رسول اکرمﷺ کا ہنسنا ، مسکرانا اور مزاح فرمانا۔ (قسط 39) ڈاکٹر عبدالرب ثاقب ، ڈڈلی

حضرت ضحاک بن سفیان سے ام المؤمنین کے سوال پر رسول اکرم ﷺ ہنس پڑے !

حضرت ضحاک بن سفیان کلابی سے جب رسول اکرم ﷺ نے بیعت لی تو انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اے اللہ کے نبی ﷺ میری دو بیویاں ہیں جو اس سرخ عورت (حمیرا) سے زیادہ خوبصورت ہیں ، میں ان میں سے ایک کو طلاق دیتا ہوں ، آپﷺ اس سے شادی کر لیجئے ۔ واضح ہو کہ آیات حجاب سے قبل ضحاک ؓ نے حضرت عائشہ ؓ کو دیکھا اور ان کی طرف اشارہ کر کے کہا!

یہ سن کر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضرت ضحاک ؓ سے پوچھا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ تم زیادہ خوبصورت ہو یا تمہاری بیویاں ؟ حضرت ضحاک ؓ نے جواب دیا کہ میری بیویوں سے زیادہ میں خوبصورت ہوں۔ حضرت عائشہ ؓ کے اس سوال پر رسول اکرم ﷺ ہنس دئیے ! کیونکہ حضرت ضحاک ؓ ایک بدصورت اور بد شکل آدمی تھے اور جب شوہر بیویوں سے زیادہ خوبصورت تھے تو ان کی بیویاں کتنی بد شکل اور بدصورت ہوں گی ۔ اس لئے رسول اکرم ﷺ کو ہنسی آ گئی ۔ حضرت عائشہ ؓ غصہ کرنے کے بجائے کس خوش اسلوبی سے سوال کر کے معاملہ کی تہہ تک پہنچ گئیں ۔ (تخریج العراقی 4؍1682)

رسول اکرم ﷺ کبھی صحابہ کرام کی ہنسی میں شریک ہو جاتے تھے!

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کی مجلسوں میں سو سے زیادہ مرتبہ بیٹھا ہوں جن میں صحابہ اشعار پڑھتے تھے اور زمانۂ جاہلیت کے قصے سناتے تھے اور آپﷺ ان کو خاموشی سے سنتے تھے بلکہ کبھی کبھی ہنسنے میں ان کے ساتھ شریک ہو جاتے تھے ! (سنن ترمذی حدیث 2850)

سورۃ الانشراح کے نزول کے بعد آپﷺ ہنستے ہوئے گھر سے نکلے !

حضرت حسن بن علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب سورۃ الانشراح نازل ہوئی تو آپؐ خوشی خوشی ہنستے ہوئے گھر سے باہر نکلے ، اس لئے کہ اس میں دو آیتیں ہیں ، فان مع العسر یسرا، ان مع العسر یسرا۔ یقینا مشکل کے ساتھ آسانی ہے یقینا مشکل کے ساتھ آسانی ہے (سورۃ الانشراح آیت 5،6)

عربی گرامر کے اعتبار سے العسر مشکل دونوں دفعہ معرفہ اور یسرا آسانی دونوں دفعہ نکرہ ہے ۔ اس کا مطلب یہ کے ایک مشکل دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی ۔ اس لئے آپﷺ خوشی سے ہنسنے لگے ! (مستدرک الحاکم 2 ؍257)

اللہ کے مسکرانے پر رسول اکرم ﷺ کا مسکرانا

اللہ کی ہستی اتنی رحیم و شفیق ہے کہ جب بندہ کوئی اچھا کام کرتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے بلکہ مسکراتا بھی ہے ، حالانکہ اس اچھے کام سے اللہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اچھے کام کرنے والے ہی کو فائدہ پہنچتا ہے ، کسی طرح اللہ چاہتا ہے کہ میرے بندے بھی اچھا کام کریں !

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ نے مجھے اپنی سواری پر سوار فرما لیا اور تین مرتبہ اللہ اکبر، تین مرتبہ الحمد للہ اور تین مرتبہ سبحان اللہ اور ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ فرمایا اور آپؐ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی بندہ سواری پر سوار ہوتے وقت یہ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھ کر ایسے مسکراتے ہیں جس طرح میں تمہاری طرف دیکھ کر مسکرایا ! (مسند احمد حدیث 2899)

رسول اکرم ﷺ جب بھی جریر بن عبداللہ کو دیکھتے تو مسکرا دیتے!

حضرت جریر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ میں رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپﷺ نے آنے کی وجہ دریافت فرمائی ۔ جریر بن عبداللہ نے کہا کہ میں اسلام قبول کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں ! آپﷺ نے حضرت جریر کو ایک چادر پہنائی اور صحابہ ؓ سے فرمایا کہ جب بھی تمہارے پاس کوئی معزز شخص آئے تو اس کا اکرام کرو! آپﷺ نے حضرت جریر کو اسلام کی اہم باتیں بتائیں کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مانو، نماز قائم کرو، زکٰوۃ دو ، اللہ پر روز آخرت پر اور تقدیر پر ایمان رکھو! میں اسلام قبول کرنے کے بعد وہاں سے چلا گیا لیکن جب بھی میں آپﷺ سے ملتا آپ مسکراتے تھے ۔

(البدایۃ والنھایۃ : 87؍5)

رسول اکرم ﷺ کا بریدہ اسلمی سے مزاح فرمانا!

حضرت بریدہ اسلمی ؓ روایت کرتے ہیں کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا ، جب پڑاؤ کے بعد دوبارہ سفر شروع کیا گیا تو اس میں جب کوئی چیز رہ جاتی تو آپﷺ مجھ پر رکھ دیتے اور مجھے زاملہ (بوجھ اٹھانے والا اونٹ) فرماتے! اس نام سے صحابی رسول ؐ ناراض نہیں ہوتے بلکہ خوش ہوتے تھے اور رسول اکرمﷺ ازراہِ مزاح بریدہ ؓ کو زاملہ فرماتے تھے۔ (مجمع الزاوئد للھیثمی 9؍398)۔

تبصرہ کریں