رسول اللہ ﷺ کا پیغام داڑھی رکھنے اور نہ رکھنے والوں کے نام۔ محمد عبد الرحیم خرم جامعی

داڑھی کاٹنا مثلہ ہے: داڑھی کاٹنے یا منڈوانے کو ’’مثلہ‘‘ کہا گیا ہے ، مثلہ عربی زبان کا لفظ ہے جو اردو زبان میں بھی مستعمل ہے، جس کا معنی ہے :

” بطور سزا یا انتقام کے ناک ، کان، کاٹ ڈالنا، نعش کو مسخ کرنا ، عبرت ناک سزا، ناک، کان وغیرہ کاٹ کر بگاڑی ہوئی صورت۔‘‘

قدیم زمانے میں یہ ہوتا تھا کہ دشمن کو قتل کرنے کے بعد اپنی نفرت کا اظہار کرنے کے لئے اس کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جاتا تھا، اس طرح کی نفرت اس ترقی یافتہ زمانے میں بھی پائی جاتی ہے، آئے دن ہم اخبارات میں ایسی خبریں پڑھتے ہیں۔ دین اسلام میں مثلہ کی اجازت نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ چاہے مسلم ہو کہ غیر مسلم، کسی کا بھی مثلہ نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ حدیث میں ہے:

أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَن المثلَةِ

’’ رسول اللہ ﷺ نے مثلہ کرنے سے منع فرمایا ۔‘‘ (شرح معانی الآثار : 4912؛ صحیح الجامع : 6899 )

مثلہ کی اس تعریف کے بعد یہ سمجھنا چاہئے کہ یا تو مثلہ جنگ کے میدان میں ہوتا ہے یا با ہمی عمل و غارتگری میں ہوتا ہے لیکن داڑھی کی اہمیت رسول اللہ ﷺ کے نزدیک اتنی زیادہ تھی کہ کوئی مسلمان اگر اپنی داڑھی کو منڈواتا ہے یا کترواتا ہے تو اسے بھی مثلہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ کسی انسان کا نفرت کے مارے مثلہ کرنا جتنا قبیح کام ہے اسی طرح کسی بھی مؤمن کا اپنی داڑھی کو منڈوانا یا کتروانا بھی اتنا ہی قبیح کام ہے اس کے ذریعہ سے وہ اللہ کے حکم ، انبیاء کے عمل اور اپنے دین کا نہ صرف مذاق اڑارہا ہے بلکہ مثلہ کی طرح قبیح کام انجام دے رہا ہے ۔ اس لئے حدیث میں ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ مَثَلَ بِالشَّعْرِ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ خَلاقُ

’’جو بالوں کے ساتھ مثلہ کرے تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی حصہ نہیں ۔‘‘ ( معجم الكبير للطبرانی : 253-9)

صاحب ہدایہ فرماتے ہیں ( ہدایہ شریف مسلک حنفی کے نزد یک فقہ حنفی کی انتہائی معتبر کتا ہے)

“خَلْقَ الشَّعْرِ فِي حَقِّهَا مَثْلَةٌ كَحَلْقِ اللَّحْيَةِ فِي حَقِّ الرِجَالِ “ (ہدایہ)

’’عورتوں کے حق میں سر کے بال منڈانا مثلہ ہے جیسے مردوں کے بارے میں داڑھی منڈانا مثلہ ہے۔‘‘

اسی طرح صاحب روح البیان و بحر الرائق فرماتے ہیں: ’’جیسے عورتوں کے حق میں سر منڈانا مثلہ ہے اور مردوں کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے اور اس کی خوبصورتی جاتی رہتی ہے اسی طرح مردوں کے لئے داڑھی منڈانا مثلہ ہے اور عورتوں کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے اور چہرہ کی خو بصورتی جاتی رہتی ہے۔ ‘‘

اسی طرح صاحب تبیین الحقائق بیان فرماتے ہیں کہ

“لا تأخذ مِنَ اللَّحْيَةِ شَيْئًا لانه مثلة “

’’اپنی داڑھی کے کسی بھی بال کو نہ منڈوائے اور نہ تر شوایئے کیونکہ یہ مثلہ ہے۔‘‘

پانچویں خلیفہ سیدنا عمر بن عبد العزیز ﷫ بیان فرماتے ہیں کہ ”داڑھی منڈوانا مثلہ ہے اور اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے منع فرمایا ۔‘‘ ( ابن عساکر)

امام ابن حزم﷫ بیان فرماتے ہیں کہ

” اس بات پر اتفاق ہے کہ ساری داڑھی منڈا دینا مثلہ ہے اور یہ جائز نہیں۔‘‘ (مراتب الا جماع : ص 157)

یہی وجہ ہے کہ علمائے کبار نے بھی اس مسئلے کو مثلہ قرار دیا ہے اور اس کی حرمت پر فتوے بھی دئے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫فرماتے ہیں:

“وَيَحْرَمَ حَلْقَ اللَّحْيَةِ “

’’داڑھی مونڈنا حرام ہے۔‘‘ (الاختیارات العلمیہ: ص 7)

مشہور حنفی عالم امام ابن عابدین شامی ﷫ کا قول ہے: ’’مرد کا داڑھی مونڈ نا حرام ہے۔‘‘

اسی طرح مالکی مذہب کے مشہور فقیہ و عالم علامہ عدوی ﷫ فرماتے ہیں کہ ’’امام مالک ﷫ سے منقول ہے کہ ٹھوڑی کے نیچے کے بال مونڈنا مکروہ ہے ، ان سے یہ بھی منقول ہے کہ ’’ یہ مجوسیوں کا فعل ہے، داڑھی مونڈنا یکسر حرام ہے۔‘‘

خلاصہ کلام یہ ہے کہ داڑھی مونڈ نا وکتر وانا مکروہ و نا جائز فعل ہے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ کی محبت ، رسول اللہ ﷺ و دیگر انبیاء و مرسلین کی محبت اور صحابہ کرام کی محبت میں داڑھی کو رکھے اور اپنے دین اسلام سے محبت کا ثبوت دیں ۔ داڑھی کو منڈوا کر حجاموں کا کاروبار عروج پر پہنچایا جارہا ہے، کروڑوں روپے ہر ماہ حجاموں کی نذر کئے جاتے ہیں، اگر مسلمان داڑھی منڈوانا چھوڑ دیں تو ان کی کروڑوں روپے کی دولت محفوظ رہ سکتی ہے۔ داڑھی مونڈنے والے کم از کم ہر ماہ چار مرتبہ اور سالانہ 52 مرتبہ اپنی داڑھی منڈواتے ہیں۔ تو ایک فرد تخمیناً 5200 روپے سالانہ صرف داڑھی منڈانے پر صَرف کر رہا ہے، صوبہ تلنگانہ میں ڈیڑھ کروڑ مسلمان آباد ہیں، اگر ایک کروڑ مسلمان داڑھی منڈواتے ہیں تو سالانہ 52 بلین روپئے صرف داڑھی منڈوانے پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔ ایک جانب رب کی بھی نافرمانی ہو رہی ہے تو دوسری جانب دولت کا ضیاع بھی ہورہا ہے۔

داڑھی مونڈے مسلمان کی گواہی ناقابل قبول ہوگی : دین اسلام کے کئی معاملات ایسے ہیں جس میں گواہی کی ضرورت ہوتی ہے اگر 2 مسلمان کسی چیز کی گواہی دیں تو ان کی گواہی قبول کی جاتی ہے اگر کوئی مسلمان داڑھی مونڈتا ہے تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کر رہا ہے اور دین کے حکم کا مذاق اڑا رہا ہے تو دین کے معاملے میں ایسے آدمی کی گواہی کیسے قبول کی جائے گی؟ امام غزالی ﷫احیاءالعلوم میں فرماتے ہیں:

” رَدَّ عُمَرَ بنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه وَابْنَ أَبِي لَيْلَى قَاضِي المَدِينَةِ شَهَادَةً مَنْ كَانَ يشف لحية “ (احیاء العلوم)

’’سیدنا عمر اور سیدنا ابن ابی لیلی قاضی مدینہ نے داڑھی کے کتروانے والے کی گواہی رد فرمائی۔‘‘

اسلام کے پانچویں خلیفہ سیدنا عمر بن عبد العزیز ﷫ نے بھی ایسے شخص کی شہادت قبول نہیں فرمائی۔

شیخ ابو طالب مکی ﷫ فرماتے ہیں کہ ” شَهِدَ رَجُلٌ عِنْدَ عُمر بن عَبْدَ العزيز وكان ينتف لحية …… فَرَدَّ شَهَادَتَهُ “ ایک شخص نے عمر بن عبد العزیز ﷫ کی خدمت میں کسی مقدمے میں شہادت دی اور وہ شخص اپنی داڑھی کا ایک خفیف حصہ جس کو کاٹھی کہتے ہیں کاٹا کرتا تھا اسی وجہ سے اس کی شہادت قبول نہ ہوئی۔‘‘ (قوت القلوب)

سیدنا عثمان ذوالنورین کی داڑھی: تمام صحابہ کرام داڑھی رکھا کرتے تھے، کوئی بھی صحابی رسول ایسے نہ تھے جو داڑھی منڈوایا کرتے تھے یا کتروایا کرتے تھے ۔ تمام خلفائے راشدین داڑھی رکھا کرتے تھے بلکہ داڑھی کو اس کے اصلی حال پر چھوڑ دیا کرتے تھے۔ چنانچہ سیدنا عثمان کی داڑھی مبارک کے متعلق ایک روایت یوں ذکر کی گئی ہے کہ

ان عثمان كَانَ رَجُلاً رَبْعَةً حَسَنَ الوَجْهِ كثير شعرِ اللَّحْيَةِ عَظِيمَ الكَرَادِيْسَ “

’’سیدنا عثمان میانہ قد کے آدمی تھے ، آپ کا چہرہ مبارک بہت خوبصورت تھا ، داڑھی مبارک بہت گھنی تھی اور جوڑ کی ہڈیاں عظیم کاں تھیں۔‘‘ (ابن عساکر)

سیدنا علی کی داڑھی مبارکہ : سیدنا علی کی داڑھی مبارکہ بھی بہت گھنی تھی، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بھی گھنی داڑھی رکھیں۔ ایک روایت میں آتا ہے: وَكَانَ عَلَى شَيْخاً رَ بعَةً عَظِيمَ اللَّحْيَةِ جِدًا قَدْ مَلَأَتْ مَا بَين مَنْكِبَيْهِ بَيْضَاءَ كَلها

’’سیدنا علی میانہ قد کے بزرگ تھے اور آپ کی داڑھی مبارک بہت زیادہ تھی دونوں مونڈ ہوں کے درمیان بھری تھی اور کل سفید تھی ۔‘‘ ( تاریخ )

داڑھی کو تراشنے کا استدلال: عموما جولوگ داڑھی کو تراشتے ہیں یا ایک مشت داڑھی رکھ کر بقیہ کاٹ دیتے ہیں وہ اپنے اس عمل پر جو دلیل پیش کرتے ہیں وہ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن عمر کا مخصوص عمل ہے جس کا تذکرہ صحیح بخاری میں کیا گیا ہے:

کانَ ابْنَ عُمَرَ إِذَا حَجَ أَوْ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى الحيتِهِ فَا فَضْلَ أَخَذَهُ “ ’’سیدنا عبد الله بن عمر حج یا عمرہ میں اپنی داڑھی کو جب ایک مشت سے زائد ہوتی تر شوالیا کرتے تھے۔‘‘ (صحیح بخاری)

سیدنا عبد اللہ بن عمر سے مروی اس حدیث کے متعلق محدثین کرام بیان فرماتے ہیں، صاحب التوضیح بیان فرماتے ہیں کہ

“فَإِنْ قُلْتَ إِذَا كَانَ الْأَعْضَائ مَأْمُوراً بِهِ فَلَمْ أَخَذَ ابن عُمَرَ وَ هُوَ رَاوِي الحَدِيثِ قُلْتَ لَعَلَّهُ خَصَّصَ بِالحَج وَالنَّهَى كَفَعَل الأَعَاجِم .” ( غایۃ التوضيح شرح الجامع الصحیح البخاری)

’’ اگر آپ اعتراض کریں کہ جب داڑھی بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے تو سیدنا ابن عمر نے کیوں ترشوائی، حالانکہ اعضائی (داڑھی چھوڑنے والی حدیث) کے خود راوی ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیدنا ابن عمر نے اس کو مخصوص کر لیا ہے، کٹانے کی ممانعت حج کے سوا اور اوقات میں ہے جیسے بھی لوگ ہر وقت قطع کرواتے ہیں۔‘‘

اسکی تشریح فرماتے ہوئے امام ابن حجر عسقلانی﷫ بیان فرماتے ہیں:

“قَالَ الكِرْمَانِي لَعَلَّ ابْنَ عُمَرَ أَرَادَ الجمع بين الحلْقِ وَالتَّقْصِيرِ فِي النَّكِ فَحَلَقَ رَأْسَهُ كَلَهُ وَ قَصرِ مِنْ حَيْتِهِ لَيَدْخُلَ فِي عَمَوْمٍ قَوْلِهِ تَعَالَى محلقين رؤؤسَكُمْ وَمُقَصرِينَ وَخَضَ ذَالِكَ مِنْ عَمَوْم قَوْلِهِ وَفْرُوْا اللَّحَى فَحَمَلَهُ عَلَى غَير حَالَةِ الشنك.”

امام کرمانی﷫ کہتے ہیں کہ ’’سیدنا ابن عمر نے حج میں حلق و قصر کو جمع کرنا چاہا، اس لئے تمام سر کو منڈوایا اور داڑھی کے بھی کچھ بال ترشوائے تا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول “محلقين رؤؤسَكُمْ وَمقصرین” میں داخل ہو جا ئیں اور اعضاء کے عموم کو اس خاص وقت میں مخصوص کر لیا ہے ’وفر وا‘ کو حج سے علاوہ کے دیگر اوقات پر محمول کیا ہے۔ ( فتح الباری: 497۔ 24)

سیدنا ابن عمر کا یہ عمل دائمی نہیں تھا بلکہ وہ صرف حج و عمرہ میں یہ عمل کیا کرتے تھے اس سے دائمی عمل مراد لینا غلط ہو گا، اگر کوئی حاجی اور معتمر اس طرح کا عمل کرتا ہے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن یہ عمل سیدنا ابن عمر کا خاص عمل تھا دیگر صحابہ کرام نے بھی حج و عمرہ کی سعادت حاصل کی، لیکن کسی نے ایسا عمل نہیں کیا ۔ جو لوگ دائمی طور پر یہ عمل کر رہے ہیں وہ خلاف سنت ہے۔

اس حدیث کے علاوہ بعض لوگ اور بھی روایات پیش کرتے ہیں جو سند ضعیف ہیں جیسا کہ سیدنا سماک بن یزید بیان فرماتے ہیں کہ ” كَانَ عَلی رضی الله عنه يَأخُذ من لحيته مما يلى وَجْهَهُ”

سیدنا علی اپنے چہرے کے قریب سے داڑھی مبارک کاٹتے تھے۔‘‘ (مصنف ابن ابى شیبہ: 25480/ ضعیف)

اس ضمن میں ایک اور روایت سیدنا ابو زرعہ سے نقل کی جاتی ہے کہ “كان ابو هريرة رضى الله عنه يَقْبِضُ عَلَى لحيتِهِ ثُمَّ يَأْخُذْ مَا فَضَلَ عَنِ القَبْضَةِ .”’’سیدنا ابو ہریرہ اپنی داڑھی مبارک کو مٹھی پکڑتے اور مٹھی سے زائد داڑھی کو کاٹ دیتے تھے۔‘‘ ( مصنف ابن ابی شیبہ : 25481/ضعیف)

یہ چند روایات تھیں جنہیں یہاں ذکر کر دیا گیا ہے، ہر مسلمان کو داڑھی چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہئے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اختیار کرنا چاہئے۔ احادیث صحیحہ کو ہم مشعل راہ بنائیں۔ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

تبصرہ کریں