رسول اللہ ﷺ کا پیغام عاملین بدعت کے نام۔ محمد عبد الرحیم خرم عمری جامعی، حیدر آباد

لفظ’’بدعت‘‘ در اصل کتاب و سنت کا متضادلفظ ہے اس کے متعلق جاننا اور اس کی معرفت حاصل کرناہر مسلمان کے لئے ضروری ہے، تاکہ مسلمان اللہ کی معصیت سے بچے رہیں اور اپنے کسی عمل سے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی نہ ہو۔’’ بدعت‘‘ در اصل دین اسلام میں شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ گمراہی کا پہلا زینہ ہے ۔ اس کے سبب اصل دین یعنی کتاب و سنت کو فراموش کردیا جاتا ہے اس مضمون کوترتیب دینے کا مقصد بھی یہی ہے کہ مسلمان بدعت کی خباثت اور اس کی ہلاکت خیزی سے محفوظ رہیں اور خالص کتاب و سنت پر عمل پیرا ہوں ۔ اس سے قبل ہم نے ’’ رسول اللہ ﷺ کا پیغام حاملین قرآن کے نام‘‘ تحریر کیا تھا جسے عوام الناس نے خوب سراہا ، اس کے بعد ہم نے ایک اور مضمون ’’ رسول اللہ کا پیغام حاملین سنت کے نام‘‘ تحریر کیا تھا اسے بھی قارئین نے خوب پسند فرمایا ،ان دونوں موضوعات کی مناسبت سے اس عنوان’’ رسول اللہ ﷺ کا پیغام حاملین بدعت کے نام‘‘ تحریر کیا ہے تاکہ قارئین کو قرآن وسنت کی اہمیت اور بدعت کی خباثت کا اندازہ ہوجائے ۔ اس مضمون میں ہم نے صرف بدعت کی تعریف کی اور حدیث شریف کے حوالوں سے اس کی برائی ذکر کی ہے ۔ لہٰذا ہم نے کہیں بھی اپنا نکتہ نظر بیان کرنے کی کوشش نہیں کی ہے تاکہ عوام از خود بدعت کی برائی کو سمجھنے کی کوشش کریں اورکتاب و سنت کے بلند مقام و معیار کو جانیں۔

٭بدعت کا معنی و مفہوم: ’’ بدعت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جو’’ بَدَعَ، یبدع ، بدعا سے مشتق ہے اس کا معنی ہے :

“الاِخْتِرَاعُ عَلَی غَیْرِ مِثَالٍ سَابِقٍ”

کسی چیز کی ایجاد بالکل نئے طرز سے ہو جس کی سابق میں کوئی مثال نہ مل رہی ہو‘‘

اسی سے اللہ تعالی کا قول ہے :

﴿بَدِیْعُ السَّمٰوٰاتِ والْأَرْضِ﴾

’’اللہ تعالی نے آسمان و زمین کو ایسے نئے طرز سے بنایا کہ گزشتہ زمانے میں اس طرح کی کوئی مثال،نہیں ملتی اور نہ اس سے پہلے بنایا گیا تھا ‘‘ ( البقرۃ:117)

اسی طرح انبیاء و مرسلین کی دعوت پر کہا گیا کہ

﴿قُلْ مَاکُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ﴾

’’آپ کہہ دیجئے کہ میں کوئی انوکھا اور نیا رسول نہیں ہوں۔‘‘ (بلکہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول آچکے ہیں)‘‘(سورۃ الاحقاف:9)

اسی سے بعض اہل لغت نے کہا:

’’نمونہ یا وجود کے بغیر کوئی نئی چیز ایجاد کرنا ، یعنی کسی شیٔ کو عدم محض سے وجود میں لانے کو عربی زبان میں ’’ ابداع‘‘ کہتے ہیں۔‘‘

امام ابن حجر عسقلانی ﷫ بدعت کی لغوی تعریف یوں بیان کرتے ہیں:

“البِدْعَةُ أَصْلُهَا: مَا أَحْدَثَ عَلَی غَیْرِ مِثَالٍ سَابِقٍ.”

’’بدعت کی اصل یہ ہے کہ اسے بغیر کسی سابقہ نمونہ کے ایجاد کرنا ۔‘‘( فتح الباری:4؍253)

علامہ عینی﷫ نے بدعت کی لغوی و اصطلاحی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ:’’ بدعت لغت میں ہر اس عمل کو کہا جائیگا جس پر پہلے سے کوئی مثال نہ ہو ، اصطلاح شرع میں بدعت کا اطلاق اس نئی چیز پر ہوگا جس کی رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کے دور میں سرے سے کوئی اصل نہ ہو۔ ‘‘

اسی سے کہا جاتا ہے :

“اِبْتَدَعَ فُلَانٌ بِدْعَةٌ اِذَااِبْتَدَءَ طَرِیْقَةٌ لَمْ یَسْبق إِلَیْهَا.”

’’ فلاں نے بدعت ایجاد کی ہے یہ کلمہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی نے ایسا طریقہ ایجاد کیا ہو جو بالکل نیا ہواور کسی نے اس سے پہلے اس کی طرف سبقت نہ کی ہو ۔‘‘

بدعت کی اصطلاحی تعریف یوں بیان کی گئی کہ

“البِدْعَةُ الحدث فی الدین بعد الاکمال وما استحدث بعد النبی من العبادات.”

’’ دین مکمل ہونے کے باوجود اس میں کوئی نئی چیز ایجاد کر لی جائے اور طلب ثواب کی نیت سے اس پر عمل ہو، نیز اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ کرام سے اس عمل میں کوئی ثبوت(دلیل) نہ ہو۔ ‘‘

اصطلاحی معنی کے لحاظ سے ہر اس عمل کا اطلاق بدعت پر ہوگا جس پر شریعت کی طرف سے کوئی دلیل نہ پائی جائے ۔ علامہ ثمنی نے بدعت کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ

’’ بدعت کا اطلاق ہر اس عمل پر ہوگا جسے حق یعنی رسول اللہ ﷺ کے قول و فعل اور حکم کے خلاف ایجاد کر لیا گیا ہو۔‘‘

فقہا کی اصطلاح میں ہر اس نئی چیز کانام بدعت ہے جس سے کتاب و سنت اور اجماع صحابہ کی مخالفت ہو رہی ہو اور جس کا شارع نے اپنے قوم و فعل سے اجازت نہ دی ہو۔‘‘ (بدعت کی حقیقت: 11۔13، حافظ عبد اللطیف اثری)

بدعت کی تعریف رسول اللہ کی زبانی

رسول اللہ ﷺ نے اپنے الوداعی خطاب میں فرمایا:

«أُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالسَّمْعُ وَالطَّاعَةُ، وَإِنْ عَبْداً حَبْشِیًّا فَإِنَّهُ مَنْ یَعْشُ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیَرَی اِخْتِلاَفاً کَثِیْرًا، فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّةِ الخُلَفَاءَ الرَّاشِدِیْنَ المَهْدِیِّیْنَ الرَّاشِدِیْنَ فَتَمَسَّکُوْا بِھَا وَعَضُّوْا عَلَیْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَاِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ فَإِنَّ کُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَکُلَّ بِدَعَةٍ ضَلاَلةٍ»

’’بلا شبہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہا وہ بہت اختلاف دیکھے گا ، لہٰذا ایسے وقت میں میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو اپنائے رکھنا ، خلفاء جو اصحاب رشد و ہدایت ہیں، سنت کو خوب مضبوطی سے تھامنا، بلکہ دانتوں سے پکڑے رہنا ، نئی نئی بدعات واختراعات سے اپنے آپ کو بچائے رکھنا ، بلاشبہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘ (سنن ابوداؤد:4607؛ سنن ابن ماجہ:42؛ السلسلۃ الصحیحۃ:1746)

اسی طرح ایک حدیث شریف میں ہے سیدنا جابر بن عبد اللہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنا خطبہ یوں شروع فرماتے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرماتے جو اللہ تعالیٰ کی شان گرامی کے لائق ہے پھر فرماتے :

«فَمَنْ یَهْدِهِ اللّٰہُ فَلا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ یُضْلِلْهُ فَلاَ هَادِيَ لَهُ، إِنَّ أَصْدَقَ الحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ وَ أَحْسَنَ الهَدْیُ هَدْیُ مُحَمَّدٍ وَشَرَّ الأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا وَکُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَکُلُّ بِدْعَةٍ ضَلالَة، وَکُلُّ ضَلالَةٍ فِیْ النَّارِ»

’’جسے اللہ تعالیٰ راہ راست پر لے آئے ، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ،اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اسے کوئی راہ راست پر لانے والا نہیں ، بلا شبہ سب سے زیادہ سچی بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے ، بد ترین کام وہ ہیں جنہیں اپنی طرف سے جاری کیا گیا ، ہر ایسا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں لے جائے گی۔‘‘ (سنن نسائی:1579؛ سنن ابن ماجہ:45)

سیدنا عبداللہ بیان فرماتے ہیں :

«أَنَّ أَحْسَنَ الحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ ، وَ أَحْسَنَ الهَدْیِ هَدْیُ مُحَمَّدٍ ﷺ وَشَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا، وَإِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لآتٍ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْن»

’’سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے اور سب سے اچھا طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے اور سب سے بری بات نئی باتوں (بدعات)کا پیدا کرنا ہے اور بلاشبہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ آکر رہے گی اور تم پروردگار سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے۔‘‘( صحیح بخاری:7277 )

اسی طرح ام المؤمنین سیدہ عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَیْسَ عَلَیْهِ أَمْرُنَا فَهُوَرَدٌّ»

’’ جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم موجود نہیں تو وہ عمل مرود ہے ۔‘‘ (صحیح مسلم:4493 )

بدعات سے نفرت رکھیں

ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بدعات سے نفرت رکھے اور اس سے دوری اختیار کرے بدعات سے نفرت اسی لئے اختیار کرنا چاہئے کیونکہ جب بھی کوئی بدعت وجودمیں آتی ہے تو اللہ تعالی اسی کے مماثل سنت کو اٹھا لیتا ہے، سیدنا حسان بیان فرماتے ہیں:

“مَاابْتَدَعَ قَوْمٌ بِدْعَةً فِیْ دِیْنِهِمْ إِلَّا نَزَعَ اللّٰہُ مِنْ سُنَّتِهِمْ مِثْلَهَا ثُمَّ لاَ یُعِیْدُهَا إِلَیْهِمْ إِلَی یَوْمِ القِیَامَةِ»

’’جو بھی قوم اپنے دین میں نئی بدعت ایجاد کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان میں سے اسی کے مماثل سنت کو اٹھالیتا ہے اور پھر اسے دوبارہ ان لوگوں کے پاس قیامت تک نہیں لوٹاتا۔‘‘ (سنن دارمی:89)

گویا بدعات سنتوں کومٹانے کا سبب بن جاتی ہیں۔اسی طرح بدعات باہمی خون خرابہ او رقتل غارتگری کا موجب بن جاتی ہے، سیدنا ابو قلابہ بیان فرماتے ہیں :

«مَا ابْتَدَعَ رَجلٌ بدعة إلا استَحَلَّ السَّیْفَ»

’’ جو شخص بدعت ایجاد کر لیتا ہے وہ اپنے اوپر حملے کے لئے تلوار کو حلال کر لیتا ہے۔‘‘ (سنن دارمی:99)

سنت کو لازم پکڑنا اور بدعات سے اجتناب ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے، سیدنا عثمان بن ازدی بیان فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبد اللہ بن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں تو انہوں نے مجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: «نَعَمْ:عَلَیْكَ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالاِسْتِقَامَةِ اتَّبِعْ وَلاَ تَبْتَدِعْ»

’’ہاں (سنو)!تم اللہ کے خوف کو اپنے اوپر لازم کرلو ، استقامت کو لازم کرو سنت کی پیروی کرو اور بدعت کی پیروی نہ کرو۔‘‘( سنن دارمی:139 )

سیدنا عبد اللہ بن مسعود بیان فرماتے ہیں کہ

«تَعَلَّمُوْاالعِلْمَ قَبْلَ أَنْ یُقْبَضَ وَقَبْضُهُ أَنْ یَذْھَبَ أَهْلُهُ أَلا وَ إِیَّاکُمْ وَالتَّنَطُّعُ وَالتَّعَمُّقُ وَالبِدَعَ وَعَلَیْکُمْ بِاْلعَتِیْقِ»

’’علم کے قبض ہوجانے سے پہلے علم حاصل کر لو اس کا قبض ہوجانا یہ ہے کہ اہل علم رخصت ہوجائیں گے اور خبر دار! مبالغہ آمیز باتیں کرنے سے بچو اور بال کی کھال نکالنے والوں اور بدعت پیدا کرنے والوں سے بچو اور اپنے اوپر سنت کو لازم کرلو۔‘‘ (سنن دارمی: 142 /143)

اہل بدعت کی شرعی بات قابل رد ہوگی

اہل بدعت کی کوئی بھی بات قابل رد ہوں گی جب تک کہ وہ حدیث کی اسناد و صحت بیان نہ کریں ورنہ علمائے سوء کو آپ نے دیکھا ہوگاکہ وہ کہتے ہیں کہ روایتوں میں آیا ہے، حدیث کا مفہوم ہے،بزرگوں نے فرمایا ہے لیکن وہ حدیث شریف کی صحت و سند بیان نہیں کرتے جس کے سبب سامعین یہ یقین کر لیتے ہیں کہ مولانا صاحب نے جوبیان کیاہے وہ تو سچی بات ہوگی!! اسی یقین کے ساتھ وہ اس بات پر عمل پیرا ہوتے ہیں اسی لئے عاصم احول ﷫ نے امام ابن سیرین ﷫ سے روایت کی کہ وہ بیان فرماتے ہیں:

«لَمْ یَکُوْنُوْا یَسْأَلُوْنَ عَنِ الاِسْنَادِ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الفِتْنَةُ. قَالُوْا: سَمُّوْا لَنَا رِجَالَکُمْ، فَیَنْظُرُ إِلَی أَهْلِ السُّنَّةِ فَیُؤْخَذُ حَدِیْثُهُمْ، وَ یَنْظُرُ إِلَی أَهْلِ البِدْعِ فَلاَ یُؤْخَذُ حَدِیْثُهُمْ»

’’(ابتدائی دور میں علمائے حدیث ) اسناد کے بارے میں کوئی سوال نہیں کرتے تھے ، جب فتنہ کاآغاز ہوا تو انہوں نے کہا : ہمارے سامنے اپنے رجال (حدیث) کے نام لو تاکہ اہل سنت کو دیکھ کر ان سے حدیث لی جائے اور اہل بدعت کو دیکھ کر ان کی حدیث قبول نہ کی جائے ۔‘‘ ( صحیح مسلم :27 )

اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ بیان کردہ حوالوں کو کتب حدیث میں تلاش کریں دیکھیں تو وہ مل جائیں گے۔

آدمی کسی بھی وقت بدعتی بن سکتا ہے:

بدعت کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کسی بھی وقت بدعت کا شکار ہوسکتا ہے یہ وہ شخص ہے جو علم میں پختہ نہ ہو اسی لئے ہر کسی کی بات کی تصدیق کر لیتا ہے اور وہ بدعتی بن جاتا ہے، سفیان﷫ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے ابو موسی( اسرائیل بن موسی بصری نزیل ہند) سے سنا کہہ رہے تھے : ہمیں عمرو بن عبید نے بدعت کا شکار ہونے سے پہلے حدیث سنائی۔‘‘ ( صحیح مسلم :71 )

یہاں یہ امر پوشیدہ ہے کہ بعد میں یہ شخص بدعتی بن گیا ، ایسے بہت سے لوگ ہمارے مشاہدے میں آتے ہیں جو کبھی اہل علم تصور کئے جاتے تھے لیکن شکم پر وری کی مجبوریوں نے انھیں بدعات کے اختیار کرنے پر مجبور کردیا ۔

بدعت کا وبال’’ لعنت‘‘:

بدعات سے اسی لئے گریز کرنا چاہئے کیونکہ جس کسی شخص نے بدعت کو ایجاد کیا وہ ملعون ہوجاتا ہے سیدنا قیس بن عباد سے روایت ہے انہوں نے کہا : میں اور اشتر سیدنا علی کے ہاں گئے اور ان سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو کوئی خاص وصیت فرمائی ہے جو عام لوگوں سے نہ کہی ہو ؟ انہوں نے فرمایا نہیں :سوائے اس کے جو میرے پاس اس مکتوب میں ہے ۔۔۔ مسدد کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے وہ تحریر نکالی ۔ احمد بن حنبل نے کہا : انہوں نے اپنی تلوار کی میان میں سے وہ تحریر نکالی … تو اس میں تھا کہ

«المُؤْمِنُوْنَ تَکَافَأُ دِمَائُهُمْ وَهُمْ یَدٌ عَلَی مَنْ سِوَاهُمْ وَیَسْعَی بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، أَلا لَایُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ وَلاَ ذُوْعَهْدٍ فِیْ عَهْدِهِ، مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فَعَلَی نَفْسِهِ، وَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَیْهِ لَعْنَةُ اللّٰہِ وَالمَلآ ئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ»

’’ تمام اہل ایمان کے خون برابر ہیں اور وہ اپنے علاوہ کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہیں( ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند ہیں)ان کے ذمے اور امان کا ان کاا دنی سے ادنی آدمی بھی پابند ہے ۔ خبر دار ! کسی مؤمن کو کسی کافر کے بدلے میں اور کسی امان والے کو اس کے ایام امن میں قتل نہ کیا جائے ، جس نے دین میں کوئی نیاکام کیا(بدعت ایجاد کی) تو اس کا وبال اس کی اپنی جان پر ہے ، جس نے کوئی بدعت ایجاد کی یا کسی بدعتی کو جگہ دی تو اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔‘‘ (سنن ابوداؤد:4530؛ مسند احمد: 10101)

قرب قیامت بدعات کا فروغ

سیدنا یزید بن عمیر ، سیدنا معاذ بن جبل کے ساتھیوں میں سے تھے ، انہوں نے بتایا کہ سیدنا معاذ جب بھی ذکر کی مجلس میں بیٹھتے تو ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے:

’’ اللہ عزوجل خوب عادل اور فیصلہ کرنے والا ہے ،شک کرنے والے ہلاک ہوگئے‘‘ سیدنا معاذ بن جبل نے ایک دن کہا: تمہارے بعد بڑے فتنے ہوں گے ، مال بڑھ جائیگا اور قرآن کھول دیا جائیگا حتی کہ مؤمن، منافق،مرد، عورتیں، چھوٹا بڑا ، غلام اور آزاد سبھی اسے حاصل کریں گے اور ایسا ہوگا کہ کہنے والا کہے گا :

’’لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ میری پیروی نہیں کرتے، حالانکہ میں نے قرآن پڑھا ہے؟( وہ کہے گا) یہ لوگ اس وقت تک میری پیروی نہیں کریں گے حتی کہ میں ان کے لئے اس کے علاوہ کوئی نئی اختراع کروں ، لہذا تم اپنے آپ کو اس کی بدعت سے بچائے رکھنا ، اس کی بدعت ضلالت اور گمراہی ہوگی۔‘‘

(سنن ابوداؤد:4611 )(ایک طویل حدیث کا کچھ حصہ یہاں ذکر کیا گیا ہے)

من گھڑت باتیں: عرف عام میں بعض باتیں بہت ہی مشہور ہوجاتی ہیں جس کی کوئی اصل نہیں ہوتی لوگ اسے حکم سمجھ لیتے ہیں جیسے رات میں جھاڑو نہ لگانا ، رات کے وقت ناخن نہ کاٹنا ، بیت الخلاء میں سر ڈھاک کر جانا، موز کا چھلکا نہیں پھینکنا وغیرہ بعض نادان لوگ اسے سنت سمجھ بیٹھے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں اور اس کے متعلق سوالات بھی کرتے ہیں اسی کو بدعت کہتے ہیں ایسا ہی ایک واقعہ حدیث میں مذکور ہے، حسان بن ابراہیم کہتے ہیں ، میں نے ہشام بن عرہ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ بیری کا(درخت) کاٹنا کیسا ہے ؟ جبکہ وہ اپنے والد عروہ کے محل کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے؟تو انہوں نے کہا : کیا تم یہ دروازے اور چوکھٹیں دیکھ رہے ہو ، یہ عروہ کے بیریوں( کے درخت) سے بنائے گئے ہیں اور عروہ انہیں اپنی زمین سے کاٹ لیا کرتے تھے ۔اور کہا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حمید بن مسعدہ نے مزید فریا کہ ہشام نے کہا :

’’ اے عراقی!( یعنی حسان بن ابراہیم)تو تو میرے پاس ایک بدعت والی بات لایا ہے ۔‘‘ اس نے کہا : میں نے جواب دیا کہ بدعت تو تمہاری طرف سے ہے ، میں نے مکہ میں علماء سے سنا ہے جو بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے آدمی پر لعنت کی ہے بیری( کے درخت)کو کاٹے۔ پھر مذکورہ بالا کے ہم معنی بیان کیا۔( ابو داؤد:5241 )

بدعات کو فروغ دینے والے حکمران: مسلمانوں میں جو بھی بدعات پھیلی ہوئی ہیں اس کا ایک سبب حکمرانوں کے نظریات بھی ہیں اور ایک حقیقت پسندانہ مقولہ بھی ہے کہ

“النَّاسُ عَلَی دِیْنِ مُلُوْكِهِمْ”

’’ لوگ اپنے بادشاہوں کے طریقہ پر رہتے ہیں ‘‘

بہت سے مسلمان بادشاہوں نے اپنے نفس کی خوشی کے لئے بہت سی بدعات وخرافات کو جنم دیااور دین میںنئے نئے طریقوں ومراسم کو داخل کیا اور درباری ملا و علمائے سو کی ایک جماعت نے بادشاہوں کی قربت اور انکی خوشنودی کے لئے ان کا تعاون کیا لہذا بدعات سماج کا حصہ بن گئیں جسے لوگوں نے دین سمجھ لیا اور اسی پر عمل پیرا ہوئے اس بات کی پیشن گوئی رسول اکرم ﷺ نے فرمادی تھی جیسا کہ حدیث میں آتا ہے، سیدنا عبد اللہ بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’میرے بعد کچھ ایسے لوگ بھی تمہارے معاملات کے نگران(اور تمہارے حکمران) ہوں گے جو سنت کی روشنی کو بجھائیں گے ، بدعت پر عمل پیرا ہوں گے اور نماز کو (افضل) وقت سے دیر کرکے پڑھیں گے۔‘‘ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ !اگر میں انھیں پاؤں تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا : ’’ اے ام عبد کے بیٹے۱ مجھ سے پوچھتے ہو کہ کیا کروگے ؟ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی کوئی اطاعت نہیں۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: 2865؛ السلسلۃ الصحیحۃ:1743)

صحابہ کا بدعت اور اہل بدعت سے اجتناب :صحابہ اکرام بدعات وخرافات پرنہایت ہی باریک بین نظر رکھا کرتے اور امور بدعت سے بچتے اور اہل بدعت سے دوری اختیار کرتے تھے جیسا کہ ایک حدیث شریف میں ہے سیدنا نافع﷫ بیان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن عمر کے پاس آیااور اس نے کہا : فلاں شخص نے آپ کو سلام کہا ہے ، سیدنا عبد اللہ بن عمر نے فرمایا : ’’مجھے خبر ملی ہے کہ اس شخص نے ، اگر اس نے واقعی بدعت اختیار کی ہے تو اسے میری طرف سے سلام نہ کہنا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ’’ میری امت میں‘‘یا’’ اس امت میں صورتیں بگڑ جانے زمین میں دھنسنے اور پتھر برسنے کے واقعات ہوں گے ۔‘‘

سیدنا ابن عمر نے فرمایا : ’’یہ تقدیر کا انکار کرنے والوں میں ہوں گے۔‘‘ ( سنن ابن ماجہ:4061 )

اس حدیث کی مناسبت سے آج بھی تقدیر کا انکار کرنے والے اور بعض احکام شریعت کا انکار کرنے والے عقل پرست امت میں موجود ہیں۔

دین کے نام پرعمل میں سختی بدعات کے ایجاد کا سبب:ہر مسلمان کو چاہئے کہ اعتدال کے ساتھ دین پرعمل کرتا رہے ایسا نہ ہوکہ جوش کے ساتھ عمل کیا اور پھر جذبات سرد پڑگئے اور جوش کم ہوتا چلا گیا ، اس طرح کرتے ہوئے بہت سے لوگوں کو دیکھا گیا لیکن کچھ دنوں بعد وہ راہ راست سے ہٹ جاتے ہیں اور گمراہی کا شکار ہوجاتے ہیں انہی گمراہوں میں سے ایک بدعت بھی ہے جیسا کہ سیدنا عمرو بن العاص کی ایک طویل حدیث میں ان کے بعض حسن اعمال کا تذکرہ ہے،انھیں رسول اللہ ﷺ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

’’ ہر عبادت گزار میں حرص اور رغبت پیدا ہوتی ہے پھر ہر رغبت کے بعد آخر کار سستی اور کمی ہوتی ہے ،اس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے یا بدعت کی طرف ، پس جس کا انجام سنت کی طرف ہوتاہے وہ ہدایت پاجائیگا اور جس کا انجام کسی اور شکل میں ہوگا وہ ہلاک ہوجائیگا۔‘‘( مسند احمد:8905/8922 )

آپ نے ایسے بہت سے نوجوانوں کا مشاہدہ کیا ہوگا جنہوں نے دین میں بہت سختی اختیار کی ،اہل خانہ و خاندان پر دینی معاملات میں سختی کا رویہ اختیار کیا لیکن چند سالوں بعد وہ گمراہی کا شکار ہوئے اور دنیا داروں سے زیادہ بدتر ان کی صوتحال ہوئی اسی لئے دین پر بھی اعتدال کے ساتھ عمل کریں اور دین کی تمام باتوں کو اہل علم اور علماء ربانی سے رجوع کرتے ہوئے عمل پیرا ہوں ورنہ گمراہی یقینی ہوگی۔ یوں تو ہر زمانے میں نئی نئی بدعات جنم پاتی رہیں ، بعض بدعات تو علمائے سو نے جنم دئے اور بعض بدعات اپنی مقصد کی تکمیل کے لئے بادشاہوں اور حکمرانوں نے جنم دئے اس کی لمبی تفصیل ہے، اہل علم نے اس ضمن نے بہت سی کتابیں تحریر کی ہیں جس میں بدعات کا تفصیل سے تذکرہ کیا ہے ان کتابوں کا مطالعہ عوام الناس کی رہنمائی کا موجب ہوگا بعض کتابیں یہ ہیں:

’’ کل بدعۃ ضلالۃ، اسلام میں بدعت و ضلالت کے محرکات، بدعات اور ان کا شرعی پوسٹ مارٹم ، بدعت کی حقیقت وغیرہ ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی امت مسلمہ کو قرآن وسنت پر چلنے اور بدعات و اختراعات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

٭٭٭

تبصرہ کریں