رسول اکرم ﷺ کا ہنسنا، مسکرانا اور مزاح فرمانا۔(قسط:40) ۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب، ڈڈلی

حضرت ابو ہریرہ﷜ کی والدہ کے اسلام قبول کرنے پر رسول اکرمﷺ کا خوش ہونا

حضرت ابو ہریرہ﷜ روایت کرتے ہیں کہ میں اپنی ماں کو اسلام کی دعوت دیتا تھا، کیونکہ وہ مشرکہ تھی۔ ایک دن میں نے اسے اسلام کی دعوت دی تو اس نے رسول اکرمﷺ کے بارے میں وہ بات کہی جو مجھے ناگوار گزری، میں اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں روتا ہوا حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ کےرسول ﷺ! میں ہمیشہ میری ماں کو اسلام کی طرف بلاتا تھا مگر آج جب میں نے اسلام کی دعوت دی تو اس نے آپ ﷺ کے بارے میں وہ بات کہی جو مجھے ناگوار گزری۔ آپ ﷺ دعا فرمائیے کہ اللہ میری ماں کو ہدایت عطا فرمائے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ سے دعا فرمائی کہ وہ ابو ہریرہ﷜ کی ماں کو ہدایت عطا فرمائے، میں آپﷺ کی دعا سے خوش ہو کر ماں کے پاس گیا تاکہ اس پیاری دعا کا اثر دیکھ سکوں، چنانچہ میں گھر گیا تو دروازہ بند تھا،  میری ماں نے میرے دروازے پر آنے کو محسوس کیا اور کہا ذرا ٹھہرو! اور مجھے گھر کے اندر پانی کے گرنے کی آواز سنائی دی۔ میری ماں نے غسل کر کے اپنے کپڑے پہن لیے اور سر پر دوپٹہ لے کر دروازہ  کھول دیا اور مجھے دیکھ کر  کہہ اٹھیں، اے ابو ہریرہ! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ  کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور میں  گواہی دیتی ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ﷜ بیان کرتے ہیں کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کے پاس خوشی سے روتا ہوا آیا اور  عرض کیا، اللہ کے رسول ﷺ خوش ہو جائیے کہ آپ کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا ہے اور ابو ہریرہ کی ماں کو مسلمان بنا دیا۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کی۔ میں نے کہا اللہ کے رسول ﷺ اللہ پاک سے دعا فرمائیے کہ وہ میری اور میری ماں کی محبت مسلمانوں کے  دلوں میں ڈال دے اور لوگوں کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دے۔ تب اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ سے ایسی ہی دعا فرمائی، پھر کوئی مؤمن ایسا نہیں پیدا ہوا جو میرے تعلق سے سنا ہو یا مجھے دیکھا ہو اور اس نے مجھ سے اور میری ماں سے محبت نہ کی ہو۔ (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، حدیث: 2491)

ملاحظہ فرمائیے! حضرت ابو ہریرہ﷜ کو اپنی ماں کی کتنی فکر تھی کہ کسی بھی طرح ان کو نار جہنم سے بچانا چاہتے تھے، بار بار کوشش کرنے کے بعد بالآخر اللہ کے نبی ﷺ سے دعا کی درخواست کرتے ہیں اور جب اللہ کے نبی ﷺ دعا فرماتے ہیں تو آپﷺ کی دعا کی قبولیت کا اتنا  ایقان تھا کہ ماں کو دیکھنے کے لیے فوراً ماں کے پاس دوڑتے ہیں اور ماں کے ایمان لانے کے بعد رسول اکرمﷺ کو خوشخبری دینے کے لیے آپﷺ کی خدمت اقدس میں خوشی سے روتے ہوئے آتے  ہیں اور ساتھ اپنے اور اپنی ماں کے لیے دوسری دعا کی آپﷺ سے درخواست کرتے ہیں، آج ہمارے معاشرہ میں خاندانوں میں، دوست و احباب میں کتنے مشرک اور بدعتی ہیں، کیا ہم ان کی ہدایت کے لیے حضرت ابو ہریرہ﷜ جیسی تڑپ اور محبت رکھتے ہیں؟ اگر ہمارا انداز پیار ومحبت اور اخلاص والا ہو تو  ان شاء اللہ اس کے نتائج بھی مثبت ہوں گے۔

حضرت عدی بن حاتم﷜ کے اسلام قبول کرنے پر آپﷺ کا خوش ہونا

حضرت عدی بن حاتم﷜ روایت کرتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں آیا جبکہ اللہ کے رسول ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے، لوگوں نے کہا کہ یہ عدی بن حاتم ہیں، میں بغیر امان لیے اور بغیر کسی سفارشی خط کے آ گیا تھا، جب مجھے آپﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں یہ تمنا کر رہا تھا کہ  آپﷺ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہو، میں نے دیکھا آپﷺ کے پاس ایک عورت ایک بچے کے ساتھ ہے، ان دونوں نے آپﷺ سے کہا کہ ہمیں آپﷺ سے کام ہے۔ آپﷺ ان کے ساتھ تشریف لے گئے اور ان کی ضرورت پوری کی۔ پھر آپﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے گھر لے گئے، وہاں ایک لڑکی نے آپ کے لیے تکیہ لگایا، آپﷺ اس پر بیٹھ گئے اور میں آپﷺ کے سامنے بیٹھ گیا، آپﷺ نے اللہ کی حمدوثنا بیان کی، پھر فرمایا: اے عدی! کس چیز سے بھاگتے ہو؟ کیا  لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ سے بھاگتے ہو؟ کیا تم جانتے ہو کہ کون  سی چیز ہے جو اللہ سے بڑی ہے؟ میں نے کہا نہیں، کوئی چیز اللہ سے بڑی نہیں، پھر آپ ﷺ نے تھوڑی دیر مجھ سے بات کی پھر آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اللہ اکبر کہنے سے بھاگتے ہو؟ میں نے کہا نہیں، آپﷺ نے فرمایا: مغضوب علیهم جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا، وہ یہودی ہیں اور نصاریٰ ضالین گمراہ ہیں، میں نے عرض کیا کہ میں مسلمان کی حیثیت سے حاضر ہوا ہوں۔ یہ سنتے ہی اللہ کے نبیﷺ کا چہرۂ انور خوشی سے کھل گیا، پھر آپﷺ نے مجھے ایک انصاری کے پاس ٹھہرایا۔ ایک رات کچھ لوگ اُون کا لباس پہنے ہوئے تھے وہ آئے، آپﷺ نے نماز  پڑھی، پھر آپﷺ نے ان کی مدد کے لیے صحابہ کو ترغیب دلائی۔ کوئی ایک صاع، کوئی نصف صاع، کوئی ایک مٹھی یا اس سے بھی کم لایا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ جہنم کی گرمی یا آگ سے بچنے کے لیے ایک کھجور دو یا ایک کھجور کا ٹکڑا ہی دے دو۔ کیونکہ جب اللہ سے ملو گے تو کیا جواب دو گے؟ اللہ فرمائے گا کہ کیا میں نے تمہیں سماعت اور بصارت نہیں عطا  کی؟ کیا میں نے مال اور اولاد نہیں عطا کیا؟ تو نے آگے کیا بھیجا ہے؟ اس وقت آدمی اپنے سامنے اور پیچھے دیکھے گا، اپنے دائیں اور بائیں دیکھے گا اور اسے کوئی چیز دکھائی نہیں دے گی کہ جس سے اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ہی سہی مگر اپنے آپ کو  جہنم کی آگ سے بچاؤ، اگر اللہ کے راستے میں دینے کے لیے کچھ بھی نہ ہو تو اچھی بات ہی کہہ دیں، مجھے تمہارے فاقہ میں مبتلا ہونے کا ڈر نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں بہت دے گا، یہاں تک کہ ایک عورت حیرہ سے یثرب تک یا اس سے زیادہ سفر کرے گی اور اسے کسی قسم کی چوری یا ڈاکہ زنی کا ڈر نہیں ہو گا، میں اپنے جی میں کہہ رہا تھا کہ طی کے چور کہاں ہوں گے؟

 (جامع ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، حدیث: 2953)

حضرت سلمان فارسی کے ایمان لانے پر رسول اکرم کا خوش ہونا

حضرت ابو عثمان نہدی نے خبر دی کہ ان سے حضرت سلمان فارسی﷜ نے بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ﷤ اور حضرت محمد ﷺ کے درمیان فترۃ کا زمانہ  (یعنی جس میں کوئی پیغمبر نہیں آیا) چھ سو برس کا ہے۔

تشریح: حضرت سلمان فارسی﷜ کی کنیت ابو عبد اللہ تھی، ان کو خود رسول اکرمﷺ نے آزاد کرایا تھا۔ فارس کےشہر  مزرام کے رہنے والے تھے، دین  حق کی طلب میں انہوں نے ترک وطن کیا اور پہلے عیسائی ہوئے۔ ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا، پھر قوم عرب نے ان کو گرفتار کر کے یہودیوں کے ہاتھوں بیچ ڈالا، یہاں تک کہ یہ مدینہ میں پہنچ گئے اور پہلی ہی صحبت میں دولت ایمان سے مالا مال ہو گئے۔ پھر انہوں نے اپنے یہودی مالک سے مکاتبت کر لی۔ (یعنی مقررہ رقم دے کرآزاد ہو جانے کامعاہدہ کر لیا) جس کی رقم آنحضرتﷺ  نے ادا فرمائی۔

مدینہ آنے تک یہ دس جگہ غلام بنا کر فروخت کیے گئے تھے۔ آنحضرتﷺ ان سے بہت خوش تھے، آپﷺ نے فرمایا کہ سلمان ہمارے اہل بیت سے ہیں (یعنی رسول اکرمﷺ کی فیملی سے ہیں) جنت  ان کے قدموں کی منتظر ہے۔ اپنے ہاتھ سے روزی کماتے اور صدقہ خیرات بھی کرتے۔ طویل عمر پا کر 35 ہجری میں شہر مدائن میں ان کا انتقال ہوا۔ رضي الله عنه وأرضاه، آمين

(ترجمہ وتشریح،  حضرت  مولانا محمد داؤد راز دہلوی﷫، صحیح بخاری، حدیث:3948)

سورج نکلنے کے بعد بعض صحابہ دور جاہلیت کی باتیں کرتے اور ہنستے جبکہ آپ صرف تبسم فرماتے

سماک بن حرب روایت کرتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ سے کہا، تم رسول  اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے، انہوں نے کہا ، ہاں، بہت بیٹھا کرتا تھا۔ آپﷺ جہاں فجر کی نماز پڑھتے وہاں سے نہ اٹھتے، آفتاب نکلنے تک۔ جب آفتاب نکلتا تو آپ اٹھتے اور لوگ باتیں کرتے اور جاہلیت کے کاموں کا ذکر کرتے اور ہنستے اور آپ تبسم فرماتے تھے، یعنی نماز فجر ادا کر کے اسی جگہ اللہ کا ذکر کرتے تھے اور اِشراق کے بعد نماز ادا کر کے وہاں سے رخصت ہوتے، کچھ دیر زمانہ جاہلیت کے قصے یاد کر  کے صحابہ آپس میں ہنسی مذاق  بھی کر لیتے تھے اور نبی کریمﷺ بھی تبسم فرما کر ان کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔

(صحیح مسلم، کتاب الفضائل: 3222)

٭٭٭

تبصرہ کریں