رسول اللہ ﷺ کا ہنسنا ، مسکرانا اور مزاح فرمانا ( قسط 50)- ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

سیدہ ام ایمن سے یہ سن کر کے اس نے آپﷺ کا پیشاب پی لیا ہے، آپﷺ ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپﷺ کی داڑھیں نظر آنے لگیں!

سیدہ ام ایمن سے روایت ہے کہ ایک رات نبی اکرمﷺ مٹی کی برتن کے پاس اٹھ کر تشریف لائے اور اس میں پیشاب کیا۔ اسی رات میں اٹھی اور مجھے پیاس لگی ہوئی تھی، میں نے جو اس میں تھا پی لیا، جب صبح ہوئی تو میں نے رسول اللہﷺ کو اس واقعہ کی خبر دی تو آپﷺ نے فرمایا:

’’خبردار! تم آج کے بعد کبھی اپنے پیٹ میں بیماری نہ پاؤ گی۔‘‘ (مستدرک حاکم: 4؍63، 64)

فضیلۃ الشیخ صالح المنجد رقمطراز ہیں کہ

’’اس کی سند ضعیف ہے، اس لیے کہ اس میں دو علتیں ہیں، پہلی علت یہ ہے کہ نبیح العنزی اور ام ایمن کے درمیان انقطاع ہے! یعنی ان کی آپس میں ملاقات ثابت نہیں ہے ۔‘‘

دوسری علت یہ ہے کہ

ابو مالک النخعی جس کا نام عبد الملک بن حسین ہے، اس کے ضعیف ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔

امام نسائی﷫ نے کہا کہ

وہ متروک ہے، امام ابو حاتم﷫ نے کہا کہ وہ ضعیف الحدیث ہے، عمرو بن علی نے کہا کہ وہ ضعیف اور منکر الحدیث ہے، امام نسائی﷫ کی الضعفاء اور متروکین ملاحظہ کریں۔

ابن ابی حاتم کی الجرح والتعدیل اور امام ابن حجر﷫ کی تہذیب التہذیب ملاحظہ کریں۔

حافظ ابن حجر﷫ نے کہا کہ

ابو مالک ضعیف ہے اور نبیح کی ام ایمن سے ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ (التلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر: 1؍171)

ابو مالک النخعی دوسرے طریق سے یعلی بن عطا سے روایت کرتے ہیں، وہ ابو الیدین عبد الرحمٰن سے وہ ام ایمن سے روایت کرتے ہیں، دار قطنی نے کہا کہ ابو مالک ضعیف ہے۔

اور اس حدیث میں جو اضطراب ہے وہ اسی راوی کی وجہ سے ہے۔ (العلل للدار قطنی: 15؍415)

دوسری حدیث برکۃ ام یوسف کے نبیﷺ کے پیشاب کے پینے کے بارے میں، یہ حدیث ابن جریج کے طریق سے ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حُکیمہ بنت اُمیمہ بنت رُقیقہ حدیث بیان کی، اپنی ماں سے کہ

انہوں نے کہا کہ نبیﷺ ایک لکڑی کے برتن میں پیشاب کرتے تھے، پھر وہ آپکی چارپائی کے نیچے رکھ دیا جاتا، آپ نے اس میں پیشاب کیا ، پھر آپ دوبارہ اس برتن کے پاس آئے، مگر اس میں کچھ نہیں تھا، آپﷺ نے اس عورت سے فرمایا:

’’ جس کو برکۃ کیا جاتا تھا، جو سیدہ ام حبیبہ کی خدمت کرتی تھی اور جو حبشہ سے یہاں آئی تھی (پیشاب جو اس برتن میں تھا وہ کہاں ہے؟) تو اس عورت نے کہا کہ میں نے اسے پی لیا ہے، تو آپﷺ نے فرمایا کہ

«لَقَدِ احْتَظَرْتِ مِنَ النَّارِ بِحِظَارٍ»

تو نے آگ سے بچاؤ حاصل کر لیا ہے۔

امام بیہقی﷫ نے السنن الکبریٰ 7؍67) ہیں، الطبرانی نے الکبیر (24؍189) میں روایت کیا ہے۔ حُکیمہ بنت اُمیمہ کو نہ جاننے کے سبب یہ ضعیف حدیث ہے۔

امام ذہبی﷫ نے میزان الاعتدال (1؍587) میں کہا ہے کہ یہ غیر معروف ہے۔ حافظ ابن حجر﷫ نے تقریب التہذیب (ص 745) میں کہا کہ حکیمہ بنت امیمہ نا معلوم ہے۔

دراصل نبیﷺ کا پیشاب دیگر انسانوں کے پیشاب کی طرح ہے، اس کے پاک ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے اور آپﷺ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپﷺ پیشاب اور قضائے حاجت کے بعد استنجا فرماتے تھے، اگر وہ پاک ہوتے تو آپﷺ استنجا کیوں فرماتے؟ اور کسی نے آپﷺ کا پیشاب پیا ہے، اس پر کوئی روایت صحیح نہیں ہے بلکہ ساری ضعیف روایات ہیں اور اگر کوئی روایت صحیح بھی ہو جائے تو وہ دلیل نہیں بن سکتی ہے کیونکہ اس نے عمداً پیشاب سمجھ کر نہیں بلکہ غلطی سے پانی سمجھ کر پیا ہے۔

نبیﷺ کی تخلیق باقی انسانوں جیسی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ﴾(سورۃ الکہف: 110)

’’اعلا ن کر دیجیے کہ میں تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔‘‘

اور آپﷺ کا ارشاد ہے کہ

« إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي» (صحیح مسلم: 572)

’’بے شک میں تم جیسا انسان ہوں، میں تم جیسے بھول جاتا ہوں جب میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد دلا دو۔‘‘

اور آپﷺ کے فرمان کے مطابق:

« إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

’’بے شک میں انسان ہوں میں اسی طرح خوش ہوتا ہوں جیسا کہ کوئی انسان خوش ہوتا ہے اور غصہ ہوتا ہوں جیسا کہ کوئی انسان غصہ میں آتا ہے، اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو بد دعا دوں جس بد دعا کا وہ مستحق نہیں تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے پاکیزہ اور مقرب بنا دے گا۔‘‘ (صحیح مسلم: 2603)

اگر دوسرے لوگوں کے برخلاف آپﷺ کو کسی خصوصیت پر یا اللہ نے آپ کو دوسرے لوگوں کے برخلاف عزت عطا فرمائی ہے تو دلیل کی بنا پر اس بات کو ماننا پڑے گا۔

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي»

’’اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں مگر میرا دل نہیں سوتا ہے ۔‘‘ (صحيح مسلم: 738)

جیسا کہ سیدنا انس سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

’’ صفیں درست رکھو کیونکہ میں اپنی پیٹھ پیچھے سے دیکھتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری: 686؛ صحیح مسلم: 425)

رسول اکرمﷺ کا ایک صحابیہ سے مزاح

ایک مرتبہ ایک عورت رسول اللہﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور اپنے شوہر کا تذکرہ آپﷺ سے کرنے لگی، نبی کریمﷺ نے فرمایا:

’’اچھا تیرا شوہر وہی ہے جس کی آنکھ میں سفیدی ہے، وہ آپﷺ کے مزاح کو نہ سمجھ سکی، فوراً بولی نہیں، اللہ کے رسولﷺ! میرے خاوند کی آنکھیں تو بے داغ ہیں۔ اس صحابیہ کو یہ خیال ہی نہ آیا کہ ہر شخص کی آنکھ کا ایک حصہ سفید ہوتا ہے۔

ایک رویت میں ہے کہ

وہ عورت گھر جا کر اپنے شوہر کی آنکھوں میں تاک جھانک کر رہی تھی، شوہر نے کہا: کیا خیریت تو ہے نا! کیوں، میری آنکھوں میں اس طرح دیکھ رہی ہو؟ اس نے کہا کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ

’’تمہاری آنکھوں میں سفیدی ہے! شوہر نے کہا کہ آپﷺ نےصحیح فرمایا ہے، ہر شخص کی آنکھوں میں سیاہی سے زیادہ سفیدی ہے۔‘‘

(قال العراقی فی تخریج الاحیاء: 4؍1680)

تبصرہ کریں