موقع موقع سے اہل ایمان کے لئے نصیحتیں بیان فرمائی ہیں،آپ کی 23 سالہ نبوی زندگی میں مختلف قسم کے احکام و نصیحتیں آپ نے بیان فرمائے ہیں لیکن دومواقع کی نصیحتیں تمام مسلمانوں کی رہنمائی و رہبری میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں،ایک تو حجۃ الواداع کی نصیحتیں اور دوسری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے وقت کی نصیحتیں،ان دونوں مواقع کی نصیحتوں پر مسلمان عمل کرلیں تو وہ کامیاب و کامران ہوجائیں گے۔

رسول اللہﷺ کے آخری لمحات کا آغاز

رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دور کے آثارو علامات کا ظہور حجۃ الواداع ہی ہونے لگا اور اسی وقت سے آپ نے اہل ایمان کو پندو نصائح شروع کیا،ان آثار کو دیکھ کر بعض صحابہ اکرام نے بھی اندازہ لگالیا تھا کہ اب جدائی کا وقت قریب آرہا ہے،ان آثار کے ظہور کے ساتھ آپ ﷺ کے معمولات زندگی میں تبدیلی آنے لگی اورلمحہ بہ لمحہ آپ نے اہل ایمان کو مختلف تعلیمات دی ہیں۔

آپ ﷺ کی حیات طیبہ کے اختتام کا پہلا اثر یہ تھا کہ آپ نے رمضان المبارک سنہ 10 ہجری میں جو آپ کی حیات جاودانی کا آخری رمضان المبارک تھا اس میں آپ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا جبکہ آپ کے معمولات کے مطابق آپ دس دن ہی کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے، اسی طرح دوسرا اثر یہ تھا کہ

ہر سال رمضان المبارک میں جبرئیل امین ایک مرتبہ ہی قرآن مجیدکا دور سنا کرتے تھے لیکن اس آخری رمضان لمبارک میں آپ سے دومرتبہ قرآن کا دور کرایا، اسی طرح حجۃ الوداع کے موقع پر تیسرا اثر یہ ظاہر ہوا کہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ

”مجھے معلوم نہیں شاید میں اس سال کے بعد اپنے اس مقام پر تم لوگوں سے کبھی نہ مل سکوں۔“

اسی طرح آپ نے جمرہ عقبہ کے پاس فرمایا تھا کہ

”مجھ سے اپنے حج کے اعمال سیکھ لو کیونکہ میں اس سال کے بعد غالبا حج نہ کرسکوں۔“

آپ ﷺ کی حیات جاودانی کے اختتام کا پانچواں اثر اس طرح ظاہر ہوا کہ آپ پر ایام تشریق کے وسط میں ”سورۃ النصر“ نازل ہوئی، اس سورت کے نازل ہونے کے بعد آپ نے سمجھ لیا حیات جاودانی کا اختتام ہونے والا ہے۔

چھٹواں اثر اس طرح ظاہر ہوا کہ اوائل صفر سنہ 11ہجری میں آپ دامن احد میں شہداء احد کے قبرستان تشریف لے گئے اور اس طرح دعا فرمائی گویا زندوں اور رمردوں سے رخصت ہو رہے ہیں دعا سے فارغ ہوکر آپ منبر پر فرکش ہوئے اور عوام سے خطاب فرمایا کہ

”میں تمہارا امیر کارواں ہوں،اور تم پر گواہ ہوں، بخدا میں اس وقت اپنا حوض(خوض کوثر) دیکھ رہا ہوں، مجھے زمین اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کی گئی ہیں اور بخدا مجھے یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کروگے، بلکہ اندیشہ اس کاہے کہ دنیا طلبی میں باہم مقابلہ کروگے۔“(متفق علیہ؍الرحیق المختوم)

ساتواں اثر یوں ظاہر ہوا کہ”ایک روز نصف رات کو آپ بقیع تشریف لے گئے اور اہل بقیع کے لئے ان الفاظ میں دعا فرمائی کہ”اے قبر والو! تم پر سلامتی ہو، لوگ جس حال میں ہیں اس کے مقابل تمہیں وہ حال مبارک ہو جس میں تم ہو، فتنے تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح ایک کے پیچھے ایک چلے آرہے ہیں اور بعد والا پہلے والے سے برا ہے اس کے بعد یہ کہہ کر اہل قبور کو بشارت دی کہ ہم بھی تم سے آملنے والے ہیں۔“(الرحیق المختوم)

رسول اللہ ﷺ کے آخری ایام

حیات طیبہ کے اختتامی آثار کے ظہور کے کچھ دنوں کے بعدماہ صفر سنہ 11 ہجری بروزدوشنبہ کو آپﷺ ایک جنازے میں بقیع تشریف لے گئے، واپسی میں راستے ہی میں درد سر شروع ہوا اور حرات تیز ہوگئی یہی آپ کے مرض الوفات کا آغاز تھا یہ صورتحال تیرہ یا چودہ دنوں تک جاری رہی مرض کی اسی کیفیت میں آپ نے گیارہ یوم تک نماز پڑھائی۔ حیات طیبہ کا آخری ہفتہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ کے گھر میں گزارا وہ معوذات اور دیگر دعائیں پڑھ کرد م کرتیں اور برکت کی امید میں آپﷺ کا ہاتھ آپ کے جسم مبارک پر پھیرتیں۔ حیات طیبہ کی وفات سے پانچ یوم قبل بروز چہارشنبہ آپ کی حرارت بخار میں شدت آگئی جس کے سبب تکلیف اور بڑھ گئی اور آپ پر غشی طاری ہوگئی۔ آپ نے فرمایا:

”مجھ پر مختلف کنوؤں کے سات مشکیزے پانی بہاؤ تاکہ میں لوگوں کے پاس جا کر وصیت کرسکوں اور آپ ﷺ پر اتنا پانی ڈالا گیا کہ آپ ”بس بس“ کہنے لگے،آپ نے کچھ آرام محسوس کیا اور مسجد میں تشریف لے گئے منبر پر فروکش ہوئے اور بیٹھ کر خطبہ دیا صحابہ کرام ارد گرد جمع تھے آپ نے صحابہ کرام سے مختلف نصیحتیں کیں:

1۔ پہلی نصیحت: پہلی نصیحت آپ نے عقیدہ اسلامی کے متعلق کی کہ اس پر ثابت قدمی سے قائم رہنا کیونکہ یہود و نصاری اسی اعتقادی بگاڑ کے سبب ملعون قرار دئے گئے جن پر اللہ کا غصہ نازل ہواکیونکہ انہوں نے انبیاء و صالحین کی قبروں کو عبادت کا مقام بنا لیا تھا یہ ان کی بنیادی کمزوری تھی لہٰذا آپ نے بھی خدشہ محسوس کیا کہ کہیں میری امت ان کے نقش پر نہ چلے اسی لئے امت مسلمہ کو اولین نصیحت اسی بات کی کہ”یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو ۔ کیونکہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔“

ایک اور روایت میں ہے:”یہود و نصاری پر اللہ کی مار ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔“

ایک اور روایت میں ہے کہ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا:”تم میری قبر کو بت نہ بنا نا کہ اس کی پوجا کی جائے۔“ (صحیح بخاری ؍ موطا امام مالک)

بہت سے مقامات پر رسول اللہﷺ نے یہود و نصاری کی مخالفت کی اور امت کو بھی حکم دیا کہ یہود و نصاری کی مخالفت کرتے رہیں یہ مخالفت اعتقاد و عبادات و معاشر ت کے مسائل میں گئی تاکہ مسلما ن کبھی بھی ان کی متابعت نہ کریں۔

2۔ دوسری نصیحت: دوسری نصیحت یہ کی کہ رسول اللہ ﷺ نے جانے ان جانے کسی پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں کی تھی کہ جس کا بدلہ دیا جائے لیکن آپ نے لوگوں پر اپنے آپ کو پیش کیا کہ اگر کسی کا بدلہ و قصاص ہوتو وہ لے سکتا ہے اس موقع پر آپ نے فرمایا:”میں نے کسی کی پیٹھ پر کوڑا مارا ہوتو یہ میری پیٹھ حاضر ہے، وہ بدلہ لے لے،اور کسی کی بے آبروئی کی ہوتو یہ میری آبرو حاضر ہے وہ بدلہ لے لے۔‘‘

اس واقعہ سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ہر وہ مسلمان جسے اس بات کا یقین ہو جائے کہ اب اس کی زندگی مختصر ہے تو وہ اپنے معمولات زندگی کی اصلاح کر لے اور باہمی حقوق کو ادا کردے۔اور اس بات کا بھی علم ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان ایسی بیماری میں مبتلا ہو جائے جو ہلاکت خیز ہو یعنی اس بیماری کے سبب زندگی کا خاتمہ ہونے والا ہو تو مریض کو ا س بیماری سے آگاہ کردیا جائے تاکہ وہ اپنے اخروی معاملات کی اصلاح کر لے، توبہ واستعغفار کر لے اور حقوق و غیرہ کی ادائیگی کردے یا کسی بھی معاملے میں وصیت کرنا ہوتو وصیت کر سکے۔

3۔ تیسری نصیحت: آپ نے اپنے ذمہ کسی کا حق ہوتو اظہار کا مطالبہ کیا تو ایک شخص نے کہا کہ

”آپ کے ذمہ میرے تین درھم باقی ہیں۔یہ سن کر آپ نے فضل بن عباس سے فرمایا کہ”انہیں ادا کردو۔“

یہاں امت مسلمہ کو اس بات کی تعلیم دی گئی کہ مسلمان کا خاتمہ بالخیر اس وقت ہوگا جب کہ وہ اپنی حیات ہی میں قرضے جات و بقائے جات کی تکمیل کردے اپنے اوپر کسی کا بقایا یا قرض چھوڑ کر نہ مرے یہ اس کے حق میں بہتر ہے نہ جانے ہمارے وارثین یہ قرض و بقایا ادا کرسکیں نہ نہ کر سکیں۔

4۔ چوتھی نصیحت:آپ ﷺ نے انصار کے متعلق نصیحت فرمائی کہ

’’میں تمہیں انصار کے متعلق نصیحت کرتا ہوں کیونکہ وہ میرے قلب و جگر ہیں، انہوں نے اپنی ذمہ دار پوری کردی ہے مگر ان کے حقوق باقی رہ گئے ہیں، لہذا ان کے نیکوکار سے قبول کرنا اور ان کے خطاکار سے درگزر کرنا۔“

اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ آپﷺنے فرمایا:”لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار گھٹتے جائیں گے، یہاں تک کہ کھانے میں نمک کی طرح ہوجائیں گے، لہٰذا تمہارا جو آدمی کسی نفع یا نقصان پہنچانے والے کام کا والی ہو تو وہ ان کے نیکوکاروں سے قبول کرے اور ان کے خطا کاروں سے در گزر کرے۔“(صیح بخاری) بلاشبہ انصار نے رسول اللہ ﷺ پر اپنی جان و مال،ہر ہر چیز کو قربان کیا، کسی بھی قسم کی قربانی میں تأمل نہ کیا۔اس سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ایسی شخصیات و خاندان و قبائل جو دین اسلام کی اشاعت میں سربکف رہیں ان کے اقدار کی پابندی ضروری ہے ایسا نہ ہو کہ ان کی قربانیوں کو فراموش کردیا جائے اور ان کی نسلوں کو نظر انداز کردیا جائے۔ بلاشبہ صحابہ اکرام و خلفائے راشدین نے اس کا مکمل پاس ولحاظ رکھا۔

5۔پانچویں نصیحت: رسول اللہ ﷺ نے اپنے آخری وقت میں بھی سیدنا ابو بکر صدیق کے احسان کو ملحوظ نظر رکھا اور فرمایا:

”مجھ پر اپنی رفاقت اور مال میں سب سے زیادہ صاحب احسان سیدنا ابو بکر ہیں اور اگر میں اپنے رب کے علاوہ کسی اور کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو خلیل بناتا، لیکن (ان کے ساتھ) اسلام کی اخوت و محبت(کا تعلق) ہے، مسجد میں کوئی دروازہ باقی نہ چھوڑا جائے بلکہ اسے لازما بند کردیا جائے، سوائے ابو بکر کے دروازے کے“(متفق علیہ)

اس حکم میں مروت و شفقت ہے جس کا صحابہ اکرام نے خاص خیال رکھا کیونکہ سیدنا ابو بکر صدیق سب سے پہلے اسلام لانے والے، سب سے پہلے واقعہ معراج کی تصدیق کرنے والے، ہجرت کا آغاز آپ کے مکان سے کیا گیا، ہجرت کے وقت آپ کی سواریاں استعمال کی گئیں، ہجرت کے وقت آپ کے گھر سے توشہ تیار کیا گیا، ہجرت کے سارے انتظامات و تدبیریں سیدنا ابو بکر نے اختیار کیں، غار ثور میں رسول اللہﷺ کی معیت اختیار کی، اپنے گھر کا سارا اثاثہ نبی کے قدموں میں ڈال دیا،اپنی دختر نیک اختر کو رسول اللہﷺ کے عقد نکاح میں دیا، الغرض ایسی بہت سی قربانیاں ہیں جس کی قدردانی آخری وقت میں بھی رسول اللہﷺ نے کی ہے۔

6۔چھٹی نصیحت: وفات سے 4 دن قبل آپﷺ نے ملت اسلامیہ کے اتحاد و اتفاق کا دائمی نوشتہ لکھنا چاہا لیکن وہ شور شغب کی نظر ہوگیا آپﷺ نے فرمایا:”لاؤ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوگے اس وقت گھر میں کئی افراد موجود تھے جن میں سیدنا عمر بھی تھے، انہوں نے کہا: آپ پر تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے بس اللہ کی کتاب تمہارے لئے کافی ہے، اس پر گھر کے اندر موجود لوگوں میں اختلاف پرگیا اور وہ جھگڑ پڑے، کوئی کہہ رہا تھا لاؤ، رسول اللہﷺ لکھ دیں اور کوئی وہی کہہ رہا تھا جو سیدنا عمر نے کہا تھا، اس طرح لوگوں نے جب زیادہ شور و شغب اور اختلاف کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”میرے پاس سے اٹھ جاؤ“۔(متفق علیہ)

آپسی اختلاف و انتشار کے سبب ملت اسلامیہ نسخہ اتحاد سے محروم رہ گئی اور اب ملت اسلامیہ کو تاقیامت کوئی چیز متفق و متحد نہیں کر سکتی اور یہ ایک سچی حقیقت ہے،اب یہ امت فقہی مباحث، مسلکی تنافر کا شکار ہی رہے گی پھر بھی ایک نسخہ اتحاد قرآن وحدیث کی شکل میں موجود ہے اس کو تھام لیں تو اتحاد باقی رہے گا۔ لیکن افسوس کہ قرآن و سنت کا دعوی کرنے والے بھی حسد، بغض و عداوت و تفوق علمی کا شکار ہوکر آپس میں دست وگریباں ہیں، جو لوگ اس وقت امت وحدہ کا تصور پیش کر رہے ہیں در اصل وہ وقت ضائع کر رہے ہیں۔آپس میں اتحاد چاہتے ہو تو آؤ قرآن و سنت کی طرف۔اس کے علاوہ کوئی نسخہ اتحاد نہیں ہے۔

7۔ساتویں نصیحت: اپنی وفات سے 4 یوم قبل آپ نے ان تین باتوں کی ملت اسلامیہ کو نصیحت فرمائی آپﷺ نے فرمایا کہ”یہود و نصاری اور مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکال دیا جائے اور دوسری نصیحت اس بات کی کی کہ ”وفود کی اسی طرح نوازش کرنا جس طرح آپ کیا کرتے تھے۔“

اورتیسری نصیحت کو راوی بھول گئے غالبا یہ کتاب وسنت کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کی تھی یا لشکر اسامہ کو نافذ کرنے کی وصیت تھی یا آپ کا ارشاد یہ تھا کہ نماز اور تمہارے زیر دست یعنی غلاموں اور لونڈیوں کا خیال کرنا۔“(الرحیق المختوم)

لیکن افسوس کہ موجودہ زمانے کے عربوں نے رسول اللہﷺ کی اس نصیحت کو فراموش کردیا عرب کی بستیوں میں اب یہود بھی آبادہو رہے ہیں اور مشرکین کی عبادت گاہیں بھی تعمیر کی جارہی ہیں یہ رسول اللہﷺ کی نصیحت کے مطلق خلاف ہے، آزادی فکر کے نام پر رسول اللہﷺ کی وصیتوں کا گلا گھونٹا جارہا ہے اہل عرب کو اس جانب تنبیہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔رسول اللہ ﷺ اور آپ کے پاکباز صحابہ نے انتہائی جدو جہد و قربانیوں کے ذریعہ جزیرہ عرب کو شرک و الحاد سے پاک کیا تھا۔

8۔ آٹھویں نصیحت: رسول اللہﷺ نے اپنی حیات مبارکہ کے بالکل آخری حصے میں سیدہ فاطمہ سے سرگوشی کی اور ایک موقع پر وہ رو پڑیں اور ایک موقع پر ہنس پڑیں اس سرگوشی کی وضاحتیوں فرمائی کہ آپﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ

”آپﷺ اسی مرض میں وفات پائیں گے اس لئے میں روپڑی، پھر آپ نے مجھ سے سرگوشی کرتے ہوئے فرمایا کہ آپﷺ کے اہل و عیال میں سب سے پہلے میں آپﷺ کے پیچھے جاؤں گی، اس پر میں ہنس پڑی۔“(صحیح بخاری)

سیدہ فاطمہ رسول اکرمﷺ کو بہت زیادہ عزیز تھیں آپ ان سے بہت محبت کیا کرتے تھے اسی لئے آپﷺ نے اس موقع پر سیدہ فاطمہ کو اس بات کی بشارت بھی دی تھی کہ”آپ ساری خواتین عالم کی سیدہ (سردار) ہیں۔“ (رحمۃ للعالمین)

اسی لئے امت مسلمہ کو بھی چاہئے کہ سیدہ فاطمہ سے بے انتہا محبت رکھے آپ کی کسر شان میں کوئی گفتگو نہ کی جائے اور جو بھی سیدہ فاطمہ کی توہین کا مرتکب ہوگاتو اس پر عرصہ حیات تنگ کردیا جائے اور اس سے توبہ کروائی جائے۔

9۔نویں نصیحت: رسول اللہﷺ نے اپنی حیات مبارکہ کے بالکل آخری حصے میں جنت کے سرداران سیدنا حسن بن علی،سیدنا حسین بن علی کو بلایا اور انھیں چوما اور ان کے بارے میں خیر کی وصیت فرمائی۔“

برا ہو ان لوگوں کا جو جنت کے سرداروں کی توہین کے مرتکب ہوئے اور اہل بیت الاطہار کی عظمتوں کو پامال کیا ان پر تاقیامت لعنت کا نزول ہوگا اور وہ اپنے کئے پر آہ وبکا کرتے ہی رہیں گے، ذلت و رسوائی ان کا مقدر ہوگی قیامت تک کی تاریخ ان کا پیچھا کرتے رہے گی انھیں بھلایا نہیں جائیگا۔

10۔دسویں نصیحت: رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ کے بالکل آخری حصے میں آپ کو اس یہودن کی جانب سے دئے جانے والے زہر کا اثر تیز ہونا شروع ہوا اور آپ کی تکلیف میں اضافہ ہوتا رہا اور آپ کی رگ جاں کٹی جارہی تھی اس موقع پر آپ نے امت مسلمہ کو نصیحت فرمائی کی:

«الصلاة الصلاة وماملکت ایمانکم»

نماز، نماز اور تمہارے زیردست۔“( خادمین، لونڈی وغلام) آپ نے یہ الفاظ بار بار دہرئے۔“(صحیح بخاری)

اسی بیماری کے ایام میں آپ نے امامت کو ترک نہ کیا، جب بیماری شدید ہوگئی تو آپﷺ نے نماز ترک نہ کیا،لیکن افسوس کہ آج امت مسلمہ نے سینکڑوں مساجد تعمیر کرلیں لیکن ہماری مساجد نمازیوں سے خالی ہیں۔ کس طرح سے آج کا مسلمان رسول اللہﷺ کی نصیحتوں سے روگردانی کر رہا ہے، محبت رسول اب صرف جذباتی نعروں اور شور شغب اور جلوسوں کا نام رہ گیا ہے۔

مسلمانو! اگر تم حقیقت میں اپنے نبی سے محبت کرتے ہو تو مساجد کو پنج وقتہ نمازوں سے آباد کردو تو تمہارے اندر زندگی کی جولانی واپس آئے گی۔ یہ وہ پند و نصائح تھے جسے رسول اللہ ﷺ نے امت مسلمہ نام معنون کیا ہے۔

بالآخر آپ پر نزاع کی کیفیت طاری ہوئی جسے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ نے محسو س کیاآپ کو مسواک دی گئی آپ نے اچھی طرح مسوک کیا، نزاع کی تکلیف و شدت کے سبب آپ بار بار پانی میں ہاتھ ڈالتے اور اپنے چہرے پر انوار پر ملتے اور آپ کی زبان پرکلمہ ”لا الہ الا اللہ“ کا ورد ہوتا اور ساتھ میں فرماتے کہ موت کے لئے سختیاں ہیں۔“(صحیح بخاری)

مسواک سے فارغ ہوئے اور آپ نے اپنا ہاتھ یا انگلی اٹھائی اور یہ کہتے ہوئے دونوں ہونٹوں کو حرکت دے رہے تھے:

”نبیوں و شہداء،اور صالحین کے ہمراہ جنہیں تونے انعام سے نوازا، اے اللہ مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر اور مجھے رفیق اعلی میں پہنچا دے۔ اے اللہ! رفیق اعلی۔(صحیح بخاری)

یہ فقرہ تین مرتبہ دہرایا اور اور آپ کا دست مبارک جھک گیا۔ إنا للہ وإنا إلیه راجعون

یہ واقعہ 12 ربیع الاول سنہ 11 ہجری کو چاشت کے وقت پیش آیا اس وقت نبیﷺ کی عمر63سال 4 دن ہوچکی تھی۔

تمام صحابہ پر غم طاری ہوا اور سیدہ فاطمۃ الزھراء کی زبان سے غم کے یہ الفاظ صادر ہوتے رہے:

” ہائے ابا جان! جنہوں نے پروردگار کی پکار پر لبیک کہا، ہائے ابا جان! جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے، ہائے ابا جان!ہم جبرئیل کو آپ کی وفات کی خبر دیتے ہیں۔“(صحیح بخاری)

دوسری جانب سیدنا عمر کے اوسان خطاء ہوگئے اور ننگی تلوار لے کر کہنے لگے کہ

”ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالیں گے جو سمجھتے ہیں کہ آپ وفات پا چکے ہیں۔“(ابن ہشام)

ادھر سیدنا بلال نے اذان دینا چھوڑ دیا جب ان سے کہا گیا کہ بلال اذان کیوں نہیں دیتے تو سیدنا بلال حبشی نے کہا کہ اب میں”محمد الرسول اللہ“ کہہ کر کس کے چہرے پر انوار کو دیکھوں گا۔“

الغرض یہ رسول اللہ ﷺ کے آخری لمحات تھے۔ ملت اسلامیہ اس سے نصیحت حاصل کرے اور ہر قسم کی گمراہی سے بچتی رہے۔ وما توفیق الا باللہ۔

٭٭٭

رجب کے کونڈے

ماہ رجب کی بدعات میں کونڈے بھرنے کی رسم بھی شامل ہے ۔ جس کے لئے 22 رجب کا دن خاص کیا گیا ہے ۔ اس کے پس منظر میں مختلف واقعات بیان کئے جاتے ہیں جن میں سے ایک جعفر صادق اور لکڑہارن کا واقعہ بھی ہے ۔ اس میں ہے کہ جعفر صادق نے لکڑہارن سے کہا کہ جو بھی آج (یعنی 22 رجب کے روز) میرے نام کے کونڈے بھر کرتقسیم کرے گا اس کی حاجت ضرور پوری ہو گی ورنہ روز قیامت میرا گریبان پکڑلینا، چنانچہ لکڑہارن نے کونڈے بھرے تو اس کی حاجت پوری ہو گئی۔(داستان عجیب از مولانا محمود الحسن )

پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ قصہ ہی من گھڑت ہے کیونکہ اس کا ذکر کسی بھی مستند ماخذ میں موجود نہیں ۔

دوسری بات یہ ہے کہ 22 رجب یا کسی بھی دن کی خاص فضیلت کا تعین رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کوئی کر ہی نہیں سکتا اور یہ واقعہ اگر بالفرض صحیح بھی تسلیم کر لیاجائے تب بھی عہد رسالت سے صدیوں بعد کا ہے ۔ اور دین عہد رسالت میں مکمل ہو گیا تھا۔ بعد کا اضافہ دین شمار نہیں ہو گا بلکہ اسے دین میں بدعت اور گمراہی کہا گیا ہے جیساکہ فرمان نبوی ﷺ ہے

«کُلّ مُحْدَثة بِدْعةٌ وَکُلّ بِدْعةٍ ضَلَالةٌ»

’’دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ ‘‘ (صحیح الجامع الصغیر للألبانی:1353)

تیسری بات یہ ہے کہ یہ رسم شیعہ حضرات کی ایجاد معلوم ہوتی ہے کیونکہ جعفر صادق کا قصہ تو ثابت نہیں البتہ یہ ثابت ہے کہ 22 رجب کو سیدنا امیرمعاویہ (بزرگ صحابی رسول کاتب وحی اور خلیفۃ المسلمین ) کی وفات ہوئی تھی اور شیعہ حضرات کو ان سے جو بغض و عناد ہے وہ سب پر عیاں ہے اس لئے وہ ان کی وفات کے روز بطور جشن میٹھی اشیا تقسیم کرتے لیکن جب انہوں نے محسوس کیاکہ یہ رسم سنیوں میں بھی عام ہونی چاہئے تو جعفر صادق کا من گھڑت قصہ چھپوا کر ان میں تقسیم کرا دیا اور یوں یہ رسم عام سے عام ہوتی چلی گئی۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ 22 رجب کے روز کونڈے بھرنے والی رسم خود ساختہ اور جاہلانہ ہے جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں اس لئے ہر مسلمان کو اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔

تبصرہ کریں